Baaghi TV

Author: +9251

  • وزیراعظم کی کوئی خاص ملاقاتیں نہیں دیکھیں۔ ملیحہ لودھی

    وزیراعظم کی کوئی خاص ملاقاتیں نہیں دیکھیں۔ ملیحہ لودھی

    سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ نگراں حکومت کی توجہ ملک کے اندرونی معاملات میں ہونی چاہیے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے سائیڈ لائنز پر نگراں وزیراعظم کی کوئی خاص ملاقاتیں نہیں دیکھیں۔ سابق سیکریٹر خارجہ اعزاز چوہدری کہتے ہیں کہ جنرل اسمبلی کا اجلاس بہت اہم ہوتا ہے، پاکستان کو دنیا سے امداد کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔

    نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ جنرل اسمبلی دنیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے، جنرل اسمبلی میں 193 ممالک کی نمائندگی ہوتی ہے، جس میں بین الاقوامی اور خطے کے امور پر بات چیت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت معاشی بدحالی کا سامنا ہے، ’نگراں حکومت کی توجہ ملک کے اندرونی معاملات میں ہونی چاہیے۔

    جبکہ ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ معاشی بدحالی میں خارجہ پالیسی مضبوط نہیں ہوسکتی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے سائیڈ لائنز پر اہم ملاقاتیں ہوتی ہیں، سابق سفیر نے مزید کہا کہ نگراں وزیراعظم کی کوئی خاص ملاقاتیں نہیں دیکھیں، سابقہ ادوار میں عالمی سربراہان سے ملاقات کا وقت نہیں ملتا تھا۔

    امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق سیکریٹر خارجہ اعزاز چوہدری نے ”پروگرام روبرو“ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی کا اجلاس بہت اہم ہوتا ہے، نگراں وزیراعظم نے تمام اہم ایشوز پر بات کی۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر بھی بات کی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان کےخلاف افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے۔

    عالمی اداروں کی جانب پاکستان کی امداد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دنیا سے امداد کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ انوار الحق کاکڑ کا موسمی تبدیلی پر بات کرنا بھی ٹھیک تھا، موسمی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے خود اقدامات کرنے ہوں گے۔

    بھارت کی مختلف ممالک میں مداخلت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں بھارتی ریاستی دہشت گردی تشویشناک ہے، بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہورہا ہے۔ سابق سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو پکڑا گیا تھا، دنیا میں پاکستان کا مؤقف درست ثابت ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں اسلحہ کی دوڑمیں شامل نہیں ہونا چاہتا، امریکا کو چین کی وجہ سے بھارت کی ضرورت ہے۔

  • سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نئے مشرق وسطیٰ کا جنم ہوگا. نیتن یاہو

    سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نئے مشرق وسطیٰ کا جنم ہوگا. نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدے کے بلکل قریب پہنچ چکا ہے جبکہ اپنے خطاب میں نیتن یاہو کا کہنا تھاکہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ دیرپا امن کے قیام کیلئے کوشاں ہیں، فلسطینیوں کو یہودیوں کے علیحدہ ریاست کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے تعاون سے نئی امن راہداری کو قائم کیا جائے گا، اسرائیل کا سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدہ دیگر عرب ممالک کو امن معاہدے کرنے پر آمادہ کرےگا، ان کا کہنا تھاکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نئے مشرق وسطیٰ کا جنم ہوگا اور ہم سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔
    سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    ان کا مزید کہنا تھاکہ فلسطینیوں کے ساتھ امن کا قیام حقیقت پسندی سے مشروط ہے، اسرائیل، امریکی صدرکی موجودگی میں سعودی عرب کےساتھ امن معاہدے کیلئے پرامید ہے تاہم خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل سے کو تسلیم کیا اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا۔

  • دنیا نئی سرد جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی. نگران وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی سے  خطاب

    دنیا نئی سرد جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی. نگران وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ دنیا نئی سرد جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی، اقوام عالم بھارت کے کشمیر میں مظالم بند کرانے کی کوششیں کریں، اور خطے میں امن کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالیں جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی سے خطاب کر کے فخرمحسوس کررہا ہوں، دنیا کو اس وقت کئی چینلجز کا سامنا ہے، اور نئے بلاکس بن رہے ہیں۔

    نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا نئی سرد جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی، عالمی شرح نمو سست روی کا شکار ہے، کووڈ، تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑی چیلنجز سامنے آئے ہیں، جن سے سے عالمی معیشت متاثر ہوئی، انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ موسمی تبدیلی کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان موسمی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہوا، سیلاب سے 1700 افراد ہلاک اور 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان معیشت کی بحالی پرتوجہ دے رہا ہے۔

    نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کوعالمی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، عالمی سرمایہ کاری کیلئے ایس آئی ایف سی کاقیام عمل میں آیا، انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ وسط ایشیا سے زمینی روابط کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے، بھارت کے ساتھ بھی برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔

    نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیرکی وجہ سےخطےمیں حالات کشیدہ ہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے، جب کہ حریت رہنماؤں کو بھی نظر بند کیا ہوا ہے، جعلی مقابلوں میں بڑی تعداد میں کشمیری شہید ہوئے ہیں علاوہ ازیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کو کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل کرنا چاہئے، اور عالمی طاقتوں کو خطے میں امن کیلئے اقدامات اور بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہئے، اقوام عالم بھارت کے کشمیر میں مظالم بند کرانے کی کوششیں کریں۔

    خیال رہے کہ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے، ہم افغان عبوری حکومت سے تعاون کےخواہشمند ہیں، افغان حکومت کے تعاون سے ہی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔ انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی قیام ہے۔

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے تدارک کیلئے بھی ہنگامی اقدامات درکار ہیں، تمام مذاہت کا احترام یقینی بنانا ہوگا، قرآن پاک کی بےحرمتی کےواقعات انتہائی افسوسناک ہیں، نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا میں اضافہ ہوا ہے، اسلامو فوبیا کے مرتکب افراد کو سخت سزائیں دی جانی چاہیے، انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اقوام متحدہ کو دنیا میں قیام امن کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

  • عمران خان میرے بغیر حکومت نہیں بناسکتے تھے. پرویزخٹک

    عمران خان میرے بغیر حکومت نہیں بناسکتے تھے. پرویزخٹک

    عمران خان کا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی حکومت نہیں بناسکتے تھے، پرویزخٹک

    سربراہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عمران خان کا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی حکومت نہیں بناسکتے تھے، پی ڈی ایم پر لوگ مزید اعتبار نہیں کرسکتے جبکہ سوات میں کارکنوں سے خطاب میں پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت میں آکر چیئرمین تحریک انصاف کا رویہ بدل گیا، سابق وزیر اعظم کی حکومت ترقی لاتی تو آج پنجاب کی یہ حالت نہ ہوتی۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹیاں عوام سے وعدے کرتی ہیں اور پھر ہمیشہ منشور پر سمجھوتا کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک پارٹی بنائی، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین حقیقی جمہوری، عوامی پارٹی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    جبکہ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے آزمائی ہوئی پارٹی میں جانے کے بجائے اپنی پارٹی بنائی، جلد پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو صوبے کی بڑی پارٹی بنا کردم لیں گے، واضح رہے کہ پرویز خٹک کے کارکنوں سے خطاب سے قبل رہنما ن لیگ حبیب علی شاہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین میں شامل ہوئے۔

  • پاکستان ریلوے کا شالیمار ایکسپریس بند کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ریلوے کا شالیمار ایکسپریس بند کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ریلوے نے لاہور سے کراچی کے درمیان چلنے والی شالیمار ایکسپریس کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور پاکستان ریلوے حکام کے مطابق لاہور سے کراچی کے درمیان چلنے والی شالیمار ایکسپریس خسارے میں چل رہی تھی، مطلوبہ آمدن نہ ملنے پر ٹرین بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    جبکہ ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ شالیمار ایکسپریس کا یومیہ خسارہ 20 لاکھ روپے ہے، شالیمار ایکسپریس کو 2 بار نجی شعبہ کے حوالے کیا جاچکا ہے تاہم واضح رہے کہ پاکستان ریلوے نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد ٹرینوں کے کرایوں میں بھی اضافے کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب یاد رہے کہ پاکستان ریلوے نے شالیمار ایکسپریس ٹرین کو یکم جولائی سے براستہ فیصل آباد چلانے کا فیصلہ کیا تھا اور لاہور سے کراچی جاتے ہوئے شالیمار ایکسپریس فیصل آباد صبح 8 بج کر 10 منٹ پر رکے گی، 5 منٹ رکنے کے بعد فیصل آباد سے شالیمار ایکسپریس 8 بج کر 15 منٹ پر روانہ ہونے کا فیصلہ ہوا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    طلبہ یونین کی بحالی کا فیصلہ
    نوازشریف کی واپسی کا نگراں حکومت سے کوئی تعلق نہیں. مرتضیٰ سولنگی
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    جبکہ ریلوے انتظامیہ نے اس وقت کہا تھا کہ شالیمار ایکسپریس کو عوام کی سہولت کے پیش نظر براستہ فیصل آباد چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا گزشتہ سال اگست میں بارشوں اور سیلاب کے بعد بند کی جانے والی شالیمار ایکسپریس کو 8 مہینوں کی بندش کے بعد یکم مئی 2023 کو بحال کیا گیا تھا۔

