Baaghi TV

Author: +9251

  • امریکی سفیر ڈونلڈ بلَوم نے اعلیٰ تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کردیا

    امریکی سفیر ڈونلڈ بلَوم نے اعلیٰ تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کردیا

    امریکی سفیر ڈونلڈ بلَوم نے اعلیٰ تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کے حوالے سے بین الاقو امی کانفرنس کا افتتاح کردیا ہے.

    پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلَوم نے اعلیٰ تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کے حوالے سے بین الاقو امی کانفرنس کا افتتاح کیا ہے ۔ اس موقع پر یوٹا یونیورسٹی کے عہدیدار اور وفاقی وزیر برائے ترقی منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات احسن اقبال بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس کانفرنس کا موضوع ’’اکیسویں صدی میں اعلیٰ تعلیم کا کردار ‘‘ہے جبکہ تعلیم اور ملازمت کے درمیان بدلتی ہوئی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کانفرنس اس نکتہ کو زیر بحث لائے گی کہ جامعات کس طرح اس تغیر پذیر صورتحال سے نمٹنے کے لئے نئے سرے سے صف بندی کر سکتی ہیں۔اس کانفرنس کا انعقاد ہائر ایجوکیشن سسٹم اسٹرینتھننگ ایکٹیویٹی ( ایچ اِی ایس ایس اے) کے تحت کیا جا رہا ہے جبکہ اس کے لیے اعانت امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ( یو ایس ایڈ) کے تعاون سے فراہم کی جارہی ہے۔

    پاکستان کی16 سرکاری جامعات اور دیگر شراکت دار اس میں شامل ہیں جس کا مقصد جامعات میں ایسے موضوعات پر تدریس اور تحقیق کو پروان چڑھانا ہے جس کی عملی میدان میں ضرورت ہو اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کو ملازمتیں میسر آ سکیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سفیرڈونلڈ بلَوم نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان75 برس سے قائم دیرینہ شراکت کی تعریف کی اور کہا کہ ایک ایسے ملک میں جس کی آبادی کا60 فیصد سے زیادہ حص30 سال سے کم عمر کےنوجوانوں پر مشتمل ہو، امریکہ کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کی مدد جاری رکھے تاکہ وہ اپنی قابلیت کو بھرپورانداز میں بروئے کار لا سکیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    2035ءتک چین کے جوہری ہتھیارتین گُنا بڑھ کرقریباً 1500 ہوجائیں گے. رپورٹ
    عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،بلاول
    پولیس کی بروقت کاروائی، ڈکیتی کی کوشش بنائی ناکام،ملزمان گرفتار
    موٹروے بھونگ انٹرچینج کی تعمیرسے متعلق کیس کی سماعت ملتوی
    جامعات میں داخلوں کیلیے انٹربورڈ کا 45 فیصد پاسنگ مارکس پر غور
    ہائر ایجوکیشن کمیشن ( ایچ اِی سی) پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کہا کہ ایچ ای سی گریجویٹ افراد کی ملازمتوں میں شمولیت کی شرح میں بہتری کے لیے ماہرین کی کھیپ تیار کرنے پر امریکی حکومت کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔ امریکہ سے یوٹا ریاست کے سینیٹر کیتھ گرووَر نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا حتمی مقصد نوجوانوں کو ایسی کلیدی مہارتوں سے ہمکنارکرنا ہوتا ہے جن کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر افرادی قوت میں مثبت کردار ادا کرسکیں ۔

  • سابق چینی صدر جیانگ ژیمن کے  انتقال پر وزیر اعظم کا چین سے اظہار تعزیت

    سابق چینی صدر جیانگ ژیمن کے انتقال پر وزیر اعظم کا چین سے اظہار تعزیت

    سابق چینی صدر جیانگ ژیمن کے انتقال پر وزیر اعظم کا چین سے اظہار تعزیت

    چین کے سابق صدر وکمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل جیانگ ژیمن 96برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں ۔چینی خبررساں ادارے کے مطابق حکمران کمیونسٹ پارٹی ، پارلیمنٹ، کابینہ اور فوج کی طرف سے چینی عوام کے نام ایک خط میں انتقال کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ کامریڈ جیانگ ژیمن انتقا ل کرگئے ہیں ۔

    انہوں نے بتایا کہ جیانگ ژیمن ایک شاندار لیڈر تھے،ان کی موت ہماری پارٹی ، فوج اور تمام نسلی گروہوں کے لوگوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔واضح رہے کہ جیانگ ژیمن 1989 سے 2002 تک چینی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری، 1989 سے 2004 تک سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین اور 1993 سے 2003 تک ملک کے صدر رہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    2035ءتک چین کے جوہری ہتھیارتین گُنا بڑھ کرقریباً 1500 ہوجائیں گے. رپورٹ
    عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،بلاول
    پولیس کی بروقت کاروائی، ڈکیتی کی کوشش بنائی ناکام،ملزمان گرفتار
    موٹروے بھونگ انٹرچینج کی تعمیرسے متعلق کیس کی سماعت ملتوی
    جامعات میں داخلوں کیلیے انٹربورڈ کا 45 فیصد پاسنگ مارکس پر غور
    تاہم اس حوالے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی اظہار تعزیت کیا ہے اور کہا کہ؛ چین کے سابق صدر ژیانگ ژی من کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ چین کے سابق صدر ایک دانشمند رہنما اور مدبر تھے، انہیں پاکستان کے عظیم دوست کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے پاک ۔چین تعلقات کو مضبوط بنانے میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔

    واضح رہے کہ 1989 میں جب انہوں نے ڈینگ ژیاؤپنگ کی جگہ صدارت کا عہدہ سنبھالا اس وقت چین اقتصادی جدیدیت کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ تاہم جب وہ 2003 میں صدر کے منصب سے ریٹائر ہوئے اس وقت چین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن تھا۔ بیجنگ نے 2008 کے اولمپکس میں کامیابی حاصل کی تھی اور ملک سپر پاور کی حیثیت سے اپنے راستے پر گامزن تھا۔ ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ وانگ یپنگ اور دو بیٹے ہیں۔

  • عمران خان نے قائداعظم کے 14 جون 1948 کے خطاب کو 14 اگست 1947 کا خطاب قرار دے  دیا

    عمران خان نے قائداعظم کے 14 جون 1948 کے خطاب کو 14 اگست 1947 کا خطاب قرار دے دیا

    عمران خان نے قائداعظم کے 14 جون 1948 کے خطاب کو 14 اگست 1947 کا خطاب قرار دے دیا.

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جنرل ساحر شمشاد اور جنرل عاصم منیر کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے قائداعظم کے خطاب کی غلط تاریخ لکھ دی۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر چیئرمین جوائنٹ چیفس اور آرمی چیف کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ساتھ ہی قائداعظم کے خطاب کی کچھ لائنز شیئر کیں۔


    عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ریاست کی طاقت عوام سے حاصل کی جاتی ہے، امید ہے نئی قیادت 8 ماہ میں قوم اور ریاست کے درمیان عدم اعتماد کے فقدان پر قابو پائے گی۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے ٹوئٹ میں قائداعظم کی تقریر کا اقتباس شامل کیا جس کے مطابق قائداعظم نے کہا کہ پالیسی معاملات طے کرنا سویلین کا کام ہے، یہ فوج کی ذمہ داری ہے کہ آپ وہی کام کریں جو آپ کے سپرد کیا گیا ہو۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    2035ءتک چین کے جوہری ہتھیارتین گُنا بڑھ کرقریباً 1500 ہوجائیں گے. رپورٹ
    عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،بلاول
    پولیس کی بروقت کاروائی، ڈکیتی کی کوشش بنائی ناکام،ملزمان گرفتار
    موٹروے بھونگ انٹرچینج کی تعمیرسے متعلق کیس کی سماعت ملتوی
    جامعات میں داخلوں کیلیے انٹربورڈ کا 45 فیصد پاسنگ مارکس پر غور


    عمران خان نے اپنی ٹوئٹ میں قائداعظم کے خطاب کی غلط تاریخ لکھ دی۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے قائداعظم کے 14 جون 1948 کے خطاب کو 14 اگست 1947 کا خطاب قرار دیا جب کہ قائداعظم محمد علی جناح نے یہ خطاب 14جون 1948 کو آرمی اسٹاف کالج میں کیا تھا۔ جبکہ اس پر مسلم لیگ ن کی رہنماء مریم نواز شریف نے لکھا کہ؛ "آپ کی یادداشت ۲۰۱۸ تک نہیں جاتی؟ جب آپ نے چند افسران کے ساتھ مل کر نواز شریف کے خلاف سازش کی،عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا،ان افسران کو متنازعہ بنایا اور انکےمستقبل تباہ کیے؟قائد اعظم کا یہ فرمان اس وقت یاد نہیں آیا؟ آپکی سیاست آپکےہاتھ آنکھیں اور کانوں کی رخصتی کے ساتھ دفن ہو گئی”.

  • حکومت معاشرے کے پسماندہ طبقات کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے. احسن اقبال

    حکومت معاشرے کے پسماندہ طبقات کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے. احسن اقبال

