Baaghi TV

Author: +9251

  • انسانوں کی وجہ سے  کرۂ ارض میں تبدیلیاں

    انسانوں کی وجہ سے کرۂ ارض میں تبدیلیاں

    کیا انسانی سرگرمیاں زمین سے زندگی کو معدوم کر رہی ہیں .

    کرّۂ ارض کی تاریخ میں نامساعد حالات نے پانچ مرتبہ زیادہ تر جانداروں کو صفحۂ ہستی سے مٹایا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر زندگی ایک بار پھر خطرے میں پڑ سکتی ہے، کچھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم چھٹی بڑی معدومیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کوئی بھی معتبر سائنسدان اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ جس رفتار سے فطرت تباہ ہو رہی ہے اس کے حوالے سے ہم بحران کا شکار ہیں. انسانوں کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں، زمین کے استعمال میں تبدیلیاں اور آلودگی تیزی سے کرۂ ارض کو تبدیل کر رہی ہے، جس سے مختلف انواع کے لیے موافقیت پیدا کرنا اور زندہ رہنا مشکل ہو رہا ہے۔

    کینیڈا میں فطرت کے لیے ’آخری موقع‘ قرار دیے جانے والے سربراہی اجلاس میں سائنس دان اور رہنما بحران کے پیمانے کو بتانے کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ’کوپ-15‘ (COP15) نامی ماحولیات پر بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ 10 لاکھ حیاتیاتی انواع اب ’معدومیت کے دہانے پر‘ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں سینکڑوں برسوں سے ہم نے افراتفری کا ایک ہنگامہ برپا کیا، تباہی کے اقدامات کیے ہیں۔‘
    بڑے پیمانے پر معدوم ہونا کیا ہے؟

    بڑے پیمانے پر معدومیت زمین کی تاریخ میں ایسے واقعات ہیں جب کرۂ ارض پر تیزی سے اپنی تین چوتھائی یا اس سے زیادہ انواع معدومیت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ سائنس دان جو فوسل ریکارڈ (ماضی کی پتھر میں بدلی ہوئی اشیا کا سائینٹیفک مطالعہ نیز مدفون یا پتھر میں بدلے ہوئے ہونے کے حالات) کا مطالعہ کرتے ہیں وہ ’پانچ عظیم‘ (Big Five) بڑے پیمانے پر معدومیتوں کا حوالہ دیتے ہیں جو 54 کروڑ سالوں کے دوران رونما ہوئے ہیں۔ ایک چھوٹے سیّارچے یا ایسٹرائیڈ کے زمین سے ٹکرانے کے اثرات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے اس کی وجہ سے ڈائنوسار معدوم ہوگئے تھے۔

    جو واقعہ کچھ عرصہ پہلے وقوع پذیر ہوتا ہے وہی زیادہ مشہور بھی ہوتا ہے- جب ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے ایک سیارچہ (ایسٹرائیڈ) کرہ ارض کے اب میکسیکو والے حصے سے ٹکرایا تو اُس واقعے نے جنوب مغربی امریکہ کے اُس خطے میں آگ لگا دی اور زمین پر چلنے والے ڈائنوسارز کو معدوم کردیا۔ دیگر مثالوں میں 25 کروڑ سال پہلے ’قدیم حیاتی‘ دور کا تباہی کا واقعہ ’عظیم معدومیت‘ (Great Dying) شامل ہے، جب زمین پر تقریباً 90 فیصد انواع فنا ہوگئی تھیں۔ یہ بالکل معلوم نہیں ہے کہ ان تمام تمام بڑے پیمانے پر معدومیت کے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ کیا تھی، لیکن ان کے امکانات میں آب و ہوا، سمندروں اور زمین میں تیز اور ڈرامائی تبدیلیاں بھی شامل تھیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم زندگی کی محتلف انواع کو اس سے کہیں زیادہ تیزی سے کھو رہے ہیں جتنا کہ زندگی کا ارتقاء اُنھیں پیدا کر رہا ہے، اور کچھ ماہرین تو کہتے ہیں کہ یہ ہمیں ایک نئے بڑے پیمانے پر معدوم ہونے کے راستے پر ڈال سکتا ہے – اس معدومیت کا شکار ہماری اپنی نسلِ انسانی بھی ہو گی۔ میکسیکو سٹی کی یو این اے ایم یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات ڈاکٹر جیرارڈو سیبالوس کہتے ہیں، ’ہم ارتقاء کا راستہ بدل رہے ہیں۔ اگرچہ ہم بڑے پیمانے پر معدومیت میں نہیں ہیں لیکن ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس نظام کو خطرے میں ڈال رہا ہے جس نے ہمارے لیے زندہ رہنا ممکن بنایا ہے۔‘ معدومیت کی شرح کی پیمائش کرنا مشکل ہے کیونکہ آج بھی ہم اکثر انواع کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے یا یہ کہ وہ کتنے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

