Baaghi TV

Author: +9251

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں استعمال ہونے والا گنڈاسہ کتنے کلو کا تھا؟

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں استعمال ہونے والا گنڈاسہ کتنے کلو کا تھا؟

    فواد خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں جو گنڈاسہ استعمال کیا گیا ہے اس کا وزن چھ سے سات کلو تھا. انہوں نے کہا کہ گنڈاسہ چلانا آسان کام نہیں ہے اسے چلانا مکمل ایک فن ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا. اس کو پکڑنے کا ایک خاص انداز ہے وہ انداز میں‌نے سیکھا. ہمیں گنڈاسے کو اٹھانا اور چلانا تھا لہذا اسکو اس طرح سے چلایا اور اٹھایا کہ ماڈرن بھی لگے. فواد خان نے کہاکہ اصلی گنڈاسہ اسلئے استعمال کرنا پڑا کیوںکہ

    پلاسٹک کا گنڈاسہ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا وہ ویسا تاثر نہیں دے رہا تھا جیسا ہمیں چاہیے تھا اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ اصلی گنڈاسہ ہی استعمال کیا جائیگا. گنڈاسہ وزنی ہونے کی وجہ سے چلانا آسان نہ تھا لیکن ہم نے کوشش کی اور یہ کوشش کیسی رہی وہ آپ فلم دیکھ کر محسوس کر سکتے ہیں. یاد رہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو بننے اور پھر ریلیز ہونے میں‌ کافی سال لگے ہیں. فلم کی کہانی ، کردار ہر چیز پر بہت زیادہ کام کیا گیا ہے کرداروں کے گیٹ اپس پر بہت وقت لگا. بلال لاشاری ویسے بھی نوجوان نسل کے نمائندہ ڈائریکٹر ہیں اس لئے نوجوان نسل دا لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھنے کےلئے بےتاب ہے.

  • ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے فواد خان

    ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے فواد خان

    ”فواد خان” نے حال ہی میں ایک انڑویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی کام کرنا پسند کرتا ہوں. ایک سے زیادہ کام میں مینج ہی نہیں‌ کر پاتا شاید کیرئیر کے آغاز میں دو پراجیکٹ ایک ساتھ کئے تھے لیکن اس کے بعد کبھی نہیں کئے. فواد خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے پنجابی بولی نہیں آتی تھی جب ڈائیلاگ بولنے ہوتے تھے تو میری ٹانگیں کانپ جاتی تھیں، نروس ہو جاتا تھا لیکن سکرین پر آپ کو یہ چیز نظر نہیں آئیگی. انہوں نے اس انٹرویو میں‌ یہ بھی کہا کہ میں کردار یا کوئی بھی پراجیکٹ کرنے میں سست ہوں، کافی وقت لگ جاتا

    ہے مجھے یہ فیصلہ کرنے میں‌ کہ میرے پاس جو پراجیکٹ آیا ہے کرنا ہے یا نہیں کرنا. انہوں نے کہا کہ میں کراچی میں پیدا ہوا لیکن میری سکولنگ اور پرورش لاہور میں ہوئی ، گھر کا ماحول ایسا تھا کہ اس میں پنجابی بولی نہیں جاتی تھی اس لئے مجھے پنجابی بولنے اور سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے لیکن فلم کے لئے بہت محنت کی اور بہت سارے لفظوں‌ کے مطلب پوچھتا رہا اور مجھے لگتا ہے کہ مجھے اب ان کے معنی بھی بھول چکے ہوں گے. یاد رہے کہ فواد خان کی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ 13 اکتوبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے. فلم کی ایڈوانس بکنگ کامیابی سے جاری ہے.

  • چین نے سیلاب زدگان کیلئے 20 ارب روپے سے زائد کی امداد بھیج دی

    چین نے سیلاب زدگان کیلئے 20 ارب روپے سے زائد کی امداد بھیج دی

    مصیبت کے وقت سچا دوست ہی دوست کے کام آتا ہے، چینی حکومت، فوج اور دیگر نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے اپنے دوست ملک پاکستان کو 20 ارب روپے سے زائد کی امداد بھیج دی ہے.

