Baaghi TV

Author: +9251

  • اسلام آباد موٹروے پر کارروائی؛  مسافر بس سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد. ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس

    اسلام آباد موٹروے پر کارروائی؛ مسافر بس سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد. ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس

    اسلام آباد موٹروے پر کارروائی؛ مسافر بس سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد. ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس

    اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے اسلام آباد موٹروے پر کارروائی کرتے ہوئے مسافر بس سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی۔ اے این ایف نے اسلام آباد موٹروے ٹول پلازہ پر کارروائی کرتے ہوئے مسافر بس سے 67 کلو 300 گرام منشیات برآمد کرلی۔ برآمد کی گئی منشیات میں 28 کلو 800 گرام افیون، 2 کلو 100 گرام ہیروئین، 36 کلو چرس اور 400 گرام آئس شامل ہے۔ اے این ایف نے کارروائی کے دوران 3ملزمان کو گرفتار کرلیا۔گرفتارملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اینٹی نارکوٹکس فورس نے ایک اکاروائی میں اسلام آباد ائیرپورٹ سے مسافر کے پیٹ سے منشیات برآمد کی تھی. اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے مسافر کے پیٹ سے منشیات کے 80 کیپسول برآمد کی تھی۔ اے این ایف نے بہاولپور کے رہائشی کے پیٹ سے ہیروئن سے بھرے 80 کیپسول برآمد کیے تھے۔ اینٹی نارکوٹکس حکام کا کہنا تھا کہ مسافر کے پیٹ سے برآمد کیے گئے کیپسولز کا مجموعی وزن 430 گرام ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں کورونا کے 62 کیسز رپورٹ. این آئی ایچ
    ڈاکوؤں کو چھینے گئے موبائل فون سے سیلفی اور ویڈیو بنانا مہنگا پڑ گیا
    بجلی بریک ڈاؤن: وجہ کا پتا نہ لگایا جاسکا،ملک میں بجلی کاساڑھے 4 ہزار میگاواٹ شارٹ فال برقرار ہے
    اے این ایف حکام کا مزید کہنا تھا کہ ملزم اسلام آباد سے شارجہ جارہا تھا۔ اسی طرح اے این ایف نے کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایچ اے فیز 6 کے رہائشی کی پک اپ کی تلاشی کے دوران 10 کلو آئس برآمد کرلی اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

  • آج جمعہ ہے کہیں کوئی لیک نہ آجائے، صارفین عمران خان لیکس کے منتظر

    آج جمعہ ہے کہیں کوئی لیک نہ آجائے، صارفین عمران خان لیکس کے منتظر

    آج جمعہ ہے کہیں کوئی لیک نہ آجائے، صارفین عمران خان لیکس کے منتظر

    آج جمعہ ہے اور سوشل میڈیا صارفین کو اس جمعہ پر سابق وزیر اعظم عمران خان بارے لیکس کا شدت سے انتظار ہے کیونکہ گزشتہ گزرنے والے دونوں جمعہ پر عمران‌ خان کی لگاتار دو آڈیوز لیک کی گئی تھی لہذا صارفین اب بھی اسی انتظار میں ہیں کہ شائد آج بھی اسی طرح کی کوئی نئی لیکس آجائے.

    دوسری جانب باغی ٹی وی نے جن دو اکاؤنٹس سے لیکس سامنے آئی تھی کو چیک کیا تو انڈی بل نامی اکاؤنٹ کی آخری پوسٹ تھی "میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا پاکستان لہذا منتظر رہیں.”


    اسی طرح جب دوسرا اکاؤنٹ ہیکر بوئے 11122 چیک کہا تو وہاں آخری آڈیو لیک وزیر اعظم شہباز بارے تھی.
    https://twitter.com/hackerboy11122/status/1580326019697082368
    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں یکے بعد دیگرے کئی آڈیو لیکس منظرِ عام پر آنے کے بعد سے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچ چکا ہے۔ جبکہ وزیرِ اعظم ہاؤس کی عمران اور شہباز دونوں کی مبینہ طور پر لیک ہونے والی ان آڈیو بات چیت کو ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ جمعہ کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں انھیں اپنی کابینہ کے رکن سے مبینہ طور پر ‘ہارس ٹریڈنگ’ کے بارے میں بات کرتے ہوئے واضح طور پر سنا جا سکتا ہے۔ جکہ اس سے پہلے وزیرِ اعظم شہباز شریف، مریم نواز اور کابینہ کے دیگر ارکان کی آڈیو لیکس منظرِ عام پر آنے کے بعد کسی قسم کی تردید نہیں کی گئی تھی لیکن وزیر برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کچھ غیر قانونی نہیں ہوا ہے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں کورونا کے 62 کیسز رپورٹ. این آئی ایچ
    ڈاکوؤں کو چھینے گئے موبائل فون سے سیلفی اور ویڈیو بنانا مہنگا پڑ گیا

    لہذا تاحال تو ایسی کوئی آڈیو لیک سامنے نہیں آئی ہے لیکن متعدد سوشل میڈیا صارفین عمران خان بارے کسی لیکس کے منتظر ہیں تاہم دوسری جانب ارکان اسمبلی بھی اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ عمران خان بارے لیکس کی ایک نئی قسط آرہی ہے لیکن اس بارے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسی لیکس سامنے نہیں آنی چاہئے مطلب ایسی نجی گفتگو یا حرکات کو پبلک نہیں کیا جانا چاہئے.

  • ثناء فخر اپنے شوہر کے لئے سوشل میڈیا پر آخری پوسٹ لگا کر آل دی بیسٹ لکھا

    ثناء فخر اپنے شوہر کے لئے سوشل میڈیا پر آخری پوسٹ لگا کر آل دی بیسٹ لکھا

    اداکارہ ثناء فخر جنہوں نے اپنے شوہر فخر سے راستے جد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس فیصلے کے اعلان کے بعد انکے دوست اور مداح حیران ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوا. اس فیصلے کے پیچھے وجوہات کیا ہیں وہ تاحال سامنے نہیں آئیں. ثناء فخر نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر لکھا کہ
    ” دل ٹوٹ گیا مگر بعض اوقات تعلق ختم کرنا اس لئے ضروری ہوتا ہے تاکہ آپ مزید ٹوٹنے سے بچ سکیں اور آپ خود کو ٹوٹنے سے بچا سکیں، زندگی کے نشیب و فراز کے کئی سال کے بعد میں نے اور فخر نے باعزت طریقے سے کئی سالوں پر محیط اس شادی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مجھے یقین ہے کہ خدا نے ہم دونوں کے کچھ اچھا ہی سوچا ہوگا. یاد رہے کہ ثناء اور فخر کی شادی 14 سال تک چلی دونوں نے محبت کی شادی کی بظاہر تو دونوں بہت خوش نظر آتے تھے لیکن ان دونوں کے اس فیصلے نے سب کو حیران کر دیا ہے. دونوں کے دو دو بیٹے بھی ہیں . ابھی چند ہفتے پہلے ثناء انکے شوہر اور بچے سب لندن میں چھٹیاں منانے کےلئے بھی گئے ہوئے تھے. اور ثناء اپنے شوہر کی تعریفیں کرتی نظر نہیں آتیں تھیں.فخر بھی ثناء کے ساتھ سوشل میڈیا پر پیار محبت جتاتے رہتے تھے لیکن دونوں کی طرف سے اس طرح کا اعلان یقینا افسوسناک ہے.

