Baaghi TV

Author: +9251

  • انصاف اکیڈمی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا، نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلبا مستفید ہوں گے

    انصاف اکیڈمی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا، نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلبا مستفید ہوں گے

    صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کا انصاف اکیڈمی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انصاف اکیڈمی کی شکل میں ایک ایسا ای لرننگ پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ دورِ جدید میں طلبا انصاف اکیڈمی جیسے منصوبوں کی مدد سے گھر بیٹھے معیاری تعلیم کے حصول میں بھرپور مدد حاصل کر سکیں گے۔

    صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے بتایا کہ آغاز میں انصاف اکیڈمی کے قیام سے نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلبا مستفید ہوں گے جبکہ اس پلیٹ فارم کو مرحلہ وار دیگر طلبا کے لئے بھی کھولا جائے گا۔ مراد راس نے یہ بھی کہا کہ پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ نے انصاف اکیڈمی کے قیام کیلئے بہت محنت سے کام کیا ہے۔ انصاف اکیڈمی کے پورٹل پر ہمارے بچوں کے لئے زبردست تعلیمی مواد موجود ہے اور اس آن لائن پورٹل کی مدد سے پاکستان بھر کے بچے بھی مستفید ہو سکیں گے۔

    مراد راس کا کہنا تھا کہ انصاف اکیڈمی پورٹل پر بچے والدین کی نگرانی میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ بھی دے سکتے ہیں اور اس پورٹل کے قیام سے اکیڈمی اور ٹیوشن کلچر کی بڑے پیمانے پر نفی ہو گی۔ صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب کی بدولت پنجاب میں 1 ہزار سے زائد سرکاری سکول متاثر ہوئے تھے جن میں سے اب تک 500 کے قریب بحال ہو چکے۔انصاف اکیڈمی کے قیام سے سیلاب سے متاثرہ بچے بھی گھر بیٹھے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

    وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب مراد راس نے محکمہ تعلیم پنجاب میں گزشتہ چار سال کے دوران شروع ہونے والے منصوبوں کے حوالے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شدید اندرونی و بیرونی مخالفت کے باوجود محکمہ تعلیم پنجاب کا اپنا ڈیٹا سینٹر تیار کیا جو آج مکمل طور پر فعال ہے۔ گزشتہ ادوار میں دانستہ طور پر محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کو پیچھے دھکیلا گیا کیونکہ ہمارے سیاسی مخالفین نہیں چاہتے کہ ہماری آنے والی نسلیں پڑھی لکھی ہوں۔ مراد راس نے کہا کہ 2018 میں جب وزارت ملی تو میرے دفتر کے باہر تبادلوں کے لئے روزانہ درجنوں افراد موجود ہوتے تھے۔ ہم نے حکومتی خزانے سے ایک روپیہ خرچ کئے بغیر اساتذہ کے تبادلوں کے لئے ای ٹرانسفر سسٹم متعارف کرایا جس کی بدولت آج تک لاکھوں اساتذہ مستفید ہو چکے۔

    مراد راس نے مزید کہا کہ اساتذہ کے لئے چھٹیوں اور اے سی آرز کے نظام کو بھی مکمل طور پر آن لائن کیا گیا اور اساتذہ کی بھرپور سہولت اور آسانی کے لئے ریٹائرمنٹ کا نظام بھی آن لائن ہو چکا۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ اساتذہ کیلئے تیار کئے گئے ریٹائرمنٹ نظام کی بدولت اب تک 15 ہزار سے زائد اساتذہ بغیر کسی دشواری کے گھر بیٹھے با آسانی آن لائن ریٹائرمنٹ سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے۔

