Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستانی کرنسی نے رواں ہفتے کے اختتام پر بہترین کرنسی کا اعزاز حاصل کی

    پاکستانی کرنسی نے رواں ہفتے کے اختتام پر بہترین کرنسی کا اعزاز حاصل کی

    پاکستانی کرنسی نے رواں ہفتے کے اختتام پر بہترین کرنسی کا اعزاز حاصل کیا اور جمعے کے روز اختتام ہونے والے ہفتے تک پاکستانی روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 3 اعشاریہ 9 فیصد تک اضافہ ہوچکا۔

    عارف حبیب کے ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ہفتہ وار موازنے کے لحاظ سے پاکستانی کرنسی اس ہفتے بہترین کرنسی رہی۔ جعمے کا روز گیارہواں مسلسل دن تھا جب روپے نے ڈالر کے مقابلے میں استحکام برقرار رکھا۔اسحاق ڈار نے وطن واپسی کے بعد بظاہر امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کو بچانے کی اپنی پرانی پالیسیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ انھوں نے دیکھا ہے کہ روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں جولائی کی اب تک کی کم ترین قدر 240 کے قریب ہے اور کمرشل بینکوں پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے روپے کی قدر میں ہیرا پھیری کی ،جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ایک روز قبل پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو ‘B3′ سے گھٹا کر ‘Caa1′ کرنے کے موڈی کے یکطرفہ فیصلے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے پاکستانی حکام نے ریٹنگ ایجنسی کو مطلع کیا کہ کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں کے دوران حکومت کو ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے اضافی فنڈنگ کے وعدے ہوئے،اسی طرح ورلڈ بینک نے بھی موجودہ مالی سال (FY23) میں بنیادی ڈھانچے اور دیگر منصوبوں کے لیے تقریباً 1.3 بلین ڈالر کی اضافی فنڈنگ کا وعدہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اپیل پر 04 اکتوبر 2022 کو جنیوا میں ہونے والی کانفرنس میں مختلف ممالک کی جانب سے 816 ملین ڈالر کے فنڈز دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ “ہم پاکستان میں منعقد ہونے والی ڈونر کانفرنس میں کثیر الجہتی اور دوست ممالک سے مزید فنڈز کی توقع رکھتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ روپے میں جاری اضافے کا رجحان غیر پائیدار ہے۔

    اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ فہد رئوف نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر کا کا رجحان برقرار رکھ سکتا ہے اور قلیل مدت میں مزید 5 سے 10 روپے مزید بڑھ سکتا ہے تاہم 30 جون 2023 کو رواں مالی سال کے اختتام تک مسلسل نیچے کی جانب رجحان دوبارہ شروع ہو جائے گا اور 240-250 روپے چلا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان کی سالمیت اورخود مختاری پرآنچ نہیں آنے دیں گے،آرمی چیف
    علیمہ خان،فرح خان کو این آر او میں نے دلوایا؟ وزیراعظم
    ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں
    ماہرین نے کہا کہ تقریباً تمام عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کا مضبوط استحکام ،بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمت دوبارہ 90 ڈالر فی بیرل ہونا ،یورپ میں کساد بازاری کا خدشہ، پاکستان کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں ہر ہفتے گراوٹ اور انحطاط کے پس منظر میں روپیہ دوبارہ مندی کا شکار ہوگا۔ ملکی کرنسی اس سال مارچ سے انتہائی اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، کیونکہ اس نے گزشتہ سات ماہ کے دوران دنیا کی بہترین کارکردگی والی کرنسی سے بدترین کرنسی اور دنیا کی بدترین کارکردگی والی کرنسی سے بہترین کرنسی کی طرف تیزی سے پیش رفت کی۔

  • امید ہے10 اکتوبر کو لانگ مارچ کی تاریخ کا بگل بج جائے گا. شیخ رشید

    امید ہے10 اکتوبر کو لانگ مارچ کی تاریخ کا بگل بج جائے گا. شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ امید ہے10 اکتوبر کو لانگ مارچ کی تاریخ کا بگل بج جائے گا.

