Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
کوئٹہ کان حادثہ: جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی، ریسکیو آپریشن جاری

    
کوئٹہ کان حادثہ: جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی، ریسکیو آپریشن جاری

    ‎کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے المناک حادثے میں جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی ہے، جبکہ کان میں پھنسے دیگر کان کنوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں انتہائی دشوار حالات میں مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے متاثرہ مزدوروں تک رسائی کی کوشش کر رہی ہیں۔
    ‎صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ریسکیو اہلکار جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹا رہے ہیں اور کان کے اندر موجود مزدوروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مزدوروں تک رسائی حاصل نہیں ہو جاتی۔
    ‎صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور حکومت بلوچستان ریسکیو کارروائیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جا رہی اور تمام متعلقہ ادارے مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
    ‎میر شعیب نوشیروانی نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر جاں بحق مزدور کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی مزدور کو 3 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ مزدوروں کے ریسکیو اور ریلیف تک امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ محنت کش مزدور ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، اس لیے کوئلہ کانوں میں ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مستقل حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
    ‎وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔ دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی سورینج میں پیش آنے والے اس المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔
    ‎اس حادثے نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات، مزدوروں کی جانوں کے تحفظ اور حفاظتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، باقاعدہ معائنہ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مؤثر انتظامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • 
وزیراعلیٰ مریم نواز سے بہاولنگر کے ارکان اسمبلی کی ملاقات

    
وزیراعلیٰ مریم نواز سے بہاولنگر کے ارکان اسمبلی کی ملاقات

    ‎لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ضلع بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے ارکان نے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں اور حلقوں کو درپیش عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ارکان اسمبلی نے اپنے اپنے حلقوں کے مسائل سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا، جبکہ مریم نواز نے عوامی مشکلات کے جلد از جلد حل کی یقین دہانی کرائی۔
    ‎ملاقات کے دوران ارکان اسمبلی نے آزاد کشمیر کے ضلع میرپور میں ہونے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس کامیابی کو عوام کے اعتماد کا اظہار قرار دیتے ہوئے پارٹی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
    ‎ارکان اسمبلی نے پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے کے 36 اضلاع میں 588 الیکٹرک بسیں چلانے کے منصوبے کو تاریخی اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام سے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی اور آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔
    ‎اس موقع پر صوبے بھر میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبے کو بھی سراہا گیا۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح بن چکی ہے اور یہ منصوبہ لاکھوں شہریوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے گا۔
    ‎وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پنجاب کو گڈ گورننس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ترقیاتی منصوبوں میں دیگر صوبوں سے آگے لے جانے کا عہد کیا تھا، جس پر حکومت بھرپور انداز میں عمل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی خدمت ہی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور تمام ترقیاتی منصوبوں کا مقصد شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔
    ‎مریم نواز شریف نے کہا کہ "کلین پنجاب” مہم کے بعد صوبے بھر میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کا منصوبہ ان کے دل کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب کے ہر ضلع اور ہر تحصیل میں جلد الیکٹرک بسیں چلتی نظر آئیں گی تاکہ شہریوں کو جدید، محفوظ اور معیاری سفری سہولتیں میسر آ سکیں۔
    ‎ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ کی قیادت میں جاری ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے ہر خطے میں ترقیاتی کام نمایاں دکھائی دے رہے ہیں اور حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

