Baaghi TV

Author: +9251

  • عمران خان کے قافلے کی گاڑی میں آگ لگنے کے واقع کی تحقیقات شروع

    عمران خان کے قافلے کی گاڑی میں آگ لگنے کے واقع کی تحقیقات شروع

    پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ایک ٹیم نے روات تھانے کا دورہ کر کے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے اسکواڈ کی ایک گاڑی کا معائنہ کیا جسے 3 ستمبر 2022 کو گجرات میں ایک عوامی جلسے کے بعد واپس پر اسلام آباد جاتے ہوئے آگ لگ گئی تھی۔

    ڈان کے مطابق: پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم نے منگل کو صدر ڈویژن کے ایس پی احمد زونیر چیمہ اور ڈی ایس پی کے ہمراہ آگ لگنے کی وجہ جاننے کے لیے تھانے کا دورہ کیا، ماہرین نے تباہ شدہ گاڑیوں سے کچھ نمونے اکٹھے کیے حالانکہ اندر سے وہ اپنی اصل حالت میں برقرار ہے، ماہرین کچھ کاغذی کارروائی کے بعد تھانے سے چلے گئے۔

    پولیس یا ریسکیو 1122 کی جانب سے آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم ابتدائی طور پر پولیس نے آگ لگنے کی وجہ بجلی کا شارٹ سرکٹ قرار دیا ہے۔ ایک سینئر پولیس اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد آگ لگنے کی اصل وجہ کا پتہ چل سکے گا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ تخریب کاری کا عمل نہیں لگتا ہے لیکن پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے بعد آگ لگنے کی اصل وجہ واضح ہو جائے گی۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے اسکواڈ کی گاڑی میں بظاہر برقی شارٹ سرکٹ کی وجہ سے 3ستمبر کو تھانہ روات کے قریب گجرات میں عوامی جلسے کے بعد اسلام آباد واپس آتے ہوئے آگ لگ گئی۔ گاڑی میں سفر کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی سے چھلانگ لگانے دی تھی جس کی بدولت حادثے میں کوئی بھی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔ پی ٹی آئی چیئرمین کے قافلے نے اسلام آباد کی جانب سفر جاری رکھا تھا تاہم تباہ شدہ گاڑی کو جی ٹی روڈ سے ہٹا کر تھانے کے باہر کھڑا کر دیا گیا۔

    پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم پنجاب ہاؤس اسلام آباد کی جلی ہوئی گاڑی کا معائنہ کرنے کے بعد جائے وقوع سے چلی گئی، گاڑی کو 10 دن بعد تھانے کے اندر منتقل کر دیا گیا، فرانزک ایجنسی کی ٹیم نے بارش کے موسم میں اتنی اہم گاڑی کو کسی حفاظت کے بغیر کھلے میں پارک کرنے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

  • وزیر اعظم ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان پہنچ گئے

    وزیر اعظم ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان پہنچ گئے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او ) کے سربراہانِ مملکت کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے 2 روزہ دورے پراسلام آباد سے ازبکستان پہنچ گئے۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ سمرقند ایئرپورٹ پہنچنے پر ازبکستان کے وزیر اعظم عبداللہ اریپوف نے وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کیا. وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ (سی ایچ ایس) کے 22ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان کے 2 روزہ دورے پر سمرقند پہنچے ہیں۔

    ازبکستان کے 2 روزہ دورے کے لیے سمرقند اپنی روانگی سے قبل وزیر اعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے متعلق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک پیغام میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی بدحالی نے ایس سی او رکن ممالک کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت کا اجاگر کیا ہے۔


    انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایس سی او وژن’ دنیا کی 40 فیصد آبادی کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ‘شنگھائی اسپرٹ’ کے اپنے عزم کا اعادہ کرتاہے، باہمی احترام و اعتماد مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کےمیڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم سمرقند ایئر پورٹ سے حضرت خضر کمپلیکس جائیں گے جہاں وہ نہ صرف مسجدِ خضر بلکہ اسلام کاری-موف کے مزار پر بھی جائیں گے جس کے بعد وزیرِ اعظم صدر تاجکستان امام علی رحمٰن ،صدر ازبکستان شوکت مرزیوف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کریں گے۔


