Baaghi TV

Author: +9251

  • پشاور پرائمری ٹیچرز احتجاج؛ متعدد اساتذہ کے خلاف تھانہ شرقی میں مقدمہ درج

    پشاور پرائمری ٹیچرز احتجاج؛ متعدد اساتذہ کے خلاف تھانہ شرقی میں مقدمہ درج

    سروس اسٹرکچر کی تبدیلی کیلئے احتجاج کرنے والے اساتذہ پولیس لاٹھی چارج کے بعد منتشر ہو گئے تھے جبکہ درجن بھر سے زائد کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا اور ایک ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے تقریبا 13اساتذہ کے خلاف تھانہ شرقی میں مقدمہ درج کرلیا.

    گزشتہ روز پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن نے مطالبات کی منظوری کیلئے احتجاج کیا تھا، پرائمری اسکولوں کے اساتذہ نے گورنمنٹ ہائیرسکینڈری اسکول سٹی نمبر 1 سے احتجاجی مظاہرے کا آغاز کیا تھا جبکہ اساتذہ احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی چوک تک پہنچے،پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو اسمبلی چوک میں آگے بڑھنے سے روک دیا تھا تاہم مظاہرین نےحکومت کے خلاف نعرے بازی کی تھی.

    درج ایف آئی آر میں کارسرکار میں مداخلت، پولیس فورس ، انتظامیہ پر فائرنگ ور پتھراو، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور میڈیا کی گاڑیوں پر پتھراو کی دفعات شامل کی گئی ہیں پولیس نے متعدد مظاہرین کو گزشتہ رات گرفتار کیا تھا. جبکہ پولیس نے الزام عائد کیا کہ آل پرائمری ٹیچرز کی فائرنگ اور پتھراو سے ،ایس ایس پی آپریشن ،ڈی ایس پی سٹی ،ایس ایچ اؤ تھانہ کوتوالی زخمی ہوگئے تھے۔ پینشن اصلاحات کے نام پر کٹوتی اور اپگریڈیشن کے خلاف احتجاج میں‌شریک اساتذہ کا کہنا تھا کہ اصلاحات کے نام پر پنشن میں کمی منظور نہیں، پرائمری اساتذہ کے موجودہ سروس اسٹرکچرمیں تبدیلی ناگزیر ہے،مظاہرین نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ ہیڈ ماسٹرز کو گریڈ 16 اور 17 میں ترقی دی جائے۔


    احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے درجنوں اساتذہ کو متعلقہ تھانے منتقل کر دیا گیا تھا پولیس نے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے زیر علاج اساتذہ کو بھی گرفتار کیا تھا دوسری جانب معاون خصوصی اطلاعات صوبائی حکومت بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت پرائمری سکول ٹیچرز کے مطالبات پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وزیر تعلیم کے ساتھ اساتذہ رہنماؤں کی بات چیت میں معاملات پر تقریباً اتفاق ہو چکا تھا، اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم سے حالات کشیدہ ہوگئے. بعد ازاں صوبائی حکومت نے پرائمری اساتزہ کے مطالبات ماننے سے صارف انکار کرتے ہوئے کہا کہ سارا دن اساتذہ سڑکیں بند کر کے دھرنا دیتے رہے مذاکرات کے لئے محکمہ تعلیم یا حکومتی سطح پر مذاکرات کرنے نہیں آئے، اب اُن سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

    ادھر وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پشاور میں اساتذہ پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حقیقی آزادی مانگنے والا اساتذہ کو تنخواہ مانگنے پر پتھر مار رہا ہے،عمران خان کا معاشی انقلاب جو 8 سال سے خیبر پختونخوا میں مسلط ہے اساتذہ اُس کا ماتم کر رہے ہیں،‎اساتذہ پر وحشیانہ تشدد اور پتھراؤ قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‎پشاور اسمبلی چوک میں اساتذہ عمران خان کی فسطائیت اور ظلم سے نجات کے لئے حقیقی آزادی مارچ کر رہے ہیں،‎عمران خان نے خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کو پینشن اور تنخواہوں کی ادائیگی روک دی گئی ہے،‎پرامن اساتذہ کے احتجاج کا حق برادشت نہ کرنے والا جھوٹا سازشی اسلام آباد پر چڑھائی کرنا چاہتا ہے۔