    دستیاب محدود ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ہم نے پچھلے 500 سالوں میں 1 فیصد سے کم انواع کو کھو دیا ہے، لیکن بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر انواع جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں ان کو 1800 کی دہائی کے وسط تک بیان نہیں کیا گیا تھا۔2015 میں سائنس دانوں نے زمینی گھونگوں کی 200 معلوم انواع کے میوزیم کے مجموعوں، ریکارڈز اور ماہر تبصروں کا مطالعہ کیا۔ انھیں پتہ چلا کہ جب سے اصلی جنگلی حیات میں ایک نوع کے طور پر ان انواع کی درجہ بندی کی گئی تھی اس وقت سے بہت سی انواع کو جنگلی حیات میں نہیں دیکھا گیا تھا اور اُس کا دسواں حصہ پہلے ہی سے معدوم ہو چکا تھا۔ اگر وسیع تر رجحانات کی علامت کے طور پر لیا جائے تو رپورٹ تیار کرنے والوں کا اندازہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم تمام معلوم انواع میں سے ساڑھے سات فیصد سے 13 فیصد تک کے درمیان پہلے ہی کھو چکے ہیں۔

    مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے اورنیتھولوجسٹ (پرندوں کے ماہر) ڈاکٹر الیگزینڈر لیز کہتے ہیں کہ یہ ’ایک بہت بڑے نقصان کا اشارہ ہے جو موجودہ اعداد و شمار کا نمائندہ نہیں ہے۔‘ اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ حالیہ برسوں میں کتنی انواع معدوم ہوئی ہیں، جنگلی حیات کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ صرف 50 سالوں میں عالمی جنگلی حیات کی آبادی میں اوسطاً 69 فیصد کمی آئی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے ماہر حیاتیات پروفیسر انٹونی بارنوسکی کہتے ہیں کہ ’آپ کو (معدومیت کے) اس مقام تک لے جانے میں پچاس سال سے زیادہ وقفے نہیں لگتے جہاں ان میں سے زیادہ تر انواع تباہ اور ختم ہونے والی ہیں۔‘

    سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ ہم فوسل ریکارڈ کو دیکھ کر اور اس وقت کے دوران جب بڑے پیمانے پر معدوم نہیں ہو رہے تھے، معدومیت کی اوسط ’پس منظر کی شرح‘ کا حساب لگانے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہوئے ہم کتنی تیزی سے انواع کو کھو رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس پس منظر کی شرح کا موازنہ معدومیت کی جدید شرحوں کے ساتھ کرتے ہیں جو ریکارڈز سے جمع ہوتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دونوں کی صف بندی کیسے ہوتی ہے۔ مانووا یونیورسٹی آف ہوائی کے ماہر ماحولیات ڈاکٹر رابرٹ کووی کے مطابق، ان مطالعات سے پائے جانے والے تخمینوں کی ضخامت ہمیں بتاتی ہے کہ آج معدومیت کی شرح نمایاں طور پر پہلے سے زیادہ ہے – 100 سے 1,000 گنا کے درمیان زیادہ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    کچھ سائنسدانوں ان نتائج کی درستگی پر شک کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ معدوم ہونے کی شرح ماضی کے اکثر اوقات کے مقابلے آج زیادہ ہے۔ محققین زمین پر مختلف ادوار کے دوران معدومیت کی شرح کا اندازہ لگانے کے لیے فوسل ریکارڈ کا استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال چاہے ان سب کا مطلب یہ ہو کہ ہم بڑے پیمانے پر معدومیت میں ہیں یا نہیں، اس معاملے پر بہت زیادہ بحث ہوتی ہے۔ میکسیکو سٹی کی یو این اے ایم یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات ڈاکٹر سیبالوز کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ ہم 2150 کے آخر تک مکمل طور پر بڑے پیمانے پر معدومیت میں داخل ہو جائیں گے، اور یہ کہ ہم اگلی دو صدیوں میں تمام پودوں اور جانوروں کا 70 فیصد کھو سکتے ہیں۔

    امریکہ کی ییل یونیورسٹی کے ماہر امراضیات، پروفیسر پنسیلی ہل کا کہنا ہے کہ فطرت پر ہمارے کاموں کے اثرات کے نقصان کو محسوس کرنے کے لیے انسانوں کے لیے بڑے پیمانے پر معدوم ہونے کے واقعے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے ہمیں اس بارے میں کارروائی کرنے کی ضرورت کے لیے معیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’بہت چھوٹی آب و ہوا کی خرابیوں نے پورے معاشرے کو ختم کر دیا ہے۔ 20 سال کی خراب خشک سالی ایک پوری تہذیب کو تباہ کر سکتی ہے – یہی وہ پیمانہ ہے جو ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انواع کی قدرتی رہائش گاہوں کی حفاظت اور جنگلی حیات کے لیے راہداری بنا کر ہم فطرت کو موافقت اور اس کی بحالی میں مدد دے سکتے ہیں۔

  • خلیجی ملک سے رشوت لینے کے الزام میں یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر گرفتار

    خلیجی ملک سے رشوت لینے کے الزام میں یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر گرفتار

    خلیجی ملک سے رشوت لینے کے الزام میں یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر گرفتار کر لیا گیا.

