Baaghi TV

Author: +9251

  • نریندر مودی نے ٹویٹر سے چوکیدار کا لفظ کیوں‌ ہٹایا؟ خود ہی بتا دیا

    نریندر مودی نے ٹویٹر سے چوکیدار کا لفظ کیوں‌ ہٹایا؟ خود ہی بتا دیا

    بھارت میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابات میں کامیابی کے بعد ٹویٹر ہینڈل پر سے چوکیدار کا لفظ ہٹا دیا ہے اور اب ان کے نام کے ساتھ صرف نریندر مودی لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی اور حلیف جماعتوں کی طرف سے جیت کی خبروں کے بعد نریندر مودی کے ٹویٹر ہینڈل پر یہ تبدیلی کی گئی ہے۔ ادھر مودی نے یہ ٹویٹ بھی کی ہے کہ اب بھارت کے عوام ہی چوکیدار ہیں اور ملک کیلئے انہوں نے بڑی خدمت کی ہے۔

    نریندر مودی کا کہنا تھا کہ چوکیدار کا لفظ میرے ٹویٹر ہینڈل سے ہٹا ہے لیکن میرا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔میں بھارت کی ترقی کیلئے کام کرتا رہوں گا۔

  • بھارتی الیکشن، کانگریس صدر راہل گاندھی آٹھ لاکھ سے زائد ووٹوں سے آگے

    بھارتی الیکشن، کانگریس صدر راہل گاندھی آٹھ لاکھ سے زائد ووٹوں سے آگے

    بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہل گاندھی کیرالہ کی سیٹ پر اپنے حریف پر آٹھ لاکھ سے زائد ووٹوں‌کی برتری حاصل کئے ہوئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق راہل گاندھی نے ابھی تک 12 لاکھ 91 ہزار چھ سو سے زائد ووٹ حاصل کر لئے ہیں اور ابھی گنتی جاری ہے اسی طرح دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ گجرات کے شہر گاندھی نگر سیٹ سے آٹھ لاکھ 83 ہزار 830 ووٹ کے ساتھ اپنے قریبی حریف سے پانچ لاکھ 51 ہزار 944 ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں۔
    نریندر مودی اتر پردیش کےشہر وارانسی سے پانچ لاکھ 83 ہزار 14 ووٹ کے ساتھ اپنے حریف سے قریب چار لاکھ دس ہزار ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی اتر پردیش کے شہر رائے بریلی سیٹ سے چار لاکھ 21 ہزار 94 ووٹ کے ساتھ اپنے حریف سے تقریبا ایک لاکھ تیس ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔

    ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سیٹ سے پانچ لاکھ 70 ہزار 149 ووٹوں کے ساتھ آگے جا رہے ہیں اسی طرح سماجوادی کی پونم سنہا دو لاکھ 58 ہزار 576 ووٹ حاصل کرکے ان سے پیچھے ہیں۔

    بھارت کے الیکشن میں 1971 کے بعد ایسا ہوا ہے کہ ایک پارٹی دوسری بار مسلسل جیت رہی اور اسی پارٹی کی حکومت بنے گی.اس سے قبل 1971 میں اندرا گاندھی دو بار منتخب ہوئی تھں. اندرا سے قبل پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی دو بار حکومت بنائی تھی. بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی قیادت میں تین بار کانگریس کی حکومت اقتدار میں آئی تھی۔ اس کے بعد اندرا گاندھی کی قیادت میں 1967اور 1971میں مسلسل دومرتبہ حکومت بنی تھی۔ اس کے بعد اب مودی کی حکومت دوسری بار بنے گی.کانگریس نے 1980اور 1984میں بھی الیکشن میں اکثریت حاصل کی تھی لیکن دونوں بار ان کے وزیراعظم الگ الگ تھے ۔

  • بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں‌ 28 سیٹوں‌ پر بی جے پی کی جیت یقینی

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں‌ 28 سیٹوں‌ پر بی جے پی کی جیت یقینی

