Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • نیا پاکستان تحریر:محمد وقاص شریف

    نیا پاکستان تحریر:محمد وقاص شریف

    عمران خان نئے پاکستان کا تصور لے کر 2018 کے الیکشن میں داخل ہوئے بڑے بڑے دعوے اور وعدے کیے پاکستانی قوم کو الفاظ کے گورکھ دھندے میں پھنسا یا۔ سبز باغ دکھائے۔ فیاضی کا یہ عالم کے تمام پارٹیوں کے بھگوڑوں کے لئے بنی گالہ کے دروازے کھول دیے۔ سابقہ حکومتوں کی خوب درگت بنائی اور یوں کرکٹ کے سحر کو سیاست میں پیوست کر کے وہ ایک لولی لنگڑی۔ ٹیری تھتی اور توتلی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ 1 جی ڈی اے 2 ایم کیو ایم 3 مسلم لیگ ق اور بی این پی مینگل کے تعاون سے وزیر اعظم کا لفظ عمران خان کے ساتھ لگ تو گیا مگر حالت یہ ہے کہ یہ چاروں ستون آ ئےروز آ گے پیچھے ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے نیازی صاحب ڈاواں ڈول ہوتے رہتے ہیں۔ حالت اتنی نازک ہے کہ ایک ستون بھی غائب ہو گیا تو تخت زمین بوس ہو جائے گا۔ عمران خان ماضی کی حکومتوں کو یہ کہتے تھکتے نہیں تھے کہ وہ وہاں فلاں فلاں پارٹی کی بلیک میلنگ کا شکار ہیں۔ مگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو ملکی تاریخ کی بدترین بلیک میلنگ کا آجکل خان صاحب خود شکار ہیں۔ اتحادی جماعتوں میں سے کسی ایک کو چھینک بھی آجائے تو دو تین وفاقی وزرا جوشاندہ لے کر حاضر خدمت ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نئے پاکستان والی حکومت کا پرانے پاکستان کی حکومتوں سے بھی برا حال ہے۔ میں بھی کبھی کبھی خواب دیکھتا ہوں جو حال ہی میں خواب آیا ہے وہ بڑا اندوناک ہے۔ آس خواب کے مطابق واقعی نیا پاکستان بننے جارہا ہے۔ مودی حکومت کے بنائے گئے نئے قانون کے مطابق ہندوستان کے مسلمانوں پر ہندوستان کی زمین تنگ کی جارہی ہے۔ رجسٹریشن اور شناخت نام کا ثبوت مانگنے کی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔ مودی حکومت اندریں خانہ یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا گزارا مشکل ہے۔ زیادہ تر ہندو وہاں کے مسلمانوں کو پاکستان نواز اور دہشتگرد سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کے گھروں۔ سکولوں اور مساجد پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حملے کرائے جا رہے ہیں۔ مجھے 1947 کا منظر یاد آ نے لگ گیا ہے اللہ خیر کرے کہیں انسانی المیہ تو رونما نہیں ہونے جا رہا ہے ؟ کیا تاریخ اپنے آپ کو دوہرانے جارہی ہے ؟ کیا پھر سے ریل گاڑیوں کی چھتوں پر لوگ سفر کریں گے ؟ کیا پھر سے قتل عام ہوگا؟ کیا پھر سے آباد کاری کی مہم چلے گی ؟ کیا دو قومی نظریہ اپنی خالصتاً شکل میں رونما ہونے جارہا ہے؟ کیا اب سارے مسلمان اکٹھے ہو جائیں گے؟ کیا خالص ہندوستان اور خالص پاکستان بننے جارہا ہے۔ کیا نیا پاکستان بننے جا رہا ہے.
    twitter.com/joinwsharif7

  • پاکستان کیسے  بنا تحریر:فریال نیازی

    پاکستان کیسے بنا تحریر:فریال نیازی

    اُس ٹرین کی 9 بوگیاں تھیں
    تقریبا ہزار مسافر سوار تھے
    جب گاڑی لاہور ریلوے اسٹیشن پر آکر رکی توصرف 8 مسافر زندہ تھے
    وہ بھی بری طرح زخمی تھے ، پوری ٹرین جیسے خون میں نہا کر آئی تھی
    لندن ڈیلی میل کے نمائندے کا آنکھوں دیکھا حال
    آگ اور خون کا یہ کھیل سارے ہندوستان میں جاری تھا ، لاکھوں لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی ، صرف دہلی اور لاہور کے راستے ٹرینوں پر 54 سے زائد حملے ہوے سب سے زیادہ مہاجرین مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان داخل ہوے لدھیانہ اور امرتسر کے درمیان سکھوں کے مسلح جتھے ٹرینوں کو روک کر ظلم کی تاریخ رقم کرتے رہے ایک ایسی ہی اسپیشل مہاجر ٹرین محمکہ دفاع کا عملہ اور انکے اہل و عیال کو لے کر پاکستان آرہی تھی کہ اُسے بھی روک لیا گیا
    نہ جانے کتنی عورتوں کو اغوا کیا گیا ، جب خون کا دریا عبور کرکے یہ ٹرین پاکستان پہنچی تو اسمیں 459 لاشیں ملیں
    کبھی پٹیالہ میں ٹرین روک کر جب مسلمان بچے کرپانوں پر اچھالے جا رہے تھے تب حفاظتی عملہ ایک طرف کھڑا ہو کر قتل عام کا تماشا دیکھ رہا تھا ، بے شمار لاشیں قریبی نہر میں پھینکی گئیں تقریبا خالی ٹرین پاکستان پہنچی.
    ہندوؤں کی وحشت و بربریت کا اندازہ لگایے جب مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری تھا اور قیام پاکستان کے بعد پہلی عید آئی تو ایک مال گاڑی لاہور اسٹیشن پر آکر رکی جس کی ایک بوگی میں بچوں کے سر اور عورتوں کی کٹی ہوئی چھاتیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا
    اور بوگی کے باہر لکھا ہوا تھا
    پاکستان کے لیے عید کا تحفہ
    لا الہ الااللہ کی بنیاد پر بننے والے ملک میں ہر گلی نکڑ میں
    زناہ کے اڈے قائم ہیں
    رشوت جھوٹ بددیانتی ظلم و جبر بربریت ناانصافی کرپشن
    ہر بندہ اپنے استطاعت کے مطابق کر رہا ہے
    پھر کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران غلط ہیں
    دین محمدی ص نے واضح کردیا!
    جیسے قوم ہونگے ویسا ہی حکمران ہوگا
    بجائے اوروں کو غلط کہنے کے اپنے آپ کو بدلو پھر دیکھو
    انقلاب کیسے نہیں آتا
    جس عظیم مقصد کیلئے لاکھوں قربانیاں دی گئی جس مقصد کیلئے گردنیں کٹی جس مقصد کیلئے حاملہ عورتوں کے پیٹ کاٹے گئے جس مقصد کیلئے عورتوں کے اعضاء کو تن سے جدا کیا گیا
    جس مقصد کیلئے کے حصول کیلئے گھر بار عزت شان و شوکت چھوڑ کر ہمارے اسلاف یہاں پر آئے تو کوئی تو وجہ تو ہوگی نا
    کہ ایسے ہی لاکھوں افراد نے دریاؤں کو اپنی عظیم لاشوں سے بھردیا . چند سال پہلے ایک مولانا کا بیان سنا کہ
    جس دریا سے مسلمان گزر رہے تھے اسی دریا سے متعلق ایک بوڑھے نے بتایا کہ سکھوں کے فوج میرے پیچھے تھی اور میں خوف مخلوق خدا اور اور آگے دریا دیکھ کر
    جہاں گھبرایا لیکن ایمانی غیرت اور اللہ پر
    توکل کی وجہ سے میں نے دریا کو عبور کرنے کا فیصلہ ہ
    کیا اللہ کا نام لیا اور دریا پر پاؤں رکھ دیا
    کہا کہ شروع سے آخر تک لاشیں ہیں لاشیں تھی واللہ
    میں نے لاشوں پر سر رکھتے ہوئے دریا عبور کیا
    مسلمانوں تمہیں دین محمد ورثے میں ملا ہے قربانیاں تمہارے اسلاف نے دی اور تم اس
    عظیم دن بجائے اللہ کا شکر ادا کئے
    سڑکوں چوراہوں پر بھنگڑے ڈال کر اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہو
    اپنے مشن کو پہچانو
    اپنا مقصد نہ بھولو
    یہاں اسلامی نظام اور خلافتی نظام کیلئے اٹھ کھڑے ہوں
    تاکہ تمہیں بھی تاریخ میں اچھے الفاظوں کے ساتھ اور بروز
    قیامت تمہیں اسکا صلہ ملے
    تمہاری دھڑکن سے بھی زیادہ قریب تمہارا اللہ ہی تمہارا گواہ بنے گا اور بے شک اس سے بہتر جزاء دینے والا کون ہے..!!

    @Missfaryalniazi

  • -:قول و فعل میں تضاد:-        تحریر:- محمد دانش

    -:قول و فعل میں تضاد:- تحریر:- محمد دانش

    ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں اور ہمارا مزہب ہمیں ایک دوسرے کو کارخیر کی دعوت دینے کی تلقین کرتا ہے اور برائی سے روکنے کا حکم دیتا ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم لوگوں کو تو  نیکی کی باتوں کی طرف بلاتے ہیں لیکن خود عمل نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں متنبہ کرنے کے لئے قرآن پاک میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
    اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَ تَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۴﴾
    کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو؟ اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو ،  کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟ ۔

    (سورہ البقرہ: آیت نمبر :44 )
    ایک اور مقام پر اللہ تعالی ایمان والوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:
    یٰۤاَیُّہَا  الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا  لِمَ  تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا  تَفۡعَلُوۡنَ
    اے ایمان والو!  تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔
     
    ( سورہ الصف: آیت نمبر: 2)
    کَبُرَ  مَقۡتًا عِنۡدَ  اللّٰہِ  اَنۡ  تَقُوۡلُوۡا مَا  لَا تَفۡعَلُوۡنَ
    تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالٰی کو سخت ناپسند ہے ۔
    ( سورہ الصف:آیت نمبر:3 )
     
    اللہ تعالی اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہے کہ انسان جن باتوں سے دوسروں کو تو روکتا ہے لیکن اسپر خود عمل پیرا نہی ہوتا ۔
    ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ہم قول و فعل میں تضاد کا شکار ہیں اور اسی منافقت اور تضاد کی وجہ سے ہم ناقابل اعتبار ہوتے جا رہے ہیں۔ہماری باتیں ہمارے عمل سے بہت مختلف دیکھائی دیتی ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری کہی  ہوئی باتوں کا اثر بھی کم ہوتاجا رہا ہے۔
    آج کے اس جدید دور میں جب دنیا سمٹ کر انسان کے ہاتھ میں پکڑے موبائل میں سما چکی ہے ہم بہت سی اچھی باتیں لوگوں کو سوشل میڈیا کے توسط سے پہنچا سکتے ہیں لیکن یہاں بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر انتہائی نصیحت آموز باتیں شئیر کرتے ہیں لیکن جب کبھی عملی زندگی میں ان سے واسطہ پڑتا ہے تو ان نصیحت آموز باتوں کا اثر ان کی اپنی زات پر کہیں دور دور تک بھی دیکھائی نہیں دیتا۔ اسکی ایک مثال جو میری زندگی میں گزری آپکے سامنے پیش کرتا ہوں ۔
    ایک جاننے والےشخص تھے وہ  بہت زیادہ ایمانداری ، سفارش کے خلاف  اور لوگوں کے حق نہ مارنے کی باتیں کرتے تھے اور جب کبھی ہم اکٹھے بیٹھتے تھے وہ ہمیں اسی طرح ہی نیکی کی باتوں کا درس دیتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے بیٹے نے کسی جاب کے لئے  اپلائی کیا وہاں ان کے بیٹے کامیرٹ نہیں بنتا تھا لیکن انھوں نے سفارش اور تعلقات کو استعمال کر کے اپنے بیٹے کو جاب دلوا دی۔اور اپنی نصیحت آموز باتوں پر خود عمل کرنا گوارا نہ سمجھا۔

