پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پوری دنیا کو پاکستان پر اعتماد ہے اور ملک کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی خواہش تھی کہ ایران کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، تاہم ایران نے بھرپور مزاحمت کی اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اس صورتحال میں اپنے مفادات کے تحت کردار ادا کیا اور ایران میں اس کی دلچسپی کا ایک مقصد چین کو بھی ہدف بنانا تھا۔
جنرل (ر) عبدالقیوم کے مطابق اب امریکا اور اسرائیل اپنی پوزیشن کو سنبھالنے کیلئے فیس سیونگ کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں جو اسے ایک اہم سفارتی حیثیت دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت ایک ٹیم کے طور پر کام کر رہی ہے اور عالمی سطح پر اس کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں ایک اہم قوت ہے جبکہ بھارت اس وقت سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

امریکا اور اسرائیل فیس سیونگ چاہتے ہیں، دنیا کو پاکستان پر اعتماد ہے، جنرل (ر) عبدالقیوم
-

نیتن یاہو لبنان میں غزہ جیسی تباہی چاہتے ہیں، ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو لبنان میں بھی وہی تباہی پھیلانا چاہتے ہیں جو غزہ میں دیکھی گئی۔
اسپین کی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے پیڈرو سانچیز کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے اور خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے ایران کی قیادت کے حوالے سے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی ایرانی قیادت اپنے پیشرو کے مقابلے میں زیادہ سخت مؤقف رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی طرح سخت پالیسیوں کے حامی ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت گیر ثابت ہو سکتے ہیں۔
پیڈرو سانچیز نے خطے میں امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات مزید بگاڑ کے متحمل نہیں ہو سکتے اور عالمی برادری کو فوری کردار ادا کرنا ہوگا۔ -

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، خلیجی ممالک کو خوراک کی برآمدات تیز کرنے کی ہدایت
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ علاقائی صورتحال، خلیجی ممالک کو خوراک کی فراہمی اور بندرگاہوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو خوراک کی برآمد کیلئے حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ادارے خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں تاکہ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ خطے کی بدلتی صورتحال عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ برآمدات میں تیزی لائی جائے لیکن ملک کے اندر ضروری اشیاء کی دستیابی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلب اور رسد کی سخت نگرانی کی جائے اور فیصلوں میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک خصوصی کمیٹی نے 40 اشیاء کی برآمد کی منظوری دے دی ہے جن میں چاول، گھی، چینی، گوشت، پولٹری، ڈیری مصنوعات، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ برآمد کنندگان کا ڈیٹا بیس بھی تیار کر لیا گیا ہے اور فضائی و بحری راستوں سے تجارت کو سہل بنایا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق عید کے دوران بھی کراچی اور پورٹ قاسم مکمل طور پر فعال رہے۔ بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے کیلئے آف ڈاک ٹرمینلز پر ٹرانس شپمنٹ کی اجازت دی گئی ہے اور کسٹمز قوانین میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔ مزید برآں بندرگاہوں پر ٹرانسپورٹ اخراجات میں 60 فیصد تک کمی کی گئی ہے جبکہ تمام بندرگاہوں پر ایکسپورٹ فیسلیٹیشن ڈیسک بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ -

ناسا کا چاند پر بیس اور مریخ مشن کا اعلان
امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند اور مریخ سے متعلق اپنے بڑے منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت آئندہ چند برسوں میں خلائی تحقیق میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔
ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے ایک تقریب کے دوران بتایا کہ چاند پر مستقل بیس کی تعمیر فوری طور پر ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے آئندہ 7 سالوں میں تقریباً 20 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اس بیس کی تعمیر درجنوں خلائی مشنز کے ذریعے مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ناسا نے چاند کے مدار میں اسپیس اسٹیشن بنانے کا منصوبہ ختم کر دیا ہے اور اب توجہ براہ راست چاند کی سطح پر بیس بنانے پر مرکوز ہے۔
جیراڈ آئزک مین کے مطابق مریخ کیلئے جوہری توانائی سے چلنے والے اسپیس کرافٹ کی تیاری بھی جاری ہے جسے 2028 تک روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ مشن مریخ پر تحقیق کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا اور وہاں پہنچ کر ہیلی کاپٹرز کے ذریعے مزید معلومات حاصل کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ چین خلا میں تیزی سے پیشرفت کر رہا ہے اور امریکی برتری کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے امریکا کو اپنی خلائی حکمت عملی مزید مضبوط بنانا ہوگی۔
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چاند پر خلا بازوں کی واپسی میں کچھ تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ اسپیس ایکس اب تک مطلوبہ لینڈرز تیار نہیں کر سکی۔ -