    سربراہ عوامی مسلم لیگ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ10 اکتوبر کو لانگ مارچ کی تاریخ کا بگل بج جائے گا. سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ مہنگائی مزید30 فیصد بڑھ گئی ۔ آڈیو ویڈیو لیک اور سائیفر غریب کا مسئلہ نہیں۔ ان کا اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہنا ہے کہ امید ہے10 اکتوبر کو لانگ مارچ کی تاریخ کا بگل بج جائے گا،پھر راج کرے گی خلق خدا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ دوست مزاری پنجاب حکومت کے احتساب کے ریڈار پرآ گئے،طلبی کا نوٹس جاری
    میاں بیوی نے جھگڑے کے دوران ایک دوسرے پر چھریاں چلا دیں

    شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سیاست کا تناؤ اور ٹکراؤ کسی طرف بھی جاسکتا ہے۔ حکومت ضمنی الیکشن سے بھاگ رہی ہے۔ سائیفر حقیقت تھا اس لیےقومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں لایاگیا۔ اس سے قبل شیخ رشید نےکہا تھا کہ کیس ختم ہوگئے،صرف انتخاب سےبھاگنا ہےجوممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اسحاق ڈار، مفتاح اسماعیل ایک دوسرےکوتعنےدے رہےہیں، جبکہ ماری عوام گئی ہے۔ انکے مطابق24اکتوبرنیب کوبتاؤں گانوازشریف نےبلڈنگ ون ہائیڈپارک47.5ملین پاؤنڈ میں بیچی،جس سے برٹشNCAخریدار کےخلاف ایکٹوہوگیااورسپریم کورٹ کومداخلت کرنی پڑی تھی.

    ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں
    وزیر گلگت بلتستان کرنل ریٹائرڈ عبیداللہ بیگ کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا
    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن 11 اکتوبر کو لڑکیوں کا عالمی دن منانے کو تیار
    کام کی جگہ پر ہراسانی کا قانون؛ کیا واقعی اس ایکٹ پر عمل درآمد کیا جارہا
    اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ پر کار سےمنشیات برآمد. ترجمان اے این ایف

  • ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 51  مثبت  کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 51 مثبت کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 51 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ، جب کہ 38 مریضوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

    قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 13 ہزار 736 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 51 افراد کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج مثبت ریکارڈ ہوئے۔


    این آئی ایچ کی جانب سے جاری اعداد شمار کے مطابق 38 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا مثبت کیسز کی شرح معمولی کمی کے ساتھ 0.37 فی صد ریکارڈ کی گئی۔ کورونا وائرس کے باعث مل بھر سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

    کووِڈ- 19 وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

    یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

    کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟
    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان کی سالمیت اورخود مختاری پرآنچ نہیں آنے دیں گے،آرمی چیف
    علیمہ خان،فرح خان کو این آر او میں نے دلوایا؟ وزیراعظم
    ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں
    اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

  • کام کی جگہ پر ہراسانی کا قانون؛ کیا واقعی اس ایکٹ پر عمل درآمد کیا جارہا

    کام کی جگہ پر ہراسانی کا قانون؛ کیا واقعی اس ایکٹ پر عمل درآمد کیا جارہا

    یہ 2018 کی بات ہے۔ پاکستانی نیوز میڈیا میں شہر اقتدار میں ایک بڑے نیوز چینل کے لانچ ہونے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ مجھے بھی اس چینل سے انٹرویو کی کال آئی۔ بات تعلیمی قابلیت اور تجربے سے زیادہ میری ظاہری شخصیت اور لباس پر مرکوز رہی۔ پھر یہ سلسلہ رات کے پچھلے پہر بات کرنے کی خواہش سے چائے پر ملنے تک پہنچنا شروع ہوا۔

