Baaghi TV

Author: +9251

  • مولا جٹ کی رجو اب کس پراجیکٹ میں؟‌

    مولا جٹ کی رجو اب کس پراجیکٹ میں؟‌

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں چھوٹامگر اہم کردار کرنے والی صائمہ بلوچ آج شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکی ہیں. فلم کی ریلیز کے بعد وہ راتوں رات سٹار بن گئی ہیں . مولاجٹ کی ریلیز کے بعد ان کو متعدد پراجیکٹس آفر ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک جو پراجیکٹ سائن کئے ہیں ان میں ابو علیحہ کی فلم سپر پنجابی اور سنگیتا کا ڈرامہ دو بوند پانی شامل ہے. سپر پنجابی میں صائمہ بلوچ بطور ہیروئین کام کررہی ہیں اور دو بوند پانی میں وہ ایک رقاصہ کا کردار کررہی ہیں. ان دونوں پراجیکٹس میں صائمہ بلوچ ایک الگ روپ میں دکھائی دیں گی. صائمہ بلوچ کہتی ہیں میں معیاری کام

    کرنا چاہتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ ایسا کام کروں جو لوگوں‌کو یاد رہے جائے. اب جیسے مولا جٹ میں میرا کردار چھوٹا سا تھا لیکن وہ اتنا اہم اور پاور فل تھا کہ لوگوں کو یاد رہ گیا. میرے مداح اب مجھ سے مزید اچھے کام کی توقع کررہے ہیں اس لئے میری کوشش ہے کہ ایسے پراجیکٹس سائن کروں جن میں میرے کردار چھوٹے ہی کیوں نہ لیکن پاور فل ہوں . یاد رہے کہ دا لیجنڈ‌آف مولاجٹ میں صائمہ بلوچ کے کردار کا نام رجو تھا انہوں نے اس کردار کو نہایت خوبصورتی سے نبھایا .

  • مرد کی نظریں اور عورت کے ٹائٹ کپڑے ، بہروز سبزواری نے نئی بحث کو جنم دیدیا

    مرد کی نظریں اور عورت کے ٹائٹ کپڑے ، بہروز سبزواری نے نئی بحث کو جنم دیدیا

    سینئر اداکار بہروز سبزواری اکثر ایسی بات کردیتے ہیں کہ جس سے ایک طوفان بپا ہو جاتا ہے حال ہی میں انہوں نے کہا ہے کہ مرد کی نظریں اور خواتین کے تنگ کپڑے ہیں مسائل کی جڑ ، انہوں نے کہا کہ عورتیں موٹر سائیکل پر تنگ کپڑے پہن کر بیٹھتی ہیں ان کا اس طرح‌سے موٹر سائیکل پر تنگ کپڑے پہن کر بیٹھنا مناسب نہیں ہے ان کو چاہیے کہ وہ جب بھی گھر سے نکلیں لباس مناسب پہنیں . ساتھ ہی ساتھ انہوں نے مردوں سے بھی کہا کہ وہ اپنی آنکھیں اپنے قابو میں رکھیں اور خواتین کو گھورنے سے باز رہیں. بنیادی طور پر بہروز سبزواری نے ان مسائل کے اثرات پر بات کی جو ہمارے معاشرے میں زیادہ پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف قسم کے کپڑوں میں مردوں کی خواتین کو گھورنے کے معاملے پر

    بھی بات کی۔بہروز سبزواری کے اس بیان کے بعد ان کو آڑھے ہاتھوں لیا جا رہا ہے ، سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور زیادہ تر لوگ سینئر اداکار کی سوچ کے خلاف بات کررہے ہیں جبکہ چند ایک ایسے بھی ہیں جو ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے دکھائی دے رہیں . بہروز کی اس بات کو ناپسند کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اداکار کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں ہر کسی کو اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کا حق ہے ان کا یہ بیان عورت کی آزادی کے خلاف ہے.