    مراد راس نے یہ بھی کہا کہ محکمہ تعلیم پنجاب میں آن لائن نظام متعارف کروانے سے سالانہ 10 ارب روپوں کی کرپشن کا خاتمہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال سے سب سے زیادہ فائدہ گزشتہ چند سالوں میں محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے حاصل کیا۔ مراد راس کا یہ بھی کہنا تھا کہ انصاف آفٹرنون سکولز پروگرام کے تحت 7 ہزار سے زائد سکولوں کو اپگریڈ کیا گیا اور اس اپگریڈیشن کیلئے ہماری حکومت نے 6.5 ارب روپے خرچ کئے جبکہ اگر یہی کام مسلم لیگ ن جیسی جماعتوں کے طریقے سے ہوتا تو حکومتی خزانے پر کم از کم کُل 295 ارب روپے کا بوجھ ڈالا جاتا اور مکمل کرنے کے لئے تین سال سے زائد کا وقت بھی درکار ہوتا۔

    صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ٹرانسجینڈرز کے لئے الگ سکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور ان سکولوں میں بھرتی کئے جانے والے اساتذہ بھی اُسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مراد راس نے کہا کہ اساتذہ اور بچوں کی زندگی آسان بنانے کے لیے اسی رفتار سے کام کرتے رہیں گے۔ ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں کہ اساتذہ کی مکمل توجہ انتظامی مسائل کی بجائے صرف اور صرف ہمارے بچوں کو پڑھانے پر ہو. انصاف اکیڈمی کی لانچنگ تقریب میں سیکریٹری محکمہ سکول ایجوکیشن وقاص علی محمود، ایم ڈی پی سی ٹی بی ڈاکٹر فاروق منظور، سیکریٹری پی سی ٹی بی محمد رزاق، چئیرپرسن دانش سکولز سمیرا احمد، سی ای او دانش سکولز احمر ملک، ڈائریکٹر جنرل قائد، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ تعلیم و دیگر موجود تھے۔ لانچنگ تقریب کا آغاز تلاوت کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبول، اور قومی ترانے سے کیا گیا اور اس کا انعقاد قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ ہیڈکوارٹر ِلنک وحدت روڈ لاہور پر کیا گیا۔

  • پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم

    پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ پاکستان کو عظیم تر ملک بنانا ہے تو یہ کام مشکل ضرور ہے تاہم ناممکن نہیں، بار اور بنچ اگر اکھٹے نہیں ہوں گے تو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بات کون کرے گا، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے ہم سب نے اپنا کردار اداکرنا ہوگا، اگر ہم نے اپنے آپ کو نہ بدلا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی.

    وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کئے معاہدے کی پاسداری نہیں کی،75 سال بعد آج بھی کشکول اٹھائے پھر رہے ہیں اور ہمارے ہمسائے ہم سے معاشی اور سماجی اعتبار سے بازی کے گئے، وکلا کو الاٹمنٹ لیٹرز کے حصول پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، اگر ہم کمر باندھ لیں تو پاکستان ایک عظیم ملک بن جائے گا تاہم یہ تقاریر سے نہیں عمل اور عزم سے ہو گا، یہاں وسائل، اذہان، انسانی قوت موجود ہے، سردیوں میں گیس کے انتظام میں لگے ہیں، جب گیس سستی ترین تھی ہم نے پرواہ نہیں کی، دنیا نے طویل المدتی معاہدے کئے، آج 40 سنٹ میں گیس مہنگی مل رہی ہے، آپ ایسے پیشہ سے وابستہ ہیں جو باوقار ہے۔

    وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وکلاء کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے اور ایک مکمل ضابطہ کے تحت قرعہ اندازی کے بعد الاٹیز میں الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کئے گئے، اس ہائوسنگ کالونی میں پلاٹ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، وزیر قانون اور وزیر ہائوسنگ نے اس ضمن میں بھرپور کام کیا، اب یہ پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اس ہائوسنگ سکیم میں ترقیاتی کاموں کے حوالہ سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پورے ملک میں سیلاب نے ایک تباہی مچائی ہوئی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء نے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی شدید تباہی کا مشاہدہ کیا ہو گا، یہ قدرتی آفت ایک ایسے وقت میں آئی جب پہلے ہی ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا، حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اور معاشی عدم استحکام کو کسی حد تک کنٹرول کیا لیکن مہنگائی اپنے عروج پر ہے، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں، 11 اپریل کو جب حکومت تبدیل ہوئی تو ڈیڑھ ماہ ہم فیصلے کرنے میں شش و پنج کا شکار تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ میں یہاں سیاست نہیں قومی امور پر بات کرنے کیلئے آیا ہوں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی گذشتہ حکومت نے پاسداری نہیں کی اور بری طرح اس کی دھجیاں بکھیریں جس پر آئی ایم ایف نے گذشتہ حکومت کی طے کردہ شرائط پر عملدرآمد سے پروگرام کو مشروط کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وکلاء برادری کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ کیا آج 75 سال بعد پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے کیا پاکستان اس لئے معرض وجود میں آیا تھا اور قائداعظم جو ایک ماہر قانون دان تھے انہوں نے جس بصیرت اور وژن کے ساتھ علامہ اقبال کے ساتھ مل کر پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور اس کیلئے عظیم تحریک چلائی تھی اور لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی ان قربانیوں کے طفیل پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا دورہ کیا، اس وقت بھی اس علاقہ میں پانی کھڑا ہے، پٹ فیڈر کینال کی بھل صفائی کیلئے اقدامات جاری ہیں، وہاں لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا، لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں سے بچھڑ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، آپ سے استدعا ہے کہ آپ ملک میں قانون کی حکمرانی اور پاسداری چاہتے ہیں اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں نظریہ ضرورت بھی دریافت ہوا، پاکستان ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں وکلاء نے اپنی عظیم تحریک سے ججز بحالی کی تحریک چلائی، وکلاء کو یہ مقام جدوجہد سے ملا ہے، انہوں نے اس کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں، ان تمام تر ترجیحات اور کامیابیوں کے بعد آج 75 سال بعد ہم ایک دائرے میں ہی چل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جوہری طاقت ہونے کے بعد پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے لیکن معاشی اعتبار سے بہت سے چھوٹے ممالک ہم سے آگے نکل چکے ہیں، آج 75 سال بعد بھی ہم کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس سے چولہے بھی جلتے ہیں، گاڑیاں بھی چلتی ہیں اس کی قلت کا سامنا ہے، قوم ہم سے یہ سوال پوچھتی ہے کہ قائداعظم کا خواب آج بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا اور آج بھی ہم اس ملک کے اندر غربت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، بے روزگاری کے خلاف لڑ رہے ہیں، جن ممالک کے ساتھ ہمارا مقابلہ تھا، ہندوستان میں روپے کی قدر ہم سے کم تھی، آج وہ ہم سے بہت آگے ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام طبقات جو تاریخ کا رخ موڑنے کی استعداد کے حامل تھے ان سے قوم یہ سوال پوچھتی ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے، سیلاب متاثرین کی زندگی مشکلات کا شکار ہے، 6 لاکھ متاثرہ علاقوں کی خواتین حاملہ ہیں، ان کیلئے کتنی مشکلات ہیں، یہاں بیٹھ کر اس کا اندازہ نہیں کر سکتے، سیلاب سے تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں، اس وقت موسم گرم ہے تاہم موسم سرما میں انہیں شدید مشکلات درپیش ہوں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت اب نہیں یا کبھی نہیں والی صورتحال ہے، اگر قوم کو ہم نے فائدہ نہ پہنچایا اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ نہ کیا تو قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ اگر اکٹھے نہیں ہوں گے تو انصاف اور قانون و آئین کی حکمرانی کی بات کون کرے گا، آئین پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف کون کھڑا ہو گا، وکلاء کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے، آج یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ہم سے بعد میں آزاد ہونے قومیں ہم سے آگے کیسے بڑھ گئیں بطور وزیراعظم اس کا جواب سب سے پہلے مجھے دینا ہے، وکلاء سیلاب میں گھرے ان لاکھوں لوگوں کے بارے میں بھی سوچیں جن کے گھر زمین بوس ہو چکے ہیں، جو کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، اس دکھی انسانیت کے بارے میں بھی ضرور سوچیں، اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم نے اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر وکلاء کیلئے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر سینئر وکلاء میں الاٹمنٹ لیٹر بھی تقسیم کئے۔