  • نوازشریف کی واپسی کا نگراں حکومت سے کوئی تعلق نہیں. مرتضیٰ سولنگی

    نوازشریف کی واپسی کا نگراں حکومت سے کوئی تعلق نہیں. مرتضیٰ سولنگی

    نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں کا کام جاری ہے، انتخابی مہم کےلئے سیاسی جماعتوں کو 54 دن کا وقت ملنا ضروری ہے جبکہ کراچی میں گورنر سندھ سے ملاقات کے بعد نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ نگراں حکومت آنے سے پہلے جو حکومت تھی اس میں بڑا حصہ ن لیگ کا تھا، فواد حسن فواد کو اگر وزیر بننا تھا تو وہ ن لیگ حکومت میں بن سکتے تھے۔

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے قائد کی وطن واپسی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ نوازشریف کی واپسی کا نگراں حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مقتول صحافی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم جان محمد مہر کے قتل پر خاموش نہیں رہیں گے، لواحقین کو انصاف دلانے کی کوشش کرینگے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    تاہم اس موقع پر گورنر سندھ نے کہا ہے کہ نگراں وزیراطلاعات سے ملاقات مثبت رہی، مرتضیٰ سولنگی اپنی ذمےداریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں جبکہ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں آنے والے دنوں میں مزید مثبت تبدیلیاں نظرآئیں گی۔ڈالر کی قیمت جلد 250 تک آنے والی ہے، ڈالر بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے اوپر جا رہا تھا، گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ مثبت پیش رفت سے ہی پاکستان آگے بڑھے گا، یو اے ای، چائنا اور ترکیہ سے مثبت جوابات آئیں ہیں، ان ممالک کا پاکستان کی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ہوگا۔

  • طلبہ یونین کی بحالی کا فیصلہ

    اسلام آباد قائد اعظم یونیورسٹی سنڈیکیٹ اجلاس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بحثیت رکن شرکت، قائد اعظم یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کا فیصلہ کرلیا جبکہ ذرائع سیکریٹری تعلیم وسیم اجمل کی سربراہی میں طلبہ یونین کے لیے قواعد طے کرنے کے لئے کمیٹی قائم.

    جبکہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ وائس چانسلر پروفیسر نیاز کی زیر صدارت اجلاس میں شریک ہوئے، چیف جسٹس کا یونیورسٹی میں اسلحہ بردار پولیس ، رینجرز اور سیکیورٹی کی موجودگی پر اظہار ناراضگی جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا یونیورسٹی کو اسلحہ و منشیات سے پاک رکھیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے پہلے قانون میں یونین موجود تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    یورو ایشیا اکنامک فورم؛ خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار. چیئرمین سینیٹ

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کسی کو بھی یونیورسٹی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہ دیں اور ایجنسیوں کو بھی یونیورسٹی معاملات سے پرے رکھیں ، یہاں اعلٰی تعلیم پر توجہ دی جائے جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی میں آ خری بار چیف جسٹس بھگوان داس نے دورہ کرکے اجلاس میں شرکت کی تھی اور سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک بار آن لائن اجلاس میں شرکت کی تھی

  • یورو ایشیا اکنامک فورم؛ خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار. چیئرمین سینیٹ

    یورو ایشیا اکنامک فورم؛ خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار. چیئرمین سینیٹ

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا چین کے شہر ژیان میں یورو-ایشیا اکنامک فورم کے دسویں اجلاس کے موقع پر پیغام

