یوٹیوب نے اسمارٹ ٹی وی صارفین کے لیے ایک نیا اور مفید فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے اب ویڈیوز دیکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹ سے براہِ راست بات چیت کی جا سکے گی۔
رپورٹس کے مطابق ’آسک‘ نامی یہ فیچر پہلے موبائل ڈیوائسز پر دستیاب تھا، تاہم اب اسے اسمارٹ ٹی ویز کا بھی حصہ بنا دیا گیا ہے، جس سے صارفین کا ویونگ تجربہ مزید بہتر ہو جائے گا۔
اس فیچر کی مدد سے صارفین ویڈیو دیکھتے ہوئے سوال پوچھ سکتے ہیں اور اے آئی اسسٹنٹ سے متعلقہ معلومات یا وضاحت حاصل کر سکتے ہیں، جو ویڈیو کے مواد کے مطابق جواب فراہم کرے گا۔
اسے استعمال کرنے کے لیے صارفین یوٹیوب ایپ میں ویڈیو چلاتے ہوئے ریموٹ کے اپ یا ڈاؤن بٹن کو دبائیں، جس سے ویڈیو کی تفصیلات ظاہر ہوں گی، وہاں موجود فور پوائنٹ اسٹار آئیکن ’آسک‘ بٹن ہے، جس پر کلک کر کے مائیکروفون کے ذریعے سوال کیا جا سکتا ہے۔
اگر ٹی وی میں مائیکروفون دستیاب نہ ہو تو صارفین تجویز کردہ سوالات کے ذریعے بھی اس فیچر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
یہ فیچر ابتدائی طور پر 2024 میں یوٹیوب پریمیئم صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جبکہ 2025 میں اسے تمام صارفین کے لیے دستیاب کر دیا گیا، اور اب اسے اسمارٹ ٹی وی پلیٹ فارم پر بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ فیچر فی الحال مخصوص زبانوں اور خطوں میں دستیاب ہے اور اسے مرحلہ وار دنیا بھر میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

یوٹیوب کا نیا اے آئی فیچر، اب اسمارٹ ٹی وی پر بھی دستیاب
-

خلیجی کشیدگی میں پاکستان کا کردار، بھارت کا عالمی سطح پر اعتراف
بھارتی اخبار فرسٹ پوسٹ نے خلیج میں جاری کشیدگی کے خاتمے میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد اہم ممالک نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مصر، ترکیے اور سعودی عرب نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیا اور اسے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فرسٹ پوسٹ کا کہنا ہے کہ چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد پاکستان کو ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس سے خطے میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے کر پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں اور اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف ممالک تنازع کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ -

ایرانی میزائل حملہ، اسرائیلی ڈرون فیکٹری مکمل تباہ
ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں اسرائیل کے مرکزی علاقے میں قائم ایک اہم ڈرون فیکٹری مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے بھی کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی شہر بیتح تیکفا میں چند روز قبل ایرانی میزائل براہ راست فیکٹری پر آ گرا، جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور فیکٹری مکمل طور پر ناکارہ ہو گئی۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ فیکٹری دوبارہ کام کرنے کے قابل نہیں رہی اور اس کی بحالی ممکن نہیں دکھائی دیتی۔
حکام کے مطابق یہ فیکٹری اسرائیلی دفاعی صنعت کا اہم حصہ تھی، جہاں فوج کے لیے ڈرونز، پائلٹ ہیلمٹس اور بموں کے مختلف پرزے تیار کیے جاتے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس حملے سے اسرائیل کی دفاعی پیداوار اور عسکری صلاحیت پر اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یہ واقعہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے مزید اثرات سامنے آنے کا امکان ہے۔ -

معاہدہ نہ ہوا تو بہت بڑی تباہی منتظر: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران میں بڑے پیمانے پر تباہی اور تیل پر قبضے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی میڈیا سے ٹیلیفونک گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر معاملات حل نہ ہوئے تو ایران بھر میں پلوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور دنیا ایسی صورتحال دیکھ سکتی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ پیر تک کوئی معاہدہ طے پا جائے، کیونکہ ایران کے کچھ عہدیدار بات چیت میں مصروف ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق موجودہ ایرانی مذاکرات کاروں کو محدود وقت کے لیے مہلت دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے ایک متنازع بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکا نے رواں سال ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے کردوں کے ذریعے اسلحہ بھیجا تھا، تاہم ان کے بقول یہ ہتھیار ممکنہ طور پر کردوں نے خود رکھ لیے۔ -

ایران میں امریکی صدر کو نشانہ بنانے کیلئے کراؤڈ فنڈ مہم، 5 کروڑ ڈالر سے زائد رقم جمع
ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے سے متعلق ایک متنازع کراؤڈ فنڈ مہم میں 5 کروڑ ڈالر سے زائد رقم جمع ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس مہم کی تشہیر ایران کی بڑی شاہراہوں پر نصب بل بورڈز اور ایک مخصوص ویب سائٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے، جہاں ٹرمپ کی تصویر کو اسنائپر رائفل کی دوربین میں دکھایا گیا ہے۔
بینرز پر فارسی زبان میں لکھا گیا ہے کہ اب تک حامیوں کی جانب سے 50,541,000 ڈالر جمع کیے جا چکے ہیں، جبکہ ساتھ ہی اشتعال انگیز نعرے بھی درج ہیں۔
یہ مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اس کشیدگی کا آغاز فروری 2026 کے آخر میں ہوا تھا، جب ابتدائی حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی مہمات نہ صرف خطے میں تناؤ کو بڑھا سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر سلامتی کے خدشات میں بھی اضافہ کر سکتی ہیں۔ -