    وفائی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا اجلاس سے خطاب ہوئے کہنا تھا کہ حکومت معاشرے کے پسماندہ طبقات کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے.
    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ تعلیم تک رسائی وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ موجودہ حکومت معاشرے کے پسماندہ طبقات کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے بدھ کو ہائیر ایجوکیشن اور افرادی قوت کی ترقی کے بارے میں بین الاقوامی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوے کیا۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سربراہی اجلاس پاکستان کی ترقی کی ترجیحات کے تناظر میں ایک بروقت اقدام ہے کیونکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے امریکی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں پرائمری اور بنیادی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سنٹرز آف ایکسیلنس کے قیام تک شامل ہیں۔تقریب میں پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم، ریاست یوٹاہ کے سینیٹر ڈاکٹر کیتھ گروور، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ایچ ای سی، ڈاکٹر مختار احمد اور دیگر افراد نے شرکت کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    2035ءتک چین کے جوہری ہتھیارتین گُنا بڑھ کرقریباً 1500 ہوجائیں گے. رپورٹ
    عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،بلاول
    پولیس کی بروقت کاروائی، ڈکیتی کی کوشش بنائی ناکام،ملزمان گرفتار
    موٹروے بھونگ انٹرچینج کی تعمیرسے متعلق کیس کی سماعت ملتوی
    جامعات میں داخلوں کیلیے انٹربورڈ کا 45 فیصد پاسنگ مارکس پر غور
    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں نوجوان نہ صرف اپنی مستقبل کی تعلیم کے بارے میں فکر مند ہیں بلکہ اپنی معاش، اپنی ذہنی صحت اور تندرستی کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔ وزارت منصوبہ بندی نے پہلے ہی انکی صحت بالخصوص نفسیاتی معاونت کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔یاد رہے کہ پاکستان میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح کا تخمینہ 8.5 سے 10 فیصد کے درمیان ہے، 80 فیصد نوجوانوں کی افرادی قوت کے پاس تعلیم کی سطح کم ہے اور اس کی بنیادی وجہ مہارتوں کے معیار، رسائی اور مطابقت میں فرق ہے۔

    وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بحیثیت قوم کلیدی چیلنجوں کا سامنا ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو قومی ترقی کے ایجنڈے اور ترجیحات کی حمایت کے لیے درکار علم اور ہنر سے کیسے آراستہ کریں، اور دوسری طرف، اگر ہم اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں صحیح سمت میں استعمال کرنے میں ناکام رہے تو یہ سب سے بڑا موقع ضائع ہو جائے گا۔یہ بین الاقوامی سربراہی اجلاس پالیسی مکالموں، سمپوزیموں، سیمینارز اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے اعلیٰ تعلیم سے متعلق امور پر ماہرین کی مشاورت کے سلسلے میں پہلا اجلاس ہے۔

  •  حکومت گرانے کا بیانیہ پہلے ٹھیک تھا یا اب والا؟ فیصل واؤڈا کا پی ٹی آئی سے سوال

     حکومت گرانے کا بیانیہ پہلے ٹھیک تھا یا اب والا؟ فیصل واؤڈا کا پی ٹی آئی سے سوال

    حکومت گرانے کا بیانیہ پہلے ٹھیک تھا یا اب والا؟ فیصل واؤڈا کا پی ٹی آئی سے سوال

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات پر سابق رہنما پی ٹی آئی فیصل واوڈا کا ردعمل سامنے آگیا۔ فیصل واوڈا نے ٹوئٹر پر بیان میں طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ کیا یہ وہی امریکی سفیر ڈونلڈ لو ہے جس نے سازش سے پی ٹی آئی کی حکومت گرائی؟ کیا اب ڈونلڈ لو سازش کے ذریعے پی ٹی آئی کی حکومت واپس لانے والا ہے؟ کیا اب یہ ڈونلڈ لو ٹھیک ہوگیا ہے؟ حکومت گرانے کا بیانیہ پہلے ٹھیک تھا یا اب والا۔ ماجرا کیا ہے۔


    فیصل واوڈا کو سوشل میڈیا پر امریکی سفارت کار ڈونلڈ بلوم کو امریکی سفیر ڈونلڈ لو سمجھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات کی تھی۔ پی ٹی آئی نے سازش کے ذریعے اپنی حکومت ختم کرنے کا الزام ڈونلڈ لو پر عائد کیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    2035ءتک چین کے جوہری ہتھیارتین گُنا بڑھ کرقریباً 1500 ہوجائیں گے. رپورٹ
    عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،بلاول
    پولیس کی بروقت کاروائی، ڈکیتی کی کوشش بنائی ناکام،ملزمان گرفتار
    موٹروے بھونگ انٹرچینج کی تعمیرسے متعلق کیس کی سماعت ملتوی
    جامعات میں داخلوں کیلیے انٹربورڈ کا 45 فیصد پاسنگ مارکس پر غور
    ایک صارف نے لکھا کہ؛ ڈونلڈ بلوم پاکستان میں امریکی سفیر ہے جبکہ ڈونلڈ لو امریکہ میں امریکی وزارت خارجہ میں اہم عہدار ہے. یہ دونوں الگ الگ لوگ ہیں.
    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے غلیظ کارکنان جو گالیاں دینے میں ماہر ہیں نے فیصل واؤڈا کو غلیظ مغلظات بکیں تاہم یاد رہے یہ وہی لوگ ہیں جو اس وقت فیصل واؤڈا کو اچھا سمجھتے تھے جب وہ پی ٹی آئی میں تھے.