بھارت میں توانائی بحران پر مودی حکومت تنقید کی زد میں، عوام مشکلات کا شکار
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران نے بھارت کو بھی شدید متاثر کیا ہے جہاں بڑی تعداد میں عوام گیس کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق گیس کی قلت کے باعث خصوصاً غریب طبقہ شدید مشکلات میں گھر گیا ہے اور بہت سے لوگ دوبارہ لکڑی اور کوئلہ جلانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
مارکیٹ میں دستیاب گیس کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب پیٹرول کے حصول کیلئے شہریوں کو طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے، جس سے ملک میں توانائی بحران کی سنگینی واضح ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بدانتظامی اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ -

سعودی عرب میں مزید 9 ڈرونز تباہ، دو گھنٹوں میں تعداد 20 ہوگئی
ریاض سے موصول اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی وزارت دفاع نے مزید 9 ڈرونز مار گرانے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد صرف دو گھنٹوں کے دوران تباہ کیے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق یہ ڈرونز ملک کے مختلف حساس علاقوں کی جانب بڑھ رہے تھے جنہیں بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور دفاعی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب بحرین میں بھی خطرے کے پیش نظر مختلف علاقوں میں ایئر ریڈ سائرن بجائے گئے ہیں جس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات اختیار کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ فضائی نگرانی کا نظام بھی مزید فعال کر دیا گیا ہے۔ -

ایران ہمارے ساتھ ڈیل کرنا چاہتا ہے اور ہم بھی چاہتے ہیں۔ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اس بات پر رضامند ہو گیا ہے کہ وہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور مارکو روبیو ایران کے معاملے پر سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا درست لوگوں سے بات چیت کر رہا ہے اور ایران معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کسی بھی قیمت پر معاہدہ چاہتی ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتا ہے اور امریکا بھی اس حوالے سے مثبت پیش رفت چاہتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ -

تبریز میں رہائشی علاقوں پر حملہ، 6 افراد جاں بحق، 9 زخمی
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے شہر تبریز کے رہائشی علاقوں پر گزشتہ رات ہونے والے حملوں میں کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ 9 زخمی ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق یہ حملے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے، جن میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
حکام کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ مزید نقصانات کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
ابھی تک امریکا یا اسرائیل کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور انسانی بحران میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ -

لبنان کا بڑا فیصلہ، ایرانی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم
لبنان نے ایک اہم سفارتی اقدام کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لبنانی حکومت نے ایرانی سفیر کو اتوار تک ملک چھوڑنے کی مہلت دی ہے، جس کے بعد انہیں لبنان میں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور حالیہ واقعات کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ماہرین کے مطابق کسی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینا سفارتی سطح پر ایک سخت اقدام ہوتا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ -

ایل این جی بحران کے خدشات، پاکستان کس طرح توانائی نظام کو سنبھال رہا ہے
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث پاکستان کو ایل این جی کی ممکنہ قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق صورتحال اتنی سنگین نہیں جتنی ظاہر کی جا رہی ہے۔
بزنس ریکارڈر کے تجزیہ کار علی خضر کے مطابق پاکستان نے طویل المدتی معاہدوں اور متنوع توانائی نظام کے ذریعے اپنی سپلائی کو کافی حد تک مستحکم رکھا ہوا ہے۔ ماضی میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کو ادائیگیوں کے مسائل کے باعث کارگو منسوخی اور بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پاکستان اس صورتحال سے کافی حد تک محفوظ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس طویل المدتی معاہدوں کی وجہ سے گیس کی دستیابی برقرار ہے، تاہم محدود اسٹوریج کے باعث ماضی میں مقامی گیس پیداوار کم رکھی جاتی تھی۔ اب مقامی پیداوار بڑھا کر ممکنہ قلت کو کم کیا جا سکتا ہے اور بجلی گھروں کو چلایا جا سکتا ہے۔
پنجاب میں گرمیوں کے دوران لوڈشیڈنگ کا امکان موجود ہے کیونکہ وہاں زیادہ تر بجلی ایل این جی پر چلنے والے پلانٹس سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ جنوبی پاکستان میں نیوکلیئر اور کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کے باعث بجلی کی فراہمی نسبتاً مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو توانائی کے خلا کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی کمی کو جزوی طور پر تیل کے ذریعے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ روس نے رعایتی قیمت پر خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم اس حوالے سے دو بڑی رکاوٹیں موجود ہیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان کی ریفائنریز روسی خام تیل کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں، اور دوسری یہ کہ درآمد کیلئے ممکنہ طور پر امریکا کی اجازت درکار ہوگی، جیسا کہ بھارت کو استثنیٰ حاصل ہے۔