    بات بڑھی تو معاملہ اسی نئے چینل کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ تک لے جایا گیا۔ گمان تھا کہ مالک خاتون ہیں تو کم از کم ان صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا جائے گا مگر پانچ سال کے بعد بھی وہ صاحب وہیں موجود ہیں۔ سعدیہ مظہر کے ایک مضمون کے مطابق؛ پاکستان میں کام کی جگہ پر ہراسانی ایکٹ 2010 کے منظور ہونے کے بعد تقریباً ہر ادارے کو اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے اپنے ادارے میں ہراسانی کمیٹیاں بنائے تاکہ اس طرح کے ہر معاملے سے بخوبی نمٹا جاسکے۔

    پاکستان ہر میدان میں صنفی برابری کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے اور اسی کمی کا سامنا پاکستان کی میڈیا انڈسڑی میں بھی ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ میڈیا کی جانب خواتین کا رحجان کچھ بڑھا ضرور ہے مگر کم تنخواہ، بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی اور مرد حضرات کی جانب سے امتیازی سلوک کے ساتھ ساتھ خواتین کو ہراسانی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جو انہیں اس شعبے سے دور رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ پاکستان کے دو بڑے میڈیا ہاؤسز تو ہراسانی کمیٹیاں بنا کر ان پر سختی سے عمل بھی کروا رہے ہیں۔ عائشہ پچھلے پندرہ سال سے ایکسپریس نیوز کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ عائشہ کا کہنا ہے کہ مجھے ایک بار ایک شخص کی موجودگی میں کام کرنے سے عجیب الجھن ہونے لگی۔ تب میں نے ایچ آر ڈپارٹمنٹ میں جاکر شکایت کی اور فوراً اس شخص کی شفٹ بدل دی گئی۔ اس میڈیا ہاؤس میں کام کرنے والی ہر خاتون اتنی ہی مطمئن ہے کہ اس ادارے میں ہراسانی کے حوالے سے کی گئی کسی بھی شکایت کو نرمی سے نہیں لیا جاتا۔

    تنزیلہ مظہر ایسے ہی ایک ہراسانی کے کیس کو بہت سال سے لے کر چل رہی ہیں اور پی ٹی وی کے افسر پر کیا گیا ہراسانی کا کیس بھی ساتھی خواتین بہت سال بعد عدالت سے جیتیں۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان اداروں میں کام کی جگہ پر ہراسانی کمیٹیاں یا تو موجود نہیں یا پھر مکمل فعال نہیں ہیں۔ میڈیا انڈسڑی میں خواتین کی تعداد کم ہونے کی بہت بڑی وجہ ان کے معاشی اور جسمانی تحفظ کی عدم فراہمی ہے۔ اس موضوع پر بات سننا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی خاتون لب کھول بھی لے تو عموماً اسے ہی چپ کروانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

    وفاقی محتسب یا ایف آئی اے تک ایسی کسی بھی شکایت کا اندراج ایک ناممکن سی بات ہے، کیونکہ مردوں کے اس سماج میں اپنے لیے جگہ ڈھونڈ لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر ادارے یا ادارے کے کسی بھی فرد کے خلاف شکایت کا انداراج کروایا جائے تو یہ نوکری سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہوگا۔ عائشہ بخش ایک پرائیویٹ چینل میں قائم ہراسانی کمیٹی کو ہیڈ کرتی ہیں اور اس ادارے کے ملازمین کا کہنا ہے کہ اس کیمٹی کے بہتر کام کی وجہ ہی سے ہمارے ادارے کا ماحول بہت دوستانہ اور قابل عزت ہے۔ یعنی عورت کے مسائل کو سمجھنے کےلیے اگر عورت کو اعلیٰ عہدے پر لگایا جائے تو بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔

    الیکٹرانک میڈیا میں یہ کمیٹیاں کافی حد تک فعال ہیں مگر یہاں بڑا سوالیہ نشان پرنٹ میڈیا کا ہے۔ پرنٹ میڈیا میں بھی کام کرنے والی خواتین کی تعداد پہلے کی نسبت بہتر ہے لیکن ہراسانی کمیٹی کے حوالے سے سوال بہرحال موجود ہے۔ پاکستان کے بہت بڑے انگلش اخبار کے ایڈیٹر پر بھی ہراسانی کا الزام لگ چکا ہے۔ تو کیا ہماری خواتین ان رویوں سے محفوظ ہیں؟ پاکستان کی وہ انڈسڑی جہاں خواتین آٹے میں نمک کے برابر ہیں، اپنی بقا اور شناخت کی جنگ عرصے سے لڑتی آرہی ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا آنے کے بعد کچھ قوانین پر عمل درآمد پہلے سے بہت بہتر ہوا ہے لیکن ابھی بھی مزید کام کی ضرورت ہے۔

    فوزیہ ایک چینل میں نیوز پروڈیوسر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ فوزیہ کا کہنا ہے کہ ہمارے ادارے میں کمیٹی کی جگہ ایچ آر کو دی جاتی ہے مگر شکایت، حسرت بن جاتی ہے اور اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی، بلکہ سب پریشر شکایت کنندہ پر آتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سی لڑکیاں خود نوکری چھوڑ کر چلی جاتی ہیں، کیونکہ ہماری انڈسٹری مرد پرور ہے۔ عموماً مرد حضرات اسے انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور شکایت کرنے والی خواتین کےلیے مزید مشکلات پیدا کردیتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان کی سالمیت اورخود مختاری پرآنچ نہیں آنے دیں گے،آرمی چیف
    علیمہ خان،فرح خان کو این آر او میں نے دلوایا؟ وزیراعظم
    ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں
    دنیا میں تقریباً 75 فیصد خواتین آن لائن ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں، جبکہ 20 فیصد ہراسانی جسمانی صورت میں ہوتی ہے۔ یونیسکو کی اس رپورٹ کے مطابق 49 فیصد خواتین نے ہراسانی بدزبانی کی صورت سہی ہے، جبکہ 25 فیصد کو جسمانی تشدد کا خوف دلوایا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے 180 ممالک میں 157 نمبر پر ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد صحافیوں پر آن لائن ہراسانی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی خواتین صحافی اپنے لیے خود آواز بلند کرتے ہوئے بھی ڈرتی ہیں جبکہ ان کا خاندان بھی انہیں چپ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

    خواتین صحافیوں کے پاس قانونی مدد بھی میسر نہیں ہوتی۔ ان کا ادارہ بھی اگر ان کا ساتھ نہ دے تب وہ یہی قانونی مدد کسی قانون دان یا کسی بھی اور ادارے سے کیسے لے سکتی ہیں؟ اس حوالے سے بھی بہت سا علم اور معلومات واضح نہیں ہیں۔ پاکستان میں قوانین بن تو جاتے ہیں مگر جب تک ان پر مکمل عمل درآمد نہ ہوسکے تو ان کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔ خواتین ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔ ایسے میں ان کے تحفظات کو دور کرنا اور ان کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت اور اداروں کی مکمل ذمے داری ہے۔

  • پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن 11 اکتوبر کو لڑکیوں کا عالمی دن منانے کو تیار

    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن 11 اکتوبر کو لڑکیوں کا عالمی دن منانے کو تیار

    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن 11 اکتوبر کو لڑکیوں کا عالمی دن منانے کو تیار

    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نے یونیسیف کے تعاون سے 11 اکتوبر کو لڑکیوں کا عالمی دن منانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ 600 سے زائد لڑکیوں کی شرکت متوقع ہے۔ گائیڈز کی سرگرمیاں صبح 9:00 بجے شروع ہوں گی جس میں 11:00 بجے لڑکیوں اور سیلاب کی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے پینل ڈسکشن ہو گی، جبکہ بیگم ثمینہ عارف علوی مہمان خصوصی ہوں گی۔