  • پاکستان دوطرفہ تجارت اور جرمن منڈیوں تک برآمدات کی رسائی کا خواہاں ہے. بلاول بھٹوزرداری

    پاکستان دوطرفہ تجارت اور جرمن منڈیوں تک برآمدات کی رسائی کا خواہاں ہے. بلاول بھٹوزرداری

    پاکستان دوطرفہ تجارت اور جرمن منڈیوں تک اپنی برآمدات کی رسائی کا خواہاں ہے، میونخ میں اپنا قونصل خانہ کھولنے میں سفارتی مدد پر جرمن حکومت کی شکر گزار ہے. وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری جرمنی کے دارالحکومت برلن پہنچ گئے، جہاں وہ مختلف حکومتی شخصیات اور عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاک جرمن تعلقات منفرد نوعیت کے باعث ہمارے لیے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، پاکستان جرمنی کے ساتھ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انکے دوام کا متمنی ہے، سیلاب سے نمٹنے کے لئے جرمنی کی امداد پر بے حد مشکور ہیں، دورے کا مقصد دونوں ممالک کی حکومتوں اور افراد کے مابین روابط کا فروغ ہے، پاکستان دوطرفہ تجارت اور جرمن منڈیوں تک اپنی برآمدات کی رسائی کا خواہاں ہے، میونخ میں اپنا قونصل خانہ کھولنے میں سفارتی مدد پر جرمن حکومت کی شکر گزار ہے ، میونخ قونصل خانہ عنقریب فعال ہو کر کمیونٹی کی خدمت شروع کر دے گا۔


    یہ بھی پڑھیں؛ عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے 30 ہزار سیکیورٹی اہلکار تیار
    بلاول بھٹو نے عمران خان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب تو لیاری الیکشن تک سے بھاگ نکلے، پی ٹی آئی کا یوٹرن پر یوٹرن ہوتا ہے، استعفے منظور ہونا شروع ہوئے تو عمران خان عدالت جا پہنچے، عدالت فیصلہ کرے کب تک عمران کو لاڈلے کی طرح چلائیں گے، خان چاہتا ہے اگر وہ وزیراعظم نہیں تو بھلے جمہوریت جائے، امید ہے کوئی بھی عمران خان کی باتوں میں نہیں پھنسے گا۔
    https://twitter.com/tayyabbalochpk/status/1578130003392430093
    انہوں نے کہا کہ نومبر سے متعلق فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے، نومبر میں کوئی بڑا طوفان یا ہیجان انگیز مون سون نہیں آئے گا، نومبر میں چین جائیں گے جہاں وزیراعظم کی صدر شی سے ملاقات ہوگی، بلاول نے بتایا کہ امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات میں ڈونلڈ لو بھی تھے تاہم سائفر یا مبینہ دھمکی پر بات نہیں ہوئی۔

  • عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے  30 ہزار سیکیورٹی اہلکار تیار

    عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے 30 ہزار سیکیورٹی اہلکار تیار

    پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے 30 ہزار کے قریب سیکیورٹی اہلکار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فرائض سرانجام دیں گے جن پر یومیہ تقریباً 15 کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے۔

    سینئر قیادت کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے فیصلوں کا اختیار وزیراعظم کو سونپ دیا ہے لہذا سازش کو قانون کی طاقت سے کچلا جائے گا. اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد پولیس نے سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔ سیکیورٹی پلان کے تحت 30 ہزار کے قریب اہلکاراسلام میں سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے جن میں پولیس، رینجرز، ایف سی، ایلیٹ فورس اور سندھ پولیس کے اہلکار شامل ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کے کھانے اور دیگراخراجات کی مد میں یومیہ تقریباً 15 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، وفاقی وزارت خزانہ اور وفاقی وزارت داخلہ کے حکام کو اخراجات سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے۔ ادھر عمران خان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کیلئے تیاری سے آرہے ہیں، شفاف الیکشن نہ ہوئے تو جو ہوگا ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا سے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کارکنان کی آمد کا خدشہ ہے۔