    چینی ریڈکراس، کمپنیاں اور عوام پاکستان کی اعانت میں پیش پیش ہیں، چین کے ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد پاکستان کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، مصیبت کی اس گھڑی میں چین پوری طرح سے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ چین نے سیلاب زدگان کے لئے 64 کروڑ 41 لاکھ یو آن (90.2 ملین ڈالر) امداد دی ہے، چینی حکومت کی جانب سے 400 ملین اور چینی فوج نے 100 ملین یو آن امداد فراہم کی ہے۔


    چینی عوام نے 125 ملین، سفارتخانہ 17 ملین اور ریڈ کراس سوسائٹی نے 201 ملین یو آن امداد دی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے چائنہ تھری گورجز کے وفد نے پاکستان میں چائنہ کے سفیر نونگ رونگ کی سربراہی میں ملاقات کی تھی

    چیئرمین چائنہ تھری گورجز ووشینگ لیان نے وزیر اعظم کو فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر کا چیک عطیہ کیا تھا۔انہوں نے وزیر اعظم کو مزید بتایا تھا کہ چائنہ تھری گورجز(CTG) کے تحت کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پچھلے تین ماہ سے پوری استعداد پر چل رہا ہے۔ کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ،CPEC فریم ورک کے تحت لگایا جانے والا پن بجلی کا اہم منصوبہ ہے جس کے تحت 720 میگاواٹ ماحول دوست اور کم لاگت بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے لیے بھرپور مالی مدد فراہم کرنے پر چینی صدر شی جن پنگ، چینی کمپنیوں اور چین کی عوام کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا تھا۔ وزیر اعظم نے چائنہ تھری گورجز کو کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی ترجیحی بنیادوں پر تکمیل اور اس منصوبے کو مکمل طور پر فعال کرنے کے اقدام کی پزیرائی کی، اور پاکستان میں ماحول دوست و کم لاگت پن بجلی کی فراہمی پر ان کی کاوشوں کو سراہا۔

  • یکم اکتوبر؛ عوامی جمہوریہ چین کے قومی دن کے موقع پر پاک چین تعلقات کا جائزہ

    یکم اکتوبر؛ عوامی جمہوریہ چین کے قومی دن کے موقع پر پاک چین تعلقات کا جائزہ

    ہر سال یکم اکتوبر چین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ا س دن کو چین میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔یکم اکتوبر سن 1949 کو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان ہوا تھا.

    آج چین کے اس قومی دن کے موقع پر ہم آپ کو پاک چین دوستی اورتعلقات کی تاریخ سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں ڈاکٹر رشید احمد کے مطابق؛ 1950 کی دہائی میں جب پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ بنیادوں پر باقاعدہ تعلقات قائم ہوئے، تو اس وقت کی دُنیا ، موجودہ دُنیا سے بالکل مختلف تھی سابقہ سوویت یونین (موجودہ جمہوریہ روس)اور ریاستہائے متحدہ امریکہ عالمی سیاست کے دو محور تھے۔ چین کا اگرچہ بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا تھا اور اس وجہ سے اُسے1945 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رُکن بھی بنایاگیا مگر طویل عرصے تک بیرونی جارحیت اور خانہ جنگی کاشکار ہونے کی وجہ سے متعدد اندرونی مسائل مثلاً معاشی پسماندگی، بھوک، غربت اور بے روز گاری کا شکار تھا۔

    تاہم نئی حکومت نے چین کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کو فوری اور اولین اہمیت دیتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے قیام اور استحکام کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا کا خطہ چین کی کمیونسٹ حکومت کی خصوصی توجہ کا مرکز تھا۔ کیوں کہ اسی خطے کے پانچ ممالک یعنی بھارت، بھوٹان، نیپال، پاکستان اور افغانستان کے ساتھ اس کی سرحدیں ملتی تھیں اور یورپی دور کے آغاز سے قبل اس خطے کے ساتھ چین کے تجارتی اور ثقافتی تعلقات قائم تھے۔ قدیم شاہراہ ریشم کی ایک شاخ جسے اب شاہراہِ قراقرم کا نام دیاگیا ہے، صدیوں سے جنوبی ایشیا ، خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے ذریعے چین اور یورپ کے درمیان نہ صرف تجارتی سامان بلکہ ثقافتی اقدار،علم وہنر اور جدید خیالات کی ترسیل کا ذریعہ تھی۔ اس دور میں امریکہ نے نئے چین کو دنیا میں الگ تھلگ کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ پاکستان نے امریکہ کی اس چین دشمن پالیسی کی پروا نہ کرتے ہوئے چین کی نئی حکومت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کرکے ہر بین الاقوامی فورم پر چین کی حمایت کی، پاکستان اُن ممالک میں شامل تھا جو اقوامِ متحدہ ، خصوصاً سلامتی کونسل میں چین کی نشست بحال کرنے کے حق میں تھا.

