Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
لاہور قلندرز کا ٹیومر میں مبتلا بچے کی خواہش پوری کرنے کا اعلان

    
لاہور قلندرز کا ٹیومر میں مبتلا بچے کی خواہش پوری کرنے کا اعلان

    
پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز نے ٹیومر میں مبتلا ایک بچے کی خواہش پوری کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس نے کپتان شاہین شاہ آفریدی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔
    تفصیلات کے مطابق فرزان نامی بچہ گزشتہ چار سال سے ٹیومر کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور وہ لاہور قلندرز کا بہت بڑا مداح ہے۔ بچے نے اپنے پیغام میں بتایا کہ اس کا تعلق گوجرانوالہ کے علاقے قلعہ دیدار سنگھ سے ہے اور وہ اپنے پسندیدہ کھلاڑی شاہین آفریدی سے ملنا چاہتا ہے۔
    ‎لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے بچے کا پیغام موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس بہادر بچے کو میچ میں مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے پسندیدہ کپتان سے ملاقات کر سکے۔
    ‎انتظامیہ نے مزید کہا کہ بچے کو خوش کرنے کے لیے ٹیم کی جانب سے دستخط شدہ شرٹ بھی تحفے میں دی جائے گی تاکہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ لائی جا سکے۔
    ‎لاہور قلندرز کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر بھی سراہا جا رہا ہے جہاں صارفین نے ٹیم کے اس انسان دوست قدم کو قابل تعریف قرار دیا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کھیل صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ انسانیت اور امید کا پیغام بھی دیتا ہے، خاص طور پر ایسے بچوں کے لیے جو زندگی کی مشکل جنگ لڑ رہے ہوں۔

  • 
ٹرمپ کی ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    
ٹرمپ کی ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورتحال تبدیل نہ ہوئی تو ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ منگل کا دن ایران میں ’پاور پلانٹ ڈے‘ اور ’برج ڈے‘ ہوگا، جس کے تحت اہم تنصیبات بیک وقت حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔
    ‎انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ‎ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس بیان کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

  • 
غیر ملکی سرمایہ کار پیچھے ہٹ گئے، مقامی بانڈز میں سرمایہ کاری کم

    
غیر ملکی سرمایہ کار پیچھے ہٹ گئے، مقامی بانڈز میں سرمایہ کاری کم

    
پاکستان کے مقامی بانڈز میں مارچ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں مجموعی سرمایہ کاری 886.7 ملین ڈالر رہی، جبکہ اس دوران 794 ملین ڈالر کا اخراج ہوا، جس کے بعد خالص سرمایہ کاری صرف 93 ملین ڈالر رہ گئی۔
    ‎رپورٹ کے مطابق مارچ کے پہلے 27 دنوں میں ٹریژری بلز سے 227 ملین ڈالر نکالے گئے جبکہ اسی عرصے میں صرف 19 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری آئی، جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ سرمایہ برطانیہ منتقل ہوا جہاں 281 ملین ڈالر کا اخراج ریکارڈ کیا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 209 ملین ڈالر، بحرین سے 170 ملین ڈالر، سنگاپور سے 77.6 ملین ڈالر اور امریکہ سے 32 ملین ڈالر کا سرمایہ نکالا گیا۔
    ‎دوسری جانب مقامی سطح پر ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اندرون ملک سرمایہ کار حکومتی بانڈز کو نسبتاً محفوظ سمجھ رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

  • 
ایرانی ڈرون حملے، کویت کی تیل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی

    
ایرانی ڈرون حملے، کویت کی تیل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی

    
کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے مطابق ایرانی ڈرون حملوں میں اس کی متعدد اہم تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    کویتی حکام کے مطابق حملوں کے بعد متاثرہ مقامات پر فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور فائر بریگیڈ کا عملہ آگ پر قابو پانے اور اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔
    ‎ایکس پر جاری بیان میں حکام نے کہا کہ جن تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے ان کی تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا رہیں، تاہم صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
    ‎انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مالی اور صنعتی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
    ‎یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس سے قبل بحرین سمیت دیگر علاقوں میں بھی توانائی اور پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے پر ایسے حملے عالمی منڈیوں اور تیل کی سپلائی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

  • 
بیروت میں اسرائیلی حملے، حزب اللہ کا جوابی میزائل وار

    
بیروت میں اسرائیلی حملے، حزب اللہ کا جوابی میزائل وار

    
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اتوار کی صبح بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس سے قبل رہائشیوں کو فوری انخلا کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔
    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کارروائی کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ‎دوسری جانب ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان میزائلوں کو اسرائیلی دفاعی نظام نے فضا میں ہی ناکام بنا دیا۔
    ‎یہ حملے اس وقت سامنے آئے جب چند گھنٹے قبل حزب اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے لبنان کے ساحل کے قریب ایک اسرائیلی بحریہ کے جنگی جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
    ‎تاہم اسرائیلی فوج نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے کسی واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے حملوں کا یہ تبادلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جو کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔

  • 
ایران کا دعویٰ، دو امریکی C-130 طیارے مار گرائے گئے

    
ایران کا دعویٰ، دو امریکی C-130 طیارے مار گرائے گئے

    
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دو امریکی C-130 ٹرانسپورٹ طیارے مار گرائے ہیں، جسے جاری کشیدگی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقات عامہ نے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی کامیابی سے انجام دی گئی اور اسے امریکا کے لیے ایک بڑی شکست قرار دیا گیا ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ ہر C-130 طیارہ 50 سے زائد افراد کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ان طیاروں میں موجود افراد سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں جاری تنازع کے تناظر میں کیا گیا، جبکہ اس حوالے سے مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایسے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہوتی ہے، تاہم یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بیانیہ جنگ کی عکاسی کرتی ہے۔

  • 
جنوبی لبنان میں حملہ، اسرائیل کا حزب اللہ کے 15 ارکان کو مارنے کا دعویٰ

    
جنوبی لبنان میں حملہ، اسرائیل کا حزب اللہ کے 15 ارکان کو مارنے کا دعویٰ

    
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک کارروائی کے دوران حزب اللہ کے 15 ارکان کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔
    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان آویچی ادرائی نے بتایا کہ اسرائیل کی 146 ویں ڈویژن نے ایک گروپ کی نشاندہی کی جو مبینہ طور پر اسرائیل کی جانب اینٹی ٹینک میزائل حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اس کے بعد فضائی کارروائی کی گئی جس میں مذکورہ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق کارروائی کے بعد علاقے سے متعدد ہتھیار بھی برآمد کیے گئے جن میں رائفلیں اور دستی بم شامل ہیں۔
    ‎دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے اس دعوے یا ہلاکتوں کی تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل حزب اللہ نے اسرائیل پر 50 سے زائد راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا تھا، جو یہودی تہوار پاس اوور کی ابتدائی تقریبات کے دوران کیے گئے۔
    ‎اس حملے کے نتیجے میں اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور شہریوں کی بڑی تعداد حفاظتی پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئی تھی۔
    ‎خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال مسلسل نازک ہوتی جا رہی ہے اور دونوں جانب سے کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

  • وزیراعظم کا پیٹرول کی قیمت 80 روپے کم کر کے 378 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا پیٹرول کی قیمت 80 روپے کم کر کے 378 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان

    
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے قومی وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کر کے مہنگائی کے طوفان کو عوام تک پہنچنے سے روکا اور گزشتہ تین ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا۔
    اپنے خطاب میں وزیراعظم نے بتایا کہ فیلڈ مارشل، وفاقی وزرا اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، اور حکومت اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی جب تک معاشی مشکلات میں کمی نہیں آتی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں عام آدمی، کسان اور کم آمدنی والے طبقات شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
    ‎وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اسی مقصد کے تحت پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کو وقتی طور پر برداشت کیا گیا۔
    ‎انہوں نے اعلان کیا کہ موٹرسائیکل سواروں کے لیے فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی جبکہ ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مہنگائی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
    ‎شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ پیٹرول پر لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت کم ہو کر 378 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

  • 
تیل مہنگا، عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار

    
تیل مہنگا، عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار

    
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی نہ آ سکی بلکہ نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے، جبکہ برینٹ خام تیل بھی 8 فیصد اضافے کے ساتھ 109 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو تیل درآمد کرتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کچھ مارکیٹوں میں کمی جبکہ بعض میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
    ‎پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس 1612 پوائنٹس کی کمی کے بعد ایک لاکھ 50 ہزار 398 پوائنٹس پر بند ہوا۔
    ‎ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ شنگھائی انڈیکس بھی تقریباً 1 فیصد نیچے آگیا۔
    ‎اس کے برعکس جاپان کے نکئی انڈیکس میں 1.26 فیصد اور جنوبی کوریا کے کاسپی انڈیکس میں ڈھائی فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔
    ‎عالمی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں توانائی کی قیمتوں اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔

  • 
ایران جنگ کے بعد پہلا فرانسیسی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گیا

    
ایران جنگ کے بعد پہلا فرانسیسی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گیا

    
امریکی میڈیا کے مطابق ایران جنگ کے بعد پہلی بار ایک فرانسیسی کمپنی کا کنٹینر جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گیا ہے، جسے خطے میں بحری سرگرمیوں کی بحالی کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق شپ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ جہاز گزشتہ روز دوپہر کے وقت دبئی سے روانہ ہوا اور ایران کی جانب سفر کرتے ہوئے قشم اور لاراک کے جزیروں کے درمیان موجود چینل سے گزرا۔
    ‎جہاز بعد ازاں بحیرہ عمان کی جانب بڑھتے ہوئے مسقط کے قریب پہنچ گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ میں نقل و حرکت دوبارہ بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی تھی اور عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس طرح کی سرگرمیاں بحری تجارت کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، تاہم خطے میں سیکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے۔