Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پیوٹن کو تعاون کی پیشکش کر دی

    
ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پیوٹن کو تعاون کی پیشکش کر دی

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس تنازع کے جلد از جلد سیاسی حل کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیشکش دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کی گئی۔
    ‎کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتے انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین کی جنگ، علاقائی صورتحال اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اوشاکوف نے گفتگو کو "تعمیری اور کاروباری نوعیت” کی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگ کے جلد خاتمے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔
    ‎ان کے مطابق روس اب بھی اس تنازع کا سیاسی اور سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم ایسا حل روس کے بنیادی مؤقف اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ ماسکو مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن کسی بھی معاہدے میں روس کے سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی کہ ہفتے کے روز ان کی صدر ٹرمپ سے علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ زیلنسکی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل محاذ پر جاری جنگی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
    ‎زیلنسکی نے اپنے ٹیلیگرام پیغام میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کا ایک حقیقی موقع موجود ہے اور اس مقصد کے لیے امریکا کا مضبوط عزم انتہائی اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر مزید ملاقاتوں اور مشاورت پر بھی اتفاق کیا ہے۔
    ‎نیٹو کے 32 رکن ممالک کے سربراہان کا اجلاس 7 اور 8 جولائی کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہوگا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں یوکرین جنگ، یورپی سلامتی، دفاعی تعاون اور روس سے متعلق پالیسیوں پر اہم فیصلے زیر غور آئیں گے۔

  • 
امریکا کے یومِ آزادی پر فائرنگ اور آتشزدگی، 8 افراد زخمی

    
امریکا کے یومِ آزادی پر فائرنگ اور آتشزدگی، 8 افراد زخمی

    ‎نیویارک کے علاقے کونی آئی لینڈ میں امریکا کے یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران فائرنگ کے ایک واقعے میں کم از کم آٹھ افراد زخمی ہو گئے، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق زخمیوں میں ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ دیگر متاثرین کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کی وجوہات اور حملہ آور یا حملہ آوروں کے بارے میں فوری طور پر کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران بروکلین برج کے قریب آتش بازی کے مظاہرے کے وقت اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے تقریب میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر یہ تاثر سامنے آیا کہ آگ بروکلین برج پر لگی ہے، تاہم بعد میں حکام نے اس کی تردید کرتے ہوئے وضاحت کی کہ آگ پل پر نہیں بلکہ آتش بازی کے لیے نصب کیے گئے پلیٹ فارمز پر بھڑکی تھی۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق آگ لگنے کے بعد کچھ دیر کے لیے دھواں اور شعلے بلند ہوتے رہے، تاہم فائر فائٹرز نے تقریباً ایک منٹ کے اندر آگ پر قابو پا لیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎حکام نے بتایا کہ 143 سال پرانے تاریخی بروکلین برج کو آگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اس کی ساخت مکمل طور پر محفوظ رہی۔ واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
    ‎واضح رہے کہ امریکا میں عوامی تقریبات کے دوران فائرنگ کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ ایک ماہ قبل ریاست کیلیفورنیا میں ایک اسکول کی گریجویشن تقریب کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد عوامی اجتماعات کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے تھے۔

  • 
ڈیرہ بگٹی میں رقم کے تنازع پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

    
ڈیرہ بگٹی میں رقم کے تنازع پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

    ‎بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں مالی لین دین کے تنازع نے خونریز تصادم کی شکل اختیار کر لی، جہاں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ زین کوہ درینجن کے علاقے میں پیش آیا، جہاں رقم کے تنازع پر دونوں فریق آمنے سامنے آ گئے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے مسلح تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ دونوں جانب سے ہونے والی شدید فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے باپ اور بیٹا شامل ہیں، جبکہ دوسرے فریق کے دو سگے بھائی بھی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی افراد گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے۔
    ‎اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں، جبکہ جائے وقوعہ سے مختلف شواہد بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور فائرنگ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق علاقے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے اضافی پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

  • کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے راولاکوٹ میں 4 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا

    کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے راولاکوٹ میں 4 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا

    ‎آزاد جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں چار پولیس اہلکاروں کے مبینہ اغوا کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق واقعے میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسلک افراد پر پولیس اہلکاروں کو حراست میں لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے آزادانہ طور پر تمام دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ‎سرکاری معلومات کے مطابق راولاکوٹ میں جاری احتجاجی دھرنے کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھی جب مبینہ طور پر سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاہد شفیق، محمد صغیر، کانسٹیبل محمد اشتیاق اور ذیشان اسحاق کو ڈیوٹی پر جاتے ہوئے روک کر اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ چاروں اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
    ‎سرکاری مؤقف کے مطابق احتجاج میں عوامی شرکت کم ہونے کے بعد بعض عناصر نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، جس سے علاقے کی امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی۔ حکام نے الزام عائد کیا کہ بعض افراد نے راولاکوٹ کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔
    ‎بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اس سے قبل ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو بھی مبینہ طور پر اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) پر حملے کا الزام بھی انہی عناصر پر عائد کیا گیا۔ تاہم ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مغوی اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔

  • 
اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ

    
اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ

    ‎ریاض میں اوپیک پلس کے رکن ممالک نے عالمی تیل کی منڈی میں توازن اور قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تیل کی پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی توانائی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال، طلب و رسد اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
    ‎اوپیک پلس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس فیصلے میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان شامل ہیں۔ ان سات ممالک نے باہمی مشاورت کے بعد رضاکارانہ بنیادوں پر پیداوار میں ردوبدل پر اتفاق کیا تاکہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
    ‎اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں عالمی تیل مارکیٹ مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، اس لیے رکن ممالک نے موجودہ حالات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد پیداوار میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کو ضروری قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو روکنا اور توانائی کی عالمی ضروریات کو متوازن انداز میں پورا کرنا ہے۔
    ‎اوپیک پلس نے واضح کیا کہ رکن ممالک عالمی منڈی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر مستقبل میں طلب، رسد یا قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو باہمی مشاورت سے پیداوار کی سطح میں مزید ردوبدل بھی کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تمام فیصلے مارکیٹ کے استحکام اور عالمی معیشت کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اوپیک پلس کے فیصلے عالمی خام تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشت، ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اسی لیے تنظیم کے ہر فیصلے پر عالمی مالیاتی اور توانائی منڈیاں گہری نظر رکھتی ہیں۔
    ‎اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ اوپیک پلس کے ان سات ممالک کا اگلا اجلاس 2 اگست 2026 کو منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں عالمی تیل مارکیٹ کی تازہ صورتحال، طلب و رسد کے رجحانات، خام تیل کی قیمتوں اور آئندہ کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر پیداوار کے حوالے سے مزید فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں تاکہ عالمی توانائی منڈی میں توازن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

