Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اگر ہم اسلام سے قبل عورت کی تاریخ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ عورت کو کس قدر حقیر اور کمتر جانا جاتا تھا ۔ عورت کو آزادٸ راۓ کا کوٸ حق حاصل نہ تھا نہ ہی اس کی کوٸی عزت اور مقام تھا۔ بیٹی کی پیداٸش کو شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا اور اسے زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ مگر پھر عرب میں ایک چاند نمودار ہوا جسے دنیا محمد صلى الله عليه واله وسلم کے نام سے جانتی ہے اس ہستی کی آمد تھی کہ جہالت کے ساۓ جھٹنے لگے اور انسانیت کی راہیں ہموار ہونے لگیں۔ ممحمد صلى الله عليه واله وسلم نے لوگوں کو بتایا کہ بیٹی بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہے۔ انہوں نے اسلامی قوانین کے نفاز کو یقینی بنایا اور اسلام میں خواتین کو جو حقوق حاصل تھے دنیا کو اس سے روشناس کروایا۔
    اسلام نے تعلیم، وراثت اور پسند نا پسند اور نکاح میں بھی حق دیا کہ اگر وہ چاہے تو ہاں کرے اور اگر اس کی مرضی شامل نہ ہو تو زبرددستی نکاح نہیں کرو غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تمام حقوق دیے ہیں ۔ کسی بھی مرد کو عورت کی تزلیل کا حق حاصل نہیں ۔ اسلام نے اسے عملی طور پر ثابت کیا اور بتایا کہ عورت جس بھی روپ میں ہو وہ معاشرے کے لیے قابل احترام ہے اسے وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک مرد کو ۔ عورت ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت رکھ دی اور اگر بیٹی ہے تو فرمایا کہ یہ باعث رحمت ہے اور اگر بہن ہے تو وفا کا پیکر ہے اور اگر بیوی ہے تو تمہارا ایمان
    مکمل کرتی ہے. اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب جیسی جیسے پروان چڑھی۔
    عورتوں نے زندگی کے ہر شعبے میں کارہاۓ نمایاں سرانجام دیے۔
    حضرت خدیجہؓ اپنے وقت کی مشہور کاروباری خاتون تھیں اور عاٸشہؓ وہ روشن مثال ہیں جن کے زریعے امت تک احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ پہنچا اور اسی طرح میڈیکل ساٸنسز اور علم جراحی اور سرجری میں حضرت رفیدہؓ کا نام معتبر ہے اور دستکاری اور صنعت و حرفت کے شعبے میں حضرت زینبؓ بنت حجش کا نام شامل ہے غرض یہ کہ خواتین نے ہر شعبہ میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان فنون کے ساتھ ساتھ بہت سی خواتین ایڈمنسٹریشن کے مناصب پر بھی فاٸز رہیں۔ خواتین انتظامی عہدوں پر بھی فاٸز ہو سکتی ہیں اسلامی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ سلطان صلاح الدین کی بھتیجی سیدہ حنیفہ حلب کی والیہ رہیں اور شریفہ فاطمہ یمن صنعا اور نجران کی والیہ رہیں اور اس کے علاوہ جنگی محاز پر بھی خواتین نے فراٸض سرانجام دیے ۔ عزرہ بنت حارث نے اہل بیسان سے لڑاٸی میں لشکر کی قیادت کی اور ام عطیہؓ نے محمد صلى الله عليه واله وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی ام حرام بنت ملحان پہلی بحری مجاہدہ تھیں ۔ ان تمام کارناموں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کے کردار ان
    کے علم و ہنر کی قدر کی اور اسے سراہا۔ حضرت عمرؓ کی مجلس شوریٰ میں خواتین کو بھی نماٸندگی حاصل تھی۔ اور انہیں آزادی راۓ کا حق دیا گیا تھا کہ وہ بلا خوف خطر اپنی راۓ دے سکتی اور اپنا حق لے سکتی ہیں اس کی بہت عمدہ مثال ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے عورتوں کے حق مہر کی تعداد متعین کرنے پر راۓ لی تو مجلس شوریٰ میں ایک عورت اُٹھ کھڑی ہوٸی اورکہا کہ آپ کو یہ اختیار نہیں کہ آپ مہر کی مقدار متعین کریں جبکہ قرآن میں ہمیں یہ حق دیا گیا ہے تو عمرؓ نے فرمایا کہ یہ عورت ٹھیک کہتی ہے ۔
    برطانیہ نے 1918 میں عورت کو ووٹ کا حق دیا ۔ امریکہ نے 1920 کے بعد انیسویں آٸینی ترمیم میں عورت کو ووٹ کا حق دیا اور نیوزی لینڈ میں 1893 میں عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا جبکہ اسلام نے ان سب سے پہلے عورت کو راۓدہی کا حق دیا۔
    نوع انسانی میں اسلام نے سب سے پہلے خواتین کے حقوق متعارف کرواۓ اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی طاقت کے زور سے کسی کی حق تلفی کرے۔ہمیں ایک دوسرے کے حقوق سلب کرنے کی بجاۓ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔ اسلام نے جو حقوق اور حدود مقرر کی ہیں ہمیں عملی زندگی میں ان کا نفاذ کرنا ہو گا تا کہ حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ معاشرے کا قیام عمل میں آسکے 😇

    ‎@b786_s

  • پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ منشیات کا تحریر یاسمین ارشد

    پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ منشیات کا تحریر یاسمین ارشد


