Baaghi TV

Author: +9251

  • دہشتگردی کے مقدمے میں عمران خان جے آئی ٹی میں  پیش، 20 منٹ کی تفتیس میں 21 سے زائد سوالات کئے گئے

    دہشتگردی کے مقدمے میں عمران خان جے آئی ٹی میں پیش، 20 منٹ کی تفتیس میں 21 سے زائد سوالات کئے گئے

    خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر دہشتگردی کے مقدمے میں چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے.

    ذرائع کے مطابق: سابق وزیر اعظم عمران خان سے تفتیش کے دوران پولیس ٹیم کی جانب سے تحریری طور پر اکیس سوالات کا سوال نامہ دیا گیا جبکہ کچھ زابنی سوالات بھی کئے گئے جبکہ عمران‌خان سے تقریبا بیس منٹ تک تفتیش کی گئی ہے.

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ایس ایس پی انویسٹی گیشنز فرحت کاظمی کے سامنے پیش ہوئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جے آئی ٹی میں بیان ریکارڈ کروایا ۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ میری آج جے آئی ٹی میں پہلی پیشی ہوئی۔میرےخلاف دہشت گردی دفعات لگائی گئیں۔حکومت کو پیغام ہے جتنا تنگ کریں گے اتنی ہی تیاری کر لیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی تھون پر فنڈز جمع کرنےتھے انہوں نے چینلز بند کردیئے۔ان کی چوری کی وجہ سے ان کو پیسے نہیں ملتے ۔کسی کو بھی کہیں کہ دوران حراست تشدد پر قانونی کارروائی کروں گا۔شہباز گل پر تشدد کیا گیا، ہم نے کہا قانونی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کارروائی کی بات کی تو دہشتگردی کی دفعات لگائی گئیں، یہ مذاق ہے۔مجھے اور میری پارٹی کو جتنا دیوار سے لگائیں گے اتنا ہی تیار رہیں۔پہلے اس لیے چپ رہا کہ معاشی بحران تھا، پھر سیلاب آگیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ میں نے 26 سال کی سیاست میں کبھی قانون کی خلاف وزری نہیں ۔دنیا دہشتگردی کی تعریف جانتی ہے مقدمے کی وجہ سے دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔ہمیں کہہ رہے ہیں سیلاب پر سیاست نہ کریں، دوسری طرف مجھے ختم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوام‫ کا سمندر نکلنے لگا ہے، یہ لوگ پبلک کا سامنا نہیں کرسکتے۔صرف ایک بات ہوسکتی ہے اور وہ شفاف انتخابات کی ہوگی۔انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان دونوں بار طلبی پر جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے وکیل کے ذریعے اپنا تحریری جواب جمع کروایا تھا۔

  • طلاق تک معاملات پہنچ چکے تھے لیکن ڈرتی تھی لوگ کیا کہیں گے مایا خان

    طلاق تک معاملات پہنچ چکے تھے لیکن ڈرتی تھی لوگ کیا کہیں گے مایا خان

    اداکارہ اور میزبان مایا خان ن حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے اپنی زندگی سے جڑے کچھ معاملات پر بات کی ہے . انہوں نے کہا ہے کہ میری شادی 2011 میں ہوئی میرے شوہر باہر اور میں یہاں رہتی تھی میں ان کے ساتھ اس طرح سے رہی نہیں جس طرح سے میاں بیوی ایک ساتھ رہتے ہیں ہمارے معاملات خراب ہوئے تو بات طلاق کی طرف جا رہی تھی میں اسی ڈر می بیٹھی رہی کہ لوگ کیا کہیں گے میرے بہن بھائیوں کا کیا بنے گا امی ابو کو لوگ باتیں کریں گے لیکن طلاق ہونی تھی ہو گئی، اس چیز نے مجھے ہلا کر رکھ دیا. اس چیز نے میری ذہنی صحت پر بہت برااثر ڈالا اسی دوران میرے بھائی کو کینسر ہو گیا، اسی دوران ایکدن مجھے سوشل میڈیا سے پتا چلا کہ مجھے تواس