    ایسے لوگوں کے بارے میں حدیث میں بھی بہت سخت الفاظ آئے ہیں
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ایک شخص کو  ( قیامت کے دن )  لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا۔
    ہمارے معاشرے میں ایسی متعد مثالیں موجود ہیں جہاں قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بیٹی تو اللّہ کی رحمت ہوتی ہے اور وہ خوش نصیب انسان ہوگا جس کو اللّہ تعالیٰ رحمت سے نوازے گا لیکن ایسی باتیں کرنے والے لوگ دو ،تین بیٹیوں کی پیدائش پر ہی پریشان ہو جاتے ہیں اور گھٹن محسوس کرتے ہیں
    اور اس کا زمہ دار صرف بیوی کو سمجھتے ہیں۔
    ہم بیٹھ کر باتیں تو بے تحاشا کر سکتے ہیں لیکن ہمارے اندر عمل ناپید ہوتا ہے۔
    اس مسئلے کے حل سے پہلے ہمیں ان اسباب کو جاننا چاہئے جو اس سب کی وجہ بن رہے ہیں
    ایمان کی کمزوری اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ ہے جب دل میں ایمان کمزور ہوگا یوم آخرت پر یقین نہیں ہوگا تو ہم اچھے اعمال کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اگر ہمارا ایمان مضبوط ہوگا تو یہ ہمیں عمل صالح کرنے کی ہمت دے گا اور اللّہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے کوشش کرنے کی توفیق دے گا
    دوسری بڑی وجہ نفس کی غلامی ہے اگر ہم ایمان میں مضبوط ہوں گے تو نفسانی خوا ہشات پر غلبہ حاصل کر سکیں گے لیکن اگر نفس غالب ہوگا تو ہمارے قول فعل میں تضاد لازمی پایا جائے گا۔
    کسی بھی عمل کی صحیح ہونے کے لئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارے دل،عقل اور نفس کی اصلاح ہو۔اگر یہ تینوں ٹھیک ہو جائیں تو ہمارا ہر عمل ہماری باتوں کے مطابق ہو گا اور ہمیں اللّہ سے قریب رکھے گا
    اللّہ پاک ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    ‏@iEngrDani