    خلیجی ملک سے رشوت لینے کے الزام میں یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر ایواکیلی کو گرفتار کرلیا گیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق اتوار کو بیلجیئم میں تفتیشی حکام نے ایوا کیلی کے گھر سے نوٹوں سے بھرے بیگز برآمد کیے تھے جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا، یورپی پارلیمنٹ نے تحقیقات کی روشنی میں نائب صد ایوا کیلی کے اختیارات کو معطل کردیا ہے۔

    بیلجیئم کی پولیس ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ قطر نے برسلز کی پالیسیز پر اثرانداز ہونے کے لیے یورپی سیاست دانوں کو بھاری رشوت دی ہے، ابتدائی طور پر چھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے چار پر فرد جرم عائد کردی گئی اور دو کو رہا کیا۔
    استغاثہ نے سولہ گھروں کی تلاشی لی اور چھ لاکھ یورو ضبط کرلیے، انہیں کئی ماہ سے شک تھا کہ ایک خلیجی ریاست برسلز میں فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ایوا کیلی نے قطر کی حالیہ لیبر اصلاحات کی حمایت میں عوامی سطح پر بات کی تھی، بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر نے حراست میں لیے گئے چاروں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن ایک عدالتی ذریعے نے اے ایف پی کو تصدیق کی ہے کہ ایوا کیلی بھی ملزمان میں شامل ہیں۔ فیڈرل پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برسلز کے تفتیشی جج نے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

  • بیک وقت ماں اور کرکٹر ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ حوصلہ شکنی  کرتے ہیں

    بیک وقت ماں اور کرکٹر ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ حوصلہ شکنی کرتے ہیں

    بیک وقت ماں اور کرکٹر ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ حوصلہ شکنی بھی کرتے ہیں.

    پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف کا کہنا ہے کہ ایک ماں اور کرکٹر ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ حوصلہ شکنی بھی کرتے ہیں لیکن کھیل پر توجہ مرکوز رکھتی ہوں۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران بسمہ معروف نے کہا کہ ملک میں خواتین کرکٹرز کی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے ویمن لیگ وقت کی ضرورت ہے، ہم پاکستان میں ویمن لیگ کے شروع ہونے کی منتظر ہیں۔

    بسمہ معروف نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے لیگ شروع کرنے کا اچھا فیصلہ کیا ہے، کئی غیر ملکی کھلاڑی بھی پاکستان ویمن لیگ کے لیے پرجوش ہیں، انٹرنیشنل کھلاڑیوں نے میری کئی ساتھی کھلاڑیوں سے اس حوالے سے بات بھی کی ہے۔ قومی ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک میں بہترین کرکٹ کھیلنا چاہتی ہیں، آئر لینڈ کا ٹیم دورہ پاکستان ہمارے لیے اچھا رہا، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیریز اچھی رہی، اس سے ہمیں بینچ اسٹرینتھ آزمانے کا موقع ملا۔

    ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے فروغ کے حوالے سے بسمہ معروف نے کہا کہ ہم اپنے گراؤنڈز پر اپنے کراوڈ کے سامنے کھیلنا چاہتی ہیں، آئر لینڈ کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز ہارنے پر مایوسی ہوئی لیکن ہماری کچھ کھلاڑی ان فٹ تھیں .ویمن ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے بسمہ معروف نے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز میں ہم اچھا نہیں کھیلے ایشیا کپ اچھا رہا، ورلڈ کپ سے پہلے ہم بہت پرامید ہیں، ہمیں دباؤ میں اچھا کھیلنا ہے، میں چاہتی ہوں کہ ہم آخری بال تک مقابلہ کریں۔

    بسمہ معروف نے کہا کہ ایک عورت کے لیے ماں اور کھلاڑی بننے کے درمیان توازن آسان نہیں ہوتا، میری فیملی اور شوہر نے میری مدد کرنے کے لیے بہت قربانیاں دیں، اگر مجھے تعاون حاصل نہ ہوتا تو میں ماں بننے کے بعد کھیل جاری نہ رکھ پاتی۔ خاتون کرکٹر نے کہا کہ ماں بننے کے بعد کھیل جاری رکھنا مشکل تھا، مجھے علم تھا کہ یہ کام مشکل ہے لیکن میں نے دوسروں کے لیے مشعل راہ بننے کے لیے کھیل جاری رکھا، میری فیملی اور شوہر نے مجھے حوصلہ دیا کہ میرا کھیل ابھی باقی ہے اسے جاری رکھنا چاہیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    بسمہ معروف نے کہا کہ میری والدہ نے اس معاملے میں میری بہت ہمت بندھائی، میری والدہ میری بیٹی فاطمہ کا خیال رکھتی ہیں، کچھ لوگ حوصلہ شکنی بھی کرتے ہیں لیکن میں ایسی باتیں نہیں سنتی اور کھیل پر توجہ مرکوز رکھتی ہوں۔

