Baaghi TV

Author: +9251

  • تین دہشتگرد جہنم واصل

    تین دہشتگرد جہنم واصل

    آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 28 ستمبر 2023 کو سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب ضلع ژوب میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

    جبکہ جاری اعلامیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن میں حوالدار ستار، لانس نائیک شیر اعظم، لانس نائیک عدنان اور سپاہی ندیم نے بہادری سے مقابلہ کیا اور شہادت کو گلے لگایا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈکپ کے لئے کمینٹیٹرز کے پینل کا اعلان
    سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی نہیں بنائی جائے گی,محسن نقوی
    آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ
    تاہم فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین دہشت گردوں کو بھی جہنم میں بھیج دیا گیا ہے جبکہ ان کے کچھ ساتھی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں اعلامیہ میں واضح طور پر کہا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک میں امن و خوشحالی کے دشمنوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔ اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کو اپنی طرف سے مکمل طور پر محفوظ بنائیں گی

  • محسن بھوپالی  کا جنم دن

    محسن بھوپالی کا جنم دن

    چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
    لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری

    اردو کے معروف شاعر محسن بھوپالی ک 29 ستمبر 1932ء میں بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عبدالرحمان تھا۔ 1947ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے اور لاڑکانہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے کے بعد وہ 1952ء میں محکمہ تعمیرات حکومت سندھ سے وابستہ ہوئے۔

    اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی 1993ء تک جاری رہی۔ اسی دوران انہوں نے جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ء سے ہوا۔ ان کی جو کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ان میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن شامل ہیں۔

    محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ 1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زیڈ اے بخاری نے انجام دی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔ وہ ایک نئی صنف سخن نظمانے کے بھی موجد تھے۔

    محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے ۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرگئے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔ تلقین صبر و ضبط وہ فرما رہے ہیں آج راہ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
    17 جنوری 2007ء کو محسن بھوپالی دنیا سے رخصت ہوئے اورکراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا
    پھر اس کے بعد مرا شہ سوار ابھرے گا
    سفینہ ڈوبا نہیں ہے نظر سے اوجھل ہے
    مجھے یقیں ہے پھر ایک بار ابھرے گا
    پڑی بھی رہنے دو ماضی پہ مصلحت کی راکھ
    کریدنے سے فقط انتشار ابھرے گا
    ہمارے عہد میں شرط شناوری ہے یہی
    ہے ڈوبنے پہ جسے اختیار ابھرے گا
    شب سیہ کا مقدر شکست ہے محسنؔ
    در افق سے پھر انجم شکار ابھرے گا
    (محسن بھوپالی)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
    لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری
    میں نے دل کی بات رکھی اور تو نے دنیا والوں کی
    میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری
    روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
    کچی مٹی تو مہکے گی ہے مٹی کی مجبوری
    ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہر بلب
    جبر وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری
    جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں
    وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری
    اک آوارہ بادل سے کیوں میں نے سایہ مانگا تھا
    میری بھی یہ نادانی تھی اس کی بھی تھی مجبوری
    مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسنؔ
    ہم نے ساری عمر نباہی اپنی پہلی مجبوری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
    وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا
    ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن
    کسے بتاؤں کہ میں بھی امین رکھتا تھا
    اتر گیا ہے رگوں میں مرے لہو بن کر
    وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا
    گزرنے والے نہ یوں سرسری گزر دل سے
    مکاں شکستہ سہی پر مکین رکھتا تھا
    وہ جوہری نہ رہا اب اسے کہاں ڈھونڈیں
    جو لفظ لفظ میں در ثمین رکھتا تھا
    وہ عقل کل تھا بھلا کس کی مانتا محسنؔ
    خیال خام پہ پختہ یقین رکھتا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ضبط کر اے دلِ مَجرُوح کہ اِس دُنیا میں
    کون سا دل ہدفِ گردشِ ایّام نہیں
    غمِ محبوب و غمِ دَہر و غمِ جاں کی قسم
    ایسے غم بھی ہیں یہاں جن کا کوئی نام نہیں