    شو سے نکال دیا گیا ہے جو میں کررہی ہوں. میرا گھر سے نکلنا مشکل ہوا تھا اسی دوران میرا بھائی چل بسا. پھر میں کچھ بہتر ہوئی تو میں نے ایک ٹی وی پر پروگرام شروع کیا اسی دوران میری ملاقات کسی سے ہوئی اور ہماری شادی ہوگئی، لیکن شادی کے بعد پتا چلا کہ یہ تو ایک غلطی تھی کیونکہ یہ شادی مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی تھی ایکبار پھر میں اس تکلیف سے گزری مجھے مارا پیٹا جاتا تھا پولیس تک مجھے اس معاملے کو لیجانا پڑا ، تو میں نے زندگی میں بہت زیادہ مشکل وقت دیکھا لیکن اس مشکل وقت کے بعد اللہ تعالی نے مجھے ایک ہمت طاقت دی. میں‌لڑکیوں سے یہی کہوں گی کہ اٹھیں اور اپنی زندگی کا چارج خود سنبھالیں.

  • عمران خان ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتے ہیں. وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف

    عمران خان ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتے ہیں. وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف

    عمران خان ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتے ہیں، وہ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا عمران خان ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتے ہیں، وہ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اداروں کو للکار رہے ہیں، عمران خان کا فتنہ چل نکلا تو ملک میں خون ریزی ہو گی، اگر عمران خان کو روکا نہ گیا تو شدید عوامی رد عمل آسکتا ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے، پہلے اقتدار کے لیے اس کا انحصار سلیکشن کمیٹی پر تھا، اب اس کا انحصار امریکیوں پر ہو گیا ہے۔ جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کا احترام ہے، ادارے عمران خان کی باتوں کا نوٹس لیں، سیاسی جماعتوں کے لیے دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے. ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف واپس آ رہے ہیں، عوام جس طرح نواز شریف کا استقبال کرے گی، عمران خان کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، عمران خان کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے نئے آرمی چیف کےتقررکے حوالے سے بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا کہ فوج ادارے کی سینئر قیادت کے بارے میں توہین آمیز اورغیرضروری بیان پر حیران ہے۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے گزشتہ سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا:’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب یہ ادارہ ہر روز پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانیں دے رہا ہے‘‘۔ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) کے تقرر پر سینیر سیاست دان کی جانب سے تنازعات پھیلانے کی کوشش انتہائی بدقسمتی کی بات اور مایوس کن ہے کیونکہ اس اعلیٰ عہدے پر تقرر کے طریق کار کی آئین میں اچھی طرح وضاحت کی گئی ہے۔

  • این ایف آر سی سی کا اجلاس: سیلاب کی تازہ ترین صورتحال زیر بحث

    این ایف آر سی سی کا اجلاس: سیلاب کی تازہ ترین صورتحال زیر بحث

    این ایف آر سی سی کا اجلاس: سیلاب کی تازہ ترین صورتحال زیر بحث

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا آج باقاعدہ اجلاس ڈپٹی چیئرمین احسن اقبال اور میجر جنرل محمد ظفر اقبال کی زیر صدارت ہوا۔
    فورم کو بالترتیب این ایچ اے اور ریلوے کی وزارتوں کی طرف سے مواصلاتی انفراسٹرکچر اور ریلوے کی بحالی کے ساتھ ساتھ سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے.


    فورم کو وفاقی وزیر صحت کی جانب سے نیشنل ہیلتھ ریسپانس پروگرام کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ہے اور نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے امدادی تقسیم کی تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اور تقسیم کا طریقہ کار بھی بتایا گیا. احسن اقبال نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلی ترجیح وبائی امراض پر مرکوز کرتے ہوئے بحالی کے عمل کو تیز کریں۔ تاکہ لوگوں بچایا جاسکے.