  • چاند کا چکر لگا کر26 دن بعد انے والا اورائن خلائی جہاز

    چاند کا چکر لگا کر26 دن بعد انے والا اورائن خلائی جہاز

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا بنایا گیا جدید ترین خلائی جہاز اورائن چاند کے گرد چکر لگا کر 26 دن بعد زمین پر واپس آ گیا ہے۔ 

    انتہائی تیز رفتاری سے زمین کی بالائی فضا میں داخل ہونے کے بعد پیراشوٹس نے اس کی رفتار دھیمی کر دی جس کے بعد یہ میکسیکو کے قریب بحرالکاہل میں اتر گیا۔  اب اسے ناسا کے کینیڈی سپیس سینٹر لے جایا جائے گا جہاں سے اسے لانچ کیا گیا تھا۔  چونکہ یہ ایک آزمائشی پرواز تھی اس لیے اس میں کوئی لوگ موجود نہیں تھے مگر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے سینسرز کے حامل کچھ پتلے رکھے گئے تھے۔

    ناسا اورائن خلائی جہاز کو مزید پیچیدہ مشنز پر بھیجنا چاہتا ہے جس میں انسانوں کو تقریباً نصف صدی کے بعد دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنے کا مشن بھی شامل ہے۔  آج سے ٹھیک 50 برس قبل 11 دسمبر 1972 کو اپالو 17 مشن کے خلاباز چاند پر اترے تھے۔ اس کے بعد سے اب تک چاند پر کسی انسان نے قدم نہیں رکھے ہیں۔  ناسا نے اتوار کو اورائن کی زمین پر واپسی کو ’ترجیحی‘ مقصد قرار دیا تھا۔ چاند سے واپس آنے والے خلائی جہاز انتہائی تیز رفتار پر زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں اور اس وقت ان کی رفتار 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے۔ 

    اس لیے فضا کے ساتھ رگڑ کے باعث اس کا بیرونی درجہ حرارت 3000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے ہیٹ شیلڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔  ورائن خلائی جہاز کی چاند کے ساتھ سیلفی جس میں زمین بھی نظر آ رہی ہے. اورائن کی بیرونی تہہ گذشتہ خلائی جہازوں کے مقابلے میں ایک نیا ڈیزائن ہے اور اس آزمائشی پرواز سے ناسا کا ایک مقصد اسے ٹیسٹ کرنا بھی تھا تاکہ جب خلاباز اس میں سفر کریں تو وہ محفوظ رہیں۔ 

    کیپسول کے 11 پیراشوٹس کا یکے بعد دیگرے کھلنا اور پھول جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ ہیٹ شیلڈ نے اپنا کام کر دکھایا ہے مگر انجینیئرز تب تک حتمی رائے نہیں دیں گے جب تک کہ وہ اس کا تفصیلی معائنہ نہ کر لیں۔  ناسا کے ساتھ ساتھ یورپی خلائی ادارہ (ایسا) بھی اس خلائی جہاز کی واپسی پر نظر رکھے ہوئے تھا۔  ایسا نے اورائن کے لیے وہ سروس اور پروپلژن ماڈیول فراہم کیا تھا جس نے اس خلائی جہاز کو چاند کی طرف جانے، اس کے گرد گھومنے، اور وہاں سے واپس آنے کے لیے توانائی فراہم کی۔ 

    یہ سروس ماڈیول کیپسول کے ساتھ واپس نہیں آیا بلکہ خلائی جہاز کے فضا میں داخلے سے 20 منٹ قبل الگ ہو گیا تھا اور جنوبی بحرالکاہل کے خطے میں زمین کے اوپر ہی تباہ ہو گیا۔  یورپ مستقبل میں مزید اورائن مشنز کے لیے سروس ماڈیولز فراہم کرتا رہے گا جس کے بدلے میں اس کے بھی خلابازوں کو ان مشنز پر جانے کا موقع ملے گا۔ اگلا آرٹیمس مشن جس میں خلاباز بھی ہوں گے، اس کے لیے پروپلژن ماڈیول پہلے ہی ناسا کو پہنچا دیا گیا ہے۔ چاند پر خلابازوں کو اتارنے والے مشن آرٹیمس تھری کا پروپلژن ماڈیول اس وقت جرمنی میں اسمبل ہو رہا ہے۔ 

