Baaghi TV

Author: +9251

  • راولپنڈی پولیس نے منشیات فروش گرفتار کرلیا

    راولپنڈی پولیس نے منشیات فروش گرفتار کرلیا

    راولپنڈی :تھانہ ائیرپورٹ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروش عبدالمنیب گرفتار کر لیا۔
    ملزم سے 1 کلو 400 گرام چرس برآمد کی گئی۔ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے سورس آف سپلائی معلوم کرنے کا تحرک جاری ہے۔

  • ہنڈا کمپنی نے کیا گاڑیوں کی قیمت میں آضافہ

    ہنڈا کمپنی نے کیا گاڑیوں کی قیمت میں آضافہ

    پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہنڈا کمپنی نے پاکستان میں اپنی گاڑیاں مہنگی کرنے کا اعلان کر دیا۔ ہنڈا کمپنی نے اپنی گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔ نئی قیمتوں میں 2 لاکھ 60 ہزار سے چار لاکھ تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔
    نئی قیمتوں کے مطابق 24 جون سے ہنڈا سوک ٹربو آر ایس کی قیمت 41 لاکھ 99 ہزار روپے پر پہنچ جائے گی۔ اسی طرح سوک 1.8L VTI CVT کی قیمت بھی 35 لاکھ 99 ہزار روپے ہوجائے گی۔
    نئی قیمتوں کے مطابق ہونڈا سٹی 1.3L MT اور ہنڈا سٹی 1.5L Aspire MT کی قیمت میں 2 لاکھ 60 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
    ہنڈا کمپنی نے نوٹیفیکشن جاری کیا ہے کہ 19 جون تک جن گاڑیوں کی بکنگ ہو چکی ہے وہ پرانی قیمت پر ہی ملے گی لیکن 22 جون سے گاڑیوں کی بکنگ نئی قیمت پر کی جاٸے گی ۔

  • ایم پی اے سلیم سرور جوڑا کی گرانٹ سے جی ٹی روڈ  تعمیر،سفر آرام دہ ہو گیا

    ایم پی اے سلیم سرور جوڑا کی گرانٹ سے جی ٹی روڈ تعمیر،سفر آرام دہ ہو گیا

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)ایم پی اے چوہدری سلیم سرور جوڑا کے5کروڑ روپے کے خصوصی فنڈز سے گلزار مدینہ چوک تا پاک فین جی ٹی روڈ ایک ساتھ کمپیکشن کے بعد چند دنوں میں کارپٹ روڈ مکمل کر لی گئی۔ جدید مشینری سے تیار ہونے والی کارپٹ روڈ ہموار ہونے سے ٹریفک کے لیے سفر آرام دہ ہو گیا۔ کھنڈر بنی سڑک سے نجات ملنے سے گاڑی مالکان نے سکون کا سانس لیا۔ ٹرانسپورٹ کی ٹوٹ پھوٹ کو بریک لگ گئی۔ کھنڈر بنی سڑک سے نہ صرف لوگوں کی گاڑیاں تباہ ہو رہی تھیں بلکہ لوگوں کو سڑک کے کھڈے ہلا کر رکھ دیتے تھے۔اگرچہ چناب پل تا بھمبر پل پرانا جی ٹی روڈ ایک عشرہ سے زائد عرصہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ سابق حکمران اس منصوبے کی ہلکی پھلکی مرمت تو کرا گئے لیکن سڑک کی دوبارہ اچھی تعمیر کیلئے فنڈز متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو نہ دلا سکے۔ اگرچہ پوری روڈ تعمیر کی طلبگار ہے لیکن چند کلومیٹر سیکشن کی تعمیر بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ گجرات شہر کو عرصہ دراز سے ایسی ہی معیاری جدید کارپٹ روڈز کی فوری ضرورت ہے۔ کچہری روڈ، سرکلر روڈ، گلزار مدینہ روڈ اور شہر کی دوسری آر سی سی تعمیر ہونے والی سڑکیں فوری توجہ کی منتظر ہیں۔ ان سڑکوں کی اپ گریڈیشن کی فوری ضرورت ہے۔ لین مارکنگ سے ٹریفک رولز کی آگاہی کا منصوبہ بھی شامل ہونا چاہئے۔ سڑک کے اطراف صفائی کی بھی ضرورت ہے۔

  • معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    دور جہالت میں عورتوں کو عزت و احترام دینا عیب سمجھا جاتا تھا اور معاشرے میں عورت ذات سب سے حقیر طبقہ کا حصہ تھی۔
    عورتوں پر ظلم وبربریت کو وہ وحشی اور دردندہ صفت لوگ اپنا اولین فرض سمجھتے تھے اگر کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا اور غم و غصے سے دن رات گزارتا سب قبیلے والے لوگ اسکا مزاق اڑاتے ہر طرح کے طعنے دیتے جن سے تنگ آ کر وہ اپنی بیٹیوں سے شدید نفرت کرتا اس نفرت کی آگ کو بیٹیوں پر تشدد کرکے بجھاتا اور بعض لوگ تو بدنامی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے۔
    بیچاری ننھی معصوم سی جانوں کو زندہ ہی دفنا دیا جاتا۔
    عورتوں کے کوئی حقوق نہیں تھے ان پر ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں جاتیں کہ تاریخ کے اوراق آج بھی چیخ چیخ کر ان کے مظالم بیان کرتے ہیں۔
    لیکن اسی اثناء میں بہت ہی خوبصورت اور بہت پیارا دین اسلام جو کہ شاہ عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت پوری دنیا میں پھیلا اس دین نے عورتوں کو عزت بخشی ان کو ہر روپ میں حقوق عطا فرمائے عورت کے ہر رشتے چاہے وہ بیٹی ہے یا بیوی ، ماں ہے یا بہن الغرض ہر روپ میں عورت کو معزز اور عزت دار بنایا۔
    اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورتوں کے تمام حقوق کا محافظ ہے۔
    عورت شرم و حیا کا پیکر ہے اور ڈھکی چھپی ہوئی چیز ہے بازاروں میں بکنے والی نہیں ہے دین اسلام جہاں حقوق کا تحفظ کرتا ہے وہیں عورت کی عزت و آبرو کے بچاؤ اور رب العزت کی رضا مندی کے حصول کے لیے حدود و قیود بھی متعین کرتا ہے۔
    جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حدود کو توڑ کرنا فرمانی کر کے اس کو ناراض کیا جائے گا اور شیطانوں کو خوش کیا جاۓ گا تو ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنے گی۔
    اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بدولت ہی پچھلی قوموں پر عذاب آیا اور صف ہستی سے مٹا دی گئیں۔
    اگر آج ہم بھی کفار کی مشابہت اختیار کر کے ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو ہم بھی رب العالمین کی رحمت سے دور ہو جائیں گے
    اور عذاب الہٰی سے دوچار ہوں گے۔

    کفار مسلط ہم پر ہوۓ
    اسلام سے جب ہم دور ہوۓ
    اب دین رہا جب ہم میں نہیں
    دنیا میں ہم کمزور ہوۓ

    عورت جب تک گھر میں ہے محفوظ ہے ہر قسم کے شیطانی ہتھکنڈوں سے لیکن جب یہ اسلام کو چھوڑ کر بے پردگی کرتی ہے اپنا حسن غیر محرم پر عیاں کرتی ہے تو معاشرے میں بہت سی برائیوں کا سبب بنتی ہے جبکہ اسی سے عورتوں پر زیادتی کے امکانات بڑھ گئے ہیں جب عورت نے اپنا مقام ہی نہیں پہچانا اور زمانہ جہالت کی طرح بے دریغ اور بے پردہ ہوکر فحاشی پھیلا رہی ہے تو شیطان کو بھی وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

    دنیا میں سب سے بدترین ہے وہ عورت جو اپنی خوبصورتی غیر محرموں پر ظاہر کرتی ہے۔
    آزادی کے نام پر چند کھوٹے سکوں کی خاطر اپنی عزت و آبرو کی دھجیاں بکھیرنے والی اور "میرا جسم میری مرضی”
    کے نعرے لگانے والی عورت جب سج دھج کر خوشبوؤں میں نہا کر اور اسلامی تعلیمات کا جنازہ نکال کر گھر سے باہر نکلتی ہے تو سمجھتی ہے کہ وہ محفوظ ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے درندہ صفت شیطان انسانوں کے روپ دھارے ان کے تعاقب میں ہوتے ہیں اور موقع پاتے ہی ان پر وار کر دیتے ہیں تب اس عورت کو مظلوم بنا دیا جاتا ہے جبکہ وہ خود اسکی زمہ دار ہوتی ہے۔