    وفاقی پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بند رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر 1300 کے قریب کنٹینرز لگائے جائیں گے۔

    موجودہ حکومت کیخلاف عمران خان لانگ مارچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تو وہیں حکومت لانگ مارچ کو روکنے کی مکمل تیاری کر چکی ہے، وفاقی وزیر داخلہ عمران خان کو چیلنج کر چکے ہیں وہ آ کر دکھائیں، آج پھر انہوں نے کہہ دیا کہ ہم لانگ مارچ ناکام بنانے کی بھر پور کوشش کریں گے

    پنجاب، خیبر پختونخوا کے مسلسل دوروں اور جلسوں میں عوام کی بھر پور شرکت سے عمران خان سمجھتے ہیں کہ انکا لانگ مارچ کامیاب ہو گا تا ہم 25 مئی عمران خان بھول رہے ہیں جب اسلام آباد جانے کی کال دی گئی تو قیادت غائب تھی اور کارکنان سڑکوں پر خوار و گرفتار ہو رہے تھے

    ممکنہ لانگ مارچ پر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر عمران خان اجازت لے کر جلسہ کرنے آئیں توآنے دیا جائے بصورت دیگر سخت ایکشن ہو گا ،اگر ممکنہ لانگ مارچ کے شرکا اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پرپہنچ گئے تو اسکولوں و کالجوں میں تعطیلات کا اعلان کیا جا سکتا ہے اتحادی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جائیگی،

  • کوئی میری ذاتی زندگی میں‌ دخل دے مجھے پسند نہیں عائشہ عمر

    کوئی میری ذاتی زندگی میں‌ دخل دے مجھے پسند نہیں عائشہ عمر

    باصلاحیت اداکارہ عائشہ عمر کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی کسی کی ذاتی زندگی میں‌ دخل اندازی نہیں کی اور مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے کہ کوئی میری زندگی میں‌دخل دے. میرے لوگوں کے ساتھ اچھے مراسم ضرور رہتے ہیں لیکن میں‌کبھی ان کی زندگیوں میں نہیں‌جھانکتی اور یہ کھوج لگانے کی کوشش نہیں‌ کرتی کہ کون کیسی زندگی بسر کررہا ہے یا کون اپنی ذاتی زندگی میں‌کیا رہا ہے. اس لئے مجھے ایسے لوگ سخت ناپسند ہیں جو دوسروں کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کریں اور ہر وقت اسی جستجو میں‌لگے رہیں کہ کسی طرح انہیں‌ پتہ چلے کہ دوسرے کی

    زندگی میں آخر چل کیا رہا ہے. عائشہ عمر نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کام سے کام رکھا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے کامیابیوں سے نوازا . آج اگر میں اپنے کیرئیر پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں نے جتنا کام کیا محنت کے ساتھ کیا اور میرے مداحوں نے مجھے ہر دم سپورٹ کیا. میں نے بڑی سکرین کے لئے بھی کام کیا میرے مداحوں نے وہاں بھی مجھے سپورٹ کیا. یاد رہے کہ رواں‌ برس عائشہ عمر کی فلم رہبرا ریلیز ہوئی یہ فلم ڈیڈ فلاپ رہی اور سینما گھروں میں ایک شو بھی فل نہ لے سکی.