    اب بھی اگر اس پورے پراجیکٹ کو وقت پر مکمل ہونا ہے تو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ چاند پر اترنے کا نیا لینڈنگ سسٹم ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس ناسا کے لیے بنا رہی ہے۔ وہ سٹارشپ کہلانے والا ایک بڑا راکٹ بنا رہے ہیں جو آنے والے چند مہینوں میں زمین کے اوپر اپنی پہلی پرواز کرے گا۔  ارادہ یہ ہے کہ آرٹیمس تھری مشن میں اورائن خلائی جہاز چاند کے قریب سٹارشپ سے ملے گا جہاں سے ایلون مسک کا خلائی جہاز خلابازوں کو چاند کی سطح پر اتارے گا۔  جب اتوار کو اورائن چاند سے واپس آ رہا تھا تو جاپانی کمپنی آئی سپیس کا روبوٹک خلائی جہاز ہاکوتو آر چاند کی جانب جا رہا تھا۔ 
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    یہ چاند تک پہنچنے کا ایک سست راستہ لے گا اور کئی ماہ بعد چاند پر پہنچے گا۔ اگر یہ وہاں تک پہنچ پایا تو یہ متحدہ عرب امارات کا ’راشد‘ نامی ایک چھوٹا سا روور وہاں پر اتارے گا اور جاپانی خلائی ادارے کا ایک روبوٹ بھی جو چاند کی مٹی کا تجزیہ کرے گا۔ 

  • حکومت نے نیب کی خودمختاری ختم کرنے کی سمری مسترد کردی

    حکومت نے نیب کی خودمختاری ختم کرنے کی سمری مسترد کردی

    حکومت کی جانب سے نیب کی خودمختاری ختم کرنے کی سمری مسترد کردی گئی.

    وزارت قانون نے قومی احتساب بیورو کو خط لکھ دیا، جس کے مطابق نیب کی خودمختار ختم کرنے کی سمری مسرد کردی گئی ہے۔ نجی تی وی کے مطابق نیب نے ملازمت کو سول سروس آکوپیشنل گروپ ڈکلیئر کرنے کی سمری بھیجی تھی، جس پر وزارت قانون نے نیب کو خط بھیج دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کی ملازمت کو سول سرونٹس ڈکلیئر نہیں کیا جا سکتا۔

    حکومت نے نیب کی خودمختاری ختم کرنے کی سمری مسترد کرتے ہوئے چیئرمین نیب کی خودمختاری ختم کرنے کی تجویز بھی رد کردی۔ اس سلسلے میں لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ تجویز منظور کرنے سے نیب خود مختار ادارہ نہیں رہے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    وزارت قانون کے خط کے مطابق تجویز منظور کرنے سے چیئرمین نیب کی خود مختاری بھی ختم ہوجائے گی۔نیب کی ملازمت کو سول سرونٹس ڈکلیئر نہیں کیا جا سکتا۔

  •  پنجاب حکومت نے صوبے میں کفایت شعاری پالیسی جاری کردی

     پنجاب حکومت نے صوبے میں کفایت شعاری پالیسی جاری کردی

    پنجاب میں گاڑیوں کی خریداری، سرکاری خرچ پر دورے اور بیرون ملک علاج پر پابندی لگا دی گئی.

     پنجاب حکومت نے صوبے میں کفایت شعاری پالیسی جاری کردی، جس کے مطابق گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگاتے ہوئے کئی معاملات پر اخراجات کمیٹی کی منظوری سے مشروط کردیے۔ رواں مالی سال کے لیے اقتصادی اقدامات کرتے ہوئےپنجاب کی کفایت شعاری پالیسی 5 ماہ کی تاخیر سے جاری کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے تمام خودمختار اداروں، کارپوریشنوں کے سربراہوں کو خطوط لکھ دیے گئے ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے عوام کے پیسے کے استعمال میں انتہائی کفایت شعاری کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق مالیاتی انتظام، مالی نظم و ضبط کی پابندی، ضروری اور بنیادی تنظیمی افعال/سرگرمیوں پر سمجھوتا کیے بغیر اخراجات میں معقول کمی کی جائے گی۔کابینہ کے حال ہی میں ہونے والے اجلاس میں منظوری کے بعد کفایت شعاری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ 7 رکنی کمیٹی کے سربراہ وزیر خزانہ پنجاب ہوں گے۔ کفایت شعاری/معیشت کے اقدامات تمام سرکاری محکموں، مقامی حکومتوں، پبلک سیکٹر کی کمپنیوں اور اتھارٹیز، خود مختار اداروں، منسلک محکموں اور خصوصی اداروں پر فوری طور پر لاگو ہوں گے۔ منصوبے کے مطابق نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی۔