    ہمارے پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ منشیات کا ہے جس طرح ہماری نوجوان نسل منشیات کے عادی ہو رہی ہے یہ بہت ہی خطرناک ہے حکومت اور اداروں کو منشیات فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہوگا ہماری یونیورسٹیز کالجز میں تقریبا 90% سٹوڈنٹس منشیات کے عادی ہوچکے ہیں ہمارے پاکستان میں نوجوانوں کی کل آبادی 64 فیصد ہیں کسی ملک کا مستقبل اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے میرے نوجوان بھائیوں اور بہنوں ہمارے معاشرے میں جس طرح برائی کو لعنت قرار دیا جاتا ہے منشیات کی پیداوار اور غلیظ نشے میں استعمال کی جانے والی مختلف صورتیں اور ان کے نتیجے میں اثر انداز عوامل ہماری زندگی کو بہت نقصانات پہنچاتے ہیں منشیات جیسی لعنت کس دور میں شروع ہوئی یہ تو نہیں معلوم لیکن اس نشے کو استعمال کرنے والوں کے غم اور پریشانیاں تھوڑی دیر کے لئے تو دور ہو جاتی ہیں لیکن کچھ لوگ اپنی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے اس غلیظ نشے کا بہت استعمال کرتے ہیں پھر بعد میں اس غلیظ نشے کو چھوڑنے کا دل میں ارادہ ہو بھی جائے تو بہت ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے منشیات انسان کے ذہن دل جسم کے علاوہ اجتماعی اور معاشرتی زندگی کو بھی تباہ و برباد کر دیتا ہے منشیات استعمال کرنے والے لوگ حقیقت میں کمزور قوت ارادے کے مالک ہوتے ہیں بعض اوقات انسان کو بے چینی اور اضطرابی کیفیت بھی نشے میں مبتلا کرنے کا سبب بنتی ہے نشہ کرنے کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ اور دیرپا ہیں افیون چرس گانجا یہاں تک سگریٹ اور نشے کے انجیکشن انسان کو بہت ہی تیزی کے ساتھ اس کے منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں منشیات استعمال کرنے والے انسان نفسیاتی اور روحانی طور پر بہت ہی خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں اور انسان کی جسمانی اعضاء بھی اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کرتی منشیات کے عادی انسان دوسرے لوگوں کی نظروں میں گر جاتے ہیں ایسے لوگ اپنے آباء و اجداد کی جائیداد نشے کی لالچ میں اڑا دیتے ہیں نشہ کرنے والے افراد کی فیملیاں ٹوٹ پھوٹ جاتیں ہیں چھوٹے معصوم بچے بچیاں اس معاشرے میں رل جاتے ہیں اس غلیظ نشے سے، منشیات کے عادی لوگوں کی اپنی ذاتی زندگی ہی نہیں معاشرے ملک صوبے اور ہماری آنے والی نسلیں تباہ و برباد ہو جاتی ہے ہمارے پیارے وطن سے منشیات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سب سے زیادہ والدین اساتذہ اور علمائے کرام اور اہل قلم میڈیا کو چاہیے اپنی نوجوان نسل میں منشیات کے خلاف شعور پیدا کریں اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہماری نوجوان نسل تباہ و برباد ہو جائے گی اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس غلیظ ترین نشے کی عادی ہو جائیں گی اللہ پاک منشیات فروخت کرنے والوں کو تباہ و برباد کرے جو ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہے ہیں اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو دشمنوں کی نظر سے محفوظ رکھے آمین

    ‎@IamYasminArshad
    https://t.co/fHEB4fnA8M‎

  • ‏قدرتی آفات خدا اور انسان   تحریر: نعمان خان

    ‏قدرتی آفات خدا اور انسان تحریر: نعمان خان

    حالیہ چند برسوں میں انسانی آبادی کو بہت سی مہلک وباؤں نے اپنی لپیٹ میں لیا جس میں سب سے اہم تو کرونا وائرس تھی جس کی وجہ سے انسانی زندگی اور سماج بہت حد تک مفلوج ہو چکا ہے اور حالیہ اعداد شمار کے مطابق اس سے مرنے والے لوگوں کی تعداد چھ میلین تک جا پہنچی ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کئے جانے والی تدابیر نے رنگ لانا شروع ہی کیا ہے کہ ترکی میں لگنے والی آگ نے انسانوں کو ایک نئی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور ترکی کے ایک بڑے علاقے کو اس آگ نے راکھ کا ڈھیر بنا دیا اور لوگوں کی بہت سی قیمتی املاک جل کر کوئلہ ہو گئیں اور بہت سی انسانی جانوں کا ضیائع بھی ہوا ہے۔
    بلکل ایسے ہیں پچھلے ماہ مغربی یورپ ، جرمنی اور دیگر ممالک میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہر روز ایک نئی آفت سے انسانیت دوچار ہونے کی خبریں زیر گردش ہیں۔

    اور ایسی کئئ آفات ہیں جن کے بارے ابھی ہم غیر سنجیدہ ہیں لیکن آنے والے وقتوں میں وہ انسانوں کے لیے زہر قاتل ثابت ہوں گی مثلا میٹھے پانی کی بڑھتی ہوئی قلت ایک ایسا امر ہے جو آنے والے وقت میں بڑی عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے عالمی درجہِ حرارت بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جس کی بنا پر پہاڑوں موجود برفانی تودے بڑے پیمانے پر پگھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ برفانی تودے گلیشئر دنیا کے میٹھے پانی کا تقریبا ستر فیصد ہیں اور انکے پگھلنے کے یقینی اثرات پہلے پہل سیلاب اور بعد میں ایک بڑے عالمی بحران کے طور پر ظاہر ہوں گے۔

    سوال تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں کا شدید مذہبی طبقہ اسے خدائی عذاب قرار دے کر کندھے جھاڑ دیتا ہے اور غیر مذہبی افراد بھی اسے قدرت کا کھیل کہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں مگر ان سب میں سب سے اہم بات یہ ہے ان قدرتی آفات میں قدرت سے زیادہ انسانی افعال کا ہاتھ ہے جو اس سب کا سبب ہیں۔

    جدید سرمایہ داری نظام نے سرمایہ بنانے کے لیے گاہک (کنزیومر) کو چیز بیچنے کی غرض سے فطرت کو بری طرح مسخ کرنا شروع کر دیا ہے انسانی آبادی کو سہولت کے نام پر جنگلات کے کٹاؤ سے لے کر جدید آلات سے خارج ہونی والی تابکاری لہروں تک ہر شہ فطرت سے ٹکراؤ لے رہی ہے اور جس کا خمیازہ پوری انسانیت بھگت رہی ہے ۔

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر آی الیون میں آنے والا سیلابی ریلا بھی ایک ناکام ٹاؤن پلانگ کی مثال ہے جس میں ایک غیر موزوں رہائشی علاقے میں لوگوں کو بے ہنگم طریقے سے بسا دیا گیا اور جس کا نتیجہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیائع کے طور پر سامنے آیا۔

