Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
ایران امریکی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خارجہ عباس عراقچی

    
ایران امریکی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خارجہ عباس عراقچی

    انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کی کسی بھی ممکنہ زمینی فوجی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکی زمینی فوج سے کوئی خوف نہیں بلکہ وہ اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ نے ایسی کارروائی کی تو اس کے نتائج امریکہ کے لیے بہت تباہ کن ہوں گے۔
    ‎عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے کسی سے بھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی شخصیات اسٹیو وٹکوف یا جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

  • ‎مہنگی توانائی لینے سے بہتر ہے لوڈ مینجمنٹ کرلیں، مارچ تک سسٹم میں کوئی مسئلہ نہیں: وزیر پیٹرولیم

    ‎مہنگی توانائی لینے سے بہتر ہے لوڈ مینجمنٹ کرلیں، مارچ تک سسٹم میں کوئی مسئلہ نہیں: وزیر پیٹرولیم

    
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ قطر نے پاکستان کو مائع قدرتی گیس ایل این جی کی سپلائی عارضی طور پر روک دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جس کے اثرات کئی ممالک تک پھیل رہے ہیں۔
    علی پرویز ملک کے مطابق قطر کی جانب سے پاکستان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ فی الحال مزید ایل این جی کارگو فراہم نہیں کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مہنگی توانائی خریدنے کے بجائے بہتر ہے کہ گیس کی طلب کو متوازن رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کی جائے۔
    ‎وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ مارچ تک گیس کے نظام میں کسی بڑے مسئلے کی توقع نہیں ہے جبکہ حکومت نے تیل کے حوالے سے مناسب ذخائر بھی محفوظ کر لیے ہیں۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی پٹرول پمپ ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • مشرق وسطیٰ سے امریکیوں کا انخلاء تیز؛ 18 ہزار شہری واپس، مزید انخلاء کے لیے ہنگامی کوششیں جاری

    مشرق وسطیٰ سے امریکیوں کا انخلاء تیز؛ 18 ہزار شہری واپس، مزید انخلاء کے لیے ہنگامی کوششیں جاری

    مشرق وسطیٰ میں جاری شدید عسکری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے خطے سے اپنے شہریوں کو نکالنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اب تک 18 ہزار امریکی شہری بحفاظت اپنے ملک واپس پہنچ چکے ہیں، تاہم امریکی حکام کے لیے خطے میں مقیم 2 لاکھ سے زائد امریکی شہریوں کی حفاظت اور انخلاء اب بھی ایک بہت بڑا اور پیچیدہ چیلنج بنا ہوا ہے۔
    ‎امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک میں مقیم امریکی شہریوں کی تعداد کچھ یوں ہے:
    سعودی عرب: 80,000 امریکی
    متحدہ عرب امارات: 50,000 امریکی
    کویت: 30,000 امریکی
    قطر: 15,000 امریکی
    ‎امریکی حکام تمام سفارتی ذرائع اور وسائل بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ باقی ماندہ شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کا انخلاء اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ خطے میں طویل المدتی غیر یقینی صورتحال کی توقع کر رہا ہے۔ نقل و حمل کے اس وسیع آپریشن کے دوران زمینی اور فضائی دونوں راستوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

  • کریملن کی تردید: ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی

    کریملن کی تردید: ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی

    کریملن کی جانب سے ایک اہم سفارتی بیان سامنے آیا ہے جس میں روسی
    صدارتی محل نے ان تمام افواہوں کی تردید کی ہے جن میں ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی درخواست کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بھی باضابطہ درخواست روس کو موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے پر روس کا مؤقف مستقل اور واضح ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
    یہ بیان بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یہ واضح تردید دراصل ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہے، جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ روس اس علاقائی تنازع میں براہِ راست فریق بننے سے گریزاں ہے۔ اس بیان نے خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح اشارہ دیا ہے کہ روس فی الحال عسکری اتحادوں کی سیاست سے فاصلہ رکھنے کو ترجیح دے رہا ہے۔