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں کل 29 میں سے 24 لوک سبھا کی سیٹوں پر بی جے پی کے امیدواروں کی فیصلہ کن برتری سے ان کی جیت یقینی نظر آ رہی ہے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق ریاست کی اندور اور ہوشنگ آباد سیٹوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی امیدواروں نے اپنے قریبی حریف کانگریسی امیدواروں سے شام پانچ بجے تک تقریبا ساڑھے پانچ لاکھ ووٹوں سے آگے رہنے کے ساتھ ہی ریاست کی 29 میں سے 24 سیٹوں پر پارٹی امیدواروں کی فیصلہ کن سبقت حاصل کر لی ہے ۔

    بھوپال حلقہ سے سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کی مرکزی ملزم پرگیہ ٹھاکر سنگھ بھی کانگریس امیدوار سے واضح اکثریت سے جیت رہی ہیں. وہ تین لاکھ سے زائد ووٹوں‌کی کثرت سے آگے جارہی ہیں. اندور سے بی جے پی امیدوار شنکر لالواني کانگریس کے پنکج سنگھوی سے تقریبا ساڑھے پانچ لاکھ ووٹوں سے آگے ہیں۔ اسی طرح ہوشنگ آباد امیدوار ادوھے پرتاپ سنگھ بھی قریب پانچ لاکھ 44 ہزار ووٹوں سے ہیں ۔

    یاد رہے کہ بی جے پی واضح اکثریت سے الیکشن جیت رہی ہے اور تنہا تین سو سے زائد سیٹیں‌ جیتتی ہوئی نظر آرہی ہے.

  • مودی نے حالیہ الیکشن میں‌2014 کا ریکارڈ توڑ‌دیا

    مودی نے حالیہ الیکشن میں‌2014 کا ریکارڈ توڑ‌دیا

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے وارانسی حلقہ میں تین لاکھ 85 ہزار 334 ووٹوں کی برتری حاصل کر کےسال 2014 کے ریکارڈ کو توڑ دیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی بھاری اکثریت سے لوک سبھا الیکشن میں کامیابی حاصل کر رہی ہے.
    بھارت کے الیکشن میں 1971 کے بعد ایسا ہوا ہے کہ ایک پارٹی دوسری بار مسلسل جیت رہی اور اسی پارٹی کی حکومت بنے گی.اس سے قبل 1971 میں اندرا گاندھی دو بار منتخب ہوئی تھں. اندرا سے قبل پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی دو بار حکومت بنائی تھی. بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی قیادت میں تین بار کانگریس کی حکومت اقتدار میں آئی تھی۔ اس کے بعد اندرا گاندھی کی قیادت میں 1967اور 1971میں مسلسل دومرتبہ حکومت بنی تھی۔ اس کے بعد اب مودی کی حکومت دوسری بار بنے گی.کانگریس نے 1980اور 1984میں بھی الیکشن میں اکثریت حاصل کی تھی لیکن دونوں بار ان کے وزیراعظم الگ الگ تھے ۔

    واضح رہے کہ بھارت کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی جیت چکی ہے ، بی جے پی 340 نشستیں حاصل کر چکی ہے جبکہ کانگریس کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے.

  • بی جے پی کی فتح پر مسلمانوں اور دلتوں‌ میں‌ خوف کے سائے، جشن کے دوران حملوں‌ کا خطرہ بڑھ گیا

    بی جے پی کی فتح پر مسلمانوں اور دلتوں‌ میں‌ خوف کے سائے، جشن کے دوران حملوں‌ کا خطرہ بڑھ گیا

    بھارت لوک سبھا الیکشن میں‌بی جے پی کو واضح برتری حاصل ہونے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں اور نچلی ذات کے دلت ہندوؤں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق بھارت میں 29 ریاستوں، دارالحکومت دہلی اور مرکز کے تحت چلنے والے 6 علاقوں کی 542 نشستوں پر مشتمل لوک سبھا کے انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور غیر حتمی نتائج سے محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کی نفرت آمیز انتہا پسندانہ پالیسیوں کا سحر جنونی ہندوؤں پر تاحال قائم ہے۔ بی جے پی کے اہلکار ملک بھر میں‌جس طرح جشن منا رہے ہیں‌ حساس علاقوں‌میں‌فسادات کا بھی خطرہ ہے جس پر مقامی مسلمانوں اور دلتوں میں‌ اس امر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ جیت کے نشہ میں انہیں‌کہیں‌نقصان نہ پہنچایا جائے.