    ہم وہی کاٹ رہے جو ہم بو رہے ہیں اگر ہم نے فطرت جو مسخ کرنے اور اس سرمایہ داریت کے منہ زور گھوڑے کو لگام نہ دی تو فطرت اور اسکے عناصر ہمیں مسخ کر دیں گے سو ہوش کے ناخن لیں اور اس بڑھتے ہوۓ کمرشلزم اور سرمایہ داریت کو جان کر اس کے خلاف موثر اقدامات کے لیے آواز اٹھائیں۔
    Twitter Link: ‎@inoumanspeaks

  • خونی لبرلز۔کو لگام دیں گےتحریر فرزانہ شریف

    ‏پہلے صدیق جان پھر مبشر لقمان اب عمران ریاض نے لبرل مافیا کی دم پر پاوں کیا رکھا کونے کھدروں سے لبرلز کے چمچے کڑچھے باہر نکل آئے فحاشی کو سپورٹ کرنے اور ان حق سچ کی آواز بلند کرنے والوں کی جان کے دشمن ہوگے لیکن پوری قوم اپنے نڈر بے باک صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ان شاءاللہ ۔۔
    عمران ریاض نے کیا کہا ۔۔!! بس یہ کہا کہ "والدین اپنے بچوں پر توجہ دیں کہ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کو تشکیل دیتا ہے تو خونی لبرلز کو جیسے کسی نے انگاروں پر بٹھا دیا ہو۔
    ہماری سپورٹ حق سچ بولنے والے قوم کے ان بیٹوں کے ساتھ ہے جب تک جان میں جان ہے اور ان کی طاقتور آواز کے ساتھ ہر پاکستانی کھڑا ہے ۔۔۔
    نور مقدم کو انصاف فراہم کرنے کے لیے جو سٹینڈ ‎@ImranRiazKhan نے لیا ہے یہ بات تو طے ہے اس سے نہ صرف خونی لبرل بے نقاب ہوجائیں گے بلکہ ان کے آلہ کاروں کے لیے بھی ایک سبق ہوگا کہ بے حیائی فحاشی پھلانے والوں کو صرف ذلت کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے پہلے کسی نے لبرل طبقے کے چودہ طبق روشن کیے بھی نہیں تھے اس لیے ان کی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں لیکن ہر پاکستانی ہر اس صحافی کے ساتھ کھڑا ہے چاہے وہ مبشر لقمان ہو عمران ریاض ہو یا صدیق جان ہو ۔یا
    پھرعمران ریاض خان ہو ۔حق سچ کی آواز بلند کرنے والے صحافی پاکستان کا سرمایہ ہیں ہم اپنے سرمائے کی حفاظت کرنا جانتے ہیں الحمداللہ ۔۔
    میں اپنا بتاتی ہوں جب جب پاکستان میں ہونے والےناخوشگوار واقعات پر یا سیاسی مکاروں کے ٹولے نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور میں رنجیدہ یا پریشان ہوئی عمران ریاض کا وی لاگ تبصرہ اندھیرے میں جگنو کی طرح چمکتا ہوا محسوس ہوا ایک جرآت مند صحافی اینکر ہر دل عزیز ۔ہر دل عزیز اس لیے کہ عمران ریاض پاکستان کی آواز ہے ہر سچا پاکستانی اس کو سننا چاہتا ہے اور سچے انسان خونی لبرلز کے لیے موت ہیں ان سے جان جاتی ہے ان نام نہاد لبرلزکی” میرا جسم میری مرضی” کے مائنڈ سیٹ کے پیچھے بھی اس خونی لبرلزطبقے کا ہی ہاتھ ہے اور اس لبرل طبقے کی ڈوریں بیرونی ایجنڈوں پر چلنے والوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں جب جب پاکستان میں انتشار پھیلانا ہوتا ہےیہ لبرل طبقہ میدان میں آجاتا ہے اور ہمارے کچھ معصوم پاکستانیوں کو ورغلا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں لیکن اب وقت بدل چکا ہے اب قوم جاگ چکی ہے اب فحاشی پھلانے والوں کے دن گنے جاچکے ہیں اب ان کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہوگا بلکہ یہ جب جب فحاشی کو پرموٹ کرنے لگیں گے پاکستانی عوام ان کو منہ توڑ جواب دے گی ہم پاکستانی جیسے سر پر بٹھاتے ہیں اتارنا بھی جانتے ہیں
    عمران ریاض خان ۔مبشر لقمان صدیق جان صحافت کے چمکتے ستارے ہیں ان پر تھوکنے والوں کا تھوک واپس ان کے منہ پر گرے گا۔۔۔
    بھائی اب کہیں اور جاکر اپنا چورن بیچو پاکستان کی جان چھوڑو۔۔۔!!!

  • کامیابی کے اصول تحریر: نوید خان

    کامیابی کے اصول تحریر: نوید خان

    کامیابی دراصل بہت خوش رہنا خوب مُسکرانہ
    ذہین لوگوں میں اپنی جگہ بنانا بچوں میں اپنی محبت جگانا
    لوگوں میں موجود بہترین صلاحیتوں کو ڈھونڈنا
    خوبصورتی کو سراہنا
    آسانیاں پیدا کرنا
    دنیا کو پہلے سے بہتر حالت میں چھوڑنا
    معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کا نام ہے۔

    ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار قسمت کو ٹہراتے ہیں
    حالاکہ قسمت کا ہماری ناکامی میں قصور
    اور ہماری کامیابی میں کردار بہت کم حد تک ہوتا ہے
    جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ہماری کامیابی یا پھر ناکامی میں قسمت کا نمبر 23واں ہے

    میری نظر میں کامیابی کا صرف ایک ہی فارمولہ ہے
    بار بار کوشش کرنا۔۔۔۔۔۔
    جی ہاں کامیاب ہونے کے لئے بار بار کوشش کیجئے ایک نہ ایک دن آپ ضرور کامیاب ہو جاؤ گے
    اور کبھی ہمت مت ہاریں

    چٹانوں کا کٹ جانا دریا کی طاقت نہیں بلکہ اس کی روانی و استقامت کی وجہ سے ہوتا ہے
    یہ2چیزوں کو ظاہر کرتی ہیں
    نمبر 1 بار بار کوشش
    نمبر 2 مستقل مزاجی

    مستقل مزاجی دراصل کسی ایک سمت کسی ایک فیصلے یا پھر کسی ایک idea پر ڈٹ جانے کو کہتے ہیں
    مستقل مزاج لوگ زندگی کا مقصد بھی جلد حاصل کرلیتے ہیں کہ اصل میں انہیں کرنا کیا ھے اور انہیں زندگی میں کیا بننا ہے

    مجھے اپنے استاد معروف کالم نگار اور صحافی محترم جاوید چوہدری صاحب کا انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے بہت خوبصورت باتیں کہیں

    انہوں نے کہا اگر آپ محنتی ہے تو آپ ٪30 کامیاب ہے
    اور اگر آپ ایماندار ہے تو آپ ٪ 50 مزید کامیاب ہے
    ایماندار ہونے سے مراد سچا، اپنے قول کا پکا اور وعدہ وفا کرنے والا شخص!
    اور آپکو Skills، ہنر یا پھر پروفیشن ٪20 کامیاب کرتی ہے
    ہر کامیاب انسان نے اُس کامیابی کی قیمت چکا کر ہی وہ کامیابی حاصل کی ہوتی ہے
    اور پھر ایسے ملک میں جہاں بہت محدود وسائل اور مواقع ملتے ہیں کامیاب ہونے کے لئے تو
    اگر کوئی کامیاب ہے یا پھر ہو رہا ہے ہمیں اُسکی کامیابی کو کھلے دل سے سراہنا چاہیے۔۔

    کیونکہ ہر کامیاب انسان اپنے ساتھ بہت سارے لوگوں کو کامیاب کرتا ہے یا پھر بہت سارے لوگوں کو کامیابی کا راستہ دے جاتا ہے۔

    یہ دنیا ایسے لوگوں کو بھلا دیتی ہے جو اس دنیا کے لئے اہم نہیں ہوتے
    اور اس دنیا کے لئے اہم صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی جان مال اور وقت لگاتے ہیں کیونکہ اصل جینا دراصل دوسروں کے لئے جینا ہے۔
    بہت سارے کامیاب لوگ اتنی مصروف زندگی گزار رہے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کسی کی رہنمائی کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ان میں کچھ لوگ یہ راز ہی نہیں بتاتے شاہد اس ڈر سے کہ دوسرے اُن کی جگہ نہ لے لیں حالاکہ حقیقت اس سے مختلف ہے کسی کو راستہ دینے سے آپکا بھی راستہ صاف ہوتا ہے۔
    کامیاب لوگوں کو کچھ وقت دوسروں کی صلاحیتوں کو ڈھونڈنے اور پھر اُن صلاحیتوں کو کامیابی کی راہ پر ڈالنے کے لئے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
    ایک ستائیس سالہ نو عمر انسان نے صرف اپنی ہائی سکول کی تعلیم کے ساتھ، ایک مختصر سی مدت میں بہت کچھ حاصل کر لیا۔یہی انسان صرف تین سال پہلے اپنی ذاتی بائیک تک نہیں رکھتا تھا اور اب ایک صحت مند، سماجی عزت و احترام اور لامحدود کامیابی کا حامل ایک امیر کاروباری ہے۔
    یہ سب نا قابلِ یقین لگ رہا ہے اور سب سے حیرت انگیز احساس یہ ہے کہ وہ انسان کوئ اور نہیں بلکہ میں خود ہوں اور یہ میری کہانی ہے۔
    میرا ہرگز یہ مطلب نہیں میری زندگی کامیابیوں کی انتہا ہے۔ظاہر ہے ہم سب کے اپنے کچھ خواب ہوتے ہیں اور کچھ نظریات ہوتے ہیں، جنہیں ہم اپنی زندگی میں پورا کرنا چاہتے ہیں۔
    اس لئے ہمیں اپنے خواب پورے کرنے کے لئے آج سے شُروات کرنی چاہیے۔
    تاکہ ہمارے خواب جلد از جلد پورے ہو۔۔

    Handle ‎@Naveedmarwat55

  • اسلام کے دشمن ___تاریخ کے جھروکوں سےتحریر: حادیہ سرور


    ظلم کر رہے ہیں وہ اور مجرم ہیں وہ جو پاکستان کی نٸی نسل کو شیواجی کے بارے میں نہیں بتاتے ۔۔۔۔
    ماضی میں ممبٸ میں جو کچھ ہوا, اسکی ذمہ داری بغیر کسی ثبوت کے بلکہ بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر ڈالنا کوٸی نٸ بات نہیں لیکن افسوس! اگر نوے فیصد طالبعلم ان سکولوں میں ہونگے جن میں چھتیں ہیں نہ استاد اور دس فیصد طالبعلم ان سکولوں میں پڑھیں گے جنکے نصاب کیمرج اور آکسفورڈ میں تیار کیے جاتے ہیں تو ہندو کی نفسیات سے کون آگاہ ہو گا!!!
    ممبٸی سے ایک سو کلو میٹر مشرق کی طرف شیوناری کے مقام پر شیواجی1627 میں پیداہوا۔ اسکے باپ شاہ جی نے ایک نوجوان لڑکی توکاباٸی سے شادی کرکے پہلی بیوی جیحاباٸی سے علیحدگی اختیارکر لی۔ شیواجی, جیحاباٸی کے پاس ہی رہا۔ اسکی پرورش کی ذمہ داری اسکے باپ نے ایک کٹڑ ہندو سردار داداجی پر ڈالی جس نے شیوا جی کو بھیس بدلنے سے لیکر شب خون مارنے تک ہر فریب دہی سکھاٸی اور مسلم دشمنی اسکی رگ رگ میں بیٹھا دی۔ سولہ سال کی عمر میں شیواجی نے ڈاکوں کے جتھوں میں شرکت کی اور مار دھاڑ سے ہوتا ہوا قلعوں کو فتح کرنے لگا۔ بیجاپور کے سلطان عادل شاہ کو اس نے لکھا کہ جہاں پناہ! یہ سب کچھ میں آپ کے غلام کی حثیت سے کررہا ہوں اور باج گزار ہوں لیکن ساتھ ہی شیواجی نے اپنی مہر بطور حاکم استعمال کرنا شروع کی۔پھر ایک وقت آیا شیواجی نے مغل علاقوں پر حملے شروع کر دیے۔ شہزادہ اورنگزیب دکن کا گورنر تھا مغل فوجیں اسکو ختم کرنے کے قریب تھیں کہ اس نے پینترا بدلا اور شہزادے کی خدمت میں ایلچی بھیج کر اپنی غلامی کا یقین دلایا۔ اورنگزیب تخت نشینی کی جنگ میں پھنسا ہوا تھا اس نے اسے معاف کیا لیکن جانتا تھا کہ یہ بد خصلت قابل اعتبار نہیں ہے۔ ایک موقع پر اورنگزیب نے اسکے بارے میں کہا
    ”یہ پہاڑی چوہا مغل سلطنت کے کناروں پر منہ مارتا رہے گا یہ سگ زادہ انتظار کرہا ہے“ سگ زادہ انتظار کرتا رہا پھر ایک ریاست قاٸم کر لی۔ اب بیجاپور کے سلطان عادل شاہ کو احساس ہوا کہ پانی سر سے گزر چکا ہےتو اس نے اپنے نامور جرنیل افضل خان کو اسکی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ افضل خان نے اسکی فوج اور نومولود ریاست کے پرخچے اڑا دیےاورشیوا جی پر تاب گڑھ کے قلعے کی طرف پسپا ہو گیا۔ یہاں سے اس نے افضل خان کو پیغام بھیجا کہ افضل خان جیسے جرنیل کے سامنے آخر اسکی حیثیت کیا ہے وہ ہتھیار ڈالنا چاہتا ہے لیکن اسے یقین دلایا جاٸے کہ اسے معاف کردیا جاٸے گا۔افضل خان اسکی عاجزی کے جال میں آگیا۔

