Baaghi TV

Author: +9251

  • سافٹ ویئرانجیبئر کو ورک ویزا کا لالچ؛ ایڈوانس واپس طلبی پر امیگریشن ایکسپرٹ نے تشدد کرڈالا

    سافٹ ویئرانجیبئر کو ورک ویزا کا لالچ؛ ایڈوانس واپس طلبی پر امیگریشن ایکسپرٹ نے تشدد کرڈالا

    سافٹ ویئر انجینئر کو آسٹریلیا کا ورک ویزا کا لالچ دے کر ایڈوانس میں تین لاکھ ہتھیا لئے جبکہ شک پڑنے پر پیسے واپس مانگے تو خاتون سمیت ”امیگریشن ایکسپرٹ“نے گارڈز کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنا دیا۔

    باغی ٹی وی اسلام آباد؛ درخواست کے باوجود پولیس تھانہ کوہسار کا کارروائی سے انکار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معاملہ ایف آئی اے کا ہے۔ جبکہ مبینہ طور پر ایک تھانیدار نے حصہ وصول کر کے تھانے میں ”راضی نامہ“ لکھوایا۔ یاور عباس جو کہ سافٹ ویئر انجینئر ہے، نے ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر کو درخواست دیتے ہوئے بتایا کہ مکان نمبر5، گلی نمبر25 ایف سکس ٹو میں واقعGCS امیگریشن کنسلٹنٹ والوں سے رابطہ ہوا وہاں پر مریم رفیق اور مہر کاظمی نے خود کو امیگریشن ایکسپرٹ بتاتے ہوئے اس کو ایک انگلش میں لکھے گئے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا اور ایڈوانس میں تین لاکھ روپے لے لئے۔

    جبکہ پندرہ لاکھ ویزا ملنے پر مزید دینے تھے۔ شک پڑنے پر اگلے دن اس نے جا کر مریم اور مہر رفیق سے چند سوالات کئے جس پر اس کا شک یقین میں بدل گیا کہ یہ فراڈ ٹولہ ہے۔ رقم کی واپسی پر دونوں نے خود اور گارڈز کے ذریعے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اور ایک گارڈ کو حکم دیا کہ دوبارہ گیٹ پر آئے تو گولی مار دینا۔ جبکہ یاور عباس نے خوفزدہ ہو کر تھانہ کوہسار میں درخواست دی جس پر اے ایس آئی ظفر نے ملزمان کو تھانے طلب کیا۔ تو ملزم کے بجائے مہر رفیق اور ایک وکیل عثمان خان تھانہ آئے اور مبینہ طور پر سول کپڑوں میں ملبوس ایک تھانیدار کو بھاری رشوت دیکر ایک راضی نامہ لکھا گیا جس کے مطابق یکم ستمبر کو ملزمان نے رقم واپس کرنی تھی لیکن ملزمان نے وعدے کے مطابق رقم واپس نہیں کی جبکہ پولیس بھی مقدمہ درج کرنے سے انکاری ہے۔ اے ایس آئی تھانہ کوہسار ظفر نے رابطہ کرنے پر واقعہ کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ معاملہ ایف آئی اے کا بنتا ہے۔ پھر راضی نامہ کیوں کرایا اور تشدد کا مقدمہ درج کیوں نہیں کیا،کے سوال پر اس نے کہا کہ دھمکیاں دینے اور مارنے کا ”کلندرہ“ بنا دوں گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ یہ دارالحکومت ہے تورا بورا نہیں ہے،کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت
    خاتون جج دھمکی کیس؛ آج کی سماعت میں فیصلے کا امکان
    یاور عباس کا کہنا ہے کہ وہ ویزے کا جھانسہ دیکر رقم ہتھیانے کے خلاف ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو درخواست دے چکا ہے تاہم جعلی ویزا ایجنسی کے دفتر میں اس پر تشدد کرنے، گن پوائنٹ پر قتل کی دھمکیاں دینے پر مقدمہ درج نہ کرنا بلکہ فرنٹ ڈیسک پر درخواست کا اندارج تک نہ کرنا بہت بڑی زیادتی ہے جس کا آئی جی سمیت متعلقہ ایس پی کو نوٹس لینا چاہیے۔ جبکہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے اکثر تھانے کرپشن، بدعنوانی اور جھوٹے مقدمات کا مرکز بنے ہوئے ہیں لیکن جن کے ساتھ سچ میں کوئی ظلم زیادتی ہوتی ہے، پولیس اکثر ملزمان سے پیسے پکڑ لیتی ہے اور پھر اعلیٰ تعلیم یافتہ سافٹ ویئر انجینئر یاور عباس جیسے نوجوان مایوس ہو کر گھر بیٹھ جاتے ہیں۔