    لوک سبھا الیکشن کے سلسلہ میں‌ووٹوں کی گنتی جاری ہے تاہم زیادہ تر حلقوں میں 90 فیصد سے زائد گنتی مکمل ہوچکی ہے جس کے تحت بی جے پی اتحاد کو 348، کانگریس اتحاد 78، مہاگتھ بندھن 18 اور دیگر مقامی جماعتوں کو 98 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے پلوامہ حملے کے بعد نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچایا اور ہندوستانی فوجیوں کی تصویریں استعمال کر کے اپنی عوام کو بے وقوف بنانے کے بعد الیکشن جیتنے میں‌کامیاب رہے. بی جے پی راجھستان اور گجرات میں‌مکمل کلین سویپ کر رہی ہے. اسی طرح تامل ناڈو، کیرالہ، پنجاب، اترپردیش، ویسٹ‌بنگال، تلنگانہ اور دیگر ریاستوں‌میں‌بھی واضح برتری حاصل کر رہی ہے.

    بی جے پی کی اس کامیابی پر مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں‌میں خوف کی کیفیت ہے کیونکہ ماضی میں بھی جب کبھی بی جے پی الیکشن جیتی ہے فتح کا جشن مناتے ہوئے مسلمانوں اور دلتوں‌کو نقصان پہنچایا جاتا ہے. اس مرتبہ بھی رات گئے تک فسادات کا خطرہ ہے اور اقلیتوں‌کو نقصان پہنچانے جانے کا خدشہ ہے.

  • انصاف کا قتل، سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کی مرکزی ملزم پرگیہ ٹھاکر سنگھ بھی جیت رہی ہیں

    انصاف کا قتل، سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کی مرکزی ملزم پرگیہ ٹھاکر سنگھ بھی جیت رہی ہیں

    بھارت میں ضمانت پر رہا ہونے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی مرکزی ملزم پرگیہ ٹھاکر سنگھ بھی الیکشن جیت رہی ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق پرگیہ ٹھاکر سنگھ بی جے پی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں. وہ بھوپال کے حلقہ سے امیدوار ہیں. ان کے مقابلہ میں کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ امیدوار ہیں جنہیں بھاری ووٹوں سے شکست ہوتی نظر آرہی ہے.

    ہندو انتہاپسند لیڈر پرگیہ ٹھاکر سنگھ دو لاکھ سے زائد ووٹوں کی لیڈ سے ابھی آگے جارہی ہیں. یاد رہے کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کی مرکزی ملزم ہیں‌ لیکن وہ طبی بنیادوں‌پر ضمانت پر رہا ہونے کے بعد الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں.

    یاد رہے کہ اس افسوسناک سانحہ کے دیگر ملزمان بھی بری ہو چکے ہیں.

  • ایران امریکہ تنازعہ، عمران خان او آئی سی اجلاس میں‌ شریک ہوں‌ گے یا نہیں؟ اہم اعلان کر دیا

    ایران امریکہ تنازعہ، عمران خان او آئی سی اجلاس میں‌ شریک ہوں‌ گے یا نہیں؟ اہم اعلان کر دیا

    پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے پر ہم سعودی عرب کے شکر گزار ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان نے ملاقات کی اور انہیں‌ رواں‌ماہ سعودی عرب میں‌ ہونے والی او آئی سی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ گورنر تبوک نے انہیں‌ رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں ہونے والے او آئی سی اجلاس میں ہم آپ کے منتظر ہیں۔

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دینے پر سعودی عرب کے مشکور ہیں. ان کا کہنا تھا کہ 31 مئی کو مکہ مکرمہ میں ہونے والے او آئی سی اجلاس میں شرکت کروں گا۔

    یاد رہے کہ ایران امریکہ تنازعہ کے پیش نظر سعودی عرب کی طرف سے مکہ میں رواں‌ماہ کے اختتام پر او آئی سی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں حوثیوں کے سعودی شہریوں‌پر حملوں، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا جائے گا.

