Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ‎جے یو آئی کا احتجاج مؤخر، حکومت کی یقین دہانی پر بڑا فیصلہ

    ‎جے یو آئی کا احتجاج مؤخر، حکومت کی یقین دہانی پر بڑا فیصلہ

    اسلام آباد میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام لے کر ایک اعلیٰ سطحی حکومتی وفد جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچا۔ وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چوہدری شامل تھے۔
    ‎ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے جے یو آئی سے درخواست کی کہ ایران، امریکا اور دیگر ممالک کے وفود کی اسلام آباد آمد کے پیش نظر جمعہ کو اعلان کردہ مظاہرے مؤخر کیے جائیں تاکہ عالمی سطح پر مثبت پیغام دیا جا سکے اور جاری امن مذاکرات کو حتمی شکل دینے میں آسانی ہو۔
    ‎ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے حکومتی وفد کو عوام میں بڑھتی بے چینی سے آگاہ کیا، خاص طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔
    ‎اس موقع پر حکومتی وفد نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ چند روز میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد مولانا فضل الرحمان نے جماعتی قیادت سے مشاورت کی اور جذبہ خیرسگالی کے تحت ملک بھر میں جمعہ کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
    ‎جے یو آئی کی جانب سے عوام کو اپیل کی گئی ہے کہ وہ 12 اپریل 2026 کو مردان میں ہونے والے جلسہ عام میں شرکت کریں، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
    ‎بیان کے اختتام پر ملک اور عالم اسلام کے لیے امن و سلامتی کی دعا بھی کی گئی۔

  • پی ٹی آئی نے حکومت کی درخواست پر جلسہ ملتوی کر دیا

    ‎تحریک انصاف نے حکومت کی درخواست پر کل ہونے والا اپنا جلسہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے جلسہ مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ ملاقات قومی اسمبلی کی اپوزیشن لابی میں ہوئی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
    ‎ملاقات میں حکومتی وفد کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور راجا پرویز اشرف نے کی، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی، بیرسٹر گوہر، عامر ڈوگر اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔
    ‎ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن سے سیکیورٹی اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر جلسہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، جسے پی ٹی آئی نے قبول کرتے ہوئے تعاون کا مظاہرہ کیا۔
    ‎دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات کے باعث 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیل کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان دنوں شہر میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ حساس صورتحال میں سیاسی جماعتیں اور حکومت باہمی تعاون کے ذریعے معاملات کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • محمود اچکزئی کا حکومت کی حمایت کا اعلان، قومی اتحاد پر زور

    محمود اچکزئی کا حکومت کی حمایت کا اعلان، قومی اتحاد پر زور

    ‎قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے موجودہ صورتحال پر حکومت کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کامیابی پر خوش نہ ہونا کسی پاگل پن سے کم نہیں اور اس وقت تمام سیاسی قیادت کو ایک ساتھ بیٹھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔
    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگرچہ اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ایسے نازک وقت میں سب کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خیر اور تقویٰ کے جذبے کے تحت حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اور ہر ممکن تعاون کریں گے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے جو بے شمار وسائل سے مالا مال ہے، اس کے باوجود ہمیں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات ایک اہم موقع فراہم کر رہے ہیں جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
    ‎محمود اچکزئی نے امریکا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مسئلہ ٹرمپ کی انا ہے، جو یہ سمجھتے تھے کہ ایران جلد سرنڈر کر دے گا، تاہم حالات اس کے برعکس ثابت ہوئے ہیں۔
    ‎انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور ان سے بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ جیل جا کر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گے اور معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔
    ‎اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے اور تمام قوتوں کو مل کر ملک کو آگے لے جانا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

  • ‎اسرائیلی خلاف ورزی پر ایران جوابی کارروائی کی تیاری میں

    ‎اسرائیلی خلاف ورزی پر ایران جوابی کارروائی کی تیاری میں

    ‎ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایران نے اسرائیل کی جانب سے مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد اپنے ردعمل کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے۔
    ‎فارس کے مطابق ایک سکیورٹی اور عسکری ذریعے نے بتایا ہے کہ لبنان اور وہاں کی مزاحمتی تنظیموں کے خلاف اسرائیلی حملوں کے بعد ایران مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ کارروائیاں حالیہ حملوں کے جواب میں کی جا سکتی ہیں۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ مختلف محاذوں پر معاہدوں کے باوجود اسرائیلی کارروائیوں کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یا تو امریکا اسرائیل کو روکنے میں ناکام ہے یا اسے کارروائی کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
    ‎فارس کے مطابق چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے بیروت پر حملہ کیا گیا، جسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے اور خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی جاتی ہے تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے۔

