Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
گوادر میں چینی کمپنی کو گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی اجازت مل گئی

    
گوادر میں چینی کمپنی کو گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی اجازت مل گئی

    ‎بلوچستان کے گوادر زون میں کام کرنے والی چینی کمپنی ہان گینگ کو پاکستان سے گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس کے بعد کمپنی نے اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
    ‎کمپنی کے سربراہ اینڈی لیاؤ کے مطابق اس سے قبل انتظامی مسائل کے باعث کمپنی نے کام بند کرنے اور ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے بندش کا اعلان کرنے کے فوراً بعد حکام نے رابطہ کیا اور اجازت نامہ جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
    ‎اینڈی لیاؤ کا کہنا تھا کہ کمپنی کو چین کے کسٹم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پہلے ہی عالمی معیار کے مطابق سرٹیفکیٹ حاصل تھا، لیکن اس کے باوجود پاکستان میں این او سی جاری نہ ہونے کی وجہ سے برآمدات شروع نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق اب یہ رکاوٹ دور ہو گئی ہے اور کمپنی کو مکمل اجازت دے دی گئی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے مجموعی طور پر تعاون حاصل رہا، تاہم بعض محکموں میں تاخیر کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎دوسری جانب اس معاملے پر وزارت خوراک کے ترجمان کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ حکام کے مطابق جیسے ہی سرکاری موقف جاری ہوگا اسے شامل کیا جائے گا۔
    ‎یاد رہے کہ کمپنی نے یکم مئی کو جاری بیان میں کہا تھا کہ نان آپریشنل رکاوٹوں کے باعث اسے اپنا کام بند کرنا پڑ رہا ہے، تاہم نئی اجازت کے بعد اب برآمدی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

  • 
پاکستان کا ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ، 450 کلومیٹر رینج کی تصدیق

    
پاکستان کا ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ، 450 کلومیٹر رینج کی تصدیق

    ‎پاکستان نے ابدالی ویپن سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا ہے، جو زمین سے زمین پر مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے اور اس کی رینج 450 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ تجربہ فوجی مشق “ایکس انڈس” کے تحت آرمی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ کی نگرانی میں کیا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق اس تجربے کا مقصد فوجی دستوں کی آپریشنل تیاری اور میزائل کے اہم تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لینا تھا، جن میں جدید نیویگیشن سسٹم اور بہتر مانوور ایبلٹی شامل ہیں۔ تجربہ ایک نامعلوم مقام پر کیا گیا جہاں سینئر فوجی حکام نے بھی مشاہدہ کیا۔
    ‎ابدالی میزائل، جسے حتف ٹو بھی کہا جاتا ہے، ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہے جو روایتی اور جوہری دونوں قسم کے وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق اس میزائل کے حالیہ ورژن میں نمایاں بہتری کی گئی ہے اور اس کی کارکردگی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر بنائی گئی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس تجربے کو معمول کی دفاعی تیاری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور مؤثر ڈیٹرنس برقرار رکھنا ہے۔

