کریملن کی جانب سے ایک اہم سفارتی بیان سامنے آیا ہے جس میں روسی
صدارتی محل نے ان تمام افواہوں کی تردید کی ہے جن میں ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی درخواست کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بھی باضابطہ درخواست روس کو موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے پر روس کا مؤقف مستقل اور واضح ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
یہ بیان بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یہ واضح تردید دراصل ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہے، جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ روس اس علاقائی تنازع میں براہِ راست فریق بننے سے گریزاں ہے۔ اس بیان نے خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح اشارہ دیا ہے کہ روس فی الحال عسکری اتحادوں کی سیاست سے فاصلہ رکھنے کو ترجیح دے رہا ہے۔
کریملن کی تردید: ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی