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا چین کے شہر ژیان میں یورو-ایشیا اکنامک فورم کے دسویں اجلاس کے موقع پر پیغام ویڈیو لنک کے ذریعے چلایا گیا۔چیئرمین سینیٹ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ یورو-ایشیا اکنامک فورم کے دسویں اجلاس پر برادر ملک چین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اس طرح کے فورمز تعاون کے نئے مواقع فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔علاقائی اقتصادی تعاون ایک مخصوص جغرافیائی علاقے کے اندر ممالک کیلئے معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ کا ویڈیو پیغام میں مزید کہنا تھا کہ چین -پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)ان فوائد کا ثبوت ہے جو علاقائی اقتصادی تعاون سے حاصل ہوتے ہیں۔سی پیک سے نہ صرف علاقائی انضمام اور مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوئی ہے بلکہ اقتصادی استحکام، انسانی ترقی، ماحولیاتی تغیرات، ثقافتی تبادلے اور سیاسی تعاون اور امن کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کررہا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے ویڈیو پیغا م میں کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل مطلوبہ مقاصد کے حصول کیلئے ناگزیر ہے۔ہمیں تجارتی روابط،آزاد تجارتی معاہدے اور پائیدار ترقی کیلئے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور اختراعات کے حصول میں تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    محمد صادق سنجرانی نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس طرح کی کاوشوں سے نہ صرف ہماری معیشتوں کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ نالج شئیرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی معاونت ملے گی۔ہمیں ایسی معاشی پالیسیاں اپنانی چاہئے جو ماحول دوست ہوں۔پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے دس ممالک میں شامل ہے جبکہ گرین ہاؤس گیسز میں پاکستان کا حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ہمیں اجتماعی طور پر اپنے اقتصادی اہداف کے حصول پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ چیئرمین سینیٹ نے ویڈیو پیغام میں عوامی جمہوریہ چین، شانزی صوبے کی عوام اور حکومت، اور ژیان میونسپل اورحکومت کو اس اہم تقریب کی میزبانی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ فورم ہمارے ممالک اور خطے کی ترقی کیلئے مل کر کام کرنے کے ہمارے عزم کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔

  • اسلام آباد پولیس  نئی سرکاری وردی سے محروم

    اسلام آباد پولیس نئی سرکاری وردی سے محروم

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پولیس اہلکار تقریبا 2 سال سے سرکاری وردی ، جوتوں اور سرکاری بلیٹ سمیت بیجز سے محروم ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کو ایک سال میں دو وردیاں، جوتے، سرکاری بیلٹ اور بیجز سرکاری طور پر دیے جاتے تھے۔

    جبکہ اسلام آباد پولیس کا وردی گودام دوسال سے خالی ہے اس لئے اہلکار پرائیویٹ دکانوں سے وردی، جوتے اور بیلٹ لینے پر مجبور ہیں نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق ڈولفن فورس کے لیے کروڑوں روپے میں خریدے گئے نئے یونیفارم بھی ناقص ہونے کے باعث تبدیل کردیے گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ

    تاہم افسران بالا نے ڈولفن اہلکاروں کو واپس وفاقی پولیس کا یونیفارم پہننے کا حکم صادر کردیا ہے اور ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق کوالٹی کو یقینی بنانے کے عمل میں ٹینڈر لیٹ ہوئے تھے۔

  • روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟

    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟

    19 جولائی 2011 روپرٹ مرڈوک کی زندگی کا سب سے عاجز دن تھا۔ کم از کم اب تک. سنہ 2011 میں اسی دن دنیا کے طاقتور ترین میڈیا موگل کو پارلیمنٹ کی ثقافت اور میڈیا کمیٹی کے سامنے بلایا گیا تھا جب فون ہیکنگ اسکینڈل نے ان کے برطانیہ کے اخبارات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ آخری بات یہ تھی کہ نیوز آف دی ورلڈ نے قتل ہونے والی اسکول کی طالبہ ملی ڈاؤلر کی صوتی میلیں سنی تھیں۔ اس کی ہولناکی اب بھی گونجتی ہے (اور فون ہیکنگ کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے)۔ اس وقت، مرڈوک کی نقصان کو محدود کرنے کی مشق تیزی سے ہوتی تھی۔ انہوں نے 168 سال پرانا اخبار بند کر دیا اور ڈولر خاندان سے نجی طور پر معافی مانگی۔