  • ان کہی فریادیں تحریر ہما عظیم

    ان کہی فریادیں تحریر ہما عظیم

    وہ ڈری سہمی کھڑی تھی ایک طرف۔۔
    اسکے پاپا جی ۔سر جھکاۓ سامنے تھے جو اسکی کوٸی بات کبھی نہیں ٹالتے تھے۔
    اس کے بھیا جی جو ا کی انگلی کے اشارے پر اس کی پسند اس کے قدموں میں ڈھیر کرتے جاتے تھے
    وہیں ساتھ ہی موجود تھا اس کا مجازی خدا جسکی دل میں وہ دھڑکن بن کے دھڑکتی تھی۔۔۔اف
    پھر ایک تکلیف دہ نظر اٹھا کے دیکھے تو اسکا لخت جگر آنکھوں میں دکھ اور افسوس کے ساتھ اسے تک رہا تھا۔۔
    ایسا نہیں تھا کہ وہ اچھی لڑکی نہیں تھی
    نہیں وہ بہت اچھی لڑکی تھی
    اچھی بیٹی
    اچھی بہن
    خدمت گزار بیوی
    اور محبت کرنے والے ماں تھی
    محبت جس نے جتنی کی اس سے بڑھ کر محبت کرتی تھی وہ ان سب سے
    مگر کیا تھا کہ آج سب کے سامنے مجرم بنی کھڑی تھی
    سب کی نظروں میں اس کے لٸیے شکایت تھی
    نہیں تم اچھی بیٹی نہیں تھی پاپا کے لب ہلے
    اوہ پاپا ۔۔نہیں نہیں ایسا مت کہیں۔
    کیوں نہ کہوں ۔۔تمہاری وجہ سے مجھے جہنم میں بھیجا جا رہا ہے
    تم نے دنیا میں سر نہیں ڈھکا۔۔بے پردہ پھریں۔۔
    مگر پاپا آپ نے منع نہیں کیا کبھی۔۔آپ کہتے تو سہی ایک بار
    وہ روتی ہوٸی گویا ہوٸی
    اگر میں نے منع نہیں کیا بیٹی تو کیا تم خود نہیں جانتی تھی۔۔کیا میں نے تم پر رقم خرچ کر کے تعلیم و شعور کے لٸیے اچھے اچھے اداروں میں نہ بھیجا
    میں نے تمہاری بھلاٸ کے لٸیے بنا کہے وہ سب کیا جو میں کر سکتا تھا۔۔دنیا میں تم سر اٹھا کے جیو میں ہر وہ تمہارا زعم پورا کیا۔۔تم میری آخرت کے لٸیے خود سے میرے کہے بغیر ایک بھلاٸی نہیں کر سکیں میرے لٸیے۔۔اففف کیا شکایت تھی گڑ گٸی وہ کچھ زمین میں۔۔
    بھیا آپ۔۔کچھ مت کہو بہن کوٸی فاٸدہ نہیں۔۔میرے لفظ بھی پاپا جی ملتے جلتے ہی ہیں۔۔میں نے تمہیں دنیا میں ہر مان دیا۔۔سایہ بن کہ حفاظت کی تمہاری مگر آج تمہارا میرے لٸیے کوٸی صلہ نہیں۔۔
    مجازی خدا آپ تو مجھے جانتے ہیں نا۔۔۔
    ہاں میں تمہیں جانتا ہوں۔۔
    تمہارا والد اور تمہارے بھاٸی کی طرح آج میں بھی بیگانہ ہوں تم سے
    میں نے تمہارے لیٸے دن رات ایک کی تاکہ تمہیں میری زندگی میں آنے کے بعد باپ بھاٸی کی کمی محسوس نہ ہو۔۔تمہارے لیٸے چاند تارے دسترس میں کرنے کی چاہت تھی میری۔۔
    اور بدلے میں کیا ملا یہ جہنم کی آگ
    وہ گھومی اپنے بیٹے کی طرف بیٹا تم
    نہیں ماما۔۔۔میں نے آپ کو کیا کہنا تھا۔یہ سب تو آپ نے مجھے بتانا تھا۔۔بچپن سے میرے دماغ میں پردہ حیا شرم کی باتیں بٹھانی تھیں۔۔
    میں بھی آپ کے دنیا دکھاوے کی بھینٹ چڑھ گیا
    وہ سسک رہا تھا۔۔وہ سسسک رہی تھی۔۔
    سب سسسک رہے تھے ایک شور تھا جو تھم نہیں رہا تھا۔
    آپ نے نہیں روکا مجھے
    میں نے تمہیں تعلیم دی شعور دیا تم خود کرتی
    میں نے مان دیا۔۔میں نے چاہت دی۔۔۔۔تم ہمارے لٸیے کر جاتیں۔۔میں مجبور تھا
    آپ کرتیں آپ بتاتیں
    اف اف اف
    وہ کیا کرے کہاں جاۓ
    خود کو بچاۓ
    ان سب کو بچاۓ
    کوٸی تو بتاۓ
    بس آپ لوگ تیار ہو جاٸیں اپنی منزل کی طرف جانے کے لٸیے
    جہاں آپ نے ہمیشہ رہنا ہے
    فرشتہ غصے میں تھا کوٸی رحم نہیں تھا اس کے چہرے میں۔
    اور وہ سب کو ہانکتا ہوا ایک طرف کو لے گیا
    سسکتی زندگیاں ایک دوسرے سے ناراض ناراض پیچھے پہچھے چل دیں
    بظاہر یہ ایک مکالمہ ہے
    مگر بہت خوفناک ہے
    ایک مرتبہ دل سےپڑھیں
    یقین کریں آپکے رونگٹے کھڑے ہو جاٸیں گے
    کاش کسی دل میں اتر جاۓ میری بات

    @DimpleGirl_PTi

  • اسلام اور سیاست  تحریر:ذیشان علی

    اسلام اور سیاست تحریر:ذیشان علی

    اسلام دین فطرت ہے اور اس میں سیاست کا تصور بھی موجود ہے، البتہ قرآن کریم فرقان حمید میں لفظ سیاست تو کہیں بھی نہیں آیا لیکن اس حوالے سے چند آیات ہیں جو سیاست کا مفہوم واضح کرتی ہیں، مثلآ ! اصلاح معاشرہ ، عدل و انصاف، ظلم کرنے سے روکنا اور ظالموں کو سزا دینا اور برائی سے نفرت اور اچھائی کی طرف ہے راغب کرنے اور اس کے علاوہ انبیائے کرام کی سیاست کا بھی قرآن مجید میں تذکرہ ملتا ہے،
    ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ تعالی نے تمہارے لئے طالوت کو حاکم مقرر کیا ہے ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے ان سے زیادہ تو ہم حکومت کے حقدار ہیں، نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم اور جسم میں وسعت عطا فرمائے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحبِ وسعت بھی ہے اور صاحب علم بھی،
    (سورہ بقرہ آیات نمبر 247)
    مندرجہ بالا آیات سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفوں کی نفی بھی ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سیاست کثیر مال و اسباب کے ساتھ کی جاتی ہے،
    دین اسلام میں سیاست اس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام میں دینے لوگ اصلاح کے بہت قریب اور فساد سے دور ہو جائیں،
    لغت میں سیاست کے معنی کو حکومت چلانا لوگوں کی امر و نہی کے ذریعے اصلاح کرنا شمار کیے جاتے ہیں،
    اور اصطلاح میں لوگوں کو اصلاح کے قریب کرنا اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں، علماء کی نظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ اجمعین کی سیرت اور روش نظام درست کرنا اچھی نصیحت کرنا حق و انصاف کی خاطر جنگ کرنا اور افہام تفہیم سے مسائل کو حل کرنا سیاست ہے،
    اسلام اس معاملے میں خصوصی امتیاز رکھتا ہے اس کی ابتدائی منزل ہی سیاست سے شروع ہوتی ہے اور اس کی تعلیم مسلمانوں کی دینی اور سیاسی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہے قرآن مجید میں جنگ و صلح کے قوانین و احکام موجود ہیں،
    لیکن ہم اپنی طرف دیکھیں تو ہماری سیاست کیا ہے،
    گندی سیاست ادب و احترام لحاظ سب کچھ بالا طاق رکھ دیا جھوٹ، رشوت خوری، عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانا اور غازی جیسے تصورات لازم ہو گئے ہو جیسے سیاست میں،
    اس لیے اکثر شریف لوگ اس صورت میں پڑھنے کو مناسب ہی نہیں سمجھتے اور یہ غلط فہمی تو بہت زیادہ عام ہوچکی ہے کہ الیکشن اور ووٹوں کی سیاست کا دین و مذہب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا یہ غلط فہمی سیدھے سادے لوگوں میں پائی جاتی ہے، خیر یہ اتنا بھی نہیں ہے لیکن نتائج بہت برے ہیں یہ بات بے جا نہیں کہ موجودہ دور کی سیاست بلاشبہ مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں گندگی کا ایک تالاب بن چکی ہے،
    سیاست میں اچھے لوگوں کو آگے آنا چاہیے قابل ترین پڑھے لکھے عوام کی خدمت کرنے والے ملک کا نظام چلانے والے،
    بلاشبہ نظام کو مستحکم کرنے والوں کو عزت ملتی ہے اور سیاست کرنا جائز ہے اصولوں کے ساتھ سیاست کی جائے بلکل اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایک اسلامی مملکت کو چاہیئے کہ وہ اپنے قانون اور نظام کو بہتر سے بہترین کرے تاکہ ہر شخصں مستفید ہو،

