Baaghi TV

Author: +9251

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ سعودیہ میں بھی نمائش پذیر ہو گی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ سعودیہ میں بھی نمائش پذیر ہو گی

    بلال لاشاری کی ڈائریکشن میں تیار ہوئی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو پاکستان سمیت جہاں دنیا بھر کے دیگر ممالک میں‌ریلیز کیا جا رہا ہے . اس کے بارے میں ایک نئی خبر یہ ہے کہ یہ فلم سعودی عرب میں بھی ریلیز کی جا رہی ہے وہاں یہ فلم عربی ترجمے کے ساتھ ریلیز کی جائیگی. یعنی عربی لوگ اس فلم کو اپنی ہی زبان میں سمجھ سکیں گے. دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا سعودی عرب میں‌ریلیز ہونے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے. فلم کی ایگزیکٹیو پرڈیوسر عمارہ حکمت کہتی ہٰیں کہ انہوں نے ایک ایسی فلم تیار کی ہے جو ہر طبقے کو بے حد پسند آئیگی اور ہر ملک جہاں جہاں‌ اسکی نمائش کی جا رہی ہے وہاں اردو پنجابی سمجھنے والوں کے علاوہ بھی شائقین فلم میں دلچپسی

    لیں گے. عمارہ کہتی ہٰیں کہ اس فلم کو بنانے میں کئی سال لگے اور کئی بار تو ایسا ہوا کہ موسم کی وجہ سے شوٹنگ ہی کینسل کرنی پڑی . فلم کی ریلیز میں صرف دو دن باقی ہیں اس حوالے سے تمام تر تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں . کہا جا رہا ہے کہ فلم کا پریمئیر صرف لاہور میں‌ہو گا اس بار کراچی میں پریمئیر نہیں ہو گا . فلم کی پرموشن بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، فلم کی پوری ٹیم فلم کی کامیابی کےلئے کافی پر امید ہے.

  • زیبا بختیار نے بتا دیا کہ زندگی کیسے گزاری جائے

    زیبا بختیار نے بتا دیا کہ زندگی کیسے گزاری جائے

    خوبصورت اداکارہ زیبا بختیار جو کافی عرصے سے شوبز سے دور نظر آتی ہیں انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ زندگی ہمیشہ اصولوں پر گزاری جانی چاہیے.جو لوگ اپنی زندگی کو اصولوں اور منصوبہ بندی کے تحت نہیں گزارتے وہ پریشان ہی رہتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں آبادی کا ایک بڑا حصہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار دیتا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے زندگی ایک بار ملتی ہے اسے انجوائے کرنا چاہیے. بعض اوقات انسان کو زندگی کا ایک بڑاحصہ گزر جانے کے بعد خیال آتا ہے کہ کاش

    میں اپنی زندگی میں یہ بھی کر لیتا وہ بھی کر لیتا یہ سب اسی لئے ہوتا ہے کہ کیونکہ زندگی گزارنے کےلئے کوئی لاءحہ عمل تیار نہیں کیا جاتا. یاد رہے کہ زیبا بختیار خود تو شوبز سے دور ہیں لیکن ان کا بیٹا اذان سمیع خان اداکاری کے میدان میں قدم رکھ چکا ہے ان کا ڈرامہ سیریل عشق لاء کافی پسند کیا گیا، ان کے پہلے ڈرامے میں ہی ان کو سجل علی اور یمنہ زیدی جیسی اداکارائوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آیا ان دونو‌ں کے مقابلے میں اذان نے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا . اذان اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کرتے ہیں .

  • میری ماں نے میرے ذہنی مسائل کی نشاندہی کی اور زندگی کی طرف واپس لائیں دیپیکا پڈوکون

    میری ماں نے میرے ذہنی مسائل کی نشاندہی کی اور زندگی کی طرف واپس لائیں دیپیکا پڈوکون

    بالی وڈ اداکارہ دیپیکا پڈوکون کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ دماغی صحت کے ساتھ زندگی میں اپنی مسلسل جدوجہد کے حوالے سے ہمیشہ بات کرتی رہی ہیں.دیپیکاایک فاؤنڈیشن بھی چلاتی ہیں، جس کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو اپنی ذہنی صحت کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ 2015 میں پہلی بار دیپیکا نے اپنی دماغی بیماری کے بارے میں انکشاف کیا کہ وہ ڈپریشن سے لڑتی رہی ہیں۔دیپیکا جو کہ ذہنی صحت کے پروگرام کے لیے تامل ناڈو میں ہیں وہاں انہوں نے اپنے ذہنی مسائل اور بیماری سے جنگ لڑنے کے بارے میں بات کی . انہوں نے کہا کہ میری والدہ نے میری ذہنی صحت کے مسائل کو پہچانا اس دور میں میری ماں نے میرا بہت ساتھ دیا . میری ذہنی صحت کو علاج

    کے ساتھ بہتر کرنے میں ماں نے مجھے بہت حوصلہ دیا. انہوں نے کہا کہ میری ماں مجھے ڈاکٹروں کے پاس لیکر گئی اس کے بعد انہوں نے میری بہت زیادہ کئیر کی . یاد رہے کہ دیپیکا ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار رہنے کے بعد اب مکمل طور پر صحتیاب ہو چکی ہیں. جب وہ ان مسائل کا شکار تھیں تو ان کے ذہن میں خود کشی کرنے کے خیالات بھی آتے تھے . دیپیکا اب ہر کسی کو ذہنی صحت کے مسائل پر توجہ دینے کا درس دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ زندگی کو سنجیدگی سے لیں اور اسے بھرپور انداز میں جیئیں.

  • رتیش دیش مکھ کی پہلی ڈائریکٹوریل فلم اور انکا تجربہ

    رتیش دیش مکھ کی پہلی ڈائریکٹوریل فلم اور انکا تجربہ

    بالی وڈ اداکار رتیش دیش مکھ نے حال ہی میں اپنی ڈائریکشن میں بننے والی مراٹھی فلم وید کی شوٹنگ مکمل کی ہے. فلم کے سیٹ پر سلمان خان کے ساتھ رتیش دیش مکھ نے چند تصاویر بھی شئیر کیں جنہیں ان کے مداحوں نے بہت سراہا. سلمان خان رتیش دیش مکھ کی پہلی ڈائریکٹوریل فلم وید میں ایک مختصر کردار ادا کررہے ہیں. رتیش دیش مکھ نے اپنے ڈائریکشن کے تجربے کو شئیر کرتے ہوئے انٹرویو میں بتایا ہے کہ فلم کی ڈائریکشن کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے میں کئی برسوں سے فلم کی ڈائریکشن کا سوچ رہا تھا لیکن اداکاری میں کافی مصروف تھا جس کی وجہ سے اس کام کو کرنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی لیکن پچھلے تین چار برسوں سے میں نے سینجیدگی سے

    سوچنا شروع کر دیا تھا کہ مجھے اب ڈائریکشن کرنی ہے . رتیش نے کہا کہ اس فلم میں‌، میں نے خود بھی کام کیا ہے اور میں پہلے بھی مراٹھی فلموں میں کام کر چکا ہوں. رتیش دیشمکھ نے اس پر بھی بات کی کہ کس طرح سے مراٹھی فلموں کو ہندی سنیما سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مراٹھی فلموں کی جانب شائقین کی دلچپسی بڑھانے کے لئے ہمیں کچھ عوامل ہر کام کرنے کی ضرورت ہے.یاد رہے کہ رتیش دیش مکھ نے جنیلیا سے شادی کی اور اب ان کی اہلیہ فلموں‌میں واپسی بھی کررہی ہیں.

  • 27کلومیٹر پر حکومت کرنے والو، اگر کوئی نقصان ہوا تو بھاگ نہیں پاؤ گے. شیخ رشید

    27کلومیٹر پر حکومت کرنے والو، اگر کوئی نقصان ہوا تو بھاگ نہیں پاؤ گے. شیخ رشید

    سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران اسلام آباد میں کوئی جانی نقصان ہوگیا توبھاگ نہیں پاؤ گے۔

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ساری قوم عمران خان کی کال کی منتظر ہے۔اہم دن ہوگا، لوگ پہاڑوں سے اتریں گے۔
    ان کا کہنا ہے کہ 27کلومیٹر پر حکومت کرنے والو، اگر کوئی جانی نقصان ہوگیا تو بھاگ نہیں پاؤ گے۔سب کو کہتا ہوں ملبہ پولیس یا سیکیورٹی فورسز پر نہیں بلکہ یہ خود ذمہ دار ہوں گے کیونکہ ایسے واقعات ذمہ دار صرف اور صرف حکومت ہوتی ہے.


    انہوں نے کہا ہے کہ اس سے بڑا کیا عدم اعتماد ہے کہ کراچی میں لوگ چوراہوں پر مارے جارہے ہیں ۔ہمارے شہر میں دہی کی دکانوں پر لوگوں کو لوٹا جا رہاہے۔پاکستان تاریخ کے تشویشناک وقت سے گزر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کہتے ہیں ڈرون سے بم گرائیں گے خدا کا خوف کرو۔پولیس بھی ہماری اور ایف سی بھی پاکستان کی ہے۔اسلام آباد میں کوئی جانی نقصان ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا ؟
    انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ؛ یہ حکومت چند دن کی مہمان ہے اور انہوں اگر کچھ بھی ایسا ویسا کیا تو پھر آپ کو بھاگ کر چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی. اور انہوں جس طرح سے حکومت بنائی ہے اسی گر جائے گی. ان کی حکومتی کارکردی مکمل ناکام ہوچکی ہے اور لوگ عمران‌خان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں پتہ یہ ایک دھوکے تحت حکومت بنائی گئی ہے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان آرمی کا سیکورٹی دستہ فیفا ورلڈ کپ 2022 کی سیکیورٹی کیلئے قطر روانہ
    ممنوعہ فنڈنگ کیس،ایف آئی اے قانون کے مطابق کاروائی کرے،عدالت کا حکم
    اسلام آباد کے سینٹورس شاپنگ مال میں آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی، ایف آئی آر درج

  • ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے پر کونسی پانچ بالی وڈ فلمیں دیکھی جانی چاہیے

    ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے پر کونسی پانچ بالی وڈ فلمیں دیکھی جانی چاہیے

    ذہنی تندرستی اتنی ہی ضروری ہے جتنی جسمانی تندرستی۔ نسل انسانی زندہ نہیں رہ سکتی اگر ہم دونوں کے درمیان توازن برقرار نہ رکھیں۔ آج دنیا میں دماغی صحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے.ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ COVID-19 وبائی مرض کے پہلے سال میں عالمی سطح پر بے چینی اور ڈپریشن کے پھیلاؤ میں 25 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا۔ ہم سب کو مل کر اب اس پر ایکشن لینا ہوگا۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ ذہنی صحت کے مسائل سے متعلق رکاوٹوں کو دور کی ضرورت ہے۔ ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے پر کونسی فلمیں دیکھی جا سکتی ہیں. پہلے نمبر پر ڈئیر زندگی ، گوری شندے کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم 2016 میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی فلموں میں سے ایک تھی جس نے باکس آفس پر 100 کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا۔ اس فلم میں دماغی صحت کے

    مسائل کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے. دوسرے نمبر پر ہے فلم چھچھورے اس فلم میں سوشانت سنگھ راجپوت، شردھا کپور، ورون شرما، طاہر راج بھسین، نوین پولیشٹی، تشار پانڈے اور سہرش کمار شکلا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے. اس فلم میں ذہنی صحت کے مختلف مسائل کو ڈسکس کیا گیا ہے. تیسرے نمبر پر ہے فلم مائی نیم از خان اس فلم کو کرن جوہر نے ڈائریکٹ کیا تھا اس میں شاہ رخ خان کو بھی کچھ ذہنی مسائل میں الجھا ہوا دکھایا گیا ہے. پانچویں نمبر پر ہے فلم تارے زمین پر، یہ فلم 2007 میں ریلیز ہوئی تھی عامر خان نے اسے پرڈیوس کیا تھا اس میں بھی ذہنی صحت کے مسائل سے جُوجتے ہوئے بچے کو دکھایا گیا ہے.لہذا یہ چند فلمیں ورلڈ مینٹل ہیتلھ ڈے پر دیکھی جا سکتی ہیں .

  • کونسی اداکارائیں ریکھا کی بائیو پک میں بہترین اداکاری کر سکتی ہیں؟

    کونسی اداکارائیں ریکھا کی بائیو پک میں بہترین اداکاری کر سکتی ہیں؟

    ریکھا بالی وڈ کی ایک ایسی اداکارہ ہیں جن کی خوبصورتی اور ٹیلنٹ سے ہمیشہ ہی ان کے بعد میں آنے والی ہیروئنز متاثر رہی ہیں. چار دہائیوں تک ریکھا نے مسلسل کام کیا. ریکھا نہ صرف بہترین اداکار ہیں بلکہ بہترین رقاصہ بھی ہیں. ریکھا کی سالگرہ کے موقع پر پنک ولا نے ایسی اداکارائوں کی فہرست بنائی جو ریکھا کی بائیو پک میں بہترین اداکاری کر سکتی ہیں.پہلے نمبر ہیں پریانکا چوپڑا یہ صرف بالی وڈ اسٹار نہیں ہیں بلکہ ایک عالمی آئیکون ہیں اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں ان کے مداحوں کی بڑی تعداد ہے۔ باجی راؤ مستانی میں کاشی بائی کے کردارکو جس طرح سے انہوں نے نبھایا ہے اسکو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ریکھا کی بائیو پک میں اچھا کام کر

    سکتی ہیں. دوسرے نمبر پر ہیں عالیہ بھٹ ان کی سنجے لیلا بھنسالی کی فلم گنگوبائی کاٹھیا واڑی میں اداکاری دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ بھی ریکھا کی بائیو پک کے لئے بہترین چوائس بن سکتی ہیں. تیسرے نمبر پر ہیں ایشوریا رائے بچن انہوں نے ریکھا کی فلم امرائو جان میں جس طرح سے اداکاری کی اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ریکھا کی بائیو پک میں‌ کمال دکھا سکتی ہیں. چوتھے نمبر پر ہیں دیپیکا پڈوکون انہوں‌ نے باجی رائو مستانی میں جس طرح کا کردار ادا کیا ہے اسکو دیکھ کر کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ یہ ریکھا کی بائیو پک میں اچھا کام کرسکتی ہیں. پانچویں نمبر ہر ہیں ودیا بالن انہوں نے بھی اپنی ہر فلم سے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک بہترین اداکارہ ہیں لہذا یہ بھی ریکھا کی بائیو پک کے لئے بہترین چوائس ہو سکتی ہیں.

  • ریکھا آج اپنی 68 ویں سالگرہ منا رہی ہیں

    ریکھا آج اپنی 68 ویں سالگرہ منا رہی ہیں

    بھانوریکھا گنشن جو اپنے اسٹیج نام ریکھا کے نام سے مشہور ہیں. ریکھا بالی وڈ کی بہترین اداکاراؤں میں سے ایک کے طور پر پہچانی جاتی ہے. انہوں نے 180 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور تعریفیں سمیٹیں. انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں نیشنل فلم ایوارڈ اور تین فلم فیئرایوارڈز بھی دئیے جا چکے ہیں۔2010 میں انہیں حکومت ہند نے پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا. ریکھا نے اپنے کیرئیر میں ہر طرح کا کردار کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اداکاری اور شخصیت کو نکھارا یہی وجہ ہے کہ شائقین ان کی خوبصورتی اور اداکاری کے سحر سے کبھی بھی نہیں نکل پائے. ریکھا نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز تیلگو فلم میں بطور چائلڈ آرٹسٹ سے کیا تھا تاہم بالی وڈ میں انہوں نے 1970 میں‌قدم رکھا. ریکھا جب فلمی دنیا میں آئیں تو اپنے وزن اور پھولے ہوئے چہرے کی وجہ سے

    تنقید کا نشانہ بھی بنیں، اس کے بعد انہوں نے خود پر توجہ دی اور 1978 میں گھر اور مقدر کا سکندر میں‌ انہیں دیکھ کر شائقین اور ناقدین حیران رہ گئے. اس کے بعد ریکھا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ایک کے بعد ایک کامیاب فلمیں دیں. ان کی مشہور فلموں میں خوبصورت ، بسیرا ، ایک ہی بھول زندگی دھرا، اگر تم نہ ہوتے ، وجیتا ، عمراؤ جان ، خون بھری مانگ و دیگر شامل ہیں. انہوں نے اکشے کمار کے ساتھ بھی بطور ہیروئین کام کیا. ریکھا کا نام ان کے کیرئیر میں متعدد ہیروز کے ساتھ جڑا لیکن امیتابھ بچن کے ساتھ ان کے لو افئیر کو لوگ آج تک نہیں بھولے. ریکھا آج اپنی68 سالگرہ منا رہی ہیں.

  • والد امیتابھ بچن  کی سالگرہ کے موقع پر ابھیشک نے دیکھی فلم ڈان

    والد امیتابھ بچن کی سالگرہ کے موقع پر ابھیشک نے دیکھی فلم ڈان

    امیتابھ بچن کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کا شمار ہندوستانی سنیما کی تاریخ کے کامیاب اور بااثر اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 1970 کی دہائی کے اوائل میں زنجیر، دیوار اور شعلے جیسی فلموں کے لیے مقبولیت حاصل کی اور بعد کے سالوں میں اسٹارڈم کا مزہ چکھا۔ 11 اکتوبر کو بگ بی اپنی 80ویں سالگرہ منائیں گے اور اس خاص موقع پر فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے امیتابھ کے فلمی میلے کا اعلان کیا جس کا عنوان بچن بیک ٹو دی بیگننگ ہے۔ یہ پورے ہندوستان میں 22 سنیما ہالوں میں 172 شو کیسز اور 30 ​​اسکرینوں کا احاطہ کرے گا۔ ابھیشیک بچن نے اپنے والد کی 1978 کی فلم ڈان دیکھی اور بگ بی کی شہنشاہ جیکٹ بھی دیکھی۔ تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے ابھیشیک بچن نے

    لکھا کہ ڈان کو بڑی اسکرین پر دیکھ کربہت اچھا محسوس ہے. 11 اکتوبر کو امیتابھ بچن کی سالگرہ ہے حسین اتفاق یہ ہے کہ ان کی پسندیدہ اداکارہ اور انکی قریبی دوست ریکھا کی سالگرہ 10 اکتوبر کو ہوتی ہے. یاد رہے کہ ابھیشیک بچن کو آخری بار سوشل کامیڈی فلم” دسوی” میں دیکھا گیا تھا، جس میں یامی گوتم اور نمرت کور نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ ابھیشیک بچن تامل فلم اوتھتھا سیروپو سائز 7 کے ہندی ریمیک میں دکھائی دیں گے.کہا جا رہا ہے کہ ابھیشک بچن ہائوس فل کے سیکوئل میں بھی نظر آئیں گے.

  • محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آج پہلی برسی منائی جارہی

    محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آج پہلی برسی منائی جارہی

    محسنِ پاکستان اور ایٹمی سائنسدان عبد القدیر خان کی آج پہلی برسی منائی جارہی ہے۔

    1936 میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تو ملک و قوم کے ہیرو ٹھہرے تاہم زندگی کا آخری حصہ تنازعات اورپابندیوں کی زد میں رہا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹر اے کیو خان ایٹمی سائنسدان نہیں بلکہ میٹالرجسٹ تھے جنہوں نے یورینیم کی افزودگی جیسے پیچیدہ ترین کام کی نگرانی کرکے پاکستان کا ایٹم بم بنانےمیں اپنی ٹیم کے ہمراہ کلیدی کردار ادا کیا۔

    پاکستان 28 مئی 1998 میں بلوچستان کے ضلع چاغی کے پہاڑوں میں دھماکے کرکے ایٹمی قوت بن گیا، اس کے کچھ عرصے کے بعد ڈاکٹر اے کیو خان بھی تنازعات کی زد میں آگئے۔ ابتدائی طورپر انہیں شہرت کا دلدادہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایاگیا مگر سال 2004میں اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکا کی طرف سے فراہم کردہ مبینہ ثبوتوں کی روشنی میں اے کیو خان کو تحقیقات کےبعد نظربند کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان آرمی کا سیکورٹی دستہ فیفا ورلڈ کپ 2022 کی سیکیورٹی کیلئے قطر روانہ
    ممنوعہ فنڈنگ کیس،ایف آئی اے قانون کے مطابق کاروائی کرے،عدالت کا حکم
    اسلام آباد کے سینٹورس شاپنگ مال میں آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی، ایف آئی آر درج
    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان
    عمران خان قوم کے ساتھ مذاق کررہے ہیں، پی ٹی آئی غیر سنجیدہ لوگوں کا ٹولہ ہے۔ سراج الحق
    ڈاکٹر اے کیو خان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایران اور لیبیا کو ایٹم بم سے متعلق سینٹری فیوجیز سمیت اہم آلات اورمعلومات فروخت کیں۔ اے کیو خان نے ٹیلی ویژن پرآکرقوم سے معافی مانگی جسے قبول کرلیا گیا مگر ان کی باقی زندگی پابندیوں میں ہی گزری، پاکستان کے جوہری پروگرام کے کلیدی کردار 85 برس کی عمر میں گزشتہ سال 10 اکتوبر کو وفات پا گئے تھے جس کے بعد انہیں اسلام آباد میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا تھا.

    پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک اس پروگرام کے سربراہ رہے تاہم مئی 1998 میں جب پاکستان نے انڈیا کے ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب جوہری تجربہ کیا تو بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان کے پاس نہیں تھی بلکہ یہ سہرا پاکستان اٹامک انرجی کے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے سر رہاـ

    ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق؛ ڈاکٹر قدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام اور کتابوں میں موجود ہیں جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کر دیا تھاـ
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دو مرتبہ ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز نشانِ امتیاز دیا گیا تھا۔ پہلے چودہ اگست 1996 کو صدر فاروق لغاری اور پھر 1998 کے جوہری دھماکوں کے بعد اگلے برس 1999 میں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے انھیں اس اعزاز سے نوازا۔ اس سے قبل 1989 میں انھیں ہلال امتیاز بھی دیا گیا تھا۔

    ڈاکٹر خان کو پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹیو اپنا مشیر نامزد کیا تھا۔ تاہم جنرل مشرف کے دور میں ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سرکاری ٹی وی پر دیگر ممالک کو جوہری راز کی فروخت کے الزامات تسلیم کیے تھے جس کے بعد سنہ 2004 میں انھیں معافی دینے کے بعد ان کے گھر میں نظربند کر دیا گیا تھا۔

    یہ نظربندی پانچ برس جاری رہی تھی اور اس کا خاتمہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ہوا تھا۔ تاہم نظربندی کے خاتمے کے باوجود ڈاکٹر خان کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی تھی۔ انھوں نے آزادانہ نقل و حرکت کے لیے عدالت سے رجوع بھی کیا تھا تاہم ان کی وفات تک اس بارے میں کوئی فیصلے نہیں ہو سکا تھا۔

    2008 میں بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ وقت آنے پر وہ یہ انکشاف کر دیں گے کہ انھوں نے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیوں کیا تھا۔ انھوں نے اپنے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک آدمی کے اعتراف سے پورے پاکستان کا فائدہ ہو رہا تھا۔