میر رضا کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے ساتویں اجلاس میں ڈاکٹر سمعیہ نے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کیس کی وجہ سے انہیں دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جبکہ دو دن تک ان کا پیچھا بھی کیا گیا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر ان کے گھر کا ایڈریس اور شوہر کا نام بھی شیئر کیا گیا۔ ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ ان پر زمین پر قبضے کا الزام بھی عائد کیا گیا، جس کے خلاف انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو شکایت کردی ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق سی آئی اے کا ایک انسپکٹر بھی ان سے ریکارڈ طلب کر رہا تھا۔ اس صورتحال پر کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ ایسی صورتحال کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔
جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹر سمعیہ کو ہدایت کی کہ وہ معاملہ وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے رکھیں۔ جوڈیشل کمیشن نے سی آئی اے انسپکٹر محمد علی کو بھی کل طلب کرلیا ہے۔
سماعت کے دوران کمیشن کے سربراہ نے ڈاکٹر سمعیہ کو پولیس سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی، تاہم ڈاکٹر سمعیہ نے پولیس سیکیورٹی لینے سے انکار کردیا۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ہم رینجرز کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا کہہ دیتے ہیں، جس کے بعد ایڈیشنل لاء سیکریٹری کو ڈاکٹر سمعیہ کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی۔
ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن کو مزید بتایا کہ تین چیزیں واضح ہیں، جن میں نشہ آور دوا، ایسڈ برن اور گولی کا پیچھے سے لگنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ پوسٹ مارٹم کا جائزہ لیتیں تو بتا دیتیں کہ موت گولی لگنے سے ہوئی یا دوا کے باعث۔
