آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں نیوزی لینڈ نے سری لنکا کو 61 رنز سے شکست دے کر گروپ کی صورتحال یکسر بدل دی، جس کے بعد پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی مزید مشکل ہوگئی ہے۔
کولمبو میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ نیوزی لینڈ نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز اسکور کیے۔ کیوی ٹیم کی جانب سے مچل سینٹنر نے 47 جبکہ میکونچی نے 31 رنز بنا کر نمایاں کارکردگی دکھائی۔
ہدف کے تعاقب میں سری لنکن بیٹنگ لائن دباؤ برداشت نہ کرسکی اور ٹیم مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر صرف 107 رنز بنا سکی۔ اس طرح نیوزی لینڈ نے باآسانی 61 رنز سے کامیابی حاصل کرلی۔
مسلسل دو شکستوں کے بعد سری لنکا سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگیا، جبکہ اس نتیجے نے پاکستان کی پوزیشن بھی کمزور کر دی ہے۔ نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ بڑھ کر پلس 3.05 ہوگیا ہے جبکہ پاکستان کا نیٹ رن ریٹ منفی 0.46 ہے۔
گروپ مرحلے میں نیوزی لینڈ اپنا آخری میچ جمعہ کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے گا، جبکہ پاکستان ہفتے کو سری لنکا کے مدمقابل ہوگا۔ پاکستان کی امیدیں اب اس بات سے جڑی ہیں کہ نیوزی لینڈ اپنے اگلے میچ میں شکست کھائے، تب ہی قومی ٹیم کیلئے سیمی فائنل کا راستہ کسی حد تک کھل سکتا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

نیوزی لینڈ کی بڑی جیت، پاکستان کیلئے سیمی فائنل کی راہ مزید دشوار
-

مردہ ڈونر سے رحم کی پیوندکاری کے بعد برطانیہ میں بچے کی پیدائش، طب کی دنیا میں بڑی پیش رفت
برطانیہ میں طب کے شعبے میں ایک غیرمعمولی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں مردہ عطیہ دہندہ سے رحم کی پیوندکاری کے بعد ایک خاتون نے صحت مند بچے کو جنم دیا، جسے طبی ماہرین اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق لندن کے Queen Charlotte’s and Chelsea Hospital میں پیدا ہونے والے بچے کا نام ہیوگو پاؤل رکھا گیا۔ پیدائش کے وقت بچے کا وزن 3.09 کلوگرام یعنی تقریباً 6 پاؤنڈ 13 اونس تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ برطانیہ میں کسی خاتون نے مردہ ڈونر سے منتقل کیے گئے رحم کے ذریعے بچے کو جنم دیا ہے، جبکہ یورپ میں اس نوعیت کے چند محدود کیسز پہلے بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔
بچے کی والدہ گریس بیل ایک آئی ٹی پروگرام مینیجر ہیں جو پیدائشی طور پر ایک نایاب طبی عارضے کا شکار تھیں، جس کے باعث ان کا رحم مکمل طور پر موجود نہیں تھا۔ ڈاکٹرز نے انہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ قدرتی طور پر ماں نہیں بن سکیں گی۔
سال 2024 میں ایک انتقال کرچکی خاتون کا رحم ان میں کامیابی سے ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جس کے بعد علاج کا مرحلہ شروع ہوا اور بالآخر دسمبر 2025 میں انہوں نے بچے کو جنم دیا۔
اپنے بیٹے کی پیدائش کو معجزہ قرار دیتے ہوئے گریس بیل نے کہا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ ماں بن سکیں گی۔ انہوں نے عطیہ دہندہ اور اس کے خاندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایک اجنبی کی بے لوثی اور انسان دوستی نے ان کا ماں بننے کا خواب پورا کیا۔ -

اگلے بجٹ میں براہِ راست ٹیکس کم کرنا ہوں گے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں براہِ راست ٹیکسوں میں کمی ناگزیر ہے جبکہ بالواسطہ ٹیکس نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا حکومت کی ترجیح ہوگی۔
پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ ٹیکس چوری کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض کاروباری افراد عوام سے ٹیکس وصول تو کرتے ہیں مگر قومی خزانے میں جمع نہیں کراتے، جس سے معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ معاشی مسائل کسی شارٹ کٹ یا جادوئی حل سے ختم نہیں ہوں گے بلکہ مسلسل محنت اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے بجلی چوری کے خاتمے پر فوری توجہ دینا ہوگی، کیونکہ سالانہ تقریباً 200 ارب روپے کی بجلی چوری ملکی مالی نظام پر بڑا بوجھ بن چکی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق ٹیکس اصلاحات اور توانائی کے شعبے میں شفافیت لائے بغیر پائیدار معاشی استحکام ممکن نہیں۔ -

