امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے عراق میں پیش آنے والے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے 6 فضائیہ اہلکاروں کی شناخت ظاہر کر دی ہے، جبکہ حادثے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 33 سالہ میجر جان اے کلنر، 31 سالہ کیپٹن آریانا جی ساوینو، 34 سالہ ٹیک سارجنٹ ایشلے بی پروئٹ، 38 سالہ کیپٹن سیٹھ آر کوول، 30 سالہ کیپٹن کرٹس جے اینگسٹ اور 28 سالہ ٹیک سارجنٹ ٹائلر ایچ سمنز شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ حالیہ دنوں میں پیش آیا، تاہم اس کی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
امریکی حکام نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana

عراق میں طیارہ حادثہ، 6 امریکی اہلکاروں کی شناخت ظاہر

تہران میں امریکی و اسرائیلی فضائی حملے، کئی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات
تہران کے مختلف علاقوں میں امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ حملے دارالحکومت کے مختلف حصوں کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے، جبکہ بعض علاقوں میں نقصان کی بھی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یہ حملے ایک اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں، جس سے خطے میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ایران کے ممکنہ حملوں پر اسرائیل ہائی الرٹ
ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیل نے ملک بھر میں ہائی ملٹری الرٹ جاری کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے مزید میزائل فائر کیے جانے کی نشاندہی ہو چکی ہے، جنہیں روکنے کے لیے دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو موبائل الرٹس کے ذریعے خبردار بھی کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکا سے منسلک صنعتوں اور فیکٹریوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی بیان کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران ایسے تمام صنعتی مقامات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے جہاں امریکی مفادات یا سرمایہ کاری موجود ہے۔
ایرانی فورسز نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فوری طور پر ان صنعتی علاقوں اور تنصیبات سے دور ہو جائیں، تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اس وقت انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی وقت صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کو جھٹکا، انسداد دہشتگردی مرکز کے ڈائریکٹر مستعفی
ایران سے متعلق جنگی پالیسی پر اختلافات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جو کینٹ نے احتجاجاً استعفیٰ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایران سے امریکا کو فوری طور پر کوئی براہ راست خطرہ لاحق نہیں تھا، جبکہ جنگ کا آغاز اسرائیل اور اس سے منسلک اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کے دباؤ پر کیا گیا۔
ان کے استعفے پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
جو کینٹ بطور سربراہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر دہشت گردی کے خطرات کی نگرانی، تجزیہ اور انسداد کی حکمت عملی کے ذمہ دار تھے۔
سرکاری ذمہ داریوں سے قبل وہ ریاست واشنگٹن سے کانگریس کے لیے انتخابی مہم بھی چلا چکے ہیں، تاہم کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی فوج میں گرین بیریٹ کے طور پر متعدد تعیناتیاں کیں اور بعد ازاں سی آئی اے میں بھی خدمات انجام دیں۔
یاد رہے کہ ان کی اہلیہ شینن کینٹ 2019 میں شام میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی مکمل حفاظت ممکن نہیں، عالمی بحری تنظیم کا انتباہ
عالمی بحری تنظیم انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ ارسینیو ڈومنگیز نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کو سو فیصد یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نگرانی کے نظام کے باوجود اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرنے والے جہاز مکمل طور پر محفوظ نہیں کہے جا سکتے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی صورتحال کو غیر یقینی بنائے ہوئے ہے۔
ارسینیو ڈومنگیز نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کوئی دیرپا یا پائیدار حل نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے سفارتی اور مستقل اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تجارت کے لیے اس اہم راستے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔
آپریشن غضب للحق: پاک افواج کی طورخم سمیت افغان طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج کی جانب سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جن میں حالیہ دنوں میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق طورخم سیکٹر میں پاک فوج نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی ایک پوسٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مذکورہ پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں مخصوص اہداف کے حصول کے لیے کی جا رہی ہیں اور پاک افواج اس وقت تک اپنے حملے جاری رکھیں گی جب تک دہشت گرد عناصر اور ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔
اس سے قبل 16 مارچ کی شب بھی پاک افواج نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں، جن میں کابل اور ننگرہار شامل ہیں۔ ان حملوں کے دوران افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں کابل کے دو مختلف مقامات پر موجود ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہوں کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا، جس سے دشمن کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔
آذربائیجان میں جاسوسی کے الزام پر فرانسیسی شہری کو 10 سال قید
آذربائیجان کی ایک عدالت نے جاسوسی کے الزام میں ایک فرانسیسی شہری کو 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق مذکورہ فرانسیسی شہری پر جاسوسی کے مقدمے کی سماعت جاری تھی جس کے بعد عدالت نے اسے قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 برس قید کی سزا سنائی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم پر ریاستی راز حاصل کرنے اور حساس معلومات تک رسائی کی کوشش کا الزام تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد اس کیس پر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ مرکوز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ایران حملے روک دے تو سفارت کاری سے حل ممکن ہے: قطر
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ اگر ایران حملے روک دے تو مسئلے کا حل سفارت کاری کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
پیر کے روز بیان دیتے ہوئے ماجد الانصاری نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنا ضروری ہے تاکہ مذاکرات کا راستہ ہموار ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کمیٹیاں بنانے کے بجائے اصولی مؤقف اختیار کرنے اور اپنے ملک کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
قطری ترجمان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود سفارتی راستہ اب بھی موجود ہے اور اگر فریقین حملے روک دیں تو مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
آزاد کشمیر انتخابات 2026 کی تیاریاں، ووٹر لسٹوں کی تیاری کا شیڈول جاری
آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات 2026 کی تیاریوں کا آغاز ہو گیا ہے اور الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹیں تیار کرنے کے عمل کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 7 اپریل کو ابتدائی ووٹر لسٹیں عوامی آگاہی کے لیے آویزاں کی جائیں گی جبکہ شہری 11 اپریل تک ان لسٹوں پر اعتراضات جمع کرا سکیں گے۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 11 سے 13 اپریل تک موصول ہونے والے اعتراضات پر سماعت کی جائے گی اور 14 اپریل کو مجاز اتھارٹی ان اعتراضات پر فیصلہ سنائے گی۔
مزید کہا گیا ہے کہ فیصلوں پر نظرثانی کا عمل 17 اپریل تک جاری رہے گا جبکہ 20 اپریل کو حتمی ووٹر لسٹیں عوام کے لیے آویزاں کر دی جائیں گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق یہ اقدامات شفاف اور منظم انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے میں نیٹو کا کوئی کردار نظر نہیں آتا: جرمن وزیر خارجہ
جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان وڈیفول نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے کے معاملے میں نیٹو کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔
برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ نیٹو نے اس معاملے پر کوئی فیصلہ کیا ہے یا اس حوالے سے کوئی ذمہ داری لینے جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر نیٹو اس معاملے میں شامل ہوتا تو اس کے ادارے اس کے مطابق اقدامات کر رہے ہوتے۔
جرمن وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم صورتحال کے باوجود یورپ کی اولین سکیورٹی ترجیح اب بھی یوکرین ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے روس کو فائدہ پہنچتا ہے جبکہ روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کو انہوں نے غلط راستہ قرار دیا۔