    @zsh_ali

  • عثمان کاکڑ خود تو سو گئے،مگر قوم کو جگا گئے۔ تحریر:اعجازالحق عثمانی

    عثمان کاکڑ خود تو سو گئے،مگر قوم کو جگا گئے۔ تحریر:اعجازالحق عثمانی


    عثمان کاکڑ ایک عظیم رہنما اور فاضل سیاست دان تھے ۔انکے جھکے ہوئے کندھے بھی اس بات کے گواہ تھے کہ وہ ایک مفلس اور عاجز سیاست دان تھے ۔مٹی کی محبت ان کے لہجے میں جھلکتی تھی۔ محبت کے اس قدر امیں تھے کہ اختلاف کو جنگ سمجھنے کی بجائے وہ ہمیشہ امن کے راستے کو ترجیح دیتے۔ درد سے جس قوم کے کلیجے پھٹ چکے تھے ۔وہ ان کے ہمدرد تھے۔ بلوچستان، تاریخ کے اس اندھیری رات میں ہے جہاں ہر طرف سیاہی چھائی ہوئی ہے۔ جہاں غموں کی گھٹائیں ہر وقت برسنے کو تیار ہوتی ہیں۔ جہاں درد سے بلبلاتے والدین اپنے بچوں کے تابوتوں سے لپٹے بے جان ہو جاتے ہیں۔ جہاں بھائیوں کے خون سے لت پت سفید سروں والی بہنیں چیختی دیکھائی دیتی ہیں۔ جہاں کے مشعل جلانے والے نوجوانوں کی زندگی کی مشعل ہی بجھا دی جاتی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ سارے درد اس علاقے میں بسنے والے پشتونوں کےلیے بنے ہیں۔ یہاں کے "ہزارہ کے "کلیجوں میں بھی چھید ہیں۔ یہاں کے باشندوں کا کتب خانوں میں جانا جرم عظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں جو ایک بار ظلم کے خلاف بولا، پھر وہ کبھی نہ بول پایا۔
    بلوچستان ، جہاں اداسی بال کھولے سو رہی ہے ، عثمان کاکڑ مردہ ضمیروں کو جگاتے جگاتے خود سو گئے۔ عثمان کاکڑ کے سفر آخرت کو دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے پورے بلوچستان کا بیٹا جارہا ہو۔ اور پورا پاکستان عثمان کاکڑ کے جانے کے درد کو محسوس کررہا تھا۔ عثمان کاکڑ بلوچوں کے لیے کیا تھا؟ سائیکل پر روتا ہوا ناعمر بچہ، روتے ہوئے ایمبولینس کے بونٹ کو چومنے والا بلوچ اور ثقافتی پہناؤوں میں ملبوس ماؤں کا رونا اور چیخنا اس بات کی علامت تھا کہ عثمان کاکڑ بلوچستان کا وہ ہیرا تھا جو اب ناپید ہوگیا ہے۔ ان مناظر سے سب کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ مگر دل تو تب دہل اٹھا جب بیٹی نے اپنے باپ کے تابوت پر سر رکھ کر کہا۔” تمہارے ساتھ جو ہوا میں جانتی ہوں، میں تمہارا انتقام لوں گی”

