Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • سی ویو ہٹ اینڈ رن کیس، مفرور ڈرائیور بلوچستان فرار

    سی ویو ہٹ اینڈ رن کیس، مفرور ڈرائیور بلوچستان فرار

    ‎کراچی کے علاقے سی ویو میں پیش آنے والے ہٹ اینڈ رن حادثے کے مرکزی ملزم کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سندھ سے فرار ہو کر بلوچستان پہنچ چکا ہے۔
    ‎اے آر وائی نیوز کے مطابق حادثے میں ملوث ملزم کی شناخت نعمان علی کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے بتایا جا رہا ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق حادثے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا تھا اور اس نے اپنے دوستوں سے بھی مدد طلب کی تھی۔
    ‎تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم گاڑی کو چھپانے کے بعد ڈیفنس فیز 7 میں اپنے ایک دوست کے گھر گیا تھا۔
    ‎تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم کے نام پر ایک کورولا اور ایک ریوو گاڑی رجسٹرڈ ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ سپر ہائی وے کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ملزم کی لوکیشن ٹریس ہونے پر وہاں چھاپہ مارا گیا، تاہم وہ پولیس پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو گیا۔
    ‎حکام کے مطابق ملزم اب بلوچستان فرار ہو چکا ہے، تاہم اس کی گرفتاری کیلئے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور پولیس نے جلد گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔
    ‎واضح رہے کہ یہ افسوسناک حادثہ 14 مئی کی رات سی ویو روڈ پر خیابان بخاری کے موڑ کے قریب پیش آیا تھا، جہاں ایک تیز رفتار ڈبل کیبن گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر مار دی تھی۔
    ‎حادثے کے نتیجے میں سلمان نامی نوجوان موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ گاڑی میں موجود دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔
    ‎حادثے کے بعد ملزم اپنی گاڑی سمیت موقع سے فرار ہوگیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ہٹ اینڈ رن کیس درج کرکے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

  • ‎ایران کسی غیر ملکی طاقت کے سامنے نہیں جھکے گا، صدر پزشکیان

    ‎ایران کسی غیر ملکی طاقت کے سامنے نہیں جھکے گا، صدر پزشکیان

    ‎ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کبھی کسی غیر ملکی طاقت کے سامنے نہیں جھکے گا اور نہ ہی آرام و آسائش کیلئے اپنی عزت اور خودمختاری قربان کرے گا۔
    ‎اپنے بیان میں صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران منطق، سفارتکاری اور عوامی طاقت کے ذریعے دنیا کے ساتھ تعلقات آگے بڑھائے گا۔
    ‎انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سچ بولنا ضروری ہے کیونکہ محض نعرے بازی منطقی مکالمے اور سنجیدہ سفارتکاری کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
    ‎ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں قومی وقار، خودمختاری اور عوامی اتحاد ایران کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
    ‎انہوں نے توانائی بحران اور ملکی کھپت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں توانائی کا استعمال یورپی ممالک کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
    ‎مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر توانائی کی قلت سے بچنا ہے تو ملک کو اپنی توانائی پالیسی اور استعمال کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہوگا۔
    ‎انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وسائل کے مؤثر استعمال اور بچت کو قومی ذمہ داری سمجھا جائے تاکہ مستقبل میں توانائی بحران سے بچا جا سکے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پزشکیان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو خطے میں بڑھتی کشیدگی، عالمی دباؤ اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • ‎پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی عدالت پہنچ گئی

    ‎پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی عدالت پہنچ گئی

    ‎امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کل اسلام آباد کی عدالت میں پٹیشن دائر کرے گی۔
    ‎جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرول مہنگا کرنا عوام پر بدترین ظلم ہے اور حکومت مسلسل مہنگائی کا بوجھ غریب عوام پر ڈال رہی ہے۔
    ‎انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی عیدالاضحیٰ کے بعد مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن مارچ کرے گی۔
    ‎حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور اب صرف نظام کی شاخیں نہیں بلکہ جڑیں اکھاڑنے کی ضرورت ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ گزشتہ 79 برسوں سے ملک پر ایک مخصوص طبقہ حکومت کر رہا ہے، جس میں طاقتور بیوروکریٹس، جاگیردار، سرمایہ دار اور مختلف مافیاز شامل ہیں۔
    ‎امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو تعلیم کے میدان میں جماعت اسلامی کا مقابلہ کرنا چاہیے، کیونکہ جماعت اسلامی نے ملک بھر میں ہزاروں تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں جبکہ حکومت ایک بھی نیا کالج بنانے میں ناکام رہی۔
    ‎انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ پاکستان میں موجود تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور لیوی کے نفاذ کے بعد ملک میں عوامی ردعمل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔

  • طوفان سے پہلے کی خاموشی، ٹرمپ کا پراسرار اور دھمکی آمیز پیغام

    طوفان سے پہلے کی خاموشی، ٹرمپ کا پراسرار اور دھمکی آمیز پیغام

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پراسرار اور دھمکی آمیز پیغام جاری کر دیا، جسے مبصرین خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔
    ‎سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ایک تصویر میں صدر ٹرمپ کو ایک بحری جہاز میں موجود دکھایا گیا، جبکہ اس کے ساتھ تحریر تھا: ’’یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔‘‘
    ‎ایک اور تصویر میں ٹرمپ کو ہاتھ کے اشارے کے ساتھ دکھایا گیا، جہاں وہ اپنی معروف “Make America Great Again” یعنی ’’امریکا کو دوبارہ عظیم بناؤ‘‘ کیپ پہنے ہوئے نظر آئے۔
    ‎اگرچہ صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم سیاسی تجزیہ کار اس بیان کو ایران اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
    ‎سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے اس پیغام کے بعد مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں، جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر آنے والے امریکی اقدامات یا پالیسی اشاروں کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
    ‎امریکی صدر ماضی میں بھی اسی نوعیت کے سخت اور مبہم بیانات کے ذریعے عالمی توجہ حاصل کرتے رہے ہیں، خاص طور پر ایران، چین اور دیگر عالمی معاملات پر۔
    ‎سیاسی ماہرین کے مطابق ایسے بیانات عالمی منڈیوں، سفارتی ماحول اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے۔
    ‎دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں نے اس پوسٹ کو طاقت اور قیادت کا اظہار قرار دیا، جبکہ ناقدین نے اسے غیر ضروری اشتعال انگیزی سے تعبیر کیا ہے۔

  • ایران پر دوبارہ حملے ماضی کی غلطیوں کا اعادہ ہوں گے، روس

    ایران پر دوبارہ حملے ماضی کی غلطیوں کا اعادہ ہوں گے، روس

    ‎روس نے ایران پر دوبارہ ممکنہ حملوں کی خبروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام اس بات کا ثبوت ہوگا کہ امریکا اور اسرائیل نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔
    ‎ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کیلئے روس کے مستقل مندوب میخائل اولیانوف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر دوبارہ حملے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل دوبارہ عسکری کارروائی کی جانب جاتے ہیں تو یہ ماضی کی ناکام پالیسیوں اور غلط فیصلوں کا اعادہ ہوگا۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ ممکنہ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
    ‎میخائل اولیانوف نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے اس مؤقف کی بھی مکمل حمایت کی جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے مکمل جنگ بندی پر زور دیا گیا تھا۔
    ‎روسی مندوب کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کا واحد حل سفارتکاری، مذاکرات اور فوری جنگ بندی ہے، نہ کہ مزید عسکری کارروائیاں۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور چین مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی عالمی امن اور معیشت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی صورتحال کے باعث۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع ہوئیں تو عالمی تیل منڈی، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی برادری بھی ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے تناؤ پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے۔

  • غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 11 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 11 فلسطینی شہید

    ‎غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جہاں مختلف علاقوں پر تازہ حملوں کے نتیجے میں مزید 11 فلسطینی شہید جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے باعث متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ‎طبی ذرائع کے مطابق حملوں میں زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    ‎عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کیلئے کارروائیاں شروع کر دیں، تاہم مسلسل بمباری کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎غزہ میں جاری کشیدگی کے دوران انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، جبکہ خوراک، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت بھی رپورٹ کی جا رہی ہے۔
    ‎بین الاقوامی امدادی اداروں نے فوری جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کیلئے عالمی برادری سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ جنگ بندی کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔

  • کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا پھیلنے پر عالمی ایمرجنسی نافذ

    کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا پھیلنے پر عالمی ایمرجنسی نافذ

    ‎عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر عوامی صحت کیلئے ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔
    ‎ڈبلیو ایچ او کے مطابق دونوں ممالک میں اب تک 300 سے زائد مشتبہ کیسز جبکہ 88 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جس کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
    ‎17 مئی کو جاری اپنے بیان میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا کہ اگرچہ صورتحال ابھی مکمل وبائی ایمرجنسی کی سطح تک نہیں پہنچی، تاہم پڑوسی ممالک میں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
    ‎طبی حکام کے مطابق اس بار ایبولا کی خاص قسم Bundibugyo Virus Disease (BVD) سامنے آئی ہے، جس کیلئے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر دوا دستیاب نہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگو اور یوگنڈا میں ماضی میں 20 سے زائد بار ایبولا پھیل چکا ہے، تاہم BVD وائرس کی یہ صرف تیسری بڑی تصدیق ہے۔
    ‎ڈبلیو ایچ او کے مطابق اصل کیسز کی تعداد رپورٹ ہونے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق زیادہ تر کیسز کانگو کے مشرقی صوبے Ituri میں سامنے آئے ہیں، جو یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
    ‎افریقا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے 336 مشتبہ کیسز اور 87 اموات کی تصدیق کی ہے۔
    ‎یوگنڈا نے 16 مئی کو ایک متاثرہ مریض کی تصدیق کی تھی، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وائرس کانگو سے منتقل ہوا، تاہم مریض انتقال کر گیا۔ بعد ازاں ایک اور کیس کی بھی تصدیق کی گئی۔
    ‎عالمی ادارہ صحت نے متاثرہ افراد کو فوری طور پر الگ تھلگ رکھنے، مقامی سفر 21 دن تک محدود کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم عالمی ادارے نے سرحدیں بند کرنے یا تجارت روکنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
    ‎ایبولا ایک خطرناک وائرس ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی علامات میں بخار، گلے میں درد، جسمانی درد، قے، ڈائریا اور شدید کمزوری شامل ہیں، جبکہ مرض بڑھنے پر جسم سے خون بہنے لگتا ہے۔

  • اسرائیل نے ایران جنگ کیلئے عراق میں خفیہ فوجی اڈے قائم کیے، رپورٹ

    اسرائیل نے ایران جنگ کیلئے عراق میں خفیہ فوجی اڈے قائم کیے، رپورٹ

    ‎امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کیلئے عراق میں خفیہ فوجی اڈے قائم کیے تھے، جنہیں ایران پر حملوں کے دوران استعمال کیا گیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے عراق کے مغربی صحرا میں ایک خفیہ اڈا فروری 2026 میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران استعمال کیا، جبکہ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ایک دوسرا اسرائیلی اڈا بھی موجود تھا جو جون 2025 میں ایران پر ہونے والے حملوں کیلئے استعمال ہوا۔
    ‎علاقائی حکام کے مطابق دوسرے اڈے کی تعمیر 2024 کے آخر میں شروع کی گئی تھی، تاہم اب وہ فعال نہیں رہا، جبکہ 2026 کی جنگ میں استعمال ہونے والے اڈے کی موجودہ صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔
    ‎رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کو کم از کم ایک خفیہ اڈے کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔
    ‎نیویارک ٹائمز کے مطابق ان اڈوں کا بنیادی مقصد ایران پر حملوں کیلئے اسرائیلی طیاروں کے پرواز کے وقت کو کم کرنا اور فضائیہ کیلئے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا تھا۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا کہ ان اڈوں پر خصوصی فوجی دستے اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی تعینات تھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
    ‎مقامی بدو افراد نے ایک اڈے کے قریب مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کی تھی، تاہم عراقی فوج نے براہِ راست کارروائی کے بجائے دور سے نگرانی جاری رکھی اور امریکا سے معلومات طلب کیں، لیکن واشنگٹن نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق 3 مارچ کو ایک مقامی چرواہا عواد الشمری اتفاقاً ایک خفیہ اڈے تک پہنچ گیا، جس کے بعد مبینہ طور پر ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے اسے نشانہ بنایا۔
    ‎بعد ازاں مقامی افراد کو اس کی تباہ شدہ گاڑی اور لاش ملی، جبکہ عراقی فوج کی جانب سے بھیجا گیا ریکی مشن بھی مبینہ اسرائیلی فائرنگ کے بعد واپس بلا لیا گیا، جس میں ایک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