    یاور عباس نے نے مزید کہا کہ: ایس ایس پی آپریشن اسلام آباد جمیل ملک کو اس خاص واقعہ کا نوٹس لیکر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ اور ویزا ایجنسی کے لیگل ایڈوائزر عثمان خان نے رابطہ کرنے پر تین لاکھ روپے وصول کرنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ایجنسی اور یاور عباس کے درمیان ایڈوانس رقم ناقابل واپسی کا معاہدہ ہوا تھا۔ لیکن اگلے دن یاور عباس کا بھائی اورایک اور شخص آفس آئے توڑ پھوڑ کی، دھمکیاں دیں جس پر ہم نے ون فائیو پر کال کر کے پولیس بلوائی۔ پولیس نے معاملہ نمٹانے کی خاطر ایک معاہدہ کرایا لیکن اس کے بعد یاور عباس نے پھر خاتون آفیسر کو دھمکیاں دیں جس کی ساری ریکارڈنگ موجود ہے جبکہ آفس میں آکر توڑ پھوڑ، گلی میں کھڑے ہو کر شور شرابا کی دھمکیاں بھی ریکارڈنگ پر موجود ہیں جبکہ اس معاملہ پر بیٹھ کر بات چیت ہوسکتی ہے کیونکہ ہمارا بھی نقصان ہوا ہے۔

  • پاکستان برج فیڈریشن،  ڈائریکٹرز کے  انتخابات کیلئے شیڈول جاری

    پاکستان برج فیڈریشن، ڈائریکٹرز کے انتخابات کیلئے شیڈول جاری

    پاکستان برج فیڈریشن، ڈائریکٹرز کے انتخابات کیلئے شیڈول جاری کردیا گیا

    پاکستان برج فیڈریشن کی طرف سےجاری نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ پی بی ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز کی آن لائن میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فیڈریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخابات جو اگلے تین سال کی مدت کیلئے ہونگے کیلئے انتخابات 22 اکتوبر 2022 کو ہوں گے۔ اور یہ انتخابات کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بیک وقت منعقد ہوں گے۔ جاری اعلامیہ کے مطابق؛ الیکشن کا وقت دوپہر 1:30 بجے مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس کی مزید تصدیق الیکشن کمشنر سے مشاورت کے بعد بھی کی جائے گی۔

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ؛ براہ کرم پی بی ایف بورڈ کے ان انتخابات کا حصہ بننے کے خواہشمند ممبران اپنی نامزدگیاں بھیجیں اور نامزدگیوں کو تحریری طور پر 3 اکتوبر تک زیر دستخطی کے پاس بھیج دیا جائے گا تاہم اس کے بعد کوئی نئی نامزدگی قبول نہیں کی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ یہ دارالحکومت ہے تورا بورا نہیں ہے،کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت
    خاتون جج دھمکی کیس؛ آج کی سماعت میں فیصلے کا امکان
    واضح رہے کہ لاہور میں گزشتہ دنوں تین روزہ پاکستان نیشنل برج ٹورنامنٹ اختتام پذیر ہوا تھا. ٹورنامنٹ میں دس ٹیموں (جے کے، باغی ٹی وی ، پاکستان گرینز، سپیل ، پوری اسٹیٹ ، پاکستان Aces، سلور سٹار ، نور پور، izzo 4، ) نے حصہ لیا تھا. پہلے روز پئیرز کا اور آخری دو دن ٹیم ایونٹ کروایا گیا تھا. ٹیم میچ کے پہلے دن چھ رائونڈز دوسرے دن چار رائونڈز ہوئے تھے.ہر رائونڈ کے بعد سکورنگ کی گئی تھی. ٹیم میچز میں‌پہلے نمبر پر جے کے ،دوسرے نمبر پر باغی ٹی وی ، تیسرے نمبر پر گرینز رہی. پئیرز میں دو گروپس بنے ایسٹ ویسٹ‌، سائوتھ نارتھ دونوں گروپوں کی پہلی تین پوزیشنز والوں‌ کو پچاسی ہزار ، پینتالیس ہزار اور بیس ہزار بطور انعام دیا گیا تھا. ٹیم میچز کے پہلے روز تین ورنز کو دو لاکھ ،ایک لاکھ اور ساٹھ ہزار بطور انعام دیا گیا.

    انعامات کی تقسیم کےلئے جن شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا ان میں میاں مصباح الرحمان چئیرمین جم خانہ ، سرمد ندیم کنوینئیرکارڈ روم جم خانہ تھے جبکہ چیف گیسٹ ڈائمنڈ بویلی فوم کے چیف ایگزیکیٹیو شارق شفیع تھے. جے کے ٹیم میں جاوید خالد ، سعید اختر ،عمران گردیزی ،ارسلان منصور اور عمر اسلم ہیں. باغی ٹی وی کی ٹیم میں‌مبشر لقمان ،جہانگیر احمد ،غیاث ملک ، غالب بندیشہ ، مرزا حسین ،عمران عابدی اور اسد مقبول ہیں. پاکستان گرینز میں کرنل نادر ، عمران کریم ، کرنل رانا ، سلیمان بخاری کے نام شامل ہیں.