    یہ وہ نکتہ ہے جو پاکستان کی نٸی نسل کے لیے سمجھنا لازم ہے اگر وہ یہ نہ سمجھ پاٸے ہندو مکار ہے اگر انہیں یہ نہیں معلوم کہ بغل میں چھری منہ میں رام رام کا محاورہ بنانے والے الو نہیں تھے تو یہ ہمیشہ ہندوٶں کے فریب میں آتے رہیں گے۔ مسلمان دھوکہ نہیں دیتا لیکن دھوکہ کھانا بھی تو نہیں چاہٸے
    افضل خان کی خوش نیتی دیکھیے کہ شیوا جی کو معاف کیا اور اپنا ایلچی گوپی ناتھ نامی برہمن کو بھیجا جسے شیوا جی نے یقین دلایا کہ وہ یہ سب کچھ ھندودھرم کے لیے کر رہا ہے اور اسے تحاٸف سے نوازا۔ دونوں نے دیوی کی قسم کھاٸی ۔ واپس جاکر گوپی ناتھ نے بتایا شیواجی تو خوف کے مارے کانپ رہا ہے اسے ملاقات کا شرف بخشا جاٸے ۔ ملاقات میں شیواجی نے زہرآلود خنجر سے وار کرکے جان لے لی۔
    پاکستان افضل خان ہے شیوا جی بھارت ہے آپ ایٹمی ہتھیاروں سے ہلاک کریں گے لیکن ہندو تو خوف کے مارے تھر تھر کانپتا ہے,آپ کے گھٹنوں کو چھوتا ہے, پاٶں کے تلوے چاٹتا ہے, پھر جب آپ کو اونگھ آجاتی ہے تو آستین سے خنجر نکالتا ہے پھر وہ سفارتکاری کے میدان میں اتنی چابک دستی دکھاتا ہے یوں سسکارے بھرتا ہے کہ دنیا اسے مظلوم اور آپ کو ظالم سمجھتی ہے لیکن تب تک چڑیاں کھیت چگ چکی ہوتی ہیں اور کشمیر میں ظلم و ستم شروع ہو چکا ہوتا ہے ۔ ضمیر جعفری نے اسے یوں بیان کیا!
    سچ کہتا تھا افضل خان
    تری پورہ تا راجستان
    مر گیا ہندو میں انسان