  • ڈینگی مریضوں کی تعداد میں اضافہ،وزیراعلی بروقت اقدامات نہ کرنے پر برہم

    ڈینگی مریضوں کی تعداد میں اضافہ،وزیراعلی بروقت اقدامات نہ کرنے پر برہم

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے راولپنڈی،لاہور اورگوجرانوالہ میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافے پرگہری تشویش کااظہارکیا ہے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے مریضوں کی تعداد میں اضافے اورمرض کی روک تھام کیلئے بروقت اقدامات نہ کرنے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ حکام سے استفسار کیا کہ جب غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی تھی تو اس وقت انسداد ڈینگی پیشگی اقدامات کیوں نہ اٹھائے گئے۔ صورتحال کا بروقت ادارک کرکے ہنگامی طورپر حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے تھی۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے وبائی امراض کی بروقت روک تھام کیلئے سینٹرآف ڈیزیز کنٹرول کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ محکمہ صحت،ریسکیو1122 اورمتعلقہ ادارے مشاورت سے وبائی امراض کی روک تھام کیلئے سینٹرآف ڈیزیزکنٹرول کے قیام کیلئے ایکٹ کو حتمی شکل دیں۔پنجاب حکومت وبائی امراض کی روک تھام کے لئے سینٹرآف ڈیزیز کنٹرول کے قیام کیلئے ایکٹ کو پنجاب اسمبلی سے منظور کرائے گی۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول کے قیام کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس اقدام سے صوبے میں ڈینگی،کورونا،ہیضہ،ٹائیفائڈ اوردیگر وبائی امراض کی روک تھام میں مدد ملے گی اورسینٹر آف ڈیزیزکنٹرول کے قیام سے وبائی امراض پر قابو پانے کیلئے فائر فائٹنگ نہیں کرنا پڑے گی۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے صوبہ بھر خصوصاً ہائی رسک اضلاع میں جنگی بنیادوں پر انسداد ڈینگی کے اقدامات کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے انسداد ڈینگی کیلئے رکھے گئے عارضی سٹاف کومستقل کرنے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ انسداد ڈینگی کے عارضی سٹاف کو مستقل کرنے کیلئے قواعد و ضوابط کے تحت سمری پیش کی جائے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے انسداد ڈینگی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر فوگنگ مشینیں خریدنے کا حکم دیتے ہوئے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی کہ فوگنگ مشینیں 7روز میں خرید کر رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ میں انسداد ڈینگی کیلئے کیے گئے اقدامات کا باقاعدگی سے جائزہ لوں گا۔ضلع کی سطح پر ڈپٹی کمشنرزروزانہ کی بنیاد پر میٹنگز کریں اوروزٹ کر کے خود صورتحال کا جائزہ لیں۔میٹنگز اوروزٹ کی رپورٹ وزیراعلیٰ آفس بھجوائی جائے۔انہوں نے کہا کہ اتوار اوردیگرتعطیلات کے دوران بھی انسداد ڈینگی کیلئے کام جا ری رکھاجائے۔ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں پر پوری توجہ دی جائے اورانہیں تمام ضروری طبی سہولتیں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے پنجاب بھر خصوصاً راولپنڈی،لاہور اورگوجرانوالہ میں موثرانڈوراورآؤٹ ڈور سرویلنس کا حکم دیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت آج وزیراعلیٰ آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبے میں ڈینگی کی صورتحال اورمرض پر قابو پانے کیلئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر یاسمین راشد،سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی، چیف سیکرٹری کامران افضل، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، کمشنر لاہور ڈویژن، ڈپٹی کمشنر لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے، ڈی جی ریسکیو 1122، ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب، پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکرم، ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، چیف ایگزیکٹو آفیسرز ڈی ایچ اے، سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب، ڈی جی آر ڈی اے اورایم ڈی واسا راولپنڈی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