    دوسری جانب این ایف آر سی سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 18 پروازیں چلائی گئیں جن میں 87 افراد کو بچایا گیا، ہیلی کاپٹرز سے 32.88 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا، اب تک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4 ہزار 570 سیلاب میں گھرے افراد کا انخلاء کیا گیا ہے،جبکہ ریلیف کیمپس اور امدادی اشیاء جمع کرنے کے پوائنٹس مکمل فعال ہیں۔ سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان سمیت ملک میں 147 ریلیف کیمپس اور 278 امدادی اشیاء کلیکشن پوائنٹس قائم ہیں۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 8 ہزار 281 ٹن اشیائے خورونوش، غذائی اشیاء اکٹھی کی جا چکیں، جمع کردہ اشیاء میں ایک ہزار 207 ٹن دیگر ضروری اشیاء، 74 لاکھ 3 ہزار 538 ادویات جمع ہوئی ہیں۔ اب تک 7 ہزار 940 ٹن خوراک، 1148 ٹن دیگر ضروری اشیاء تقسیم کی گئیں، جبکہ 72 لاکھ 19 ہزار 698 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔

  • اور جب پریانکا کو ویمپ کا کردار ملا تو وہ رو پڑیں

    اور جب پریانکا کو ویمپ کا کردار ملا تو وہ رو پڑیں

    بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کا کیرئیر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے مختلف قسم کے کردار کئے اور ہر کردار میں خود کو منوایا.مس ورلڈ ہونے کے باوجود ان کو بالی وڈ میں اپنی جگہ بنانے میں کافی جدوجہد کرنا پڑی. ان کو انکی گہری رنگت کی وجہ سے پرڈیوسرز نے رد بھی کیا انہیں بہت زیادہ سخت وقت کا سامنا رہا . پریانکا چوپڑا نے فلم اعتراض میں اکشے کمار اور لارا دتہ کے ساتھ کام کیا. اس فلم کے پرڈیوسر سنیل درشن نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے پریانکا چوپڑا کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل میں جوہی چاولہ، میناکشی، کرینہ کپور، کرشمہ کپور جیسی خوبصورت اداکاراؤں کے ساتھ کام کر چکا تھا لیکن پریانکا کے ساتھ کام کرنا واقعی مختلف تھا۔ سنیل درشن نے کہا کہ

    میری پریانکا چوپڑا کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی میں نے ان کو انکے کردار کے بارے میں بتایا ان کا کردار نیگٹیو تھا پریانکا چوپڑا نے اپنا کردار سنا تو وہ بہت زیادہ خوش نہیں ہوئیں اور اس کردار کو کرنا بھی نہیں چاہتی تھیں وہ مجھ سے مل کر گھر چلی گئیں اور گھر جا روئیں کہ مجھے ویمپ کا کردار آفر ہوا ہے لیکن میں نے بھی ان کے دماغ میں گھسا دیا اور ان کو یقین دلایا کہ یہ کردار ان کے کیرئیر کے لئے بہت سود مند ثابت ہو گا. اور جب فلم ریلیز ہوئی تو آپ سب کے سامنے ہے اس میں پریانکا کے کردار کو کتنی پذیرائی ملی.

  • لاپتا ہونے والا شخص بازیاب ہونے کے بعد عدالت میں پیش

    لاپتا ہونے والا شخص بازیاب ہونے کے بعد عدالت میں پیش

    لاپتہ شہری اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس نے شہری کو اٹھایا اور اس کی تفتیش کون کرے گا ؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری کیس کی سماعت ہوئی۔ تو لاپتہ شہری عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کہاں تھے؟ شہری نے جواب دیا کہ میری آنکھوں پر پٹی تھی مجھے علم نہیں کہاں تھا۔ عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ اب تک کیا انکوائری کی ہے ؟ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ وقت دیں انکوائری مکمل ہوتے ہی رپورٹ پیش کر دیں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریاست کی کچھ ذمہ داریاں ہیں ،عدالت انہیں کیسے ہدایت دے، پہلے کیسز کا کیا ہوا ؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے استفسار پر پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ کچھ کیسز میں انکوائری مکمل ہوچکی ہے اور کچھ میں چل رہی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شہریوں کو تحفط فراہم کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے لیکن سسٹم میں کوئی اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا۔ ایک نظام ہے جس کے تحت ہر ایک کی ذمہ داری ہے اور اس عدالت کو ڈائریکشن دینے کی ضرورت تو نہیں ہونی چاہیے۔

