Baaghi TV

Author: +9251

  • عمران خان بارے وزیر اعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ وزیر اطلاعات

    عمران خان بارے وزیر اعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ وزیر اطلاعات

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا بیان’پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے بغیر بھی منصفانہ انتخابات ممکن ہیں کو غلط سمجھا اور رپورٹ کیا گیا ہے۔
    گزشتہ ہفتے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ عمران اور ان کی پارٹی کے جیل ن بھیجے گئے رہنماؤں کے بغیر بھی منصفانہ انتخابات ممکن ہیں
    وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان جو غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنے وہ ’سیاسی عمل کو چلائیں گے اور انتخابات میں حصہ لیں گے۔

    پی ٹی آئی نے وزیر اعظم عمران خان کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے بغیر انتخابات غیر آئینی اور غیر قانونی ہوں گے۔
    ایک دن پہلے جاری کردہ ایک بیان میں پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) نے بھی وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کے ریمارکس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کے دعوؤں
    کو جمہوریت مخالف اور غیر معقول قرار دیا تھا۔


    کمیشن نے کہا تھا کہ وزیراعظم کو آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ ان کا یا ان کی حکومت کا یکطرفہ فیصلہ نہیں کہ منصفانہ انتخابات کیسے ہوں۔
    اب آج جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے صاف الفاظ میں یہ تجویز کیا کہ انتخابات میں حصہ لینا ایک حق ہے، لیکن جرائم
    پر سزا قانونی طور پر جائز ہے۔

    وزارت نے کہا کہ انٹرویو کو کچھ آؤٹ لیٹس نے توڑ مروڑ کر یہ تاثر دیا کہ کسی کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    حکومت نے وزیر اعظم کے انٹرویو کے متن کی طرف توجہ مبذول کرائی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم ذاتی انتقام کیلئے کسی کے پیچھے نہیں پڑے ہوئے۔ لیکن ہاں، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قانون مناسب ہو۔ کوئی بھی چاہے عمران خان ہو یا کوئی اور سیاستدان جو اپنے سیاسی رویے کے لحاظ سے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرے تو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہم اسے سیاسی تفریق کے ساتھ تشبیہ نہیں دے سکتے۔

    وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پی ٹی آئی اور اس کے رہنما کسی بھی دوسری جماعت کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہیں۔ وزیراعظم کے بیان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی یا مجموعی طور پر پارٹی کے کسی بھی رہنما کے الیکشن لڑنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر شہری قانون کے سامنے برابر ہے اور اس وقت قانونی الزامات کا سامنا کرنے والے کسی بھی فرد کے حوالے سے قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