  • ٹرمپ کا ایران سے متعلق نیا مؤقف، اہم شرائط کا اعلان

    ٹرمپ کا ایران سے متعلق نیا مؤقف، اہم شرائط کا اعلان

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 15 روزہ جنگ بندی کے بعد اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے۔
    ‎ٹرمپ کے مطابق طے کیے گئے 15 نکات میں سے متعدد پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ باقی معاملات پر بھی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ایک مؤثر نظامِ حکومت میں تبدیلی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جسے مستقبل کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران میں یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی اور امریکا ایران کے ساتھ مل کر زیر زمین موجود تمام نیوکلیئر مواد کو ختم کرے گا۔ ان کے مطابق اس عمل کی نگرانی پہلے بھی سیٹلائٹ کے ذریعے کی جاتی رہی ہے اور آئندہ بھی سخت نگرانی جاری رہے گی۔
    ‎ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ محصولات اور پابندیوں کے حوالے سے بھی مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کریں گے، ان پر فوری طور پر سخت ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
    ‎ان کے مطابق ایسے ممالک پر 50 فیصد تک ٹیرف نافذ کیا جائے گا اور یہ پابندیاں ان تمام اشیا پر لاگو ہوں گی جو امریکا کو برآمد کی جاتی ہیں، جس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
    ‎ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور آئندہ مذاکرات میں سخت شرائط سامنے آ سکتی ہیں۔

  • دوران پرواز بچے کی پیدائش، شہریت پر دلچسپ سوالات

    دوران پرواز بچے کی پیدائش، شہریت پر دلچسپ سوالات

    ‎کیریبین ملک جمیکا سے نیویارک جانے والی ایک پرواز میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جب دوران پرواز ایک خاتون مسافر کے ہاں بچے کی پیدائش ہوگئی، جس کے بعد نومولود کی شہریت کے حوالے سے دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق کیریبین ایئرلائنز کی پرواز 4 اپریل کو کنگسٹن سے روانہ ہوئی تھی اور نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل ہی جہاز میں ایک نئے مسافر کا اضافہ ہو چکا تھا۔ ایئرلائن کے مطابق دوران پرواز ایک ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی مگر عملے کی بروقت مدد سے خاتون نے بحفاظت بچے کو جنم دیا۔
    ‎ایئرلائن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ نیویارک پہنچنے پر ماں اور بچے کا طبی معائنہ کیا گیا اور دونوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نومولود لڑکا ہے یا لڑکی، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ پیدائش پرواز کے کس مرحلے میں ہوئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ ممکنہ طور پر بچہ لڑکا ہے اور ماں نے اس کا نام “کینیڈی” رکھا ہے۔
    ‎اس واقعے کے بعد سب سے بڑا سوال بچے کی شہریت سے متعلق پیدا ہوا ہے۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری ہے تو بچے کو امریکی شہریت مل سکتی ہے۔ تاہم اگر والدین امریکی نہیں ہیں تو اس بات کا تعین ضروری ہوگا کہ پیدائش کے وقت طیارہ کس ملک کی فضائی حدود میں تھا۔
    ‎امریکی قوانین کے مطابق اگر کسی بچے کی پیدائش امریکی فضائی حدود میں ہو تو اسے امریکی شہریت دی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے طیارے کی میڈیکل اور پائلٹ لاگ سمیت دیگر دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔
    ‎یہ واقعہ نہ صرف ایک خوشی کا موقع ہے بلکہ عالمی قوانین کے تناظر میں ایک منفرد اور دلچسپ کیس بھی بن گیا ہے جس پر قانونی ماہرین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

  • ایران کا ہرمس 900 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، سخت ردعمل کی وارننگ

    ایران کا ہرمس 900 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، سخت ردعمل کی وارننگ

    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایک ہرمس 900 ڈرون مار گرایا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ایران نے فضائی خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل کی وارننگ بھی جاری کر دی ہے۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ ڈرون ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوا جس کے بعد اسے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی طیارے یا ڈرون کی ایران کی فضائی حدود میں داخلے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس پر فوری اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس طرح کے دعوے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حالیہ جنگ بندی کے بعد حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • ‎خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026 پیش