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وزیر اعظم اس عدالت میں پیش ہوئے تھے کام ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کام ہو رہا ہے؟ اور کس نے شہری کو اٹھایا ہے، اس کی تفتیش کون کرے گا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ شہری بتائے کہ جب اسے اٹھایا گیا تو کیا اس نے کسی کو پہنچانا۔ نظام میں خرابیاں تو ہیں۔

    چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ ریاست کا کام ہے کہ شہریوں کا تحفظ کرے لیکن کوئی اپنا کام نیک نیتی سے کرنے کو تیار نہیں ہے۔ 23 اگست کو ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست دی گئی جو درج نہیں ہوئی۔ یہ آپ کے لیے ٹیسٹ کیس ہے، پہلے جو کیسز تھے وہ تو پتہ نہیں کدھر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالت نے آپ کو کسی شخص کے خلاف کارروائی سے روکا ہے؟ جو بھی کارروائی کرنی ہے وہ قانون کے مطابق تو کریں۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو کیس کی انکوائری اپنی نگرانی میں کروانے کی ہدایت کی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ انویسٹی گیشن مکمل ہونے کے بعد ہی ذمہ داران کا تعین ہو سکے گا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پہلے جو انویسٹی گیشنز ہو رہی تھیں ان کا کیا ہوا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار کے تحفظات دور ہو چکے ہیں اس لیے درخواست نمٹا دی جائے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پھر کیا اس بات کو جانے دیں یا اس کی تفتیش کیسے ہو گی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اسے منطقی انجام تک پہنچانا ہو گا۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد ذاتی طور پر سپروائز کر کے 10 دن میں رپورٹ جمع کرائی

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن سے لاپتا ہونے والا شہری حسیب حمزہ گھر پہنچ گیا تھا۔ گزشتہ روز حسیب حمزہ کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ 14 ستمبر کو لاپتا شہری عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو حکام کو طلب کریں گے۔

  • وزیراعظم کا سیلاب زدہ علاقوں کے اگست اور ستمبر کے بجلی بلز معاف کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا سیلاب زدہ علاقوں کے اگست اور ستمبر کے بجلی بلز معاف کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا سیلاب زدہ علاقوں کے اگست اور ستمبر کے بجلی بلز معاف کرنے کا اعلان کردیا ہے

    وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے آج بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ سیلاب متاثرین سے اگست اور ستمبر کے بجلی بل نہیں لیئے جائیں گے. چیئرمین این ڈ ی ایم اے نے دوران پرواز وزیراعظم شہبازشریف کو بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا فضائی جائزہ لیا۔چیف سیکریٹر ی بلوچستان کی جانب سے وزیراعظم کو بحالی کے کاموں پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ میڈیکل کیمپوں میں 4لاکھ سے زائد متاثرین کو طبی امداد دی گئی ۔صحبت پور میں سیلاب سے ایک لاکھ 90ہزار گھر متاثر ہوئے۔بلوچستان میں بعض علاقوں میں پانی موجود ہے،صورتحال ابترہے۔صحبت پور 100فیصد متاثرہواہے ،مواصلاتی نظام مکمل تباہ ہوچکاہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ سیلابی صورتحال پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ملک بھرمیں سیلاب متاثر ہ علاقوں کا دورہ کیا،حالات بہت خراب ہیں۔باہر سے آنے والا امداد تقسیم کیاجارہاہے۔کوئی علاقہ نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکیہ سے آنے والے خیمے بلوچستان متاثرین میں تقسیم کیے جائیں گے۔شام تک صحبت پور متاثرین کے لیے پینے کا پانی پہنچ جائے گا۔سڑکوں کو پانی سے کلیئر کیاجائے ، بحالی کے عمل میں شکایات سامنے نہ آئیں۔