  • جو ملکی حالات ایسے میں ایک نئی مؤثر جماعت بنے گی۔ خاقان عباسی

    جو ملکی حالات ایسے میں ایک نئی مؤثر جماعت بنے گی۔ خاقان عباسی


    سابق وزیراعظم شاہد خاقان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اقتدار تو کسی اور طریقے سے ملتا ہے‘ مستقبل کے لائحہ عمل کے ساتھ نئی پارٹی کی ضرورت ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک میں آئندہ عام انتخابات جنوری میں کرائے جانے کا اعلان ہوچکا ہے ۔ اس کے بعد سے سیاسی جماعتیں اور رہنما خاصے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مستقبل کے لائحہ عمل کے ساتھ نئی پارٹی کی ضرورت ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آج جو ملک کے حالات ہیں ، اس میں ایک نئی اور مؤثر جماعت بنے گی۔ ایسی جماعت ہو جس کا مقصد واضح ہو کہ کیا اور کیسے کرنا ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ نئی پارٹی کا مقصد اگر اقتدار ہے تو پھر بات نہیں بنے گی ’اقتدار تو کسی اور طریقے سے ملتا ہے۔
    جبکہ رہنما ن لیگ نے مزید کہا کہ 35 سال سے ن لیگ کیساتھ ہوں آج میرے پاس لوگوں کے سوالات کا جواب نہیں ہے۔ ہم وہ فیصلے نہیں کر پائے جس کی ضرورت تھی۔ 16ماہ بہت ہوتے ہیں اصلاحات کا کوئی عمل شروع نہیں کیا، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ بڑی جماعتیں بیٹھ کر آگے کے راستے کا تعین کریں گی۔
    تاہم یاد رہے کہ شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے کا اشارہ دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ میں ن لیگ میں شامل ہوں، نئی جماعت بنانا کسی مسئلے کا حل نہیں، تاہم ملک میں نئی سیاسی جماعت کی گنجائش موجود ہے۔
    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں 2 بیانیوں کی گنجائش نہیں ہے، مختلف بیانیے سے ابہام پیدا ہوتا ہے، شہبازشریف کو اپنے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے، شہبازشریف کی میڈیا سے دوری سے ابہام بڑھا ہے، شاہد خاقان نے مزید کہا کہ میں اقتدار اورعہدوں کا متلاشی نہیں، 3 سال میں ہر سیاسی جماعت اقتدار کا حصہ رہی ہے، 90 فیصد کاموں میں طاقتوں کو عمل دخل نہیں ہوتا، جو آپ کرسکتے ہیں وہ تو کریں۔ سرمایہ کاروں کو اعتماد دلایا جاسکتا ہے، یہ فیصلے خود کر لیتے تو ایس آئی ایف سی کی ضرورت نہ ہوتی لیگی رہنما نے کہا کہ ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا ہے، ملک میں جو کچھ ہوا، عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ تمام لیڈر محب وطن ہیں، ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کریں، تمام اسٹیک ہولڈرز آگے کے راستے کا تعین کریں، عوام کے مسائل کے حل کا ایجنڈا تیار کریں، الیکشن سے پہلے مستقبل کا ایجنڈا تیار ہونا چاہیے۔
    پی ڈی ایم حکومت کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 16ماہ طویل عرصہ ہوتا ہے، 16 ہفتے یا 16 گھنٹے میں بہت کچھ ہوسکتا ہے، لیکن 16ماہ وہی کام ہوئے جو چیئرمین پی ٹی آئی کررہے تھے۔اگر جنرل باجوہ ریٹائرڈ رکاوٹ تھے تو حکومت چھوڑ دیتے ۔۔ ان کے جانے کے بعد بھی آٹھ ماہ ملے، کچھ کام کر لیتے، وہ فیصلے نظر نہیں آئے جو ہونے چاہئیں تھے۔

  • امیتابھ کی شادی سے پہلے میں انکے ساتھ ڈرائیو پر جاتی تھی فریدہ جلال

    امیتابھ کی شادی سے پہلے میں انکے ساتھ ڈرائیو پر جاتی تھی فریدہ جلال

    سینئر اداکارہ فریدہ جلال نے اپنے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ جب امیتابھ بچن اور جیا بچن کی شادی نہیں ہوئی تھی میں ان کے ساتھ ڈرائیو پر جایا کرتی تھی ، ان کے ساتھ میری دوستی تھی ، مجھے آج بھی یاد ہے کہ یہ دونوں شادی سے قبل پالی ہل وغیرہ جاتے تو مجھے میرے گھر سے پک کرلیتے تھے پھر ہم ڈرائیو پر جاتے اور تاج میں کافی پیتے۔ فریدہ جلال نے کہا کہ امیتابھ بچن اب بھی انہیں انکی ہر سالگرہ پر نیک خواہشات کا پیغام بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ وقت بہت خوبصورت تھا میری بہت کم لوگوں کے ساتھ دوستی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ امیتابھ بچن اور جیا بچن کے ساتھ میری زہنی ہم آہنگی ہے اور یہ ہم آہنگی آج بھی قائم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج زندگی بہت تیز ہو چکی ہے ہر کوئی اپنی اپنی زندگی میں بے حد مصروف ہے کسی کے پاس کسی کے لئے وقت نہیں ہے لیکن ہم ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشی غم میں شامل ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نہ بھی مل سکیں تو فون پر بات ضرور کر لیتے ہیں”۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہمارا یہ تعلق آج بھی قائم ہے۔