  • حکومت کا ملک  بھر میں بجلی مکمل بحال کرنیکا دعویٰ مگر کئی علاقے تاحال بھی بجلی محروم

    حکومت کا ملک بھر میں بجلی مکمل بحال کرنیکا دعویٰ مگر کئی علاقے تاحال بھی بجلی محروم

    حکومت کا مکمل بجلی بحال کرنیکا دعویٰ مگر کئی علاقے تاحال بھی بجلی محروم

    وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان بھر میں بجلی بحال کرنے کے دعویٰ کے بعد بھی کئی علاقے تاحال بجلی کی سپلائی سے محروم ہیں۔ موصول اطلاعات کے مطابق سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے متعدد شہر صبح 10 بجے تک بجلی کی فراہمی سے محروم ہیں۔ ملک میں بڑے بریک ڈاؤن کی وجہ سے آدھا ملک متاثر ہوا ہے۔ نیشنل ٹرانسمیشن سسٹم میں فنی خرابی، طویل بریک ڈاؤن سے سندھ، بلوچستان اور پنجاب سمیت اکثر حصے بجلی سے محروم ہوگئے ہیں، لاہور میں 1100 میگاواٹ کے شارٹ فال کے باعث ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی جبری لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کر دیا، جنوبی پنجاب، بلوچستان،سندھ کے اکثر علاقوں میں 12 گھنٹے بعد سپلائی بحال ہوگئی۔

    ملک بھر میں بجلی بحران کو 24 گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا بجلی سپلائی معمول پر نہ آئی، گدو تھرمل پلانٹ سے 500 کے وی ٹرانسمشن لائن میں خرابی دور نہ ہوئی، لیسکو کو 12 سے 15 سو میگا واٹ بجلی کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ لاہور شہر بھر میں جبری لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، اکثر علاقوں میں بجلی بندش دورانیہ مسلسل دو سے تین گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ پاور ڈویژن کے اعلامیہ کے مطابق ترسیل کا نظام مکمل بحال ہو گیا، متبادل پیداواری یونٹس سے رسد میں اضافہ کیا جارہا ہے، جلد صورتحال معمول پر آجائے گی۔ قبل ازیں ملک گیر سطح پر مختلف علاقوں میں بجلی کے بریک ڈاؤن سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ پاور ڈویژن کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ملک بھر میں بجلی کی ترسیل کا نظام مکمل بحال کردیا، جب کہ کراچی کے جنوب میں 500 کلو واٹ کی 2 لائنوں میں خلل بھی دور کردیا، تاہم یہ دعویٰ باتوں کی حد تک ہی قائم رہا۔

    پاور ڈویژن نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ متبادل ذرائع سے بجلی کی رسد بڑھائی جارہی ہے، آج صبح تک بجلی کی ترسیل معمول پر آجائے گی۔ نمائندہ سماء کے مطابق رات 11 بجے بھی شہر قائد کی بجلی مکمل طور پر بحال نہیں کی جاسکی، شہر کا 40 فیصد حصہ اب بھی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے جبکہ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں بجلی آنے کے بعد دوبارہ چلی گئی ہے۔ اس سے قبل جمعرات 13 اکتوبر کی صبح کراچی کے قریب ٹرانسمیشن لائن میں خرابی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے ناصرف شہر قائد بلکہ سندھ اور بلوچستان میں نصف حصے کو بجلی معطل ہوگئی۔

    بجلی کے بریک ڈاؤن کے حوالے سے وزارت توانائی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ مُلک کے جنوبی ٹرانسمیشن سسٹم میں حادثاتی خرابی کے باعث متعدد جنوبی پاور پلانٹس مرحلہ وار ٹرِپ ہو رہے ہیں جس سے مُلک کے جنوبی حصے میں بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ وزارتِ توانائی نے مزید کہا کہ پوری تندہی سے خرابی کی وجہ کی تفتیش کر رہی ہے اور جلد از جلد بجلی کے نظام کو مکمل بحال کر لیا جائے گا۔