    مختصر پس منظر

    11 اکتوبر کو، لڑکیوں کے عالمی دن کے اعزاز میں، اقوام متحدہ اور اس کی شراکت دار نوجوان خواتین کے ساتھ مل کر ان کے حقوق کے لیے بات کرنے اور اپنی آواز بلند کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس سال کے تھیم، "گرل فورس: غیر اسکرپٹڈ اینڈ اسٹاپ ایبل” کے بینر تلے، ہم 1995 میں بیجنگ ڈیکلریشن اور پلیٹ فارم فار ایکشن کے اختیار کیے جانے کے بعد سے لڑکیوں کے ساتھ اور ان کے لیے ہونے والی پیش رفت کا احترام کریں گے۔ یہ دستاویز سب سے زیادہ جامع پالیسی ایجنڈا ہے۔ اس کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو فروغ دینا ہے.
    یہ بھی پڑھیں؛ ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں
    وزیر گلگت بلتستان کرنل ریٹائرڈ عبیداللہ بیگ کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا
    ضمنی الیکشن 90 دن کیلئے ملتوی کیے جائیں :وزارت داخلہ کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ
    پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ اور ہیومینٹیرین کوآرڈینیٹر، نٹ اوسٹبی کا خیال ہے کہ، "زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کو مساوی شمولیت سے کسی بھی چیز سے باز نہیں رکھنا چاہیے۔” یہ کوئی راز نہیں ہے کہ پاکستانی خواتین کلاس روم میں اپنے مرد ہم منصبوں کو پیچھے چھوڑتی ہیں اور روایتی طور پر مردوں کے زیر اثر شعبوں میں قدم رکھتی ہیں۔ ملالہ یوسف زئی، ارفع کریم اور بہت سے لوگوں کے کارنامے ان کے ملک کا سر فخر سے بلند کرتے ہیں اور ہم اس کے ذمہ دار ہیں کہ انہیں ایسے حالات فراہم کریں جو ان کی بطور فرد اور پیشہ ورانہ ترقی کی حوصلہ افزائی میں معاون ثابت ہوں اور انہیں ملازمت کے مساوی امکانات تک رسائی فراہم کریں۔

  • شیخوپورہ میں افسوسناک واقعہ، ملزم گرفتار

    شیخوپورہ میں افسوسناک واقعہ، ملزم گرفتار

    شیخوپورہ میں افسوسناک واقعہ ملزم گرفتار
    شیخوپورہ: (محمد فہیم شاکر سے ) شیخوپورہ میں پیش آیا افسوسناک واقعہ جس میں کھیتوں میں سوئے 8 افراد کو تیز دھار آلہ سے قتل کر دیا گیا
    آئی جی پنجاب کا شیخوپورہ کے نواحی گاؤں ہچڑ میں مختلف مقامات پر 8 افراد کے قتل کے واقعہ کا نوٹس
    اور آر پی او شیخوپورہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔
    جبکہ واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرنے کا حکم

    شیخوپورہ پولیس نے قتل کے افسوسناک واقعات میں ملوث ملزم فیض کو گرفتار کرلیا جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم ذہنی مریض ہے ڈی پی او شیخوپورہ کے مطابق ملزم نے تمام افراد کو ایک ہی رات میں تیزدھار آلے اور آہنی راڈ سے قتل کیا ملزم نے گلیوں اور کھیتوں میں سوئے افراد کو رات 3 بجے کے بعد اس وقت قتل کیا جب سارا گاؤں سو رہا تھا۔

    ڈی پی او شیخوپورہ بھاری نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر موجود ہیں جبکہ پولیس نے سارے علاقہ کو محاصرے میں لے کر تفتیش شروع کردی