  • پلڈاٹ نے صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی

    پلڈاٹ نے صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی

    چوتھے پارلیمانی سال میں پلڈاٹ کی طرف سے صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی۔ خیبرپختونخوا اسمبلی نے سب سے زیادہ اجلاس بلائے۔

    پلڈاٹ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس 60 دن ہوئے، کے پی اسمبلی نے دیگر صوبائی اسمبلیوں کے مقابلے میں زیادہ دن کام کیا۔بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کا اجلاس 53 دن ہوا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس 42 دن جبکہ سندھ اسمبلی کے سب سے کم 41 دن اجلاس ہوئے۔

    ایک سال میں ہر اسمبلی اجلاس کے اوقات کار کی تعداد مجموعی طور پر بہت کم ہے۔خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس 126.05 گھنٹے جبکہ سندھ اسمبلی کے اجلاس 111.51 گھنٹے جاری رہے۔

    بلوچستان اسمبلی کے اجلاس 91.10 گھنٹے جاری رہے جبکہ پنجاب اسمبلی اجلاس سب سے کم صرف 76.31 گھنٹے ہوئے۔بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ نے اسمبلی اجلاسوں میں سب سے زیادہ 30 فیصد شرکت کی۔

    جام کمال خان نے 2 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی جبکہ میر عبدالقدوس بزنجو نے 28 فیصد میں شرکت کی۔عثمان بزدار، حمزہ شہباز، پرویز الہٰی کی مشترکہ حاضری 21 فیصد ہے۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے 15 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی، محمود خان نے صرف 8 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے 51.22 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔

    قائد حزب اختلاف بلوچستان ملک سکندر خان نے 50.94 فیصد اجلاسوں میں شرکت کیاپوزیشن لیڈر کے پی کے اکرم خان درانی نے 18 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔سب سے کم حاضری پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی 10 فیصد ہے۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں 60 قوانین منظور ہوئے، پنجاب اسمبلی نے35 بل، سندھ اسمبلی نے 28 بل جبکہ بلوچستان اسمبلی نے27 بل منظور کیے۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں 24 بار کورم کی نشاندہی کی گئی، پنجاب اسمبلی میں 7 بار کورم کی نشاندہی کی گئی۔

    بلوچستان اسمبلی میں 4 بار کورم کی نشاندہی کی گئی، سندھ اسمبلی میں کورم کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

  • کورونا کے وار جاری، اسلام آباد کے اسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں بھرنے لگے

    کورونا کے وار جاری، اسلام آباد کے اسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں بھرنے لگے

    کراچی کے بعد اسلام آباد کے اسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ ہوگیا.

    اسلام آباد کے اسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ ہوگیا، پمز اور پولی کلینک میں بیڈز کی تعداد بڑھا دی گئی۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق پمز میں ڈینگی کے لیے 2 وارڈ مختص کر دیے گئے ہیں، جہاں اس وقت ڈینگی کے 70 مریض زیر علاج ہیں۔

    پولی کلینک اسپتال میں روزانہ 100 سے زائد ڈینگی مریضوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
    پولی کلینک نے ڈینگی او پی ڈی رات 12 بجے تک کھول دی ہے، پولی کلینک میں ڈینگی کے 20 مریض زیر علاج ہیں۔