    شہر قائد میں بجلی کی مکمل بندش کے باعث جہاں معمولات زندگیہ بری طرح متاثر ہوئے وہیں صنعتوں کا پہیہ مکمل طور پر بند ہوگیا۔ بریک ڈاؤن کے باعث کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے تمام پمپنگ اسٹیشن غیر فعال ہوگئے۔ جس کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ کے ڈبلیو ایس بی نے عوام سے اپیل کی کہ پانی کا استعمال احتیاط سے کریں۔ بریک ڈاؤن ہوئے تقریباً 12 گھنٹے گزر چکے ہیں تاہم کراچی کے کئی علاقے اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ کے الیکٹرک کا 5 گھنٹے میں بجلی بحال کرنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں کورونا کے 62 کیسز رپورٹ. این آئی ایچ
    ڈاکوؤں کو چھینے گئے موبائل فون سے سیلفی اور ویڈیو بنانا مہنگا پڑ گیا
    پچھترسالہ تاریخ کا انوکھا تھیٹرشروع،گندی سیاست سے گندی ویڈیوز کا سفر، عمران خان، توتو گیا

    ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ 14 گھنٹے کے بعد 70 فیصد کراچی میں بجلی بحال کردی گئی ہے، لائٹ آکر چلے جانیوالے بیشترعلاقوں میں بھی بجلی دوبارہ بحال کردی۔ ترجمان نے مزید کہا ہے کہ سسٹم میں تکنیکی مسائل کے باعث اگلے 48 گھنٹوں تک لوڈ مینجمنٹ ہوسکتی ہے، رہائشی علاقوں میں ترجیحی فراہمی کیلئے صنعتی علاقوں میں بجلی بند کی جاسکتی ہے۔

  • وزیر خزانہ آئی ایم ایف کو قرضوں کی شرائط میں نرمی پر قائل کرسکتے ہیں؟

    وزیر خزانہ آئی ایم ایف کو قرضوں کی شرائط میں نرمی پر قائل کرسکتے ہیں؟

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار واشنگٹن پہنچے ہیں اور انہوں نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کیلئے اہم شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا دورہ واشنگٹن انتہائی اہمیت کا حامل کیونکہ پاکستان کی معیشت اس وقت زبوں حالی کا شکار اور سب کی امیدیں اس دورے پر ہیں، پاکستان کی معیشت سیاسی عدم استحکام ،اور سیلاب کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے،

    وزیر خزانہ اسحاق ڈارکے دورہ واشنگٹن سے امید ہے وہ عالمی اداروں سے سیلاب سے تباہی بارے نقصان کو اجاگر کرتے ہوئے بھر پورامداد کا مطالبہ بھی کریں گے ،تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کی خلاف ورزی کی، جس کا خمیازہ پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے،

    نئی حکومت آئی تو وہ بھی ابھی تک عوام کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کر سکی،مہنگائی میں مسلسل اضافہ حکومت کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے اوراب اسحاق ڈار کی کوشش ہے کہ دورہ واشنگٹن ہر صورت میں کامیاب ہو تا کہ عوام کو ریلیف ملے تا ہم یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا کیونکہ آئی ایم ایف کی شرائط پر موجودہ حکومت بھی عمل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے حوالہ سے خدشات کا اظہار کیا تھا تا ہم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کو میں نے ڈیل کرنا ہے ،مفتاح نے نہیں،

    پاکستان کی معیشت اسحاق ڈار کے دورہ واشنگٹن کے بعد بہتر ہو گی؟ اس حوالہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت آئی ایم ایف کی پالیسیوں کو ماننے کے ساتھ پاکستان کی عوام کو ریلیف دے، تاجروں، صنعتکاروں کو سہولیات دے تو معیشت بہتر ہو گی، سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ بھی کرنا ہو گا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اسحاق ڈار کا دورہ واشنگٹن بے معنی چلا جائے گا، حاصل ہونے والی کامیابیوں کا اثر بھی سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے زائل ہو سکتا ہے، اتحادی حکومت صرف واشنگٹن، آئی ایم ایف ، عالمی مالیاتی اداروں پر توقعات کی بجائے ملک کے اندرونی معاملات بھی صحیح کرے تبھی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے،بصورت دیگر امداد، قرضے ملتے رہیں گے اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے چند یوم، ماہ بعد پھر قرضوں کی بھیک کے لئے کھڑے ہوں گے