  • کے الیکٹرک صارفین کے لئے دو اچھی جبکہ ایک بری خبر

    کے الیکٹرک صارفین کے لئے دو اچھی جبکہ ایک بری خبر

    کے الیکٹرک صارفین کے لئے دو اچھی اور ایک بری خبر;اکتوبر کی فيول ايڈجسٹمنٹ کی مد ميں 2.15 روپے کا ريليف

    کراچی کے بجلی صارفین کے لئے بجلی دو روپے 15 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کے ساتھ یکساں ٹیرف کے ذریعے گھریلو اور صنعتی صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا گيا۔ کراچی والوں کيلئے اچھی اور بری خبر ايک ساتھ ہے، اچھی خبر یہ ہے کہ کے الیکٹرک صارفین کے لئے اکتوبر کی فيول ايڈجسٹمنٹ کی مد ميں بجلی 2 روپے 15 پيسے فی يونٹ سستی کر دی گئی ہے، جب کہ دوسری طرف یکساں ٹیرف کے ذریعے گھریلو اور صنعتی صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ ہو گيا۔

    اکتوبر کيلئے بجلی سستی ہونے سے صارفین کو تين ارب 59 کروڑ روپے کا ریلیف ملے گا ۔ فیصلے کا اطلاق کے الیکڑک کے لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا۔ نيپرا حکام کے مطابق کے الیکڑک نے اپنے وسائل سے 32 روپے 96 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کی، سی پی پی اے سے خریدی جانے والی بجلی کی قیمت 12 روپے ایک پیسے فی یونٹ تھی، جب کہ میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی سے صارفين پر ایک ارب چھ کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔

    کے اليکٹرک حکام نے جواز پيش کيا کہ فرنس آئل اور ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کي وجہ سے فرق پڑا۔ چيئرمين نيپرا نے اسستفسار کيا کہ اکتوبر میں ڈیزل سے بجلی کیوں پیدا کی گئی؟ کیا اس بارے ميں پیشگی اطلاع دی گئی۔ جس پر کے اليکٹرک حکام نے جواب ديا بجلی کی پیداوار کے لحاظ سے قوانین پر عمل درآمد کیا گیا۔ کراچی والوں کیلئے دوسری بڑی اور اچھی خبر یہ ہے کہ الیکٹرک صارفین کے لئے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی بجلی 7.83 روپے سستی ہوگئی ہے، اور یہ ريليف جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ديا گيا ہے۔

    اس حوالے سے نیپرا کی جانب سے فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوایا جائے گا۔ دوسری طرف کے الیکٹرک صارفین کیلئے دسمبر سے مارچ 2023 تک بجلی مہنگی کی جائے گی۔ 200 یونٹ والے گھریلو صارفین کیلئے بجلی ایک روپیہ 48 پیسے جب کہ 200 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والوں کو بجلی 3 روپے 21 پیسے فی یونٹ مہنگی ملے گی۔ اور صنعتی صارفین کیلئے 4 روپے 45 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی ہوگی۔

  • یورپی یونین پولیٹیکل ڈائیلاگ کا آٹھواں دور؛ اگلا دور آئندہ برس اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق ہو گیا

    یورپی یونین پولیٹیکل ڈائیلاگ کا آٹھواں دور؛ اگلا دور آئندہ برس اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق ہو گیا

    یورپی یونین پولیٹیکل ڈائیلاگ کا آٹھواں دور،اگلا دور آئندہ برس اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق ہو گیا.
    پاکستان اور یورپی یونین نے سیاسی مذاکرات کا اگلا دور آئندہ برس اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ فریقین کے درمیان یہ اتفاق رائے برسلز میں پاکستان۔یورپی یونین پولیٹیکل ڈائیلاگ کے آٹھویں دور میں ہوا۔ قائم مقام سیکرٹری خارجہ جوہر سلیم اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اینریک مورا نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق بات چیت میں فریقین نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی مکالمے کی خصوصی اہمیت کا خاص طور پر ذکر کیا۔ بات چیت میں پاکستان۔یورپی یونین تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی پیش رفت کے تناظر میں مختلف امور پر تبادل خیال کیا گیا۔ فریقوں نے کثیر جہتی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر اور باہمی تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے ماحولیاتی تبدیلی سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب کے متاثرین کے لیے یورپی یونین کی جانب سے فراہم کی جانے والی بروقت انسانی امداد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اہم تجارتی اور ترقیاتی پارٹنر کے طور پر یورپی یونین کی مسلسل حمایت پاکستان کی بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں کو مؤثر طریقے سے مدد کرنے اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر کرنے میں اہم ثابت ہوگی۔ فریقین نے تسلیم کیا کہ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سکیم ترقی اور باہمی طور پر فائدہ مند تجارتی تعاون کے لیے تجارت کا ایک کامیاب نمونہ ہے۔ قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے نئی جی ایس پی پلس سکیم کی تجویز پر پاکستان کے موقف کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی سکیم میں پائیدار ترقی، غربت کے خاتمے اور روزگار کی فراہمی سمیت باہمی مقاصد کو مناسب طور پر ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے شرکاء کو پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے دائرہ کار کو متنوع بنانے کے لیے پاکستان کی خواہش سے بھی آگاہ کیا۔