پنجاب میں پنشن قوانین تبدیل، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور دوبارہ ملازمت کے قواعد سخت
پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے پنشن قوانین میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے نئی شرائط نافذ کر دی ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ یہ ترامیم پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے متعارف کرائی گئیں۔
رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی نئی شرط
نئے قواعد کے مطابق اب کوئی بھی سرکاری ملازم رضاکارانہ ریٹائرمنٹ صرف اسی صورت لے سکے گا جب اس کی ملازمت کے کم از کم 25 سال مکمل ہو چکے ہوں اور عمر کم از کم 55 سال ہو۔
حکام کے مطابق ریٹائرمنٹ اس بنیاد پر منظور ہوگی کہ دونوں میں سے جو شرط بعد میں پوری ہو۔ مثال کے طور پر اگر ملازم کی سروس 25 سال مکمل ہو جائے لیکن عمر 55 سال سے کم ہو تو اسے عمر پوری ہونے تک انتظار کرنا ہوگا۔
زبردستی ریٹائرمنٹ اور پنشن
نئے قوانین کے تحت اگر کسی ملازم کو جبری ریٹائر کیا جاتا ہے تو پنشن کے فوائد صرف اسی صورت ملیں گے جب اس کی کم از کم 20 سال کی سروس مکمل ہو چکی ہو۔
کرپشن اور بدانتظامی کے کیسز
بدعنوانی یا بدانتظامی کے معاملات میں بھی پنشن حاصل کرنے کے لیے مقررہ کوالیفائنگ سروس مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد احتساب کے نظام کو مزید مؤثر بنانا بتایا گیا ہے۔
دوبارہ سرکاری ملازمت کا نیا اصول
حکومت نے اپریل اور جون 2025 کے سابق نوٹیفکیشن واپس لے لیے ہیں، جن کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کو بیک وقت تنخواہ اور پنشن لینے کی اجازت تھی۔
نئے قانون کے مطابق اگر کوئی ریٹائرڈ ملازم دوبارہ سرکاری ملازمت اختیار کرتا ہے تو اسے تنخواہ یا پنشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ یہ شرط 60 سال سے زائد عمر کے ملازمین پر بھی لاگو ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد پنشن نظام کو مالی طور پر پائیدار بنانا اور سرکاری اخراجات کو بہتر انداز میں منظم کرنا ہے۔ -

بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر علیمہ خان کی پارٹی قیادت پر سخت تنقید
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے حالیہ پریس کانفرنس میں پارٹی کی سینئر قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بانی کی صحت سے متعلق معاملات پر صرف خاندان کو بات کرنے کا حق ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران علیمہ خان کا کہنا تھا کہ “بھائی ہمارا ہے اور ان کی صحت ہماری اولین ترجیح ہے، اس لیے ہماری اجازت کے بغیر کوئی بھی اس معاملے پر بیان نہ دے۔”
انہوں نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت دیگر رہنماؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حامد خان، علی ظفر اور لطیف کھوسہ کہاں ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر واضح مؤقف کیوں سامنے نہیں آ رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر نے بانی کی صحت کے معاملے کو نظر انداز کیا اور اب اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی جا رہی۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے علاج میں تاخیر کا ذکر کیا جا رہا ہے، حالانکہ ان کے مطابق بانی کا مناسب علاج ہی نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پارٹی رہنماؤں کی وزیر داخلہ سے ملاقات ہوئی تھی تو عوام کو اس کی تفصیلات کیوں نہیں بتائی جا رہیں اور حکومت سے کیے گئے وعدوں کو سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور صحت سے متعلق تمام معاملات شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ -

سینیٹ کمیٹی میں کرپٹوکرنسی بل پر اختلاف، سعدیہ عباسی نے کرپٹو کو سٹے بازی قرار دے دیا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں کرپٹوکرنسی سے متعلق مجوزہ قانون پر شدید اختلافات سامنے آگئے، جہاں ارکان نے حکومتی تیاری اور قانونی وضاحت پر سوالات اٹھا دیے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری اور وزیر قانون کی عدم موجودگی پر کمیٹی ارکان نے برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو محض ربڑ اسٹیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اہم قانون سازی پر مناسب بریفنگ نہیں دی جا رہی۔
کرپٹو پر سخت تنقید
سینیٹر سعدیہ عباسی نے اجلاس میں کہا کہ کرپٹوکرنسی دراصل سٹے بازی ہے اور اس حوالے سے عوام اور پالیسی سازوں دونوں کے ذہنوں میں شدید ابہام موجود ہے۔ ان کے مطابق کرپٹو زیادہ تر امیر طبقے کا مشغلہ بن چکا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کی واضح ریگولیشن سامنے نہیں آ سکی۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کرپٹو کو بڑی حد تک عوام کی چوائس پر چھوڑ رکھا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا ابھی اس معاملے پر متفق نہیں۔
قانونی وضاحت پر سوالات
سینیٹر شیری رحمان نے سوال اٹھایا کہ وزیر قانون کی غیر موجودگی میں بل سے متعلق تکنیکی اور قانونی سوالات کے جوابات کون دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرے ایریا میں رہتے ہوئے ٹیکس نظام مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔
سعدیہ عباسی نے مزید کہا کہ انہیں مجوزہ بل کی کاپی تک فراہم نہیں کی گئی، اس لیے وہ بغیر مطالعہ کیے قانون سازی کی حمایت نہیں کر سکتیں۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی ارکان نے حکومت پر زور دیا کہ کرپٹوکرنسی کے حوالے سے واضح اور جامع ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جائے تاکہ قانونی، مالی اور ٹیکس سے متعلق ابہام ختم کیا جا سکے۔ -

ٹرمپ کے خطاب کے دوران کانگریس میں احتجاج، مسلمان اراکین سے سخت جملوں کا تبادلہ
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران کانگریس میں ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جہاں متعدد ڈیموکریٹ اراکین، خصوصاً مسلمان قانون سازوں نے احتجاج کیا جبکہ صدر نے ناقدین کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
خطاب کے دوران رکن کانگریس ال گرین نے صدر کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ وہ اس لیے اجلاس میں شریک ہوئے تاکہ صدر کے سامنے “سچ” بیان کر سکیں۔ تقریر کے دوران انہوں نے بینر لہرانے کی کوشش کی جس پر سارجنٹ ایٹ آرمز نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں ایوان سے باہر نکال دیا۔
اسی دوران مسلمان اراکین کانگریس الہان عمر اور رشیدہ طلیب نے بھی صدر کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ صدر ٹرمپ نے الہان عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خطاب کے دوران کھڑا نہ ہونے پر شرم آنی چاہیے، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ شرمندہ ہونے کی ضرورت صدر کو ہے۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے اراکین کو “پاگل” قرار دیا اور ڈیموکریٹ اراکین کے رویے کو شرمناک کہا۔ انہوں نے غیرقانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ارکان کی ذمہ داری امریکی شہریوں کا تحفظ ہے، نہ کہ غیرقانونی تارکین وطن کی حمایت۔
صدر نے “سیو امریکا ایکٹ” کی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور انہیں امریکا میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خطاب کے دوران متعدد ڈیموکریٹ اراکین اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے جبکہ ریپبلکن ارکان نے صدر کی حمایت میں ردعمل دیا۔ -

تیسری مدت صدارت بھی ہوسکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا اسٹیٹ آف یونین خطاب میں اظہارِ خواہش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تیسری مدت کے لیے صدر بننے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی موجودہ مدت دوسری ہے اور مستقبل میں تیسری مدت بھی ممکن ہوسکتی ہے۔
اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا مشکل معاشی دور سے نکل چکا ہے اور ملکی معیشت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اسٹاک مارکیٹ مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور امریکا مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔
امیگریشن پالیسی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران کوئی بھی شخص غیرقانونی طور پر امریکا میں داخل نہیں ہوا، جبکہ قانونی طریقے سے آنے والوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
انہوں نے خطاب میں دھوکہ دہی کے خلاف سخت کارروائیوں کا اعلان بھی کیا اور بعض صومالی نژاد افراد پر امریکا میں مسائل پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ریاست مینیسوٹا میں مبینہ کرپشن کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے احتساب کو مزید سخت بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ -

امریکا سنہری دور میں داخل ہوچکا، حالات بدترین سے بہترین ہوگئے: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایک “سنہری دور” میں داخل ہوچکا ہے اور ملک کے حالات مختصر وقت میں بدترین سے بہترین سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال میں نمایاں تبدیلیاں لائی گئی ہیں، امریکی سرحدیں پہلے سے زیادہ محفوظ ہوچکی ہیں اور غیرقانونی امیگریشن کو مؤثر انداز میں روکا گیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ نو ماہ کے دوران کوئی غیرقانونی تارک وطن امریکا میں داخل نہیں ہوا، جبکہ قانونی امیگریشن کا نظام برقرار رکھا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا جو پہلے معاشی مشکلات کا شکار تھا، اب دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وینزویلا سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل حاصل کیا جا رہا ہے اور توانائی کے شعبے میں پیداوار بڑھانے کا وعدہ پورا کیا گیا ہے۔ صدر کے مطابق انتظامیہ نے سرکاری اداروں میں ڈی ای آئی پروگرام ختم کر دیے ہیں اور ملک کی مجموعی صورتحال مضبوط ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے ٹیکس پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلکن اراکین کی حمایت سے ٹیکس میں کمی ممکن بنائی گئی، جبکہ ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹپس اور اوور ٹائم آمدن پر ٹیکس ختم کیا گیا اور ٹیرف پالیسی کے باعث دیگر ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنے پر مجبور ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے انتخابی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ووٹرز کے لیے شہریت کا ثبوت ضروری ہونا چاہیے اور میل اِن بیلٹس کو محدود کیا جانا چاہیے، سوائے مخصوص حالات کے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈیموکریٹس ووٹر آئی ڈی قوانین کی مخالفت کرتے ہیں۔
خطاب کے دوران متعدد ڈیموکریٹ اراکین خاموش دکھائی دیے، جبکہ صدر نے توانائی، سوشل سیکیورٹی اور میڈی کئیر کے تحفظ کا وعدہ بھی دہرایا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ بجلی کی لاگت کم کرنے کے لیے اپنے پاور پلانٹس قائم کریں اور کانگریس سے سنگل فیملی گھروں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ -

چینی کمپنی کے مالک نے ملازمین کو حیران کر دیا
چین میں ایک کمپنی کے مالک نے اپنے ملازمین کے لیے ایسا انوکھا ایونٹ منعقد کیا کہ ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ہینان کی کوانگ شان کرین کو لمیٹڈ کمپنی کے مالک چوئی پی جون نے اپنے ملازمین میں 18 کروڑ یوآن (تقریباً 7 ارب پاکستانی روپے) نقد رقم تقسیم کی۔
کمپنی کے سالانہ ایونٹ کے موقع پر 6 کروڑ یوآن (تقریباً 2 ارب پاکستانی روپے) نقد بونس کے طور پر دیے گئے، جبکہ تقریب کے لیے تقریباً 7 ہزار ملازمین کے لیے 800 میزیں لگائی گئیں۔ ایونٹ میں ملازمین کو سٹیج پر بلا کر انعامات دیے گئے اور باقی افراد کو کہا گیا کہ میزوں پر موجود جتنی رقم وہ اٹھا سکتے ہیں، اٹھا کر اپنے گھر لے جائیں۔
تقریب کے دوران کمپنی کے مالک نے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے کہا کہ “ہم واشنگ مشینیں کیوں دیں؟ کیا آپ کو معلوم نہیں سونا کتنا مہنگا ہوگیا ہے؟” اور اضافی 20 ہزار یوآن بھی ہر ملازم کو نقد فراہم کیے گئے۔
یہ کمپنی ستمبر 2002 میں قائم ہوئی تھی اور کرینیں بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر مصنوعات بھی تیار کرتی ہے اور 130 سے زائد ممالک میں اس کا کاروبار موجود ہے۔ چوئی پی جون نے اس سے قبل 2024 میں بھی 17 کروڑ یوآن اپنے ملازمین میں بونس کے طور پر تقسیم کیے تھے۔
یہ تقریب نہ صرف ملازمین کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنی بلکہ کاروباری دنیا میں نقد انعامات دینے کے منفرد طریقے کے طور پر بھی خبروں میں رہی۔