    ‎@iitx_Hadii

  • تبدیلی ممکن نہیں تحریر: نعیم عباس

    تبدیلی ممکن نہیں تحریر: نعیم عباس

    پاکستان میں بس ووٹ ڈالنے پر زور ہے۔ چاہے الیکشن وکلاء بار کے ہو۔ انجنئیرنگ کونسل کے ہو۔
    پریس کلب کے ہو۔ اساتذہ اور پرفیسر تنظیموں کے ہو۔ مزدورو کے ہو۔ پیرا میڈیکل کے ہو۔ پی ایم ایس کے ہو۔ تاجروں کے ہو۔ یا چاہے ملک کے جنرل الیکشن ہو۔ کوئی بھی الیکشن کبھی فیئر نہیں ہوئے ہیں۔ کوئی بھی الیکشن کبھی میرٹ۔ اہلیت۔ پر نہیں لڑے گئے ہیں ۔ ووٹ کبھی منشور یا پروگرام کو نہیں دیئے گئے ہیں ۔ ان سب مذکورہ بالا الیکشن میں سارہ زور ووٹ چھینے پر ہوتا ہے۔ چاہے خرید کر یا ورغلا پھسلا کر حاصل کیا جا سکے۔اور جیتا جا سکے۔ ووٹ ھمیشہ پروپیگنڈے کو ڈالے گئے ہیں۔ پروپیگنڈے کو ھمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل رہی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے کندھے کے بغیر تو مذکورہ بالا الیکشن لڑنے والے اپنے امیدوار تک فائنل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ پاکستان جیسے ممالک میں ووٹ اور جمہوریت کے نام پر بندر نچانے والے ڈرامے ہجوم اکٹھا کرنے کے لئے اور اپنا چو کر بھیجنے کا ڈرامے گذشتہ کئی دہائیو ں سے بڑے کامیابی کے ساتھ کھیلتے آ رہے ہیں۔ ظلم ۔ غربت۔ بنیادی حقوق سے دوری اور محرومی۔ ایسے الیکشن لڑنے کی وجہ سے ہی ہے۔ کیا وکلاء الیکشن سے نظام انصاف کی سرجری ممکن ہوئی ہے یا اس سے زہم ناسور کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ کیا انجینئرنگ کونسل کی الیکشن سے پراجیکٹس معیار اور مقدار کے مطابق بہتر ہوئے ہیں۔ کمشن کا خاتمہ ہوآ ہے۔ روزگار کا انقلاب آیا ہے۔ انجینئرز۔ ٹھکیدار اور دلالوں کے مابین گھٹ جوڑ میں فرق آیا ہے اور ان سب کے ضمیر جاگ گئے ہیں۔ کیا کبھی پریس کلب اور دیگر صحافتی تنظیموں کے الیکشن سے نوٹ کے بجائے عوام کے درد کو فوقیت ملی ہے۔ کیا اخباروں کے پیٹ غیر جانبداری اور حقائق کی خبروں سے بھرے ہوئے ہے۔ کیا اس سے مظلوم کی داد رسی ممکن ہوئی ہے۔ کیا اساتذہ اور پروفیسرز کے الیکشن سے تعلیمی اداروں میں تعلیم کی بہار آئی ہے۔ طلباء کی تربیت میں انقلاب آہے۔ تعلیمی نظام پر والدین کی نظام تعلیم پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ کوچنگ سنٹر۔ اکیڈمیوں ۔ ٹیوشن سنٹروں کا خاتمہ ہوا ہے کیونکہ اب الیکشن سے اساتذہ اور پروفیسر ایماندری کے ساتھ پڑھانا شروع کیا ہے۔ کیا پیرا میڈیکل اور مزدوروں کے الیکشن سے مریضوں اور مزدوروں کو درپیش مسائل یک دم غائب ہوگئے ہے۔ تاجروں کے الیکشن سے مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ ہوا ہے۔ ملاوٹ اور جھوٹ. کو شکست ہوئی ہے۔ ذخیرہ اندازی سے توبہ کیا ہے۔ جنرل الیکشن میں سینٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اندر عوام کے حقیقی نمائندے پہچ گئے ہیں جمہوری نظام اور جمہوریت سے ہر طرف خوشحالی۔ ہریالی۔ ہے۔ عوام پر کرامات برس رہی ہیں دیگر تمام ادارے جمہوریت کے سائے میں مضبوط ہو رہے ہیں۔ عوام چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ ان تمام الیکشن کے نتیجے میں ایسا کچھ بھی اس وقت تک ہونے والا نہیں جب تک الیکشن اور ووٹ کا استعمال میرٹ پر نہیں بنایا جاتا۔ جب تک ووٹ اور الیکشن پراسس پروگرام اور اس پروگرام کی سخت اختساب کے روشنی میں نہیں ڈالے جاتے ۔ مسائل کم ہونے ۔حل ہونے کی بجائے سنگین ہوتے جائینگے۔ موجودہ نظام کے تمام بیماریوں ۔ خرابیوں ۔ آفتوں ۔ محرومیوں اسباب ان نام نہاد الیکشن کی وجہ سے ہی ہے ۔ الیکشن کے ٹوپی ڈرامہ سے اور اسکے نتیجے میں کسی بھی قسم کے نظام حکومت سے تبدیلی ممکن نہیں۔
    ‎@ZaiNi_Khan_NAK

  • انسانیت تحریر: سیدہ بنت زینب

    انسانیت تحریر: سیدہ بنت زینب

    انسانیت کی تعریف انسان ہونے کے معیار سے کی جا سکتی ہے. انسان کی عجیب و غریب اور منفرد فطرت، جس سے وہ دوسری مخلوقات سے ممتاز اور افضل ٹھہرایا گیا ہے. انسان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک فرد انسانیت رکھتا ہے.
    اگر آپ کسی فرد میں انسانیت کے معیار کو سمجھنا چاہتے ہیں تو نوٹ کریں کہ وہ ان لوگوں کے لیے کیا کرتا ہے جو ان کے پیش کردہ احسان کے بدلے اچھائی واپس دیتے ہیں.
    ایک انسان میں غیر معمولی انسانیت کی سب سے نمایاں مثال عبدالستار ایدھی نے خوبصورتی سے پیش کی ہے. انسانیت سے مراد جب بھی اور جہاں بھی ممکن ہو دوسروں کی دیکھ بھال اور مدد کی جائے. اس کا مطلب ہے دوسروں کی اس وقت مدد کرنا جب انہیں سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہو. یہ اہم ہے کیونکہ اس سے ہمیں اپنے مفادات کو بھولنے میں مدد ملتی ہے جب دوسروں کو ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے اللّٰہ نے ہمیں ان کی مدد کے لیے خاص طور پر چنا ہوتا ہے.
    ہم سب انسانیت دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں. یہ صرف تسلیم کرنے سے ہو سکتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں، چاہے وہ کسی بھی جنس، ذات پات، جلد کا رنگ یا نسل اس سب سے بالاتر ہو کر سب انسانوں کو ایک جیسا سمجھا اور مانا جائے. ہم سب کو حقیقی ہمدردی کا نمونہ بنانا چاہیے اور ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور احترام اور عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے.
    انسانیت کا مطلب زمین پر موجود ہر جاندار کے لیے غیر مشروط محبت کو بڑھانا ہے. غریبوں اور معذوروں کی خدمت انسانیت کی سب سے بڑی مدد ہے جو ایک فرد اپنی زندگی میں مہیا کر سکتا ہے. اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ ہم انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ہر وہ چیز جو ہم چاہتے ہیں وہ کسی بھی وقت ہمیں ملتی ہے.
    اگر کھانا اور تفریح ​​کرنا صرف یہی وہ کام ہے جو ہم کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں تو ہمیں ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جانور بھی ذندہ رہنے کے لیے ایسی سرگرمی کر سکتے ہیں. اگر خدا نے ہمیں انسان بنایا ہے تو اس کے پیچھے کوئی وجہ ہونی چاہیے.
    صرف انسان ہی انسانیت کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے اور یہ ذہانت کے نتیجے میں انسانیت ہے جو دراصل انسانی وجود کو بنیادی جوہر دیتی ہے. انسانی سرگرمیوں میں حصہ ڈالنے کے لیے آپ کو بھاری بینک اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں ہوگی. اپنی گھریلو مدد کو مناسب طریقے سے ادا کرنا بھی انسانیت ہے. آپ اپنے میڈیکل چیک اپ کے لیے ہزاروں روپے ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن جب اپنے ملازم کو ادائیگی کی بات آتی ہے آپ ہر پیسہ بچانا چاہتے ہیں. ایسا کرنا اپنے ملازمین پر ظلم کرنے جیسا ہے.
    انسانیت کے لیے آپ سب کو کوئی بھاری عطیات کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر کے انسانیت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں. ایک بوڑھی عورت کا بھاری بیگ اٹھانا انسانیت ہے، معذور کو سڑک پار کروانے میں مدد کرنا بھی انسانیت ہے، اپنی ماں کو کام کرنے میں مدد دینا انسانیت ہے. درحقیقت ضرورت مندوں کی مدد کرنا انسانیت ہے.
    آج کے کرونا جیسے مشکل حالات میں سید اقرار الحسن اور ٹیم سرعام کے جانباز انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے جو تاریخ رقم کر رہے ہیں وہ قابلِ ذکر ہے. کسی ضرورت مند تک راشن پہچانا ہو یاں اپنا خون عطیہ کر کے کسی کی جان بچانا ہو، ٹیم سرعام کے جانباز پورے ملک میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں. اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو بھی انسانیت کی خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائیں آمین.
    پاکستان ذندہ باد