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈکپ کے لئے کمینٹیٹرز کے پینل کا اعلان
    سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی نہیں بنائی جائے گی,محسن نقوی
    آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ

  • آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ

    عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے پاکستان سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور استعداد کار میں بہتری لانے کا مطالبہ کردیا ہے اور آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے ایک بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور استعداد کار میں بہتری لا کر مستحکم گروتھ حاصل کی جا سکتی ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب انتہائی کم ہے، ملک میں امیر طبقے پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈکپ کے لئے کمینٹیٹرز کے پینل کا اعلان
    سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی نہیں بنائی جائے گی,محسن نقوی

    علاوہ ازیں آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسی مانیٹری پالیسی کی ضرورت ہے جس سے مہنگائی میں کمی ہو سکے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں آئی ایم ایف معاہدے کا مقصد پاکستان کی معیشت میں استحکام لانا ہے تاکہ مزید بہتری لائی جاسکے۔

    یاد رہے گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع نہ کرنےکا فیصلہ کیا تھا اور ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرانےکی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے، اب تک 17 لاکھ سے زیادہ افراد ٹیکس گوشوارے جمع کراچکے ہیں۔
    جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ 30 ستمبر تک انکم ٹیکس گوشوارے 20 لاکھ سے تجاوز کرنےکا امکان ہے۔ تاہم حکام کے مطابق متعلقہ کمشنر کو پیشگی درخواست دینے پر آخری تاریخ میں سہولت دی جاسکتی ہے، ٹیکس دہندہ کی جانب سے درخواست دینے پر 15 روز اضافی دیے جاسکتے ہیں۔

  • زندگی کے پہلے آڈیشن میں فیل ہو گئی تھی اقراء عزیز

    زندگی کے پہلے آڈیشن میں فیل ہو گئی تھی اقراء عزیز

    ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ قراء عزیز نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ جب میں ڈرامہ انڈسٹری میں آئی تو میرے لئے چیزیں بہت آسان نہ تھیں ، مجھے پلیٹ میں رکھ کر بالکل بھی کچھ نہیں ملا ، مجھے کام حاصل کرنے کےلئے بہت محنت کرنا پڑی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں اپنی زندگی کا پہلا آڈیشن دینے گئی تو میں وہاں جا کر نروس ہو گئی اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ کیا بولوں کیا کہوں ، یوں اس آڈیشن میں ، میں فیل ہو گئی اور میرے ساتھ ایک لڑکی اور آئی ہوئی تھی جس نے آڈیشن دینا تھا۔

    اس نے میری جگہ آٖڈیشن دیا تو وہ پاس ہو گئی اس نے بہت ہی پر اعتماد طریقے سے آڈیشن دیا، یوں ”میری جگہ حنا الطاف کو کام مل گیا” لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور لگی رہی ، اور ایک دن ایسا بھی آیا کہ میں آڈیشن میں پاس ہوگئی اور مجھے بھی کام ملنا شروع ہو گیا۔ یاد رہے کہ اقراء عزیز نے بہت کم عرصے میں ڈرامہ انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی ہے اور ان کے کریڈٹ پر اس وقت بہترین ڈرامے ہیں۔ اقراء کی عمران اشرف کے ساتھ آن سکرین جوڑی بہت زیادہ سراہی جاتی ہے۔

    پاکستانی کھلاڑی تو آگئے مگر پاکستانی فنکار بھی بھارت آئیں گے؟راہل ڈھولکیا

    فلم انڈسٹری اور مداحوں کا شکرگزار ہوں شاہد حمید

    ماورا حسین 31 برس کی ہو گئیں

  • آپریشن کے بعد بھی چند تھیٹرز میں فحاشی جاری ہے گوشی خان

    آپریشن کے بعد بھی چند تھیٹرز میں فحاشی جاری ہے گوشی خان

    سٹیج کے معروف اداکار گوشی خان نےاپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے سٹیج ڈرامہ کی بہتری کے لئے جو آپرشن کیا اس کے لئے میں عامر میر کو مبارکباد دیتا ہوں ، یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا ،سٹیج ڈراموں پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد ان کو کھول دیا گیا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہےکہ آج بھی چند تھیٹرز میں وہی کچھ جاری ہے جس کی وجہ سے تھیٹرز پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم سدھرنے کےلئے تیار ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل احمد جیسے فنکاروں کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر سٹیج ڈرامہ کی بہتری کے لئے کام کریں،

    گوشی خان نے کہا کہ” ہم تو کافی برسوں سے آواز اٹھا رہے تھے کہ سٹیج ڈرامہ کو بہتر کیا جائے ”لیکن ہماری نہیں سنی جا رہی تھی، اس حکومت کی ترجیحات میں سٹیج ڈرامہ کو بہتر کرنا ہے، جو کہ قابل ستائش ہے ، ہمیں سٹیج میں گھس بیٹھے مافیاز کو یہاں سے رخصت کرنا ہو گا ورنہ یہ ڈرامہ کبھی بہتری کی طرف نہیں آسکتا چاہے جتنے مرضی آپریشنز کر لئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی سٹیج والوں کو ایس او پیز دئیے جا رہے ہیں امید ہے کہ حکومت اس پر سختی سے عمل درآمد کروائیگی۔

    پاکستانی کھلاڑی تو آگئے مگر پاکستانی فنکار بھی بھارت آئیں گے؟راہل ڈھولکیا

    فلم انڈسٹری اور مداحوں کا شکرگزار ہوں شاہد حمید

    ماورا حسین 31 برس کی ہو گئیں

  • سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سینما ایونٹ کا انعقاد

    سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سینما ایونٹ کا انعقاد

    سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سینما ایونٹ منعقد کیا جا رہا ہے ، اس سے پہلے کبھی بھی اس قسم کا ایونٹ سعودی عرب میں منعقد نہیں کیا گیا یہ ایونٹ آغاز یکم اکتوبر سے کیا جا رہا ہے۔ ریاض میں سعودی فلم فورم“ کے عنوان سے اس تقریب میں 100 کے قریب افراد شریک ہوں گے،یہ تقریبات چار روز تک جا ری رہیں گی،اور اس میں 50 سے زیادہ مقررین خطاب کریں گے۔ کہا جا رہا ہےکہ یہ ایونٹ ریاض کے بلیوارڈ سٹی ایگزیبیشن ہال میں منعقد کی جائے گا ، اس سیشن کا انعقاد فلم انڈسٹری کو سعودی معیشت میں اہم شراکت دار میں تبدیل کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔اس تقریب سے فلم انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے مواقع اور تعاون کو بڑھا کر، تجربات کے تبادلے کے ذریعے، پائیدار اور تجدید شدہ اقتصادی ترقی کے حصول کو ممکن بنایا جائے گا۔

    ”سعودی عرب میں فلم سازی کی حقیقت اور مستقبل کا جائزہ لینے کے لیے ممتاز فلم سازوں، پروڈیوسرز، ہدایت کاروں، سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی میڈیا کے افراد تقریب میں شرکت کریں گے”۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی فلم فورم میں ورکشاپس اور کئی سیکشنز بھی شامل کئے گئے ہیں، جس میں انسپائریشن زون، انوویشن زون، انٹرایکٹو ایکٹیویٹیز زون، ایکسپیریئنسز زون، بزنس زون کو شامل کیا گیا ہے۔