    وزیرِ اعظم ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، بیلا روس کے صدرالیگزینڈر گریگوری-وچ لوکا-شینکو اور صدر کرغستان سیدر جاپاروف سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیرِ اعظم ازبک صدر کی طرف سے سربراہانِ ممالک کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے میں شرکت کریں گے۔ عشائیے کے بعد وزیرِ اعظم ترکیہ کے صدر رجب طیب اردون سے بھی ملاقات کریں گے۔

  • استعفوں کی منظوری کا معاملہ: پی ٹی آئی نے عدالت میں مکمل اپیل جمع کرا دی

    استعفوں کی منظوری کا معاملہ: پی ٹی آئی نے عدالت میں مکمل اپیل جمع کرا دی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے ارکان کے استعفوں کی منظوری سے متعلق فیصلے کیخلاف مکمل اپیل جمع کرادی۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں پی ٹی آئی نے پارٹی ارکان کے مرحلے وار استعفوں کے عمل اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی دائر درخواست میں عدالت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرنے اوراسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی جانب سے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے عوام سے تازہ مینڈیٹ لینے کے لئے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔سابق ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری نے اسمبلی فلور پر پی ٹی آئی کے 125 ارکان کے استعفے منظور کرنے کا اعلان کیا۔اسپیکر راجا پرویز اشرف نے استعفے منظور کرکے طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے استعفے کی واپسی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے والے کراچی سے منتخب رکن قومی اسمبلی شکور شاد کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس بھیج دیا تھا. پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی اور ایڈیشنل جنرل سیکریٹری عمران اسمٰعیل کی جانب سے بھیجے جانے والے شو کاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ (شکور شاد) نے اپنے ہاتھ سے لکھا گیا استعفیٰ جمع کروایا تھا اور اسے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی پوسٹ کیا تھا۔

    شوز کاز نوٹس میں مزید بتایا گیا کہ شکور شاد نے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی سابق ممبر قومی اسمبلی لکھا ہوا ہے۔

    اسی طرح یہ بھی لکھا گیا کہ آپ نے این اے 246 کے ضمنی انتخاب کے لیے بطور کورنگ امیدوار الیکشن کمیشن آف پاکستان میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے اور اسکرونٹی کے لیے بھی پیش ہوئے تھے۔

  • 10 روز میں انٹر بینک میں ڈالر 17 روپے مہنگا

    10 روز میں انٹر بینک میں ڈالر 17 روپے مہنگا

    10 روز میں انٹر بینک میں ڈالر 17 روپے مہنگا

    کئی روز سے جاری ڈالر کی اونچی اڑان نہ رک سکی اور جمعرات کو بھی ڈالر کی قدر میں اضافے کا سفر جاری رہا۔

    جمعرات کوانٹربینک مارکیٹ میں ڈالر1 روپے 68 پیسے مہنگا ہوکر 236 روپے کا ہوگیا۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت 240 روپے سے بھی تجاوز کرگئی۔ کرنسی مارکیٹس میں ڈالر کی قدر میں مسلسل دسویں روز اضافہ ہوا ہے۔ 10 روز میں انٹر بینک میں ڈالر 17 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 2 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    ڈیلرز کا کہنا تھا کہ امپورٹرز کو بینکوں سے ڈالرز دستیاب نہیں ہیں،قیمت بڑھتی دیکھ کر ایکسپورٹرز نے اپنے ڈالرز روک لئے ہیں۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد درآمدی ضروریات کیلٸے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور آئی ایم ایف کی ایکسچینج ریٹ کو فری فلوٹ رکھنے کی شرط نے بھی صورتحال دشوار کردی ہے۔
    مزید یہ پڑھیں: بغاوت کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور
    گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف (IMF) کی جانب سے پاکستان کو1 ارب 16 کروڑ ڈالر قرض مل گیا، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس سے روپے کی گرتی قدر کو سہارا ملے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ڈالر کو لگام نہ دی جاسکی۔ گذشتہ چند روز سے ملک کی کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر سمیت دیگرغیرملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ بے قدری کا شکار رہا۔

    کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ ڈالر کی طلب میں مسلسل اضافہ اس کی قدر میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ڈالر کی طلب کے مقابلے میں فراہمی آدھی بھی نہ ہونے کے باعث ڈالر مسلسل مہنگا ہورہا ہے۔ نجی ٹی وی سے بات کرتےہوئے امپورٹرعبدالرؤف کا کہنا تھا کہ بینکوں سے ڈالر دستیاب نہیں ہیں اوربلیک مارکیٹ کا حجم بڑھ رہا ہے۔

  • بغاوت کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور

    بغاوت کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغاوت کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔عدالت نے شہباز گل کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بغاوت مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ملزم کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا ہے کہ شہباز گل کی درخواست ضمانت ایڈیشنل سیشن جج نے مسترد کی تھی۔مقدمہ میں 14 دفعات لگائی گئیں ہیں۔تفتیش مکمل ہو چکی ہے، برآمدگی اور کوئی نہیں کرنی۔

    انہوں نے دلائل دیے ہیں کہ ایک تقریر پر شہباز گل کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔شہباز گل کیس خارج کرنے کی درخواست بھی زیر التوا ہے۔ شہباز گل پی ٹی آئی حکومت میں معاون خصوصی تھے۔شہباز گل کو حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان کا چیف آف ا سٹاف بنا دیا گیا۔شہباز گل حکومت پر بہت تنقید کرتے ہیں۔
    دلائل پرچیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہباز گل کے وکیل کو سیاسی بات کرنے سے روک دیا، کہاآپ قانونی نکات پر دلائل دیں۔شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنا یا۔

    وکیل کا کہناہے کہ پورا کیس ایک تقریر کے اردگرد گھومتا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ ساری باتیں شہباز گِل نے کہی تھیں؟ کیا ان تمام باتوں کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟

    انہوں نے ریمارکس دیے کہ کیا سیاسی جماعت کے ایک ترجمان کے ان الفاظ کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟ کیا سیاسی جماعتوں کو آرمڈ فورسز کو سیاست میں دھکیلنا چاہیے؟یہ صرف تقریر نہیں ہے۔

    وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کی گفتگو کا کچھ حصہ نکال کر سیاق و سباق سے الگ کر دیا گیا۔شہباز گل نے کہیں بھی فوج کی تضحیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔شہباز گل نے اپنی گفتگو میں مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت کے نام لئے۔مقدمہ میں بدنیتی سے اور منصوبے کے تحت یہ تمام باتیں نکال دی گئیں۔
    انہوں نے کہا ہے کہ شہباز گِل کے ریمانڈ کو بہت متنازعہ بنایا گیا۔ بغاوت کی دفعات نے مقدمہ کو بھی متنازعہ بنا دیا۔ٹرائل کورٹ نے کہا کہ 13 میں سے 12 دفعات شہباز گل پر نہیں لگتیں۔شہباز گل کی ساری گفتگو سٹریٹیجک میڈیا سیل سے متعلق تھی۔

    دلائل میں کہا آرمڈ فورسز کی طرف سے مقدمہ درج کرانے کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں۔شہباز گل پر مقدمہ میں بغاوت کی دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔ ٹرائل کورٹ نے تو پراسیکیوشن کا کیس ہی ختم کر دیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتوں نے نفرت کو کس حد تک بڑھا دیا، اس تقریر کو دیکھ لیں۔یہ گفتگو بتاتی ہے کہ نفرت کو کس حد تک بڑھا دیا گیا ہے۔یہ عدالت پی ٹی ایم کے خلاف بغاوت کیس میں تفصیلی فیصلہ دے چکی ہے۔

    انہوں نے کہا شہباز گل کا بیان غیرمناسب تھا اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔شہباز گل کا بیان ہتک آمیز بھی تھا، لوگوں کی عزتیں نہیں اچھالنی چاہئیں۔شہباز گِل پر لگائی گئی دفعات کیسے غلط ہیں؟
    پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہااگر اس طرح معافی قبول کی جائے تو قتل کرنے والا بھی ٹرائل کورٹ سے معافی مانگ لے۔ چیف جسٹس نے مکالمے میں کہا۔بغاوت کالونیل قانون ہے اس پر دلائل نہ دیں۔یہ عدالت بغاوت کو نہیں مانتی، اسے چھوڑ کر باقی دفعات پر دلائل دیں۔

    پراسیکیوٹر نے بتایا کہ شہباز گل کے تھورایا فون کی فرانزک کی رپورٹ آنا باقی ہے۔شہباز گِل کا موبائل ڈرائیور لے گیا آج تک موبائل فراہم نہیں کیا گیا۔شہباز گل پراسیکیوشن کے ساتھ تفتیش میں بالکل تعاون نہیں کر رہا۔
    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پچھلی جو حکومت تھی اس نے بھی بغاوت کے مقدمات بنائے، موجودہ بھی بنا رہی ہے۔ شہباز گِل کی تقریر کے بعد انوسٹی گیشن میں کسی سے رابطے کا پتہ چلا؟ کیا ابھی تک شہباز گِل کے خلاف کوئی متضاد مواد سامنے آیا ہے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔

  • اسلام آباد سمیت ملک  کے تمام بڑے شہروں میں ڈینگی کے وار جاری، مریضوں میں اضافہ

    اسلام آباد سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں ڈینگی کے وار جاری، مریضوں میں اضافہ

    اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، لاہور اور خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے وار جاری، مریضوں میں اضافہ
    باغی ٹی وی اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، لاہور اور خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے وار جاری ہیں اور مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نجی ٹی وی کی خبر کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈینگی کے مزید 128 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد زیر علاج مریضوں کی تعداد بڑھ کر 553 ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں ڈینگی سے متاثرہ چار افراد کی اموات بھی ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

    اعداد و شمار کے تحت صوبہ پنجاب میں صرف ایک دن کے اندر 164 نئے مریضوں نے اسپتالوں کا رخ کیا ہے، نئے مریضوں میں سے 67 کا تعلق لاہور سے ہے جب کہ 63 راولپنڈی اور 13 گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق خانیوال، ساہیوال، وہاڑی اور فیصل آباد سے بھی دو/ دو نئے ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں: شہباز گل کیس: چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہباز گل کے وکیل کو سیاسی بات کرنے سے روک دیا
    عوام جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کے ساتھ تعاون کریں -عبدالحنان
    صوبہ خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے 205 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ رواں سال اب تک ڈینگی کے صوبے میں 3210 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جب کہ چار مریضوں کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ سندھ کے محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے 161 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    سرکاری اعلامیہ کے مطابق اعداد و شمار کے تحت ضلع وسطی میں 48، ضلع شرقی میں 36، ضلع کورنگی میں 32، ضلع جنوبی میں 25 اورضلع غربی میں 4 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔ صوبائی محکمہ صحت کے مطابق ستمبر میں اب تک ایک ہزار 66 کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں، مجموعی طور پر شہر قائد میں سال رواں کے دوران اب تک 3434 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ ڈینگی سے متاثرہ 9 مریضوں کی اموات ہوئی ہیں۔

  • سیلاب سے متاثر ہونے والی بجلی کی 2 ٹرانسمیشن لائنز بحال

    سیلاب سے متاثر ہونے والی بجلی کی 2 ٹرانسمیشن لائنز بحال

    نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) نے سیلاب سے متاثر ہونے والی 220 کلووٹ کی لائن بحال کردی جس کے بعد بلوچستان کو بجلی کی سپلائی بحال ہوگئی۔

    این ٹی ڈی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ماہرین نے دو ٹرانسمیشن لائنز کو بیک وقت بحال کر دیا، سیلاب سے متاثرہ 220 کے وی سبی – کوئٹہ ٹرانسمیشن لائن بحال ہوگئی جس کے بعد بلوچستان کو بجلی کی سپلائی کا ایک اور ذریعہ بحال ہوگیا۔ بلوچستان کے علاقہ بی بی نانی میں شدید سیلاب سے ٹرانسمیشن لائن کے 10 ٹاورز متاثر ہوئے تھے۔