    جب گوشت کو سر عام بازار میں رکھ دیا جاۓ گا تو مکھیاں اور درندے تو اس پہ ضرور آئیں گے تو قصور مکھیوں اور درندوں کا نہیں بلکہ گوشت کو سر عام رکھنے والوں کا ہے۔

    اسلام میں پہلے عورت کو پردہ کرنے اور اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد مرد کو نظریں نیچی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن عورت سمجھتی ہے کہ وہ جیسے چاہے باہر نکلے لیکن مرد اپنی نظریں نیچی رکھے تو ایسی عورتوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہے۔
    عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے گی تو مرد کو بھی غیرت آۓ گی وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھے گا اور اسکا عزت و احترام کرے گا۔

    آج کل عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے چہرے کا نہیں تو وہ اس بات کا جواب دیں کہ کیا تمام صحابیات اور امہاتُ المومینین کے دل صاف نہیں تھے کیا انکے دلوں کا پردہ نہیں تھا جبکہ ان کو بھی پردے کا حکم دیا گیا حالانکہ اس وقت تو مرد بھی عمر اور صدیق جیسے تھے۔
    اور آج کے دور میں نہ کوئی عمر ہے نہ صدیق پھر بھی نادان عورت سمجھتی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے۔
    جب پردے کو دلوں تک محدود رکھا جاتا ہے تو وہ معاشرہ گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

    آج کل میڈیا کے ذریعے بھی فحاشی اور عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے عورتوں کو آزادی کے نام پہ دین سے دور کیا جارہا ہے جس سے عورتوں نے اپنی حدود کو توڑنا شروع کردیا ہے آج کل ایک سرف بنانے والی کمپنی نے عورت کے گھر کی چار دیواری میں ٹھہرنے ایک داغ قرار دیا ہے جو کہ اسلامی معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کیا دین اسلام یہ سکھاتا ہے؟؟؟؟
    اسلامی ریاست جو کہ لا الہ الاللہ کے نام پر حاصل کی گئی تھی اس میں اس طرح سر عام فحاشی پھیلانا نا قابل برداشت ہے۔ نوجوان نسل کو بھٹکایاجا رہا ہے تاکہ وہ دین سے دور ہو جاۓ۔

    ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے اشتہارات پر پابندی لگائی جاۓ تاکہ معاشرے میں بدکاری نہ پھیلے اور اسلامی مملکت اپنے دینی احکامات کی پابندی کرکے اپنے رب کو راضی کرنے کے مواقع میسر آئیں نہ کہ نافرمانی اور معصیت کے۔

  • گورنر پنجاب کی آمد پر تاجروں کی دہائی

    گورنر پنجاب کی آمد پر تاجروں کی دہائی

    سرگودہا ٹرسٹ پلازہ کے کئی

    تاجروں کا گورنر پنجاب کی آمد پرپولیس کے خلاف احتجاج
    تفصیلات کے مطابق ٹرسٹ پالزہ کے تاجر عابد اور عبد الرحمن کو تھانہ سٹی نےگرفتار کرکے تشدد کیا
    تاجروں نے اجتجاجن دکانیں بند کر دیں اور سرکٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا
    پولیس نے تاجر کو رات بھر تشدد کا نشانہ بنایا 40 ہزار رشوت لیکر چھوڑا۔ تاجروں کا الزام

  • ناقص گاڑیاں، ایک اور نوجوان لو کوالٹی سیفٹی اسٹینڈرڈ کے سبب زندگی کی بازی ہار گیا

    ناقص گاڑیاں، ایک اور نوجوان لو کوالٹی سیفٹی اسٹینڈرڈ کے سبب زندگی کی بازی ہار گیا

    لو کوالٹی سیفٹی اسٹینڈرڈ کی وجہ سے ایک اور نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے جس پر شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور اس غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بہاولپور سے علی موٹرز کے نوجوان مالک یاسرعلی کا خیرپور سے بہاول پور جاتے ہوئے کار ٹرالے سے ٹکرانے پر ایکسیڈنٹ ہوگیا. یہ حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ نوجوان کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی. پولیس نے موقع پر پہنچ کر اپنی کاروائی شروع کر دی ہے.