    پاکستانی کھلاڑی تو آگئے مگر پاکستانی فنکار بھی بھارت آئیں گے؟راہل ڈھولکیا

    فلم انڈسٹری اور مداحوں کا شکرگزار ہوں شاہد حمید

    ماورا حسین 31 برس کی ہو گئیں

  • الحمراء میں محفل سماع اور شیر میانداد کی پرفارمنس

    الحمراء میں محفل سماع اور شیر میانداد کی پرفارمنس

    12 ربیع الاول کے موقع پر ملک بھر میں جشن کا سماں ہت ہر طرف درود و سلام کی محافل منعقد کی جا رہی ہیں۔ ہر طرف چراغان روشن ہیں، گلی محلوں میں نعت اور درود شریف سے گونج رہے ہیں۔ الحمراء میں بھی 12 ربیع الاول کے موقع پر محفل سماع منعقد کی گئی ۔یہاں پر ہونے والی محفل سماع نبی اکرم ﷺکی صفات کا بیان،محبتوں و عقیدتوں کا اظہار بن گئی۔ مشہور معروف گلوکار شیر میانداد نے ساتھیوں کے ہمراہ لہک لہک کر آپ ؐ کی تعریف و توصیف بیان کی۔اس محفل میں صوبائی سیکرٹری اطلاعات وثقافت پنجاب علی نواز ملک مہمان خصوصی تھےچئیرمین الحمرا قاسم علی شاہ مہمان اعزاز تھے۔

    سیکرٹری اطلاعات علی نواز ملک نے کہا کہ شانِ حبیب کبریا ﷺبیان کرنا ہمارے اذہان و قلوب کو معطر کرتی ہے۔
    چئیرمین الحمرا قاسم علی شاہ نے کہا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ کی تعریف و توصیف سننا اعزاز و انعام ہے۔
    ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء طارق محمود چوہدری نے کہا کہ آزور ہے کہ ہم بھی میدان محشر میں آقاؐکی شفاعت کے حق دار بن جائیں۔پروگرام میں محفل سماع سننے والوں کی بڑی تعداد نے کی شرکت۔

    پاکستانی کھلاڑی تو آگئے مگر پاکستانی فنکار بھی بھارت آئیں گے؟راہل ڈھولکیا

    فلم انڈسٹری اور مداحوں کا شکرگزار ہوں شاہد حمید

    ماورا حسین 31 برس کی ہو گئیں

  • عطااللہ کے بیٹے سانول نے والد کے ساتھ لندن سے تصویر شئیر کر دی

    عطااللہ کے بیٹے سانول نے والد کے ساتھ لندن سے تصویر شئیر کر دی

    معروف فوک گلوکار عطااللہ عیسی خیلوی کے بارے میں گزشتہ دنوں ایک افواہ اڑائی گئی تھی کہ ان کا انتقال ہوا گیا ہے ، لیکن یہ خبر جھوٹی نکلی کیونکہ ان کے بیٹے نے ایک وڈیو پیغام کے زریعے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تھا۔ اب سانول عیسی خیلوی نے ایک تصویر شئیر کی ہے جو ان کی حالیہ تصویر ہے اس تصویر میں وہ اپنے والد کے ساتھ یبٹھے ہوئے ہیں اور عطا اللہ کے چہرے پر مسکراہٹ ہے۔ یہ تصویر انہوں نے لندن سے جاری کی ہے ۔ اس تصویر کو دیکھنے کے بعد بہت سارے لوگوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرم آنی چاہیے ان لوگوں کو جو کسی کے انتقال کی جھوٹی خبریں پھیلا دیتے ہیں۔

    یادرہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ لیجنڈ اس گلوکار کے انتقال کی خبر پھیلائی گئی ہے ، ایسی جھوٹی خبریں پہلے بھی پھیلائی جاتی رہی ہیں۔ ”عطا اللہ عیسی خیلوی ایسی خبروں پر خود بھی افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔” عطا اللہ ان دنوں لندن میں اپنی فیملی کے پاس ہیں اور بالکل خیریت سے ہیں ان کے بیٹے کو وڈیوز اور تصاویر جاری کرنی پڑ رہی ہیں تاکہ ایسی جھوٹی خبریں دم توڑ جائیں جو پھیلائی جا رہی ہیں ۔