    یاد رہے کہ چین نے بھی اُس وقت پاکستان کی خیر سگالی کا احترام کرتے ہوئے، پاکستان کے ساتھ دوستی اور قریبی تعلقات کے لئے ہاتھ بڑھایا۔1951 میں کشمیر کی وجہ سے جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہوئے اور بھارتی حکومت نے پاکستان کو کوئلے کی سپلائی اچانک بند کرکے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس مشکل موقع پر چین نے پاکستان کو کوئلہ فراہم کیا۔

    یہ یاد رہے کہ اُس وقت پاکستان کی معیشت صنعت حتیٰ کہ بجلی پیدا کرنے کے لئے کوئلہ توانائی کا سب سے اہم ذریعہ تھا۔1950 کی دہائی میں پاکستان اور چین کے درمیان خیرسگالی اور باہمی مفاہمت پر مبنی تعلقات کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں کہ سرد جنگ میں امریکہ کا قریبی اتحادی اورکمیونسٹ مخالف دفاعی معاہدوں سیٹو(SEATO)اور سینٹو(CENTO) کا رُکن ہونے کے باوجود پاکستان، اقوامِ متحدہ میں چین کے جائز مقام کی بحالی کا حامی تھا اور جنرل اسمبلی کے ہر سالانہ اجلاس میں پاکستان چین کے حق میں ووٹ ڈالتا تھا۔

    دوسری طرف ہندی، چینی بھائی بھائی کے نعروں کی موجودگی میں بھی چین نے کبھی کشمیرکے مسئلے پر بھارت کے مؤقف کی حمایت نہ کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دیگر بڑی طاقتوں کے برعکس چین، جنوبی ایشیا کو بھارت کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا۔ بلکہ پاکستان اور جنوبی اشیا کے دیگر چھوٹے ممالک کے ساتھ تعلقات کو اُس نے بھارت کے ساتھ اپنی دوستی سے متاثر نہ ہونے دیا۔ 1955 میں ہنڈرنگ کانفرنس کے موقع پر پاکستانی اور چینی وزرائے اعظم کے درمیان خوشگوار تعلقات اور چینی وزیرِاعظم چواین لائی کی طرف سے پاکستان کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات کے قیام کی خواہش اور اس کے بعد1955 میں چین کی نائب صدر سونگ چنگ کا دورہ پاکستان اور 1956 میں پاکستانی وزیرِاعظم (حسین شہید سہروردی) کا دورہ چین ، اس حقیقت کا غماض ہے کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے قدرتی دوست ہیں اور اس حقیقت کی بنیاد پر 1960 کی دہائی میں دونوں ملکوں میں دوستی کے مضبوط رشتوں کا قیام ناگزیر تھا۔ پاکستان اور چین کے باہمی تعلقات کو جن دو معاہدوں نے ملکوں کی دوستی کے رشتوں کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا، وہ سرحدی معاہدہ(1963) اور اسی سال پاکستان انٹر نیشنل ایئرلائنز کو اسلام آباد بیجنگ ایئر روٹ پر سروس شروع کرنے کی اجازت تھی۔

