خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کرنے کی خواہش ظاہر کر دی ہے اور اس حوالے سے رابطہ کاروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ علاقائی ذرائع نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے، جس کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں لبنانی مزاحمتی گروپ حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے کو بھی شامل کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق تہران نے حزب اللہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اسے کسی بھی وسیع تر ڈیل کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ اس کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ایک ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اس سلسلے میں مشاورت کا عمل جاری ہے۔
یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے اور ممکنہ امن معاہدے کی سمت میں ایک نئی جہت پیدا کر سکتی ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایران کی جنگ بندی ڈیل میں لبنان کو شامل کرنے کی خواہش، حزب اللہ پر حملے روکنے کا مطالبہ
-

روس ایران کو ڈرونز اور امداد فراہم کر رہا ہے، برطانوی اخبار کا دعویٰ
ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو ڈرونز، ادویات اور خوراک فراہم کر رہا ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مغربی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ روس نے مارچ کے مہینے سے ایران کو ڈرونز کی فراہمی شروع کی جبکہ سیٹلائٹ امیجنگ اور انٹیلی جنس معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
اخبار کے مطابق تہران نے روس سے جدید فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم روس نے ایران کی ایس 400 سسٹم سے متعلق درخواست مسترد کر دی۔
دوسری جانب کریملن نے ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کئی افواہیں گردش کر رہی ہیں، تاہم ایران کے ساتھ رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ پیش رفت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے اور ماہرین کے مطابق اس کے اثرات خطے کی سیکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔ -

امریکا ریاستی دہشت گردی پر اتر آیا، کم جونگ ان کا الزام
شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اب ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور جارحیت کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ مخالف قوتیں شمالی کوریا پر دباؤ ڈال رہی تھیں کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے اور اس کے بدلے میں کسی قسم کی ادائیگی یا مراعات قبول کرے، تاہم انہوں نے اس راستے کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنے دفاعی مؤقف پر قائم رہے گا۔
کم جونگ ان کے اس بیان کو عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں مزید تناؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ -

حزب اللہ کے 95 حملے، اسرائیلی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ
حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ روزانہ خلاصے کے مطابق 25 مارچ 2026 کو مختلف محاذوں پر مجموعی طور پر 95 کارروائیاں کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ان میں سے 34 کارروائیاں فلسطینی علاقوں کے اندر جبکہ 61 لبنانی علاقوں میں کی گئیں، جن میں اہداف کی گہرائی تقریباً 30 کلومیٹر تک رہی۔
حزب اللہ کے مطابق ان کارروائیوں میں 57 زمینی دراندازی کی کوششوں کو پسپا کیا گیا جبکہ 19 شہروں اور بستیوں، 10 سرحدی پوزیشنز، 4 فوجی اڈوں اور 4 فوجی بیرکوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ایک ڈرون کو بھی ہدف بنایا گیا۔
استعمال کیے گئے ہتھیاروں میں 55 راکٹس، 16 دھماکہ خیز ڈرونز، 12 گائیڈڈ میزائل، 7 توپ خانے کے گولے، 6 بارودی مواد، 2 فضائی دفاعی نظام اور دیگر ہلکے ہتھیار شامل تھے۔
حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کے 42 بنکرز اور قلعے تباہ ہوئے جبکہ 21 ٹینک، 5 سیٹلمنٹ یونٹس، 3 بلڈوزرز، 2 ہمر گاڑیاں اور ایک کمانڈ سینٹر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ -

ایران کے شدید میزائل اور ڈرون حملے، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں ہنگامی صورتحال
گزشتہ دو گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے مسلسل حملوں نے اسرائیل اور مغربی کنارے میں صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق میزائل حملوں کی متعدد لہروں کے بعد تل ابیب، یروشلم، اردن ویلی اور دیگر علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ اشدود، ہولون، ریشون لی زیون اور رامات گن سمیت بڑے شہروں میں سائرن گونجتے رہے، جس کے باعث لاکھوں افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
حملوں کے نتیجے میں تل ابیب میں براہ راست نقصان کی اطلاعات ہیں جبکہ کفر قاسم میں زخمیوں کی اطلاع ملی ہے۔ بیت شیمش کے صنعتی علاقے اور بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 4 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
شمالی محاذ پر گلیل کے علاقوں میں ڈرونز کی دراندازی اور راکٹ حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ نہاریا اور عکا کے قریب ڈرونز داخل ہوئے جبکہ ایک ڈرون لیمان کے علاقے میں گر کر جانی نقصان کا باعث بنا۔ اسرائیلی دفاعی نظام نے لبنان سے داغے گئے متعدد راکٹس کو فضا میں ہی تباہ کیا۔
ادھر ایران کی جانب سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بھی مربوط حملے کیے گئے، جن میں بحرین، کویت، سعودی عرب اور اردن میں فوجی اڈوں، ایئرپورٹس اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق محرق صوبے کی ایک تنصیب میں حملے کے باعث آگ لگ گئی۔
خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث سیکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ -
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان، بیشتر خالی ہونے کا انکشاف
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان میں سے بیشتر کو خالی کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں موجود 13 امریکی فوجی اڈوں میں سے کئی ایسے ہیں جو اب غیر آباد ہو چکے ہیں یا ان کا استعمال محدود کر دیا گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق خاص طور پر کویت میں قائم اڈے، جو ایران کے قریب واقع ہیں، زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور وہاں نقصان کی شدت زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی اور حالیہ حملوں کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے، جس سے امریکی فوجی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے تفصیلی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ -

پاکستان کی مداخلت پر ایران کی قیادت اسرائیلی ہٹ لسٹ سے نکال دی گئی
ایک پاکستانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر اسرائیل نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف کو اپنی ہٹ لسٹ سے نکال دیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکا سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ ان ایرانی رہنماؤں کو نشانہ نہ بنایا جائے، جس کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں، جس کے نتیجے میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔
اس پیش رفت کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ -

خطے کے ممالک امریکا سے دور ہو جائیں، ایرانی وزیر خارجہ کا سخت پیغام
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے بعض ممالک نے امریکا کو معاونت فراہم کی۔
انہوں نے خطے کے ممالک کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا سے دوری اختیار کریں اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ان ممالک نے ایران کے خلاف امریکی اور صیہونی کارروائیوں کی مذمت نہیں کی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ایران کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے جہاں ایران نے دو ایٹمی طاقتوں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے اور اس پر مختلف سطحوں پر ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ -

قیمتوں میں اضافے کا الزام مارکیٹنگ کمپنیوں پر، اوگرا نے لاعلمی ظاہر کر دی
مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے رہنما علی حیدر نے کہا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے پیچھے صرف دکاندار نہیں بلکہ مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈسٹری بیوٹرز بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سپلائی چین کے مختلف مراحل پر قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس کا بوجھ براہ راست صارفین پر پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب ترجمان اوگرا نے واضح کیا ہے کہ ادارے کو کہیں سے بھی قیمتوں میں اضافے کی کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اوگرا کے مطابق اگر کوئی دکاندار سرکاری نرخ سے زائد قیمت وصول کر رہا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرنا متعلقہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
حکام نے شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ زائد قیمت وصول کرنے والوں کی نشاندہی کریں تاکہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ -

ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطحی اجلاس، تیل کی سپلائی اور قیمتوں میں اضافے پر غور
اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں تیل کی ممکنہ قلت اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں مجموعی معاشی صورتحال اور توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا جبکہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔
اس اہم اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی علی پرویز ملک اور احسن اقبال بھی موجود تھے جہاں توانائی اور معیشت سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