روس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جنیوا میں روس کے مستقل نمائندے میخائل الیانوف کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ روس خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
میخائل الیانوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ روس نہ صرف کشیدگی کم کرنے بلکہ تمام فریقین کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ ان کے مطابق صدر پوتن نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو کم کرنے کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ روس اس مقصد کے حصول کے لیے ایران، خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکا کی مذاکراتی ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایک متوازن اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق روس کی یہ پیشکش خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ مختلف عالمی طاقتیں اس تنازع کے حل کے لیے مختلف سفارتی راستے تلاش کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریقین سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں امن کی امید پیدا ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی اور مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہوں گی۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

مشرق وسطیٰ بحران، روس امن کیلئے سفارتی کردار ادا کرے گا
-

ایران جنگ سے کھاد کی سپلائی متاثر، عالمی غذائی بحران کا خدشہ
دنیا کی بڑی کھاد بنانے والی کمپنی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث کھاد اور اس کے اہم اجزا کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یارا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سوین ٹورے ہولسیتر نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی زرعی پیداوار پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خلیجی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مشکلات کے باعث کھاد کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کو کھاد کم دستیاب ہو رہی ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
سوین ٹورے ہولسیتر کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہر ہفتے عالمی سطح پر اتنی خوراک کی کمی ہو سکتی ہے جو تقریباً دس ارب افراد کے ایک وقت کے کھانے کے برابر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کھاد کے کم استعمال سے زرعی پیداوار میں کمی آئے گی اور ممالک کے درمیان خوراک کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر غریب ممالک پر پڑے گا، جہاں پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ موجود ہے۔ ایسے ممالک میں خوراک کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کے لیے حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
یارا کمپنی کے سربراہ نے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس ممکنہ بحران کو سنجیدگی سے لیں اور ایسی پالیسیاں اپنائیں جو عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔ -

ایران کی نئی تجاویز امریکا کو ارسال، پاکستان کا اہم سفارتی کردار
ایران نے جنگ بندی معاہدے سے متعلق نئی تجاویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں، جسے خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تجاویز جمعرات کے روز مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق اس عمل میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، جہاں اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان پیغام رسانی اور رابطوں کو آگے بڑھانے میں معاونت فراہم کی۔ تاہم ان تجاویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، جس کے باعث سفارتی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود اس نوعیت کی پیش رفت مثبت اشارہ ہے، جو ممکنہ جنگ بندی کے لیے فریم ورک تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ثالثی کی یہ کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا کردار اس معاملے میں قابل ذکر ہے، کیونکہ وہ ماضی میں بھی خطے کے اہم تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ -

ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، جارحیت پر فوری اور دردناک جواب
ایرانی حکام نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نئی جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر ماجد موسوی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماجد موسوی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے نتائج دنیا دیکھ چکی ہے، اور اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو طیارہ بردار جہاز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ان کے بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے بھی خبردار کیا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو یہ امریکا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق ممکنہ جنگ کا مرکز اصفہان کے قریب اور ایران کے مغربی علاقوں میں ہو سکتا ہے۔
محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ دشمن تہران میں تخریب کاری یا حملوں کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم ایران ایسی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر زمینی حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج دشمن کے بڑی تعداد میں فوجیوں کو قیدی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ اگر اس اہم بحری راستے کی ناکا بندی جاری رہی تو ایران بھرپور ردعمل دے گا، جس کے عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

تائیوان میں 5.6 شدت کا زلزلہ، شہریوں میں خوف
تائیوان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.6 ریکارڈ کی گئی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق زلزلہ محسوس ہوتے ہی شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
جرمن ریسرچ سینٹر کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 96 کلومیٹر تھی، جس کے باعث اس کے جھٹکے سطح پر نسبتاً کم شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے زلزلوں میں عام طور پر جانی و مالی نقصان کا خطرہ کم ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم مقامی حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
ماہرین ارضیات کے مطابق تائیوان زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے جہاں زمین کی پلیٹوں کی حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں جدید تعمیرات اور ہنگامی اقدامات کے باعث نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ -

کراچی میں ہیٹ ویو برقرار، درجہ حرارت 40 ڈگری تک جانے کا امکان
کراچی میں گرمی کی شدت برقرار ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دو دنوں میں درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ شہر میں جاری جزوی ہیٹ ویو کے باعث شہریوں کو شدید حبس اور گرمی کا سامنا ہے، جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت اصل سے 2 سے 3 ڈگری زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ اتوار اور پیر کو درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جو شہریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ آج کے دن درجہ حرارت 36 سے 38 ڈگری کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ مغربی سمت سے 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔
شہر میں سمندری ہواؤں کی رفتار کم ہونے کے باعث گرمی کی شدت میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیٹ ویو کے دوران براہ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں بارش کا کوئی امکان نہیں، جس کے باعث خشک اور گرم موسم برقرار رہے گا۔ اس صورتحال میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پانی کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں اور غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کریں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور محنت کش افراد کے لیے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ -

پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے 11 طیارے گرائے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان نے بھارت کے 11 جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ انہوں نے یہ بات میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی، جہاں وہ ماضی میں بھی اس تنازع کو روکنے میں اپنے کردار کا ذکر کرتے رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کروانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان کی اس کوشش کو سراہا اور کہا کہ اس اقدام سے کروڑوں جانیں بچ گئیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی تھی، تاہم بروقت سفارتی کوششوں سے حالات کو قابو میں لایا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے نام سے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پاکستان نے اس کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے بھرپور جواب دیا تھا۔
پاکستانی حکام کے مطابق پاک فوج نے بھارتی حملے کا مؤثر جواب دیتے ہوئے دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جس کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی۔ تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے اور بیانات سامنے آتے رہے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔ -

امریکا جنگی اخراجات چھپا رہا ہے، ایرانی وزیر خارجہ کا الزام
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں ہونے والے حقیقی جنگی اخراجات اور نقصانات کو چھپا رہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پینٹاگون نہ صرف عالمی برادری بلکہ اپنے عوام کو بھی اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کر رہا۔
عباس عراقچی کے مطابق امریکا کے سرکاری اعداد و شمار حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے اور اصل اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ کے باعث امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کا تخمینہ 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس تنازع کے اثرات عام امریکی شہریوں تک بھی پہنچ رہے ہیں اور ہر شہری پر ماہانہ تقریباً 500 ڈالر کا اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس میں اسرائیل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے امریکا کو ایک ایسے تنازع میں الجھا دیا ہے جس سے اسے معاشی اور سیاسی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کی موجودہ خارجہ پالیسی دراصل اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے اور ‘اسرائیل فرسٹ’ حکمت عملی کے باعث امریکی وسائل اور جانیں خطرے میں ڈالی جا رہی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔ -

تیل کی عالمی قیمتیں بلند ترین سطح پر، امریکا میں بھی مہنگائی
عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ امریکا جیسی بڑی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 8 سینٹ اضافے کے بعد 4 ڈالر 30 سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 5 ڈالر 50 سینٹ فی گیلن ریکارڈ کی گئی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ عالمی سطح پر سپلائی میں رکاوٹ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ہوا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق ایران سے متعلق تنازع کے بعد ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 46 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں پر پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی ڈرائیورز کے اخراجات میں بھی 44 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی سپلائی چین، مہنگائی اور توانائی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے ممالک جو تیل درآمد کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال مزید مالی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی سپلائی متاثر ہوتی رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر طویل مدت تک رہ سکتے ہیں۔ -

کراچی ہیٹ ویو 2015، اموات 5000 سے زائد ہونے کا دعویٰ
کراچی میں 2015 کی شدید گرمی کی لہر کے حوالے سے ایک بار پھر چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق ہیٹ اسٹروک سے جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہزار سے زائد تھی۔ یہ دعویٰ ایدھی فاؤنڈیشن کے ریکارڈ کے حوالے سے سامنے آیا، جس نے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ اموات کی نشاندہی کی ہے۔
یہ انکشاف پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام عالمی یوم مزدور کے موقع پر منعقدہ سیمینار میں کیا گیا، جہاں "ماحولیاتی تبدیلی اور مزدوروں کے حقوق” کے موضوع پر ماہرین نے اظہار خیال کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا محنت کش طبقہ ماحولیاتی تبدیلی میں کوئی کردار نہیں رکھتا، لیکن اس کے باوجود سب سے زیادہ متاثر یہی طبقہ ہوتا ہے۔
سیمینار میں بتایا گیا کہ 2015 کی گرمی کی شدید لہر کے دوران سرکاری طور پر تقریباً 300 اموات رپورٹ کی گئیں، تاہم ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق اصل تعداد 5 ہزار سے زیادہ تھی۔ مقررین کے مطابق ان اموات میں اکثریت محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی، جو شدید گرمی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پاکستان میں واضح ہو رہے ہیں اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے سانحات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے مؤثر حکمت عملی بنائی جائے، خاص طور پر مزدور طبقے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