    والد نے اداکاری کی اجازت شادی کرنے کی شرط پر دی حرا سومرو

    میرا جسم میری مرضی میں غلط ہی کیا ہے

    بہت سے لوگوں نے ہماری شادی تڑوانے کی کوشش کی جویریا سعود

  • نورا فتحی کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں آغاعلی

    نورا فتحی کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں آغاعلی

    اداکار آغا علی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے اگر بالی وڈ میں کسی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے تو میں نورا فتحی کے ساتھ کروں گا وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔ انہوں نے اپنی اور حنا کی شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ملاقات ایک سیٹ پر ہوئی تھی ، اور اس کے بعد ہماری دوستی ہو گئی اس کے بعد ہمارا اہک دوسرے کے ساتھ ملنا ملانا ہو گیا ، مجھے حنا پہلی نظر میں ہی بھا گئیں تھیں ، میں نے ان کو کہا کہ میں آپ کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں تو انہوں نے فورا ہاں کر دی، نہ والی کوئی بات نظر آ نہیں رہی تھی، شادی کے لئے حنا کو منانا کوئی مشکل نہیں تھا کیونکہ مجھے سمجھ آ گئی تھی کہ وہ بھی مجھے پسند کرتی ہے۔

    انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ”میں اپنی اہلیہ کے ساتھ گھر کے سارے کام کرتا ہوں” اور بلکہ میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ ہم نے گھر میں کوئی نوکر نہیں رکھا ہوا ، ہم اپنے سارے کام خود ہی کرتے ہیں۔ آغا علی نے کہا کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہی چلنا چاہیے اور برابر کا کام کرنا چاہیے۔

    والد نے اداکاری کی اجازت شادی کرنے کی شرط پر دی حرا سومرو

    میرا جسم میری مرضی میں غلط ہی کیا ہے

    بہت سے لوگوں نے ہماری شادی تڑوانے کی کوشش کی جویریا سعود

  • سپریم کورٹ؛ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ؛ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کا پارلیمانی کمیٹی جائز نہیں لے سکتی، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی مہارت جوڈیشل کمیشن ممبران سے یکسر مختلف ہے۔ پشاورہائیکورٹ کےایڈیشنل ججزکی تعیناتی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ بھی جاری کیا۔
    سپریم کورٹ نے فیصلہ میں لکھا کہ عدلیہ کی آزادی ملک کو آئین کے تحت چلانے کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے، آئین میں ریاست کے تینوں ستونوں کے اختیارات واضح ہیں۔
    فیصلے کے مطابق سنیارٹی کا اصول سول سروس میں محکمانہ پروموشن کمیٹی کیلئے بنیادی جزو ہے، صرف سنیارٹی کی بنیاد پر کسی کو ترقی نہیں دی جا سکتی، ترقی اور اعلیٰ تقرری کیلئے سنیارٹی کیساتھ میرٹ اور اہلیت بنیادی جزو ہے۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ سنیارٹی کا جائزہ اُسی وقت لیا جاتا ہے جب میرٹ اور اہلیت پر تمام امیدوار یکساں ہوں، میرٹ سسٹم کے تحت ہی اہل اور قابل افراد کو آگے آنے کا موقع ملتا ہے۔
    فیصلے کے مطابق ججز تقرری کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں تمام ارکان یکساں اہمیت کے حامل ہیں، جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کا پارلیمانی کمیٹی جائز نہیں لے سکتی، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی مہارت جوڈیشل کمیشن ممبران سے یکسر مختلف ہے۔
    سپریم کورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا کام نامزد ججز کی اہلیت اور قابلیت کا جائزہ لینا ہے، پارلیمانی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن دونوں اپنی حدود میں رہ کر ہی کام کر سکتے ہیں۔
    عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں مزید لکھا کہ پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ مفروضوں اور من پسند آبزرویشنز پر مبنی نہیں ہوسکتا، پارلیمانی کمیٹی ججز کے نام منظور یا مسترد کر سکتی ہے، کمیشن کو واپس نہیں بھیج سکتی۔

    فیصلے کے مطابق عدالتوں کو ماضی کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف دائر اپیلیں خارج کر دیں۔
    ججز تقرری کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کو سنیارٹی اصول کے مطابق سفارشات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔
    پشاور ہائی کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کالعدم قرار دی تھی جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ۔

    پشاورہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ جاری کیا۔
    اختلافی نوٹ میں لکھا کہ عدلیہ کی آزادی کیلئے تقرریوں میں شفافیت اہم ہے، تقرری میں شفافیت، احتساب، عوام کے اعتماد کو تقویت دیتا ہے۔
    جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ شفاف عمل کو اپنا کر ہی عدالتی آزادی کو فروغ دیا جاتا ہے۔
    سپریم کورٹ کے جج کے اختلافی نوٹ کے مطابق من مانی فیصلے کا غیر منظم استعمال عدلیہ کی آزادی کو ختم کرتا ہے۔ میرٹ پر جج کی تقرری اہل افراد کی شناخت سے تقرری تک شفافیت سے ہی ممکن ہے۔

  • خوش ہوں خدا نے مجھے بیٹیوں کی نعمت سے نوازا عدنان شاہ ٹیپو

    خوش ہوں خدا نے مجھے بیٹیوں کی نعمت سے نوازا عدنان شاہ ٹیپو

    سینئر اداکار عدنان شاہ ٹیپو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بیٹیوں کی اہمیت پر کھل کر بات کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میں دنیا کا خوش نصیب ترین باپ ہوں کیونکہ مجھے میرے رب نے بیٹیوں جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ میں دن رات اسکی اس رحمت کا شکر گزار ہوں۔ بیٹیاں سچ میں رحمت ہوتی ہیں یہ مجھے تب بات پتہ چلی جب میں باپ بنا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دین بھی بیٹیوں کے بارے میں بات کرتا ہے ان کو اعلی مقام دیتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری سوسائٹی میں ، بیٹیوں کی پیدائش پر بہت سارے گھروں میں ماتم منایا جاتا ہے، اور کبھی کبھی تو بیٹی پیدا کرنے والی لڑکی کو طلاق ہی دیدی جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیٹیوں کی خواہش کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں بیٹا اور بیٹی عطا کرنا میرے رب کا اختیار ہے ۔

    ”جن لوگوں کی بیٹیاں ہیں میں ان سے کہوں گا انہیں بالکل بھی اپنے اوپر بوجھ نہ سمجھیں ”، میرا ایمان ہے بیٹیوں کے ہر معاملے میں خدا باپ کی مدد فرماتا ہے ۔خدا تو ویسے ہی بیٹیوں کے کاموں میں والدین کے لئے آسانیاں فرما دیتے ہیں۔

    والد نے اداکاری کی اجازت شادی کرنے کی شرط پر دی حرا سومرو

    میرا جسم میری مرضی میں غلط ہی کیا ہے

    بہت سے لوگوں نے ہماری شادی تڑوانے کی کوشش کی جویریا سعود

  • خوش نصیب ہوں لیجنڈز کے ساتھ پرفارم کرنے کا موقع ملا حمیرا چنا

    خوش نصیب ہوں لیجنڈز کے ساتھ پرفارم کرنے کا موقع ملا حمیرا چنا

    نامور گلوکارہ حمیر اچنا جو گائیکی کی رمز کو بہت اچھے سے جانتی ہیں ان کے کریڈٹ پر نامور گیت ہیں۔ گلوکارہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ریاضت گلوکاروں کے لئ اتنی ہی ضروری ہے جیسے کہ سانس لینا یا روٹی کھانا۔ اگر کوئی گلوکار ریاضت نہیں کرتا تو اس کی آواز کا ردھم اور خوبصورتی برقرار نہیں رہتی ۔ میں آج بھی ریاضت کرتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں کہ ریاضت کبھی بھی میری مصروفیت کے نذر نہ ہو۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب سے گائیکی کا آغاز کیا ہے اس وقت سے روزانہ کی بنیاد پر ریاضت کا سلسلہ جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اپنے وقت کے لیجنڈ گلوکاروں کے ساتھ پرفارم کام کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے میری بھرپور انداز میں حوصلہ افزائی کی ۔