    ‎@BinteZainab33

  • سیاست میں نوجوان نسل اور ان کو درپیش مسائل  تحریر : اسامہ خان

    سیاست میں نوجوان نسل اور ان کو درپیش مسائل تحریر : اسامہ خان

    جب سے پاکستان بنا ہے اور پاکستان میں سیاست شروع ہوئی ہے تو اس میں نوجوان نسل کا بہت بڑا کردار ہے لیکن ہمیشہ نوجوان نسل کو سیاستدان اپنے الیکشن کے لیے استعمال کر کے ایسے پھینکتے تھے جیسے کوئی ٹشو پیپر کو پھینکتے ہیں۔ بعد میں ان کے مسائل کا حل نہیں کیا جاتا تھا اور نوجوان طبقہ ایسے ہی برباد ہو رہا تھا لیکن جب پاکستان تحریک انصاف بنی انہوں نے سب سے پہلے نوجوانوں کے لئے اقدامات کیے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور ہمیشہ ان کے ساتھ چلے صرف اپنے مفاد کے لئے ان کو استعمال نہیں کیا جب خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی نوجوان طبقے کو ہمیشہ اپنی نظر میں رکھا گیا۔ اور جب سن دو ہزار اٹھارہ میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان صاحب وزیراعظم ملک پاکستان کے بنے تو انہوں نے نوجوان نسل کے لئے سوچنا نہیں چھوڑا اور نہ ہی انہیں پچھلی حکومتوں کی طرح اکیلا چھوڑا نوجوان نسل کے لئے کامیاب جوان پروگرام شروع کیا گیا جس سے نوجوان طبقہ حکومت سے قرضہ لے کر اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے آج تک حکومت پاکستان بیس ہزار نوجوانوں کو قرضہ دے چکی ہے جس میں سے 12 ہزار ایسے نوجوان تھے جنہوں نے نیا کاروبار شروع کیا ۔ جب ایک طالب علم ایک یونیورسٹی میں ہوتا ہے تو وہاں اپنی زندگی کے چار سال اس یونیورسٹی میں گزارتا ہے لیکن جب وہ اس یونیورسٹی سے پاس ہوکر مارکیٹ میں جاتا ہے تو اس کو اس طرح کی جوب نہیں ملتی جس طرح کی وہ امید رکھتا ہے اس طرح کی جوب حاصل کرنے کے لیے اس کو اور تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے لیکن اگر وہ کامیاب جوان پروگرام سے قرضہ لے کر اپنا کاروبار شروع کرتا ہے تو اس سے ملک پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا اور اس کو خود بھی۔ اگر دیکھا جائے تو پورے ملک میں سب پولنگ سٹیشن پر نوجوان طبقہ ہی ہوتا ہے ہر پارٹی کی طرف سے لیکن پھر بھی ان کے آج تک مسائل حل نہیں کئے گئے آج جب حکومت پاکستان اور وزیراعظم عمران خان صاحب نوجوان نسل کے مسائل حل کر رہے ہیں اور نوجوان نسل کو اپنا اثاثہ کہہ رہے ہیں تو دوسری پارٹیوں کے بھی آنکھ کھل گئی اور خود کو نوجوان نسل کے لیڈر سمجھتے ہیں جو آج تک نوجوان نسل کے مسائل حل نہیں کر سکے وہ آگے جا کر کیا کریں گے۔ ابھی حالیہ کشمیر کے الیکشن میں نوجوان نسل کی بہت بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر نظر آئی اور بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف کے کچھ نوجوان شہید بھی ہوئے لیکن پاکستان تحریک انصاف نے اپنی نوجوان نسل کو اکیلا نہیں چھوڑا اور قاتلوں کو پکڑ کر ان کو جیلوں کے اندر بند کیا اس بات کی یقین دہانی کی کہ یہ اپنی سزا مکمل کریں۔ نوجوان اپنے ملک کے پاکستان سے بے لوث محبت کرتا ہے لیکن یہ کچھ سیاستدان اس کا فائدہ اٹھا کر نوجوان نسل کو کمزور سمجھتے ہیں اور ان کو ان کا حق نہیں دیتے میں آج بھی نوجوان نسل سے کہوں گا کہ وہ اپنے سچے لیڈر کو پہچانے اور اس بات کو ضرور دیکھیں کہ ان کے مسائل کون حل کروا رہا ہے اور ان کے ساتھ کون چل رہا ہے اور اپنے جیسے سچے اور صادق امین لیڈر کو ملک پاکستان کا وزیراعظم بنوائے کیونکہ جب نوجوان نسل کے مسائل حل ہونا شروع ہونگے تو تب کرے گا پاکستان ترقی۔ پاکستان وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ایک اور بہت بڑا اقدام احساس پروگرام جس میں طالب علم کو اسکالرشپ دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے اور جب ان کی تعلیم ختم ہو تو کامیاب جوان سے قرضہ لے کر اپنا کاروبار شروع کر سکیں یہ دو ایسے بڑے پروگرام ہے جو ملک کے پاکستان کو بہت آگے لے کر جائیں گے کیونکہ پاکستان میں بہت سے ایسے نوجوان ہے جو کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو اب وہ کامیاب جوان سے مفید ہو سکتے ہیں
    Twitter : ‎@usamajahnzaib