    صحت، پنجاب ایمرجنسی سروسز، ایجوکیشن، پولیس (اے پی سی، جیل وین، ٹو ٹرک، فورک لفٹر)، ایل جی اینڈ سی ڈی، زراعت، لائیو اسٹاک، پی ایچ اے ایس، واسا، پی ڈی ایم اے، اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی تعمیر شدہ سروس ڈیلیوری سے متعلق آپریشنل گاڑیوں ضرورت کے مطابق خریدی جائیں گی ۔محکمہ خزانہ ضرورت کے مطابق موٹرسائیکل خریدنے کی منظوری دے گا۔ مراسلے کے مطابق پنجاب میں انتہائی ضروری کنٹیجینٹ پیڈ اسٹاف کی کی بھرتی منظوری کے تحت کی جائے گی، اس کے لیے کفایت شعاری کمیٹی میں پیش کیاجائے گا۔اس ضمن میں حکومت کی جانب سے سپلیمنٹری گرانٹ کے طور پر کوئی اضافی فنڈز فراہم نہیں کیے جائیں گے اور کفایت شعاری کمیٹی کی سفارشات کے بغیر دوبارہ تخصیص کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    مالی سال 2022-23 میں مختص مجموعی رقم سے زیادہ ائرکنڈیشنرز کی خریداری کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے لیے کفایت شعاری کمیٹی کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم ناگزیر حالات میں حکومتی خرچ پر بیرون ملک علاج کے لیے وزیر اعلیٰ سے منظوری لی جائے گی۔ علاوہ ازیں سرکاری فنڈنگ کے ذریعے سرکاری افسران و اہلکاروں کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم ضرورت کے تحت اس کی منظوری کے لیے کفایت شعاری کمیٹی کے سامنے معاملہ رکھا جائے گا۔ تمام سرکاری ملازمین، اگر ضرورت ہو تو غیر ملکی سرکاری دورے کرتے ہوئے اپنے مطابق سفر کریں۔

    مزید برآں دیگر غیر ملکی دوروں کو کفایت شعاری کمیٹی کے دائرہ کار سے مستثنیٰ رکھاجائے گا۔ جن میں غیر ملکی ماسٹرز/پی ایچ ڈی ڈگریوں کے لیے وظائف اور غیر ملکی دوروں پر آگے بڑھنے والے افسران/ اہلکار، پنجاب اور اسکیم کی پروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی کی منظوری کے تحت کیے جائیں گے جس کاسالانہ ترقیاتی بجٹ میں ذکر ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    پبلک فنڈز سے پرائیویٹ ریستورانوں/ہوٹلوں میں ورکشاپس/سیمینار/کانفرنس/میٹنگز/کسی قسم کی سرکاری تقریبات کے انعقاد پر مکمل پابندی ہوگی۔ مالی سال 2022-23 کے لیے تمام متعلقہ افراد کی طرف سے مذکورہ کفایت شعاری کے اقدامات کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • سعودی عرب: تعطیلات کے دوران ’الشقیق ساحل‘ سیاحوں سے کچھا کھچ بھر گیا

    سعودی عرب: تعطیلات کے دوران ’الشقیق ساحل‘ سیاحوں سے کچھا کھچ بھر گیا

    سعودی عرب: تعطیلات کے دوران ’الشقیق ساحل‘ سیاحوں سے کچھا کھچ بھر گیا.

    سعودی عرب میں پہلے سمسٹر کی تعطیلات کے دوران الدرب گورنری کے سیاحتی مقام ’الشقیق ساحل‘ پر سیاحوں کی بڑی تعداد امڈ آئی۔ سمندری سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے آنے والوں میں خاندان اور بچے بھی شامل ہیں۔ شقیق میونسپلٹی کے سربراہ انجینیر ناصر عطیف نے بتایا کہ پہلے سمسٹر کی چھٹیوں کے دوران شقیق سینٹر آنے والوں کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرکز اپنی صلاحیتوں اور انفراسٹرکچر کے ذریعے سال بھر سیاحوں کے استقبال کے لیے تیار رہتا ہے۔ سمندری پٹی کے ساتھ لوگ پیدل اور سوار دونوں طرح آتے ہیں۔ الشقیق میونسپلٹی مختلف ثقافتی، کھیلوں اور تفریحی تقریبات کا اہتمام کرتی ہے۔ انجینیر عطیف نے کہا کہ شقیق سیزن چار مختلف تہواروں کے قیام کا گواہ ہے جس کا مقصد خطے کے سیاحتی انٹرفیس کو عام طور پر اجاگر کرنا اور زائرین کی خواہشات کے مطابق وہاں پر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    سردیوں کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی سعودی عرب کے بہت سے شہروں اور علاقوں میں ان دنوں قابل ذکر سیاحتی سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب متعدد سیاحتی اور تاریخی مقامات پر ہونے والے واقعات، وہاں کا موسم اور سرگرمیاں دنیا کے عظیم سیاحوں کی توجہ حاصل کرتا ہے موسمیاتی تنوع والے سعودی عرب میں تاریخ اور ورثہ کے متعدد مقامات سیاحوں کیلئے اہم ہیں۔ سعودی عرب میں بڑا ثقافتی ذخیرہ موجود ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    اس سال سعودی موسم سرما میں بہت سے سرگرمیاں شروع ہیں جن میں ریاض کا سیزن اس کے بین الاقوامی تفریحی ماحول کے ساتھ ہے۔ ژالہ باری کے موسم کے علاوہ ریاض سیزن سیاحوں کو اپنے مختلف کھیلوں کے ٹورنامنٹس، سرگرمیوں اور مختلف تفریحی پروگراموں کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس سیزن میں ایڈونچر، دریافت اور فطرت اور تاریخ سے لطف اندوز ہونے کے مواقع موجود ہیں۔ وزارت ثقافت وزارت سیاحت کے تعاون سے 31 دسمبر تک الاحساء، جدہ اور ریاض کے متعدد تاریخی اور ورثے والے مقامات پر 20 سے زیادہ سرگرمیاں منعقد کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت، تفریح اور ثقافت پر مبنی متعدد سرگرمیاں ہیں جنہوں نے سعودی عرب کو سیاحوں کیلئے مقناطیس بنا دیا ہے۔