یو اے ای کو قرض واپسی، پاکستان کا مالیاتی خلا بڑھنے کا خدشہ
متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر بمعہ 6 فیصد سود کے ساتھ واپس کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان کے بیرونی مالیاتی خلا میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
روزنامہ جنگ اور دی نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق اس نئی صورتحال کے بعد حکومت کو یا تو خود اس مالی خلا کو پورا کرنا ہوگا یا پھر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے زرمبادلہ ذخائر کے ہدف میں نرمی کی درخواست کرنا پڑ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ چیف ماہر بنچی نے اس معاملے پر مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت جون 2026 کے لیے زرمبادلہ ذخائر کا ہدف پہلے ہی 17.8 ارب ڈالر سے کم کر کے 17.5 ارب ڈالر مقرر کیا جا چکا ہے، جبکہ اس وقت مالیاتی خلا تقریباً 46 کروڑ ڈالر تھا۔
تاہم اب 2 ارب ڈالر کی فوری واپسی اور مزید 1 ارب ڈالر کی آئندہ ادائیگی کے باعث مالیاتی خلا بڑھ کر تقریباً 2.46 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جس میں سود کی ادائیگی بھی شامل ہوگی۔
حکام کے مطابق پہلے توقع کی جا رہی تھی کہ یو اے ای اور کویت کے مجموعی طور پر 3.7 ارب ڈالر کے ذخائر رواں مالی سال میں رول اوور ہو جائیں گے، مگر موجودہ صورتحال نے حکومتی مالی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ -

بھارت کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن بے نقاب
مغربی بنگال، آسام اور دیگر بھارتی ریاستوں میں انتخابات سے قبل بھارت ایک اور مبینہ فالس فلیگ آپریشن کی تیاری میں مصروف ہے
جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستانی ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جیلوں میں قید افراد کو نشانہ بنا کر ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے بعد میں فالس فلیگ کارروائی کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزراء کے پاکستان مخالف بیانات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی انتخابات سے قبل پاکستان مخالف بیانیہ کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے پہلگام جیسی کوئی کارروائی دوبارہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان سخت جواب دے گا۔
سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور خطے میں صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ -

عوام کو فوری ریلیف، وزیراعظم کی سبسڈی ادائیگیاں تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے سبسڈی کی ادائیگیاں فوری طور پر جاری کی جائیں۔
یہ ہدایات ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران دی گئیں جس میں وفاقی وزرا اور سینئر حکام نے شرکت کی اور پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کے اجرا کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق سبسڈی کی ادائیگیوں کا آغاز ہو چکا ہے اور اسے مزید تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے۔ حکومت نے حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے سے زائد اضافہ کیا تھا، تاہم عوامی ردعمل کے بعد اس میں 80 روپے کمی کر دی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 378 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی۔
حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے، جن میں اسلام آباد میں مفت پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے کرایوں کو برقرار رکھنا، اور ٹرانسپورٹرز، کسانوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہدفی سبسڈیز شامل ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق مسافر بسوں کو کرایے نہ بڑھانے کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ منی بسوں اور وینز کو 40 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ مشکل حالات میں عوام کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ -

24 گھنٹوں میں 9 بیلسٹک اور ایک کروز میزائل تباہ: امارات
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9 بیلسٹک اور ایک کروز میزائل کو کامیابی سے تباہ کیا گیا، جبکہ ایران کی جانب سے داغے گئے 50 ڈرونز کو بھی ناکارہ بنا دیا گیا۔
اماراتی حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 507 بیلسٹک میزائل، 24 کروز میزائل اور 2,191 ڈرونز کو تباہ کیا جا چکا ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں 2 اماراتی فوجی اور ایک مراکشی شہری جان کی بازی ہار گئے، جبکہ مجموعی طور پر 10 افراد شہید اور 217 زخمی ہوئے ہیں، جن میں 4 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بیشتر حملوں کو ناکام بنایا اور اہم تنصیبات کو بڑے نقصان سے بچایا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے جواب میں دفاعی اقدامات بھی تیز کر دیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال خطے میں ایک بڑے تصادم کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جس کے عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

دوبارہ کوشش کی تو کلکتہ تک جائیں گے : خواجہ آصف کی بھارت کو سخت وارننگ
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کو ایک بار پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پہلگام جیسے کسی واقعے کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور عجیب و غریب بیانات دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کا فالس فلیگ آپریشن کرنے کی کوشش کی تو اس بار ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان نے 200 سے 250 کلومیٹر تک کارروائی کی تھی، لیکن اگر ایسی کوئی صورتحال دوبارہ پیدا ہوئی تو اس بار ہم کلکتہ تک پہنچیں گے۔
وزیر دفاع نے ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے تاہم حکومت اسے کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بھی مشکل حالات میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور قومی سطح پر مل کر چیلنجز کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے عوام کو یقین دلایا کہ ترقی کا عمل جاری رہے گا اور حکومت اپنی کارکردگی کے ساتھ آئندہ انتخابات میں عوام کے سامنے پیش ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