Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ایران میں شہادتیں 3300 سے تجاوز، بچوں سمیت بڑی تعداد متاثر


    ایران میں شہادتیں 3300 سے تجاوز، بچوں سمیت بڑی تعداد متاثر


    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک شہادتوں کی تعداد 3300 سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ایرانی عدلیہ کے ماتحت لیگل میڈیسن آرگنائزیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق اب تک 3375 لاشوں کی شناخت مکمل کی جا چکی ہے۔
    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہید ہونے والوں میں 2875 مرد اور 496 خواتین شامل ہیں، جبکہ سب سے زیادہ اموات تہران، ہرمزگان اور اصفہان کے صوبوں میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حملوں کا اثر ملک کے مختلف حصوں میں شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا۔
    اعداد و شمار کے مطابق متاثرین میں سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں، جو اس انسانی المیے کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سات شیر خوار بچے، 255 بچے جن کی عمریں ایک سے 12 سال کے درمیان تھیں، اور 121 نوجوان جن کی عمریں 13 سے 18 سال کے درمیان تھیں، اس تشدد کا نشانہ بنے۔
    مزید یہ کہ شہید ہونے والوں میں مختلف ممالک کے شہری بھی شامل ہیں، جن میں افغان، شامی، ترک، پاکستانی، چینی، عراقی اور لبنانی شہری شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تنازع صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
    ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کر کے مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
    ‎یہ اعداد و شمار نہ صرف ایک سنگین انسانی المیہ کی تصویر پیش کرتے ہیں بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کے اثرات سب سے زیادہ عام شہریوں، خصوصاً بچوں، پر پڑتے ہیں۔

  • ‎پاکستان کا محفوظ اور دوستانہ ماحول، ایران نے مذاکرات میں سراہا

    ‎پاکستان کا محفوظ اور دوستانہ ماحول، ایران نے مذاکرات میں سراہا

    ‎پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات میں دونوں ممالک نے بعض معاملات پر پیش رفت ضرور کی، تاہم چند بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے پاکستان کے محفوظ اور دوستانہ ماحول کو سراہا، جبکہ ابتدا میں ایران مذاکرات کے لیے پاکستان آنے پر آمادہ نہیں تھا، مگر چین اور روس کی کوششوں سے اسے قائل کیا گیا۔
    ‎ان مذاکرات میں دو بڑے مسائل پر خاص توجہ دی گئی۔ پہلا معاملہ آبنائے ہرمز کا تھا، جہاں مشترکہ کنٹرول کے حوالے سے ایران نے کچھ حد تک لچک دکھائی۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت حساس راستہ ہے۔
    ‎دوسرا اور زیادہ پیچیدہ معاملہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تھا، خاص طور پر وہ یورینیم افزودگی کا پلانٹ جو روس کی مدد سے چل رہا ہے۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ ایران اس پروگرام کو ختم کرے یا اسے صرف شہری توانائی کے مقاصد تک محدود رکھا جائے۔ تاہم ایران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ اسرائیل سے درپیش سیکیورٹی خدشات اور امریکا کی جانب سے ضمانتوں کی عدم موجودگی کے باعث وہ اس پروگرام سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
    ‎مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے اور جنگ بندی کو برقرار رکھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ مذاکرات جاری رکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر پاکستان، مصر یا ترکی میں ہو سکتے ہیں۔
    ‎ایرانی حکام نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ کسی حتمی حل تک پہنچنے کے لیے متعدد مذاکراتی دور درکار ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران مستقبل میں روس کے ساتھ اپنے جوہری تعاون کو محدود یا ختم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ مسائل پیچیدہ ہیں، مگر سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید کی کرن ابھی باقی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں داخلے کے بعد دو پاکستانی جہاز واپس موڑ دیے گئے