  • لوگوں کا فلم کےلئے جوش دیکھ کر زیادہ پرجوش ہوں دالیجنڈ آف مولا جٹ کی پرڈیوسر عمارہ حکمت

    لوگوں کا فلم کےلئے جوش دیکھ کر زیادہ پرجوش ہوں دالیجنڈ آف مولا جٹ کی پرڈیوسر عمارہ حکمت

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے چرچے ہر طرف ہیں 13 اکتوبر کو ریلیز ہونے والی اس فلم کا بےچینی سے انتظار کیا جا رہا ہے . فلم کی مرکزی کاسٹ میں فواد خان ، گوہر رشید ، ماہرہ خان ، حمزہ علی عباسی اور عمائمہ ملک ہیں . ڈائریکشن بلال لاشاری کی ہے جبکہ پرڈیوس عمارہ حکمت نے کی ہے .عمارہ حکمت کی یہ پہلی فلم ہے جسے انہوں نے پروڈیوس کیا ہے. عمارہ حکمت اس حوالے سے کہتی ہیں کہ میں نروس تو بالکل نہیں‌ہوں لیکن پرجوش ضرور ہوں اور لوگوں کا اس فلم کے لئے جوش دیکھ کر میری پرجوشی مزید بڑھ جاتی ہے. ایک سوال کے جواب عمارہ

    حکمت نے کہا کہ مجھے پنجابی بولنی نہیں آتی تھی نہ آتی ہے لیکن مجھے پنجابی آنی ضروری نہیں تھی کیونکہ مین آئیڈیا تو بلال لاشاری کا تھا جس پر انہوں نے کام کر لیا ہوا تھا ناصر ادیب کے ساتھ مل کر، میرے حصے کا کام پروڈکشن کے معاملات کو دیکھنا تھا. عمارہ حکمت نے کہا کہ فلم کو پرڈیوس کرنے کا تجربہ ہہت اچھا رہا ہے دوبارہ بھی اچھا سکرپٹ ملا تو پروڈیوس کروں گی. انہوں نے کہا کہ پائریٹڈ فلمیں نہ دیکھیں ڈائون لوڈ کرکے نہ دیکھیں‌، سینما کو سپورٹ کریں ٹکٹ خرید کر فلم دیکھیں. آپ سب کی سپورٹ فلم انڈسڑی کو سہارا دینے کےلئے بہت ضروری ہے.

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ بن کر بہت خوش ہوں گوہر رشید

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ بن کر بہت خوش ہوں گوہر رشید

    اداکار گوہر رشید جو کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ ہیں انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ مجھے دو باتوں کی بہت خوشی ہے کہ ایک تو یہ کہ میں‌دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ ہوں دوسرا یہ کہ فلم فائنلی ریلیز ہونے جا رہی ہے . گوہر رشید نے کہا کہ فلم کو دیکھنے کے لئے شائقین خاصے پرجوش ہیں اس چیز کا اندازہ ایڈوانس بکنگ کو دیکھ کر بھی لگایا جا سکتا ہے. جب مجھے دا لیجنڈ آف مولا جٹ آفر ہوئی تو مجھے بہت خوشی ہوئی بلال لاشاری چونکہ میرے بھائی بھی ہیں تو مجھے لگا کہ میں اپنے بھائی کا خواب پورا کرنے جا رہا ہوں. لہذا میں نے ہاں کر دی اور میرا کردار ماکھا نت بھی بہت زبردست ہے . میں لاہور میں پلا بڑھا مجھے پنجابی بولنی آتی ہے لیکن فلم

    میں ٹھیٹھ پنجابی ہے اس لئے کبھی کسی لفظ پر اڑ جاتا تھا. لیکن سیٹ پر ٹرانسلیٹرز موجود ہوتے تھے وہ مطلب سمجھا دیا کرتے تھے. اس فلم میں ہم سب نے بہت محنت کی ہے لیکن بلال لاشاری کی بطور ڈائریکٹر بہت ہی زیادہ محنت ہے. دا لیجنڈ آف مولا جٹ جیسی فلم پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں بنی . میں اپنے مداحوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ انتظار نہ کریں اور جا کر فلم دیکھیں یہ بڑی سکرین کی فلم ہے اس کا کسی پلیٹ فارم پر ریلیز ہونے کا انتظار مت کیجے. گوہر رشید نے اس انٹرویو میں اپنے مداحوں سے کہا کہ وہ فلم کو ضرور دیکھیں.