    کہنے کو تو یہ دونوں دوطرفہ معاہدے تھے مگر ان کے دُور رس اور اہم بین الاقوامی مضمرات بھی تھے۔ عوامی جمہوریہ چین نے اپنی سرحدوں کو محفوظ اور مستحکم بنانے کے لئے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بات چیت کی۔ اُس کے نتیجے میں سابقہ سوویت یونین اور بھارت کے ساتھ سخت اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ بلکہ نوبت مسلح تصادم تک آپہنچی تھی۔ چین کو ان دونوں ملکوں کی طرف سے درپیش خطرات کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ پُرامن اور کامیاب مذاکرات کے ذریعے سرحدوں کا تعین جہاں چین کے لئے اطمینان کا باعث تھا، پاکستان کو بھی چین کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذریعے اہم اور محفوظ راستہ مل گیا۔ آگے چل کر یہی راستہ پاکستان چین اکنامک کاریڈور (سی پیک) کی بنیاد بنا۔

    یکم اکتوبر 1949 کو چین پیپلز ریپبلک آف چائنا کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا،چین میں یہ دن روایتی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا تھا،یہیں سے پاکستان اور چین کی دوستی کی ابتدا ہوئی جو مزید گہری ہوتی چلی گئی .

    پاکستان اورچین نظریاتی طورپر بالکل ایک دوسرے کے مخالف لیکن دونوں میں دوستی مضبوط تر ہے ،پاک چین لازوال دوستی خطے میں امن و استحکام کی ضامن ہے پاکستان کے ہرمشکل وقت میں چین نے پاکستان کا سا تھ دیا ،چین پاکستان میں سرمایہ کاری رہا،سی پیک چین کا ایسا منصوبہ ہے جس سے پاکستان میں خوشحالی آئیگی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا

    چین کا شمار دنیا کے مضبوط ترین ممالک میں ہوتا ہے دوسری طرف پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں لیکن اس کے باوجود پاکستان اور چین کے مابین تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ،کوئی بھی حکومت ہو ،ہر دور میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کومزید مستحکم کرنے کی ہی کوشش کی گئی

    چین کے قومی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ین نے کم عرصے میں معاشی طور پر ملک کو مضبوط کیا،پرامن اور مستحکم چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے،اصو ل پسندی اور بہتر ین نظم و ضبط پر چین کا بڑا حامی ہوں بہترین اصولوں سے چین نے اپنی قوم کو غربت سے نکالا

  • سلطان راہی کو غلام محی الدین سے چڑ تھی انجمن

    سلطان راہی کو غلام محی الدین سے چڑ تھی انجمن

    اداکارہ انجمن کا کہنا ہے کہ سلطان راہی کو اداکار غلام محی الدین سے تھوڑی چڑ تھی. چڑ کی وجہ بتاتے ہوئے انجمن نے کہا کہ میرا سلطان راہی کے بعد پئیر غلام محی الدین کے ساتھ بہت پسند کیا جا رہا تھا. سلطان راہی کی عادت تھی کہ ان کی جو ہیروئین ہوتی تھی ان کو لگتا تھا کہ بس میری ہی ہیروئین ہے وہ کسی اور کی بات نہ کرے. ایک بار ہم کسی فلم کے سیٹ پر تھے وہاں غلام محی الدین آئے اور میں‌نے ان کو کہا کہ آپ کا اور میرا گانا عوام بہت پسند کررہی ہے اس پر غلام محی الدین نے کہا کہ جی ہاں ایسا ہی ہے سلطان راہی یہ سب سن رہے تھے ان کو اتنا

    غصہ آیا کہ وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور ڈائریکٹر سے کہا کہ جب میرا شاٹ ریڈی ہو مجھے بلا لینا میں کمرے میں جا رہا ہوں. یوں سلطان راہی غصہ کر جاتے تھے. انجمن نے کہا کہ میڈم نورجہاں میری بہت تعریف کیا کرتی تھیں وہ کہتی تھیں کہ انجمن تم میرے گانوں کے ساتھ صحیح انصاف کرتی ہو، وہ مجھے بہت زیادہ دعائیں دیتی تھیں جب میں نے گانا تیرے باجرے کی راکھی گایا تو انہوں‌نے تعریف کی بس مجھے تو لگا کہ ساری دنیا کی خوشیاں سمٹ کر میرے دامن میں آ گئی ہیں کیونکہ میڈم نور جہاں کی تعریف بہت بڑی بات تھی.

  • سائیفر جلایا نہیں، چرایا ہے جو وزارت خارجہ سے مل جائے گا۔ شیخ رشید

    سائیفر جلایا نہیں، چرایا ہے جو وزارت خارجہ سے مل جائے گا۔ شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ سائیفر جلایا نہیں، ابھی چرایا ہے، جو وزارت خارجہ سےمل جائے گا۔

    شیخ رشید احمد نے اپنے آفیشل اکاونٹ سے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سامراجی ایمبسڈروں کے گھر جاتےہیں اوران کےمنہ میں کیک ڈالتےہیں۔ نوازشریف ان ویٹنگ، مریم ڈارکوکلین چٹ ڈیل کاحصہ ہے۔عمران خان کےخلاف سائیفرکا حکومتی بیانیہ اس کےحق میں گیا ہے۔


    انہوں نے مزید لکھا کہ حکمرانوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، ابھی توآڈیو ویڈیو سے بحران آیا ہے،عوام سڑکوں پر آئےتوبھونچال آئے گا۔ قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ، سراٹھا کےجینا ہے یا سیاسی کیڑے مکوڑوں کی طرح جینا ہے۔ حکمران عوام کےگھیرے میں آگئےہیں، اب بھاگ نہیں سکیں گے۔

    اس سے قبل سائفر سے متعلق رہنما تحریک انصاف شہباز گل کا کہنا تھا کہ کھویا ہوا سائفر آپکو چیف جسٹس صاحب سے ملے گا۔ شہباز گل نے اپنے آفیشل آکاونٹ سے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ن لیگ والوں کا سائفر کھو گیا۔ ان کو انگریزی پڑھنی نہیں آتی۔ وہی سائفر وزیراعظم نے سپیکر کو بھیجا تھا اور سپیکر نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کو۔ تو آپکا کھویا ہوا سائفر آپکو چیف جسٹس صاحب سے ملے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی سے متعلق آڈیوز کی تحقیقات کیلئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، فیصلہ وزیراعظم میاں شہبازشریف کی زیرصدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا اور اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 1 کسان اتحاد دھرنا؛ ڈی چوک کی جانب مارچ کی ڈیڈلائن سے قبل وزیر داخلہ نے مزاکرات کیلئے بلا لیا
    2پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کیجانب سے پروپیگنڈہ، مبشر لقمان نے جواب دے دیا
    3پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
    جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی سے متعلق آڈیوز نے عمران خان کی مجرمانہ سازش بے نقاب کردی، ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی کو من گھڑت معانی دیکر سیاسی مفادات کی خاطر قومی مفادات کا قتل کیا گیا، فراڈ، جعلسازی اور فیبریکیشن کے بعد اسے چوری کرلیا گیا، یہ آئینی حلف اور دیگر متعلقہ قوانین اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، یہ ریاست کے خلاف ناقابل معافی جرائم کا ارتکاب ہے. اعلامیے کے مطابق؛ وفاقی کابینہ اجلاس میں کہا گیا کہ اس سارے معاملے کی باریک بینی سے چھان بین کی جائے گی، اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات میں کمی سے شہریوں میں خوشی کی لہر

    پیٹرولیم مصنوعات میں کمی سے شہریوں میں خوشی کی لہر

    وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے عہدہ سبھالنے کے بعد پٹرولیم مصنوعات میں پہلی بار کمی واقع آئی ہے.

    نئی قیمتوں کے مطابق: یٹرولیم کی قیمت میں 12 روپے 63 پیسے کمی کی گئی جسکے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 224 روپے 80 پیسے ہو گئی، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 13 پیسے کمی کی گئی جسکے بعد ہائی ا سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 235 روپے 30 پیسے ہو گئی جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 78 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی جسکے بعد لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 186 روپے50 پیسے فی لیٹر ہوگی.

    اس حوالے سے شہریوں نے پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے بعد خوشی کا اظہار کیا ہے اور ایک شہری نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ پٹرول سستا ہوا تاہم ابھی اسے مزید سستا ہونا چاہئے تاکہ عام عوام کیلئے آسانی ہو.
    یہ بھی پڑھیں؛ کسان اتحاد دھرنا: وفاقی حکومت ہمیں فی یونٹ کی قیمت مختص کرکے دے تب احتجاج ختم کریں گے
    کرنسی مارکیٹس میں امریکی ڈالر مسلسل چھٹے روز سستا
    اسلام آباد ایئرپورٹ ملازمین کام کرنے کو تیار نہیں،وزیر ہوا بازی کا سینیٹ میں انکشاف
    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ رات پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پیٹرول ، ہائی اسپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل اور مٹی سستا کردیا گیا جسکا اطلاق رات بارہ بجے سے ہوگا۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ ایف بی آرنے ستمبرمیں 685 ارب روپے کی عبوری ٹیکس وصولیاں کی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا تھا کہ سہہ ماہی میں 1635ارب روپے اکٹھا کیا,ہدف 1609 ارب روپے تھا، ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کردی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل یکم اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا بتایا گیا تھا. اور عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تناسب سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ورکنگ شروع کر دی تھی۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ابتدائی ورکنگ میں پٹرول کی قیمت میں 9 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے کمی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ تین روز کے دوران عالمی رجحان کے مطابق اوگرا حتمی سمری بھجوائے گا اور یکم اکتوبر سے حکومت کی جانب سے عوام کا بڑا ریلیف دئیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم وزیر خزانہ کی مشاورت سے حتمی فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے۔ ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق نامزد وزیر خزانہ اسحاق ڈار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو ریلیف دینے کے بھرپور حامی ہیں۔

  • اجے دیوگن نے کیریئر میں تیسری بار بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ جیت لیا

    اجے دیوگن نے کیریئر میں تیسری بار بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ جیت لیا

    اجے دیوگن کا شمار بالی وڈ کے باصلاحیت اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ، پھول اور کانٹے ، دل والے ، سنگھم، گول مال، دریشیام، آکروش اور دیگر جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔ وہ صرف ایک اداکار کے طور پر کام نہیں کر رہے ہیں بلکہ فلم سازی کے مختلف سلسلے جیسے پروڈکشن، پوسٹ پروڈکشن، ڈائریکشن بھی کررہے ہیں. اب کہا جا رہا ہے کہ اجے دیوگن نے کیریئر میں تیسری بار ‘بہترین اداکار’ کا قومی ایوارڈ جیت لیا ہے. انہیں یہ ایوارڈ فلم تانہا جی کےلئے بہترین اداکار کا ایوارڈ 68 ویں نیشنل فلم ایوارڈز میں دیا گیا صرف اتنا ہی نہیں بلکہ تانہاجی نے بہترین اور پاہولر فلم

    ایوارڈ بھی اپنے نام کیا.اجے دیوگن کایہ تیسرا قومی ایوارڈ ہے جو انہیں ملا ہے فلم تانہاجی میں انہوں‌نے ایک زبردست جنگجو کا کردار ادا کیا۔ فلم نے ناقدین سے پذیرائی حاصل کی اجے دیوگن اس خوشی پر ہیں بہت زیادہ خوش، انہوں نے اپنی تین ایوارڈ یافتہ پرفارمنسز کا جشن مناتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک ریل شیئر کی جس میں زخم، دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ، اور تانہاجی شامل ہیں۔ اس وڈیو کا کیپشن لکھا کہ "جیتوں یا نعمتوں کو گننا نہیں، صرف ان سب کے لیے شکرگزار ہوں” ۔ سب سے اہم بات آپ کی محبت ہے جو مجھے مسلسل مل رہی ہے. یاد رہے کہ اجے دیوگن نے ایکشن ہیرو کے طور پر کیرئیر کا آغاز کیا بعد ازاں انہوں نے کامیڈی کردار بھی کئے.

  • رانی مکھرجی مصنفہ بن گئیں

    رانی مکھرجی مصنفہ بن گئیں

    اداکارہ رانی مکھرجی دو دہائیوں سے بالی وڈ انڈسٹری پر راج کررہی ہیں.فلم ” راجہ کی آئے گی بارات” سے انہوں‌ نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا تاہم ان کی پہلی سپر ہٹ فلم غلام تھی جو کہ 1998 میں ریلیز ہوئی تھی اس کے بعد انہوں نے کچھ کچھ ہوتا ہے میں بھی کام کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا. رانی مکھر جی کا شمار دیکھتے ہی دیکھتے صف اول کی اداکارائوں میں ہونے لگا. رانی مکھر جی اداکارہ کے ساتھ ساتھ اب مصنفہ بھی بن گئی ہیں اور وہ بہت جلد اپنی سوانح عمری ریلیز کریں گی.کہا جا رہا ہے کہ ان کی سوانح عمر ان کی سالگرہ 21 مارچ 2023

    کے موقع پر جاری کی جائیگی. سوانح عمری کے بارے میں رانی مکھر جی کا کہنا ہے کہ میں نے بھارتی فلم انڈسٹری میں اتنے پیار سے گزارے 25 سالوں میں کبھی بھی اپنی زندگی اور سینما میں اپنے سفر کے بارے میں اپنے دل کی بات نہیں کی۔ سینما میں خواتین کے طور پر، ہم مسلسل پرکھے جاتے ہیں اور کتاب میری ذاتی آزمائشوں اور مصیبتوں اور اس کے مجھ پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ہے جو کہ پڑھنے والوں کے لئے یقینا متاثر کن ہو گی . را نی مکھر جی مزید کہتی ہیں‌ کہ میری یہ کتاب میری سالگرہ پر ریلیز ہو گی جس طرح‌میری فلموں‌کو پسند کیا گیا یقینا اس کتاب کو بھی پڑھا جائیگا اور میری سالگرہ کے دن کو مزید خاص بنایا جائیگا. یاد رہے کہ رانی مکھر جی آخری بار فلم بنٹی اور ببلی میں نظر آئیں تھیں اب وہ فلم مسز چٹرجی بمقابلہ ناروے میں نظر آئیں گی۔

  • مسکراہٹیں بکھیرنے والے عمر شریف کی پہلی برسی، اہلیہ زریں کی دعا کی درخواست

    مسکراہٹیں بکھیرنے والے عمر شریف کی پہلی برسی، اہلیہ زریں کی دعا کی درخواست

    ہر فن مولا فنکار عمر شریف کے وفات سے شوبز انڈسٹری میں جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی بھی پورا نہیں ہو سکے گا. 2 اکتوبر 2021 کو وفات پانے والے اس فنکار کی کل پہلی برسی منائی جائیگی. عمر شریف عارضہ قلب ، گردے اور دیگر مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔عمر شریف نے تھیٹر، سٹیج، فلم اور ٹی وی کے لئے یادگار کام کیا. پاکستان اور ہندوستان میں یکساں مقبول اس فنکار کے سٹیج ڈرامے بہت مشہور تھے یہاں تک کہ بالی وڈ اداکار عامر خان نے بھی ایک بار کہا تھا کہ انہوں‌نے اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھ کر کیسٹ منگوا کر سٹیج ڈرامہ بکرا قسطوں پر دیکھا اور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔ عمر شریف کے کریڈٹ پر بہت سارے کام ہیں مثال کے طور پر انہوں نے 1980ء میں پہلی بار

    آڈیو کیسٹ سے اپنے ڈرامے ریلیز کیے.عمر شریف نے کم عمری میں ہی اداکاری کا آغاز کر دیا تھا. عمر شریف نے فلموں میں‌کام بھی کیا اور انہیں بنایا بھی.فلموں میں شکیلہ قریشی کے ساتھ ان کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ان کی مقبول فلموں میں مسٹر 420، مسٹر چارلی، خاندان اور لاٹ صاحب شامل ہیں۔ عمر شریف کو ہر میڈیم میں بہت سراہا گیا. وہ پاکستان کے ایسے فنکار رہے جنہیں عوامی سطح پر پورے کیرئیر کے دوران آخر تک یکساں‌مقبولیت حاصل رہی. عمر شریف نے بھارتی پروگرام لافٹر چیلنج میں بطور جج فرائض سر انجام دئیے. پانچ دہائیوں پر مشتمل کیرئیر رکھنے اور تمغہ امتیاز حاصل کرنے والے عمر شریف دنیا سے تو جا چکے ہیں لیکن ان کے کام نے ان کو زندہ رکھا ہوا ہے.