    فریقوں نے یورپی یونین کے فلیگ شپ پروگرام جیسے گلوبل گیٹ وے اور ہورائزن یورپ کے تحت تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔فریقین نے ”مائیگریشن اور موبائلٹی” پر ایک جامع مذاکرات کے حالیہ آغاز کا بھی خیر مقدم کیا۔ یہ مکالمہ یورپ کی طرف ہجرت کے قانونی راستوں کے لیے ایک ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیلنٹ پارٹنرشپ تلاش کرے گا جبکہ پاکستان۔یورپی یونین کے ”ری ایڈمیشن” معاہدہ کے موثر نفاذ کو ممکن بنائے گا۔ قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کو بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے بھارت پر زور دے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا احترام کرے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کا مقصد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ کو نقصان پہنچانا اور مقبوضہ علاقہ کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

    قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے ہمہ گیر اور مستقل اطلاق کے لیے پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا جس میں طاقت کے استعمال کا عدم استعمال، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، تنازعات کا حل اور تمام ریاستوں کے لیے یکساں تحفظ شامل ہیں تاکہ دیرپا امن و سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے پاکستان کے اس مطالبہ کو دہرایا کہ مخاصمت کا فوری خاتمہ ہونا چاہئے اور یوکرین کے تنازعہ کا جلد از جلد سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے مذاکرات سے حلل تلاس کیاجانا چاہئے۔ قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے افغانستان کو درپیش پیچیدہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے افغان عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے عبوری افغان حکومت کے ساتھ بین الاقوامی برادری کی مستقل شمولیت کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

  • ہاشم ندیم کی موسیقار نوید نوشاد کے سٹوڈیو‌ میں آمد ، لکس ایوارڈ ملنے پر مبارکباد دی

    ہاشم ندیم کی موسیقار نوید نوشاد کے سٹوڈیو‌ میں آمد ، لکس ایوارڈ ملنے پر مبارکباد دی

    پری زاد اور خدا ور محبت جیسے ڈراموں کے رائٹر ہیں گزشتہ روز وہ میرے پاس تم ہو اور خدا اور محبت جیسے ڈراموں کے او ایس ٹی تخلیق کرنے والے نوید نوشاد کے سٹوڈیوتشریف لائے . نوید نوشاد کو حال ہی میں خدا اور محبت کے او ایس ٹی کے لئے لکس ایوارڈ ملا ہے انہیں مبارکباد دی. اس موقع پر کیک بھی کاٹا گیا اور نوید نوشاد کی اس کامیابی کو منایا گیا. ہاشم ندیم کے ساتھ معروف ہدایتکار شہزاد کشمیری بھی تھے. نوید نوشاد نے اس موقع پر سب کا شکریہ ادا کیا . نوید نوشاد کافی عرصے سے ڈراموں کے او ایس ٹی بنا رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں

    لکس سٹائل ایوارڈ سے نوازا گیا ہے. یاد رہے کہ نوید نوشاد نے ڈرامہ سیریل دو بول کا او ایس ٹی جا تجھے معاف کیا بھی بنایاتھا اس او ایس ٹی نے بھی دھوم مچا دی تھی. لیکن اس پر نوید کو ایوارڈ نہیں دیا گیا تھا. نوید نوشاد کے بڑے بھائی قمر نوشاد اکثر ان کے لئے او ایس ٹی لکھتے ہیں . نوید نوشاد کا تعلق معروف موسیقار گھرانے سے ہے ان کے والد واجد علی ناشاد تھے جو کہ معروف موسیقار تھے. نوید نوشاد گائیکی بھی کر لیتے ہیں لیکن ان کا فوکس فی الوقت فوکس کمپوزنگ پر ہے . .

  • چائلڈ پورنوگرافی معاملہ؛ بالنسیاگا اور ٹوئیٹر آمنے سامنے

    چائلڈ پورنوگرافی معاملہ؛ بالنسیاگا اور ٹوئیٹر آمنے سامنے

    چائلڈ پورنوگرافی معاملہ پر بالینسیاگا اور ٹوئیٹر آمنے سامنے آگئے ہیں.

    لگژری فیشن ہاؤس بالینسیاگا، (Balenciaga)، جو 1919 میں ہسپانوی ڈیزائنر کرسٹوبال بالنسیاگا نے قائم کیا تھا، جو کہ پہننے کی چیزیں جیسے جوتے، ہینڈ بیگ اور لوازمات تیار کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، مبینہ طور پر بچوں کے استحصال کی وکالت کرنے والی ان کی اشتہاری مہم کے الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد تنقید کی زد میں ہے۔ ٹویٹر کے نئے سربراہ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بچوں کے استحصال اور بدسلوکی پر مبنی مواد سے نجات دلانے کا موقف اختیار کیا۔ فیشن برانڈ جو اس وقت فرانسیسی کارپوریشن کیرنگ کی ملکیت ہے، اور اس کا صدر دفتر پیرس، فرانس میں ان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) Cédric Charbit کی قیادت میں نومبر 2016 سے ہے – حال ہی میں ان الزامات کے سامنے آئے تھے کہ یہ برینڈ بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہے جس پر ایلون مسک نے تنقید کی ہے.

    نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق بالینسیگا کی دو نئی مہمات کے نتیجے میں یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ جب سے جارجیائی فیشن ڈیزائنر ڈیمنا گواسالیا 2015 میں فیشن برانڈ کے لیے آرٹسٹک ڈائریکٹر بنی ہیں، تب سے اس برانڈ نے منفی توجہ حاصل کی ہے، جس میں اسکینڈلز کے ساتھ "تنازعہ کے لیے ہلکی چھڑی” بن گئی ہے۔

    اگرچہ پچھلے اسکینڈلز نے صرف برانڈ کی ساکھ کو بڑھاوا دیا تھا تاہم ایک فیشن لیبل کے طور پر جو صارفین کو "ذائقہ” کے معنی کو سمجھنے پر مجبور کرتا ہے، لیکن ان کی تازہ ترین مہمات نے کیڑے کا ایک اور ڈبہ کھول دیا ہے، اور بجا طور پر ایسا ہی ہے۔ ان مہمات میں سے ایک جس میں بچوں کی تصویریں دکھائی دیتی ہیں جن میں ہینڈ بیگ کے ساتھ پوز ہوتے ہیں جو کہ ٹیڈی بیئرز کی طرح نظر آتے ہیں – یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسے "بانڈیج گیئر” کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے میں چائلڈ پورنوگرافی کے قوانین سے متعلق کاغذات کی نمایاں تصاویر کی نمائش کی گئی۔ ان مہمات کی وجہ سے ثقافت، سیاست اور فیشن کے ساتھ انٹرنیٹ کا سب سے زیادہ "واضح ٹکراؤ” سمجھا جا رہا ہے۔

    16 نومبر کو، بالینسیاگا نے ایک مہم شائع کی جسے انہوں نے بالینسیاگا گفٹ شاپ کا نام دیا گیا تھا جسے اطالوی ڈاکیومنٹری فوٹوگرافر گیبریل گیلمبرٹی نے شوٹ کیا. جس کا کام بظاہر اس خیال پر مرکوز ہے کہ ہماری چیزیں ہماری کہانیاں سناتی ہیں۔ Galimberti نے اس سے قبل ایک کتاب پر کام کیا تھا جس میں بچوں کے کھلونوں سے کھیلنے کی تصاویر دکھائی گئی تھیں لیکن انہوں نے کبھی فیشن مہم پر کام نہیں کیا تھا۔ بالینسیاگا کے فوٹو شوٹ میں، اطالوی فوٹوگرافر نے پیرس میں برانڈ کے 2023 کے رن وے شو میں سب سے پہلے نمایاں کردہ "تباہ شدہ ٹیڈی بیئر ہینڈ بیگ” پکڑے چھ بچوں کی تصاویر بنائیں تھیں.

    ٹیڈی بیئرز، جو بظاہر بے ضرر بچے کی کھیل کی چیز ہے، نے تنازعہ کو جنم دیا کیونکہ انہوں نے فش نیٹ ٹاپس اور چمڑے کے ہارنس پہن رکھے تھے جن میں وائن گلاسز اور دیگر گفٹ آئٹمز کو شوٹ کے لیے مثالی ترتیب کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ ردعمل کے بعد، Galimberti نے کہا کہ بچوں، مقامات، اور اشیاء کے بارے میں فیصلے بالنسیاگا نے کیے تھے۔ فوٹوگرافر نے مزید کہا کہ دو دن کی شوٹنگ کے دوران عملے کے متعدد ارکان مقام پر موجود تھے۔

    اس کے بعد، بالینسیاگا نے اپنی دوسری، 2023 Garde-Robe اشتہاری مہم گزشتہ ایک کے پانچ دن بعد 21 نومبر کو جاری کی۔ ان تصاویر کے جاری ہونے کے بعد، سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا کہ چائلڈ پورنوگرافی قوانین پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے کاغذی کارروائی کو ایک سہارے کے طور پر کیوں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ مہم جس میں مبینہ طور پر مشہور شخصیات بشمول بیلا حدید، نکول کڈمین، اور ازابیل ہپرٹ کو شامل کیا گیا تھا، جولائی میں گفٹ شاپ مہم سے کئی ماہ قبل شوٹ کی گئی تھی۔

    جبکہ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مہم میں دکھائے گئے انداز کو ابتدائی طور پر نیویارک سٹاک ایکسچینج میں مئی 2022 کے ایک شو میں متعارف کرایا گیا تھا جس میں $3,000 کے Balenciaga x Adidas Hourglass ہینڈ بیگ کی تصویر کے ساتھ سپریم کورٹ کے 2008 کے فیصلے کی چھپی ہوئی کاپیاں بھی شامل تھیں۔ ولیمز کیس جس میں بچوں کی فحش نگاری کے فروغ سے متعلق قوانین کی جانچ پڑتال کی گئی تھی.