  • وفاقی شرعی عدالت میں جے یو آئی کے وکیل نے ٹرانس جینڈر قانون کی حمایت کا اعتراف کرلیا

    وفاقی شرعی عدالت میں جے یو آئی کے وکیل نے ٹرانس جینڈر قانون کی حمایت کا اعتراف کرلیا

    جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے وکیل نے ٹرانس جینڈر قانون کی حمایت کا اعتراف کیا ہے جب کہ چیف جسٹس شریعت کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ جے یو آئی نے خود ٹرانس جینڈر قانون منظور کیا، اب یہاں کیا لینے آئی ہے۔

    وفاقی شرعی عدالت میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کیخلاف جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے۔ جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ قانون کیخلاف دیگر درخواستیں پہلے سے زیر سماعت ہیں۔ قائم مقام چیف جسٹس شریعت کورٹ نے پوچھا کہ آپکی درخواست میں نیا کیا ہے؟۔ کامران مرتضی نے جواب دیا کہ اپنی جماعت کی نمائندگی چاہتے ہیں۔

    قائم مقام چیف جسٹس شریعت کورٹ نے پوچھا کہ کیا جے یو آئی قانون کی منظوری میں شامل تھی؟۔ کامران مرتضی نے جواب دیا کہ جے یو آئی نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کی حمایت کی تھی۔ قائم مقام چیف جسٹس شریعت کورٹ نے کہا کہ قانون خود منظور کیا تو عدالت کیا لینے آئے ہیں؟ کیا یہ جے یو آئی کی ذمہ داری نہیں تھی کہ جائزہ لیکر قانون بناتے؟ پانچ سال بعد جے یو آئی کو یاد آیا جب درجن درخواستیں عدالت آ چکی ہیں۔

    وکیل جے یو آئی نے کہا کہ ہم نے جنس تبدیلی کے اختیار کی شق چیلنج کی ہے۔ چیف جسٹس شریعت کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جس شق کا حوالہ دے رہے ہیں وہ غلط ہے، لگتا ہے آپ نے قانون پڑھا ہی نہیں، پانچ سال پہلے آپکو نہیں پتا تھا کہ قانون کا غلط استعمال ہوگا؟۔ وکیل جے یو آئی کامران مرتضی نے کہا کہ اندازہ ہے کہ عدالت آنے میں تاخیر ہوگئی ہے، پارلیمنٹ میں ترمیمی بل بھی جمع کروا دیا ہے، آج پرائیویٹ ممبر ڈے پر بل پیش کیا جائے گا۔
    قائم مقام چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ عدالت آنے کے بجائے پارلیمان میں بولنا چاہیے تھا۔ شریعت کورٹ نے جے یو آئی کی درخواست دیگر مقدمات کیساتھ منسلک کرتے ہوئے ٹرانس جینڈر ایکٹ کیخلاف تمام درخواستوں پر سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ یہ دارالحکومت ہے تورا بورا نہیں ہے،کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت
    خاتون جج دھمکی کیس؛ آج کی سماعت میں فیصلے کا امکان
    خیال رہے کہ گزشتہ 30 ستمبر کو حکومت کی اتحادی جماعت جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے بھی ٹرانس جینڈر ایکٹ کو شریعت کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا جے یو آئی نے دائر درخواست میں استدعا کی تھی کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ خلاف شریعت قرار دیا جائے، قرآن و سنت کیخلاف ملک میں کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ شریعت کورٹ نے جے یو آئی کی درخواست ابتدائی سماعت کیلئے مقرر کر دی تھی جس پر آج سماعت ہوئی.

  • کسان اتحاد دھرنا؛  حکومت کو آج تک کی ڈیڈلائن اسکے بعد ریڈزون کی جانب مارچ

    کسان اتحاد دھرنا؛ حکومت کو آج تک کی ڈیڈلائن اسکے بعد ریڈزون کی جانب مارچ

    کسان اتحاد کا دھرنا وفاقی دارلحکومت میں خیابان چوک پر کئی روز سے جاری ہے جب کہ مظاہرین نے (آج) پیر تک حکومت کو ڈیڈ لائن دے دی ہے.

    کسان اتحاد کا دھرنا چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے تاہم ابھی تک ان کے مطالبات نہیں مانے گئے ہیں اس حوالے سے مظاہرین کا کہنا ہے کہ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں ریڈ زون کی جانب مارچ کریں گے جبکہ خیابان چوک کے گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے، خیابان چوک سے ریڈ زون کی جانب جانے والے راستے بھی سیل کیے گئے ہیں. چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے اتوار کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ امید ہے کل حکومت مطالبات مان کر نوٹی فکیشن جاری کر دے گی، حکومت نے اگر بدنیتی سے کام لیا تو پورا ملک بند کر دیں گے، میری کال پر ملک بھر سے لاکھوں کسان اسلام آباد کا رخ کریں گے۔

    دوسری جانب گزشتہ پانچ روز سے اپنے مطالبات کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سراپا احتجاج کسان اتحاد حکومت کی جانب سے ٹال مٹول کے رویے پر کافی برہم ہے اور انہوں نے پی ٹی آئی چیئرمین وسابق وزیراعظم عمران خان کو احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے۔ کسان اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اب جو بجلی کے بل آرہے ہیں وہ کہاں سے دیں۔ اور حکومت میں شامل افراد نے اپنی کرپشن معاف کروا لی لہذا یہ کسی کے باپ کا ملک نہیں ہے، ایسا نہیں چلے گا اور ہم اپنا حق لیے بغیر اسلام سے نہیں جائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ یہ دارالحکومت ہے تورا بورا نہیں ہے،کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت
    خاتون جج دھمکی کیس؛ آج کی سماعت میں فیصلے کا امکان
    کسان اتحاد نے کہا کہ حکومت ساتھ نہیں دے رہی، عمران خان تو ہمارا ساتھ دیں اور ہمارے مطالبات کے حق میں ہمارے احتجاج میں شریک ہوں۔ چیئرمین کسان اتحاد خالد باٹھ نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر آج پیر تک ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے اور حکومت نے بدنیتی سے کام لیا تو پورا ملک بند کر دیں گے. ادھر مختلف سایسی جماعتوں کی جانب سے کسان اتحاد کے دھرنا مظاہرین سے اظہار یکجہتی بھی کیا جارہا ہے.