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کیلئے امریکا پہنچتے ہی اہم شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں مالیاتی امور سمیت دیگر دو طرفہ معاملات پر گفتگو ہوئی۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر انتھونیٹ سائیح سے ملاقات کی، اس دوران پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان امور کا جائزہ لیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق؛ واشنگٹن ڈی سی میں جمعرات کو ہونیوالی ملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کو پاکستان کی معیشت کے کلیدی اعشاریوں، پائیدار اقتصادی نمو اور معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے آئی ایم ایف کی انتھونیٹ سائیح کو پاکستان میں حالیہ سیلاب اور اس سے معیشت کو ہونیوالے نقصانات کے بارے میں بھی بتایا۔ بعد ازاں انہوں نے وفد کی صورت میں ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں سیلاب کی صورت حال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر اسحاق ڈار نے امریکی سیکریٹری خزانہ کے قونصلر برائے بین الاقوامی امور ڈیوڈ لپٹن سے ملاقات کی، اس موقع پر امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت، مالیات، سرمایہ کاری اور معاشی شعبے میں تعلقات سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ڈیوڈ لپٹن کو پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی کیلئے تمام تر کوششوں کو یقینی بنا رہی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں کورونا کے 62 کیسز رپورٹ. این آئی ایچ
    ڈاکوؤں کو چھینے گئے موبائل فون سے سیلفی اور ویڈیو بنانا مہنگا پڑ گیا

    وزیر خزانہ نے پائیدار اقتصادی نمو اور اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات سے بھی انہیں آگاہ کیا۔

    وزارت خزانہ کے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ نے اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر ڈاکٹر محمد سلیمان الجاسر سے بھی ملاقات کی، وزیر خزانہ نے اسلامی ترقیاتی بینک کے پاکستان کے ساتھ مسلسل روابط پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کئی دہائیوں سے قابل اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔

    وزیر خزانہ نے ڈوئچے بینک اور جے پی مورگن کی قیادت کے ساتھ بھی ملاقات کی جس میں انہوں نے پاکستانی معیشت کے استحکام اور سیلاب متاثرین کے ریلیف میں حکومتی وژن سے آگاہ کیا۔ وزارت خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے، وزیر خزانہ کی قیادت میں وفد نے ریٹنگ ایجنسیوں سے بھی ملاقاتیں کیں، وفد نے سالانہ اجلاسوں میں منعقدہ کئی تقریبات میں شرکت کی۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پاکستان کو اضافی 10 ملین پاؤنڈ دے گا جس کے بعد برطانیہ کی مجموعی امداد 26.5 ملین پاؤنڈ تک پہنچ جائے گی۔

    علاوہ ازیں وزیر خزانہ کے دورہ واشنگٹن سے بہت ساری توقعات کی جارہی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دورہ مکمل طور پر کامیاب ہوگیا تو اس سے پاکستان کو بہت سارا فائدہ ہوگا. اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بابر علی نے بتایا کہ؛ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا دورہ واشنگٹن بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستان اس وقت انتہائی خراب حالات میں ہے. سیاسی افرا تفری کی وجہ سے بھی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، سیلاب کی وجہ سے پاکستان کو کافی نقصان ہوا ہے اور مالی طور پر پاکستان کو یہ بہت بڑا جھٹکا لگا ہے لہذا اسحاق ڈار امریکہ جا پہنچے ہیں تاکہ وہ آئی ایم ایف کو قرضوں کی شرائط میں نرمی پر قائل کرسکیں.

    جب باغی ٹی وی نے بابر علی سے سوال کیا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف کو اب کیسے قائل کریں گے کیونکہ شرائط کر پہلے سے دستخط ہوچکے اور ماضی کی حکومت یہ سب کچھ مان کر ڈیل کر گئی تھی تو ان کا اس کے جواب میں کہنا تھا کہ: اب جیسے یہ سیلاب والی آفت آئی اس میں سارا قصوروار پاکستان تو نہیں کیونکہ گناہ اور زیادہ غلطیاں دوسرے ممالک کیں بھی ہیں لہذا پاکستان یہ بات کرنے میں حق بجانب ہے کہ کم از کم قرض معاف نہیں تو شرائط میں نرمی ہی کی جائے.

    بابر علی کا مزید کہنا تھا کہ؛ اب وزیر خزانہ کے اس دورہ سے ناصرف شرائط میں نرمی کی توقع ہے بلکہ امید ہے وہ عالمی اداروں سے سیلاب سے تباہی بارے نقصان کو اجاگر کرتے ہوئے بھر پور امداد کا مطالبہ بھی کیا جائے گا جو پاکستان کا حق ہے. انہوں نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار کو لاکر حکومت نے بہت اچھا کیا ہے اور آتے ہی اپنے کام میں متحرک ہوگئے ہیں اگر وزیر خزانہ اسی طرح مسلسل متحرک رہے اور اہم ملاقاتوں میں حکام کو قائل کرلیا تو پھر پاکستان کیلئے کافی بہتری ہوگی. معاشی استحکام آئے گا

    اسحاق

  • ملک بھر میں  کورونا  کے 62 کیسز رپورٹ. این آئی ایچ

    ملک بھر میں کورونا کے 62 کیسز رپورٹ. این آئی ایچ

    ملک بھر میں کورونا کے 62 کیسز رپورٹ. این آئی ایچ

    این آئی ایچ کا کہنا ملک بھر میں کورونا کے62 کیسز رپورٹ ہوئے. جبکہ ملک بھر میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.53فیصد رہی. اور ملک بھر میں کورونا کے30 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے تاہم ابھی تک کوئی اموات ریکارڈ نہیں کی گئی ہے.


    کووِڈ- 19 وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

    یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

    کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟

    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

    اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ جیسی فلم پاکستان میں پہلے کبھی نہیں بنی عدنان صدیقی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ جیسی فلم پاکستان میں پہلے کبھی نہیں بنی عدنان صدیقی

    اداکار عدنان صدیقی جو کراچی سے لاہور خصوصی طور پر فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا پریمئیر دیکھنے کے لئے آئے تھے . انہوں نے کہا کہ میں نے آج تک ایسی فلم پاکستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھی ، ہمارے فلمسازوں نے کبھی پہلے ایسی فلم نہیں بنائی . جس ٹیکنیک کے ساتھ یہ فلم بنائی گئی ہے اسکی مثال ہماری سینما کی تاریخ میں نہیں ملتی. انہوں نے کہا کہ بلال لاشاری نے جس طرح سے گائوں بسایا، سائونڈ سسٹم ہر چیز کمال ہی پرفیکٹ ہے فلم میں خامی ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل سکتی . شاید اسی وجہ سے یہ فلم زرا ریلیز ہونے میں تاخیر کا شکار ہوئی کیونکہ اس پہ بہت زیادہ اور بہت محنت کے ساتھ کام کیا گیا اور مختلف اور محنت کے ساتھ کئے جانے والے کام کو سامنے آنے میں دیر لگتی ہے. دا

    لیجنڈ‌آف مولا جٹ دیکھنے کےلئے بعد فرض ہو گیا ہے کہ میں پرانی مولا جٹ دیکھوں. عدنان صدیقی نے کہا کہ میں نے پرانی مولا جٹ کا نام ہی سن رکھا ہے کرداروں کے بارے میں آگاہی ہے لیکن فلم دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا. حالیہ مولا جٹ‌میں سب نے بہت اچھا کام کیا ہے .کسی بھی فلم میں پرڈیوسر کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے عمارہ حکمت اور ان کے شوہر اسد نے کمال کام کیا ہے. یاد رہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ آج ریلیز ہو چکی ہے تاہم ابھی پبلک کے تاثرات آنا ابھی باقی ہیں.