    انہوں نے کہا ہے کہ بحالی اورپانی کانکاسی عمل کا کام جلد مکمل کیاجائے۔پانی کو جلد سے جلد نکالیں ، مشینری پنجاب سے منگوائیں ،بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔فنڈز اور بھی فراہم کریں گے مگر کام میں تیزی آنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیموں کے لیے ہم نے مزید آرڈرز دیئے ہیں ،جلد آئیں گے۔کیا سیلاب متاثرین کو 25ہزار روپے دیئے جارہےہیں؟فنڈز وافر مقدارمیں نہیں تو فراہم کیے جائیں گے ،امدادی کام نہیں رکناچاہیے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مختلف امراض جنم لے رہےہیں جن کو کنٹرول کرناضروری ہے۔متاثرین کےلیے مزید اشیا کی فراہمی سے متعلق وزارت خوراک کونوٹ بھجوارہےہیں۔ وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں مچھر مار اسپرے کا عمل جاری ہے۔ملیریا کنٹرول کے لیے بھی کام کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے حکام سے ادویات اور خیموں کی فراہمی سے متعلق سوال کیا۔انہوں نے پوچھا کہ کیاادویات میں پیناڈول موجود ہے؟

    وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے دوران بریفنگ انٹرنیٹ بحالی کا سوال بھی کی گیا۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دوردراز علاقوں میں انٹرنیٹ کا مسئلہ تاحال موجودہے۔ وزیراعظم نے کمشنر صحبت پور کو بحالی کے کاموں میں متعلقہ حکام سے تعاو ن کی ہدایت کی۔ وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا ہے کہ کمشنر متاثرین کے لیے امدادی کاموں ،سڑکوں کی بحالی میں معاونت کریں۔

    واضح رہے کہ ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے بتایا تھا کہ: وزیراعظم بلوچستان کے ضلع صحبت پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیں گے اور سیلاب زدگان سے ملاقات بھی کریں گے۔ اس موقع پر ورزا اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ ہونگے۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد اور صحبت پور کے علاقے 2 ہفتوں سے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں گرڈ اسٹیشن، سرکاری عمارتیں اور سڑکیں زیر آب ہیں جس کے باعث متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    علاوہ ازیں تحصیل گنداخہ کے ہزاروں متاثرین سندھ بلوچستان کی سرحد پر امداد کے منتظر ہیں۔ راشن، ادویات اور پینے کے پانی کی شدید قلت نے متاثرین کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔ اس سے قبل دورہ بلوچستان کے موقع پر وزیراعظم کی جانب سے صوبہ بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 10 ارب روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

  • پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے مزید 3 ملزمان کو گرفتار

    پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے مزید 3 ملزمان کو گرفتار

    ایف آئی اے سائبر کرائم نے پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے مزید تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ایف آئی اے سائبر کرائم پشاور نے کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے 3 مزید ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایف آئی اے کے مطابق تینوں میں ملزمان کو تین مختلف علاقوں ہری پور، بٹگرام اورحویلیاں سے گرفتارکیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزمان نے گزشتہ چھ ماہ میں سوشل میڈیا اکاؤئٹ بنائے، اور ملزمان نے توہین آمیز ریمارکس پوسٹ کیے تھے۔

    واضح‌ رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر منفی مہم چلانے والے 700 سے زائد اکاؤنٹس کا پتا لگایا گیا تھا جن میں بیرون ملک سے چلنے والے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔ حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر منفی مہم کی تحقیقات کے لیے قائم چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی رپورٹ میں اس مہم میں ملوث اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی.

    وزارت داخلہ کے اہلکار نے اس وقت بتایا تھا کہ ’ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی صرف فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جمع کروائے گی جس کے بعد مقدمات درج کیے جائیں گے اور گرفتاریاں بھی ہوں گی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ’آٹھ اگست کو قائم ہونے والی کمیٹی کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور ابھی صرف ابتدائی رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔‘ اس ابتدائی رپورٹ کے مطابق ’754 ایسی ٹویٹس کی گئیں جس سے شہدا یا پاکستانی فوج کے خلاف مہم کا تاثر ملتا ہے۔