    علاوہ ازیں این ٹی ڈی سی نے پورٹ قاسم – مٹیاری ٹرانسمیشن لائن بھی بحال کر دی، ٹرانسمیشن لائن سے 1800 میگاواٹ استعداد کے حامل پورٹ قاسم، لکی پاور پلانٹس سے بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو جائے گیْ رواں ماہ کے پہلے ہفتے نوری آباد سندھ میں تیز آندھی سے ٹرانسمیشن لائن کے 5 ٹاورز متاثر ہوئے تھے۔
    وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) خرم دستگیر اور سیکرٹری پاور ڈویژن راشد محمود لنگڑیال کی ہدایات پر بحالی کا کام فوری شروع کیا گیا۔ ایم ڈی این ٹی ڈی سی انجینئر ڈاکٹر رانا عبدالجبار خان نے دن رات بحالی کے کام کی مسلسل نگرانی جاری رکھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم شہباز شریف
    خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین سے اگست اور ستمبر کے بجلی نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو 35 ارب روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب سے متاثرہ علاقے صحبت پور کا فضائی جائزہ بھی لیا، اس موقع پر انہیں سیلاب کی تباہ کاریوں، متاثرین کی امداد اور تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے جاری کاوشوں سے آگاہ کیا گیا۔

  • ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت ویسٹ منسٹر ہال پہنچا دیا گیا

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت ویسٹ منسٹر ہال پہنچا دیا گیا

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت بکنگھم پیلس سے ویسٹ منسٹر ہال پہنچا دیا گیا۔دعائیہ تقریب میں شاہ چارلس سوم اور شاہی خاندان کے دیگر افراد شریک ہوئے۔

    آج شام سے عوام ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرسکیں گے، عوامی خراج عقیدت کے لیے ملکہ کا تابوت چار دن تک یہیں رہے گا۔ملکہ کے تابوت کو گزشتہ روز ایڈنبرا سے لندن لایا گیا تھا، ملکہ کی آخری رسومات 19 ستمبر کو مکمل ہوں گی۔

    ملکہ برطانیہ کا تابوت بکنگھم پیلس سے نکلنے پر برطانوی افواج کے دستے نے خراج عقیدت پیش کیا، گن کیرج پر رکھے تابوت کے پیچھے چلنے والوں میں شاہ چارلس اور ان کے بہن بھائی شامل تھے۔

    پرنسس این، پرنس اینڈریو اور پرنس ایڈورڈ تابوت کے پیچھے چلتے رہے، جبکہ پرنس ولیم اور پرنس ہیری سمیت شاہی خاندان کے دیگر افراد بھی جلوس میں شامل تھے۔جلوس نکلنے پر ہائیڈ پارک سےتوپوں سے گولے داغےگئے اور بگ بین کی گھنٹیاں بجائی گئیں۔

    ملکہ کے تابوت کو دیکھنے کیلئے لاکھوں افراد سینٹرل لندن میں موجود ہیں جبکہ لندن کے مختلف مقامات پر بڑی اسکرینیں بھی لگائی گئی ہیں۔

  • پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ بل 2021 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ بل 2021 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود بلدیاتی حکومت (لوکل گورنمنٹ) بل 2021 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایوان کے اجلاس میں بل صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور راجہ بشاور نے پیش کیا، جس پر اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی البتہ اسپیکر نے اجلاس کو جاری رکھا۔اسپیکر کی جانب سے اجلاس جاری رکھنے پر اپوزیشن اراکین بینچوں پر کھڑے ہوئے اور شور شرابہ کیا اس دوران ایوان نے کثرت رائے سے لوکل گورنمنٹ بل 2021 کو منظور کرلیا۔اپوزیشن اراکین نے الزام عائد کیا کہ لوکل گورنمنٹ بل 2021 پیش کرنے کے لئے قوانین معطل کیے گئے، جو غیرآئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔

    سمبلی سے منظور ہونے والے بلدیاتی بل کے مطابق پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، صوبے میں پچیس ضلع کونسل اور گیارہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن ہوں گی، میٹروپولیٹن کارپوریشن کا سربراہ مئیر ہوگا اور عوام براہ راست ووٹ سے مئیر کا انتخاب کر سکیں گے۔