    دوسری طرف ملک بھر میں کورونا وائرس کے وار جاری ہیں، گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران موذی مرض سے مزید 3 مریض دم توڑ گئے.این آئی اے رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک بھر میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.70 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ مزید تین مریض جاں بحق ہوگئے، 82 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  • میری فلم میں کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں  ہے جمائمہ گولڈ سمتھ

    میری فلم میں کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہے جمائمہ گولڈ سمتھ

    ”جمائما گولڈ سمتھ ” نے اپنی حالیہ ٹویٹر پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”میری فلم میں کوئی پاکستانی دہشت گرد نہیں ہے میں اس بیانیے سے بیزار ہوں”. جمائمہ کے اس ٹویٹ کے بعد پاکستانیو‌ں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ جمائمہ نے جس طرح سے پاکستان کے حق میں ٹویٹ لکھا ہے اس سے ایک نرمی کا تاثر ابھر رہا ہے. جمائما کا کہنا ہےکہ ان کی فلم پاکستان کے لئے پیار اور محبت کا پیغام ہے. اس فلم ( واٹس لَو گوٹ ٹو ڈو ود اٹ ) کا حال ہی میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پریمئیر بھی ہوا ہے پریمئیر میں پاکستانی اداکارہ سجل علی ، انڈین اداکارہ شبانہ اعظمی سمیت عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم خان بھی موجود تھے. یاد رہے کہ فلم واٹس لَو گوٹ ٹو ڈو ود اٹ کی جمائمہ گولڈ سمتھ مصفنہ اور کو

    پرڈیوسر بھی ہیں جبکہ ڈائریکٹر شیکھر کپورہیں جوبالی ووڈمیں مسٹر انڈیا اور بینڈٹ کوئین جیسی فلمیں ڈائریکٹ کرچکے ہیں۔پاکستانی شائقین سجل علی کو ان کے پہلے انٹرنیشنل پراجیکٹ میں دیکھنے کے لئے خاصے بے تاب ہیں . دوسری طرف سجل علی کا بھی کہنا ہے کہ اپنے پسندیدہ اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا خواب سچ ہونے پر وہ بے حد خوش ہیں. سجل علی کا شمار پاکستان کی بہترین اداکارائوں میں ہوتا ہے جبکہ جمائما گولڈ سمتھ کا یہ پہلا تجربہ ہے دیکھنا یہ ہے کہ دنیا بھر کے شائقین اس فلم سے کتنا محظوظ ہوتے ہیں.

  • جس دن میرے بچے کی موت ہوئی میں صبح تک سو نہیں سکی زارا نور عباس

    جس دن میرے بچے کی موت ہوئی میں صبح تک سو نہیں سکی زارا نور عباس

    سینئر اداکارہ اسماء عباس کی بیٹی زارا نور عباس جو کہ اداکار اسد صدیقی کی اہلیہ ہیں انہوں نے حال ہی میں ایک وڈیو شئیر کی ہے اس میں انہوں نے اس تکلیف کو بیان کیا ہے جس سے وہ گزری ہیں. انہوں نے اس تکلیف اور غم کا اظہار کیا ہے جو کسی بھی ماں کے لئے کسی پہاڑ ٹوٹنے سے کم نہیں ہے. زارا نور عباس نے کہا کہ جس روز میرا بچہ دنیا سے چلا گیا یعنی اللہ کو پیارا ہو گیا میں اس رات بہت تکلیف میں رہی تمام رات روتی رہی اور صبح تک سو نہ سکی . میں نے وہ رات یا وہ وقت کیسے گزارا یہ میں ہی جانتی ہوں ، میں شدید تکلیف میں تھی میں اپنا پہلا بچہ کھو چکی تھی جس کے لئے میں بہت خوش تھی. میں ایک ایسے کرب میں مبتلا ہو گئی تھی جس سے نکلنا ناممکن لگ رہا تھا. زارا نور عباس نے