  • پاکستان، لازوال قربانیوں کا ثمر  تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان، لازوال قربانیوں کا ثمر تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    14 اگست 1947 وہ دن ہے جب پاکستان دنیا کے نقشہ میں ابھرا ،دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نمودار ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ رب العزت کا معجزہ تھا اور ملک پاکستان کی بنیاد ہمارے اجداد کی لازوال قربانیوں اور انتھک محنت و کاوش پررکھی گئی ،قیام پاکستان تک کا سفر آسان نہیں تھا، اس منزل تک پہنچنے کیلٸے برصغیر کے مسلمانوں کو جن جاں گداز مراحل سے گزرنا پڑا، اسے لفظوں میں تحریر نہیں کیا جا سکتاہے

    آئیے! قارٸین اکرام ، صرف ایک لمحے کو تصور کریں ان حالات اور لمحات کا، جب آناً فاناً مسلم قوم کی بستیوں کو اجاڑ دیا گیا، مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگا دی گئی، انہیں بےدردی سے شہید کیا ، مسلمانوں کو مولی ، گاجر کی طرح کاٹا گیا، ہماری بہنیں ، بیٹیوں اور ماٶں کی عزتیں لوٹیں گٸیں ۔ بزرگوں و بچوں کے ساتھ بدسلوگی کی گٸیں، انکے گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے

    ان قافلوں کو بے دردی سے لوٹا اور شہید کیا گیا، جو ملک پاکستان کی جانب رواں دواں تھے۔ مسلمان کے بچوں اور بڑوں کو بے دریغ شہید کیا گیا، وہ خون کی ہولی کون بھول سکتا ہے ، جو سکھوں اور ہندوؤں دونوں نے مل کر مسلمان کے خون سے کھیلی، ان دردناک لمحات کوکیسے بھلایا جا سکتا ہے ؟؟ جب ہماری ماؤں کے سامنے ان کے بیٹوں و بیٹیوں کو ،بہنوں کے سامنے انکے بھائیوں کو،بیویوں کے سامنے انکے شوہروں کے سینوں کو گولیوں، کلہاڑیوں ، چھڑیوں ، تلواروں اور نیزوں کے وار سے چھلنی کردیا گیا۔

    وہ ہمارے آبا ٕ و اجداد کا لال لال گرم گرم بہتا ہوا لہو کون بھول سکتا ہے؟؟ جس میں نہ جانے کتنی ہماری ماؤں کے اشکوں کی گرمی شامل تھی، جس میں نہ جانے کتنی ہماری بہنوں کے ارمان سلگ رہے تھے، جس میں نہ جانے کتنی بیگمات کے سہاگ کی مہندی رچی تھی، جس میں نہ جانے کتنی بیٹیوں کے خوابوں کا قتل ہوا

    آج بھی ان کرب ناک لمحات کا تصور کرکے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ ہماری مائیں، وہ ہماری بہنیں ، وہ ہمارے بچے، وہ ہمارے ضعیف اور جوان جن کے سامنے یہ سب کچھ ہوا، وہ یہ سب کیسے بھول سکتے ہیں؟؟۔ان سب صدموں و مشکلات کے باوجود جب اہل ایمان کے لُٹے پٹے یہ قافلے پاکستان کی پاک سرزمین پر پہنچتے تھے تو وہ لوگ سجدے میں گر کر اللہ رب العزت کا شکر بجا لاتے تھے

    شہدا ٕ پاکستانی کی قربانیاں اور کاوشیں رنگ لائیں اور پاکستان بن گیا یہ دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم پاکستان کیلئے کچھ کر کے دکھائیں اور اسکے استحکام کےلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کریں یہ ملک ہمارے آبا ٕ و اجداد کی انتھک محنت اور بے مثال قربانیوں کا ثمر ہے جو ہمیں ملک پاکستان کی صورت میں عطا ہوا ہے۔ اور ہمیں اپنے ملک پاکستان کی قدر کرنی چایئے اس لئے کہ لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیکر اس ملک کی آبیاری کی ہے ہم ان تمام شہداء کو سلام پیش کرتےہیں۔

    میرے پاکستانیوں! آئیے مل جل کر پاکستان کو وہ ملک بناٸیں ، جو دین اسلام کا مطلوب ہے ۔جس کا خواب ہمارے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے دیکھا اور قائد اعظم ؒ نے جس کیلئے جدوجہد کی ۔جس ملک کے قیام کی نوید ہمیں تحریک پاکستان میں سنائی گئی تھی۔پاکستان کو حقیقی معنوں میں پاکستان بنانے کے جو تقاضے ہیں ان کو عملی جامہ پہنایا جاٸیں ۔۔

    اٹھیے! پاکستان کو صحیح معنوں میں پاکستان بنانے کے لیے دن رات محنت کریں، تحریک پاکستان کیلٸے جدوجہد کرنے والے رہنمائوں اور کارکنوں کی روحوں کو ابدی راحت و تسکین پہنچانے کیلٸے اپنی آنے والی نوجوان نسلوں کی دنیا اور آخرت سنوارنے کیلٸے ملک پاکستان کو دین اسلام کا گہوارہ بنانے کیلٸے دن رات انتھک محنت کریں ۔

    آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا وہ لٹے پٹے سے قافلے، جو نہ رک سکے، نہ جھک سکے، جو وطن پاکستانی بنا کر چلے گئے، جو چمن سجا کر چلے گئے، ہمیں یاد ہیں، ہمیں یاد ہیں!!

    شہدا ٕ پاکستان کو سلام

    میری دعا ہے کہ اللہ پاکﷻ ہمارا وطن خوشحالی اور امن کا گہوارہ بنے ، اسے دشمنوں کی نظروں سے محفوظ رکھےاور شہدا پاکستان کے درجات کو بلند فرماٸے ۔آمین یارب العالمین !!

    ‎@HamxaSiddiqi