Baaghi TV

Author: +9251

  • عتیقہ اوڈھو بھی مریم اورنگزیب کی حمایت میں کھڑی ہو گئیں

    عتیقہ اوڈھو بھی مریم اورنگزیب کی حمایت میں کھڑی ہو گئیں

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کے ساتھ پی ٹی آئی کے سپورٹرز نے لندن میں جو رویہ اپنایا ہے یقینا وہ قابل مذمت ہے اور پاکستان کے امیج کے لئے بھی نقصان دہ ہے لیکن اس چیز کا پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان کو رتی برابر بھی احساس نہیں ہے کہ وہ اپنے فالورز کو کیا سیکھا رہے ہیں اور اس کے نتائج کیا ہوں گے. مریم اورنگزیب کے ساتھ نارواں سلوک پر معروف اداکارہ و میک آرٹسٹ عتیقہ اوڈھو بھی بول پڑی ہیں اور وہ مریم کی حمایت میں کھڑی ہوگئی ہیں. عتیقہ اوڈھو نے مریم اورنگزیب کے ساتھ ہونے والی ہراسانی کی وڈیو اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر شئیر کی اور لکھا کہ ”آپ بھلے کسی کی سیاست سے متفق نہ ہوں لیکن اس نوعیت کی ہراسانی سب کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کا ایسا

    رویہ دنیا بھر میں پاکستان کا تاثر خراب کرتا ہے، وہ مسائل کے حل کے بجائے خود مسئلے کا حصہ بن رہے ہیں، میں اپنے مداحوں اور دوستوں سے گزارش کرتی ہوں کہ ایسا بچگانہ رویہ اختیار کرنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، آپ اپنے باوقار انداز سے اپنے جذبات کا اظہار کریں”. عتیقہ اوڈھو کی اس پوسٹ کے ساتھ زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین نے اتفاق کیا اور کہا کہ یقینا یہ بات ٹھیک ہے کہ سیاسی نظریات کا اختلاف اپنی جگہ لیکن اس طرح سے کسی کے ساتھ ہراسانی نہیں‌ ہونی چاہیے. سیاسی لیڈران خصوصی طور پر عمران خان کے لئے سوچنے کامقام ہے.

  • ماہرہ خان کے گارڈ کی اور ایکٹنگ پر لوگ ناراض

    ماہرہ خان کے گارڈ کی اور ایکٹنگ پر لوگ ناراض

    جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ہم ٹی وی کے ایوارڈز کے لئے گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستان کی نامور شوبز شخصیات کینڈا پہنچی ہوئیں تھیں ماہرہ خان ہو یا ریما خان ہر کوئی ان ایوارڈز میں موجود تھا.ماہرہ خان اور ریما خان جن کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ دونوں کی آپس میں کافی اچھی دوستی ہیں جب بھی ایک دوسرے کے ساتھ ملتی ہیں عزت احترام کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں. کینڈا ایوارڈز کے دوران جب ان دونوں اداکارائوں کا آمنا سامنا ہوا تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر کافی خوش ہوئیں اور ایک دوسرے کا حال پوچھنے کھڑی ہو گئیں اور ہنس مسکر کر ایک دوسرے سے بات کرتی رہیں لیکن ماہرہ خان

    کا گارڈ مسلسل ریما اور ماہرہ خان کے درمیان ہاتھ سے فاصلہ رکھنے کی کوشش کرتا رہا. اس واقعہ کی وڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے. اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ماہرہ خان کے گارڈ کا یہ عمل ریمان خان کی انسلٹ کے برابر ہے اسکو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اور ماہرہ خان کو بھی چاہیے تھے کہ وہ اپنے گارڈ سے کہتیں کہ وہ ایسا نہ کریں. یاد رہے کہ اس بار جو ہم ایوارڈ دئیے گئے ہیں ان پر کافی سوال اٹھے ہیں اور شائقئن ان ایوارڈز کی تقسیم سے بہت زیادہ خوش نہیں ہیں.