  • 
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ

    
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ

    ‎ایران نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں واقع احمد الجابر ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
    ‎ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان، جسے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے شائع کیا، میں کہا گیا ہے کہ حملے کے دوران امریکی فوج کے لیے استعمال ہونے والے اہم فوجی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق ڈرون حملوں میں طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو ہدف بنایا گیا۔
    ‎ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔ ایران کے مطابق کویت کا احمد الجابر ایئر بیس خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور فوجی کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
    ‎تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح حملے سے ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں بھی آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
    ‎ادھر تہران میں قائم سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز سے وابستہ محقق علی اکبر دارینی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا خطے میں اپنی فوجی تنصیبات اور سازوسامان میں اضافہ کر رہا ہے، جس کا مقصد مستقبل میں ایران کے خلاف مزید بڑے حملوں کی تیاری ہو سکتا ہے۔
    ‎ان کے مطابق ایران حالیہ حملوں کے ذریعے ممکنہ امریکی فوجی کارروائیوں کو پہلے ہی روکنے یا محدود کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر اس پر مزید حملے کیے گئے تو وہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب خطے کی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کئی ممالک دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی اپیل کر رہے ہیں، کیونکہ کسی بھی نئے فوجی تصادم کے پورے مشرق وسطیٰ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
مراکش سے ہسپانوی علاقے سیوٹا میں داخلے کی کوشش، 34 تارکین وطن ہلاک

    
مراکش سے ہسپانوی علاقے سیوٹا میں داخلے کی کوشش، 34 تارکین وطن ہلاک

    ‎مراکش سے ہسپانوی خودمختار علاقے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران کم از کم 34 تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہزاروں افراد نے خشکی اور سمندر کے راستے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ حالیہ برسوں کے سب سے بڑے سرحدی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎سیوٹا کے علاقائی صدر خوان خیسوس ویواس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 34 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے اموات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ ایک روز کے دوران تقریباً 60 ہزار افراد مراکش سے سیوٹا میں داخل ہوئے، جن میں سے کئی افراد نے سمندر میں تیر کر یا ساحلی رکاوٹ عبور کر کے ہسپانوی حدود میں پہنچنے کی کوشش کی۔
    ‎ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے صورتحال کو اسپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بحران سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل متحرک کر دیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وزیر داخلہ فرنانڈو گراندے مارلاسکا کے ہمراہ سیوٹا کا دورہ کریں گے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎ہسپانوی وزارت داخلہ کے مطابق جمعہ تک تقریباً 25 ہزار تارکین وطن کو واپس مراکش بھیجا جا چکا ہے، جبکہ مزید افراد کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔
    ‎سیوٹا میں سول گارڈ اہلکاروں کی نمائندہ تنظیم کے سربراہ راشد صبیحی نے اس صورتحال کو "شدید انسانی بحران” قرار دیا۔ ان کے مطابق ہزاروں تارکین وطن، جن میں بڑی تعداد بغیر سرپرست بچوں کی بھی ہے، فٹ پاتھوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ بہت سے لوگ شہر کی سڑکوں پر بے مقصد گھوم رہے ہیں۔
    ‎خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کئی افراد سمندر میں ڈوب گئے، جبکہ بعض افراد تاراخال (Tarajal) ساحل پر سرحدی رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت، سرحدی سلامتی اور انسانی بحران سے متعلق سنگین سوالات کو اجاگر کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے متاثرین کی حفاظت اور ہنگامی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے، جبکہ ہسپانوی اور مراکشی حکام صورتحال پر قابو پانے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں۔

  • 
اے آئی تربیت کے لیے کتابیں اسکین کرنے کے بعد اصل نسخے تلف کیے جانے کا انکشاف

    
اے آئی تربیت کے لیے کتابیں اسکین کرنے کے بعد اصل نسخے تلف کیے جانے کا انکشاف

    برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی چند بڑی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز کی تربیت کے لیے بڑی تعداد میں کتابیں خریدنے، انہیں ڈیجیٹل شکل میں اسکین کرنے اور بعد ازاں بعض صورتوں میں ان کے اصل نسخے تلف کرنے کا طریقہ اختیار کر رہی ہیں۔ اس انکشاف کے بعد علمی، ادبی اور ثقافتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
    رپورٹ کے مطابق ٹیک کمپنیاں پرانی اور مختلف موضوعات پر مشتمل کتابیں بڑی تعداد میں حاصل کرتی ہیں، جنہیں تیز رفتار اسکیننگ مشینوں کے ذریعے ڈیجیٹل فارمیٹ میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران بعض اوقات کتابوں کی جلد کو کاٹنا یا انہیں الگ کرنا پڑتا ہے تاکہ ہر صفحے کو تیزی سے اسکین کیا جا سکے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسکیننگ مکمل ہونے کے بعد بعض کتابوں کے اصل نسخے محفوظ رکھنے کے بجائے تلف کر دیے جاتے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ عام کتابوں تک محدود رہے تو بھی یہ قابلِ بحث معاملہ ہے، لیکن اگر اس میں نایاب، تاریخی یا محدود تعداد میں دستیاب کتابیں بھی شامل ہوں تو یہ انسانی علم، ادبی سرمایہ اور ثقافتی ورثے کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اصل کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنی اشاعت، کاغذ، طباعت اور تاریخی حیثیت کے باعث بھی اہمیت رکھتی ہیں۔
    ‎ادبی اور لائبریری شعبے سے وابستہ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی کتابوں کی اسکیننگ کے دوران ان کے اصل نسخوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نقل کبھی بھی اصل تاریخی دستاویز یا کتاب کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی، اس لیے قیمتی علمی ذخیرے کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
    ‎دوسری جانب ٹیکنالوجی کے حامی ماہرین کا مؤقف ہے کہ کتابوں کی ڈیجیٹلائزیشن سے معلومات تک رسائی آسان ہوتی ہے اور مصنوعی ذہانت کی ترقی میں بھی مدد ملتی ہے۔ تاہم وہ بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نایاب اور تاریخی اہمیت کی حامل کتابوں کو تلف کرنے کے بجائے محفوظ کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس علمی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔
    ‎یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا، کاپی رائٹ قوانین اور علمی وسائل کے تحفظ سے متعلق دنیا بھر میں بحث تیزی سے جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے

  • ‎تلہ گنگ: چھ روز سے لاپتا 17 سالہ لڑکی کی لاش برآمد

    ‎تلہ گنگ: چھ روز سے لاپتا 17 سالہ لڑکی کی لاش برآمد

    ‎تلہ گنگ میں چھ روز قبل لاپتا ہونے والی 17 سالہ لڑکی تحریم اختر کی لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں افسوس اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ فرانزک شواہد کی مدد سے موت کی وجوہات اور ممکنہ ملزمان کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق تحریم اختر گزشتہ چار برس سے اپنے ماموں کے گھر، ڈھوک ڈالی داخلی موگلہ میں رہائش پذیر تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 24 اور 25 جولائی کی درمیانی شب اچانک گھر سے لاپتا ہو گئی تھیں، جس کے بعد ان کی تلاش شروع کی گئی۔
    ‎لڑکی کے ماموں کی درخواست پر تھانہ صدر تلہ گنگ میں 25 جولائی کو نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی تھی اور لاپتا لڑکی کی تلاش جاری تھی۔
    ‎آج موگلہ کے قریب ایک دربار کے نزدیک جھاڑیوں سے تحریم اختر کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاش گھاس سے ڈھکی ہوئی تھی جبکہ ناک سے جھاگ نکل رہی تھی اور چہرے پر خون کے نشانات بھی موجود تھے۔ تاہم موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ صدر تلہ گنگ کی پولیس ٹیم ایس ایچ او امان اللہ کی سربراہی میں موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔
    ‎پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم کو بھی موقع پر طلب کیا گیا تاکہ جائے وقوعہ سے شواہد اور نمونے حاصل کیے جا سکیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ، پوسٹ مارٹم، موبائل ریکارڈ اور دیگر شواہد کی روشنی میں واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
    ‎پولیس کے مطابق فی الحال واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور قبل از وقت کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر قتل کے محرکات اور اس میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • 
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا جان سے مارنے کی دھمکیوں کا دعویٰ، بی جے پی پر سنگین الزامات

    
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا جان سے مارنے کی دھمکیوں کا دعویٰ، بی جے پی پر سنگین الزامات