    واضح رہے کہ مزاکرات کی ناکامی کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ کسانوں کا دھرنا بلا جواز ہے۔ آج کسان اتحاد سے ملاقات میں ان کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا. زرعی ٹیوب ویل کے بجلی کے بلوں میں کمی کے لیے کابینہ کی قائم کمیٹی کام کر رہی ہے۔ حکومت کسانوں کے جائز مطالبات کو سنجیدہ لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا اور کسان یا کسی بھی گروہ یا جماعت کو ریڈ زون میں احتجاج یا دھرنے کے اجازت نہیں ہے، ریڈ زون کی طرف مارچ کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

  • خاتون جج دھمکی کیس؛ آج کی سماعت میں فیصلے کا امکان

    خاتون جج دھمکی کیس؛ آج کی سماعت میں فیصلے کا امکان

    خاتون جج دھمکی کیس؛ آج کی سماعت میں فیصلے کا امکان

    خاتون جج کو دھمکانے کے کیس پر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آج ہو گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج سماعت کے بعد فیصلے کا امکان ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ عمران خان پر فرد جرم عائد ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گا، توہین عدالت کیس کی سماعت آج ڈھائی بجے شروع ہو گی۔ جس کے لیے سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی توہین عدالت کیس میں آج ڈھائی بجے اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی پر عدالت کے احاطے میں حسب معمول ٹینٹ لگا دیئے گئے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛ لاہور میں 5 سال کے دوران قتل کے 2 ہزار 103 کیسز کا اندراج
    جتوئی : ایک دوسرے پر بیٹیوں کے قتل کیے جانےکے الزامات، پولیس چکراگئی
    نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کے مشترکہ اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورت حال پر تشویش کا اظہار

    واضح رہے تین روز قبل سابق وزیرِ اعظم عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چوہدری کی عدالت میں پہنچ گئے تھے۔ کمرہ عدالت میں عمران خان نے کہا کہ میڈم زیبا کو بتانا ہے کہ عمران خان معذرت کرنے آئے تھے، اگر کسی الفاظ سے دل آزاری ہوئی ہو تو۔ عدالت کے عملے نے انہیں بتایا تھا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری رخصت پر ہیں، عمران خان نے ریڈر سے کہا کہ آپ نے زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا ہے کہ عمران خان آئے تھے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے ریڈر سے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری سے معافی مانگنے آیا ہوں، ریڈر آپ گواہ رہنا، میں آیا تھا معافی مانگنے۔ اس پر عمران خان کو جہاں سراہا گیا کہ انہوں نے معافی مانگ کر اچھا کیا تو وہی ان پر کافی تنقید بھی کی گئی ہے پہلے دھمکیاں دیتے ہو اور پھر معافی مانگتے ہو.

    دوسری جانب باغی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق؛ گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف وکلا کے ایک دھڑے نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے. ڈسٹرکٹ بارنے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے رویے کی مذمت اورخاتون جج سے اظہار یکجہتی کیلئے کل مظاہرے کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد بارکا کہنا تھا کہ عمران خان نے خاتون جج زیبا چوہدری کی عدالت جاکر معافی مانگنے کا ڈرامہ کیا، بظاہرعمران خان کا یہ عمل درحقیقت معزز جج کوہراساں کرنے کی کوشش تھی۔

    اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے عمران خان کے طرز عمل کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی جس کے مطابق ممبران اسلام آباد بارایسوسی ایشن عمران خان کےعدلیہ سے رویے کی مذمت کرتےہیں، عمران خان خاتون جج کی عدالت میں اس دن گئے جب وہ رخصت پر تھیں، عمران خان نے ریڈراوراسٹینو کےسامنےپیش ہو کر انہیں پیغام جج صاحبہ تک پہنچانے کا کہا، انہوں نے اس طرح ایک بار پھر معزز عدالت کی توہین کی۔

    بار کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جلسے میں معزز جج کی توہین کی اور انہیں دھمکیاں دیں، عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج تک معافی نامہ جمع نہیں کروایا، عمران خان ملک میں ہر آئینی ادارے کی طرح عدلیہ کوبھی اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں، ان کا مقصد عدلیہ پر دباؤ ڈال کر اپنے کیسز میں ریلیف لینا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ آئینی، سلامتی اورانتظامی اداروں کے خلاف تضحیک اور دھکمی آمیزرویہ کی مذمت کرتے ہیں، اسلام آباد بار قانون کی حکمرانی کےلیے عدلیہ اور تمام اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

  • کسان اتحاد دھرنا؛ کسی گروہ کو بھی ریڈ زون میں  احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں. رانا ثنا اللہ

    کسان اتحاد دھرنا؛ کسی گروہ کو بھی ریڈ زون میں احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں. رانا ثنا اللہ

    وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ کسان یا کسی بھی گروہ یا جماعت کو ریڈ زون میں احتجاج یا دھرنے کے اجازت نہیں، رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ؛ سپریم کورٹ کے بھی واضح احکامات موجود ہیں کہ ریڈ زون میں کوئی احتجاج نہیں ہو سکتا لہذا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، احتجاج اور دھرنا بلا جواز ہے کیونکہ ہم کسانوں کے جائز مطالبات مان رہے ہیں اور ٹیوب ویلز کے بلوں کی ادائیگی موخر کرنے کا مطالبہ تسلیم کیا جا چکا ہے زرعی ٹیوب ویل کے بجلی بلوں میں کمی کیلئے کابینہ کی قائم کمیٹی کام کر رہی ہے جبکہ حکومت کسانوں کے جائز مطالبات کو سنجیدہ لے رہی ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ؛ سوموار کو کمیٹی دوبارہ بیٹھے گی اور تمام تجاویز پر غور کرے گی لیکن کسانوں کا دھرنا بلا جواز ہے.

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق: پولیس کے تازہ دم دستے خیابان چوک پہنچ گئے۔ اور اس کے ساتھ ہی ایف سے کی بھاری نفری بھی خیابان چوک طلب کرلی گئی ہے جبکہ قیدی لے جانے والی گاڑیاں اور ایمبو لینس بھی خیابان چوک پہنچا دی گئی ہیں۔ جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی آپریشنز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران موقع پر موجود ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ: مظاہرین درختوں سے شاخیں توڑ کرلاٹھیاں بنارہے ہیں اور پتھر بھی اکٹھے کرلئے ہیں اور ان مظاہرین کی قیادت چیئرمین خالد باٹھ اور جنرل سیکرٹری عمر امین کررہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر مظاہرین نے پیش قدمی کی کوشش کی تو انہیں منتشر کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لہذا عورتوں اور بچوں سے گزارش ہے کہ اس طرف رخ نہ کریں۔

    کسان اتحاد کے رہنماء نے کہا کہ رانا ثناء اللہ ہم آپ کی دھنکیوں سے ڈرنے والے نہیں‌ ہیں یاد رہے کہ اس سے قبل رانا ثناءاللہ نے دھمکی دی تھی کہ عمران خان کیلئے کی گئی تیاری کہیں‌ کسانوں پر نہ آزما دیں تاہم اس حوالے سے رہنماء کسان اتحاد کا کہنا تھا کہ رانا ثناء سے ملاقات ہوئی انہوں نے مزید وقت مانگ اور ان کا روایہ صحیح نہیں تھا.
    کسانوں نے زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے پر پابندی لگانے، سیلاب زدہ علاقوں میں کھاد، بیج اور ڈیزل مفت فراہم کرنے سمیت گندم کی قیمت چار ہزار روپے اور گنے کی چار سو روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کی خاطر اسلام آباد میں آج چوتھے روز بھی اپنا دھرنا جاری رکھا ہوا ہے. رہنما کسان اتحادنے مطالبہ کیا تھا کہ ہمارا احتجاج پرامن ہے، ہمیں کوئی جلدی نہیں، اپنا حق لے کر یہاں سے جائیں گے.


    کسان رہنماء کا کہنا تھا کہ مذاکرات ناکام ہوئےتوہرصورت پارلیمنٹ ہاوس کےسامنے پہنچیں گے اور ہاں ہم پرامن لوگ ہیں،حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کرے کیونکہ ہم چار دن سے یہاں موجود ہیں لیکن ہماری بات نہیں مانی جارہی ہے. چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ: پورے ملک سے کسانوں کے قافلے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، اور میں کسانوں کو ایک اشارہ کروں تو پورا ملک بند کردیں گے لیکن ہم پرامن رہنا چاہتے ہیں. کسان رہنماء نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے کہنا تھا کہ میرا عمران خان سے گلہ ہے کہ انہوں نے کسانوں کے حق کیلئے ایک ٹویٹ تک نہیں کی ہے اور نہ ہی آواز اٹھائی ہے.


    دوسری جانب مختلف جماعتوں کی جانب سے کسان اتحاد مظاہرین سے اظہار یکجہتی کا سلسلہ بھی جاری ہے جیسے کہ آر آئی یو جے اور ایم ڈبلیو او کی جانب سے کسان اتحاد پاکستان کے احتجاجی دھرنے میں شرکت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے.


    واضح رہے کہ گزشتہ روزکسان اتحاد کے ایک وفد نے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے ساتھ مذاکرات کیے تھے اوروفاقی حکومت کی جانب سے کسانوں کا ابتدائی طور پر ٹیوب ویل کا مطالبہ منظورکیا گیا تھا جبکہ دیگر مطالبات بھی جلد منظور کیے جانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی. تاہم کسان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ہمیں فی یونٹ کی قیمت مختص کرکے دے تب ہم احتجاج ختم کریں گے۔ دھرنے میں موجود کسانوں کا کہنا ہے کہ ہم کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔ لیکن دوسری جانب احتجاج کے باعث راستے بند ہونے سے مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے جس سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کسان اتحاد دھرنا: وفاقی حکومت ہمیں فی یونٹ کی قیمت مختص کرکے دے تب احتجاج ختم کریں گے
    کرنسی مارکیٹس میں امریکی ڈالر مسلسل چھٹے روز سستا
    اسلام آباد ایئرپورٹ ملازمین کام کرنے کو تیار نہیں،وزیر ہوا بازی کا سینیٹ میں انکشاف
    مظاہرین کا کہنا تھا ہماری 50 فیصد فصل تباہ ہوگئی،پانی نہیں ہوتا تو مر جاتے ہیں پانی آتا ہے تو ڈوب جاتے ہیں،انکا کہنا تھا کہ چاروں صوبائی حکومتیں کھاد کا سسٹم یونین کاؤنسل کی سطح پر لے جائیں۔ کسان رہنماء خالد حسین کا کہنا تھا کہ جب تک کالا باغ ڈیم نہیں بنتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،آصف علی زرداری صاحب سندھ ڈوب گیا آپ سے درخواست ہے ڈیم بننے دیں۔

  • حکومت نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث اقوام متحدہ سے مزید 60 کروڑ ڈالر امداد کی درخواست کا فیصلہ کرلیا

    حکومت نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث اقوام متحدہ سے مزید 60 کروڑ ڈالر امداد کی درخواست کا فیصلہ کرلیا

    حکومت نے سیلاب زدگان کی بحالی اور تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ سے مزید 60 کروڑ ڈالر امداد کی درخواست کا فیصلہ کیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق وزارت اقتصادی امور اقوام متحدہ سے 60 کروڑ ڈالر امداد کے لیے درخواست کرے گی، اقوام متحدہ سے انسانی ہمدردی کی اپیل شروع کرنے کے تحت امداد مانگی جائے گی۔ یہ رقم سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو خوراک، پناہ گاہ، طبی سہولیات کیلئے استعمال کی جائے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 اکتوبر تک سیلاب پر تیار حتمی رپورٹس بھی اقوام متحدہ کو دی جائیں گی، اقوام متحدہ کو متاثرہ علاقوں میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ وزارت اقتصادی امور کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ 16 کروڑ ڈالر امداد فراہم کر چکا ہے اور یہ رقم موصول ہونے کی صورت میں اقوام متحدہ سے ملنے والی امدادی رقم 76 کروڑ ڈالر ہو جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کسان اتحاد دھرنا: وفاقی حکومت ہمیں فی یونٹ کی قیمت مختص کرکے دے تب احتجاج ختم کریں گے
    کرنسی مارکیٹس میں امریکی ڈالر مسلسل چھٹے روز سستا
    اسلام آباد ایئرپورٹ ملازمین کام کرنے کو تیار نہیں،وزیر ہوا بازی کا سینیٹ میں انکشاف
    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ریزیڈینٹ اور انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 16 کروڑ ڈالر فنڈنگ کی ابتدائی اپیل سیلاب کی تباہ کاریوں کے حجم کو دیکھتے ہوئے ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 10 روز میں اقوام متحدہ اور پاکستان دوبارہ ہنگامی اپیل کریں گے کیونکہ اب ہمیں مزید فنڈز کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو بیماریوں کے ساتھ ساتھ غذائی قلت کی دوسری آفت کا بھی سامنا ہے، مزید فنڈز کا مطالبہ ان اطلاعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ سیلاب کے سبب جمع ہونے والے پانی کی وجہ سے جلد اور آنکھوں میں انفیکشن، ڈائریا، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور ڈینگی بخار کے بڑے پیمانے پر کیسز سامنے آئے ہیں۔ جولین ہارنیس نے کہا تھا کہ ’ 4 اکتوبر کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو پاکستان میں سیلاب سے متعلق بریفنگ کے ساتھ ہم اس اپیل کو دہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں‘۔

  • رواں ہفتے ڈالر، پاؤنڈ، یورو اور ریال کی قدر میں کمی ریکارڈ

    رواں ہفتے ڈالر، پاؤنڈ، یورو اور ریال کی قدر میں کمی ریکارڈ

    رواں ہفتے ڈالر، پاؤنڈ، یورو اور ریال کی قدر میں کمی ریکارڈ

    وزیر خزانہ کی حیثیت سے اسحاق ڈار کی دوبارہ انٹری سے گزشتہ ہفتے ڈالر، پاؤنڈ، یورو اور ریال کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی، عالمی سطح پر ڈالر طاقتور ہوتا رہا لیکن اس کے برعکس پاکستانی روپیہ مضبوط ہوتا رہا۔ ہفتہ وار بنیاد پر متواتر دوسرے ہفتے بھی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تگڑا رہا اور ڈالر کی بہ نسبت روپیہ 4.9 فیصد ریکور ہوا۔ انٹربینک میں ڈالر 239 سے گھٹ کر 229 روپے سے بھی نیچے آگیا جبکہ اوپن مارکیٹ ریٹ 244 سے گھٹ کر 230 روپے کی سطح پر آگیا۔

    ہفتہ وار کاروبار کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 11.26 روپے گھٹ کر 228.45 روپے پر بند ہوئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 14.40 روپے گھٹ کر 230روپے ہوگئی۔ برطانوی پاؤنڈ کے انٹربینک ریٹ 16.85 روپے گھٹ کر 254.81 روپے ہوگئے جبکہ اوپن مارکیٹ میں برطانوی پاؤنڈ کی قدر 13.65 روپے گھٹ کر 257 روپے ہوگئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کسان اتحاد دھرنا: وفاقی حکومت ہمیں فی یونٹ کی قیمت مختص کرکے دے تب احتجاج ختم کریں گے
    کرنسی مارکیٹس میں امریکی ڈالر مسلسل چھٹے روز سستا
    اسلام آباد ایئرپورٹ ملازمین کام کرنے کو تیار نہیں،وزیر ہوا بازی کا سینیٹ میں انکشاف
    انٹربینک میں یورو کرنسی کی قدر 12.35 روپے گھٹ کر 224.53 روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں یورو کی قدر 10.35روپے گھٹ کر 227روپے ہوگئی۔ انٹربینک میں سعودی ریال کی قدر 2.90روپے گھٹ کر 60.81 روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال کی قدر 3.50روپے کر 61.40 روپے ہوگئی۔ اسحاق ڈار کی تقرری سے گزشتہ ہفتے ڈالر کو ریورس گیئر لگ گئے اور معیشت بھنور سے نکلنے کے توقعات سے روپیہ تگڑا ہوا۔ اسحاق ڈار کی مہارت اور تجربے کی بنیاد پر سٹے بازوں نے محتاط طرز عمل اختیار کیا اور کمزور فنڈامینٹلز کے باوجود مارکیٹ سینٹیمنٹس بہتر ہوگئے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف شرائط میں نرمی کی توقعات سے بھی روپیہ کو سہارا ملا، بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں موخر ہونے کی اطلاعات نے اعتماد پیدا کیا، عالمی برادری سے فلڈریلیف فنڈ کا حجم بڑھنے سے بھی ڈالر کی تنزلی ہوئی جبکہ تیل کی عالمی قیمت گھٹنے سے درآمدی بل میں کمی سے بھی روپیہ مستحکم ہوا۔

  • پی ٹی سی ایل کی بدترین نیٹورک اسپیڈ اور نالائق عملہ

    پی ٹی سی ایل کی بدترین نیٹورک اسپیڈ اور نالائق عملہ

    پی ٹی سی ایل براڈ بینڈ دنیا کا واحد نیٹورک ہے جو چوبیس گھنٹے سست ترین سروس کے باوجود بھی لاکھوں روپے کما رہا ہے جبکہ صارفین کی شکایت پر نوٹس تو دور تین تین دن تک انہیں سنا ہی نہیں جاتا ہے. جسکے باعث پی ٹی سی ایل براڈ بینڈ صارفین اس کی بدحالی اور گھٹیا سروس سے مایوس ہیں.

    پاکستان کے سب سے بڑے براڈبینڈ نیٹورک کی حامل کمپنی پی ٹی سی ایل نجی ہاتھوں میں جانے کے باوجود بہتر ہونے کے بجائے بدترین سروس مہیا کررہی ہے. پی ٹی سی ایل براڈ بینڈ کی جانب سے فراہم کردہ سروس کو بلاشبہ دنیا کی سب سے ناقص اور سست رفتار انٹرنیٹ سروس کرا دیا جاسکتا ہے. اس حوالے صحافی ملک رمضان اسراء نے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ: میں نے موبائل ڈیوائس اور سمز کے انٹرنیٹ سے تھک ہار کر پی ٹی سی ایل کنیکشن لیا تاکہ سست نیٹورک اسپیڈ سے چھٹکارا حاصل کرسکوں لیکن پی ٹی سی ایل پر آکر معلوم ہوا کہ یہ تو اس سے بھی زیادہ سست ترین نیٹورک ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ یکم اکتوبر؛ عوامی جمہوریہ چین کے قومی دن کے موقع پر پاک چین تعلقات کا جائزہ
    پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کیجانب سے پروپیگنڈہ، مبشر لقمان نے جواب دے دیا
    عمران خان کی ایک اور آڈیو لیک،سائفر ڈرامہ، دوسری قسط
    ملک رمضان اسراء نے مزید کہا کہ: پی ٹی سی ایل سے مجھے بہت زیادہ سستا پڑتا تھا جیسے کہ میرا موبائل پیکج ایک ہزار روپے میں ہوجاتا ہے لیکن یہاں میرا ہر ماہ کا بل تقریبا تین ہزار روپے ہیں لیکن اسپیڈ ویسے نہیں اور ناہی نیٹ مسلسل صحیح چلتا ہے کیونکہ مسلسل نیٹ ورک کام چھوڑ جاتا ہے جس سے کام کے دوران کافی تکلیف ہوتی ہے جبکہ پی ٹی سی ایل عملہ سے اس کی شکایت کے لیئے رابطہ کریں تو وہ تین تین دن تک فون ہی نہیں اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد اگر فون اٹھا بھی لیں تو مزید تین سے چھ دن تک مسئلہ حل نہیں کرتے ہیں.

    ملک رمضان اسراء کا کہنا تھا کہ میرا تو دل کرتا اس کمپنی پر عدالت میں کیس کردوں کیونکہ اتنا مہنگا ترین نیٹ دیکر کروڑوں روپے کما رہے جبکہ اسکے باوجود بھی ناصرف اسپیڈ بدتر ہے بلکہ عملہ کی کارکردی بھی بدترین ہے. انہوں نے کہا کہ کئی بار فون کر چکا اور ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر بھی شکایت کرتا مگر پی ٹی سی ایل والوں کا ایک ہفتہ بعد فون آتا ہے کہ آپ کا مسئلہ حل ہوگیا جسے سن کر بندہ حیران ہوجاتا کہ یہ مسئلہ کیسے حل ہوگیا جب مجھے معلوم ہی نہیں ہے.

  • سائفر کسی جادوگر نے جن کے پاس رکھا ہوگا واپس مل جائے حکومت اعظم خان کو ڈھونڈے جو ملک سے کھیل کر غائب ہوگئے. سلیم صافی

    سائفر کسی جادوگر نے جن کے پاس رکھا ہوگا واپس مل جائے حکومت اعظم خان کو ڈھونڈے جو ملک سے کھیل کر غائب ہوگئے. سلیم صافی

    سینئر اینکر سلیم صافی کا کہنا ہے کہ حکومت سائفر ڈھونڈنے کے بجائے، اعظم خان، شہزاد مرزا، حفیظ شیخ اور فرح گوگی کو ڈھونڈیں.

    ایک ٹوئیٹ میں سلیم صافی نے لکھا کہ: کیا عجیب حکومت ہے۔ اعظم خان کے بجائے سائفر کو ڈھونڈ رہی ہے۔ اللہ کے بندو سائفر کو چھوڑ کر اعظم خان، شہزاد مرزا، فرحت گوگی اور حفیظ شیخ کو ڈھونڈو جو ملک کے ساتھ کھیلنے کے بعد بیرون ملک جاکر ٖغائب ہوگئے ہیں۔ سائفر کسی جادوگر نے کسی جن کے پاس رکھا ہوگا، وہ واپس مل جائے گا۔


    دراصل یہ ٹوئیٹ وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس سے متعلق ایک خبر پر کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ ڈپلومیٹک سائفر کے معاملے پر بریفنگ، ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب ہونے کا انکشاف ہوا اور سائفر کی ریکارڈ سے چوری سنگین معاملہ قرار دی گئی ہے.
    یہ بھی پڑھیں؛ یکم اکتوبر؛ عوامی جمہوریہ چین کے قومی دن کے موقع پر پاک چین تعلقات کا جائزہ
    پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کیجانب سے پروپیگنڈہ، مبشر لقمان نے جواب دے دیا
    عمران خان کی ایک اور آڈیو لیک،سائفر ڈرامہ، دوسری قسط
    دوسری جانب ایک خبر کے مطابق؛ وزیر اعظم ہاؤس سے غائب ہونے والے سائفر کا پتہ چل گیا ہے، امریکی سائفر وزیر اعظم ہاؤس سے تو غائب ہے مگر وزارت خارجہ کے آفس میں اصل موجود ہے، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم ہاؤس سے غائب ہونے والی سائفر کی کاپی کی تحقیقات کا حکم دیدیا تھا، میٹنگ میں انکشاف ہوا تھا کہ سائفر کی کاپی وزیر اعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب ہے ،وزیر اعظم ہاؤس میں سائفر موصول ہوا مگر پھر وہ کہیں غائب ہوگیا۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق سائفر کی کاپی اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے وصول کی تھی اور قانون کے مطابق مراسلے کو وزیر اعظم ہاؤس کے ریکارڈ کا حصہ ہونا چاہئے تھا۔

    خیال رہے کہ باغی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق: عمران خان بے نقاب ہو گئے، سائفر کے حوالہ سے دوسری آڈیو بھی سامنے آ گئی تھی سابق وزیراعظم ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور اعظم خان کی ایک اور آڈیو منظر عام پر آ ئی جس میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور پی ایس اعظم خان کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے کہ کس طرح سائفر کو موڑ دیا جائے اور اسے عوام میں اپنی حکومت کے خلاف سازش کے طور پر بیچا جائے

    آڈیو لیک میں عمران خان کا کہنا ہے کہ شاہ جی ہم نے کل میٹنگ کرنی ہے ، اس میں ہم نےکہنا ہے کہ وہ جو لیٹر ہے نا اس کے مرضی کے منٹس لکھ دے یہ سائفر 8 یا 9 کو آیا تھا، ہم نے امریکنز کا نام کسی صورت نہیں لینا، پلیز کسی کے منہ سے نام نہ نکلے، یہ بہت اہم ہے ہم سب کیلئے کہ کس ملک سے لیٹر آیا ہے، میں کسی کے منہ سے اسکا نام نہ سنوں جس پر سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ آپ جان کر لیٹر کہ رہے ہیں یہ لیٹر نہیں میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ ہے عمران خان اس پر کہتے ہیں کہ وہی نا میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ یا لیٹر ایک ہی چیز ہے لوگوں کو ٹرانسکرپٹ کی تو سمجھ نہیں آنی تھی آپ پبلک جلسے میں ایسے ہی کہتے ہیں.