امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کو 5 سال کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم امریکا نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مدت کو 20 سال تک بڑھانے پر زور دیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جوہری سرگرمیوں کی معطلی سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایران نے محدود مدت کے لیے افزودگی روکنے کی پیشکش کی، لیکن امریکا نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے طویل المدتی معاہدے پر اصرار کیا۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اس معاملے پر واضح اختلافات موجود ہیں، جس کے باعث مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس صورتحال نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو شروع ہوا تھا، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔ یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے، تاہم کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ مثبت پیشرفت ضرور ہوئی ہے اور امریکا نے اپنی تجاویز واضح طور پر پیش کر دی ہیں۔ ان کے مطابق اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے کہ وہ آگے کیسے بڑھنا چاہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یورینیم افزودگی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ہی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر اس مسئلے پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات نے اگرچہ فوری نتیجہ نہیں دیا، لیکن یہ عمل مستقبل میں کسی بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایران کی 5 سالہ پیشکش مسترد، امریکا 20 سالہ معطلی پر بضد
-

تنازعات کا حل صرف سفارت کاری، ایرانی صدر کا مؤقف
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازعات کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور طاقت یا دباؤ کے ذریعے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو دیرپا امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے گفتگو کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات اس لیے کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ امریکا نے نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا اور دورانِ مذاکرات زیادہ سے زیادہ مطالبات پر اصرار کرتا رہا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ یورپی ممالک، خصوصاً فرانس، اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور امریکا کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔
ایرانی صدر نے خبردار کیا کہ دھمکیوں، دباؤ اور فوجی کارروائیوں سے خطے میں مسائل مزید بڑھیں گے اور اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو متاثر کریں گے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات دراصل امریکا کے لیے بھی نئے مسائل پیدا کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہمیشہ سے سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام فریق سنجیدگی سے بات چیت کریں تو ایک قابلِ قبول حل نکالا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی صدر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف ممالک سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ -

وزیراعظم کل سعودی ولی عہد سے ملاقات کریں گے، اہم امور زیر غور
وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کو خطے کی بدلتی صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں وزیراعظم کا یہ دوسرا دورہ سعودی عرب ہے، جو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات اور بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اہم دوطرفہ معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے کی مجموعی صورتحال، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
خاص طور پر پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ملاقات کا اہم ایجنڈا ہوں گے۔ دونوں رہنما ان مذاکرات کے آئندہ لائحہ عمل اور ممکنہ پیش رفت پر مشاورت کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب میں دو روزہ قیام کے بعد ترکیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ اس فورم کے دوران وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس دورے سے نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی حیثیت بھی مستحکم ہوگی۔ -

صدر زرداری اور وزیراعظم کی ملاقات، امریکا ایران مذاکرات پر بریفنگ
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں ملک کی موجودہ سفارتی صورتحال اور خطے میں جاری پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور پاکستان کے بطور ثالث کردار پر اعتماد میں لیا۔ انہوں نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ بھی امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سفارتی حکمت عملی اور پاکستان کے مؤقف پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا بطور ثالث کردار عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے اور اس سے ملک کی سفارتی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں نہ صرف اندرونی ہم آہنگی کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو بھی واضح کرتی ہیں۔ -

شی جن پنگ اور یو اے ای ولی عہد کی ملاقات، خطے کے امن پر زور
بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ سے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے اہم ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی سکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ اور جامع تعاون پر مبنی سکیورٹی نظام کی تشکیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو "جنگل کے قانون” کی طرف واپس جانے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
چینی صدر نے کہا کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام ضروری ہے۔ ان کے مطابق تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کو ترجیح دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں افراد، تنصیبات اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقی اور سکیورٹی کو ایک ساتھ لے کر چلنا بھی ناگزیر ہے تاکہ پائیدار استحکام حاصل کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق چین اور یو اے ای کے درمیان یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑی عالمی اور علاقائی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے متحرک ہو رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی ملاقاتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ -

امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی جہاز آبنائے ہرمز عبور کر گئے
میرین ٹریکنگ کمپنی کپلر کے ڈیٹا کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے کم از کم دو جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جس سے اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لائبیریا کا پرچم بردار بلک کیریئر ’کرسٹیانا‘ ایرانی بندرگاہ بندر امام خمینی سے مکئی اتارنے کے بعد روانہ ہوا اور پیر کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی ناکہ بندی نافذ ہوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے۔
اسی طرح کوموروس کا پرچم بردار آئل ٹینکر ’ایلپس‘ بھی جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا، جو بعد ازاں کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔ دونوں جہاز ایرانی ساحلی حدود کے قریب رہتے ہوئے اس حساس سمندری راستے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس واقعے نے امریکی ناکہ بندی کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح جہازوں کی آمدورفت جاری رہی تو عالمی توانائی سپلائی پر فوری دباؤ کم ہو سکتا ہے، تاہم خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کے باعث صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ -

ایران میں رجیم تبدیلی کو مشن قرار: موساد
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے کہا ہے کہ ایران میں ان کا مشن اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک وہاں حکومت کی تبدیلی نہیں ہو جاتی۔ ان کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیوڈ برنیا نے دعویٰ کیا کہ حالیہ ایران جنگ کے دوران موساد نے تہران کے اندر مؤثر کارروائیاں کیں اور اسرائیلی فضائیہ کو درست اور بروقت انٹیلی جنس فراہم کی۔ ان کے مطابق ان معلومات کی بنیاد پر ایسے میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا جو اسرائیل کے لیے خطرہ تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشن کسی مختصر مدت کے لیے نہیں بلکہ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت جاری رکھا جائے گا۔ برنیا کے مطابق موساد کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو جاتے۔
موساد چیف نے واضح کیا کہ ایران میں رجیم کی تبدیلی ان کا ہدف ہے اور وہ کسی بھی ایسے خطرے کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے جو اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ بن سکتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری اس وقت ختم ہوگی جب ایران میں موجودہ حکومت تبدیل ہو جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اس بیان سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور ایران اسرائیل کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے بیانات سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، جو پہلے ہی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ -

ایران نے مذاکرات کیلئے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار دے دیا
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی سطح پر پیش رفت جاری ہے اور اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ جلد اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں امن کی کوششوں کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم امریکا کی جانب سے حتمی مؤقف ابھی واضح نہیں ہے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا دوسرا دور ہوتا ہے تو پاکستان ہی ترجیحی مقام ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے وفود رواں ہفتے دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں تاکہ جاری امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس حوالے سے پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بھی اس امکان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور اسی ہفتے یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اہم مذاکرات جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا بطور ثالث کردار عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود مذاکرات کا جاری رہنا ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ -

امریکا ایران مذاکرات کی امید، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے نیچے آ گئی ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں ایک دن کی عارضی تیزی کے بعد آج دوبارہ مندی کا رجحان غالب رہا۔ عالمی سطح پر سپلائی اور طلب کی صورتحال میں بہتری کی توقعات نے قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
لندن برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.52 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر 86 سینٹ فی بیرل تک آ گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتوں میں بھی 2.28 فیصد کمی ہوئی اور یہ 96 ڈالر 85 سینٹ فی بیرل پر آ گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اب مذاکرات کے نئے دور کی امیدوں نے عالمی منڈی میں اعتماد بحال کیا ہے، جس کے باعث توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کم ہوئے ہیں اور قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ مذاکرات کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان ایٹمی سرگرمیوں کے حوالے سے تجاویز کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایران نے یورینیم افزودگی کو محدود مدت کے لیے روکنے کی پیشکش کی ہے جبکہ امریکا اس مدت کو مزید بڑھانے کا خواہاں ہے۔ اگرچہ ابھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں، تاہم براہ راست بات چیت کے تسلسل نے ایک ممکنہ معاہدے کی امید پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔ -

نیپا فلائی اوور متاثر، کے فور منصوبے کے دوران پل کا حصہ بیٹھ گیا
کراچی کے مصروف علاقے یونیورسٹی روڈ پر واقع نیپا فلائی اوور کو کے فور منصوبے کے تحت جاری کھدائی کے دوران شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث پل کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا ہے اور سڑک پر خطرناک گڑھا بن گیا ہے۔ اس واقعے نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کے فور واٹر سپلائی منصوبے کے لیے پائپ لائن بچھانے کے دوران بھاری مشینری کے استعمال اور مسلسل کھدائی کی وجہ سے فلائی اوور کی بنیادیں متاثر ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق نیپا سے حسن اسکوائر جانے والے ٹریک پر پل کا ایک حصہ تقریباً 6 سے 7 فٹ تک نیچے دھنس گیا، جس سے ٹریفک کے لیے شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔
انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے فوری طور پر متاثرہ حصے کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا ہے۔ تاہم اس بندش کے باعث یونیورسٹی روڈ پر شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے طلبہ، ملازمین اور عام شہریوں کو روزمرہ کے معمولات میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی شہریوں نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی ناقص منصوبہ بندی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریڈ لائن بی آر ٹی اور کے فور منصوبے ایک مسئلہ بن چکے ہیں، جن کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک مسائل بڑھ رہے ہیں بلکہ انفراسٹرکچر بھی متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر پل کی مرمت کا آغاز کرے اور متاثرہ مقام پر روشنی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب متعلقہ حکام کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر کے فور منصوبے کے تحت تقریباً 2.7 کلومیٹر طویل پانی کی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، تاہم فلائی اوور کی مکمل مرمت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس طرح کے واقعات مزید خطرناک صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