  • سینما بس آباد ہونے چاہیں چاہے ہالی بالی یا لالی وڈ کی فلمیں لگیں سید نور

    سینما بس آباد ہونے چاہیں چاہے ہالی بالی یا لالی وڈ کی فلمیں لگیں سید نور

    سید نور کہتے ہیں کہ فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن ہمیشہ سے ہی بہت زیادہ متحرک رہی ہے اس ایسوسی ایشن کو بڑے بڑے لوگوں نے سنبھالا اور بہت کام کیا. ابھی جو باڈی منتخب ہوئی ہے اس کے دعوے بھی اچھے ہیں امید ہے کہ یہ باڈی بھی اچھا کام کریگی اور فلم انڈسٹری کے مسائل کا حل تلاش کریگی. سید نور نے مزید کہا کہ فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن فلم انڈسٹری کے مسائل لیکر ایوانوں تک گئی وعدے وعید بھی ہوئے ڈسکشنز بھی ہوئیں. اب جبکہ ن لیگ کی حکومت آئی ہے اس نے فلم کو انڈسٹری کا درجہ بھی دیدیا ہے امید ہے کہ جو اعلانات کئے گئے ہیں ان

    ہر عمل در آمد کیا جائیگا. سید نور نے کہا کہ سینما گھر آباد رہنے چاہیں چاہے ہالی وڈ کی فلمیں لگیں بالی وڈ یا لالی وڈ کی . جہاں تک بلال لاشاری کی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی بات ہے تو انہوں نے جدید تقاضوں کے مطابق فلم بنائی ہے اور ہمیں بہت امید ہے کہ فلم اچھا بزنس کریگی . بڑے بجٹ کی بڑی فلم ہے جس میں‌بڑے سٹارز ہیں لوگ فلم کے منتظر ہیں.پرانی مولا جٹ پرانے دور کی تھی لیکن نئی مولا جٹ نئے دور کے مطابق ہے. بلال لاشاری نے ایسی فلم تخلیق کی ہے کہ جو پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بھی نمائندگی کرسکتی ہے.

  • انڈین پنجابی فلموں کا پاکستان میں ریلیز ہونا خوش آئند ہے افتخاد ٹھاکر

    انڈین پنجابی فلموں کا پاکستان میں ریلیز ہونا خوش آئند ہے افتخاد ٹھاکر

    معروف کامیڈین افتخار ٹھاکر جنہوں نے انڈین پنجابی فلم ماں دا لاڈلا میں کام کیا ہے یہ فلم گزشتہ دنوں ریلیز ہوئی. فلم کو پاکستان میں خاصا پسند کیا گیا. اس ھوالے سے افتخار ٹھاکر کہتے ہیں کہ ہمارے فنکاروں‌کو بھارت میں بہت پسند کیا جاتا ہے اورمیرا انڈینز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کافی اچھا رہا ہے. بہت اچھی بات ہے کہ انڈین فلمز پاکستان میں ریلیز ہو رہی ہیں میں امید کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کے لیول پر دونوں طرف سے کچھ ایسا ضرور ہو گا کہ ہماری فلمیں بھی بھارت میں ریلیز کی جائیں گی. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ فنکاروں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے جہاں

    جس کو اچھا کام ملے کرنا چاہیے. انڈٰین پنجابی فلم ماں دا لاڈلہ کے بعد ا سہیل احمد کی پہلی انڈین پنجابی فلم پاکستان میں ریلیز ہونے جا رہی ہے جو کہ بہت ہی خوش آئند ہے . ہم سب کو ایک دوسرے کے کام کو سپورٹ کرنا چاہیے ہم ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے تو کام میں‌ ہہتری اور آسانیاں آئیں گی. ایک سوال کے جواب میں‌ افتخار ٹھاکر نے کہا کہ ایسا نہیں‌ ہے کہ انڈین فلمیں ہی میری ترجیحات میں ہیں جب جب پاکستانی اچھی فلمیں آفر ہوں گی میں ضرور کروں گا. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ میرے مداح مجھے ہر روپ میں پسند کرتے ہیں.