  • پاکستان کو غذائی قلت کے تین گنا بوجھ کا سامنا

    پاکستان کو غذائی قلت کے تین گنا بوجھ کا سامنا

    پاکستان کو غذائی قلت کے تین گنا بوجھ کا سامنا ہے. وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی.

    وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے کہا ہے کہ حکومت غذائی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازی سمیت اہم انتظامی قدامات کر رہی ہے،ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کو غذائی قلت کے تین گنا بوجھ کا سامنا ہے جس سے ملکی آبادی خاص طور پر 5سال سے کم عمر کے بچے، تولیدی عمر کی خواتین اور نوعمر افراد سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

    حکومت اپنے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غذائی قلت کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور پالیسی سازی کی سطح پر کئی اقدامات کیے گئے ہیں، ان خیالات کا اظہار مقررین نے ملک میں غذائی قلت کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈاکٹر اکمل صدیق نے ایک عملی شیڈول کی ضرورت اور اہمیت اور پبلک، پرائیویٹ اور ترقیاتی شعبوں میں اسٹیک ہولڈرز کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غذائیت کی کمی بہت سے عوامل کی وجہ سے ہوتی ہے جس میں غذائی کمی، خوراک کا عدم تحفظ، کھانا کھلانے کے طریقوں، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی، پانی کی فراہمی اور صفائی، تعلیم اور غذائیت سے متعلق آگاہی، بیماریاں اور سماجی ثقافتی عوامل شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    تاریخی معاہدے کی منظوری ، وزیر اعظم وفاقی کابینہ اجلاس کی صدارت آج کرینگے
    نئی جگہ ہجرت کرنے والے بچوں کی کونسلنگ والدین کی بھاری ذمہ داری /
    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ
    نوجوانوں کیلیے وزیراعظم قرضہ اسکیم بحال
    زائد اثاثہ جات کیس؛ سلمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور
    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ملٹی سیکٹرل نیوٹریشن اسٹریٹیجی کو مختلف شعبوں اور اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کے تعیں کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ غذائی قلت کے انسانی، سماجی اور معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ثابت شدہ کامیاب غذائی اقدامات کو تیار لاگو کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے، حکومتی اقدامات کے فوائد کو بڑھانے کے لیے کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے گلوبل اسکیلنگ اپ نیوٹریشن تحریک میں شامل ہوئی ہے ۔ وفاقی سطح پر پالیسی کی منصوبہ بندی اور کثیر شعبہ جاتی حکمت عملی کے لیے ایک اعلی سطح کا نیشنل نیوٹریشن فورم قائم کیا گیا ہے۔

  • نواز شریف کے خواب کی تکمیل کا آج اہم دن ہے. مریم اورنگزیب

    نواز شریف کے خواب کی تکمیل کا آج اہم دن ہے. مریم اورنگزیب

    نواز شریف کے خواب کی تکمیل کا آج اہم دن ہے، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب.

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پورا ملک موٹروے کے ذریعے جوڑنے کے نواز شریف کے خواب کی تکمیل کا آج اہم دن ہے۔ ایک بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف آج 306 کلو میٹر طویل سکھر حیدرآباد موٹروے ایم 6 کا سنگِ بنیاد رکھیں گے، پشاور کراچی موٹروے کے اس آخری حصے کی تعمیر پر پاکستان کے تمام بڑے شہر جڑ جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ایم 6 کو سرکاری اور نجی شراکت داری سے تعمیر کیا جا رہا ہے، وزیرِ اعظم نے ایم 6 کو 30 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف آج پہلے سکھر پھر حیدر آباد میں تقاریب میں شرکت کریں گے۔ مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے پورے پاکستان کو جدید اور تیز ترین سفری سہولیات میسر آئیں گی، تجارتی آمدورفت تیز، حادثات سے بچاؤ، جی ٹی روڈ پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی ہو گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    تاریخی معاہدے کی منظوری ، وزیر اعظم وفاقی کابینہ اجلاس کی صدارت آج کرینگے
    نئی جگہ ہجرت کرنے والے بچوں کی کونسلنگ والدین کی بھاری ذمہ داری /
    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ
    نوجوانوں کیلیے وزیراعظم قرضہ اسکیم بحال
    زائد اثاثہ جات کیس؛ سلمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور
    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بہترین شاہراہوں کی تعمیر سے ترقی کی نیشنل اسپیڈ میں اضافہ ہو گا اور پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے . ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل سے ملک میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی، تاجروں، صنعت کاروں اور کسانوں کو اپنی مصنوعات کی ترسیل میں آسانی ملے گی۔