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لاکھوں روپے مالیت کی گاڑیاں بیچی اور خریدی جا رہی ہیں لیکن ان گاڑیوں میں انسانی جان کی حفاظت کے لئے کوئی انتظامات نہیں . لاکھوں روپے کی گاڑیوں میں ائیر بیگ نہ ہونے کی وجہ سے حادثات میں اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے. پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ کے بیٹے کی کار حادثے میں موت ہوئی تو پاکستان کے سینئر تجزیہ نگار، صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے گاڑیوں میں ائیر بیگ نہ ہونے کے معاملہ پر زبردست آواز بلند کی جس پر ملک بھر میں‌ ایک تحریک بنی لیکن اس کے بعد پھر خاموشی چھا گئی اور حکومتی سطح پر ابھی تک اس سلسلہ میں‌ کوئی انتظامات نہیں‌ کئے جارہے.

    سوشل میڈیا پر لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر گاڑیوں‌ میں‌ مکمل حفاظتی انتظامات ہوں تو کئی لوگوں‌ کی زندگیاں‌ بچ سکتی ہیں. ایک رپورٹ‌ کے مطابق مقامی سطح پر گاڑیوں کی ناقص کوالٹی کی وجہ سے ملک میں درآمدی گاڑیوں کا رجحان بڑھنے لگا ہے اورگزشتہ سال ملک میں 30 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئی ہیں‌. مہنگے سپیئر پارٹس ہونے کے باوجود بھی عوام امپورٹڈ گاڑیاں‌ خرید رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق پاکستان میں ایسی گاڑیاں فروخت کی جا رہی ہیں جن میں ائیر بیگز سمیت انسانی جانوں کی حفاظت کے لئے دیگر سہولیات نہیں ہوتی اور ان گاڑیوں کی قیمت لاکھوں روپے ہوتی ہے. ان گاڑیوں کی وجہ سے پاکستان میں آئے روز حادثات میں اموات زیادہ ہوتی ہیں، پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ کا بیٹا کار حادثے میں جاں بحق ہوا، مسلم لیگ ن کے رہنما بلیغ الرحمان کی بیوی اور بیٹے کی بھی کار حادثہ میں وفات پا گئیں.

    ٹویٹر پر ایک صارف جویریہ صدیق لکھتی ہیں کہ پاکستان میں بیچی جانے والی مہنگی گاڑیوں میں ائیر بیگ اور دیگر سیفٹی فیچرز نہیں میری حکومت سے گزارش ہے اس پر فوری طور پر ایکشن لے اور مہنگی گاڑیوں کے ساتھ متوسط طبقے کی گاڑیوں مہران کلٹس ویگن آر دیگر میں یہ ائیر بیگ انسٹال کئے جائیں.

  • پنجاب میں افغانوں‌ کے کاروبار پر پابندی عائد، مکان، دوکان اور ہوٹل بھی کرایہ پر نہیں دیے جا سکیں‌ گے

    پنجاب میں افغانیوں‌ کے کاروبار پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اسی طرح جن مساجد میں افغانی امام ہیں انہیں‌ فوری طور پر ہٹانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق افغانیوں‌ کو مکان، دوکان اور ہوٹل بھی کرایہ پر دینے پر پابندی لگا دی گئی ہے. افغان شہریوں‌ کو جائیداد کے لین دین پر بھی پابندی ہو گی. اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے. محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پنجاب کے تمام شہری علاقوں میں رہائش پذیر افغان مقامی تھانوں میں رجسٹریشن کروانے کے پابند ہوں گے۔

    یہ فیصلہ ملک بھر میں سکیورٹی کی صورتحال، دہشتگرادنہ سرگرمیوں میں افغان شہریوں کے ملوث پائے جانے کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں افغان شہریوں کیساتھ ہر قسم کے کاروبار، لین دین اور جائیداد کی خرید و فروخت پر پابند ی لگا ئی گئی ہے، خلاف ورزی کی صورتحال میں ملوث افغان شہری کیساتھ اس کے شراکت دار کیخلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر کی تمام مساجد میں امام مسجد کی خدمات سرانجام دینے والے تمام امام، معلموں کو فوری طور پر ان کی ذمہ داری سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی اس نوعیت کے اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں.