  • انڈین فلمیں پاکستان میں لگ رہی ہیں تو پاکستانی فلمز انڈیا میں‌ کیوں نہیں‌ لگتیں؟ مسعود بٹ کا سوال

    انڈین فلمیں پاکستان میں لگ رہی ہیں تو پاکستانی فلمز انڈیا میں‌ کیوں نہیں‌ لگتیں؟ مسعود بٹ کا سوال

    کئی سپر ہٹ پنجابی فلموں کے خالق مسعود بٹ نے کہا ہے کہ انڈین فلمیں پاکستان میں اگر لگ رہی ہیں اور ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ پاکستانی فلمیں انڈیا میں‌کیوں نہیں‌لگتیں؟ کیوں ایسی کوششیں نہیں‌کی جاتیں؟ مسعود بٹ نے کہا کہ پاکستان میں جو اس وقت پنجابی فلمیں بن رہی ہیں ان کا بجٹ چند لاکھ ہوتا ہے جبکہ بھارت میں بننے والی فلموں کا بجٹ کروڑوں میں ہوتا ہے وہ باہر کے ملکوں میں شوٹ ہوتی ہیں. ہماری پنجابی فلموں کا موازنہ بالکل بھی انڈین پنجابی فلموں کے ساتھ نہیں کیاجانا چاہیے. گوگا لاہور یا اشتہاری ڈوگر جیسی فلمیں

    دیکھنے والا بھی ایک طبقہ ہے لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان فلموں کو دیکھنے والا طبقہ نہیں ہے. مسعود بٹ نے کہا کہ کراچی والے لوگ جو فلمیں بنا رہے ہیں وہ اچھی ہیں ان پر اعتراض کرنے والوں پر مجھے اعتراض ہے. ہمایوں سعید ماہرہ خان اور فہد مصطفی ہہت اچھا کام کررہے ہیں . میں سمجھتا ہوں کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ سپر ہٹ فلم ہے مجھے جب ناصر ادیب نے یہ آئیڈیا سنایا تھا بہت پسند آیا تھا میں نے ان کو کہہ دیا تھا کہ یہ فلم اگر بنی تو سپر ہٹ ہو گی . بلال لاشادی اچھا ڈائریکٹر ہے اس نے کام بھی اچھا کام کیا ہے.

  • شان شاہد فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب چھوڑ‌کر چلے گئے

    شان شاہد فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب چھوڑ‌کر چلے گئے

    پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب کا اہتمام آج لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا . تقریب میں شان شاہد بھی موجود تھے. تقریب تین بجے شروع ہونا تھی لیکن فلمسٹار شان شاہد ایک گھنٹہ قبل ہی پہنچ گئے اور کچھ دیر بیٹھے رہے جیسے ہال میں‌ مہمانوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو شان شاہد تقریب چھوڑ کر چلے گئے . وہاں‌ موجود لوگ حیرانی میں مبتلا ہو گئے کیونکہ شان تقریب اٹینڈ کرنے آئے تھے لیکن تقریب کو ادھورا چھوڑ کر ہی چلے گئے. قیاس یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ شان شاہد اس لئے اٹھ کر چلے گئے کیونکہ

    وہ جانتے تھے کہ فلم کی تقریب کا مہمان خصوصی ن لیگ کا رہنما رانا مشہود تھا اور شان شاہد کسی بھی صورت ان کے ساتھ مل کر نہیں‌بیٹھنا چاہتے تھے. اس لئے شان نے تقریب کو ادھورا چھوڑ کر نکلنے کی کی ، تاکہ ان کا سامنا ن لیگ کے رہنما رانا مشہود سے نہ ہو . شان شاہد سے تقریب میں‌کچھ چینلز نے تقریب کے حوالے سے ساٹس دینے کو بھی کہا شان اس ریکویسٹ کو بھی نظر انداز کر گئے اور بولے میں بس ابھی آیا ، یوں شان باہر نکلے اور واپس نہیں آئے میڈیا ان کا ساٹ لینے کا منتظر رہا.