Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
یورپی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف، ٹرمپ کا بڑا اعلان

    
یورپی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف، ٹرمپ کا بڑا اعلان

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارتی تعلقات میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
    ‎صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین طے شدہ تجارتی معاہدے کی مکمل پابندی نہیں کر رہی، جس کے باعث امریکا کو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے سے یورپی گاڑیوں پر محصولات میں نمایاں اضافہ نافذ کر دیا جائے گا۔
    ‎ٹرمپ کے مطابق اگر یورپی کمپنیاں امریکا میں گاڑیاں اور ٹرک تیار کریں تو انہیں کسی قسم کے ٹیرف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکی معیشت اور صنعت کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ امریکا میں اس وقت کئی آٹوموبائل اور ٹرک کے کارخانے زیر تعمیر ہیں، جن میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ریکارڈ سرمایہ کاری ہے اور ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے امریکی کارکنوں کو فائدہ ہوگا۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر جوابی اقدامات بھی سامنے آ سکتے ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

  • 
لوڈ مینجمنٹ ختم، بجلی صورتحال بہتر ہوگئی: اویس لغاری

    
لوڈ مینجمنٹ ختم، بجلی صورتحال بہتر ہوگئی: اویس لغاری

    ‎وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور توانائی کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث محدود وقت کے لیے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی، تاہم اب حالات معمول پر آ چکے ہیں۔
    ‎وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ذمہ دارانہ فیصلے کرتے ہوئے عوام کو مہنگی بجلی سے بچانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لوڈ شیڈنگ کسی انتظامی ناکامی، نظام کی خرابی یا بجلی کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
    ‎اویس لغاری کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث گیس کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار پر اثر پڑا۔ تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے اس مسئلے کو حل کیا اور بجلی کی فراہمی کو بہتر بنایا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے مجموعی توانائی نظام کو استحکام ملا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر وسائل کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
    ‎وزیر توانائی نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت مستقبل میں بھی توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل دوبارہ پیدا نہ ہوں۔

  • 
مشرق وسطیٰ بحران، روس امن کیلئے سفارتی کردار ادا کرے گا

    
مشرق وسطیٰ بحران، روس امن کیلئے سفارتی کردار ادا کرے گا

    ‎روس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جنیوا میں روس کے مستقل نمائندے میخائل الیانوف کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ روس خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
    ‎میخائل الیانوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ روس نہ صرف کشیدگی کم کرنے بلکہ تمام فریقین کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ ان کے مطابق صدر پوتن نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو کم کرنے کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ روس اس مقصد کے حصول کے لیے ایران، خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکا کی مذاکراتی ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایک متوازن اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق روس کی یہ پیشکش خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ مختلف عالمی طاقتیں اس تنازع کے حل کے لیے مختلف سفارتی راستے تلاش کر رہی ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریقین سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں امن کی امید پیدا ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی اور مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہوں گی۔

  • 
ایران جنگ سے کھاد کی سپلائی متاثر، عالمی غذائی بحران کا خدشہ

    
ایران جنگ سے کھاد کی سپلائی متاثر، عالمی غذائی بحران کا خدشہ

    ‎دنیا کی بڑی کھاد بنانے والی کمپنی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث کھاد اور اس کے اہم اجزا کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یارا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سوین ٹورے ہولسیتر نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی زرعی پیداوار پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ خلیجی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مشکلات کے باعث کھاد کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کو کھاد کم دستیاب ہو رہی ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎سوین ٹورے ہولسیتر کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہر ہفتے عالمی سطح پر اتنی خوراک کی کمی ہو سکتی ہے جو تقریباً دس ارب افراد کے ایک وقت کے کھانے کے برابر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کھاد کے کم استعمال سے زرعی پیداوار میں کمی آئے گی اور ممالک کے درمیان خوراک کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر غریب ممالک پر پڑے گا، جہاں پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ موجود ہے۔ ایسے ممالک میں خوراک کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کے لیے حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
    ‎یارا کمپنی کے سربراہ نے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس ممکنہ بحران کو سنجیدگی سے لیں اور ایسی پالیسیاں اپنائیں جو عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔

  • 
ایران کی نئی تجاویز امریکا کو ارسال، پاکستان کا اہم سفارتی کردار

    
ایران کی نئی تجاویز امریکا کو ارسال، پاکستان کا اہم سفارتی کردار

    ‎ایران نے جنگ بندی معاہدے سے متعلق نئی تجاویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں، جسے خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تجاویز جمعرات کے روز مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اس عمل میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، جہاں اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان پیغام رسانی اور رابطوں کو آگے بڑھانے میں معاونت فراہم کی۔ تاہم ان تجاویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، جس کے باعث سفارتی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود اس نوعیت کی پیش رفت مثبت اشارہ ہے، جو ممکنہ جنگ بندی کے لیے فریم ورک تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ثالثی کی یہ کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
    ‎سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا کردار اس معاملے میں قابل ذکر ہے، کیونکہ وہ ماضی میں بھی خطے کے اہم تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

  • 
ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، جارحیت پر فوری اور دردناک جواب

    
ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، جارحیت پر فوری اور دردناک جواب

    ‎ایرانی حکام نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نئی جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر ماجد موسوی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ماجد موسوی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے نتائج دنیا دیکھ چکی ہے، اور اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو طیارہ بردار جہاز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ان کے بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے بھی خبردار کیا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو یہ امریکا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق ممکنہ جنگ کا مرکز اصفہان کے قریب اور ایران کے مغربی علاقوں میں ہو سکتا ہے۔
    ‎محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ دشمن تہران میں تخریب کاری یا حملوں کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم ایران ایسی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر زمینی حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج دشمن کے بڑی تعداد میں فوجیوں کو قیدی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
    ‎انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ اگر اس اہم بحری راستے کی ناکا بندی جاری رہی تو ایران بھرپور ردعمل دے گا، جس کے عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
تائیوان میں 5.6 شدت کا زلزلہ، شہریوں میں خوف

    
تائیوان میں 5.6 شدت کا زلزلہ، شہریوں میں خوف

    ‎تائیوان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.6 ریکارڈ کی گئی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق زلزلہ محسوس ہوتے ہی شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
    ‎جرمن ریسرچ سینٹر کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 96 کلومیٹر تھی، جس کے باعث اس کے جھٹکے سطح پر نسبتاً کم شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے زلزلوں میں عام طور پر جانی و مالی نقصان کا خطرہ کم ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم مقامی حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
    ‎ماہرین ارضیات کے مطابق تائیوان زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے جہاں زمین کی پلیٹوں کی حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں جدید تعمیرات اور ہنگامی اقدامات کے باعث نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

  • 
کراچی میں ہیٹ ویو برقرار، درجہ حرارت 40 ڈگری تک جانے کا امکان

    
کراچی میں ہیٹ ویو برقرار، درجہ حرارت 40 ڈگری تک جانے کا امکان

    ‎کراچی میں گرمی کی شدت برقرار ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دو دنوں میں درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ شہر میں جاری جزوی ہیٹ ویو کے باعث شہریوں کو شدید حبس اور گرمی کا سامنا ہے، جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت اصل سے 2 سے 3 ڈگری زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ اتوار اور پیر کو درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جو شہریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ آج کے دن درجہ حرارت 36 سے 38 ڈگری کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ مغربی سمت سے 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔
    ‎شہر میں سمندری ہواؤں کی رفتار کم ہونے کے باعث گرمی کی شدت میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیٹ ویو کے دوران براہ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں۔
    ‎محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں بارش کا کوئی امکان نہیں، جس کے باعث خشک اور گرم موسم برقرار رہے گا۔ اس صورتحال میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پانی کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں اور غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کریں۔
    ‎ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور محنت کش افراد کے لیے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

  • پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے 11 طیارے گرائے: ٹرمپ

    پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے 11 طیارے گرائے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان نے بھارت کے 11 جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ انہوں نے یہ بات میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی، جہاں وہ ماضی میں بھی اس تنازع کو روکنے میں اپنے کردار کا ذکر کرتے رہے ہیں۔
    ‎ٹرمپ کے مطابق انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کروانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان کی اس کوشش کو سراہا اور کہا کہ اس اقدام سے کروڑوں جانیں بچ گئیں۔
    ‎امریکی صدر نے مزید کہا کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی تھی، تاہم بروقت سفارتی کوششوں سے حالات کو قابو میں لایا گیا۔
    ‎واضح رہے کہ گزشتہ برس پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے نام سے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پاکستان نے اس کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے بھرپور جواب دیا تھا۔
    ‎پاکستانی حکام کے مطابق پاک فوج نے بھارتی حملے کا مؤثر جواب دیتے ہوئے دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جس کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی۔ تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے اور بیانات سامنے آتے رہے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔

  • 
امریکا جنگی اخراجات چھپا رہا ہے، ایرانی وزیر خارجہ کا الزام

    
امریکا جنگی اخراجات چھپا رہا ہے، ایرانی وزیر خارجہ کا الزام

    ‎ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں ہونے والے حقیقی جنگی اخراجات اور نقصانات کو چھپا رہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پینٹاگون نہ صرف عالمی برادری بلکہ اپنے عوام کو بھی اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کر رہا۔
    ‎عباس عراقچی کے مطابق امریکا کے سرکاری اعداد و شمار حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے اور اصل اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ کے باعث امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کا تخمینہ 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس تنازع کے اثرات عام امریکی شہریوں تک بھی پہنچ رہے ہیں اور ہر شہری پر ماہانہ تقریباً 500 ڈالر کا اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس میں اسرائیل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
    ‎انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے امریکا کو ایک ایسے تنازع میں الجھا دیا ہے جس سے اسے معاشی اور سیاسی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
    ‎عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کی موجودہ خارجہ پالیسی دراصل اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے اور ‘اسرائیل فرسٹ’ حکمت عملی کے باعث امریکی وسائل اور جانیں خطرے میں ڈالی جا رہی ہیں۔
    ‎دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