    آبنائے ہرمز میں داخلے کے بعد دو پاکستانی جہاز واپس موڑ دیے گئے

    ‎پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے دو اہم جہازوں کو آبنائے ہرمز پہنچنے کے بعد اچانک واپس موڑ دیا گیا، جس نے سمندری تجارتی سرگرمیوں سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہاز “شالامار” اور “خیرپور” دو روز قبل رات کے وقت کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہوئے تھے جہاں انہیں خام تیل لوڈ کرنا تھا۔
    ‎اطلاعات کے مطابق دونوں جہاز جب آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے تو انہیں اچانک آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ اس غیر متوقع پیشرفت کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے فوری احکامات جاری کیے گئے، جن پر عمل کرتے ہوئے جہازوں کے کپتان آصف اور کپتان شاہین نے راستہ تبدیل کر دیا اور جہازوں کو خلیج عمان کی جانب موڑ دیا۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کو کویت اور یو اے ای سے کروڑوں لیٹر خام تیل پاکستان لانا تھا، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث یہ منصوبہ وقتی طور پر مؤخر ہو گیا ہے۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ جہاز متبادل بندرگاہوں جیسے فجیرہ یا سعودی عرب کے شہر ینبوع کا رخ کر سکتے ہیں تاکہ وہاں سے تیل کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے بڑی مقدار میں عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا پابندی عالمی اور علاقائی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حالیہ واقعے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اس کے پس منظر میں ممکنہ سیکیورٹی یا جغرافیائی سیاسی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎ابھی تک سرکاری سطح پر اس معاملے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال طول پکڑتی ہے تو پاکستان کی توانائی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ حکام کی جانب سے متبادل راستوں اور ذرائع پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ تیل کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

  • سفارت کاری کا عمل کبھی رکتا نہیں ۔

    سفارت کاری کا عمل کبھی رکتا نہیں ۔

    پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد رواں ہفتے عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز بنا رہا، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے۔ جمعے کی شب سے اتوار کی صبح تک جاری رہنے والے ان مذاکرات پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہیں، کیونکہ یہ دونوں ممالک طویل عرصے بعد براہ راست ایک میز پر آئے تھے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب تقریباً 40 دنوں کی شدید کشیدگی اور جنگی ماحول کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ چکی تھی۔ ہزاروں جانوں کے نقصان اور بڑھتے تناؤ کے باوجود یہ ملاقات ایک مثبت قدم قرار دی جا رہی ہے، اگرچہ فوری معاہدے کی توقع کم ہی تھی۔
    ‎21 گھنٹے تک جاری رہنے والے بند کمرہ مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایک “حتمی اور بہترین پیشکش” چھوڑ کر جا رہا ہے، اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے۔
    ‎اگرچہ اس پیشکش کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، مگر سفارتی حلقوں میں اسے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں خاموش سفارت کاری جاری رہے گی۔
    ‎دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اختلافات کے باوجود بات چیت کا تسلسل ہی امن کی امید کو زندہ رکھتا ہے۔
    ‎مذاکرات میں سب سے بڑے اختلافی نکات ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں طاقت کا توازن اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات رہے۔ یہ پیچیدہ مسائل فوری طور پر حل ہونے والے نہیں بلکہ مسلسل بات چیت اور اعتماد سازی کا تقاضا کرتے ہیں۔
    ‎پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی اس موقع پر امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی پر عملدرآمد نہایت ضروری ہے اور پاکستان آئندہ بھی اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
    ‎یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ ہی واحد راستہ ہے، چاہے نتائج فوری نہ بھی نکلیں۔

  • اسلام آباد مذاکرات، پاکستان کا کردار برقرار مگر معاہدہ تاحال دور

    اسلام آباد مذاکرات، پاکستان کا کردار برقرار مگر معاہدہ تاحال دور

    ‎اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے باوجود پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار جاری رکھے گا۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے عزم پر قائم رہیں گے اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔
    ‎اسحاق ڈار کے مطابق انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ان مذاکرات کے مختلف مراحل میں دونوں فریقین کی معاونت کی۔ انہوں نے ان بات چیت کو “مشکل مگر تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس معاملات فوری حل نہیں ہوتے بلکہ وقت اور تسلسل کا تقاضا کرتے ہیں۔
    ‎امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اسے ایک ذمہ دار اور مثبت میزبان قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ امر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
    ‎بعض حلقے ان مذاکرات کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ ایک جانب دونوں حریف ممالک کو ایک میز پر لانا آسان نہیں تھا، جبکہ دوسری جانب جنگ بندی کے ماحول کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ تاہم حتمی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ مایوسی بھی پائی جاتی ہے۔
    ‎مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا ہے کہ ایسے مذاکرات کو ناکام نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق دونوں فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ بات چیت جاری ہے۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کئی معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم چند اہم نکات پر اختلافات اب بھی باقی ہیں جس کی وجہ سے حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس عمل سے سفارتی سطح پر فائدہ ضرور ہوا ہے اور اس کا عالمی وقار بہتر ہوا ہے۔ تاہم اگر خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو نہایت محتاط اور متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ وہ اپنے کردار کو برقرار رکھتے ہوئے امن کی کوششیں جاری رکھ سکے۔

  • 
آپریشن سندور: شکست اور بیانیہ سازی؟ بھارتی دعوے پہ بھارتی عوام کی تنقید

    
آپریشن سندور: شکست اور بیانیہ سازی؟ بھارتی دعوے پہ بھارتی عوام کی تنقید

    آپریشن سندور کے حوالے سے بھارتی دعوے مسلسل تنقید کی زد میں ہیں، جہاں حقیقت میں وہ ایک واضح ناکامی تھی۔ کشیدگی کے دوران بھارت کو نہ صرف شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بالآخر جنگ بندی کی طرف جانا پڑا، جو اسٹریٹجک پسپائی تھی۔
    اگر آپریشن واقعی کامیاب ہوتا تو بعد ازاں اسے “مؤخر کرنے” کی وضاحت پیش نہ کی جاتی۔ یہ مؤقف دراصل ناکامی کو چھپانے اور بیانیہ تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان نے اس بحث کو بھارت میں ہی مزید تیز کر دیا ہے، جہاں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ یہ کیسی کامیابی تھی جہاں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔
    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس آپریشن کے واضح نتائج سامنے آئی بھارت کو عالمی سطح پہ شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کو اپنے ہی ملک میں پاکستانی فوج سے منہ کی کھانی پڑی ۔

  • ‎ایرانی وفد پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے قریب، انتظار ختم

    ‎ایرانی وفد پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے قریب، انتظار ختم

    ‎اسلام آباد: ایرانی وفد کی پاکستان آمد کا طویل انتظار اب ختم ہونے کے قریب ہے، ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ہے، جس کے بعد اہم سفارتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز متوقع ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد کی آمد کے ساتھ ہی اسلام آباد میں جاری سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ ریڈ زون میں پہلے ہی ہائی الرٹ نافذ ہے۔ حکام اس دورے کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔
    ‎عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق وفد کی آمد کے فوراً بعد اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، جبکہ سیکیورٹی ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
    ‎یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بن چکا ہے، جہاں اہم فیصلوں کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

  • 
کراچی پورٹ کی تاریخی کارکردگی، 24 دن میں ریکارڈ ٹرانس شپمنٹس

    
کراچی پورٹ کی تاریخی کارکردگی، 24 دن میں ریکارڈ ٹرانس شپمنٹس

    ‎کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) نے اپنی 138 سالہ تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے صرف 24 دنوں میں 8,313 ٹرانس شپمنٹس ہینڈل کر کے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس پیش رفت کو ملکی بحری تجارت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین اس کے ساتھ کچھ اہم سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق کراچی پورٹ نے نہ صرف کم وقت میں زیادہ کارگو ہینڈل کیا بلکہ ایک ہی دن میں 31 جہازوں کو سنبھال کر ایک اور ریکارڈ بھی قائم کیا۔ پورٹ حکام کے مطابق یہ کامیابی جدید ڈیجیٹل نظام اور مسلسل 24 گھنٹے کام کرنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت عید کی تعطیلات میں بھی آپریشن جاری رکھا گیا۔
    ‎حکام کا دعویٰ ہے کہ ڈیجیٹل اپ گریڈیشن کے باعث پورٹ کے نظام میں تیزی آئی اور کارکردگی بہتر ہوئی، جس سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بھی بڑھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں غیر ملکی کمپنیوں کی دلچسپی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
    ‎تاہم ماہرین کے مطابق اس ریکارڈ کارکردگی کے باوجود کچھ اہم پہلوؤں پر غور ضروری ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ اضافہ مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جا سکے گا یا یہ صرف وقتی دباؤ اور اضافی اوقات کار کا نتیجہ ہے۔ مزید یہ کہ 24/7 آپریشنز کے دوران عملے پر پڑنے والے دباؤ اور وسائل کے استعمال کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔
    ‎اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کارکردگی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا گیا تو یہ پاکستان کی بحری تجارت اور معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے انفراسٹرکچر، پالیسی اور افرادی قوت میں مزید بہتری ضروری ہوگی۔

  • 
برطانوی وزیراعظم کا شہباز شریف کو فون، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا

    
برطانوی وزیراعظم کا شہباز شریف کو فون، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا

    10 اپریل 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف کو برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
    برطانوی وزیراعظم نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے مؤثر کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہونے والی سفارتی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کو مبارکباد دی اور اس عمل کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے یورپی اور بین الاقوامی رہنماؤں کے مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا، جس میں پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سفارتی عمل کو مسلسل آگے بڑھایا جائے تاکہ تنازعات کا پرامن حل ممکن ہو۔
    ‎گفتگو کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی وزیراعظم کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی، جسے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎یہ ٹیلیفونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سرگرم عمل ہے۔

  • 
چینی شہری کا حیران کن کارنامہ، 100 دن تک روزانہ 100 کلومیٹر دوڑ

    
چینی شہری کا حیران کن کارنامہ، 100 دن تک روزانہ 100 کلومیٹر دوڑ

    ‎چین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی غیر معمولی قوتِ برداشت اور عزم سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوانگ زینگ لونگ، جو لانگ شاؤ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، نے الٹرا میراتھون میں ایسا کارنامہ انجام دیا جو عام انسان کے تصور سے بھی باہر ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ہوانگ زینگ لونگ نے 6 دسمبر 2025 سے لے کر 15 مارچ 2026 تک مسلسل 100 دن تک روزانہ 100 کلومیٹر دوڑ لگائی۔ اس طرح انہوں نے مجموعی طور پر 10 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، جو ایک غیر معمولی ریکارڈ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ کارنامہ چین کے شہر فوشان میں مکمل کیا گیا۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوانگ زینگ لونگ نے اس چیلنج کی تیاری کا آغاز عالمی وبا کورونا کے دوران کیا تھا۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات ترک کر کے مکمل توجہ دوڑنے پر مرکوز کر دی۔ انہوں نے پورے ایک سال، یعنی 365 دن تک مسلسل پریکٹس کی تاکہ اپنے جسم کو اس سخت آزمائش کے لیے تیار کیا جا سکے۔
    ‎الٹرا میراتھون کے اس مشکل مرحلے میں انہوں نے نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی مضبوطی کا بھی مظاہرہ کیا۔ مسلسل 100 دن تک روزانہ 100 کلومیٹر دوڑنا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے بہت سے ماہرین نے ناممکن قرار دیا تھا، تاہم ہوانگ زینگ لونگ نے اپنی لگن سے یہ ثابت کر دیا کہ مضبوط ارادے کے سامنے مشکلات بھی ہار مان لیتی ہیں۔
    ‎ہوانگ زینگ لونگ کا کہنا ہے کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے اس کارنامے کا اعتراف ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چیلنج انسانی صلاحیت سے باہر ہے، مگر انہوں نے خود پر یقین رکھتے ہوئے اسے ممکن بنا دیا۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی فٹنس برقرار رکھنے کے لیے ایک مکمل ٹیم ان کے ساتھ موجود تھی، جس میں ماہر غذائیت اور طبی عملہ شامل تھا۔ یہ ٹیم مسلسل ان کی صحت، خوراک اور جسمانی حالت کی نگرانی کرتی رہی تاکہ وہ اس طویل اور کٹھن سفر کو کامیابی سے مکمل کر سکیں۔
    ‎یہ کارنامہ نہ صرف کھیلوں کی دنیا میں ایک نئی مثال قائم کرتا ہے بلکہ عزم اور مستقل مزاجی کی ایک مضبوط داستان بھی پیش کرتا ہے۔