    اس سلسلے میں تقریباً 237 ٹوئٹر اکاؤنٹس کا پتا چلایا گیا تھا جن میں سے 204 پاکستان سے چلائے جا رہے تھے جبکہ 17 انڈیا اور 16 دیگر ممالک سے آپریٹ ہو رہے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس حوالے سے تقریباً 84 افراد کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں جن میں سے چھ کا تو پتا لگ گیا ہے جبکہ باقی 78 کی شناخت جاننے کے لیے نادرا سے مدد مانگی گئی ہے۔ سیاسی جماعت سے تعلق انکوائری کمیٹی کے ذرائع کا کہنا تھا کہ مہم کے تانے بانے ایک سیاسی جماعت سے بھی ملتے ہیں تاہم اس حوالے سے وزارت داخلہ کے اہلکار نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مکمل انکوائری کے بعد ہی حتمی طور پر رائے دی جا سکتی ہے۔‘

  • صدر کی مرضی کے بغیر اسمبلی کی مدت نہیں بڑھ سکتی. شیخ رشید

    صدر کی مرضی کے بغیر اسمبلی کی مدت نہیں بڑھ سکتی. شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی مدت میں صدر کی منظوری کے بغیر اضافہ نہیں ہوسکتا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 70 وزراء، 240 روپے کا ایک ڈالر اور 4000 من آٹا غریب کی مزید بربادی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بجلی کے بل، بچوں کی فیس اور مکان کے کرائے کے بعد غریب کا چولہا نہیں جلتا۔


    سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اسمبلی کی مدت میں صدر کی منظوری کے بغیر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ایشیائی کانفرنس میں نہ وزیراعظم اورنہ وزیرخارجہ شریک ہوئے۔ سابق وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ستمبر اکتوبر اہم مہینے ہیں، سب لوگ عمران خان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

    ملکی تاریخ میں کتنی اسمبلیوں نے آئینی مدت پوری کی؟

    قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی قیام پاکستان سے چار دن قبل یعنی 10 اگست 1947 کو ’انڈین انڈپینڈینس ایکٹ 1947‘ کے تحت متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جاری کردہ ہدایت پر بنائی گئی تھی۔ ملک کی اس پہلی قانون ساز اسمبلی کو ملک کا آئین بنانے کا کام سونپا گیا تھا مگر پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی اپنی مدت پوری نہ کرسکی۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو 24 اکتوبر 1954 کو تحلیل کرکے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔
    پاکستان کی دوسری اسمبلی 28 مئی 1955 کو اس وقت کے گورنر جنرل کے نوٹیفکیشن پر تشکیل دی گئی۔ اس اسمبلی نے متنازع ون یونٹ اور پاکستان کا پہلا آئین ’دستور پاکستان 1956‘ دیا۔ اس دوسری دستور ساز اسمبلی کو سات اکتوبر 1958 کو غیر موثر کردیا گیا۔ جس کے بعد ملک میں مارشل لا نافذ رہا۔

    آٹھ جون 1962 کو پاکستان کی تیسری قومی اسمبلی تشکیل دی گئی۔ جس نے 1962 کا دستور بنایا اور اس اسمبلی کو 12 جون 1965 کو ختم کردیا گیا۔ 12 جون 1965 کو ملک کی چوتھی قومی اسمبلی بنائی گئی۔ جو جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کے نفاذ کے ساتھ ہی 25 مارچ 1969 کو ختم ہوگئی۔ جس کے بعد یحییٰ خان کا مارشل لا نافذ رہا۔ سات دسمبر 1970 کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اسمبلی بنانے کے لیے عوام نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ اس سے پہلے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اسمبلی بنادی جاتی تھی۔ اس الیکشن میں شیخ مجیب الرحٰمن کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی تو یحییٰ خان نے عوامی لیگ کو اقتدار دینے سے انکار کردیا۔ اس طرح انتخابات ہونے کے باجود اسمبلی کا قیام نہیں ہوسکا۔

    1972 کے انتخابات کے بعد 14 اپریل 1972 کو پاکستان کی پانچویں اسمبلی کا قیام ہوا مگر اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے 10 جنوری 1977 کو اسمبلی توڑ کر انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ سات مارچ 1977 کو ہونے والے انتخابات کے بعد اسمبلی کا قیام تو ہوا مگر انتخابات کے نتائج پر ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی جس کے فوراً بعد جنرل ضیا الحق نے حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کردیا۔ جنرل ضیا نے آمریت کے نفاذ کے بعد قومی اسمبلی کی جگہ مجلس شوریٰ قائم کردی۔ ضیاالحق نے 1985 میں غیرجماعتی انتخابات کرائے مگر یہ اسمبلی بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکی اور اسمبلی کو تین سال دو مہینے بعد تحلیل کردیا گیا۔