  • 
دریائے چناب میں پانی کی آمد میں نمایاں کمی، واپڈا کے اعدادوشمار جاری

    
دریائے چناب میں پانی کی آمد میں نمایاں کمی، واپڈا کے اعدادوشمار جاری

    ‎واپڈا کی جانب سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کی آمد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے آبی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
    ‎اعدادوشمار کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد کم ہو کر 9 ہزار کیوسک رہ گئی ہے، جبکہ پانی کا اخراج صرف 1 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ یہ کمی گزشتہ روز کے مقابلے میں تقریباً 11 ہزار 900 کیوسک کم ہے، جو ایک بڑی گراوٹ سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎واپڈا کے مطابق گزشتہ روز اسی مقام پر پانی کی آمد 20 ہزار 900 کیوسک تھی جبکہ اخراج 13 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اسی طرح یکم مئی کو بھی پانی کی آمد 20 ہزار 900 کیوسک رہی، جبکہ 30 اپریل کو یہ مقدار 25 ہزار 200 کیوسک تک تھی اور اخراج 17 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ کیا گیا تھا۔
    ‎ماہرین کے مطابق پانی کی اس اچانک کمی سے نہ صرف زرعی شعبے بلکہ آبی ذخائر پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دریاؤں میں پانی کی روانی کا انحصار بالائی علاقوں میں پانی چھوڑنے پر ہوتا ہے، اس لیے ایسے حالات میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت کی جانب سے دیگر دریاؤں، خصوصاً ستلج اور جہلم میں پانی کے بہاؤ میں تبدیلیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جس کے باعث فلڈ الرٹس اور آبی خدشات پیدا ہوئے تھے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پانی کے مسائل پہلے ہی حساس نوعیت کے حامل ہیں، اس لیے کسی بھی غیر معمولی کمی یا اضافے کو سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے۔

  • 
ہیٹ ویو میں کے الیکٹرک کا ریلیف پلان، لوڈشیڈنگ میں نرمی

    ‎کراچی میں ممکنہ ہیٹ ویو کے پیش نظر کے الیکٹرک نے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق شدید گرمی کے دوران بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
    ‎کے الیکٹرک حکام کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران سسٹم کی بہتری کے لیے کیے جانے والے تمام مینٹی ننس شٹ ڈاؤنز کو عارضی طور پر معطل کر دیا جاتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی تکنیکی خرابی یا مرمت کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
    ‎ترجمان نے بتایا کہ اس وقت کے الیکٹرک کا تقریباً 70 فیصد نیٹ ورک پہلے ہی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہے، جس سے شہریوں کی بڑی تعداد کو مسلسل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اگر شہر کا درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو دوپہر کے اوقات میں کی جانے والی اکنامک لوڈشیڈنگ بھی فوری طور پر روک دی جاتی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد شدید گرمی کے دوران شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ہیٹ ویو کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
    ‎کے الیکٹرک نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ ہیٹ ویو کے خطرات سے بچا جا سکے۔
    ‎کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیٹ ویو کے دوران بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔

  • 
یورپی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف، ٹرمپ کا بڑا اعلان

    
یورپی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف، ٹرمپ کا بڑا اعلان

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارتی تعلقات میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
    ‎صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین طے شدہ تجارتی معاہدے کی مکمل پابندی نہیں کر رہی، جس کے باعث امریکا کو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے سے یورپی گاڑیوں پر محصولات میں نمایاں اضافہ نافذ کر دیا جائے گا۔
    ‎ٹرمپ کے مطابق اگر یورپی کمپنیاں امریکا میں گاڑیاں اور ٹرک تیار کریں تو انہیں کسی قسم کے ٹیرف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکی معیشت اور صنعت کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ امریکا میں اس وقت کئی آٹوموبائل اور ٹرک کے کارخانے زیر تعمیر ہیں، جن میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ریکارڈ سرمایہ کاری ہے اور ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے امریکی کارکنوں کو فائدہ ہوگا۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر جوابی اقدامات بھی سامنے آ سکتے ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

  • 
لوڈ مینجمنٹ ختم، بجلی صورتحال بہتر ہوگئی: اویس لغاری

    
لوڈ مینجمنٹ ختم، بجلی صورتحال بہتر ہوگئی: اویس لغاری

    ‎وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور توانائی کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث محدود وقت کے لیے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی، تاہم اب حالات معمول پر آ چکے ہیں۔
    ‎وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ذمہ دارانہ فیصلے کرتے ہوئے عوام کو مہنگی بجلی سے بچانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لوڈ شیڈنگ کسی انتظامی ناکامی، نظام کی خرابی یا بجلی کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
    ‎اویس لغاری کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث گیس کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار پر اثر پڑا۔ تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے اس مسئلے کو حل کیا اور بجلی کی فراہمی کو بہتر بنایا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے مجموعی توانائی نظام کو استحکام ملا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر وسائل کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
    ‎وزیر توانائی نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت مستقبل میں بھی توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل دوبارہ پیدا نہ ہوں۔