    پاکستانی کھلاڑی تو آگئے مگر پاکستانی فنکار بھی بھارت آئیں گے؟راہل ڈھولکیا

    فلم انڈسٹری اور مداحوں کا شکرگزار ہوں شاہد حمید

    ماورا حسین 31 برس کی ہو گئیں

  • اس دن کو نہ صرف منائیں بلکہ اسکا مقصد بھی سمجھیں ریما خان

    اس دن کو نہ صرف منائیں بلکہ اسکا مقصد بھی سمجھیں ریما خان

    12ربیع الاول کے موقع پر معروف اداکارہ ریما خان نے اہم پیغام دیتے ہوئے کہا ہےکہ اس دن کی خوشیاں ہم سب کے لئے اہم اور محترم ہیں، بچپن میں ہمارے گھر میں یہ دن عقیدت ، خوشی اور احترام کے ساتھ منایا کرتے تھے کرتے ہیں اور جب تک زندگی ہے مناتے رہیں گے۔ ہمارے گھروں میں محلوں میں چراغاں ہوتے تھے ، دردو سلام کی محافل منعقد ہوتی تھیں ، اچھے اچھے پکوان پکتے تھے ۔ ایک دوسرے کو پیغام دیا جاتا تھا کہ نبی پاک کے نقش قدم پر چلنے میں ہی ہم سب کی عافیت ہے۔ ہم نبی پاک کی سنت پر عمل کریں گے تو ہی بہتر انسان بنیں گے۔

    ”ہمیں خود کی اصلاح کی ضرورت ہے” ، اس دن کو صرف منانا ہی نہیں چاہے بلکہ اسکا مقصد بھی سمجھنا چاہیے ۔ ریما خان نے کہا کہ اچھے اچھے پکوان اس دن پر کھائیں ، درود و سلام پڑھیں سب کریں لیکن یہ بھی دیکھیں اور سمجھیں کہ ہمیں ایک اچھا انسان کیسے بننا ہے ، دوسروں کی خوشیوں کا احترام کیسے کرنا ہے ، اپنی ذات اور سوچ کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔ دوسروں کے لئے مثال کیسے بنا جا سکتا ہے۔ ریما خان نے کہا کہ صراط مستقیم پر چلنے سے ہی ہماری بخشش ہو سکتی ہے۔

  • رحمتوں والے اس اہم دن پر ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے عفت عمر

    رحمتوں والے اس اہم دن پر ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے عفت عمر

    معروف اداکارہ و ماڈل عفت عمر نے 12 ربیع الاول کے حوالے سے پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہا کہ ماہ ربیع الاول امت مسلمہ کے لیے خاص اہمیت کا حامل مہینہ ہے کیونکہ اس مہینے نبی آخرالزماں کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی۔ میں سمجھتی ہوں کہجب ہم اپنی زندگی میں حاصل ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں تو وجود محمدی کی نعمت عطا ہونے پر سب سے بڑھ کر خوشی منائی جانی چاہیں اور اس خوشی کے اظہار کا بہترین موقع ماہ ربیع الاوّل ہے۔12ربیع الاول کی خوشیاں تو اسی رات سے منائی جانی شروع ہوجاتی ہیں جس رات ہمیں ربیع الاوّل کا چاند نظر آتا ہے۔

    اپنے دوستوں اور عزیزواقارب کو ماہِ ربیع الاوّل پر آمد پر مبارکباد یتے ہیں۔ماہ ربیع الاول کا پیغام آج کے مسلمان کے لئے ”اگر کوئی ہو سکتا ہے تو یہ کہ وہ اپنے معاملات اور طرز حیات میں نبی کی روشن زندگی کو داخل کر کے جنت کا حقدار بن جائے ”۔انہوں نے کہا کہ اس اہم دن پر ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے اور فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ہم نبی کی سنت پر عمل کریں گے اور زندگی گزاریں گے۔

    پاکستانی کھلاڑی تو آگئے مگر پاکستانی فنکار بھی بھارت آئیں گے؟راہل ڈھولکیا

    فلم انڈسٹری اور مداحوں کا شکرگزار ہوں شاہد حمید

    ماورا حسین 31 برس کی ہو گئیں