  • ایس ای سی پی ؛ 2022 میں 2,380 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ

    ایس ای سی پی ؛ 2022 میں 2,380 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ

    ایس ای سی پی نے نومبر 2022 میں 2,380 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کیں.

    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے نومبر کے مہینے میں 2,380 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں، جو کہ گزشتہ سال نومبر کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں۔ نئی رجسٹریشن کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی کل تعداد 1 لاکھ 82 ہزار 598 ہو گئی ہے۔ نئی رجسٹریشن حاصل کرنے والی کمپنیوں کا کل ادا شدہ سرمایہ 1.9 ارب روپے ہے۔

    اس ماہ سب سے زیادہ رجسٹریشن رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اور کنسٹرکشن سیکٹر میں ہوئی جہاں 407 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ اس کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 347، ٹریڈنگ میں 300 اور خدمات کے شعبے میں 258 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ نومبر میں رجسٹرڈ کی گئی کمپنیوں میں تقریباً 59 فیصد کمپنیاں پرائیویٹ لمیٹڈ ہیں جبکہ 39 فیصد سنگل ممبر اور2 فیصد میں پبلک ان لسٹڈ، غیر منافع بخش و تجارتی ایسوی ایشنز ، غیر ملکی کمپنیاں اور محدود ذمہ داری کی شراکت داری (LLP) شامل ہیں ۔ اس ماہ تقریباً 99.5 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر ہوئیں۔

    نومبر میں 85 کمپنیوں میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری کی گئی۔ ان ممالک میں افغانستان، آسٹریلیا، کینیڈا، چین، ہانگ کانگ ، جرمنی، سپین، جنوبی کوریا، جنوبی افریقہ، اردن، سعودی عرب، ترکی، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ اس ماہ میں سب سے زیادہ رجسٹریشن رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اور کنسٹرکشن سیکٹر میں ہوئی جہاں 407 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ اس کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 347، ٹریڈنگ میں 300 اور خدمات کے شعبے میں 258 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

    دیگر شعبوں میں خوراک اور مشروبات کے سیکٹر میں 87 کمپنیاں، تعلیم کے شعبے میں 82، سیاحت میں 81، کارپوریٹ ایگریکلچرل فارمنگ میں 76، ای کامرس میں 70، مارکیٹنگ اور اشتہارات میں 63، انجینئرنگ میں 62، ٹیکسٹائل میں 57، فارماسیوٹیکل میں 50، ہیلتھ کیئر میں 43، کیمیکل میں 37، ایندھن اور توانائی میں 35، اور ٹرانسپورٹ میں 31 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    تاریخی معاہدے کی منظوری ، وزیر اعظم وفاقی کابینہ اجلاس کی صدارت آج کرینگے
    نئی جگہ ہجرت کرنے والے بچوں کی کونسلنگ والدین کی بھاری ذمہ داری /
    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ
    نوجوانوں کیلیے وزیراعظم قرضہ اسکیم بحال
    زائد اثاثہ جات کیس؛ سلمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور
    ایس ای سی پی کی ای سروسز کی ایف بی آر اور دیگر صوبائی محکموں کے ساتھ انٹی گریشن (انضمام ) کے نتیجے میں نومبر میں، ایس ای سی پی کے ای سروسز کے ذریعے 2,211 کمپنیوں کے این ٹی این جاری کئے گئے جبکہ 57 کمپنیوں نے ایمپلایز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن کے ساتھ رجسٹریشن حاصل کی اور 32 کمپنیاں صوبائی ریوینیو کے محکموں اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ رجسٹریشن حاصل کی۔

  • اپیکٹا ایوارڈز؛ 25 میں سے 7 شعبوں میں پاکستان فاتح قرار

    اپیکٹا ایوارڈز؛ 25 میں سے 7 شعبوں میں پاکستان فاتح قرار

    اپیکٹا ایوارڈز میں 25 میں سے 7 شعبوں میں پاکستان فاتح قراردیا گیا.