  • اسحاق ڈار کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں دائر درخواست واپس لے لی گئی

    اسحاق ڈار کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں دائر درخواست واپس لے لی گئی

    نامزد وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں دائر درخواست واپس لے لی گئی ہے۔

    سماعت کے دوران اسحاق ڈار کے خلاف درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ممبر کے پی نے کہا کہ فیصلہ محفوظ ہوچکا تھا، اسحاق ڈار کی درخواست پر کیس بحال کیا۔ آج آپ آئے ہیں، کل کوئی اور آ جائے گا۔ درخواست گزار نے اسحاق ڈار کی نااہلی کے لیے درخواست واپس لینے کا تحریری بیان الیکشن کمیشن کی ہدایت پر جمع کروا دیا

    الیکشن کمیشن کی تحریری بیان جمع کرانے کی ہدایت کے بعد درخواست گزار اظہر صدیق کی جانب سے ان کے معاون وکیل نے بیان جمع کروادیا۔ جمع کرائے گئے تحریری بیان میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے، کیس میں قانون کی تشریح درکار ہے، مجاز فورم سے رجوع کریں گے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر اور دلچسپ ہے کہ گزشتہ روز ہی الیکشن کمیشن نے اسحٰق ڈار کی نااہلی کے لیے دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ جب سینیٹ کی رکنیت کا حلف ہی نہیں اٹھایا تو نااہل کیسے کریں۔ گزشتہ روز سماعت کے دوران درخواست گزار اظہر صدیق الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوئے تھے، ان کے معاون پیش ہوئے جس پر نثار درانی نے کہا تھا کہ اظہر صدیق ہائی کورٹ میں جاکر کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے کیس سرد خانے میں ڈال دیا اور خود پیش نہیں ہوتے۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن میں ریفرنس ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دائر کیا تھا جس میں اسحٰق ڈار کو آئین کے آرٹیکل 63 (2) کے تحت نااہل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ ڈان کے مطابق: سابق وزیر خزانہ کی سینیٹ کی رکنیت مئی 2018 میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عارضی طور پر معطل کردی تھی۔ اس سے قبل اسحٰق ڈار کے سینیٹر منتخب ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر انہیں 8 مئی 2018 کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

    اسحٰق ڈار 3 مارچ 2018 کو ہونے والے سینیٹ الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے تاہم انہوں نے حلف نہیں اٹھایا تھا جبکہ ان کی اہلیت سے متعلق کیس پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے نوازش پیرزادہ نے دائر کیا تھا جس میں ان کا مؤقف تھا کہ ایک مفرور شخص انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اسحٰق ڈار اکتوبر 2017 سے لندن میں موجود ہیں اور انہیں احتساب عدالت کی جانب سے کرپشن ریفرنس میں مفرور قرار دیا جاچکا ہے۔

  • نعمان اعجاز کے بیٹے  زاویار کو کینڈا میں حال ہی میں ملا ایوارڈ پڑ گیا گلے دونوں باپ بیٹے کے گلے

    نعمان اعجاز کے بیٹے زاویار کو کینڈا میں حال ہی میں ملا ایوارڈ پڑ گیا گلے دونوں باپ بیٹے کے گلے

    زاویار نعمان جو کہ سینئر اداکار نعمان اعجاز کے بیٹے ہیں ان کو حال ہی میں کینڈا میں ہونے والے ایوارڈ میں بیسٹ سینسیشن ایوارڈ ملا ہے اس ایوارڈ کے بعد ناقدین نے اپنی تنقید کی توپوں کے رخ نعمان اعجاز کی طرف کر لئے ہیں . ان کہنا ہے کہ ماضی میں نعمان اعجاز ایوارڈز شو میں میرٹ کا خیال نہ رکھے جانے کی بات کرتے رہے ہیں. اب جب ان کے بیٹے کو ایوارڈ ملا ہے تو اس پر وہ کیوں خوش ہیں؟‌اب انکو کیوں نہیں لگا کہ ان کے بیٹے کو ایوارڈ ہم ٹی وی نے انہیں خوش کرنے کے لئے دیا ہے. سوشل میڈیا پر چھڑی اس بحث میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نعمان اعجاز کے بیٹے نے

    ابھی تک ایسا کونسا کام کیا ہے کہ جو غیر معمولی تھا اور اسے ایوارڈ ملنا بہت ضروری تھا اور وہ بھی بیسٹ سینسیشن . ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ زاویار کو ایوارڈ میرٹ پر نہیں سفارش کی بنیاد پر ملا ہے اور وہ سفارش ہے نعمان اعجاز کی نعمان خود جو ہم ٹی وی کے ڈراموں میں کام کرتے ہیں اور صرف انہیں خوش کرنے کے لئے ان کے بیٹے کو ایوارڈ دیکر کسی دوسرے حقدار کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے. یاد رہے کہ زاویار کے کریڈٹ پر بہت زیادہ ڈرامے نہیں ہیں ان کے ہٹ ڈراموں میں قصہ مہربانو کا ہے ابھی وہ ٹی وی پر سٹرگلنگ فیز میں ہیں لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ان کو ہم ٹی وی کی طرف سے ایوارڈ دئیے جانا پڑ گیا ہے دونوں باپ بیٹے کے گلے.

  • 72 رکنی کابینہ: شیخ رشید کی پٹیشن پر عدالت برہم، پارلیمنٹ کی مزید بے توقیری نہ کریں. جسٹس اطہر من اللہ

    72 رکنی کابینہ: شیخ رشید کی پٹیشن پر عدالت برہم، پارلیمنٹ کی مزید بے توقیری نہ کریں. جسٹس اطہر من اللہ

    72 رکنی کابینہ، شیخ رشید کی پٹیشن پر عدالت برہم، پارلیمنٹ کی مزید بے توقیری نہ کریں. جسٹس اطہر من اللہ

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے 72 رکنی وفاقی کابینہ کے خلاف شیخ رشید کی پٹیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلمینٹ کی مزید بے توقیری نہ کی جائے، یہی مائنڈ سیٹ ہے جس نے پارلیمنٹ کو نقصان پہنچایا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں 72 رکنی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،شیخ رشید اپنے وکیل کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیاسی نوعیت کی پٹیشن عدالت لانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تبنیہ کی کہ آئندہ ایسی پٹیشن لائی تو مثالی جرمانہ عائد کریں گے۔ شیخ رشید کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے پاس عدالت کے سوا کوئی اورفورم نہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ کی بے توقیری بہت ہو چکی ایسی پٹیشن عدالت نہیں آنی چاہیے،پارلیمنٹ میں منتخب نمائندے ہیں وہ فورم ہے عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ پٹشنر جب حکومت میں تھے تو کیا آپ نے وہ معاونین خصوصی اور مشیروں کی لسٹ لگائی ہے ؟ ۔ شیخ رشید وزیر داخلہ تھے، کیا انہوں نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا، ان کو اندازہ نہیں وہاں ہو کیا رہا ۔یہ کورٹ پارلیمنٹ کا بھی احترام کرتی ہے غیر ضروری ایگزیکٹو کے اختیارات میں بھی مداخلت نہیں کرتی۔ اگر آپ کا کوئی انفرادی بنیادی حق متاثر ہورہا ہے تو ضرور عدالت آئیں لیکن اس طرح نہیں ۔

    چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یہ آپ کی بے بنیاد پٹیشن ہے، آپ کو جرمانہ بھی کر سکتے تھے لیکن تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جو بھی مقابلہ کرنا ہے جائیں پارلیمنٹ میں ، پارلیمنٹ سے بڑا فورم اور کوئی نہیں ہے ۔ حکومت کا احتساب پارلیمنٹ خود کرتی ہے۔ آپ عدالت کو پارلیمنٹ کے احتساب میں کیوں لا رہے ہیں۔ شیخ صاحب عدالتوں کو ان سیاسی معاملات سے دُور رکھیں. بعد ازاں شیخ رشید کی جانب سے استدعا کی گئی کہ پٹیشن واپس لے لیتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب آرڈر پاس کریں گے۔ ماضی میں عدالتوں کا غلط استعمال کیا گیا، اب اس کو ختم ہونا چاہیے۔
    علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا کہ سیاسی معاملات میں عدالتوں کو ملوث نہ کریں ،عمران خان کا اتحادی اوران کےساتھ ہوں۔ جب کچھ نہیں نکلتا تو لال حویلی کی چھت ان کو یاد آتی ہے،لال حویلی میں صرف میں نہیں آٹھ دس اورلوگ بھی ہیں،چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے فکر مند نہیں ہوتا۔

  • منیب بٹ نے لندن میں مریم اورنگزیب کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کردی

    منیب بٹ نے لندن میں مریم اورنگزیب کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کردی

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ملک میں عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دیا ہے خود کو ٹھیک اور دوسروں کو چور ڈاکو ثابت کرنےکےلئے ان سے بہتر لفاظی کوئی نہیں کر سکتا. انہوں نے اپنے فالوورز کو درس دیا ہے کہ جہاں کہیں بھی پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی سیاستدان نظر آجائے اسکی انسلٹ کی جائے اسکو چور کہا جائے چور چور کے نعرے لگائے جائیں اور ان کے فالورز عمران خان کا کہا نہیں‌ٹالتے . اسکی مثال مریم اورنگزیب کے ساتھ حالیہ ہونے والی ہراسگی ہے مریم اورنگزیب کو لندن میں پی ٹی آئی کے سپورٹرز کی جانب سے ہراساں کیا گیا. اس واقعہ کی ہر کسی نے مذمت کی ہے یہاں تک کہ پی ٹی آئی کے چند ایک ایسے سپورٹرز جو عمران خان کو اس ملک کا مسیحا سمجھتے ہیں وہ بھی اس واقعہ کو برا جان

    رہے ہیں. حال ہی میں منیب بٹ جو کہ پی ٹی آئی کے بہت بڑے سپورٹر ہیں انہوں نے لندن میں مریم اورنگزیب کے ساتھ جو بھی ہوا ہے کہ اسکی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سیاست میں اس طرح کا کلچر تباہی کی طرف لیجائے اور اورملک کو اندھیری گلی میں لیجائے گا لہذا اس کلچر کو فروغ مت دیا جائے. سیاسی اختلافات کو اس نہج تک نہ لیکر جایا جائے. یوں منیب بٹ نے مریم اورنگزیب جن سے وہ سیاسی اختلاف رکھتے ہیں ان کے ساتھ ہونے والی ہراسگی کی مذمت کی ہے.

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب: اسحاق ڈار کی شرکت متوقع، آڈیو لیکس پر بھی غور کیا جائے گا

    وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب: اسحاق ڈار کی شرکت متوقع، آڈیو لیکس پر بھی غور کیا جائے گا

    وفاقی کابینہ کا اجلاس کل پی ایم ہاوس میں ہوگا۔ نامزد وزیر خزانہ اسحاق ڈار اجلاس میں شرکت کریں گے۔ آڈیو لیکس کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کل وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا۔ وزیراعظم دورہ امریکہ پر کابینہ ارکان کو اعتماد میں لیں گے۔ اسحاق ڈار کی بطور وزیرخزانہ کابینہ اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ کابینہ کو معاشی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔ کابینہ اجلاس میں سیاسی صورتحال پر بھی مشاورت ہو گی۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی آڈیو لیکس پر گفتگو ہوگی۔ عمران خان کی کالز سمیت دیگر سیاسی معاملات پر کابینہ ارکان اپنی رائے دیں گے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 7ستمبرکےکابینہ کمیٹی برائےنجکاری کےفیصلوں کی توثیق ہو گی۔ وفاقی کابینہ21ستمبر کواقتصادی رابطہ کمیٹی کےفیصلوں کابھی جائزہ لےگی۔ کابینہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کےمنصوبےلیونگ انڈس انیشیٹیوکی منظوری دے دی.
    واضح‌رہے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و نامزد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پاکستان کو 98 اور 2013 کی طرح معاشی بھنور سے نکالیں گے۔ انہوں نے پانچ سال بعد وطن واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل وکرم سےاپنے وطن واپس آگیا ہوں، وزیراعظم اور نواز شریف نے وزیرخزانہ کی ذمہ داریاں دی ہیں۔ لہذا پوری ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کروں گا.

    اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے مجھے کہا ہے کہ وزیر خزانہ کی ذمہ داریاں قبول کروں۔ بڑی امید ہے کہ ہم معیشت کو درست سمت میں لے کر جائیں گے۔ خیال رہے کہ نامزد وزیر خزانہ اسحاق ڈار وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے ہمراہ لندن سے وطن واپس گزشتہ رات پہنچے ہیں اور انہوں نے معیشت کو بہتری کی ڈگر پر لانے کا وعدہ کیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ پورے اتر پائیں گے یا نہیں؟

  • عمران خان کی عبوری ضمانت میں 13 اکتوبر تک توسیع

    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 13 اکتوبر تک توسیع

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی عبوری ضمانت میں 13 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے موکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ بابر اعوان نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان لاہور میں ہیں جس کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکتے، اس پر عدالت نے ان کی عبوری ضمانت کی درخواست میں 13 اکتوبر تک توسیع کر دی۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف تھانہ کوہسار میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج ہے جبکہ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے دفعہ 144 کے مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان اور اسد قیصرسمیت دیگرملزمان کی ضمانتوں میں 27 ستمبر تک توسیع کی تھی۔ عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخوست منظور کرلی تھی.

    خیال رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج ظفراقبال نےعمران خان سمیت دیگرپی ٹی آئی رہنمائوں کی درخواست ضمانتوں پرسماعت کی تھی، سابق وزیر اعظم عمران خان، اسد قیصر اورفیصل واوڈا کے وکلا نے حاضری سے استثنی کی درخواست دی۔ وکیل بابراعوان نے موقف اپنایا تھا کہ مقدمہ اوردلائل ایک جیسے ہی ہوں گے، عمران خان 9 حلقوں سے الیکشن لڑرہے ہیں۔ ضمنی انتخابات 25 ستمبرکو ہو رہےہیں۔ تھانہ آبپارہ میں درج مقدمہ میں دفعات قابل ضمانت ہیں۔

    یاد رہے سابق وزیر اعظم عمران خان کیخلاف یہ 21واں مقدمہ تھا، جس میں ضمانت لی تھی، جج نے ریمارکس دیئے تھے کہ دفعہ 506 ٹو میں تین سال سزا اورناقابل ضمانت ہے۔ جج نے تفتیشی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ سب سن رہے ہیں اگردیکھ لیں کوئی شامل نہیں تھا۔ اسےمقدمہ سےفارغ کریں، عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانتوں میں 27 ستمبرتک توسیع کردی تھی۔

  • کیا وفاقی کابینہ کا حساس ڈیٹا بھارتی سافٹ ویئر استعمال کرنے کے سبب خطرے میں پڑسکتا ہے؟

    کیا وفاقی کابینہ کا حساس ڈیٹا بھارتی سافٹ ویئر استعمال کرنے کے سبب خطرے میں پڑسکتا ہے؟

    وفاقی کابینہ کا ای پورٹل چلانے کیلئے بھارتی سافٹ ویئر کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے.

    انگریزی اخبار پاکستان ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ای کیبنٹ کے پورٹل کو چلانے کیلئے موبائل ڈیوائس مینجمنٹ (MDM) سافٹ ویئر بھارتی کمپنی زوہو کارپوریشن سے ایک سال قبل خریدا گیا تھا، جبکہ ممکن ہے کہ چنئی کی یہ کمپنی سافٹ ویئر کے ذریعے کابینہ کے تمام کمپیوٹرز، مائیک اور کیمرے تک رسائی حاصل کرسکتی ہے.

    ملک کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم، وفاقی کابینہ کا حساس ڈیٹا خطرات سے دوچار ہے۔ انگریزی اخبار پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ای کیبنٹ پورٹل کیلئے سافٹ ویئرموبائل ڈیوائس مینجمنٹ (MDM) بھارتی کمپنی سے خریدا گیا ہے ۔ پاکستان ٹوڈے نے مزید دعوی ٰ کیا ہے کہ بھارتی سافٹ ویئر کی وجہ سے وفاقی کابینہ کا حساس ڈیٹا انتہائی خطرات سے دو چار ہے۔

    بھارتی سافٹ ویئر کو نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) جو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کا ایک منسلک محکمہ ہے نے اسے وفاقی کابینہ کے ارکان کو دئیے گئے ٹیبلٹس میں نصب کیا۔ اخبارنے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے بھارتی تیار کردہ مصنوعات پر پابندی عائد کردی تھی تاہم اس کے باوجود نیشنل انفارمیشن ٹیکنالو جی بورڈ نے اسے بھارتی کمپنی سے خریدا۔ پاکستان ٹوڈے کی خبر کے مطابق سالانہ سبسکرپشن کی تجدید یا اسناد کو تبدیل کرنے کے حقوق این آئی ٹی بی کے ایک سابق ملازم کے پاس ہیں جو کہ اگست 2021 میں ملازمت چھوڑ گیا تھا. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ای۔ کیبنٹ پورٹل کے تکنیکی آڈٹ کے دوران بھی کمزوریاں پائی تھیں لیکن بعد میں نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے ایک بار پھر زوہو کارپوریشن سے رابطہ کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزاد آئی ٹی کے ماہرین کے مطابق کہ ہندوستانی کمپنی کابینہ کے ارکان اور سیکریٹریوں کو جاری کردہ حساس ڈیٹا کو دور سے بازیافت کرسکتی ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ زوہو ایم ڈی ایم ایپلی کیشن وفاقی کابینہ کے اراکین کو جاری کردہ ہر ٹیبلیٹ ڈیوائس کے مائیک اور کیمرے تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ترمیم پر غور کیا جارہا ہے. چیئرمین سینیٹ

    ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ترمیم پر غور کیا جارہا ہے. چیئرمین سینیٹ

    چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے کمیٹی میں غور کیا جا رہا ہے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرانس جینڈر کا بل مارچ 2018ء کا بل ہے، جو میرے چیئرمین بننے سے پہلے منظورہوا۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد نے بل میں ترامیم پیش کی ہیں، جن سے متعلق کمیٹی میں غور کیا جارہا ہے ۔ چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ ایوان بالا کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جواسلامی قوانین کے منافی ہو۔

    چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ مشاورت کے ساتھ اس معاملے کو حل کریں گے، لہٰذا اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے ۔ ضرورت پڑی تو علمائے کرام اوراسلامی نظریاتی کونسل سے بھی مشاورت کریں گے۔ نئے وزیر خزانہ سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈارکا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ وہ آئیں گے، حلف اٹھائیں گے تو کوئی اعتراض نہیں۔

    خیال رہے کہ: 2018 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے باہمی اتفاق سے بننے والے اس ایکٹ کا آج کل خوب چرچا ہے. ایک طبقہ اس کو اسلام سے منافی، فحش، ہم جنس پرستی کو فروغ دینے والا، آئین پاکستان کی بنیادی رو کے خلاف، قرآن و سنت سے متضاد اور ہمارے معاشرتی اقدار کی توہین قرار دے رہا ہے. تو دوسرا طبقہ اس کو خواجہ سراؤں کے بنیادی حقوق، ان کے دیرینہ مسائل کا حل، ان کی جدوجہد کا ثمر، ان کے معاشرے میں ایک انسان ہونے کی حیثیت کو تسلیم کرنا، ان کو جائیداد، جنس، نوکری، کاروبار اور دیگر حقوق کی ضمانت قرار دے رہا ہے. محمد رحیل کے مطابق: اس بل کا اگر جائزہ لیں تو یہ واقعی اسلام کے منافی نہیں، اسلام نے واضح طور پر اصول دیا ہے کہ جو مردوں کے زیادہ قریب ہوں اس کو مردوں جیسے اور جو عورتوں کے زیادہ قریب ہوں انہیں عورتوں جیسے حقوق دیے جائیں.انہیں وہ مکمل حقوق دیے ہیں جو دیگر انسانوں کے لیے ہیں تو پھر ان کو ایسے حقوق دینے کی کوئی کیونکر مخالفت کرسکتا ہے؟