  • گزشتہ رات لاہور میں دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا پریمئیر کیا گیا

    گزشتہ رات لاہور میں دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا پریمئیر کیا گیا

    دا لیجنڈآف مولا جٹ جو کہ آج سینما گھروں میں ریلیز ہو چکی ہے اس کا کل رات لاہور میں پریمئیر کیا گیا. پریمئیر میں مین کاسٹ کے ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی شرکت کی. ماہر ہ خان ، فواد خان ، فارس شفیع ، گوہر رشید ، نئیر اعجاز ، شفقت چیمہ ، ریشم بلال لاشاری اور عمارہ حکمت ریڈ کارپٹ پر موجود رہے. ان کا حوصلہ بڑھانےکے لئے شوبز کی دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی جس میں سینئر اداکارہ نشو بیگم،میکال ذوالفقار ، کبری خان ، واسع چوہدری ، ذویا ناصر،شان شاہد ، مسلم لیگ ق کی آمنہ الفت ، مونس الہی اور مسلم لیگ ن کے رانا مشہور نے بھی شرکت کی. کرکٹر احمد شہزاد بھی پریمئیر میں دیکھے گئے. فلم میں نوری نت کا کردار کرنے والے حمزہ علی

    عباسی بیمار ہونے کی وجہ سے پریمئیر میں شرکت نہ کر سکے. ریڈ کارپٹ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا. اس کے بعد میڈیا و دیگر کو فلم دکھائی گئی. فلم دیکھ کر جو بھی سینما ہال سے باہر نکلا اس نے تعریف کی. بلال لاشاری کی ڈائریکشن میں بنی اس فلم کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے ہیں. فلم آج ریلیز ہو چکی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام اسے کتنا سراہتی ہے. تاہم فلم کی پوری ٹیم خاصی پراعتماد ہے.

  • ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اورٹیلی میڈیسن سے پسماندہ علاقوں میں صحت کے مسائل پرقابو پانے میں مدد ملےگی. صدر مملکت عارف علوی

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اورٹیلی میڈیسن سے پسماندہ علاقوں میں صحت کے مسائل پرقابو پانے میں مدد ملےگی. صدر مملکت عارف علوی

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اورٹیلی میڈیسن اپنانےسے ملک کے پسماندہ علاقوں میں صحت کے مسائل پرقابو پانے میں مدد ملےگی،صدر ڈاکٹر عارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے حفاظتی صحت کا نظام مضبوط بنانے کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ٹیلی میڈیسن اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے ملک کے پسماندہ علاقوں کی آبادی کو درپیش صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے میڈیکل شعبے کی عالمی کمپنی سیمنز ہیلتھینئرز کے گلوبل ایگزیکٹوز کے وفد نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیائی ریجنز کے لئے چیف ایگزیکٹوآفیسر آلےپیر ملوئے کی قیادت میں ملاقات کی۔

    صدر مملکت نے حفاظتی صحت کا نظام مضبوط بنانے ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ٹیلی میڈیسن اپنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ ان اقدامات سے ملک کے پسماندہ علاقوں کی آبادی کو درپیش صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ میڈیکل شعبے سے وابستہ افراد جدت اپنائیں ، خدمات کے معیار کو بہتر بنائیں ۔ شعبہ صحت میں خدمات کی فراہمی میں جدت لانے ، سستے اور موثر انداز میں طبی خدمات تک لوگوں کی رسائی میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے ۔


