Baaghi TV

Author: +9251

  • کیا 8 اکتوبر کے زلزلہ اور حالیہ سیلاب سے ہم نے کچھ سیکھا؟

    کیا 8 اکتوبر کے زلزلہ اور حالیہ سیلاب سے ہم نے کچھ سیکھا؟

    پاکستان کا ایک چوتھائی رقبہ اس وقت سیلاب سے متاثر ہے۔ خاص طور پر سندھ میں لوگ گھروں سے محروم ہوگئے اور بے سروسامانی کی حالت میں سڑک پر آگئے ہیں۔ خدا کی مخلوق گاؤں اور شہروں سے نکل کر حکومت اور فلاحی اداروں کے قائم کردہ عارضی کیمپوں میں جیسی تیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انسانی المیے جنم لے رہے ہیں اور کہانیاں بن رہی ہیں۔

    اسی مشکل اور تکلیف دہ صورت حال میں جہاں دیگر سماجی المیے سامنے آرہے ہیں وہاں بے گھر لوگوں کو غیر محفوظ ہونے کا سامنا بھی ہے۔ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق؛ یہ مسئلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ممکنہ طور پر ان متاثرین کو اپنی معمول کی زندگیاں شروع کرنے میں کئی ماہ لگ جائیں گے اور انہیں ایک طویل عرصہ کیمپوں میں بسر کرنا پڑے گا، یوں خواتین اور بچوں کے اغوا اور ہراسانی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ 2 ستمبر کو ایک خبر سانگھڑ کے ضلع شہدادپور سے آئی جس کے مطابق سیلاب زدہ علاقے کی 14 سالہ لڑکی کو مبیّنہ طور پر راشن کے نام پر 3 دن تک زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ملزم رکشا ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو بعد میں پولیس نے پکڑ کر مقدمہ درج کرلیا۔

    15 ستمبر کو دنیا اخبار میں شائع تصویر نے ہماری توجہ اپنی طرف کھینچی، جس میں لاڑکانہ کا ایک محنت کش باپ اپنے 2 چھوٹے بچوں کو کندھے پر بٹھاکر انہیں بیچنے کی صدا لگا رہا تھا۔
    تحریر جاری ہے‎

    محنت کش باپ اپنے 2 چھوٹے بچوں کو کندھے پر بٹھاکر انہیں بیچنے کی صدا لگاتا ہوا

    اس تصویر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے والے لاڑکانہ کے مقامی صحافی طارق درانی تھے۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے اس درد بھری تصویر کی کہانی بتائی کہ ’تصویر میں نظر آنے والے صاحب کا نام نورل چانڈیو ہے، یہ صاحب لاڑکانہ پریس کلب میں اپنے بچوں کو بیچنے کی صدائیں لگا رہے تھے۔ نورل چانڈیو کا تعلق قطب کالونی سے ہے۔ ان کا گھر حالیہ بارشوں کی نذر ہوا جس کی وجہ سے وہ رائیس کینال کے باہر بچوں سمیت کُھلے آسمان تلے راتیں گزار رہے ہیں۔ ایک ماہ گزرنے کے باوجود انہیں نہ تو خیمہ ملا اور نہ ہی راشن۔ اس لیے وہ اپنے 3 معصوم بچوں کو بیچنے کے لیے لاڑکانہ پریس کلب پہنچے جہاں اپنے بچوں کو بیچ کر راشن اور ٹینٹ فراہم کرنے کی صدائیں لگائیں‘۔

    نورل چانڈیو سے جب ہم نے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال مجھے راشن، ٹینٹ اور سامان فراہم نہیں کیا گیا۔ جس کے باعث میرے بچے 3 دن سے بھوکے ہیں۔ غربت سے تنگ آکر اپنے تینوں بچوں کو بیچنے پر مجبور ہوں‘۔ طارق درانی کہتے ہیں کہ ’نورل کی خبریں تو چینلز اور اخبارات کی زینت بنیں مگر اس کے باوجود تاحال اسے کوئی سرکاری امداد میسر نہیں آسکی ہے۔ نورل جیسے لاکھوں افراد اب بھی شدید گرمی میں راستوں پر بیٹھے ہیں اور حکومت سے 2 وقت کا کھانا، خیمہ، بچوں کا دودھ اور دوائیں مانگتے ہوئے نظر آرہے ہیں‘۔

    یہ خبریں عام دنوں میں آتیں تو بھی اہم تھیں لیکن سیلاب زدہ علاقوں میں اس طرح کی خبریں اس لیے چونکا دیتی ہیں کہ ان قدرتی حادثات اور افراتفری میں اغوا کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شیر شاہ سید ایک گائنا کالوجسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز ادیب بھی ہیں۔ ان کی کہانیاں افسانوی شکل میں ضرور ہوتی ہیں لیکن یہ کہانیاں حقیقی کرداروں کے گرد گھومتی ہیں۔ ڈاکٹر شیر شاہ سید 2008ء میں کشمیر میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’ہم نے دیکھا کہ اس زلزلے کے ابتدائی ہفتوں میں ہی ایسی کہانیاں منظرِعام پر آنے لگی تھیں کہ بچے اور خواتین غائب ہو رہی ہیں۔ اکثر لوگوں کو راشن یا دیگر چیزوں کا کہہ کر لوگ اپنے ساتھ لے گئے تھے‘۔

    انہوں نے فون پر بتایا کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب شمالی علاقات جات میں زلزلہ آیا تو بے شمار افراد اس کا شکار ہوئے، ہزاروں اموات ہوئیں اور بڑے بڑے شہر زمیں بوس ہوگئے تھے۔ مثال کے طور پر بالاکوٹ کا کچھ پتا ہی نہیں چلا۔ ہم ڈاکٹرز، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور عبدالستار ایدھی صاحب وہاں سب سے پہلے پہنچے۔ ہمارے اگلے 6 ماہ وہیں گزرے اور وہاں جو کچھ دیکھنے کو ملا وہ کافی افسوسناک تھا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ ’مظفرآباد کا راستہ مکمل طور پر بند تھا اور امدادی سامان وہاں پہنچ نہیں پارہا تھا۔ بڑی مشکلات سے راستہ کھلا اور ہم ڈاکٹر وہاں پہنچے۔ کئی دن گزر جانے کی وجہ سے ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی لاشوں میں سے بدبو آنا شروع ہوچکی تھی۔ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ باہر سے آئے لوگوں نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوٹ مار کی، متعدد بچوں کے اغوا کے واقعات بھی ہوئے، ہرطرف ایک افراتفری تھی۔ پھر جب ہمارا کام شروع ہوگیا تو ہم کبھی ایک اسپتال میں ہوتے اور کبھی کسی دُور دراز مقام پر دوسرے اسپتال پر۔

    ’مانسہرہ کے ’کے بی ڈی او‘ اسپتال کو بھی سینٹر بنایا ہوا تھا لیکن مریضوں کو ان کی ضرورت اور ہنگامی آپریشن کے لیے آگے ایبٹ آباد بھیجا جارہا تھا کیونکہ مانسہرہ میں آپریشن کی گنجائش نہیں تھی۔ اسی دوران خاص کر یہ خبریں آئیں کہ جن مریضوں کے والدین یا گھر کے بڑے ہلاک ہوگئے تھے ان کے بچے خاص کر لڑکیاں اور بچے غائب ہونے لگے، مگر پولیس اور انتظامیہ کو اس کی روک تھام اور اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنے میں 6 ہفتے لگ گئے۔ فیصلہ کیا گیا کہ عارضی اسکولوں سے بچوں کو صرف والدین کے حوالے کیا جائے گا اور والدین کو بھی کسی بچے کو علاقے سے باہر لے جانے کے لیے کوئی ثبوت مہیا کرنا ہوگا۔

    ’سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ خواتین کا استحصال ہوا جس میں ان کی خرید و فروخت، زبردستی کی شادیاں اور ان کو بظاہر گود لینا شامل تھا۔ اب حالیہ سیلاب میں بھی مجھے اپنی ٹیم سے تصدیق شدہ معلومات ملی ہیں کہ سڑکوں پر بیٹھی ہوئیں خواتین کو ہراساں کیا جارہا ہے اور کہیں کہیں سے جنسی استحصال کی بھی خبریں آئیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہیں سیلاب متاثرین بتارہے ہیں کہ مرد سامان لینے اور دیگر کاموں سے نکلتے ہیں تو ان کی غیر موجودگی میں کچھ انجان افراد آجاتے ہیں اور انہیں سامان اور راشن کا کہتے ہیں اور اپنے ساتھ لے جانے کی باتیں کرتے ہیں۔‘


    کشمیر کا زلزلہ اور انسانی اسمگلنگ: صحافی کیا کہتے ہیں؟

    جلال الدین مغل کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں اور آج کل اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ 2008ء کے زلزلے کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’خاص کر مظفرآباد میں بچوں کو اٹھا کر لے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن کا آج تک کچھ پتا نہیں ہے کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ ان کے عزیز و اقارب زندہ تھے لیکن کوئی بندہ انہیں اٹھا کر لے گیا۔ یہ بھی رپورٹ ہوا کہ بہت سے لوگوں کو ہیلی کاپٹر سے لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا لیکن جب خاندان وہاں پہنچا تو پتا چلا کہ اسپتال کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں کہ وہ لوگ مرگئے یا ان کو کہیں اور منتقل کردیا گیا‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’اسی طرح جو بچے گود لیے گئے ان کا تو پھر بھی کچھ ریکارڈ ہے لیکن جو لوگ غائب ہوئے اور گم ہوگئے ان کا سرکاری سطح پر کوئی ریکارڈ ہی نہیں رکھا گیا۔ خاندان بکھر گئے تھے اور بچھڑ جانے والوں کو تلاش کرنا ایک مشکل امر تھا، کون کہاں تک پیچھے بھاگتا‘۔

    جلال سمجھتے ہیں کہ ’اس وقت ان واقعات کو اس طرح رپورٹ بھی نہیں کیا گیا جس طرح ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس وقت مسائل ہی الگ تھے۔ کسی مقامی اخبار میں کوئی خبر آگئی تو آگئی، بڑے اخبارات میں تو اسے اہم خبر ہی نہیں سمجھا گیا۔ ریپ کے بھی واقعات ہوئے کچھ این جی اوز پر الزام بھی لگا کہ انہوں نے خواتین کو غائب کردیا۔ 2019ء میں جب میرپور میں زلزلہ آیا تو اس وقت بھی خواتین خاص کر نوجوان بچیوں کو اپنی عزت جانے کا خوف ہوتا تھا‘۔

    ڈان کے سینیئر صحافی قاضی حسن نے کشمیر میں آنے والے زلزلے کو کور کیا تھا۔ ان کے مطابق ’2008ء میں انسانی اسمگلنگ کی خبریں ضرور آئی تھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ بہت بڑے پیمانے پر یا منظم کام نہیں تھا۔ ان کے خیال میں چند واقعات ہوں گے لیکن انہیں باقاعدہ رپورٹ اس لیے نہیں کیا گیا کہ اس وقت بہت بڑے انسانی المیے جنم لے چکے تھے۔ سب کی اوّلین ترجیح انسانی جان بچانا اور واپس زندگی کو رواں دواں کرنا تھا‘۔ انہیں یاد ہے کہ جن بچوں کے خاندان کا کوئی نہیں بچا تھا انہیں بہت سے خاندانوں نے گود لے لیا۔ وہ آج بھی ان خاندانوں کو جانتے ہیں۔ وہ بچے آج کراچی میں اپنے نئے گھروں میں اچھے طریقے سے پل رہے ہیں۔

    یہ بات جلال الدین بھی کہتے ہیں کہ وہ بھی ایک بچی کو جانتے ہیں جس کا سارا خاندان زلزلے میں ختم ہوگیا تھا اور اسے ایک امریکی پاکستانی خاندان نے گود لیا۔ اس بچی کی ٹانگیں کٹ گئی تھیں اور اسے مصنوعی ٹانگیں لگائی گئی تھیں۔ لیکن ساتھ وہ بھی کہتے ہیں کہ گود لینے والے بچوں یا وہ گمشدہ بچے اور خواتین جن کے بارے میں ان کے گھر والے دعویٰ کرتے تھے کہ وہ زندہ ہیں، ان کی کوئی معلومات سرکاری کاغذات میں موجود نہیں جسے لازمی ریکارڈ کا حصہ بننا چاہیے تھا۔ قاضی حسن کہتے ہیں کہ یہ خود ایک خبر ہے کہ سرکاری سطح پر کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں۔
    حالیہ سیلاب میں حفاظتی حکمتِ عملی

    صحافی طارق درانی کے مطابق ’حالیہ بارشوں اور سیلاب سے سندھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ جن میں سے کچھ لاکھ افراد (کُل متاثرین کا زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک) کو حکومتِ سندھ کی جانب سے اسکولوں اور دیگر عمارتوں میں کیمپ یا ٹینٹ سٹی قائم کرکے رکھا گیا ہے مگر متاثرین کی بہت بڑی تعداد سڑکوں، راستوں اور ہائی ویز پر اپنی مدد آپ کے تحت رہائش پذیر ہے‘۔

    وہ حفاظتی نقطہ نظر، اغوا کی وارداتوں اور انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’بارشوں اور سیلاب کی حالیہ ہنگامی صورتحال میں خواتین اور خاص طور پر لڑکیاں شدید پریشانیوں کا شکار ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین آج بھی پردہ کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حالیہ صورتحال میں کیمپوں اور سڑکوں پرموجود خواتین اور بچیاں پردہ نہ ہونے کی سب سے زیادہ شکایات کرتی ہیں۔ اسکولوں میں قائم ریلیف کیمپوں میں گنتی کے واش روم ہوتے ہیں اور وہاں سیکڑوں افراد کو رکھا گیا ہے۔ وہ الگ الگ خاندانوں اور دیہاتوں سے تعلق رکھتے ہیں جس سے انہیں بے پردگی سمیت دیگر دشواریاں پیش آرہی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ’حاملہ خواتین ہوں یا بچیاں، انہیں درپیش مسائل یا ماہواری کے حوالے سے کوئی بھی طبّی سہولت ریلیف کیمپوں میں موجود نہیں۔ اسی طرح سڑکوں اور راستوں پر بیٹھی خواتین اور بچیوں کو واش رومز تک میسر نہیں۔ وہ قریب آبادی میں واقع زرعی زمینوں یا ویران علاقوں کو رفع حاجت کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اسی طرح ہائی ویز اور راستوں پر بیٹھے خاندان، جن کو خیمے میسر نہیں، وہاں اوباش نوجوانوں کی جانب سے انہیں تنگ کرنے کی شکایات بھی موصول ہورہی ہیں۔ تاہم ایسی شکایات اور تکلیفوں کا ازالہ ہوتا نظر نہیں آرہا‘۔

    پولیس اور انتظامیہ کیا کہتی ہے؟

    ڈی آئی جی سیکیورٹی سندھ، مقصود میمن اس حوالے سے کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر ان کا کام ہائی پروفائل لوگوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا ہے لیکن انہوں نے کراچی میں موجود سیلاب متاثرین کو سیکیورٹی مہیا کی ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اغوا اور انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سندھ پولیس نے دیگر حفاظتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ پولیس اہلکار سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے سے لے کر ان کے کیمپوں اور کھانے کے انتظامات میں مصروف ہیں۔ سندھ پولیس سڑکوں کو کھولنے اور دیگر انتظامی امور بھی انجام دے رہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انتظامی طور پر سندھ پولیس چوکس ہے۔ لوگ سڑکوں پر ضرور ہیں لیکن پہلے کی نسبت زیادہ آگاہ ہیں اس وجہ سے بھی ایک دو واقعات کے علاوہ کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

    عرفان بلوچ، ڈی آئی جی شہید بے نظیر آباد ہیں۔ انہوں نے شہدادپور میں بچی کو 3 دن تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو بروقت پکڑا اور مقدمہ قائم کیا۔ عرفان صاحب کا خاص طور پر اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’جیسے ہی ہمیں بچی کے خاندان کی طرف سے اطلاع ملی تو ہم نے بروقت کارروائی کی۔ ملزمان زیادہ دُور نہیں تھے، بنیادی مجرم رکشا ڈرائیور گل شیر ماچھی اور اس کے ساتھی کو گرفتار کرکے مقدمہ قائم کرلیا گیا ہے‘۔

    عرفان صاحب کا سیلاب زدگان کی حفاظت کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’اس واقعے کے بعد ہم نے ایک واضح حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ کیونکہ لوگ کافی عرصے سے سڑکوں پر موجود ہیں اور خیال کیا جارہا ہے کہ ابھی انہیں گھروں تک لوٹنے میں وقت لگے گا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی تھی کہ فوری حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک ’وکٹم سپورٹ یونٹ‘ تشکیل دیا جائے۔ جہاں لوگ اس طرح کے جرائم کو باآسانی رپورٹ کرسکیں۔ انہوں نے یہ یونٹ اپنی مقررہ حدود میں قائم کردیا ہے‘۔

    انہوں نے زور دیا کہ ’اس وقت اغوا، انسانی اسمگلنگ اور حفاظتی امور پر آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔ خاص کر این جی اوز اور فیلڈ میں کام کرنے والے افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گھر کی خواتین اور بچوں کو ہوشیار کریں کہ کیا خطرات ہوسکتے ہیں، کن لوگوں سے دُور رہنا چاہیے اور یہ کہ شکایت کی صورت میں اپنے بڑوں کو بروقت آگاہ کرنا ضروری ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نمبر فراہم کیا ہوا ہے کہ اگر ایف آئی آر درج کروانے میں مشکلات ہوں یا پولیس کا برتاؤ درست نہ ہو تو ان نمبروں پررابطہ کیا جاسکتا ہے۔


    ان تمام باتوں کو جاننے اور سمجھنے کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ سیلاب زدگان کی زندگی بھی وقت کے ساتھ لوٹ ہی آئے گی اور وقت کئی زخموں پر مرہم بھی رکھ دے گا لیکن اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ جو واقعات ہوگئے ہیں ان کی تعداد کو بڑھنے نہ دیا جائے۔ پہلے ہی پانی ان مصیبت زدہ لوگوں کا سب کچھ بہا کرلے گیا ہے، اب ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے، کچھ رشتے ہیں، کچھ اپنے ہیں اور عزت ہے جسے یقیناً وہ کھونا نہیں چاہیں گے۔ شیما صدیقی کے مطابق؛ پولیس اور انتظامیہ سے بات کرنے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ صوبائی اور مرکزی سطح پر اس حوالے سے کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں اپنائی گئی، نہ کوئی ہیلپ لائن نمبر جاری کیا گیا اور نہ ہی کوئی محکمہ اور ٹیم اس پر معمور کی گئی۔

  • رانا ثناء مقدمہ اینٹی کرپشن سے متعلقہ ہے لہذا پنجاب پولیس کا کوئی تعلق نہیں. آر پی او راولپنڈی

    رانا ثناء مقدمہ اینٹی کرپشن سے متعلقہ ہے لہذا پنجاب پولیس کا کوئی تعلق نہیں. آر پی او راولپنڈی

    آر پی او راولپنڈی عمران احمر کا کہنا ہے کہ مقدمہ اینٹی کرپشن سے متعلقہ ہے، پنجاب پولیس کا اس سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ وارنٹ گرفتاری معمول کی کارروائی ہے کسی کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں روانہ نہیں کیں دوسری طرف ایس ایچ او تھانہ کوہسار نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی رہائش گاہ تھانہ کوہسار کی حدود میں نہیں آتی ہے اس کے بعد اینٹی کرپشن کی ٹیم تھانہ کوہسار سے روانہ ہوگئیں.
    محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کی درخواست پر راولپنڈی کی سول عدالت نے کرپشن کیس میں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔ سینیئر سول جج غلام اکبر کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق ’رانا ثنا اللہ کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں نامزد کیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری مقدمہ میں ضروری ہے لہٰذا ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکتے ہیں‘۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ‘ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تفتیشی دفتر کا دعویٰ درست ہے لہٰذا اسے قبول کیا جاتا ہے اور اس کے مطابق رانا ثنا اللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں’۔ اس پیش رفت کی تصدیق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے بھی کردی گئی ہے، اینٹی کرپشن ہیڈکوارٹر کی ٹیم نے رانا ثنااللہ اور ان کی اہلیہ کو آج بیانات قلمبند کرنے کیلئے طلب کر رکھا ہے۔
    https://twitter.com/haider_mateen/status/1578667977485869056
    ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے مطابق رانا ثنا اللہ کے بلا ضمانت وارنٹ گرفتاری اینٹی کرپشن انکوائری میں حاضر نہ ہونے پر جاری ہوئے۔ ان کا کا کہنا ہے کہ رانا ثنا اللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری مقدمہ نمبر 20/19 میں جاری ہوئے ہیں، عدالت کی جانب سے رانا ثنا اللہ کو گرفتار کر کے اینٹی کرپشن عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے مطابق رانا ثنا اللہ پر کلر کہار میں بسمہ اللہ فارم ہاوسنگ سوسائٹی میں شیڈول ریٹ سے انتہائی کم قیمت پر 2 فارم ہاوسز بطور رشوت لینے کا الزام ہے، بسم اللہ فارم ہاوسنگ سوسائٹی کے مالک اخلاق احمد پر اپنی غیر قانونی سوسائٹی کو رجسٹرڈ کروانے کے لیے رانا ثنا اللہ کو پلاٹ دینے کا الزام ہے۔ ان کی جانب سے مزید کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ اپنی اہلیہ نبیلہ ثنا اللہ کے ہمراہ بطور وزیر قانون بسم اللہ سوسائٹی کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے، دونوں پلاٹس رانا ثنا اللہ کی اہلیہ کو بلامعاوضہ بطور رشوت دیے گئے۔


    دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا کہ پولیس کی ایک ٹیم رانا ثنا اللہ کو گرفتار کرنے کے لیے روانہ ہو گئی ہے اور جلد ہی کوہسار تھانے پہنچ جائے گی۔

  • راولپنڈی: ایف بی آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے گھر ڈکیتی، مقدمہ درج کرلیا گیا

    راولپنڈی: ایف بی آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے گھر ڈکیتی، مقدمہ درج کرلیا گیا

    راولپنڈی میں ایف بی آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے گھر ڈکیتی کا مقدمہ درج کرلیا گیا.

    ایف آئی آر کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ دونقاب پوش خواتین نے میری اور اہلیہ کی غیرموجودگی میں والدہ کو گھر میں یرغمال بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شور مچانے پر دونوں نقاب پوش خواتین نے میری والدہ کو دھکا دے کر فرش پر گِرا دیا جسے انہیں چوٹیں آئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تھانہ ایئرپورٹ نے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران اقبال کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

    ڈاکو ایف بی آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران اقبال کے گھر سے ہزاروں امریکی ڈالر، طلائی زیورات اور نقدی لوٹ کر فرار ہو گئے۔پولیس کے مطابق راولپنڈی کے علاقے منگرال ٹاؤن میں ایف بی آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے گھر پر ہونے والی ڈکیتی کا مقدمہ تھانہ ائیرپورٹ نے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران اقبال کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ دوست مزاری پنجاب حکومت کے احتساب کے ریڈار پرآ گئے،طلبی کا نوٹس جاری
    میاں بیوی نے جھگڑے کے دوران ایک دوسرے پر چھریاں چلا دیں

    درج ایف آئی آر کے مطابق ڈاکو گھر سے 7400 امریکی ڈالر، 15 تولہ طلائی زیورات اور 2 لاکھ روپے نقدی لیکر فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرکے واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
    ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں
    وزیر گلگت بلتستان کرنل ریٹائرڈ عبیداللہ بیگ کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا
    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن 11 اکتوبر کو لڑکیوں کا عالمی دن منانے کو تیار
    کام کی جگہ پر ہراسانی کا قانون؛ کیا واقعی اس ایکٹ پر عمل درآمد کیا جارہا
    اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ پر کار سےمنشیات برآمد. ترجمان اے این ایف

  • کرپٹ ترین لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں. وزیر دفاع خواجہ آصف

    کرپٹ ترین لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں. وزیر دفاع خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے کرپٹ ترین لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے گزشتہ انتخابات سے قبل کئی وعدے کیے۔ انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا وعدہ کیا، ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ کیا جو معلوم نہیں کدھر گئے۔

    انہوں نے کہا کہ آج رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے ہیں لیکن ہمیں پنجاب حکومت کا کوئی خوف نہیں ہے۔ آڈیو لیکس کے بعد بیرونی سازش کا ڈرامہ دھڑام سے زمین پر گر گیا ہے اور جیب سے خط نکال کے لہرایا گیا لیکن جب خط کا پوچھا گیا پھر کہا گیا کہ پتہ نہیں وہ کہاں گیا۔
    یہ بھی پڑھیں؛ ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس تحریک انصاف نے ایف آئی اے انکوائری عدالت میں چیلنج کردی

    خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کا دوغلاپن اور فراڈیوں والی حرکتیں کل کی آڈیو لیک نے ظاہر کر دی ہیں اور نہ جانیں مزید کتنی آڈیوز آنی ہیں۔ گرفتار کرنا ہے تو کر لیں میرے خلاف کیس کی گفتگو بھی سامنے آ گئی۔
    انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ایسے کم ہوتا ہے جیسے یہ شخص سامنے آیا ہے اور یہ کسی کا وفادار نہیں ہوسکتا بلکہ جو شخص اپنی اولاد کا وفادار نہیں وہ کسی کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ آہستہ آہستہ انہیں منہ چھپانے کی ضرورت پڑے گی۔ یہ عوام کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں اور پاکستان کے کرپٹ ترین لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نیب بند کر دیا گیا ہے اور وہاں نیب کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے عمران خان نے ایک لفظ نہیں کہا لیکن 30، 40 جلسے ضرور کیے۔

    دوسری طرف مریم اورنگ زیب نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری عمران خان کے خوف کی وجہ سے جاری ہوئے کیونکہ عمران خان کے حکم پر وفاق پر حملہ کرنے کی تیاری ہے انہوں نے مزید کہا یہ فارن فنڈنگ، اور عوام کو بے وقوف بنانے کی چالوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے جبکہ یہ وارنٹ انتشاراورفساد پھیلانے کی سازش ہے،

  • ساجد خان کی بگ باس 16 میں شرکت ، مندانا کریمی نے احتجاجا شوبز انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    ساجد خان کی بگ باس 16 میں شرکت ، مندانا کریمی نے احتجاجا شوبز انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    جب سے ساجد خان بگ باس 16 میں شریک ہوئے تب سے ان کی شرکت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں. کیونکہ ساجد خان پر لڑکیوں کی طرف سے جنسی ہراسانی جیسے الزامات لگے تھے. الزامات لگنے کے بعد ایک دو فلموں کے پراجیکٹس بھی ان کے ہاتھ سے چلے گئے تھے. اب جبکہ ساجد خان نے بگ باس 16 میں شرکت کی ہے تو بالی وڈ اداکارہ مندانہ کریمی نے احتجاجا شوبز انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے. مندانہ کریمی نے ساجد خان پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے فلم دینے کے بدلے ایسی شرائط رکھی تھیں جن کو میں صرف کام حاصل کرنے کے لئے پورا نہیں کر سکتی تھی . صرف مندانہ کریمی نے ہی نہیں دیگر کئی اداکارائوں نے بھی ساجد خان پر اسی قسم کے الزامات لگائے جس کے بعد انہیں

    کافی پراجیکٹس سے آئوٹ کر دیا گیا تھا. کہا جا رہا ہے ہ بگ باس 16 کی انتظامیہ نے ساجد خان کے گناہ دھونے کےلئے ان کو اس شو میں شریک کیا ہے. ناقدین کا کہنا ہے کہ ساجد خان کےلئے ایک بار پھر بالی وڈ میں راہ ہموار کی جا رہی ہے بگ باس میں شرکت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے. تاہم بگ باس انتظامیہ نے ساجد خان پر ہونے والی تنقید کو نظر انداز کر دیا ہے. دوسری طرف راکھی ساونت کا کہنا ہےکہ صرف فلم میں کام نہ ملنے کی وجہ سے مندانہ کریمی کا فلم انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان بچگانہ ہے.

  • ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس تحریک انصاف نے ایف آئی اے انکوائری عدالت میں چیلنج کردی

    ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس تحریک انصاف نے ایف آئی اے انکوائری عدالت میں چیلنج کردی

    پاکستان تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے سلسلے میں ایف آئی اے انکوائری اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردی۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے کو فنڈنگ کیس میں گرفتاریوں اور چھاپوں سے روکا جائے۔ ایف آئی اے نے سینیٹر سیف اللہ نیازی کے گھر چھاپا مارا اور  ہراساں کیا۔ ایف آئی اے انکوائری اور چھاپے غیرقانونی ہیں، لہٰذا ایسی کارروائیوں سے  فوری طور پر روکا جائے۔

    تحریک انصاف نے درخواست میں مزید کہا ہے کہ ایف آئی اے سیاسی بنیاد پر ہراساں کررہی ہے۔ عدالت ایف آئی اے کو فنڈنگ کیس کی تحقیقات سے روکے۔ ریجیم چینج کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت مخالف تحریک کے لیے فنڈز اکٹھے کیے۔ بیرون ملک سے ملنے والے تمام فنڈز قانون کے مطابق وصول کیے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا۔

    واضح رہے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو خط بھی ارسال کیا تھا جس میں  ایف آئی اے نے عمران خان کو لکھے گئے خط میں ان سے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ان کی سالانہ رپورٹ کا ریکارڈ مانگا تھا تاہم تحریک انصاف نے ایسے کسی خط کے ملنے سے انکار کیا تھا۔

    خط میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کی 1996 سے لے کر اب تک کی تمام تنظیموں اور ٹرسٹ کا ریکارڈ فراہم کیا جائے جبکہ پارٹی کے قیام سے لے کر اب تک وصول کی گئی ممبر شپ فیس کا ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے۔

    ذرائع کے مطابق خط میں پی ٹی آئی کی رجسٹرڈ، غیر رجسٹرڈ قومی و بین الاقوامی تنظیموں اور ٹرسٹ کے ریکارڈ کی تفصیلات طب کی گئی ہیں۔ عمران خان کو الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے فارم کی تفصیل فراہم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

    خط میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے تمام اکاؤنٹس کھولے جانے سے لے کر اب تک کا سالانہ اسٹیٹمنٹ بھی فراہم کیا جائے۔ ایف آئی اے حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کے لیے تشکیل دی گئی انکوائری ٹیم نے عمران خان کو خط ارسال کر کے تفصیلات طلب کی ہیں۔

    تاہم یاد رہے گزشتہ اسٹیٹ بنک سے بھی ان اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی گئی تھی

  • ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوبا ہوا جبکہ عمران خان لانگ مارچ کی کال دے رہے. بلاول بھٹو زرداری

    ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوبا ہوا جبکہ عمران خان لانگ مارچ کی کال دے رہے. بلاول بھٹو زرداری

    ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوبا ہوا ہے اور عمران خان لانگ مارچ کی کال دے رہے. بلاول بھٹو زرداری

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے چئیرمین پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کو پہلے انسان اور پھر سیاستدان بننا چاہیے، ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوبا ہوا ہے اور عمران خان لانگ مارچ کی کال دے رہے ہیں۔ جرمن نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس کی سیاست نامناسب ہے، دوغلی پالیسی نہیں چلے گی، مخالف کے ساتھ ہو تو اچھا آپ کے ساتھ ہو تو برا۔ نیب چئیرمین کو قابو کرنے اور مخالفین پر دباؤ بڑھانے کیلئے آڈیو لیکس کرائیں۔

    سابق وزیراعظم سے متعلق گفتگو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ خان صاحب کی سیاست بہت عجیب ہے، ملک ڈوبا ہوا ہے اور وہ مارچ کی کال دے رہے ہیں، خان صاحب کو پہلے انسان اور پھر سیاستدان بننا چاہیے۔ سیاست تو چلتی رہے گی۔ اس موقع پر انہوں نے جرمنی کی جانب سے سیلاب زدگان کیلئے دی جانے والی امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد توقعات سے زیادہ ہے، ہم جرمنی کے شکرگزار ہیں۔ بلاول نے یہ بھی کہا کہ یہ چیریٹی یا بھیک مانگنے کی بات نہیں، ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جنھوں نے سب سے زیادہ مسئلہ کھڑا کرنے میں کردار ادا کیا ان کی مورل ذمہ داری ہے۔ بلاول بھٹونے کہا کہ چار برس میں دوست ممالک سے تعلقات کو نقصان پہنچا، اب بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز جمعہ 7 اکتوبر کو پاکستانی ہم منصب کے ہمراہ مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے، پاکستان میں سیلاب سے جو تباہی ہوئی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، سیلابی پانی سے پیدا ہونیوالے مچھر ملیریا کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک کروڑ یورو امداد کا اعلان کردیا۔ انالینا بیئربوک نے کہا کہ جرمن کمپنیاں پاکستان میں انفرا اسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کررہی ہیں، پاکستان ہمارا اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے، جرمنی پاکستان کیساتھ دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

    اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جرمنی یورپ کا اہم ترین ملک ہے، ہمارے بہترین تعلقات ہیں، جرمنی کیساتھ دوستانہ تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سیلاب کے باعث مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوا، پاکستان کو سیلاب کے بعد غذائی بحران کا بھی سامنا ہے، کروڑوں لوگ سیلاب سے ہونیوالی تباہی سے متاثر ہوئے۔

  • نیب ترمیمی آرڈیننس;  نیب کو واپس کیئے گئے کیسز بند نہیں ہونگے

    نیب ترمیمی آرڈیننس; نیب کو واپس کیئے گئے کیسز بند نہیں ہونگے

    نیب ترمیمی آرڈیننس; نیب کو واپس کیئے گئے کیسز بند نہیں ہونگے

    نیب ترمیمی آرڈیننس کے بعد درجنوں کیسز نیب کو واپس کردیئے گئے تھے، تاہم اب اس حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، اور احتساب عدالتوں سے نیب کو واپس کئے گئے کیسز بند نہیں ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق نیب کو واپس بھیجے گئے کیسز پر کارروائی آگے بڑھانے کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن پنجابتیار ہو گيا ہے، اور ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے قومی احتساب بيورو (نیب) کو خط بھی لکھ دیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ دوست مزاری پنجاب حکومت کے احتساب کے ریڈار پرآ گئے،طلبی کا نوٹس جاری
    میاں بیوی نے جھگڑے کے دوران ایک دوسرے پر چھریاں چلا دیں</
    ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے نیب کو خط میں کہا ہے کہ صوبائی سطح پر محکمہ انٹی کرپشن عوامی مفاد کا محافظ ہے، عدالتوں سے واپس ہوئے کیسز کا ریکارڈ اور شواہد ہمیں فراہم کئے جائیں۔

    خط میں ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا ہے کہ نیب راولپنڈی، ملتان اور لاہور کے کیسز کا ریکارڈ ہمیں فراہم کیا جائے، اور 50 کروڑ سے کم مالیت کی کرپشن، آمدن سے زائد اثاثوں کے کیسز اینٹی کرپشن کو بھیجے جائیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اختیارات کے غلط استعمال کے عدالتوں سے واپس کیسز بھی بھجوائے جائیں، جب کہ عوام سے فراڈ کے کیس بھی 100سے کم شکایات ہونے پر ہميں منتقل کئے جائیں۔

    ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں
    وزیر گلگت بلتستان کرنل ریٹائرڈ عبیداللہ بیگ کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا
    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن 11 اکتوبر کو لڑکیوں کا عالمی دن منانے کو تیار
    کام کی جگہ پر ہراسانی کا قانون؛ کیا واقعی اس ایکٹ پر عمل درآمد کیا جارہا
    اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ پر کار سےمنشیات برآمد. ترجمان اے این ایف

  • ایف آئی اے کا دوران انکوائری کسی بھی جگہ کو سیل کرنے  کا عمل غیرآئینی قرار

    ایف آئی اے کا دوران انکوائری کسی بھی جگہ کو سیل کرنے کا عمل غیرآئینی قرار

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کا انکوائری اسٹیج پر کسی بھی جگہ کو سیل کرنا غیر قانونی قرار دے دیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں ریسٹورنٹ سیل کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ایف آئی اے کا مختلف جگہوں کو سیل کرنے کے حوالے سے اختیارات سے تجاوز کرنا اور انکوائری اسٹیج پر کسی بھی جگہ کو سیل کرنا غیر قانونی قرار دے دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اس حوالے سے تحقیقات کا حکم بھی دے دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دو شہریوں کی ریسٹورنٹ کے نام پر کاپی رائٹس تنازع کی شکایت ایف آئی اے کے پاس آئی، ایف آئی اے کاپی رائٹ سے متعلق اسٹائل،نام،آرٹسٹک ورک کے حوالے سے مطمئن نہیں کر سکی۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے حکم دیا کہ ایف آئی اے کو بغیر قانونی وجہ شہریوں کو رسوا کرنے کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا، ڈی جی ایف آئی اے انکوائری اسٹیج پر کسی جگہ کو سیل نہ کرنے کی ہدایات جاری کرے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے سب انسپکٹر نے بغیر اختیار انکوائری اسٹیج پر ریسٹورنٹ کو سیل کیا، ایف آئی اے نے اختیارات کا غلط استعمال کیا جو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، ڈی جی ایف آئی اے تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کرائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ دوست مزاری پنجاب حکومت کے احتساب کے ریڈار پرآ گئے،طلبی کا نوٹس جاری
    میاں بیوی نے جھگڑے کے دوران ایک دوسرے پر چھریاں چلا دیں
    عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ ایف آئی اے افسر ریسٹورنٹ سیل کرنے کے ایکٹ سے عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، انکوائری افسر نے سنگل انکوائری رپورٹ بھی نہیں لکھی نا ہی کوئی روزانہ ڈائری لکھی۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کا کنڈکٹ دائرہ اختیار سے باہر ہے، انکوائری میں ثبوت اکٹھے کرنے ہوتے ہیں ایکشن نہیں لے سکتے، ایف آئی اے کا انکوائری اسٹیج پر کسی جگہ کو سیل کرنا خلاف قانون ہے۔

  • لانگ مارچ کی تاریخ کا صرف عمران خان کو پتہ ہے. شاہ محمود قریشی

    لانگ مارچ کی تاریخ کا صرف عمران خان کو پتہ ہے. شاہ محمود قریشی

    سابق وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کو کہا جبکہ حکومت کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اور لانگ مارچ کا اعلان کسی بھی وقت ہوسکتا ہے.

    وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے صحت کارڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہیلتھ انصاف کارڈ انقلابی اقدام تھا لیکن اس پر بھی سیاست کی گئی اور اسے روکا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریض سیاسی نہیں ہوتا لیکن ذمہ دار افراد نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور امید ہے ہیلتھ کارڈ پر وفاقی حکومت تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔

    شاہ محمود کا کہنا تھا کہ مریضوں کا سرکاری اسپتالوں پر بے پناہ پریشر تھا اور اسپتال نئے تعمیر ہوں گے تودباؤ کم ہو گا۔ صحت کارڈ سے 10 لاکھ روپے تک علاج کی سہولت مل رہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے شہروں میں نئے اسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ امید ہے ہیلتھ کارڈ پر وفاقی حکومت تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کرے گی. ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کا سرکاری اسپتالوں پر بے پناہ پریشر تھا،ہیلتھ کارڈ سہولت سے وہ کم ہوا اور اس کےساتھ مزید تعمیر ہونے کے بعد دباو کم ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان کی سالمیت اورخود مختاری پرآنچ نہیں آنے دیں گے،آرمی چیف
    ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں
    ضمنی الیکشن 90 دن کیلئے ملتوی کیے جائیں :وزارت داخلہ کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ
    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ؛ یہ حکومت گھبرائی ہوئی ہے اور انکی کانپیں ٹانگ رہی ہیں جبکہ انکو حوصلہ کرنا چاہئے اور گھبرانا نہیں چاہئے. ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکنان کو گرفتار کیا گیا جس کی مزمت کرتے ہیں.
    انہوں نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مگر مچھ کے آنسو بہانا بند کریں کیونکہ وہ حکومت کا حصہ ہیں جبکہ لانگ مارچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ لانگ مارچ کی تاریخ صرف عمران خان کو پتہ ہے اور وہ کبھی بھی اعلان ہوسکتا ہے .شاہ محمود نے کہا بلاول کے جلسوں میں لوگ رینٹ پر آئے تھے جبکہ نواز شریف کو بہت پہلے ملک میں آجانا چاہئے تھا