    تاہم یہ بھی خیال رہے کہ گزشتہ دنوں لگژری فرانسیسی فیشن برانڈ، بالینسیگا نے معافی نامہ جاری کیا تھا اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کرنے کے بعد اپنی حالیہ چھٹیوں کی مہم کو ختم کر دیا تھا۔ اشتہارات کی سیریز میں برانڈ کے ‘پلش بیئر بیگز’ اٹھائے ہوئے بچوں کو دکھایا گیا تھا۔ دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق، برانڈ کے مشہور ‘گھنٹہ نما بیگ’ کی نمائش کرنے والا ایک اور اشتہار بھی تنقید کا نشانہ بنا۔

    ناقدین نے جلدی سے اس بات کی نشاندہی کی کہ ریچھوں نے بی ڈی ایس ایم گیئر جیسے فش نیٹ ٹاپس، تالے والے کالر اور جڑے ہوئے ہارنس پہنے ہوئے ہیں، اور سوال کیا کہ کیا بچوں کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنا مناسب ہے۔ بالینسیگا کی ‘ٹوائے اسٹوریز’ مہم کے لیے دکھائے جانے والے مذکورہ فوٹو شوٹ میں چائلڈ پورنوگرافی کے بارے میں سپریم کورٹ کی رائے کے بارے میں ایک دستاویز بھی پیش کی گئی تھی، جسے ‘گھنٹے کے گلاس بیگ’ کے ساتھ میز پر بکھرے کاغذات میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    فیشن ہاؤس کے انسٹاگرام سٹوریز پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں، لیبل نے چھوٹے بچوں کے تھیلے پکڑے ہوئے اشتہارات کے ساتھ کسی بھی قسم کے جرم کا باعث بننے پر معذرت کی، جسے بہت سے لوگوں نے آن لائن ‘ناگوار’ اور ‘ جنسی’ کہا۔ “ہم اپنی چھٹیوں کی مہم کی وجہ سے ہونے والے کسی بھی جرم کے لیے مخلصانہ طور پر معذرت خواہ ہیں۔ اس مہم میں ہمارے عالیشان ریچھ کے تھیلے بچوں کے ساتھ نہیں دکھائے جانے چاہیے تھے۔ ہم نے فوری طور پر تمام پلیٹ فارمز سے مہم کو ہٹا دیا ہے۔”

    دو گھنٹے بعد، بالنسیگا نے دوسری معافی نامہ جاری کیا، جب اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ میز پر موجود دستاویزات میں چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق ایک متنازعہ کیس سے متعلق عدالتی فائلنگ ظاہر ہوتی ہے۔ دوسرا بیان مکمل طور پر پڑھا گیا، “ہم اپنی مہم میں پریشان کن دستاویزات ظاہر کرنے کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور سیٹ بنانے کے لیے ذمہ دار فریقین کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں اور ہماری بہار 23 کی مہم کے فوٹو شوٹ کے لیے غیر منظور شدہ اشیاء بھی شامل ہیں۔” اس نے جاری رکھا، “ہم کسی بھی شکل میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم بچوں کی حفاظت اور بہبود کے لیے کھڑے ہیں۔”

    اشتہارات پر تبصرہ کرتے ہوئے، ایک ٹویٹر صارف نے مارکیٹنگ کے لیے برانڈ کے نقطہ نظر کو ‘ناگوار’ قرار دیا اور ان پر ‘شاک فیکٹر’ کو بہت دور لے جانے کا الزام لگایا۔ “میں سمجھتا ہوں کہ Balenciaga کی بہت ساری مارکیٹنگ اس سب کا ‘شاک عنصر’ ہے لیکن یہ صرف ناگوار ہے،” انہوں نے لکھا۔ ایک اور نے برانڈ کو یہ لکھ کر پکارا، “Balenciaga برانڈ نے حال ہی میں اپنی نئی پروڈکٹس کے لیے ایک دلچسپ فوٹو شوٹ کیا ہے جس میں ‘ورچوئل چائلڈ پورن’ نارمل چیزوں کے بارے میں ایک انتہائی ناقص طور پر پوشیدہ عدالتی دستاویز شامل ہے۔”

    دوسروں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا برانڈ کے سفیر کم کارڈیشین اس کی مذمت کرنے کی مہم پر بات کریں گے۔ اب تک ریئلٹی اسٹار نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ماڈل بیلا حدید، جنہوں نے بالنسیاگا کے ساتھ بھی کام کیا ہے، نے لیبل کی تشہیر کرتے ہوئے اپنی حالیہ انسٹاگرام پوسٹ کو حذف کر دیا ہے۔ تاہم عوامی ردعمل کے تناظر میں ایلون مسک جنہوں نے حال ہی میں ٹویٹر حاصل کیا، نے بھی بچوں کے استحصال سے متعلق اشتہاری مواد جیسے فحش نگاری اور بدکاری کے خلاف موقف اختیار کیا ہے. جبکہ بالنسیاگا نے مبینہ طور پر مسک کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد لاکھوں فالوورز والے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو حذف کرنے کا اقدام تشویش کا ایک اور سبب بن گیا۔ اگرچہ، فیشن برانڈ نے ٹوئٹر چھوڑنے کی افواہوں پر کوئی جواب نہیں دیا۔ جبکہ ان رپورٹس کی تصدیق "گڈ مارننگ امریکہ” نے کی جس سے یہ قیاس آرائیاں ہوئیں کہ لگژری برانڈ نے اپنی حالیہ مہمات کی وجہ سے ہونے والے ایک اور PR اسکینڈل کو چھپانے کی امید میں یہ چھوڑ دیا۔