    ‎بھارت میں حالیہ احتجاجی تحریک کے بعد منظرعام پر آنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ابھیجیت دپکے کا کہنا ہے کہ انہیں مسلسل فون کالز کے ذریعے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔
    ‎اورنگ آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران بھی انہیں سنگین نوعیت کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق نامعلوم افراد نے انہیں احتجاج ختم کرنے اور بی جے پی میں شامل ہونے کا کہا، بصورت دیگر انہیں گولی مارنے کی دھمکی دی گئی۔
    ‎انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی "محبت کی زبان” ہے، جس میں مخالفین کو ڈرا دھمکا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور مختلف ذرائع سے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا۔
    ‎ابھیجیت دپکے نے مزید کہا کہ انہیں متعدد مرتبہ بی جے پی میں شمولیت کی پیش کش کی گئی، لیکن انہوں نے ہر بار انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں بی جے پی میں شامل ہونا ہوتا تو وہ بہت پہلے یہ فیصلہ کر چکے ہوتے، تاہم وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔
    ‎ملکی سیاست میں مستقبل کے کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایک فرد کو اس حد تک طاقتور بنا دیا گیا ہے کہ اسے آئین سے بھی بالاتر سمجھا جانے لگا ہے، جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی بہتری اسی میں ہے کہ عوام متحد ہو کر آئینی اور جمہوری اصولوں کے مطابق اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
    ‎کاکروچ جنتا پارٹی پر بیرون ملک سے فنڈنگ حاصل کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ اگر واقعی ایسی کوئی بات ہے تو یہ بھارتی وزارت داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں وزیر داخلہ امیت شاہ کو اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
    ‎انہوں نے جنتر منتر میں احتجاج کے دوران ہونے والے پتھراؤ اور طلبہ پر پولیس کی جانب سے کیے گئے لاٹھی چارج کا ذمہ دار بھی امیت شاہ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام کارروائیاں منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں تاکہ احتجاج کو دبایا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب، ان الزامات پر بی جے پی یا بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔

  • 
وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک وفد کی ملاقات

    
وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک وفد کی ملاقات

    ‎اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان بولورما امگابازار کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، مالیاتی اصلاحات اور وفاقی و صوبائی تعلقات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں ورلڈ بینک کے دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے اس شراکت داری کو انتہائی اہم قرار دیا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی ترقیاتی ترجیحات کے حصول میں ورلڈ بینک کے مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئینی وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری اور وفاق و صوبوں کے درمیان باہمی مشاورت اور تعاون ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
    ‎اس موقع پر ورلڈ بینک کے وفد نے "پاکستان میں مالیاتی وفاقی نظام کو مضبوط بنانا” کے عنوان سے تیار کردہ رپورٹ پیش کی اور اس کے اہم نکات سے آگاہ کیا۔ وفد نے رپورٹ میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے بعد پاکستان میں مالیاتی وفاقی نظام کے ارتقا، محصولات، اخراجات، وفاق اور صوبوں کے مالیاتی تعلقات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
    ‎ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، وسائل کے مؤثر استعمال، عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کے فروغ کے لیے متعدد پالیسی سفارشات بھی پیش کیں۔
    ‎وزیراعظم نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے پیش کیا گیا تجزیہ اور عالمی تجربات کی روشنی میں کیا گیا تقابلی جائزہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی تحقیقی رپورٹس پالیسی سازی کے عمل میں مفید رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور بہتر فیصلے کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

  • 
امریکا میں غیر ملکی طلبہ کے لیے ملازمت کا راستہ مہنگا ہونے کا امکان، ایک لاکھ ڈالر فیس کی تجویز زیر غور

    
امریکا میں غیر ملکی طلبہ کے لیے ملازمت کا راستہ مہنگا ہونے کا امکان، ایک لاکھ ڈالر فیس کی تجویز زیر غور