    1988 میں انتخابات کے بعد دو دسمبر 1988 کو نئی اسمبلی بنی مگر یہ اسمبلی بھی ایک سال نو مہینے بعد تحلیل کردی گئی۔
    1990 میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی تین سال بھی مکمل نہ کرسکی اور اسے تحلیل کردیا گیا۔
    1993 میں انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی ایک سال اندر ہی تحلیل کردی گئی۔ جس کے بعد 1993 میں ہی ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو 1996 میں وقت سے پہلے ختم کریا گیا۔
    1997 میں ہونے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی 1999 میں فوجی بغاوت کی وجہ سے وقت سے پہلے ختم کردی گئی۔
    پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2002 میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی پہلی اسمبلی تھی، جس کے وزیراعظم تو تبدیل ہوتے رہے مگر اسمبلی نے اپنی آئینی مدت پوری کی۔ 2002 سے 2007 تک اپنی مدت پوری کرنے والی اس اسمبلی کے تین وزیراعظم رہے۔
    2008 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کے پہلے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ہٹادیا گیا تھا۔ مگر اس اسمبلی نے اپنے آئینی مدت پوری کی تھی۔ پہلے وزیراعظم کے ہٹنے کے بعد دوسرے وزیراعظم نے مدت پوری ہونے تک اسمبلی کو چلایا۔
    2013 کے انتخابات میں منتخب ہونے والے وزیراعظم کو تو ہٹادیا تھا مگر اسمبلی نے اپنے آئینی مدت پوری کی تھی۔
    2018 کے انتخابات کے بعد بننے والی موجودہ اسمبلی ساڑھے تین سال بعد وزیراعظم کی درخواست پر مدت پوری کرنے سے پہلے ہی توڑدی گئی۔

  • ہرتیک روشن کی گرل فرینڈ صبا گریوال  صبا آزاد کیسے بنیں ؟

    ہرتیک روشن کی گرل فرینڈ صبا گریوال صبا آزاد کیسے بنیں ؟

    بالی وڈ اداکارہ صبا آزاد جو کہ ہرتیک روشن کی گرل فرینڈ ہونے کی وجہ سے سرخیوں میں رہتی ہیں. انہوں نے دل کبڈی، مجھ سے دوستی کروگے جیسی دیگر فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے. صبا آخری بار راکٹ بوائز میں دیکھی گئیں تھیں. صبا آزاد نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں ان سے سوال ہوا کہ آپ کا نام تو صبا گریوال ہے تو صبا آزاد کیسے بن گئیں اس پر صبا بولیں کہ مجھے آزاد کا سائونڈ زیادہ اچھا لگتا ہے اس لئے اسکو اپنے نام کا حصہ بنا لیا ، میرے پاسپورٹ پر میرا نام صبا گریوال ہی ہے ، آزاد بنیادی طور پر میری نانی کا قلمی نام ہے اور مجھے بہت پسند ہے اس لئے ان سے اجازت لیکر میں نے اس نام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا . صبا نے بتایا کہ میرے والد سکھ ہیں اور میری والدہ مسلمان ہیں

    میرے والدین نے مجھے کبھی بھی ہندو یا مسلم مذہب اپنانے پر زور نہیں دیا اور نہ ہی انہوں نے خود کسی مذہب پر عمل کیا ہے میرے والدین کسی بھی مذہب کو نہیں‌مانتے.میرا آج بھی اصلی نام صبا گریوال ہی ہے لیکن صبا آزاد میں نے اپنے شوق سے رکھا ہے اور یہی نام بالی وڈی میں میری پہچان بن گیا ہے. صبا نے اسی انٹرویو میں کہا کہ وہ ڈائریکٹر بننے کی خواہش رکھتی ہیں اور ایک دن ان کا یہ خواب ضرور پورا ہو گا. یاد رہے کہ صبا اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین گلوکارہ بھی ہیں. صبا جلد ہی راکٹ بوائز 2 میں نظر آئیں گی.