    ‎خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026 پیش

    ‎خیبر پختونخوا میں معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں صوبائی اسمبلی میں "ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026” پیش کر دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت صوبے بھر میں کیش لیس نظام کو فروغ دیا جائے گا اور تمام کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
    ‎صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم نے یہ بل اسمبلی میں پیش کیا، جس کا مقصد مالی لین دین کو شفاف بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق دکانوں، شاپنگ سینٹرز، تعلیمی اداروں، کلینکس اور ہسپتالوں سمیت تمام کاروباری مراکز کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم اپنانا ہوگا اور نمایاں جگہ پر QR کوڈ آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔
    ‎بل میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کاروباری ادارہ ڈیجیٹل ادائیگی وصول کرنے سے انکار کرے گا تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح صارفین سے ڈیجیٹل ادائیگی کے بدلے کسی قسم کے اضافی چارجز لینا بھی قانوناً ممنوع ہوگا۔
    ‎حکومت نے اس نظام کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا طریقہ کار بھی وضع کیا ہے۔ مانیٹرنگ افسران کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ کسی بھی وقت کسی کاروبار کا معائنہ کر سکیں تاکہ قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎تاجر برادری کو اس نئے نظام کی جانب راغب کرنے کے لیے حکومت نے مراعات کا بھی اعلان کیا ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت نئے رجسٹر ہونے والے کاروباروں کو دو سال تک خصوصی ٹیکس رعایت دی جائے گی تاکہ وہ آسانی سے اس نظام کا حصہ بن سکیں۔
    ‎وزیرِ قانون کے مطابق بینکوں اور دیگر سروس فراہم کرنے والے اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ تاجروں کو اس نظام کے لیے مکمل تکنیکی معاونت فراہم کریں تاکہ منتقلی کا عمل آسان ہو۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے نہ صرف ٹیکس چوری میں کمی آئے گی بلکہ معیشت میں شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کے لیے لین دین کا عمل زیادہ محفوظ اور سہل ہو جائے گا۔

  • اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے پیش نظر دو روزہ تعطیل

    اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے پیش نظر دو روزہ تعطیل

    ‎وفاقی حکومت نے امریکا اور ایران کے درمیان متوقع اہم مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد میں جمعرات اور جمعہ کو مقامی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی شروع کر دی ہے جبکہ مارگلہ ایونیو کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے پہاڑی چوٹیوں پر اینٹی ایئرکرافٹ سسٹمز اور اہم عمارتوں پر اسنائپرز تعینات کیے گئے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق سرینا ہوٹل، نادرا چوک اور میریٹ کے اطراف کے علاقوں میں بھی آمدورفت محدود کر دی گئی ہے، جبکہ شہر میں داخل ہونے اور باہر جانے والے افراد کی سخت چیکنگ جاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ممکنہ عالمی سطح کے مذاکرات کے دوران مکمل سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎بتایا جا رہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد مستقل امن کے قیام کے لیے اہم مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کرے گا۔
    ‎ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات جمعہ کے روز شروع ہونے کا امکان ہے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ پاکستان ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • امریکی وزیر دفاع کی ٹرمپ کی تعریف، ایران پر بڑی کامیابی کا دعویٰ

    امریکی وزیر دفاع کی ٹرمپ کی تعریف، ایران پر بڑی کامیابی کا دعویٰ

    ‎امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ کی کھل کر تعریف، ایران سے متعلق بڑے دعوے سامنے آگئے۔
    ‎پریس کانفرنس کے دوران پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو بڑی شکست دے کر نئی تاریخ رقم کی اور وہ کامیابی حاصل کی جو پہلے کسی کو نہیں ملی۔ انہوں نے جنگ میں حصہ لینے والے امریکی فوجی اہلکاروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
    ‎امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کو جنگ میں شدید نقصان پہنچا، اس کی فضائیہ اور نیوی کو تباہ کر دیا گیا جبکہ اس کی جوہری صلاحیت کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود جنگ بندی کے لیے درخواست کی جس پر صدر ٹرمپ نے نرمی کا مظاہرہ کیا۔
    ‎پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی قیادت میں تبدیلی کے آثار ہیں اور اب ایسے افراد سامنے آ رہے ہیں جو مذاکرات کے حامی ہیں۔ جوہری پروگرام سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
    ‎انہوں نے جنگ بندی کو ایک مثبت موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی راستہ حقیقی امن اور مستقل معاہدے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وزارت دفاع اپنا کردار ادا کر چکی ہے تاہم امریکا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل کرے۔