    ”پاکستان میں گلوکاری کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے” جس کا ثبوت نصرت فتح علی خان، مہدی حسن ،ملکہ ترنم نور جہاں، عابدہ پروین، غلام علی خان جیسے ہیرے ہیں۔حمیرا چنا نے کہا کہ آج کے گلوکار بہت اچھا گاتے ہیں، میں نے بہت سارے گلوکاروں کو سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سوشل میڈیا پر نہ ہونے کے برابر ایکٹیو ہوں۔

    والد نے اداکاری کی اجازت شادی کرنے کی شرط پر دی حرا سومرو

    میرا جسم میری مرضی میں غلط ہی کیا ہے

    بہت سے لوگوں نے ہماری شادی تڑوانے کی کوشش کی جویریا سعود

  • چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا ادارے کے اندر شفافیت پر زور

    چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا ادارے کے اندر شفافیت پر زور

    چیئرمین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کی بی آئی ایس پی ہیڈ آفس آمد جبکہ سیکرٹری بی آئی ایس پی کا انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کا استقبال کیا ترجمان کے مطابق چیئرمین بی آئی ایس پی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو بی آئی ایس پی اور اس کے دیگر اقدامات کے بارے میں جامع طور پر بریفنگ دی گئی جس کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقات کی سماجی و معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے۔ جن اقدامات پر بریفنگ دی گئی ان میں بینظیر کفالت، بینظیر تعلیمی وظائف اور بینظیر نشوونما پروگرام شامل ہیں۔
    ترجمان کے مطابق بریفنگ دوران بی آئی ایس پی میں غریب خاندانوں کی رجسٹریشن میں قومی سماجی و معاشی رجسٹری (NSER) ڈائنامک رجسٹری کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ۔ مزید برآں، چیئرمین بی آئی ایس پی کو ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن اقدام کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ، جس کے تحت مستحقین اور غیر رسمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیوں میں تبدیلی کو یقینی بنایا جائیگا۔
    جبکہ ڈاکٹرمحمد امجد ثاقب نے بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں میں مالی خواندگی اور سماجی ایجنڈے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بینکوں کے ذریعے ادائیگی کے طریقہ کار کو بہتر بنا نے اور مستحقین کی شکایات کا ازالہ سے بی آئی ایس پی کے امیج کو بہتر بنانے کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اجتماعی طور پر درست سمت میں آگے بڑھنے کے لیے بی آئی ایس پی ٹیم کے تعاون پر زور دیا۔
    علاوہ ازیں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ادارے کے اندر شفافیت اور اس کی ساکھ کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ دیگر تنظیمیں اور انفرادی مخیر حضرات اس نیک مقصد میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ انہوں نے بی آئی ایس پی ڈیٹا کے تحفظ اور غیر مجاز کٹوتیوں کی روک تھام کے اہم مسائل کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے خود احتسابی کے عمل کے ساتھ ساتھ سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے مستحقین کو غربت باہر نکلنے کی حکمت عملی پر بھی زور دیا۔