  • پاک چین خصوصی اقتصادی زون تعاون سے پاکستانی معیشت کو فروغ ملے گا

    پاک چین خصوصی اقتصادی زون تعاون سے پاکستانی معیشت کو فروغ ملے گا

    پاک چین خصوصی اقتصادی زون تعاون سے پاکستانی معیشت کو فروغ ملے گا، چیئرمین سپیشل اکنامک زونز اتھارٹی

    سپیشل اکنامک زونز اتھارٹی پنجاب کے چیئرمین ایس ایم نوید نے کہاہے کہ سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، پاکستان کو عالمی ویلیو چینز کے ساتھ مربوط کرنے اور طویل مدت میں اس کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو بحال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی کا مقصد ملک میں مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے،پاک چین خصوصی اقتصادی زون تعاون سے پاکستانی معیشت کو فروغ ملے گا۔

    ان خیا لات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ خصوصی اقتصادی زونزپاکستان کی نئی ‘صنعتی شناخت’ کی تشکیل کے لیے اہم ہیں، جس کے تحت پاکستان کو عصری اقتصادی منصوبوں پر کام کرنے کے لیے چینی کمپنیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے، عالمی تجربہ بتاتا ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز مقامی اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری خاص طور پر کم مراعات یافتہ علاقوں میں معیشت کے تنوع، علاقائی تفاوتوں میں کمی، مقامی صنعتوں کے ساتھ تکمیلی پیداوار کے لیے اقتصادی سرگرمیوں کے جھرمٹ، مقامی لیبر فورس کی مہارت کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علم کے فروغ، کشش کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    چیئرمین کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت نو خصوصی اقتصادی زونز پاکستانی کمپنیوں کے لیے چینی کمپنیوں کے ساتھ ایکسپورٹ پر مبنی مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی کے لیے تعاون کرنے کا زندگی بھر کا موقع ہوں گے۔ یہ فرموں کو کلسٹر کرنے اور بیرونی معیشتوں کے فوائد سے فائدہ اٹھانے اور اس طرح گھریلو صنعتوں کو اعلیٰ مہارتیں حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔انہوں نے کہاکہ سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، پاکستان کو عالمی ویلیو چینز کے ساتھ مربوط کرنے اور طویل مدت میں اس کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو بحال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی کا مقصد ملک میں مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔ یہ زونز میں غیر ملکی اور ملکی فرموں سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے بہتر انفراسٹرکچر اور تجارتی سہولت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان میں ایک کمزور قانونی نظام ہے، جو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان اپنی سیکیورٹی قانون سازی کو مضبوط بنانے کے لیے چین سے سیکھ سکتا ہے۔ ایس ایم نوید نے کہا پچھلی چند دہائیوں کے دوران چین نے بڑی حد تک خصوصی اقتصادی زونز کے آغاز اور ترقی کی اس کی کوششوں کے نتیجے میں تاریخ میں کسی بھی ملک کی سب سے بڑی اقتصادی توسیع کا تجربہ کیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چین نے غیر معمولی اقتصادی ترقی حاصل کرنے کے لیے خصوصی اقتصادی زونزکے قیام میں ایک ناقابل یقین کامیابی حاصل کی ہے۔ ایس ایم نوید نے کہا یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین نے خصوصی اقتصادی زونز میں 30 ملین افرادی قوت کو ملازمت دی جس نے عدم مساوات کو کم کیا اور غربت میں کمی لائی ہے۔ چین کے خصوصی اقتصادی زونز نے ثقافتی، اقتصادی اور تجارتی لحاظ سے تیزی سے ترقی کی ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز کی مصنوعات بنیادی طور پر بیرونی ممالک کو فروخت کی جاتی ہیں۔

    اپنے معاشی حالات اور ترجیحی پالیسیوں کو بہتر اور فروغ دے کر وہ ان مصنوعات کو تیار کرنے کے لیے چین میں فیکٹریاں لگانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں۔ ایس ایم نوید نے کہا کہ پاکستان کو کلسٹر کی بنیاد پر صنعت کاری پر توجہ دینی چاہیے، جو چین کی ترقی کا ایک اہم عنصر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    چیئرمین نے پاکستانی اور چینی خصوصی اقتصادی زونز کے درمیان باہمی عمل کے حوالے سے کہا کہ وہ چین میں روڈ شوز، کانفرنسز اور سنگل پراڈکٹس کی نمائشوں کا اہتمام کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ پنجاب میں خصوصی اقتصادی زونز کو دی جانے والی خصوصی مراعات کے بارے میں پہلے آگاہی فراہم کی جا سکے اور ایک پرامن اور ہم آہنگی والا ماحول ہو۔

  • 90 سالہ خاتون کی 71 سالوں میں گریجویشن ڈگری

    90 سالہ خاتون کی 71 سالوں میں گریجویشن ڈگری

    90 سالہ خاتون کی 71 سالوں میں گریجویشن ڈگری کی ہے

    جوئس دیفیو نامی خاتون نے 1951 میں الینوائے یونیورسٹی میں معاشیات کی ڈگری حاصل کرنے کیلئے ایڈمیشن لیا، لیکن قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا، ان کی ملاقات چرچ میں ایک نوجوان سے ہوئی جن سے ان کو محبت ہو گئی۔ خاتون نے بتایا کہ انہوں نے تین سال پڑھائی کی لیکن جیون ساتھی سے ملنے کے بعد انہوں نے پڑھائی چھوڑ دی اور اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا، 1955 میں پہلی شادی کی، جن سے ان کے تین بچے ہوئے لیکن پانچ سال بعد ان کے پہلے شوہر دنیا چھوڑ گئے جس کے بعد انہوں نے دوسری شادی کر لی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    زندگی کا پہیہ گھومتا چلا گیا اور زندگی کے 70 سال بیت گئے، سب کچھ پورا تھا لیکن پڑھائی کا خواب ادھورا تھا جسے ان کے پوتے پوتیوں نے پورا کیا، اور انہیں واپس تعلیم کی طرف بھیجا۔ اور 71 سال بعد وہ اپنی گریجویشن ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں، ڈگری وصول کرتے ہوئے جہاں ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا وہیں ہال میں بھی تالیوں کی گونج تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

    دوسری جانب لوگ بھی اس پر تبصرے کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں یہ کیا کہ 90 سالہ خاتون کی 71 سال میں گریجویشن ہوئی ہے جب بہت سارے لوگ کہہ رہے کہاچھی بات ہے انہوں ہمت نہیں ہاری اور بالآخر کامیاب ہوئی لیکن کچھ ایسے بھی صارفین ہیں جو مزاق اڑا رہے ہیں.

  • چین کے ساتھ 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پراتفاق ہوا: سعودی عرب

    چین کے ساتھ 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پراتفاق ہوا: سعودی عرب

    چین کے ساتھ سربراہ اجلاس میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پراتفاق ہوا: سعودی عرب

    عودی عرب کے وزیرسرمایہ کاری خالدالفالح نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے الریاض میں منعقدہ سعودی،چین سربراہ اجلاس میں قریباً50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے سمجھوتوں اورمعاہدوں پردست خط کیے گئے تھے۔ خالدالفالح نے اتوار کے روز سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقدہ ایک کانفرنس کے موقع پربلومبرگ کو بتایا کہ ان معاہدوں میں نجی اور سرکاری دونوں شعبے شامل ہیں۔انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ اعدادوشماران عرب ممالک سے متعلق سرمایہ کاری کےمعاہدوں کی بھی عکاسی کرتے ہیں جن کے رہنماؤں نے بھی چین کے ساتھ سربراہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔

    گذشتہ ہفتے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی میزبانی میں صدرشی جن پنگ کے ساتھ چین عرب سربراہ اجلاس میں بیجنگ کے ساتھ خلیج کے گہرے ہوتے تعلقات کو اجاگرکیا گیا تھا لیکن اس دورے میں چین اورمشرق اوسط کے درمیان اتحاد کے بارے میں گرم جوشی پرمبنی الفاظ کی بازگشت ضرور سنائی دی ہے۔البتہ اعلان کردہ زیادہ ترسمجھوتے مفاہمت کی یادداشتیں تھیں اوران میں کسی پختہ نظام الاوقات یا وعدوں کا فقدان تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    <a href="https://baaghitv…
    چین سعودی عرب اوراس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ توانائی کی پالیسی اورکھوج کے حوالے سے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ سعودی عرب روس کے ساتھ ، اوپیک پلس کا ڈی فیکٹورہنما ہے۔یہ تیل پیداکرنے والے ممالک کا ایک کارٹل ہے اور اس کے رکن ممالک دنیا میں تیل کی کل پیداوارمیں سے نصف نکالتے اورعالمی منڈی میں بھیجتے ہیں۔