  • کانگریس نے انتخابات میں‌ شکست تسلیم کر لی، مودی کو دی مبارکباد

    کانگریس نے انتخابات میں‌ شکست تسلیم کر لی، مودی کو دی مبارکباد

    کانگریس صدر راہل گاندھی نے حالیہ لوک سبھا الیکشن میں‌شکست تسلیم کر لی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی اور نریندر مودی کو لوک سبھا انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے اسے وہ قبول کرتے ہیں اور بی جے پی کو اس کارکردگی کے لیے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ بی جے پی اس وقت واضح‌ اکثریت سے جیت رہی ہے جبکہ کانگریس کو شکست کا سامنا ہے. بی جے پی تنہا تین سو سے زائد سیٹیں‌ جیتنے کی پوزیشن میں‌جاتی نظر آرہی ہے. الیکشن میں‌جیت پر عالمی رہنمائوں‌نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو مبارکباد پیش کی ہے.

  • لوک سبھا الیکشن، کس بھارتی اداکارکی بیوی اور بیٹے دونوں‌ کی کامیابی یقینی ہے؟ اہم خبر آگئی

    لوک سبھا الیکشن، کس بھارتی اداکارکی بیوی اور بیٹے دونوں‌ کی کامیابی یقینی ہے؟ اہم خبر آگئی

    بھارتی لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی زبردست کامیابی پر ہندوستانی اداکار دھرمیندر نے اپنی بیوی ہیمامالینی اور بیٹے سنی دیول کو مبارکباد پیش کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ہیمامالنی ریاست اترپردیش کے متھورا علاقہ میں بی جے پی کی طرف سے امیدوار تھیں جبکہ دھرمیندر کی بیٹے سنی دیول بھارتی پنجاب کے گرداس پور میں بی جے پی کے جانب سے امیدوار تھے۔

    ووٹوں‌کی گنتی میں‌دونوں امیدوار بہت زیادہ ووٹوں سے آگے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ ہندوستانی اداکار دھرمیندر نے اپنی بیوی اور بیٹے کی کامیابی دیکھ کر انہیں‌ مبارکباد پیش کی۔

  • نریندر مودی وزارت عظمیٰ کا حلف کب اٹھائیں گے، بڑی خبر آگئی

    نریندر مودی وزارت عظمیٰ کا حلف کب اٹھائیں گے، بڑی خبر آگئی

    بھارتی لوک سبھا الیکشن میں‌ کامیابی کے بعد نریندر مودی 26 مئی کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا سکتے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکمران جماعت بی جے پی اس وقت تنہا 300 سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں‌جاتی دکھائی دے رہی ہے. اس حوالہ سے بی جے پی میں‌ جشن کا سماں‌ہے. 17ویں لوک سبھا کے انتخابی نتائج آنے کے بعد نریندر مودی نے جمعہ کو مرکزی کابینہ کی ایک میٹنگ طلب کی ہے۔

    کابینہ کا اجلاس میں نئی حکومت کے قیام کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے کابینہ کےاستعفی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ نئی حکومت کے قیام کے لئے مسٹر مودی اپنا استعفی صدر رامناتھ کووند کو پیش کریں گے۔ موجودہ لوک سبھا کی میعاد 3 جون کو ختم ہوگی۔

    واضح‌ رہے کہ بھارت میں‌ الیکشن کے حالیہ نتائج کو دیکھتے ہوئے نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت دوبارہ بنتی دکھائی دے رہی ہے اور اس بات کی توقع ہے کہ چند دن بعد وہ دوبارہ برسراقتدار ہوں‌گے اور نئی کابینہ تشکیل دیں گے.