  • 
بھارتی فضائیہ کا سخوئی 30 ایم کے آئی طیارہ آسام میں گر کر تباہ

    
بھارتی فضائیہ کا سخوئی 30 ایم کے آئی طیارہ آسام میں گر کر تباہ

    
بھارتی فضائیہ کا سخوئی 30 ایم کے آئی لڑاکا طیارہ آسام کے ضلع کاربی آنگلونگ میں گر کر تباہ ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ شام تقریباً سات بجے رنگخیلان گاؤں کے قریب نیلیپ بلاک کے علاقے چکیہولا کے پہاڑی مقام پر پیش آیا۔
    ‎اطلاعات کے مطابق یہ جنگی طیارہ جورہاٹ میں واقع رووریاہ ایئر فورس بیس سے پرواز بھرنے کے بعد معمول کے مشن پر تھا جب پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حادثے سے پہلے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی اور بعد ازاں پہاڑی چوٹی پر طیارہ گرتے دیکھا گیا۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق طیارہ پہاڑ سے ٹکرانے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اور حادثے کی جگہ پر آگ کا بڑا گولا دیکھا گیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طیارہ پہاڑی ضلع کی بلند چوٹی سے ٹکرا گیا۔
    ‎گوہاٹی میں دفاعی تعلقات عامہ کے دفتر کے مطابق طیارے سے ریڈار رابطہ منقطع ہونے کے بعد فضائیہ کی ٹیمیں فوری طور پر علاقے کی طرف روانہ کر دی گئیں تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں اور طیارے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
    ‎مقامی پولیس بھی پہاڑی چوٹی تک پہنچنے کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی ہے تاہم حادثے کی جگہ بلند پہاڑی پر ہونے کی وجہ سے وہاں پہنچنا مشکل بتایا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی پائلٹ کے طیارے سے باہر نکلنے کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  • خطے میں کشیدگی: اطالیہ کا خلیجی ممالک کو فضائی دفاعی امداد دینے کا اعلان

    خطے میں کشیدگی: اطالیہ کا خلیجی ممالک کو فضائی دفاعی امداد دینے کا اعلان

    اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے خطے میں جاری کشیدگی اور ایرانی حملوں کے تناظر میں ایک اہم اور تزویراتی بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے خلیجی ممالک کو دفاعی امداد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جارجیا میلونی کا کہنا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرح اٹلی بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ خلیجی خطے کو فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) سمیت دیگر ضروری دفاعی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    اس فیصلے کے محرکات بیان کرتے ہوئے اطالوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ اقدام محض دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اٹلی کے اپنے اسٹریٹجک مفادات اور شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔ میلونی نے نشاندہی کی کہ خلیجی ممالک میں نہ صرف دسیوں ہزار اطالوی شہری مقیم ہیں بلکہ تقریباً 2 ہزار اطالوی فوجی بھی وہاں تعینات ہیں، جن کی حفاظت کرنا ان کی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی خطہ اٹلی اور پورے یورپ کے لیے توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم ہے، جس کے تحفظ کو یقینی بنانا عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

  • 
ایران نے آذربائیجان کی طرف ڈرون بھیجنے کی تردید کردی، الزام اسرائیل پر عائد

    
ایران نے آذربائیجان کی طرف ڈرون بھیجنے کی تردید کردی، الزام اسرائیل پر عائد

    
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے جمعرات کو جاری کیے گئے بیان میں آذربائیجان کی جانب کسی بھی ڈرون بھیجے جانے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی طرف سے آذربائیجان کی سمت کوئی ڈرون روانہ نہیں کیا گیا۔
    سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی حکام نے اس واقعے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے مسلم ممالک کے درمیان بداعتمادی اور کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلم ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے اس نوعیت کی سازشیں کوئی نئی بات نہیں ہیں اور ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔

  • 
روس کا پاک افغان کشیدگی پر اظہار تشویش، مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل

    
روس کا پاک افغان کشیدگی پر اظہار تشویش، مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل

    
روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔
    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاک افغان سرحد پر جاری جھڑپوں اور لڑائی کی اطلاعات تشویش کا باعث ہیں۔ بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں سرحدی علاقوں میں طیاروں اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ مسلح تصادم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
    ‎روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران سے واپس آنے والے افغان مہاجرین بھی اس کشیدہ صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں جس کے باعث انسانی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
    ‎بیان میں کابل اور اسلام آباد سے اپیل کی گئی کہ وہ فوجی تصادم سے گریز کریں اور باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
    ‎روس نے ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ایسے آثار نظر نہیں آ رہے کہ امریکا اور اسرائیل خطے میں تحمل یا خونریزی روکنے کے لیے تیار ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق جارحانہ کارروائیاں کرنے والے عناصر اسلامی دنیا میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    ‎روسی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ خطے میں مزید بگاڑ سے بچنے کے لیے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کی جائیں۔

  • 
پاکستان نے بگرام میں ہدف حاصل کرلیا، دہشت گردوں کا اسلحہ سپورٹ انفراسٹرکچر تباہ

    
پاکستان نے بگرام میں ہدف حاصل کرلیا، دہشت گردوں کا اسلحہ سپورٹ انفراسٹرکچر تباہ

    
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے علاقے بگرام میں اپنے اہم ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جہاں دہشت گردوں کے اسلحہ اور گولہ بارود کی سپورٹ سے متعلق انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کی جارہی ہیں۔
    ذرائع کے مطابق پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا میں ہونے والے دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغان طالبان رجیم کے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ اسی تناظر میں آپریشن غضب للحق جاری ہے جس کا مقصد افغان عوام نہیں بلکہ صرف دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جارہی ہیں اور کسی بھی مقام پر شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا جارہا۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ اسٹرائیکس کے دوران ٹی ٹی پی کی مڈ لیول قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ افغان طالبان رجیم کے خلاف اب تک پچاس سے زائد کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
    ‎ذرائع نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بائیس دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ باجوڑ، ترلائی مسجد اور وانا میں ہونے والے حملوں میں افغان طالبان کے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اب تک افغانستان میں ٹی ٹی پی کی دو سو چھبیس چیک پوسٹیں تباہ کرچکا ہے جبکہ چھتیس چیک پوسٹوں پر قبضہ بھی کیا جاچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
    ‎ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو اگر مکمل طور پر سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا جائے تو وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں کسی خاص حکومت سے سروکار نہیں بلکہ مقصد صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق تیراہ میں بڑے پیمانے پر کوئی آپریشن نہیں کیا جا رہا بلکہ وہاں بھی انٹیلی جنس بنیادوں پر محدود کارروائیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کی سرپرستی اور افغانستان میں موجود عناصر کا کردار بھی شامل ہے۔
    ‎ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ایران کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود ملک کی عسکری طاقت عالمی سطح پر مضبوط سمجھی جاتی ہے اور پاکستان کے چین، روس اور امریکا سمیت کئی اہم ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ افغانستان ہمسایہ ملک ہے اور اس کے ساتھ رابطہ بھی برقرار رہتا ہے۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق بگرام میں کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے اسلحہ سپورٹ کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا اور پاکستان نے اپنے طے شدہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک دہشت گردی کے خطرات ختم نہیں ہوتے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • 
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کا انگلینڈ کو 254 رنز کا ہدف

    
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم میچ میں بھارت نے انگلینڈ کے خلاف مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 254 رنز بنا کر بڑا ہدف دے دیا۔
    بھارتی بیٹرز نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے ابتدا ہی سے تیز رفتار بیٹنگ کی اور انگلینڈ کے بولرز پر دباؤ برقرار رکھا۔ میچ کے دوران کئی بڑی شراکتیں قائم ہوئیں جس کے باعث بھارتی ٹیم مقررہ اوورز کے اختتام تک 254 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔
    اب انگلینڈ کی ٹیم کو میچ جیتنے کے لیے 255 رنز درکار ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اس بڑے ہدف کے تعاقب میں کس طرح کی کارکردگی دکھاتی ہے۔