  • 
مشرق وسطیٰ بحران، روس امن کیلئے سفارتی کردار ادا کرے گا

    
مشرق وسطیٰ بحران، روس امن کیلئے سفارتی کردار ادا کرے گا

    ‎روس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جنیوا میں روس کے مستقل نمائندے میخائل الیانوف کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ روس خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
    ‎میخائل الیانوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ روس نہ صرف کشیدگی کم کرنے بلکہ تمام فریقین کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ ان کے مطابق صدر پوتن نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو کم کرنے کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ روس اس مقصد کے حصول کے لیے ایران، خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکا کی مذاکراتی ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایک متوازن اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق روس کی یہ پیشکش خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ مختلف عالمی طاقتیں اس تنازع کے حل کے لیے مختلف سفارتی راستے تلاش کر رہی ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریقین سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں امن کی امید پیدا ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی اور مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہوں گی۔

  • 
ایران جنگ سے کھاد کی سپلائی متاثر، عالمی غذائی بحران کا خدشہ

    
ایران جنگ سے کھاد کی سپلائی متاثر، عالمی غذائی بحران کا خدشہ

    ‎دنیا کی بڑی کھاد بنانے والی کمپنی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث کھاد اور اس کے اہم اجزا کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یارا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سوین ٹورے ہولسیتر نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی زرعی پیداوار پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ خلیجی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مشکلات کے باعث کھاد کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کو کھاد کم دستیاب ہو رہی ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎سوین ٹورے ہولسیتر کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہر ہفتے عالمی سطح پر اتنی خوراک کی کمی ہو سکتی ہے جو تقریباً دس ارب افراد کے ایک وقت کے کھانے کے برابر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کھاد کے کم استعمال سے زرعی پیداوار میں کمی آئے گی اور ممالک کے درمیان خوراک کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر غریب ممالک پر پڑے گا، جہاں پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ موجود ہے۔ ایسے ممالک میں خوراک کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کے لیے حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
    ‎یارا کمپنی کے سربراہ نے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس ممکنہ بحران کو سنجیدگی سے لیں اور ایسی پالیسیاں اپنائیں جو عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔

  • 
ایران کی نئی تجاویز امریکا کو ارسال، پاکستان کا اہم سفارتی کردار

    
ایران کی نئی تجاویز امریکا کو ارسال، پاکستان کا اہم سفارتی کردار

    ‎ایران نے جنگ بندی معاہدے سے متعلق نئی تجاویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں، جسے خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تجاویز جمعرات کے روز مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اس عمل میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، جہاں اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان پیغام رسانی اور رابطوں کو آگے بڑھانے میں معاونت فراہم کی۔ تاہم ان تجاویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، جس کے باعث سفارتی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود اس نوعیت کی پیش رفت مثبت اشارہ ہے، جو ممکنہ جنگ بندی کے لیے فریم ورک تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ثالثی کی یہ کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
    ‎سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا کردار اس معاملے میں قابل ذکر ہے، کیونکہ وہ ماضی میں بھی خطے کے اہم تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

  • 
ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، جارحیت پر فوری اور دردناک جواب

    
ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، جارحیت پر فوری اور دردناک جواب

    ‎ایرانی حکام نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نئی جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر ماجد موسوی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ماجد موسوی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے نتائج دنیا دیکھ چکی ہے، اور اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو طیارہ بردار جہاز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ان کے بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے بھی خبردار کیا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو یہ امریکا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق ممکنہ جنگ کا مرکز اصفہان کے قریب اور ایران کے مغربی علاقوں میں ہو سکتا ہے۔
    ‎محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ دشمن تہران میں تخریب کاری یا حملوں کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم ایران ایسی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر زمینی حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج دشمن کے بڑی تعداد میں فوجیوں کو قیدی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
    ‎انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ اگر اس اہم بحری راستے کی ناکا بندی جاری رہی تو ایران بھرپور ردعمل دے گا، جس کے عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