  • پاکستان میں ذوالحجہ کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو ہوگی

    پاکستان میں ذوالحجہ کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو ہوگی

    ‎پاکستان میں ذوالحجہ 1447 ہجری کا چاند نظر آگیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں عیدالاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ منانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس سال پاکستان اور سعودی عرب میں عید ایک ہی دن منائی جائے گی۔
    ‎ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت منعقد ہوا، جبکہ زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس صوبائی ہیڈکوارٹرز میں بھی ہوئے۔
    ‎چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی شہادتوں کی بنیاد پر اعلان کیا کہ پاکستان میں ذوالحجہ کا چاند نظر آ چکا ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ یکم ذوالحجہ 18 مئی بروز پیر ہوگی جبکہ عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائے گی۔
    ‎دوسری جانب سعودی عرب میں بھی ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کی تصدیق کر دی گئی ہے، جہاں سعودی سپریم کورٹ نے باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وقوف عرفہ 26 مئی جبکہ عیدالاضحیٰ 27 مئی کو ہوگی۔
    ‎اسی طرح انڈونیشیا، ترکیہ اور تیونس نے بھی ذوالحجہ کے آغاز اور عیدالاضحیٰ کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎ماہرین فلکیات کے مطابق چاند 17 مئی کی رات 1 بج کر 1 منٹ پر پیدا ہوا تھا اور غروبِ آفتاب کے وقت اس کی عمر تقریباً 18 گھنٹے 30 منٹ تھی، جس کے باعث چاند نظر آنے کے واضح امکانات موجود تھے۔
    ‎ملک کے مختلف شہروں میں مغرب کے اوقات کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد نے چاند دیکھنے کی کوشش کی، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی چاند نظر آنے کی خبریں گردش کرتی رہیں۔
    ‎عیدالاضحیٰ مسلمانوں کا اہم مذہبی تہوار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے، اس موقع پر مسلمان سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے قربانی ادا کرتے ہیں۔

  • ایک لاکھ 23 ہزار سے زائد پاکستانی عازمین سعودی عرب پہنچ گئے

    ایک لاکھ 23 ہزار سے زائد پاکستانی عازمین سعودی عرب پہنچ گئے

    ‎ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق اب تک ایک لاکھ 23 ہزار 684 پاکستانی عازمین حج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، جبکہ رواں سال مجموعی طور پر ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی حج کی سعادت حاصل کریں گے۔
    ‎حکام کے مطابق سعودی عرب پہنچنے والے عازمین پاکستان کے مجموعی حج کوٹے کا تقریباً 69 فیصد بنتے ہیں۔
    ‎ترجمان نے بتایا کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت 97 ہزار سے زائد جبکہ 26 ہزار سے زیادہ نجی اسکیم کے عازمین سعودی عرب میں موجود ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ سرکاری حج اسکیم کے تقریباً 81 فیصد عازمین اب تک سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔
    ‎آج مزید 6 ہزار 643 پاکستانی عازمین 26 مختلف پروازوں کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہوں گے، جبکہ اسلام آباد، کراچی، لاہور، کوئٹہ، ملتان، سیالکوٹ، فیصل آباد اور سکھر سے حج پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔
    ‎وزارت مذہبی امور کے مطابق پاکستان سے حج پروازیں 21 مئی تک جاری رہیں گی۔
    ‎ترجمان کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف سیکریٹری مذہبی امور کے ہمراہ جلد پاکستان حج مشن کا دورہ کریں گے، جہاں وہ جاری انتظامات اور عازمین کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیں گے۔
    ‎اس دوران وفاقی وزیر مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمین کی رہائشی عمارتوں کا بھی دورہ کریں گے۔
    ‎وزارت مذہبی امور کے مطابق پاکستانی عازمین کی خدمت کیلئے معاونین حج، میڈیکل ٹیمیں اور فیلڈ اسٹاف مکمل طور پر متحرک ہیں۔
    ‎حج مشن کی جانب سے عازمین کو رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ آسانی اور اطمینان کے ساتھ عبادات ادا کر سکیں۔
    ‎دوسری جانب مکہ مکرمہ میں موجود ہزاروں پاکستانی عازمین حج کی تیاریوں اور عبادات میں مصروف ہیں، جبکہ مدینہ منورہ سے عازمین کی مکہ مکرمہ منتقلی کا عمل بھی مسلسل جاری ہے۔