  • رنویر مجھ سے جونئیر ہے مجھے اس کے ساتھ نہ ملائیں محسن عباس حیدر

    رنویر مجھ سے جونئیر ہے مجھے اس کے ساتھ نہ ملائیں محسن عباس حیدر

    اداکار محسن عباس حیدر جو دنیا ٹی وی کے ایک پروگرام میں بطور ڈی جے کام کرتے تھے ان کو اس شو سے اس وقت نکالا گیا جب ان کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے ان پر تشدد کرنے کے الزامات لگائے۔ تب سے محسن عباس حیدر صر ف اداکاری کے پراجیکٹس میں ہی نظر آرہے ہیں ۔ اپنے حالیہ انٹرویو میں محسن عباس حیدر نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کھٹے میٹھے رنگ پہنے ہیں جب میزبان نے ان کے اس عمل کو رنویر سنگھ کے ساتھ ملایا تو محسن عباس حیدر بولے میں رنویر سنگھ کی بہت عزت کرتا ہوں اور وہ بہت اچھے اداکار ہیں۔ لیکن میرے کپڑے پہننے کا اپنا

    ایک انداز ہے جو تب سےہے جب رنویر سنگھ نے ابھی اداکاری بھی شروع نہیں کی تھی۔ رنویر کو تو چند سال ہوئے ہیں انڈسٹری میں آئے جبکہ میں تو پچھلے اٹھاراں سال سے کام کررہا ہوں لہذا میرا کپڑوں میں کھٹے میٹھے رنگ پہننے کا کریڈٹ میرے پاس ہی رہنے دیں۔ یوں محسن عباس حیدر نے رنویر سنگھ کو خود سے جونئیر کہہ دیا ۔ محسن عباس حیدر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر دلچپسپ تبصرے ہوئے کسی نے کہا کہ محسن عباس ٹھیک کہہ رہے ہیں تو کسی نے کہا کہ محسن عباس حیدر کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔

  • شان اور معمر رانا کام کرنے کو تیار نہیں تو فلمیں کیا بنیں مسعود بٹ

    شان اور معمر رانا کام کرنے کو تیار نہیں تو فلمیں کیا بنیں مسعود بٹ

    پاکستان فلم انڈسٹری کو کئی یاد گار سپر ہٹ فلمیں دینے والے مسعود بٹ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ فلمسٹار شان اور معمر رانا جو پنجابی فلموں کے بڑے سٹارز ہیں وہی اگر فلموں میں کام کرنے میں دلچپسی نہ لیں تو پھر کیا کیا جائے؟ شان نے اپنا معاوضہ ایسا رکھا ہوا ہے کہ اس سے کوئی بات نہیں بن پاتی۔ اسی طرح سے معمر رانا کی بھی فلمیں کرنے میں دلچپسی نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گوگا لاہوریا یا اشتہاری ڈوگر جیسی فلموں کا موازنہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے ساتھ نہ کریں۔ دا لیجنڈ آف مولا جٹ پچاس کروڑ سے بنی ہے اور ہم

    جو فلمیں بناتے ہیں ان کا بجٹ ہی پچاس لاکھ ہوتا ہے تو پھر فرق تو ہو گا ہم جو فلمیں بنا رہے ہیں ان کی آڈینز جیسی ہے جتنا ان کا سرکٹ ہے یا جتنے ان کے پاس سینما ہیں اس ھساب سے وہ فلمیں اچھی ہیں۔ مسعود بٹ نے کہا کہ جب مجھے ناصر ادیب نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا سینٹرل آئیڈیا سنا یا تھا تو میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ ایک منفرد فلم بننے جا رہے رہی ہے جسے بہت پسند کیا جائیگا۔ اور وہی ہو رہا ہے دنیا فلم کے پیچھے پاگل ہو رہی ہے۔

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی کراچی میں پریس میٹ

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی کراچی میں پریس میٹ

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی پوری ٹیم پہنچ گئی ہے کراچی اور وہاں انہوں نے ایک پریس میٹ اپ رکھا۔ جس میں بلاگرز ، یوٹیوبرز اور چند ایک صھافیوں نے شرکت کی۔ پریس میٹ کے موقع پر ماہرہ خان ، فواد خان ، حمزہ علی عباسی ، عماعمہ ملک، ناصر ادیب اور بلال لاشاری و دیگر موجود تھے۔ پریس میٹ اپ میں کاسٹ اور ڈائریکٹر سے مختلف قسم کے سوالات پوچھے گئے۔ فلم کی ریلیز میں محض چار دن باقی ہیں لہذا پرموشنز کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ دا

    لیجنڈ آف مولا جٹ کی ٹیم کہہ چکی ہے کہ وہ دوسروں کی طرح شاپنگ مالز میں نہیں جائیں گے ، فلم کی پرموشنز اپنے انداز سے کریں گے اور اب تو فلم کی ایگزیکٹیو پرڈیوسر عمارہ حکمت بھی کہہ چکی ہیں وہ سیلاب کی وجہ سے فلم کی پرموشن جس طرح سے ہوتی ہے اس طرح سے نہیں کریں گے۔ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی یہ پہلی پریس میٹ اپ ہے جو کراچی میں کی گئی ہے فلم کی ریلیز میں صرف چار دن باقی ہیں لیکن کراچی کے علاوہ کسی شہر میں ابھی تک پریس میٹ اپ نہیں رکھا گیا۔ یاد رہے کہ فلم تیراں اکتوبر کو ریلیز ہونے جا رہی ہے اور فلم کی ایڈوانس بکنگ کامیابی سے جاری ہے۔

  • ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں

    ملالہ یوسف زئی دورہ سیلاب زدگان کیلئے بہت جلد پاکستان آرہی ہیں

    نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی 12 اکتوبر کو تین روزہ دورہ پر پاکستان واپس پہنچ رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ملالہ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گی، محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے ملالہ یوسف زئی کی سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وہ سب سے پہلے کراچی پہنچیں گی جہاں سے انہیں سخت حفاظتی انتظامات کے تحت دادو میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرایا جائے گا۔

    ملالہ فنڈ پہلے ہی انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (IRC) کو ہنگامی امدادی گرانٹ جاری کر چکا ہے۔ اس گرانٹ سے آئی آر سی سندھ اور بلوچستان میں لڑکیوں کو نفسیاتی مدد فراہم کرے گا۔ یہ ہنگامی تعلیمی خدمات بھی فراہم کرے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں، جبکہ لڑکیوں کے 10 سرکاری سکولوں کی تباہ شدہ عمارتوں کی مرمت اور بحالی بھی کی جائے گی۔
    یہ بھی پڑھیں؛ وزیر خارجہ کی ملالہ سے ملاقات، خواتین کے حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم زیربحث
    وزیراعظم شہبازشریف کی ملالہ سے ملاقات، لڑکیوں کی تعلیم زیر بحث
    ملالہ نے فلم جگت میں قدم رکھ دیئے
    ملالہ یوسفزئی فلم جوائے لینڈ کی ٹیم میں بطور پرڈیوسر شامل


    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک میں موجود تھے جہاں انہوں نے نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی سے خصوصی ملاقات کی تھی اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی تھی اس حوالے بلاول بھٹو نے ٹوئٹ میں اپنی اور ملالہ کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ملالہ سے خواتین کے حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم پر تبادلہ خیال کیا، انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے سیلابی صورتحال پر بھی تفصیلی بات کی، جس میں سیلاب سے آب و ہوا کی تباہی سے متاثر ہونے والے لاکھوں چھوٹے بچوں کے لیے تعلیم کو درپیش چیلنجز، ہزاروں اسکول تباہ ہونے کے ساتھ ، آنے والے مشکل دنوں میں سے نکلنے سے متعلق بات کی۔