  • نوجوان گلوکار عثمان اقبال کا نیا گیت ”تو روشنی“ ریلیز کردیا گیا

    نوجوان گلوکار عثمان اقبال کا نیا گیت ”تو روشنی“ ریلیز کردیا گیا

    پنجاب یونیورسٹی سے میوزیکالوجی میں ایم اے ڈگری ہولڈر اور نامور گائیکوں استاد بدرالزماں اور اسرار چستی سے کلاسیکی موسیقی کے باقاعدہ تربیت یافتہ نوجوان گلوکار عثمان اقبال کا نیا گیت ”تو روشنی“ ریلیز کردیا گیا ہے۔ عثمان اقبال پروڈکشنز کے پلیٹ فارم سے ریلیز کیا گیا یہ گیت پیار کرنے والے نوجوان کے رومانوی جذبات کی عکاسی کرتا ہے جسے عثمان نے خود ہی تحریر و کمپوز کیا ہے، گیت کی ویڈیو میں عثمان اقبال بطور سنگر و پرفارمر جلوہ گر ہوئے ہیں جسے شائقین کی طرف سے خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ عثمان اقبال نے جامعہ پنجاب سے میوزک کی باقاعدہ تعلیم حاصل کر رکھی ہے انہیں گیت، غزل، ملی نغمہ اور خیال گائیکی کی دیگر اصناف پر عبور حاصل ہے،

    عثمان اقبال نے اپنا ویڈیو گیت ریلیز ہونے پر اپنے اساتذہ ارشد، سجاد طافو، طلحہ لیاقت، اپنی ٹیم ممبران شگفتہ، محمد اقبال،انعم، سدرہ، افشاں،زینہ، نوید اور فہد کا شکریہ ادا کیا ہے۔ عثمان اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جن نوجوان گلوکاروں کو سالوں کی محنت کے باوجود مناسب لانچ نہیں مل رہا انہیں ڈیجیٹل میڈیا کی طرف آنا چائیے۔ ”ڈیجیٹیل میڈیا کے ذریعے نہ صرف پوری دنیا کے سامنے آپ کے ٹیلنٹ آجاتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اسکے قدر دان بھی میسر آجاتے ہیں۔” عثمان اقبال نے کہاکہ وہ اپنے پروڈکشن پلیٹ فارم سے نئے گیتوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ نئے ٹیلنٹ کو پروموٹ کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    والد نے اداکاری کی اجازت شادی کرنے کی شرط پر دی حرا سومرو

    میرا جسم میری مرضی میں غلط ہی کیا ہے

    بہت سے لوگوں نے ہماری شادی تڑوانے کی کوشش کی جویریا سعود

  • مایا علی نے عمرہ کی سعادت حاصل کر لی

    مایا علی نے عمرہ کی سعادت حاصل کر لی

    معروف اداکارہ مایا علی نے عمرہ کی سعادت حاصل کر لی ہے، انہوں نے سوشل میڈیا پر عمرہ کرنے کے دوران کی تصاویر شئیر کی ہیں۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اداکارہ اپنی فیملی کے ہمراہ ہیں اور انہوں نے ان کے ساتھ ہی عمرہ کیا ہے۔ مایا علی نے جب یہ تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کیں تو انہوں نے کیپشن یہ لکھا ”ہم لوگ کافی عرصہ سے اکٹھے عمرہ کے لئے کوششیں کررہے تھے اور اب اللہ تعالیٰ نے ہماری دعا سن لی ہے۔” اداکارہ نے جیسے ہی سوشل میڈیا پر یہ تصاویر جاری کیں تو ان کے مداحوں نے ان کو مبارکباد دی ، اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا ان کے بہت سارے مداحوں نے ان کو دعائوں میں یاد رکھنے کا کہا۔

    جبکہ ان کے ساتھی اداکاروں نے بھی ان کو مبارکباد دی اور کہا کہ آپ بہت خوش نصیب ہیں کہ” آپ کو خدا نے اپنے گھر بلایا ہے۔” مایا علی سے قبل بھی رواں برس بہت ساری شوبز سلیبرٹیز نے بھی عمرہ کی ادائیگی کی اور اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کیں۔

    والد نے اداکاری کی اجازت شادی کرنے کی شرط پر دی حرا سومرو

    میرا جسم میری مرضی میں غلط ہی کیا ہے

    بہت سے لوگوں نے ہماری شادی تڑوانے کی کوشش کی جویریا سعود