چین نے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر ردعمل دیتے ہوئے اسے صورتحال میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ چینی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی کی مکمل پاسداری کریں گے اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکیں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ایک مثبت اشارہ ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ امن کی کوششیں متاثر نہ ہوں۔
چین نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کو ہر صورت محفوظ، مستحکم اور کھلا رکھنا چاہیے۔ چینی حکام کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی بحری ناکہ بندی یا کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ توانائی کی عالمی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے اس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے دنیا بھر میں توانائی بحران جنم لے سکتا ہے۔ چین نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہوں۔
چین نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ توانائی کے تحفظ اور فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کا یہ مؤقف اس کی عالمی معیشت میں اہم حیثیت اور توانائی کے حوالے سے اس کے مفادات کو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے تحمل اور سفارتکاری پر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں اس تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنا چاہتی ہیں تاکہ عالمی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

چین کا جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور، مذاکرات کو مثبت قدم قرار
-

دیامر میں پولیس پر حملہ، 3 اہلکار شہید، ڈی ایس پی زخمی
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں پولیس ٹیم پر مسلح حملے کے نتیجے میں تین اہلکار شہید جبکہ ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکار زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ تھور گوئیں کے علاقے میں پیش آیا جہاں پولیس ایک اہم کارروائی میں مصروف تھی۔
تفصیلات کے مطابق پولیس ٹیم علاقے میں افیون کی فصل تلف کرنے کے لیے موجود تھی کہ اسی دوران نامعلوم افراد نے اچانک فائرنگ کر دی۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ تین اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ڈی ایس پی سمیت مزید اہلکار زخمی ہو گئے۔
اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق حملے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ شہید ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو ریجنل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ڈی ایس پی سمیت تین اہلکار شامل ہیں جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ طبی عملہ زخمیوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بھی بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ حملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں میں مصروف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ پولیس اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کی جانب سے بھی واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ -

جنگ کے بعد امریکہ نے جنگ بندی کی درخواست کی: ایران
ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت کے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران شدید دباؤ اور حملوں کے بعد امریکا نے بالآخر جنگ بندی کی کوششیں شروع کر دیں۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ محمود نبویان کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں مخالف فریق کسی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا اور چند دنوں کے اندر ہی صورتحال بدلنا شروع ہو گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 10 سے 15 دن کی شدید لڑائی کے بعد مخالفین کو احساس ہوا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پا رہے، جس کے بعد جنگ بندی کے مطالبات سامنے آنا شروع ہوئے۔ نبویان کے مطابق مختلف ممالک کے رہنماؤں نے بھی جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کی۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایران سے رابطہ کیا اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے پیغامات پہنچائے۔ ان کے مطابق یہ پیغامات بالواسطہ طور پر مختلف ذرائع سے منتقل کیے گئے جن میں پاکستان کا کردار بھی شامل تھا۔
نبویان کے مطابق ایران نے فوری طور پر ان درخواستوں کا جواب نہیں دیا بلکہ اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے دباؤ اور مسلسل حملوں نے مخالفین کے منصوبے ناکام بنا دیے، جس کے باعث انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے پیغامات تقریباً دو ہفتے قبل پہنچائے گئے تھے، تاہم ایران نے محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے فوری ردعمل سے گریز کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ -

اسپین نے گولڈن ویزا اسکیم ختم کر دی، نئی پالیسی کا اعلان
یورپی ملک اسپین نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے متعارف کرائی گئی مشہور گولڈن ویزا اسکیم ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت جائیداد خرید کر رہائش حاصل کی جا سکتی تھی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کی جانب سے اس قسم کی اسکیموں پر مسلسل تنقید کی جا رہی تھی۔
اس اسکیم کے تحت غیر ملکی شہری کم از کم پانچ لاکھ یورو کی پراپرٹی خرید کر اسپین میں رہائش کی اجازت حاصل کر سکتے تھے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس پروگرام کے ذریعے ہزاروں افراد نے اسپین میں سرمایہ کاری کر کے وہاں قیام حاصل کیا، تاہم اب حکومت نے اس راستے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسپین کی حکومت کے مطابق اس فیصلے کی بڑی وجہ بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی ہاؤسنگ بحران ہے۔ بارسلونا اور میڈرڈ جیسے شہروں میں جائیداد کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ مقامی شہریوں کے لیے گھر خریدنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی رہائش کی کمی تھی۔
نئی قانون سازی کے تحت اب غیر ملکی افراد جائیداد خرید کر اسپین میں رہائش حاصل نہیں کر سکیں گے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ دیگر ویزا آپشنز بدستور موجود ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل نومیڈ ویزا، ماہر پیشہ ور افراد کے لیے خصوصی پروگرامز، کاروباری افراد کے لیے انٹرپرینیور ویزا اور نان لوکریٹو ویزا شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اسپین کی معیشت اور ہاؤسنگ مارکیٹ کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے پراپرٹی کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کم ہوگا اور مقامی آبادی کے لیے رہائشی سہولیات بہتر ہونے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی یہ پالیسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسپین اب ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہا ہے جو طویل المدتی اور حقیقی معاشی ترقی کا باعث بنے۔
یہ پیش رفت ان افراد کے لیے اہم ہے جو یورپ میں رہائش کے خواہاں ہیں، کیونکہ اب انہیں نئے قوانین اور متبادل راستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ -

بٹ کوائن کی قیمت میں کمی، عالمی کشیدگی نے مارکیٹ ہلا دی
کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اچانک مندی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گئے، جس کے بعد عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی۔
رپورٹس کے مطابق 11 اپریل کو بٹ کوائن تقریباً 72 ہزار 974 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ مذاکرات کے دوران اس کی قیمت عارضی طور پر 73 ہزار ڈالر تک بھی پہنچی۔ اس سے قبل بٹ کوائن 74 ہزار ڈالر کے قریب بھی جا چکا تھا، تاہم جیسے ہی مذاکرات کے بغیر معاہدے کے ختم ہونے کی خبر سامنے آئی، مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور قیمت نیچے آنا شروع ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق اس اچانک تبدیلی کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور خدشات ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی مالیاتی ماحول کو متاثر کیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے فروخت شروع کر دی۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کمی کے پیچھے بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز سے سرمایہ نکالنا بھی اہم عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بٹ کوائن کی قیمت مزید نیچے جا سکتی ہے اور بعض اندازوں کے مطابق یہ 63 ہزار ڈالر تک بھی گر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ عالمی سیاسی حالات سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے، اس لیے کسی بھی بڑی خبر کا فوری اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔
ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز کریں اور مارکیٹ کی صورتحال کا بغور جائزہ لے کر سرمایہ کاری کریں۔ موجودہ حالات میں احتیاط ہی بہترین حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔ -

پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، سعودی عرب سمیت اہم ممالک کو مذاکرات پر بریفنگ
پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات کی پیشرفت سے سعودی عرب سمیت اہم دوست ممالک کو آگاہ کر دیا ہے، جس سے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں انہیں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کے لیے جنگ بندی کے معاہدوں کی پاسداری نہایت ضروری ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
اس کے علاوہ نائب وزیر اعظم نے ترکیہ کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اسی طرح مصر کے وزیر خارجہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات شیئر کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے مختلف اہم ممالک کو بریفنگ دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اس معاملے میں فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے بلکہ اس کے نتائج کو عالمی سطح پر ہم آہنگ کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ -

لاہور میں مہنگائی کا طوفان، سبزیاں اور گوشت عوام کی پہنچ سے باہر
لاہور میں روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق سبزیوں اور گوشت کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ عام آدمی کے لیے خریداری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح لہسن کی سرکاری قیمت 550 روپے مقرر ہے لیکن مارکیٹ میں یہ 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ادرک کی قیمت بھی کنٹرول سے باہر نظر آتی ہے، جہاں سرکاری نرخ 285 روپے ہیں مگر مارکیٹ میں یہ 350 روپے فی کلو دستیاب ہے۔
پیاز کی صورتحال بھی مختلف نہیں، سرکاری قیمت 62 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں یہ 70 سے 75 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سبز مرچ کی قیمت میں سب سے زیادہ فرق دیکھا گیا ہے، جہاں سرکاری نرخ 105 روپے ہیں لیکن شہریوں کو یہ 180 روپے فی کلو خریدنا پڑ رہی ہے۔
شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹماٹر جیسی بنیادی سبزی بھی اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے اور حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔
دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث قیمتیں بڑھانا مجبوری بن گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر اخراجات کم ہوں تو وہ بھی سستی اشیا فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔
صرف سبزیاں ہی نہیں بلکہ گوشت کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت 595 روپے ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ مٹن کی سرکاری قیمت 1600 روپے ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 3000 سے 3300 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ -

ڈی آئی خان میں زہریلا حلوہ کھانے سے 3 بچے جاں بحق
ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر مضر صحت حلوہ کھانے سے تین کمسن بچے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
پولیس کے مطابق بچے ایک ایسے مقام پر موجود تھے جہاں جنگل کے قریب حلوہ رکھا ہوا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچوں نے وہی حلوہ کھا لیا جس کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی۔ متاثرہ خاندان پہاڑی علاقے میں مزدوری کے سلسلے میں مقیم تھا، جہاں سہولیات کی کمی کے باعث بروقت طبی امداد بھی ممکن نہ ہو سکی۔
واقعے کے بعد بچوں کو بچانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حلوہ وہاں کیسے پہنچا اور آیا اس میں کوئی زہریلا مادہ شامل تھا یا نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ملک کے مختلف علاقوں میں مضر صحت خوراک کے باعث بچوں کی اموات کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس نے خوراک کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو غیر محفوظ یا نامعلوم جگہوں پر رکھی اشیاء کھانے سے روکیں، جبکہ حکام کو بھی چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کریں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معمولی سی لاپرواہی بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط اور بروقت اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ -

آبنائے ہرمز کے قریب جنگی جہاز پر سخت کارروائی ہوگی، ایرانی پاسداران کا انتباہ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جنگی جہاز کی اس حساس سمندری علاقے کے قریب موجودگی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور اس کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی بحریہ کے کنٹرول اور جدید نظام کے تحت منظم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز غیر فوجی اور تجارتی جہازوں کے لیے مخصوص ضوابط کے تحت کھلی ہے، تاہم کسی بھی فوجی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدامات خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز میں سرگرمیوں کو بڑھانے کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سطح پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے اور کسی بھی غلط قدم سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ -

ایرانی بحریہ کو بڑا نقصان، مگر تیز رفتار کشتیاں اب بھی خطرہ
امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیاں اب بھی بڑی حد تک محفوظ ہیں اور خطے میں خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے 155 سے زائد بحری جہازوں کو تباہ کیا ہے، جس کے باعث ایران کی روایتی بحریہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ خاص طور پر بڑے جنگی جہاز، فریگیٹس اور آبدوزیں نشانہ بنیں، جنہیں طویل فاصلے کی تعیناتیوں اور دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ایران اپنے 7 میں سے 6 فریگیٹس، دونوں کورویٹس اور 3 میں سے ایک آبدوز کھو چکا ہے، جو اس کے بحری ڈھانچے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ایک اہم کارروائی میں امریکی آبدوز نے بحر ہند میں ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری قوت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ان کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے تنگ سمندری راستوں میں مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان تیز رفتار کشتیوں کا 60 فیصد سے زائد حصہ اب بھی محفوظ ہے۔ یہ کشتیاں میزائل حملوں، بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، جس سے خطے میں خطرات بدستور موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی کشتیاں تعداد میں زیادہ ہونے کے باعث اور سائز میں کم ہونے کی وجہ سے نگرانی سے بچ جاتی ہیں، جبکہ ایران نے ساحلی علاقوں میں زیر زمین اڈے بھی قائم کر رکھے ہیں جہاں یہ حملہ آور کشتیاں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ ایران کو بحری محاذ پر نقصان ہوا ہے، لیکن اس کی غیر روایتی بحری حکمت عملی اب بھی مؤثر ہے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں خطرہ برقرار ہے۔