    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 1960 کی دہائی کے اواخر میں نیوز آف دی ورلڈ خریدنے کے لیے لندن پہنچنے کے بعد سے برطانوی میڈیا پر اس طرح کی گرفت رکھنے والے شخص کو اس ذلت آمیز ون لائنر میں مجبور کیا گیا۔ ”یہ میری زندگی کا سب سے عاجزانہ دن ہے،” انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا (اس تقریب کے تھیٹر میں ان کی اس وقت کی بیوی وینڈی ڈینگ نے خود کو ایک احتجاجی پر لانچ کیا تھا جس نے اپنے شوہر پر کسٹرڈ پائی سے حملہ کیا تھا)۔ اب مرڈوک کو ایک اور ذلت آمیز چڑھائی پر مجبور کیا گیا ہے، اس بار اپنے امریکی آپریشنز کے سلسلے میں۔ ایک بار پھر، یہ مرڈوک سلطنت کا سچائی کے بارے میں نقطہ نظر ہے جو سرخیوں میں ہے۔ فاکس نیوز کا کہنا تھا کہ وہ ووٹنگ مشین کمپنی ڈومینین کے خلاف عدالتی مقدمہ آزادی اظہار رائے کے مفاد میں لڑ رہا ہے۔ اس کے بجائے، ایسا لگتا ہے کہ نیٹ ورک نے امریکہ کے 2020 کے صدارتی انتخابات کے تناظر میں حقائق پر مبنی صحافت کو فکشن کے طور پر تبدیل کر دیا۔

    جبکہ فروری میں شائع ہونے والی فاکس نیوز کی ای میلز اور پیغامات سے ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ فاکس کے بہت سے ایگزیکٹوز اور پریزینٹرز ووٹر فراڈ کے دعووں پر یقین نہیں رکھتے تھے – لیکن انہیں ویسے بھی نشر کرتے ہیں۔ نیٹ ورک نے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جو ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے خیالات کی توثیق کرتے ہیں کہ انتخابات چوری ہوگئے تھے – ایسا لگتا ہے ، کیونکہ یہ اپنے ناظرین کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔

    واضح ہے کہ ڈومینین کے وکلاء نے میڈیا موگل سے ون لائنر حاصل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہوگا۔ "میری زندگی کا سب سے عاجز دن” بس اسے کاٹ نہیں سکتا تھا. یہ بہت شرمناک ہوتا۔ چنانچہ روپرٹ مرڈوک نے آخری لمحات میں سمجھوتے پر اتفاق کیا جس کا مطلب ہے کہ فاکس ڈومینین کو 787.5 ملین ڈالر (634 ملین پاؤنڈ) ادا کرے گا۔ جبکہ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ کیس کبھی ٹرائل تک نہیں پہنچا اور مرڈوک خاندان نے کبھی موقف اختیار نہیں کیا، لیکن ساکھ کے لحاظ سے نقصان یقینی طور پر ہیکنگ اسکینڈل کے برابر ہے۔ تو یہ اس شخص کو کہاں چھوڑتا ہے جو اتنے طویل عرصے سے برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا میں میڈیا کے منظر نامے کے تانے بانے کا لازمی حصہ رہا ہے؟ بے رحمی اور رسک لینے سے مرڈوک سلطنت قائم ہوئی، چاہے وہ ٹائمز اور سنڈے ٹائمز کی ملکیت کے ابتدائی دنوں میں پرنٹ یونینوں پر ان کی فتح ہو، یا دائیں بازو کی فاکس نیوز بنانے کا ان کا عزم، جسے 2016 میں ٹرمپ کو منتخب کرانے میں مدد کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔

    تاہم ان کے ناقدین ڈومینین تصفیے پر تنقید کریں گے۔ سی این این پر پریزنٹر جیک ٹیپر (جنہوں نے کہا کہ نتائج کو "سیدھے چہرے کے ساتھ” رپورٹ کرنا مشکل ہے) نے اسے "صحافت کی تاریخ کے بدترین اور شرمناک ترین لمحات میں سے ایک” قرار دیا۔ اور یہ معاملہ ختم نہیں ہے. ایک اور ووٹنگ سافٹ ویئر کمپنی اسمارٹ میٹک بھی ووٹر فراڈ کے بارے میں اپنی نشریات پر فاکس کے خلاف مقدمہ دائر کر رہی ہے۔ یہ اور بھی مہنگا ہو سکتا ہے. اسمارٹ میٹک کو ڈومینین سے زیادہ 2.7 بلین ڈالر (2.2 بلین پاؤنڈ) ہتک عزت ہرجانہ کی ضرورت ہے۔ برطانیہ میں مرڈوک سلطنت پہلے ہی ان لوگوں کو لاکھوں روپے ہرجانہ ادا کر چکی ہے جنہوں نے اس پر فون ہیکنگ کا الزام لگایا تھا۔