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی فائرنگ سے آٹو ڈرائیور شدید زخمی، کشمیریوں‌ کا شدید احتجاج

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی فائرنگ سے آٹو ڈرائیور شدید زخمی، کشمیریوں‌ کا شدید احتجاج

    مقبوضہ کشمیر کے پلوامہ ضلع میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک آٹو ڈرائیور بری طرح زخمی ہو گیا ہے جس پر مقامی کشمیریوں نے شدید احتجاج کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب محمد شفیع نامی ایک کشمیری ڈرائیور رومشی نالے کے قریب سے گزر رہا تھا. اس دوران بھارتی فوج نے زبردستی ڈرائیور کو روکنے کی کوشش کی تو وہ خوفزدہ ہو گیا اور اس نے رکے بغیر آٹو آگے لیجانا چاہا تاہم بھارتی فورسز اہلکاروں نے اسے گولی مار دی جس سے وہ زخمی ہو گیا.

    مقامی کشمیریوں‌ نے آٹو ڈرائیور کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا اور بھارتی درندگی کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے. اس واقعہ سے متعلق بھارتی فوج کی جانب سے ابھی کوئی وضاحت نہیں کی گئی.

  • میثاق معیشت کے نام پر این آر او نہیں دیں گے گورنر پنجاب

    میثاق معیشت کے نام پر این آر او نہیں دیں گے گورنر پنجاب

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی)میثاق جمہوریت کے نام پر این آر او نہیں دیں گے معیشت کی بہتری کیلیے اپوزیشن سے بات کرنے پر تیار ہیں ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب نے سرگودہا کے دورہ کے دوران سرکٹ ہاؤس میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے کیا مزید انہوں نے کہا این آر او کا لفظ عمران خان کی ڈکشنری میں نہیں ، آصف زرداری،نواز شریف اور دیگر کے خلاف مقدمات ہمارے دور میں نہیں بنے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا معیشت کے متعلق وزیر خزانہ ہی کو معلوم ہے نیب آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جو اپنی مرضی سے کام کر رہا ہے

  • فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان” نام ہے اس ملک کا۔ جب بنا تھا تو اس کا نعرہ تھا پا کستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ دو قومی نظریہ اس کی بنیاد تھی۔
    اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح پہلے کانگرس کے حامی تھے جو بظاہر ہندو مسلم کے مشترکہ مفاد کے لیے کام کر رہی تھی لیکن جلد ہی قائداعظم جیسے زیرک لیڈر نے جان لیا کہ کانگرس ہندوؤں کے حقوق کی پاسدار جماعت ہے مسلمانوں کو کچھ نہیں ملنے والا بلکہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمان ہندوؤں کی غلامی میں چلے جائیں گے تو وہ کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آ گئے ۔
    پھر مسلمان اور ہندو دو واضح گروہ بنے یعنی ایک طرف اسلام تھا ایک طرف ہندو ازم۔ جو اپنے اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے تھے ۔
    پا کستان کو بنانے کا فیصلہ ہی اس بنیاد پہ ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انھیں ملاکر مسلمانوں کا ایک ملک بنا دیا جائے ۔
    قائد اعظم کی کئی ایک تقاریر و بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے ۔
    جب آپ نے کہا تھا ہمارا قانون تو چودہ سو سال پہلے بن چکا ہے۔ جب آپ نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔
    لیکن لبرلز، جو اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں، جو پیسہ لے کر لبرلز بنے وہ لبرلز ازم پھیلانا چاہتے ہیں وہ پا کستان سے اسلام کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاکستان ایک اسلامی ملک نہیں اس کی بنیاد دو قومی نظریہ پہ نہیں۔
    حالانکہ تھوڑی سی بھی عقل و شعور ہو تو سوچا جاسکتا ہے پھر پا کستان بنا ہی کیوں ؟
    قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگرس کو چھوڑا ہی کیوں؟
    ایک مشترکہ ملک بن جاتا بھلا دو کی کیا ضرورت تھی ؟
    لیکن یہاں سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
    آئے دن نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں ۔ٹی وی پہ ایسے ٹاک شوز چلائے جاتے ہیں اب کہ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہوئے وہ جھوٹ ہے ۔یہاں تک کہا گیا کہ کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا بھی تو مسلمانوں نے بھی ہندوؤں پہ ظلم کیے تھے لیکن وہ کوئی بتاتا نہیں ہے ۔
    مطلب نئی آنے والی نسل کے ذہن میں جو ڈالا جاتا ہے وہ کبھی امن کی آشا کے نام سے تو کبھی لبرل ازم کے فوائد کے نام سے اسلام سے دوری کے سوا کچھ نہیں ۔
    اب دو قدم اور بڑھتے ہوئے پاکستان میں بزنس کے نام سے اس انداز سے ہماری نئی نسل پہ وار کیا جارہا ہے کہ کوئی سمجھ بھی نہ پائے ۔
    پاکستان میں آن لائن رائڈ دینے والی ایک کمپنی نے اشتہار دیا جس پہ دلہن بنی ہوئی تھی
    اشتہار تھا کہ
    شادی کے دن بھاگنا ہو تو کریم بلا لو۔
    ہمارے معاشرے میں یہ ایک گالی سمجھی جاتی ہے کہ گھر سے بھاگ گئی لیکن کریم نے اسے معمولی بات بناناچاہا۔
    اب پاکستان میں ایک واشنگ پاوڈر کمپنی نے تو حد ہی کر دی۔
    اس کمپنی نے قرآن پاک کی آیت کی توہین کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی کی ہے ۔
    ایک داغ پہ لکھ دیا ہے
    "چاردیواری میں رہو”
    آگے لکھا ہے یہ داغ ہمیں کیا روک پائیں گے ؟
    جبکہ یہ میرے رب کا فرمان ہے
    وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞
    ترجمہ:
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو ! تم سے وہ گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔(احزاب 33 )