    بل کے مطابق دیہاتوں اور شہروں میں یونین کونسل بنیں گی، تحصیل کونسل اور ٹاونز نئے بلدیاتی ایکٹ میں ختم کردئیے گئے، پنجاب کے ہر گاؤں میں ایک ویلج پنچائت کونسل ہوگی، ہر ضلع میں ضلعی کابینہ ہوگی جبکہ تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، واسا، پی ایچ ایز میٹرو پولٹین کے میئر کےماتحت ہوں گی۔

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ الیکشن تک پارٹی قائد نواز شریف پاکستان واپس آجائیں گے اور انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ لوگ سیلاب کا شکار ہیں، ایوان وزیراعلیٰ میں تیتر اور بٹیر اُڑائے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی کے پاس بنی گالہ جانے کا وقت ہے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے نہیں۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جو وزیراعلیٰ زمینوں پر قبضے کرے گا اسے ڈاکو ہی کہنا چاہیے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ایل ڈی اے میں اپنے بندے لگا کر زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں، ایک صوبائی وزیر زمینوں پر قبضے کی سرپرستی کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی، شیخ رشید، شیریں مزاری، فرح گوگی کو کلین چٹ دے دی گئی۔
    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں یک جنبشِ قلم دہشت گردی کے مقدمات ختم کر دیے گئے، ہمارے ارکان اپنی ضمانتیں کروا کر شامل تفتیش ہو رہے ہیں۔

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پرویز الہٰی سے زیادہ انتقامی شخص زندگی میں نہیں دیکھا۔

    ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پنجاب میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا نوٹس لے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی کو صرف دو ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے، ہماری پارٹی نے ابھی پنجاب حکومت گرانے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔

  • وزیر داخلہ کا لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے پر تحقیقات کا اعلان

    وزیر داخلہ کا لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے پر تحقیقات کا اعلان

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے پر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کروائیں گے۔

    وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ اور وفاقی وزیر اکنامک افیرز سردار ایاز صادق نے ایم کیو ایم رہنماؤں وفاقی وزیر امین الحق اور خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی یقین دہانی کروائی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت سے مل کر واقعے کی تحقیقات کروائیں گے،ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے اور ان کے خلاف سخت ایکشن لیں گے۔

    قبل ازیں لیاری سے3 سال قبل لاپتہ ہونے والے شخص کی لاش عمر کوٹ سے مل گئی۔3 سال قبل لیاری سے لاپتہ ہونے والے سہیل عرف سمیع ولد حسن کی لاش عمر کوٹ سے مل گئی ہے ۔ ایس ایس پی سٹی شبیر سیٹھار کے مطابق 2019 میں سہیل عرف سمیع کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ بغدادی تھانے میں درج کیا گیا تھا۔

    عمر کوٹ پولیس نے بغدادی پولیس سے رابطہ کرلیا ہے ، ایس ایچ او بغدادی کےدعوے کے مطابق سہیل عرف سمیع کا تعلق لیاری گینگ وارعزیز بلوچ گروپ سے تھا اور اس کے خلاف بغدادی تھانے میں 10 مقدمات بھی درج ہیں جن میں وہ پولیس کو مطلوب تھا۔
    انھوں نے بتایا کہ متوفی سہیل کی لاش ملنے کے بعد اہلخانہ کا عمر کوٹ پولیس سے رابطہ ہو گیا ہے اور متوفی کے اہلخانہ میت وصول کرنے کے عمر کوٹ روانہ ہو گئے ہیں ۔

    دوسری طرف عمرکوٹ میرپورخاص روڈ پر سڑک کنارے ملنے والی دوسری لاش کی شناخت کراچی کے رہائشی راجو کے نام سے ہوئی۔

    ذرائع ایم کیوایم کے مطابق متوفی راجو ایم کیو ایم شاہ فیصل کالونی کراچی کا کارکن اور گزشتہ دس سال سے لاپتہ تھا۔ادھر کراچی سے سات سال پہلے لاپتہ ہونے والے ایم کیو ایم کے ایک اور کارکن عابد عباسی عرف عابد چیئرمین کی نوابشاہ سے لاش برآمد ہوئی۔