    اپیکٹا ایوارڈز 2022 کے لیے 25 میں سے 7 شعبوں میں پاکستان کو فاتح قرار دیا گیا۔ اپیکٹا ایوارڈز 2022 کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ٹی کی برآمدات کے فروغ پر بھرپور توجہ دے رہا ہے، پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) انڈسٹری کی صلاحیت، ٹیلنٹ، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور نئی منڈیوں میں اس کی برآمدات کو فروغ دینے کیلیے بھرپور حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پہلی بار اپیکٹا ایوارڈز کی میزبانی کا موقع فراہم کیا گیا جو وزارت آئی ٹی کے غیرمتزلزل عزم اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کی چھتری تلے مقامی آئی ٹی کمپنیوں کی انتھک کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ تقریب میں مجموعی طور پر 25 شعبوں میں فاتحین کو ایوارڈز سے نوازا گیا ہے، ہر ایک شعبے میں ایک فاتح اور دو میرٹ ایوارڈ شامل تھے، 25 میں سے 7 شعبوں میں پاکستان کو فاتح قرار دیا گیا،
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    تاریخی معاہدے کی منظوری ، وزیر اعظم وفاقی کابینہ اجلاس کی صدارت آج کرینگے
    نئی جگہ ہجرت کرنے والے بچوں کی کونسلنگ والدین کی بھاری ذمہ داری /
    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ
    نوجوانوں کیلیے وزیراعظم قرضہ اسکیم بحال
    زائد اثاثہ جات کیس؛ سلمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور
    ہانگ کانگ اور تھائی لینڈ نے 6، 6 ایوارڈز اپنے نام کیے، برونائی نے 2، جبکہ چین، آسٹریلیا اور سری لنکا نے ایک ایک ایوارڈ جیتا، فاتح (گولڈ) کے علاوہ ہر شعبے میں دو میرٹ ایوارڈز دیے گئے۔ علاوہ ازیں پاکستان آئی ٹی یو ڈیجیٹل انکلیوژن ویک’ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت شہری اور دیہی علاقوں کے مابین ڈیجیٹل تقسیم کے خاتمہ کیلیے پر عزم ہے۔

  • نوجوانوں کیلیے وزیراعظم قرضہ اسکیم بحال

    نوجوانوں کیلیے وزیراعظم قرضہ اسکیم بحال

    نوجوانوں کیلیے بلاسود، کم مارک اپ پر وزیراعظم قرضہ اسکیم بحال کر دی گئی.

    حکومت نے نوجوان کاروباری افراد کے لیے وزیراعظم کی بلاسود اور رعایتی قرضہ اسکیم کے دوبارہ اجراء کا اعلان کردیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن کے مطابق اس اسکیم کے تحت تین مختلف سلیب کے تحت 75 لاکھ روپے تک کے قرضے رعایتی شرح سود (صفر تا 7فیصد تک) پر زیادہ سے زیادہ 9 سال کی مدت کے لیے دیئے جائیں گے۔ پروسیسنگ کی مدت 45 یوم سے تجاوز نہیں کرے گی۔ ایک چوتھائی قرضے خواتین کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت نے اس اسکیم کو ’’پرائم منسٹرز یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم‘‘ کا نیا نام دیا ہے، جبکہ سابقہ دور حکومت میں اس اسکیم کا نام’’پرائم منسٹرز کامیاب جوان یوتھ انٹرپرینیورشپ اسکیم‘‘ رکھا گیا تھا۔ اس اسکیم کو یکم جولائی 2022ء کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    تاریخی معاہدے کی منظوری ، وزیر اعظم وفاقی کابینہ اجلاس کی صدارت آج کرینگے
    نئی جگہ ہجرت کرنے والے بچوں کی کونسلنگ والدین کی بھاری ذمہ داری /
    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ
    زائد اثاثہ جات کیس؛ سلمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور
    اسلام آباد میں پراسرارآوازوں والے درخت
    خیبرپختونخوا: حوالہ ہنڈی اور کرنسی اسمگلنگ میں ملوث افراد کیخلاف کاروائیاں،رواں ماہ 42 ملزمان گرفتار
    نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان کے وہ تمام شہری اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں، جو قومی شناختی کارڈ رکھتے ہیں اور جن کی عمر 21 سے 45 سال کے درمیان ہے۔ آئی ٹی اور ای کامرس سے متعلق کاروبار کے لیے عمر کی کم سے کم حد 18برس ہوگی جبکہ کم سے کم مطلوبہ تعلیمی قابلیت میٹرک یا اس کے مساوی مقرر کی گئی ہے۔

  • زائد اثاثہ جات کیس؛ سلمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور

    زائد اثاثہ جات کیس؛ سلمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں وزیراعظم کے صاحبزادے سلمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور کر لی.

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں منگل کو وزیراعظم کے صاحبزادے سلمان شہباز کی 14 روزہ ضمانت منظور کر لی ہے. عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان شہباز نے سابق وزیراعظم عمران خان پر اپنے اور شریف خاندان کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات بنانے پر کڑی تنقید کی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے بیٹھنے کے امکان کو مسترد کر دیا تھا .

    انہوں نے کہا کہ تھا کہ ’’خود غرض، جھوٹے، دھوکے باز، مفاد پرست اور فوج مخالف‘‘ شخص سے مذاکرات شروع نہیں کیے جا سکتے ہیں. وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار کے ہمراہ پی ٹی آئی کے اسنیپ پولز کے مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا اور کہاتھا کہ عوام کو اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں فیصلہ کرنے دیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ ہے.

    خیال رہے کہ اس سے چند روز قبل سلمان شہباز کو یہ ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملنی تھی. جس نے وفاقی تفتیشی ادارے ایف آئی اے کو سلمان شہباز کو گرفتار کرنے سے روک دیا تھا. سلمان شہباز دو ہزار اٹھارہ سے ملک سے باہر ہیں اورگزشتہ کچھ برسوں میں ان کے خلاف کئی مقدمات درج ہوئے۔

    سلمان شہباز نےعدالت میں درخواست جمع کرائی تھی اور استدعا کی تھی کہ انہیں حفاظتی ضمانت دی جائے تا کہ وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کر سکیں۔ عدالت نے سلمان شہباز کو حکم دیا کہ وہ تیرہ دسمبر کو ٹرائل کورٹ کے سامنے حاضر ہوں۔ واضح رہے کہ کچھ برسوں سے سلمان شہباز پاکستان سے باہر ہیں اور ان پر اس دوران کچھ مقدمات بھی بنے۔ اربوں روپے کے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بھی ان کا نام تھا۔ تاہم نیب قوانین میں ترمیم کے بعد بہت سارے میگا اسکینڈلز، بشمول منی لانڈرنگ کیس، اب نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں رہا۔
    .

  • اسلام آباد میں پراسرارآوازوں والے درخت

    اسلام آباد میں پراسرارآوازوں والے درخت

    اسلام آباد میں پراسرارآوازوں والے درخت.

    اداکار احمد علی اکبر نے سوشل میڈیا پر پُر اسرار آوازوں والے درخت کی ویڈیو شیئر کر دی۔ احمد علی اکبر نے اسلام آباد ٹریل 5 پر ہائیکنگ کے دوران ایک عجیب منظر دیکھا جو دیکھ کر وہ خود بھی دنگ رہ گئے، اداکار نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پُراسرار درخت کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس حیران کُن تجربے کے بارے میں مداحوں کو بتایا ہے۔

    اداکار نے لکھا کہ ’جو آپ نے دیکھا اور سنا یہ جھوٹ نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس ویڈیو میں سنائی دی جانے والی آواز کے حوالے سے وارننگ بھی دی‘۔ احمد نے لکھا کہ ’اسلام آباد ٹریل 5 میں عکس بندی کے دوران ہمیں ایک انوکھا تجربہ ہوا، اس درخت میں ایک سکے جتنا بالکل گول سوراخ موجود ہے، اس سوراخ کے اندر سے کچھ عجیب و غریب آوازیں سنائی دے رہی ہیں‘۔

    اس درخت سے دراصل کسی کے رونے کی آواز سُنائی دے رہی ہے، اس ویڈیو پر کمنٹ کرتے ہوئے انوشے اشرف نے لکھا کہ یہ درخت مدد کا طلب گار ہے، اسے بے حد شدت سے پانی کی ضرورت ہے، یہ آوازیں ہمیں الرٹ کر رہی ہیں ساتھ انہوں نے ایک لنک بھی شیئر کیا جس میں ان آوازوں کی سائنسی وجہ بھی بتائی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    تاریخی معاہدے کی منظوری ، وزیر اعظم وفاقی کابینہ اجلاس کی صدارت آج کرینگے
    نئی جگہ ہجرت کرنے والے بچوں کی کونسلنگ والدین کی بھاری ذمہ داری /
    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ
    اس پر اسرار درخت کی آوازوں کے بارے میں احمد علی اکبر کے مداحوں سمیت سوشل میڈیا صارفین نے مختلف ردِعمل دیا، کسی کا کہنا تھا کہ یہ جنات لگ رہے ہیں جبکہ کئی نے اسے بےحد خوفزدہ قرار دیا۔

  • نئی جگہ ہجرت کرنے والے بچوں کی کونسلنگ والدین کی بھاری ذمہ داری

    نئی جگہ ہجرت کرنے والے بچوں کی کونسلنگ والدین کی بھاری ذمہ داری

    ہجرت بچوں کی ذہنی نشو نما کیلئے نقصان دہ ہو سکتی ہے.

    عام طور پر مختلف معاشی اور معاشرتی عوامل کے باعث خاندانوں کی صورت میں ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کی جاتی ہے، والدین کے ساتھ اس ہجرت میں بچے بھی شامل ہوتے ہیں لیکن ان بچوں پر اس ہجرت کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سرکاری اداروں کے مطابق دو ہزار بائیس میں تقریبا آٹھ لاکھ پاکستانی شہریوں نے مختلف ممالک میں ہجرت کی۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد ایسی تھی جو بہترین معیار زندگی اور سہولیات کے لئے خلیجی ممالک میں منتقل ہوئے۔ سب سے ذیادہ تعداد سعودی عرب منتقل ہوئی۔ متعدد افراد نے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ہجرت کی ، ہجرت کے اس عمل میں بچوں کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ والدین کے ہمراہ جانا پڑتا ہے۔

    دوسرے ممالک میں ہجرت کے والدین کے فیصلے اکثر یکطرفہ ہوتے ہیں۔ یا تو بچوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہیں کیا جاتا یا انہیں آگاہ کر کے خانہ پری کر لی جاتی ہے ، والدین کے اس یکطرفہ فیصلوں کے سب سے ذیادہ متاثرہ یہی بچے ہوتے ہیں جبکہ کچھ بچے ہجرت پر خوش ہوتے ہیں۔ والدین کے ہمراہ پاکستان شفٹ ہونے والے بچوں کو آغاز میں اجنبیت کا احساس تنگ کرتا ہے پھر رفتہ رفتہ گھلنے ملنے سے انکی نفسیاتی الجھنیں کم ہو جاتی ہیں۔ رومیصہ فیصل بھی والدین کے ہمراہ پاکستان شفٹ ہوئیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہاں شروع شروع میں مشکلات پیش آئیں پھر سکول میں آہستہ آہستہ جب دوست بنتے گئے تو یہ مشکلیں بھی کم ہو گئیں۔

    ہدیٰ خرم کے مطابق جب اس نے والدین کے ساتھ پاکستان لینڈ کیا تو اسکے ذہن میں یہی خیال تھا کہ یہاں کیسے سیٹل ہونگے، لیکن دو سے تین ہفتوں میں وہ یہاں سیٹل ہو گئی۔ احمد خرم بھی ایسے ہی بچوں میں سے ایک ہے جنہیں والدین کے ہمراہ پاکستان منتقل ہونا پڑا۔ خرم کے مطابق شروع کے دو تین ماہ مشکل تھے لیکن کچھ وقت بعد معمولات سیٹ ہو گئے۔

    ہجرت کے باعث بچوں کو اپنے معمولات ترک کرنا پڑتے ہیں، روزمرہ سکول اور کلاسز پیچھے رہ جاتی ہیں، پرانے دوستوں کو خیرباد کہنا پڑتا ہے۔ نئی جگہ نئی زبان اور نئے لوگوں سے گفتگو میں انہیں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی نژاد امریکی بچے احمد علی کہتے ہیں کہ دو ہزار گیارہ میں جب وہ چھ سال کے تھے تو والدین کے ہمراہ امریکا منتقل ہو گئے تھے۔ شروع شروع میں مشکل لگتا تھا لیکن آہستہ آہستہ وہ یہاں کے ماحول کے عادی ہو گئے۔ محمد بلال کہتے ہیں کہ امریکا آنے کے کچھ عرصہ تک تو وہ نروس رہے۔ یہاں پاکستان سے مختلف لوگ تھے، مختلف کلچر تھا، یہاں کوئی اردو نہیں بولتا تھا، سکول میں بھی اسے گفتگو میں دقت پیش آتی تھی۔

    والدین کا ماننا ہے کہ اس ہجرت کا اثر بچوں پر کافی دیر تک رہتا ہے اور کچھ تو اس سے خوش ہوتے ہیں جبکہ کچھ کو نئی جگہ اور عوامل کے باعث سیٹل ہونے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ والدین کے مطابق چھوٹی عمر کے بچے جلد ہی نئے ماحول سے مانوس ہو جاتے ہیں جبکہ تھوڑے بڑے بچوں کو کلچر اور سماجی طور پر بیرئیرز کا سامنا ہوتا ہے۔ خرم شکیل کہتے ہیں کہ ہجرت کا سب سے مشکل کام ایک تو بچوں کو سمجھا ک قائل کرنا ہوتا ہے دوسرا سارے کا سارا سامان ساتھ لانا بھی ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ وارث صدیقی کہتے ہیں کہ وہ شروع سے چاہتے تھے کہ انکے بچوں کو بہتر معیار تعلیم اور ماحول میسر آئے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستان چھوڑ کر امریکا منتقل ہوئے۔ اپنا گھر چھوڑنا مشکل لگتا ہے ، مگر مجبورا کرنا پڑتا ہے۔

    چائلڈ سائیکولوجسٹ کے مطابق والدین کے ساتھ ہجرت کرتے والے بچوں کی نفسیات پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ نئی جگہ سیٹل ہونے میں بچوں کو سب سے بڑا مسئلہ گفتگو کے وقت درپیش ہوتا ہے۔ جہاں سکولوں میں اور نئے لوگوں سے بات کرنے میں مقامی زبان سے نا آشنائی بڑا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر قراۃ العین کہتی ہیں کہ والدین کے ساتھ ہونے کی وجہ سے بچے کمفرٹ محسوس کرتے ہیں۔
    ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ نئی جگہ ہجرت کرنے والے بچوں کی کونسلنگ والدین کی بھاری ذمہ داری ہے۔ اساتذہ بھی بچوں کے ذہن میں موجود الجھنیں دور کرنے میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں، ضروری ہے کہ دلچسپی کے مطابق بچوں کو دوستانہ ماحول فراہم کیا جائے۔