    صدر مملکت نے صحت مند طرز زندگی اپنانے اور بیماریوں سے بچاؤ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ سمارٹ ڈیوائسز اور سافٹ ویئر میڈیکل شعبے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ صدر مملکت نے ٹیلی میڈیسن کے ذریعے آگاہی، طبی مشورے اور علاج فراہم کرنے کیلئے موبائل یونٹس استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے عوام کو معیاری ، مسابقتی اور سستی صحت سہولیات کی فراہمی کیلئے سیمنز ہیلتھینئر کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت پربھی زوردیا۔قبل ازیں آلےپیر ملوئے نے صدر مملکت کو سیمنز ہیلتھینئر زکی مختلف مصنوعات سے متعلق بریفنگ دی۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛ شادیوں کے نام پر لوٹنے والی جعلساز دلہن گرفتار
    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کر دی
    میرے پاس کس کس کی اور کونسی کونسی ویڈیوز موجود ہیں؟ طیبہ گُل کا تہلکہ خیز انکشاف
    انہوں نے کہاکہ سیمنز ہیلتھینئرز جرمنی میں کئی میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے بڑی کمپنی ہےاورپاکستان میں لیبارٹری اورریڈیالوجی کےشعبے میں نمایاں ہیلتھ کیئر معاونت فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی کا مقصد صحت عامہ کی دیکھ بھال کرنے والوں کو بااختیار بنانا،ادویات کاموثراستعمال ، مریضوں کی دیکھ بھال میں بہتری لانا اور صحت عامہ کے نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کااہل بنانا شامل ہے۔

  • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نام سے بحال کرنے کی قرارداد منظور

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نام سے بحال کرنے کی قرارداد منظور

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دوبارہ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نام سے بحال کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے.

    قومی اسمبلی نےاسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نام سے بحال کرنے کی قراردد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے جبکہ سابقہ حکومت نے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھ دیا تھا۔ واضح رہے کہ ماضی میں جب پیپلزپارٹی 2008 میں‌اقتدار میں تھی تو پاکستانی حکومت نے باضابطہ طور پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بےنظیر بھٹو کے نام سے منسوب کیا گیا تھا جبکہ راولپنڈی جنرل ہسپتال اور مری روڈ کا نام بھی بےنظیر بھٹو کے نام پر رکھ دیا گیا تھا.

    اس وقت کی وفاقی حکومت جو پی پی پی ہی کی تھی نے اس ضمن میں پنجاب حکومت کے ساتھ مشاورت کی تھی اور باہمی رضا مندی کے ساتھ ان جگہوں کے نام بینظیر بھٹو کے نام کے ساتھ منسوب کیے تھے. جبکہ اس وقت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بےنظیر بھٹو انٹرنیشل ائرپورٹ کی تختی بھی آویزاں کی گئی تھی علاوہ ازیں راولپنڈی جنرل ہسپتال کو بےنظیر بھٹو کے نام سے منسوب کرنے کے حوالے سے ایک تقریب راولپنڈی میں منعقد ہوئی تھی جس میں اس وقت کی وفاقی وزیر صحت شیری رحمان مہمان خصوصی شریک ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سال 2008 بیس جون کو بےنظیر بھٹو کی پچپن ویں سالگرہ کے موقع پر ان جگہوں کو بےنظیر بھٹو کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا تھا۔جبکہ بےنظیر بھٹو کی سالگرہ اکیس جون کو منائی گئی تھی.
    خیال رہے کہ ان مقامات کے نام سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کی جمہوریت کے لیے خدمات کے اعتراف میں رکھے گئے تھے جبکہ سال 2007 ستائیس دسمبر کو بےنظیر بھٹو راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوگئی تھیں۔ اس خودکش حملے میں جب بےنظیر بھٹو زخمی ہوئیں تھیں تو انہیں طبی امداد کے لیے راولپنڈی جنرل ہسپتال لایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ شادیوں کے نام پر لوٹنے والی جعلساز دلہن گرفتار
    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کر دی
    میرے پاس کس کس کی اور کونسی کونسی ویڈیوز موجود ہیں؟ طیبہ گُل کا تہلکہ خیز انکشاف
    اس وقت وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے ابتدائی طور پر پانچ کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ لیاقت باغ کے باہر جس جگہ بےنظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا اُس جگہ ایک یادگار تعمیر کرنے کا بھی فیصلہ ہوا تھا جس کے کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا.