بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں کے باعث تباہ کاریاں جاری ہیں، جہاں مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہو چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 19 مارچ سے شروع ہونے والی بارشوں نے کئی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
محکمہ پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادارہ ہائی الرٹ ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث 65 مویشی ہلاک ہو گئے جبکہ 160 گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق شمال مشرقی بلوچستان میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ایسے شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

بلوچستان میں بارشوں کی تباہ کاریاں، 12 افراد جاں بحق
-

حیفا میں میزائل حملے، چار افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئیں
حیفا میں گزشتہ روز ہونے والے میزائل حملوں کے بعد آج صبح ریسکیو ٹیموں نے ایک عمارت کے ملبے تلے دبے چار افراد کی لاشیں نکال لیں۔ حکام کے مطابق یہ افراد اس وقت عمارت میں موجود تھے جب حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔
ریسکیو اداروں نے رات بھر اور صبح تک امدادی کارروائیاں جاری رکھیں، جس کے دوران بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹایا گیا۔ ٹیموں کو خدشہ تھا کہ مزید افراد بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، جس کے باعث سرچ آپریشن نہایت احتیاط کے ساتھ جاری رکھا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور قریبی عمارتیں بھی جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ مزید ممکنہ خطرات کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور نقصان کا مکمل اندازہ لگایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور ایسے واقعات کے تسلسل سے انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ -

جنگ بندی کی امید، تیل کی قیمتیں 110 ڈالر سے نیچے آگئیں
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے جہاں قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی خبریں ہیں۔
ابتدائی طور پر پیر کی صبح برینٹ کروڈ کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دی کہ اگر آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال نہ کی گئی تو امریکا ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کا عندیہ دیا، جس سے عالمی مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔
تاہم بعد ازاں جب امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت کی خبریں سامنے آئیں تو مارکیٹ میں قدرے سکون آیا۔
نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق اس ممکنہ جنگ بندی کا مقصد نہ صرف فوری کشیدگی کم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں مستقل امن کی راہ بھی ہموار کرنا ہے۔
ان خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 107 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی تیل کی قیمتیں اب خطے کی سیاسی صورتحال سے براہ راست متاثر ہو رہی ہیں اور کسی بھی مثبت یا منفی پیش رفت پر فوری ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ -

بوشہر جوہری پلانٹ پر حملے، ایران کا آئی اے ای اے کو ہنگامی خط
ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر کو خط لکھ کر بوشہر جوہری بجلی گھر پر حملوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے واحد فعال جوہری پاور پلانٹ بوشہر کو اب تک چار بار نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ 4 اپریل کو ہونے والے ایک حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
محمد اسلامی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کسی بھی وقت تابکار مواد کے اخراج کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تابکار مواد خارج ہوا تو اس کے اثرات انسانوں، ماحول اور ہمسایہ ممالک پر ناقابل تلافی ہوں گے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آئی اے ای اے پر زور دیا ہے کہ وہ صرف تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہے بلکہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بڑے انسانی اور ماحولیاتی بحران سے بچا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جوہری تنصیبات کی سیکیورٹی عالمی سطح پر ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ -

مزاکرات کو لے کر آبنائے ہرمز پر ایران کا واضح اور دو ٹوک موقف
ایرانی حکام نے ثالثی کرنے والے ممالک کو واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو غزہ یا لبنان جیسی صورتحال پیدا کرے، جہاں بظاہر جنگ بندی ہو لیکن امریکا اور اسرائیل کو جب چاہیں دوبارہ حملے کی آزادی حاصل ہو۔
رپورٹس کے مطابق ایران اس وقت آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو ایک اہم دفاعی اور معاشی ہتھیار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایرانی مؤقف یہ ہے کہ عالمی معیشت میں خلل ڈالنے کی صلاحیت مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اس اہم گزرگاہ کو آمدنی کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور خلیجی ممالک کے لیے ایسی کوئی ڈیل قابل قبول نہیں جس میں ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے۔ امریکی مذاکرات کاروں کا خیال ہے کہ ایران کو اس کنٹرول کو بطور سودے بازی استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی ضمانتیں اور اقتصادی فوائد حاصل کرنے چاہئیں۔
تاہم ایرانی حکام اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز خود ہی ان کے لیے سکیورٹی اور معاشی طاقت کا بنیادی ذریعہ ہے، جسے کسی صورت چھوڑا نہیں جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ آئندہ مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے کیونکہ دونوں فریقین اسے اپنے مفادات کے لیے انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ -

ایران پر شدید حملے، انٹیلی جنس چیف سمیت درجنوں افراد شہید
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں تیزی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف سمیت 40 سے زائد افراد شہید ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بمباری میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل مجید خادمی بھی شہید ہو گئے، جنہیں 2025 میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق تہران کے ایک رہائشی علاقے پر حملے میں 15 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ 4 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 40 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔ مجموعی طور پر آج شہید ہونے والوں کی تعداد 49 تک پہنچ گئی ہے۔
حملوں کے دوران تہران کی معروف شریف یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
دوسری جانب لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 8 افراد شہید اور 55 زخمی ہو گئے۔
ادھر ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھے، تل ابیب میں 15 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ حیفا میں میزائل حملے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوئے، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے بھی کی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے حملوں کی شدت خطے کو ایک بڑے اور طویل تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ -

ٹرمپ کی ایران کو کھلی دھمکی، ایک رات میں تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ایران کے حوالے سے انتہائی سخت اور جارحانہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو ایک ہی رات میں مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے اور وہ رات منگل کی رات بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں حالیہ امریکی ریسکیو آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے اسے تاریخ کے اہم ترین مشنز میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کی سرزمین سے اپنے پائلٹ کو دن کی روشنی میں بحفاظت نکالا، حالانکہ اس دوران امریکی فوجیوں کو انتہائی قریب سے فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
امریکی صدر کے مطابق ابتدائی ریسکیو کوشش میں 21 لڑاکا طیارے شریک تھے جبکہ دوسرے اور بڑے آپریشن میں مجموعی طور پر 155 طیاروں نے حصہ لیا۔ ان میں 4 بمبار طیارے، 64 فائٹر جیٹس، 48 ری فیولنگ ٹینکرز اور 13 ریسکیو ایئرکرافٹ شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام کارروائی ان کی ہدایت پر کی گئی اور امریکی طیارے ایران کے اندر تک گئے تاکہ پائلٹ کو تلاش کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ اس آپریشن میں تقریباً 200 فوجیوں نے حصہ لیا اور جدید ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا گیا، جن کی کارکردگی نہایت مؤثر رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورے آپریشن کے دوران کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جو اس مشن کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کے دوران امریکا نے اپنے دو طیاروں کو خود ہی تباہ کر دیا تاکہ حساس ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکے۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکا نہ صرف اپنی فوجی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے بلکہ اگر ضرورت پڑی تو انتہائی سخت اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔ -

فضائی راستے تبدیل، جنگ کے اثرات سے پروازیں متاثر
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایک نیا فضائی بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی ممالک کی پروازوں نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود کا استعمال ترک کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی ایئرلائنز سمیت مختلف ممالک کی پروازیں اب متبادل اور طویل فضائی راستے اختیار کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں سفر کا دورانیہ اور لاگت دونوں بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی پروازیں امارات کی فضائی حدود کے بجائے سعودی عرب کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے گزر رہی ہیں اور پھر عمان کے راستے اپنے روٹس مکمل کر رہی ہیں۔
اس تبدیلی کے باعث دمام سے اسلام آباد کی پروازوں کے دورانیے میں ایک گھنٹہ 40 منٹ تک اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ دمام سے لاہور اور ملتان کی پروازوں میں بھی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسی طرح دبئی، ابوظبی اور شارجہ سے پاکستان آنے والی پروازوں کے دورانیے میں اوسطاً 15 منٹ کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ جدہ اور ریاض سے آنے والی پروازوں کو 25 منٹ اضافی وقت درکار ہے۔ مدینہ سے اسلام آباد کی پروازوں میں بھی 35 منٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پروازوں کے دورانیے میں اضافے سے ایندھن کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایئرلائنز کو مالی نقصان اور مسافروں کو مہنگے ٹکٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سفری نظام اور معیشت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ -

ایران میں امریکی پائلٹ کا خطرناک ریسکیو آپریشن، حیران کن تفصیلات سامنے
ایران میں گرائے گئے امریکی F-15E لڑاکا طیارے کے دوسرے پائلٹ کو بازیاب کروانے کے لیے کیے گئے خفیہ اور انتہائی خطرناک ریسکیو آپریشن کی نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جنہوں نے اس پورے واقعے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق یہ آپریشن غیر معمولی نوعیت کا تھا جس میں امریکی فورسز نے بھرپور فضائی اور زمینی طاقت استعمال کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ زخمی امریکی پائلٹ تقریباً دو دن تک جنوبی مغربی ایران کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ایک دراڑ میں چھپا رہا، جبکہ ایرانی فورسز اور مقامی ملیشیا ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل اس کی تلاش میں مصروف تھیں۔
پائلٹ نے زمین پر اترنے کے بعد اپنا ایمرجنسی بیکن آن کیا جس سے امریکی حکام کو اس کے زندہ ہونے کا اشارہ ملا، تاہم اس کی درست لوکیشن معلوم کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ ایک موقع پر پائلٹ نے مختصر پیغام بھیجا کہ "گاڈ از گڈ”، جسے ابتدا میں امریکی حکام نے ممکنہ خطرہ یا جال سمجھا۔
اتوار کی صبح امریکی کمانڈوز نے شدید فائرنگ اور فضائی مدد کے ساتھ ایران کے اندر تقریباً 200 میل تک رسائی حاصل کی اور پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا۔ اس دوران امریکی فورسز نے زمین پر موجود اپنے حساس طیاروں کو بھی تباہ کر دیا تاکہ کوئی جدید ٹیکنالوجی مخالف کے ہاتھ نہ لگ سکے۔
یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا جب "ڈیوڈ 44” کال سائن والے F-15E طیارے کو ایرانی فورسز نے مار گرایا۔ طیارے میں موجود ایک پائلٹ کو فوری طور پر نکال لیا گیا جبکہ دوسرے کے لیے یہ پیچیدہ آپریشن شروع کیا گیا۔
ریسکیو مشن میں تقریباً 100 اسپیشل فورسز اہلکاروں کے ساتھ متعدد جنگی طیارے، ڈرونز اور ہیلی کاپٹر شریک تھے۔ سی آئی اے نے بھی خفیہ معلومات فراہم کرنے اور ایرانی فورسز کو گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی وزیر دفاع اور عسکری قیادت نے فوری طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صورتحال سے آگاہ کیا، جنہوں نے آپریشن کی منظوری دیتے ہوئے پائلٹ کو ہر صورت واپس لانے کا حکم دیا۔
رپورٹ کے مطابق B-1 بمبار طیاروں نے درجنوں بھاری بم گرائے جبکہ MQ-9 ریپر ڈرونز نے ممکنہ خطرات کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی کوشش میں کچھ مشکلات بھی پیش آئیں جن میں ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ اور طیاروں کو نقصان پہنچنا شامل تھا، تاہم متبادل حکمت عملی کے تحت آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس مشن میں اسرائیل نے بھی انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا، جس سے آپریشن کو کامیابی تک پہنچانے میں مدد ملی۔ -

ٹرمپ کی ایران کو آخری وارننگ، منگل کی ڈیڈ لائن حتمی قرار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے اور اگر ایران نے دی گئی شرائط پر عمل کر لیا تو جنگ فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور ان پر عمل درآمد ہی کشیدگی کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے جن افراد سے بات چیت کر رہا ہے وہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ سمجھدار اور حقیقت پسند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا کا مقصد صرف دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ ایک ایسا حل نکالنا ہے جس سے خطے میں استحکام پیدا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا اس معاملے پر کسی قسم کی نرمی نہیں دکھائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک سخت بیان دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو امریکا ایران کے تیل کے وسائل پر قبضہ بھی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو کافی حد تک کمزور کیا جا چکا ہے اور اب اس کے پاس محدود تعداد میں میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پس پردہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور دونوں ممالک کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن نہایت اہم ہیں اور یہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں کہ آیا صورتحال مزید بگڑے گی یا کسی معاہدے کی طرف پیش رفت ہوگی۔