  • شریعت کے نفاذ کیلئے ملک میں مسلح جدوجہد جائز نہیں، مفتی تقی عثمانی

    شریعت کے نفاذ کیلئے ملک میں مسلح جدوجہد جائز نہیں، مفتی تقی عثمانی

    شریعت کے نفاذ کیلئے ملک میں مسلح جدوجہد جائز نہیں، مفتی تقی عثمانی
    معروف عالمِ دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ شریعت کا نفاذ اہم ترین لیکن مسلح جدوجہد کی ضرورت نہیں۔ پاکستان سے سودی نظام کے خاتمے سے متعلق کراچی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ خوشی ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء سیمینار میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاسود بینکاری کو عملی طور پر لاگو کیا جائے، مسلمانوں کے مختلف مکتبۂ فکر میں سود سے متعلق کوئی اختلاف نہیں۔

    مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ سود کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے متفقہ آواز بلند کرنی ہے، حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ سود کے خاتمے کے لیے عملی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ نظریاتی اختلافات کا دائرہ علمی حلقوں تک محدود رہنا چاہیے، ایسا فورم وجود میں آنا چاہیے جس میں سلگتے ہوئے مسائل پر متفقہ مؤقف پیش کیا جا سکے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ہمیں سود سے پاک مالی نظام کو عملی جامع پہنانے کے لیے موثر کوششیں کرنی ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک، وزیر خزانہ اور گورنر اس مقصد میں شریک ہوکر اپنا کردار ادا کریں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    2035ءتک چین کے جوہری ہتھیارتین گُنا بڑھ کرقریباً 1500 ہوجائیں گے. رپورٹ
    عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،بلاول
    پولیس کی بروقت کاروائی، ڈکیتی کی کوشش بنائی ناکام،ملزمان گرفتار
    موٹروے بھونگ انٹرچینج کی تعمیرسے متعلق کیس کی سماعت ملتوی
    جامعات میں داخلوں کیلیے انٹربورڈ کا 45 فیصد پاسنگ مارکس پر غور

    مفتی تقی عثمانی نے مزید کہا کہ سود کے خلاف مشترکہ موقف اور تحریک بنانے کی ضرورت ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ فحاشی و عریانی اور اخلاقی گراوٹ کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔
    علمائے کرام کا خطاب
    سود کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ضیاء اللّٰہ نے کہا کہ سود اور کاروبار بالکل مختلف معاملات ہیں۔ مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ سود نے انسان کو مفاد پرستی کے سوا کچھ نہ دیا جبکہ علامہ حسین اکبر نے کہا کہ نجی بینکس اللّٰہ سے جنگ چھوڑیں، آخرت خراب نہ کریں۔ اس موقع پر مفتی پیر طیب نے کہا کہ مسلمان جائز راستہ اپنائیں۔
    بزنس کمیونٹی سود کو حرام سمجھتی ہے: سلیمان چاؤلہ
    وفاقی ایوانِ صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر سلیمان چاؤلہ نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ بزنس کمیونٹی سود کو حرام سمجھتی ہے، بینکس میں اسلامی بینکاری سہولت کو مکمل طور پر لاگو کیا جائے۔ سیمینار میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، گورنر خیبر پختون خوا غلام علی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، وفاقی وزیرِ مذہبی امور مفتی عبدالشکور، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، امیرِ جماعتِ اسلامی سراج الحق، مفتی منیب الرحمٰن، شاہ اویس نورانی اور ڈاکٹر حسین اکبر بھی سیمینار میں شریک ہیں۔

    ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس میں سیمینار میں سینئر بینکار، ماہرینِ اقتصادیات اور کاروباری برادری کے نمائندے بھی خطاب کریں گے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا سود کےخلاف فیصلے پر اپیلیں واپس لینے کا اعلان؛ سیمینار وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت اور مرکز الاقتصاد الاسلامی کے اشتراک سے ہو رہا ہے۔ سیمینار شروع ہونے سے قبل ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری نے وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، سودی نظام ختم کرنے کے ارادے پر وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے بیان کو بے حد سراہا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سودی نظام ختم کرنے کو عملی طور پر کامیاب بنانے کے طریقے اور اس پر پیش رفت کی ضرورت ہے، سیمینار کا مقصد سودی نظام کے خاتمے کے لیے ماہرین سے رہنمائی لینا ہے۔