    کہا کہ میں ڈپریشن کی گولیاں لیتی رہی ہوں اور پچھلے سال میں نے ڈپریشن سے چھٹکارا ھاصل کرنے کے ڈپریشن کی دوائیاں لیں. لیکن اب میں نے ایسی دوائیاں کھانا چھوڑ دی ہیں. انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میرے بچے کی موت سے پہلے میں نے ڈاکٹر کو بتادیا تھا کہ میں ڈپریشن کی مریضہ ہوں اور میں اسکی دوائیاں بھی لے رہی ہوں. یاد رہے کہ زارا نور عباس اسد صدیقی سے قبل بھی ایک شادی کر چکی تھیں وہ شادی طلاق کی صورت میں ختم ہوئی .

  • ٹک ٹاکر کنول آفتاب  کی  گود بھرائی کی تصاویر تنقید کی زد میں

    ٹک ٹاکر کنول آفتاب کی گود بھرائی کی تصاویر تنقید کی زد میں

    ٹاکر کنول آفتاب اور ان کے شوہر ذوالقرنین حیدر سوشل میڈیا پر چھائے رہتے ہیں ان کی ٹک ٹاک وڈیوز بہت زیادہ مقبول ہیں انہیں عوام میں خاصی مقبولیت حاصل ہے. کنول آفتاب اور ذوالقرنین حیدر دونوں نے محبت کی شادی کی. کنول آفتاب جو کے پریگنینسی کے عمل سے گزر رہی ہیں ان کی ہوئی گزشتہ روز گود بھرائی. گود بھرائی کی جو تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہیں ان سے محسوس ہوتا ہے کہ ٹک ٹاکر کی یہ رسم بڑے پیمانے پر ہوئی. کنول نے اس موقع پر لال رنگ کا جوڑا زیب تن کر رکھا تھا کنول خاصی خوبصورت لگ رہی تھیں. شادی شدہ اس جوڑے کی تصاویر جب انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری کیں تو ان کے پرستاروں نے ان کو جہاں مبارکبادیں دیں وہیں ان پر تنقید کے نشتر بھی برسائے گئے. بہت

    سارے صارفین نے ان تصاویر کو بے حیائی سے منسوب کیا اور کہا کہ شرم آنی چاہیے اس طرح کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے یہ ہندئوں کی رسمیں ہیں. یاد رہے کہ کنول آفتاب ٹک ٹاکر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معروف ویب سائٹ کے ساتھ بھی منسلک رہی ہیں کافی عرصہ تک وہ بطور میزبان ایک پروگرام بھی کرتی رہی ہیں. دوسری طرف ذوالقرنین حیدر اپنی اہلیہ کنول کے ساتھ وڈیوز تواتر کے ساتھ بناتے اور ٹک ٹاک پر شئیر کرتے رہتے ہیں.

  • مروہ ٹاؤن اسلام آباد میں بجلی کا مسئلہ تاحال حل نہ ہوسکا

    مروہ ٹاؤن اسلام آباد میں بجلی کا مسئلہ تاحال حل نہ ہوسکا

    باغی ٹی وی اسلام آباد: ترلائی کے علاقے مروہ ٹاؤن اسلام آباد میں گیارہ بجے سے لے کر بارہ بجے کے درمیان میں ٹرانسفارم میں دھماکا ہوا اور اسی دوران اہل علاقہ نے واپڈا والوں کو فون کیا اور واپڈا والے آئے لیکن پرسکون ہو کر بیٹھ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ ٹرانسفارمر مکمل طور پر جل جائے۔


    جبکہ ٹاؤن کا مالک اہل علاقہ کو بے یارومددگار چھوڑ کر منظر سے غائب ہوگیا اور واپڈا نے بھی اہل علاقہ کی مدد کرنے کے بجائے کچھ نہ کیاا۔ اہل علاقہ نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ اتنی بڑی تعداد کو نظر انداز نہ کیا جائے اور جلد از جلد مناسب اقدامات کرکے ٹرانسفارم بنوایا نیا لگایا جائے۔

    جب اس حوالے سے شہری چودھری احسن نے ایک ٹوئیٹ کی تو ایسکو نے صرف اتنا کہا کہ اپنا مکمل پتہ ہمیں بتائیں جبکہ عملی طور پر تاحال کچھ نہیں کیا ہے. اہل علاقہ نے باغی ٹی وی کو بتایا محمکہ واپڈہ ہمارے ساتھ بہت بڑی ناانصافی کررہا ہے تاہم باغی ٹی وی جبکہ محمکہ واپڈہ میں ایک اعلی آفسر سے بات کی تو انہوں کہا کہ اس میں وئی شک نہیں کہ محکمہ کرپشن اور ناانصافی بڑھ چکی ہے اور میں اس ادارے میں ہوتے ہوئے مجبور ہوں کہ کیا کیا جائے کیونکہ اوپری سظح پر ایک کے بعد ایک مگرمچھ بیٹھے ہوئے ہیں.

    جبکہ اس حوالے سے شہری نے بتایا کہ محمکہ والے بھاری بھرکم بل لیتے ہیں مگر بجلی کا مسئلہ حل کرتے ہیں اور ناہی لوڈ شیڈنگ کم کرتے ہیں لہذا ہماری وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ ایسے ظالم عناصر کیخلاف کاروائی کریں جنہوں نے یہ ظلم برپا کیا ہوا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارا مسئل حل نہ ہوا تو ہم محمکہ واپڈہ کے خلاف روڈ جام احتجاج کریں گ.

  • بالی وڈ کی ہیروئنز کا پریگنینسی کے دوران شوٹ کروانے کا رواج زور پکڑ گیا

    بالی وڈ کی ہیروئنز کا پریگنینسی کے دوران شوٹ کروانے کا رواج زور پکڑ گیا

    بالی وڈ کی ہیروئنز میں پریگنینسی کے دوران فوٹو شوٹ کروانے کا رواج زور پکڑتا جا رہا ہے. عالیہ بھٹ جو کہ امید سے ہیں وہ اسی حالت میں نہ صرف کام کررہی ہیں بلکہ جہاں بھی جاتی ہیں تصاویر بنواتی ہیں. ان کی اس حالت میں وڈیوز اور تصاویر خاصی وائرل ہو رہی ہیں. اسی طرح سے بی پاشا باسو بھی اسی وقت سے گزر رہی ہیں انہوں نے بھی اپنے شوہر کے ساتھ ایک بولڈ فوٹو شوٹ کروایا ہے. ان کے اس بولڈ فوٹو شوٹ پر تنقید کی جا رہی ہے لیکن بی پاشا باسو یا ان جیسی دیگر ہیروئنز تنقید کی فکر نہیں کرتیں. ان دونوں سے پہلے انوشکا شرما اور کرینہ کپور نے بھی پریگنینسی کے دوران بولڈ فوٹو شوٹ کروائے .انوشکا شرما نے تو اپنے شوہر کے ساتھ بولڈ تصاویر خود سوشل میڈیا پر جاری کیں.اس سے پہلے

    بھی دیکھیں تو ماہیما چوہدری ، نیہا ککر ، جنیلیا ڈی سوزا ، ایشوریا رائے ، دیا مرزا ، شریا گھوشال ، پریتی زنٹا و دیگر نے اس پیریڈ کے دوران اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کیں. اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو ماڈ ل فیا نے پریگنیسی کے دوران ایک بولڈ فوٹوشوٹ سوشل میڈیا پر شئیر کیا فیا ان تصاویر کے بعد آئیں خاصی تنقید کی زد میں، فیا کی دو بیٹیاں اور شوہر بھی اس فوٹو شوٹ میں ان کے ساتھ تھے. فیا نے تنقید کرنے والوں‌کو دیا تھا منہ توڑ‌جواب اور کہا تھا کہ ان کی زندگی ہے وہ جیسے مرضی جئیں.