  • 
کراچی میں لاوارث لاشوں کی تعداد تشویشناک، رواں سال تقریباً 200 لاشیں برآمد

    
کراچی میں لاوارث لاشوں کی تعداد تشویشناک، رواں سال تقریباً 200 لاشیں برآمد

    ‎کراچی میں لاوارث لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں اور سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک شہر کے مختلف علاقوں سے تقریباً 200 لاوارث لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جن میں 13 خواتین بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ اموات کی وجوہات بھی واضح نہیں ہو سکیں۔
    ‎ایدھی فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق یہ لاشیں شہر کے مختلف علاقوں سے ملی ہیں، جن میں فٹ پاتھ، دریا کے کنارے، ویران جھاڑیاں، خالی مکانات اور دیگر سنسان مقامات شامل ہیں۔ بیشتر لاشوں کے پاس کوئی شناختی دستاویز موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے ان کی شناخت میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
    ‎صرف جولائی کے ابتدائی چار روز کے دوران مزید تین مردوں کی لاشیں ملنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ لاشوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ باعث تشویش ہے اور اس حوالے سے متعلقہ اداروں کی توجہ ناگزیر ہے۔
    ‎ایدھی حکام کے مطابق ابتدائی مشاہدات کی بنیاد پر بعض اموات کا تعلق ممکنہ طور پر منشیات کے استعمال سے ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اموات کی اصل وجوہات کا تعین صرف پوسٹ مارٹم، فرانزک تجزیے اور دیگر طبی معائنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
    ‎دوسری جانب پولیس کی جانب سے اب تک ان لاوارث لاشوں کے حوالے سے کوئی جامع باضابطہ رپورٹ یا تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ کتنے کیسز میں تحقیقات جاری ہیں یا کتنی لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ اس صورتحال پر شہریوں اور سماجی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاوارث لاشوں کی شناخت، اموات کی وجوہات اور ممکنہ جرائم کی تحقیقات کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی نہیں بلکہ صحت، سماجی بہبود اور منشیات کی روک تھام سے متعلق اداروں کے لیے بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ ان کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور جدید فرانزک سہولیات کے استعمال سے نہ صرف متاثرہ افراد کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے بلکہ اموات کی اصل وجوہات بھی سامنے لائی جا سکتی ہیں۔

  • 
حکومت کا مزید ایک لاکھ محنت کش بچوں کو تعلیم دینے کا فیصلہ

    
حکومت کا مزید ایک لاکھ محنت کش بچوں کو تعلیم دینے کا فیصلہ

    ‎وفاقی حکومت نے محنت کش طبقے کے بچوں کو بہتر اور مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے مزید ایک لاکھ بچوں کو تعلیم کی سہولت دینے کے منصوبے پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے بچوں کو بھی معیاری تعلیم تک رسائی دینا ہے جو معاشی مشکلات کی وجہ سے تعلیمی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
    ‎وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل ترقی چودھری سالک حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق محنت کش خاندانوں کے مزید ایک لاکھ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کوئی بھی بچہ صرف مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔
    ‎چودھری سالک حسین نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور حکومت اس اصول پر مکمل یقین رکھتی ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کے بچوں کو یکساں تعلیمی مواقع میسر ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق محنت کشوں کے بچوں کو بھی وہی معیارِ تعلیم حاصل ہونا چاہیے جو دیگر بچوں کو دستیاب ہے۔
    ‎وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت محنت کش طبقے کے بچوں کی تعلیم کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بچے کو تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا اور اس حوالے سے مختلف فلاحی منصوبوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ محنت کش خاندانوں کو تعلیم، وظائف اور دیگر سماجی و فلاحی سہولیات بہتر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔ ان کے مطابق ادارے میں اصلاحات کا مقصد خدمات کی شفاف اور مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎چودھری سالک حسین نے کہا کہ محنت کشوں کے بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسے اقدامات جاری رکھے گی جن کے ذریعے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو قومی تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جا سکے گا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ محنت کش طبقے کی فلاح، ان کے بچوں کی تعلیم اور سماجی تحفظ حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہیں، اور مستقبل میں بھی ایسے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے جو مزدور خاندانوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

  • 
پشاور میں خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ، ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

    
پشاور میں خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ، ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

    ‎پشاور کے علاقے گلبہار میں خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی ہے، جس میں ایک نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد واقعے نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق یہ واقعہ 24 جون کو تھانہ گلبہار کی حدود میں پیش آیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نوجوان خاتون کے قریب آ کر مبینہ طور پر نازیبا حرکت کرتا ہے۔ خاتون فوری ردعمل دیتے ہوئے اپنا جوتا اتار کر نوجوان کو دور بھگانے کی کوشش کرتی ہے۔
    ‎فوٹیج کے مطابق خاتون جب وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے تو مبینہ ملزم اس کا تعاقب کرتا ہے، اسے پکڑ لیتا ہے اور مبینہ طور پر تشدد کرتے ہوئے زمین پر گرا دیتا ہے۔ واقعے کے بعد نوجوان موقع سے فرار ہو جاتا ہے جبکہ خاتون شدید خوف و ہراس کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے تاحال اس واقعے کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات کی بنیاد پر شبہ ہے کہ مبینہ ملزم کا ذہنی توازن درست نہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے طبی معائنے اور مزید تحقیقات کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس نے واضح کیا کہ خاتون کی شکایت یا دیگر قانونی تقاضوں کے مطابق کیس کو آگے بڑھانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات زیر غور ہیں۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے یا ان پر تشدد کرنے کے واقعات قابلِ سزا جرائم ہیں، اور ایسے معاملات میں شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ ایسے واقعات کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

  • 
یمن میں حوثیوں کا بڑا حملہ، 14 فوجی ہلاک، 20 سے زائد زخمی

    
یمن میں حوثیوں کا بڑا حملہ، 14 فوجی ہلاک، 20 سے زائد زخمی

    ‎یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سرکاری فوجی اہلکاروں پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کم از کم 14 فوجیوں کو ہلاک جبکہ 20 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ بحیرہ احمر سے متصل صوبہ الحدیدہ میں کیا گیا، جہاں دونوں فریقوں کے درمیان شدید جھڑپیں اور گولہ باری کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
    ‎فوجی اور مقامی ذرائع کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے حیز کے علاقے میں واقع ماؤنٹ ڈاباس پر قائم سرکاری فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ حملے میں بھاری ہتھیاروں اور گولہ باری کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ زخمی اہلکاروں کو قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق یہ حملہ حالیہ برسوں میں الحدیدہ کے محاذ پر اپنی نوعیت کا ایک بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس علاقے میں گزشتہ کچھ عرصے سے نسبتاً کشیدگی کم تھی، تاہم تازہ حملے کے بعد ایک بار پھر جنگی صورتحال شدت اختیار کر گئی ہے۔
    ‎یمنی حکومت کے حامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سرکاری فوج نے بھی جوابی کارروائی کی، تاہم فوری طور پر اس کے نتائج یا حوثیوں کے ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
    ‎یاد رہے کہ یمن میں 2015 سے حکومت اور حوثی گروپ کے درمیان جاری خانہ جنگی نے ملک کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔ اس طویل تنازع کے دوران لاکھوں افراد متاثر ہوئے، جبکہ لاکھوں شہری بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق الحدیدہ میں حالیہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود یمن میں امن اب بھی نازک مرحلے میں ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور مختلف علاقائی طاقتوں کی شمولیت اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جس کے باعث پائیدار امن کی کوششوں کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • 
کورنگی میں موبائل پر بات کرتے مزدور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

    
کورنگی میں موبائل پر بات کرتے مزدور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

    ‎کراچی کے علاقے کورنگی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 35 سالہ فضل وہاب کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تھا اور وہ روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھا۔
    ‎پولیس کے مطابق یہ واقعہ کورنگی نمبر 4 میں اویس شہید پارک کے قریب پیش آیا، جہاں موٹرسائیکل پر سوار تین افراد نے فضل وہاب کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جس کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس کے ذریعے لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔
    ‎ایس ایچ او کورنگی انسپکٹر ملک اشفاق کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ مقتول ابراہیم حیدری کے علاقے میں ایک تھلے والے کے پاس رہائش پذیر تھا اور مقامی یونین کونسل کے چیئرمین کے پاس مزدوری کرتا تھا۔ یوسی چیئرمین نے بھی مقتول کی شناخت کی تصدیق کر دی ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق واقعے کے وقت فضل وہاب موبائل فون پر کسی سے بات کر رہا تھا کہ اسی دوران ایک موٹرسائیکل پر سوار تین افراد اس کے قریب آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزمان نے پہلے اس سے مختصر بات چیت کی، جس کے بعد اچانک فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور فرار کے راستے کا تعین کیا جا سکے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے، جن میں ذاتی دشمنی، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر ممکنہ محرکات شامل ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ مقتول کے اہل خانہ اور قریبی افراد سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ قتل کی اصل وجہ تک پہنچا جا سکے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