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ غیر ملکی طلبہ کے لیے گریجویشن کے بعد امریکا میں ملازمت حاصل کرنے کے عمل کو مزید سخت اور مہنگا بنانے پر غور کر رہی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے "اختیاری عملی تربیت” یعنی او پی ٹی (OPT) پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم یہ تجویز عالمی طلبہ میں تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
    ‎او پی ٹی پروگرام امریکا میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے طلبہ اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ایک سال تک قانونی طور پر امریکا میں کام کر سکتے ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی یعنی اسٹیم (STEM) کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اس مدت میں مزید دو سال کی توسیع بھی دی جاتی ہے، جس کے بعد کئی طلبہ امریکی ورک ویزا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ او پی ٹی پروگرام کو بعض افراد نے ویزا قوانین سے بچنے، ویزا فراڈ کرنے اور مقررہ مدت سے زیادہ امریکا میں قیام کے لیے استعمال کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے خدشات کے پیش نظر پروگرام میں سختی اور اضافی مالی شرائط متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
    ‎یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی کارکنوں یا طلبہ سے متعلق سخت اقدامات کی کوشش کی ہو۔ اس سے قبل بھی نئے ورک ویزا درخواست دہندگان پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم امریکی وفاقی اپیل عدالت نے حال ہی میں اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔
    ‎تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر او پی ٹی پروگرام پر بھی ایک لاکھ ڈالر فیس نافذ کر دی گئی تو یہ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں طلبہ امریکا کے بجائے برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور آسٹریلیا جیسے ممالک کا رخ کر سکتے ہیں، جہاں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے مواقع نسبتاً آسان اور کم خرچ ہیں۔
    ‎ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تجویز سے امریکا میں پہلے سے زیر تعلیم طلبہ بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ او پی ٹی پروگرام کو امریکی ملازمت اور مستقل کیریئر کی جانب پہلا اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ اگر حکومت اس تجویز کو عملی شکل دیتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف بین الاقوامی طلبہ بلکہ امریکی جامعات اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • کرکٹ ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے پر 17 سالہ بھارتی نوجوان کرکٹر نے زندگی کا خاتمہ کر لیا

    کرکٹ ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے پر 17 سالہ بھارتی نوجوان کرکٹر نے زندگی کا خاتمہ کر لیا

    ‎بھارت کے شہر ناگپور میں ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کی ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے کے بعد 17 سالہ نوجوان کرکٹر نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق واقعے نے کھیلوں کے حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والی نوجوان کرکٹر کی شناخت ادیتی موریشور چوکانڈے کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق ریاست مہاراشٹر کے شہر اکولا سے تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ بہتر کرکٹ مواقع کی تلاش میں ناگپور منتقل ہوئی تھیں، جہاں وہ لکشمی نگر کے علاقے میں رہائش پذیر تھیں۔
    ‎بھارتی میڈیا کے مطابق ادیتی گزشتہ دو برس سے مسلسل سخت محنت اور تربیت میں مصروف تھیں۔ ان کا خواب تھا کہ وہ ودربھ کرکٹ ایسوسی ایشن کی ٹیم میں جگہ بنا کر اعلیٰ سطح کی کرکٹ کھیلیں اور مستقبل میں اپنا نام روشن کریں۔ اس مقصد کے لیے وہ ناگپور کی سرو کرکٹ اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہی تھیں اور بی سی سی آئی سے وابستہ کرکٹ نظام میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کی ٹیم کے انتخاب میں نام شامل نہ ہونے پر وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس صورتحال نے انہیں گہری مایوسی میں مبتلا کر دیا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران ایک تحریری نوٹ بھی ملا ہے، جس میں نوجوان کرکٹر نے اپنی ذہنی کیفیت اور تکلیف کا ذکر کیا ہے۔ تاہم پولیس نے اس نوٹ کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ادیتی کے خاندان کا کرکٹ سے بھی تعلق تھا اور ان کا بھائی بھی کرکٹ کھیلتا ہے۔ اہل خانہ اور قریبی افراد اس افسوسناک واقعے سے شدید صدمے میں ہیں۔
    ‎پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ دوسری جانب اس واقعے نے نوجوان کھلاڑیوں پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ، سخت مقابلے اور کھیلوں میں نفسیاتی معاونت کی ضرورت پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