    میرے رب کے فرمان کو استغفراللہ داغ کہنے والے لبرلز نہیں گستاخ رب العالمین ہیں جنھوں نے رب کے فرمان کو داغ کہا ۔
    اس اسلامی معاشرے میں اس قسم کی گستاخی کیونکر برداشت کی جاسکتی ہے ۔
    ہم اپنے رب کی اپنے خالق کی یہ گستاخی برداشت نہیں کریں گے
    حکومت وقت کو اس پہ ایکشن لینا ہوگا ۔ان کمپنیز کے لئے کوئی اصول و ضوابط رکھنے ہوں گے ۔
    اور ایسا کرنے والی کمپنیز کو سزا ‘جرمانہ اور بین کرنا ہوگا ۔
    مغرب اور بھارت میں بھی آئے دن اسلام کی گستاخی کے واقعات ہو رہے ہیں ادھر پیسے کے لالچ میں نہ تو اشتہار بنانے والے کچھ کہتے ہیں نہ ہی ماڈلز اور نہ ہی ٹی وی چینلز اس بات کی پرواہ کرتے ہیں ۔ان سب کو صرف پیسہ نظر آتا ہے ۔اور لبرل ازم کے نام پہ دھول جھونکتے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں ۔
    دوسری طرف آپ ذرا اس معاشرے کی روایات بھی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرےکی عورتیں داغ کی وجہ سے نہیں بلکہ شرم و حیا اور اپنے رب کے حکم کی وجہ گھر سے نہیں نکلتی ۔
    اسلام نے عورت کو اس قدر بھی پابند نہیں کیا کہ اس کی آزادی سلب ہو جائے بلکہ اسلام نے عورت کی حفاظت کی ہے اسلام نے عورت کو بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا تو اس کے پیچھے اس کی عصمت کی حفاظت ہے ۔ورنہ عورت ضروری کام ‘علاج ‘درس و تدریس ‘فلاحی کام حتی کہ جنگ میں بھی شریک ہو سکتی ہے۔
    مسلمان عورت مسجد میں جاتی ہے ۔حج کرتی ہے ۔عید کے دن بھی نماز پڑھنے کے لیے جانے کا کہا گیا ہے ۔
    بس بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے اور مردوں کے ساتھ اختلاط سے ۔
    ورنہ اہل مغرب کے اصول و ضوابط دیکھو تو آج چند ماہ کی بچی بھی محفوظ نہیں ہے ۔
    آئے دن جو ہماری معصوم بچیوں پہ وار ہو رہے ہیں یہ سب اہل مغرب کا ڈالا ہوا گند ہے جس کی وجہ سے آج بنت حوا محفوظ نہیں ہے ۔ اہل مغرب ہماری معاشرتی اور اسلامی روایات دونوں کے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوئے ہیں ۔
    میری تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ایسی مصنوعات ک مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے مالک اس اشتہار کی ماڈل و دیگر لوگوں کو سزا دلوانے تک چین سے نہ بیٹھیں ۔کیونکہ یہ اشتہار اسلام کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنے رب ‘ رحیم و کریم ‘خالق و مالک کی کے فرمان کی گستاخی ناقابل قبول ہے ۔