وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے تاریخی شہر استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کو اپنے لیے باعثِ اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام اہم پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، علاقائی روابط، ٹیکنالوجی، خطے میں امن اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد پائیدار راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے اور ہر سطح پر تعاون کو فروغ دیں گے۔
شہباز شریف نے صدر اردوان کی پرتپاک مہمان نوازی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کا حجم پانچ ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کے حصول کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی تعاون میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ممالک اپنی معیشتوں کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے استنبول میں منعقدہ پاکستان۔ترکیہ بزنس کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ترک کاروباری برادری کے اعتماد، جدید سوچ اور کاروباری جذبے نے انہیں یقین دلایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری ایک نئے اور امید افزا دور میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے، جبکہ پاکستان بھی سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں مشترکہ اقدامات کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ حالیہ ملاقاتیں اور بزنس کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

شہباز شریف اور صدر اردوان کا پاک ترکیہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم
-

قصور میں بانس کی کونپلیں چوری کرنے کے الزام میں چینی شہری گرفتار
قصور کے علاقے گنڈا سنگھ والا تھانے کی حدود میں دیہاتیوں نے بانس کی کونپلیں (شوٹس) چوری کرنے کے الزام میں چند چینی شہریوں کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
مقامی افراد کے مطابق چینی شہری بانس کے کھیتوں میں داخل ہو کر نئی نکلنے والی کونپلیں کاٹ رہے تھے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کافی عرصے سے بانس کے کھیتوں سے مسلسل کونپلیں غائب ہو رہی تھیں، جس کے باعث کاشتکاروں کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، تاہم اس سے قبل مبینہ چوروں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا تھا۔
اطلاعات کے مطابق دیہاتیوں نے منصوبہ بندی کے تحت نگرانی کی اور مبینہ طور پر چوری کی کوشش کے دوران چینی شہریوں کو پکڑ لیا۔ اس دوران ان کی گاڑی بھی اپنی تحویل میں لے لی گئی، جبکہ موقع سے کلہاڑیاں، چاقو اور دیگر اوزار بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مقامی افراد نے واقعے کی ویڈیو بھی بنائی، جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ ویڈیو میں چند افراد کو روک کر ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، تاہم ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بانس کے کھیتوں کے مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور متعلقہ حکام اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث افراد کے خلاف پاکستان کے مروجہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔ بعض متاثرین نے غیر ملکی شہریوں سے متعلق قانونی اور سفارتی تقاضوں کے مطابق بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
-

وزیراعظم آزاد کشمیر کی چیف سیکریٹری اور آئی جی سے ملاقات، امن و امان پر تفصیلی غور
وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری فیصل ممتاز راٹھور نے چیف سیکریٹری خوشحال خان اور انسپکٹر جنرل پولیس لیاقت علی ملک سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں، جن میں ریاست کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، انتظامی امور اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق چیف سیکریٹری خوشحال خان نے وزیراعظم کو مختلف انتظامی معاملات، حکومتی امور اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے ریاست میں جاری ترقیاتی اور انتظامی سرگرمیوں کے بارے میں بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل پولیس لیاقت علی ملک نے وزیراعظم کو امن و امان کی مجموعی صورتحال، پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرائم کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ آئی جی پولیس نے سیکیورٹی صورتحال اور پولیس کی کارکردگی سے متعلق مختلف امور پر بھی وزیراعظم کو اعتماد میں لیا۔
وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے انتظامیہ اور پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاست میں قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور حکومتی رٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ریاست میں امن، استحکام اور بہتر طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کے اعتماد میں اضافہ ہو اور انہیں بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل، شفاف انتظامی نظام اور مؤثر قانون نافذ کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ -

سورج کی روشنی کم کرنے کا منصوبہ نئے خطرات کی زد میں
سائنسدانوں نے موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے تجویز کیے گئے متنازع منصوبے اسٹریٹوسفیرک ایروسول انجیکشن (SAI) کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طریقہ اگرچہ زمین کا درجہ حرارت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ماحول، انسانی صحت اور فضائی سفر پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
اس منصوبے کے تحت فضا کی بالائی تہہ، جسے اسٹریٹوسفیر کہا جاتا ہے، میں انتہائی باریک ایروسول ذرات چھوڑنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ سورج کی کچھ شعاعیں خلا میں واپس منعکس ہو جائیں اور زمین تک پہنچنے والی حرارت میں کمی آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بظاہر عالمی درجہ حرارت میں کمی لا سکتا ہے، تاہم اس کے طویل المدتی نتائج ابھی مکمل طور پر معلوم نہیں۔
امریکا کی رٹگرس یونیورسٹی کے محققین نے اپنی نئی تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ فضا میں سلفیورک ایسڈ سے بننے والے سلفیٹ ذرات کمرشل طیاروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ذرات طیاروں کے انجنوں اور دیگر نظاموں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ مسافروں اور عملے کو زہریلے کیمیکلز کی مضر مقدار کے سامنے بھی لا سکتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ ایلن رونوک کا کہنا ہے کہ اسٹریٹوسفیر میں بارش نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہاں موجود ذرات زمینی فضا کے مقابلے میں تقریباً پچاس گنا زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر بڑی مقدار میں کیمیائی ذرات فضا میں چھوڑے گئے تو ان کے اثرات کئی برس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو انسانی نظام تنفس کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی زیادہ مقدار سانس لینے میں دشواری، مسلسل کھانسی، گھرگھراہٹ اور دیگر سانس کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو پہلے ہی دمہ یا دیگر پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہوں۔
دوسری جانب کولمبیا کلائمٹ اسکول کے سائنسدانوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اسٹریٹوسفیرک ایروسول انجیکشن کو عالمی سطح پر استعمال کیا گیا تو اس سے دنیا کے موسمی نظام میں ایسی تبدیلیاں آ سکتی ہیں جنہیں واپس پلٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بارشوں کے نظام، ہواؤں کی سمت، زرعی پیداوار اور مختلف خطوں کے موسم پر بھی اس کے غیر متوقع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق زمین کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 0.6 سے 1 ڈگری سینٹی گریڈ کمی لانے کے لیے فضا کی بالائی تہہ میں تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ خارج کرنا پڑ سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر مزید تحقیق ضروری ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں میں کسی نئے ماحولیاتی بحران کو جنم نہ دیا جائے۔ -

بلوچستان میں مسافر بس کھائی میں گر گئی، 40 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
بلوچستان میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر بس خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جہاں تیز رفتاری کے باعث بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 سے زائد مسافر زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق حادثہ جمعہ کی صبح بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحد کے قریب ژوب ضلع کے پہاڑی علاقے دانہ سر میں پیش آیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بس تقریباً 70 سے 80 فٹ گہری کھائی میں گری، جس کے باعث جانی نقصان انتہائی زیادہ ہوا۔
ژوب ڈسٹرکٹ ایمرجنسی سینٹر کے سربراہ ثناء اللہ شیرانی کے مطابق حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ لاشوں کو بھی کھائی سے نکالنے کا عمل مکمل کیا گیا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ بس کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی اور اس میں اپنی گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ ان کے مطابق ایک دوسری خراب ہونے والی بس کے مسافروں کو بھی اسی گاڑی میں منتقل کر دیا گیا تھا، جس کے باعث بس میں غیر معمولی رش تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ تیز رفتاری معلوم ہوتی ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
یہ حادثہ ایک بار پھر ملک میں شاہراہوں پر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد، گاڑیوں کی فٹنس اور اوورلوڈنگ جیسے سنگین مسائل کو اجاگر کرتا ہے، جن کی وجہ سے ہر سال قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ -

ایل نینو شدت اختیار کرے گا، اقوام متحدہ نے دنیا کو شدید موسمی خطرات سے خبردار کر دیا
اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے دنیا بھر کی حکومتوں اور امدادی تنظیموں کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ مہینوں میں ایل نینو موسمی نظام کے باعث شدید گرمی، خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں جیسے خطرناک موسمی واقعات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایل نینو کی صورتحال پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور جولائی سے ستمبر کے دوران اس کے تیزی سے مضبوط ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ موسمی نظام عام طور پر نومبر سے فروری کے درمیان اپنی شدت کی بلند ترین سطح پر پہنچتا ہے۔
ڈبلیو ایم او نے بتایا کہ ممکنہ موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے موسمی معلومات اور ابتدائی وارننگ سسٹمز فعال کر دیے گئے ہیں تاکہ حکومتیں، امدادی ادارے، کسان اور دیگر حساس طبقات بروقت حفاظتی اقدامات کر سکیں۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا کہ موسمی پیش گوئیوں کے مطابق ایل نینو نہایت تیزی سے ایک مضبوط مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں خشک سالی، شدید بارشوں، زمینی ہیٹ ویوز اور سمندری درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بروقت موسمی پیش گوئیاں اور مؤثر ابتدائی انتباہی نظام انسانی جانوں کے تحفظ، معیشت کو نقصان سے بچانے اور قدرتی آفات کے اثرات کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ پانی کے ذخائر، زرعی منصوبہ بندی، آفات سے نمٹنے کے انتظامات اور عوامی آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ ممکنہ موسمی چیلنجز کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔ -

موناکو بم حملہ: یوکرینی ارب پتی پر حملے کی مرکزی ملزم خاتون نکلی
موناکو میں یوکرینی نژاد ارب پتی تاجر پر ہونے والے بم حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حکام نے مرکزی ملزم کی شناخت ایک یوکرینی خاتون کے طور پر کی ہے، جس نے کارروائی کے دوران مرد کا روپ دھار رکھا تھا۔
موناکو کے پراسیکیوٹرز کے مطابق 39 سالہ انستاسیا بیریزووسکا اس حملے کی مرکزی ملزم ہے، جس کے خلاف انٹرپول نے ریڈ نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق وہ آخری مرتبہ جرمنی میں مقیم تھی اور اس کے دائیں بازو پر کندھے سے کہنی تک سانپ نما ٹیٹو موجود ہے، جس سے اس کی شناخت میں مدد ملی۔
تحقیقات کے مطابق بم حملے کے بعد ملزمہ پہلے فرانس فرار ہوئی اور بعد ازاں جرمن رجسٹریشن والی کرائے کی گاڑی کے ذریعے اٹلی پہنچ گئی۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں تیار کیا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کارروائی میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے۔
حکام نے بتایا کہ واقعے کے بعد موناکو میں دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، تاہم شواہد ناکافی ہونے پر انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔
یہ حملہ چار روز قبل موناکو کی ایک پرتعیش رہائشی عمارت کے داخلی حصے میں ہوا تھا، جس کا ہدف یوکرینی نژاد معروف کاروباری شخصیت وادیم یرمولائیف تھے۔ دھماکے میں وہ زخمی ہوئے جبکہ سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر سیکیورٹی کیمروں میں نظر آنے والی مشتبہ شخصیت کو مرد سمجھا گیا تھا، تاہم بعد ازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل ایک خاتون تھی، جس نے شناخت چھپانے کے لیے مردانہ لباس اور حلیہ اختیار کیا تھا۔ -

امریکا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کر دی
امریکا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ملک کو اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تازہ بیان کو پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور اس دوران پاکستانی عوام نے بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق دہشت گردی کے واقعات نے ہزاروں بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں لیں، جس کے باعث پاکستان کو مسلسل بڑے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ امریکی حکام نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کو سفارتی سطح پر ایک مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی حکام متعدد مواقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے اور اس مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے حالیہ بیان کو بھی اسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں پاکستان کے سیکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کے خلاف اس کی کوششوں کا واضح اعتراف کیا گیا ہے۔ -

بی آر ٹی یلو لائن کیس، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری
کراچی میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) یلو لائن منصوبے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اینٹی کرپشن حکام نے منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق نوٹس انہیں جیل میں باقاعدہ طور پر وصول کرا دیا گیا ہے، جہاں وہ اس وقت اینٹی کرپشن کی تحویل میں ہیں۔
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ ضمیر عباسی سے ان پر عائد سنگین الزامات کے حوالے سے تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے۔ شوکاز نوٹس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف کی مکمل تفصیلات مقررہ مدت کے اندر جمع کرائیں تاکہ ان کے جواب کا قانونی اور انتظامی سطح پر جائزہ لیا جا سکے۔
حکام کے مطابق ضمیر عباسی کو جواب جمع کرانے کے لیے 14 روز کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر ان کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب غیر تسلی بخش قرار پایا یا الزامات کا مناسب جواب نہ دیا جا سکا تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، جس میں انہیں ملازمت سے برطرف کیے جانے کا امکان بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق ضمیر عباسی اس وقت اینٹی کرپشن حکام کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں، جہاں ان سے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے سے متعلق مختلف معاملات پر تفتیش جاری ہے۔ تحقیقاتی ٹیم منصوبے کے مالی اور انتظامی امور سمیت دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ اگر کسی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میرٹ اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ اس کیس میں سامنے آنے والے تمام شواہد اور متعلقہ دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر دیگر متعلقہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ شوکاز نوٹس کا اجرا ایک انتظامی کارروائی کا حصہ ہے اور اس مرحلے پر عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین ہونا باقی ہے۔ ضمیر عباسی کو قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ کسی بھی حتمی کارروائی کا فیصلہ تحقیقات اور محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ -

وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ پہنچ گئے، صدر اردوان سے اہم ملاقات آج ہوگی
وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی امور کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
استنبول ایئرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے کیا۔ اس موقع پر ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، ترک وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام اور دیگر سفارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی ترکیہ پہنچے ہیں۔
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے تفصیلی ملاقات کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کریں گے۔ بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
دورے کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال بھی دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا اہم حصہ ہوگی۔ پاکستان اور ترکیہ کی قیادت خطے میں امن و استحکام، باہمی تعاون اور مختلف بین الاقوامی امور پر اپنے مؤقف کا تبادلہ کرے گی، جبکہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف استنبول میں منعقد ہونے والی ایک اہم بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعت اور نجکاری کے مختلف منصوبوں کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر ترک کاروباری رہنما، سرمایہ کار، صنعتکار، سرکاری حکام اور مختلف کمپنیوں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا، اقتصادی روابط میں وسعت لانا اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو نئی جہت دینا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے سے تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی شراکت داری کے فروغ میں مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