Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ایران نے امریکا سے براہ راست سفارت کاری معطل کردی

    ایران نے امریکا سے براہ راست سفارت کاری معطل کردی

    ‎وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد امریکا کے ساتھ براہ راست سفارتی رابطے معطل کر دیے ہیں، جس سے خطے میں جاری امن مذاکرات کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کے سخت مؤقف کے جواب میں کیا گیا ہے تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ ایران دباؤ کے تحت کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اس اقدام کے ذریعے اپنی ناپسندیدگی اور مزاحمت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت نے پہلے سے جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈلائن قریب آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ براہ راست رابطوں کی معطلی سے مذاکراتی عمل متاثر ہوگا اور کسی ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کے امکانات کمزور پڑ سکتے ہیں۔
    ‎ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک امریکا اپنے مؤقف میں نرمی نہیں دکھاتا اور دباؤ کی پالیسی ترک نہیں کرتا، اس وقت تک براہ راست مذاکرات بحال ہونے کا امکان کم ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے کیونکہ براہ راست سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ اگر مذاکرات کا عمل بحال نہ ہوا تو خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

  • وزیراعظم کی سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کی یقین دہانی

    وزیراعظم کی سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کی یقین دہانی

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر مشکل گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ یہ بات دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے کے دوران سامنے آئی، جس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے حالیہ حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ہر سطح پر سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے الجبیل میں آئل فسیلٹی پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
    ‎شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ویسے ہی کھڑا رہے گا جیسے سعودی قیادت نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے سعودی قیادت کے حالیہ کشیدگی کے دوران تحمل اور دانشمندی پر مبنی رویے کو بھی سراہا اور اسے امن کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
    ‎وزیراعظم نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا جن کا مقصد تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے۔
    ‎دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ قریبی رابطہ موجودہ صورتحال میں نہایت اہم ہے، جو نہ صرف باہمی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔

  • امریکا کی ڈیڈلائن قریب، ٹرمپ کی دوبارہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی

    امریکا کی ڈیڈلائن قریب، ٹرمپ کی دوبارہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈلائن ختم ہونے میں محض چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر پاکستان اور مصر نے جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔
    ‎امریکی صدر نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ کے تحت کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں اور اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جن میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر نے بھی ثالثی کے عمل میں حصہ لیتے ہوئے ایران کا پیغام امریکا اور دیگر ممالک تک پہنچایا ہے۔ اس پیغام میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے شدید نتائج برآمد ہوں گے اور پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے۔
    ‎ایرانی ذرائع نے مزید عندیہ دیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو ایران کے اتحادی اہم بحری گزرگاہ باب المندب کو بھی بند کر سکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے اور کسی بھی غلط قدم سے خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔ ایسے میں پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہیں تاکہ تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکے۔

  • امریکا ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے:یو اے ای نے آبنائے ہرمز کی آزادی کی ضمانت مانگ لی

    امریکا ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے:یو اے ای نے آبنائے ہرمز کی آزادی کی ضمانت مانگ لی

    ‎متحدہ عرب امارات نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایک واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی مکمل آزادی کی ضمانت کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اماراتی صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ اس اہم عالمی گزرگاہ کو کسی بھی ملک کے زیر اثر یا یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق انور قرقاش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے معاہدے میں عالمی تجارتی راستوں کی آزادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم تجارتی شاہراہ ہے، جہاں سے تیل اور دیگر اہم وسائل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس گزرگاہ کی آزادی متاثر ہوئی تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اس کی مکمل حفاظت اور آزادی کو یقینی بنایا جائے۔
    ‎انور قرقاش نے صرف جنگ بندی پر مبنی کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عارضی اقدامات مسائل کا حل نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق ایک پائیدار اور جامع معاہدہ ضروری ہے جس میں ایران کے ایٹمی پروگرام، بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں جیسے حساس معاملات کو مستقل طور پر حل کیا جائے۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنیادی تنازعات کو نظر انداز کر کے کوئی معاہدہ کیا گیا تو خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ پہلے سے زیادہ خطرناک صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے۔
    ‎اماراتی مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اب خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے زیادہ واضح اور مضبوط ضمانتیں چاہتے ہیں، خاص طور پر ایسے معاملات میں جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل سے جڑے ہوئے ہیں۔

  • منی پور میں ہلاکتوں کے بعد شدید جھڑپیں، احتجاج شدت اختیار کر گیا

    منی پور میں ہلاکتوں کے بعد شدید جھڑپیں، احتجاج شدت اختیار کر گیا

    ‎بھارتی ریاست منی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں جہاں دو بچوں کی ہلاکت کے بعد عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا۔ واقعے کے بعد شہری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد شکل اختیار کر لی۔
    ‎بھارتی میڈیا کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایک راکٹ لانچر حملے میں دو معصوم بچوں کی جان چلی گئی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی آبادی مشتعل ہو گئی اور مظاہرین نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین بھارتی فورس سی آر پی ایف کے کیمپ میں داخل ہو گئے، جس کے بعد حالات مزید بگڑ گئے۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ تاہم زخمیوں کی حتمی تعداد کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
    ‎ادھر مشتعل ہجوم نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی فوج کے ایک آئل ٹینکر کو بھی نذر آتش کر دیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ‎منی پور میں اس سے قبل بھی نسلی اور سیکیورٹی مسائل کے باعث کشیدگی دیکھی جاتی رہی ہے، تاہم حالیہ واقعہ نے ایک بار پھر امن و امان کی صورتحال کو شدید متاثر کیا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف مقامی سطح پر عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

  • ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

    ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 274 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ کانفرنس کی صدارت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جس میں ملکی سلامتی اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔
    ‎کانفرنس میں سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فورم کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
    ‎کور کمانڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب نے حالیہ اشتعال انگیزیوں کے باوجود تحمل اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے، جو کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کا یہ طرز عمل ثالثی اور سفارتی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے۔
    ‎فورم نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے حملے غیر ضروری کشیدگی کو جنم دیتے ہیں اور جاری امن عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بلاجواز جارحیت نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملکی سیکیورٹی، علاقائی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
    ‎فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی بنیاد ہیں اور ان کے مشن کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری انسداد دہشتگردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
    ‎کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت، افواج پاکستان اور عوام کے درمیان ہم آہنگی سے نہ صرف سیکیورٹی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں بلکہ معاشی استحکام بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ فورم نے واضح کیا کہ بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کا بلا امتیاز خاتمہ کیا جائے گا۔
    ‎شرکاء نے آپریشن “غضب لِلحق” کی رفتار برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور سعودی عرب کی صنعتی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ فورم نے کہا کہ ایسے حملے خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے صبر و تحمل کو سراہا گیا۔
    ‎فورم نے بھارت کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

  • ‎ایران کے اسرائیل پر مزید میزائل حملے، آئی ڈی ایف

    ‎ایران کے اسرائیل پر مزید میزائل حملے، آئی ڈی ایف

    ‎اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ایک بار پھر اسرائیل پر مزید میزائل داغے گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
    ‎اسرائیلی ڈیفینس فورسز کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے تازہ حملوں کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام متحرک ہیں اور آنے والے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق صورتحال مسلسل نگرانی میں ہے اور دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ تاہم فوری طور پر نقصانات یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صورتحال کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
    ‎عالمی برادری کی جانب سے دونوں ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کریں تاکہ خطے میں امن برقرار رکھا جا سکے۔

  • پاکستان کی سعودی عرب پر میزائل و ڈرون حملوں کی شدید مذمت

    پاکستان کی سعودی عرب پر میزائل و ڈرون حملوں کی شدید مذمت

    ‎پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہایت خطرناک اور قابل مذمت اقدام ہے۔
    ‎بیان کے مطابق ایسے حملے نہ صرف اہم انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی اور جارحیت کے خلاف ہے اور ایسے اقدامات کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔
    ‎دفتر خارجہ نے اس مشکل وقت میں سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قسم کے حملوں کا نوٹس لے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ترجمان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎بیان میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس قسم کے حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔

  • ایران کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، عملہ محفوظ

    ایران کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، عملہ محفوظ

    ‎ایران کے قریب خلیجی سمندری علاقے میں ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے، تاہم خوش قسمتی سے جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا۔ یہ اطلاع برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے جاری کی ہے، جس کے مطابق حملہ ایران کے جزیرۂ کیش کے جنوب میں پیش آیا۔
    ‎حکام کے مطابق جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے ان حصوں کو نقصان پہنچا جو پانی کی سطح سے اوپر موجود تھے۔ واقعے کے فوراً بعد جہاز کے عملے نے صورتحال پر قابو پایا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎جزیرۂ کیش ایران کے صوبہ ہرمزگان میں واقع ایک اہم ساحلی مقام ہے، جو خلیج فارس کے حساس ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس علاقے میں عالمی تجارت کے اہم بحری راستے موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہاں پیش آنے والے کسی بھی واقعے کو عالمی سطح پر تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
    ‎برطانوی میری ٹائم ادارے کے مطابق واقعے کی نوعیت اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس جانب سے کیا گیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری راستے بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف علاقائی سیکیورٹی بلکہ عالمی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
    ‎بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے سمندری تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • عدالت کا عمران خان سے وکیل کی ملاقات کا حکم

    عدالت کا عمران خان سے وکیل کی ملاقات کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان کے وکیل سلمان صفدر کی ملاقات کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ بدھ کے روز دوپہر دو بجے یہ ملاقات یقینی بنائی جائے۔
    یہ کیس عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں سے متعلق ہے، جس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے مؤقف میں کہا کہ کافی عرصے سے ان کی اپنے موکل سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔
    ‎عدالت نے اس معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے جیل حکام کو ملاقات کی اجازت دینے کا حکم جاری کیا۔ چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ کس وقت ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جس پر سلمان صفدر نے دوپہر دو بجے کا وقت تجویز کیا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
    ‎دوران سماعت یہ بھی بتایا گیا کہ تین ماہ سے زائد عرصے سے نہ تو عمران خان کی اپنے وکلا سے ملاقات کروائی گئی ہے اور نہ ہی ان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔ اس صورتحال پر عدالت نے وکیل کی درخواست کو تسلیم کرتے ہوئے فوری ملاقات کا حکم دیا۔
    ‎سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر جلد فیصلہ سنانے کی استدعا بھی کی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جیسے ہی اپیل پر دلائل کا آغاز ہوگا، عدالت سات روز کے اندر فیصلہ سنا دے گی۔
    ‎نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی درخواست کی، تاہم عدالت نے مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
    ‎عدالت کے اس حکم کو کیس میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ کارروائی میں تیزی آنے کا امکان ہے۔