    ‎@EjazulhaqUsmani

  • سوکھے پَتے  تحریر:افشین

    سوکھے پَتے تحریر:افشین

    ایک ننھا پودا جب پروان چڑھتا ہے تو ایک سایہ درخت بن کے اپنی ٹھنڈی چھاؤں سے دوسروں کو راحت بخشتا ہے آکسیجن فراہم کرنے کا ایک اہم قدرتی ذریعہ ہے جتنے درخت ہونگے اتنی ماحول کو آکسیجن مہیا ہوگی گویا درخت پوری انسانیت کو فائدہ پہنچا رہے ہوتے ہیں ایک سایہ دار درخت ہو یا پھل دار درخت دونوں فائدہ پہنچاتے ہیں خزاں کا موسم آتے ہی درخت سوکھے پتے جاڑ دیتا ہےجیسا کہ ایک درخت بھی سوکھے پتے جاڑ دیتا ہےکیونکہ سوکھے پتے اسکے کسی کام کے نہیں رہتے تو انسان بھی جب سوکھے پتوں کی طرح ہوجائے کسی کے کام کا نہ رہے اسکو بھی لوگ اپنی زندگی میں شامل نہیں کرتے۔ کہنا میں یہ چاہتی ہوں سوکھے پتے نا بنیں کے جاڑ دیے جاوٌ سایہ دار درخت کی طرح بنو جو دوسروں کو فائدہ دے اور بیکار نہ سمجھا جائے
    ادھر ایک بات زیر غور ہے درخت سایہ دار یا پھل دار بن جاتا ہے مگر اسکی نگہداشت ہوتی ہے مطلب ایک پودے کو جب زمیں میں لگایا جاتا ہے اسکو پانی دیا جاتا ہے اسکا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ کوئی جانور اسکو نقصان نہ دے پائے جتنا اس پودے کو توجہ احتیاط سے رکھا جائے گا اتنا جلدی پروان چڑھے گا اور تازہ دم ہوگا جب ایک پودے کو خیال کی ضرورت ہوتی ہے انسان تو پھر انسان ہے اسکو بھی توجہ اور خیال کی ضرورت ہوتی ہے ایک بچے کو ماں باپ کی توجہ نا ملے تو اسکی تربیت میں بھی بہت فرق پڑتاہے اور ایک دوسرے کا خیال نہ کیا جائے رشتے بھی کمزور پڑجاتے ہیں اور اگر کسی کو آپکی ضرورت ہو آپ اسکو توجہ دیں گے اسکا خیال رکھیں گے تو وہ آگے بڑھ پاتا ہے جب ایک پودا خیال توجہ پانی سب مانگتا ہے تب بڑھتا ہے تو انسان کو بھی آگے بڑھنے کے لیے اچھے الفاظ اور خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے خودغرض دنیا میں ہر کوئی اندھا دھند بھاگ رہا ہے رشتوں کو پیچھے چھوڑ کے وہ اپنا مفاد دیکھ رہا ہے اسکو یہ کیوں بھول جاتا ہے سب ادھر رہ جانا ہے صرف اچھے اعمال ساتھ جانے ہیں کیا آپ کے پاس وقت ہے کسی کو دینے کے لیے ؟ اگر کوئی آپکی توجہ سے شفا پاتا ہے کیا آپ اسکو توجہ دیں گے؟؟؟
    ہر کوئی اگر دوسروں کا سوچے دنیا ہی جنت بن جائے سوکھے
    پتے نا بنے کہ ایک دن کسی کے پاؤں کے نیچے کچل دیےجا رہے ہو.
    اگر آپ دوسروں کو فائدہ پہنچائیں گے نا صرف رب پاک خوش ہوگا بلکہ آپکو دونوں جہاں صِلہ بھی مل جائے گا. والدین سے میں کہنا چاہتی ہوں بچوں کو بس کھانا پینا نہیں چاہیے ہوتا انکو آپکی توجہ وقت چاہیے ہوتا ہے اگر آپ بچوں کی ضروریات پوری بھی کر دیتے ہیں مگر انکا خیال نہیں رکھ پاتے وقت نہیں دے پاتے بچے یا احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا باغی ہوجاتے ہیں
    ایسے ایک استاد اگر توجہ نہیں دیتا بچوں کی پڑھائی پہ تو بچے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں
    محبت کی بات کی جائے تو اس میں بھی ایک محبت والا اگر پیار بہت بھی کرتا ہے مگر ٹائم نہیں دے پاتا یا خیال نہیں رکھتا تو رشتے دم توڑنے لگتے ہیں
    ہر انسان توجہ اور خیال کا مستحق ہے کسی بیمار کے ساتھ پیار سے بات کر دی جائے تو اس کو بھی حوصلہ مل جاتا ہے کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی توجہ چاہتا ہے وہ مل جائے تو بھی وہ جینے لگتا ہےاپنے آپ کو تازہ دم رکھیں، دوسروں کو فائدہ پہنچائے اگر آپ انسانیت کوفائدہ پہنچائینگے تو یہی حقیقی زندگی ہے اپنا بھی خیال رکھیں اور خود سے جڑے لوگوں کا بھی اگر آپ اپنا قیمتی وقت کسی کو دیں گے کسی کے چہرے کی مسکان بنیں گے تو آپکی مثال اعلیٰ ظَرف انسانوں میں ہوگی.
    اگر آپ اپنی زندگی سے دوسروں کو فائدہ دیں گے تو آپ بھی ہمیشہ خوش رہینگے سوکھے پتے بن کے جینے سے اچھا ہے سایہ دار درخت کی طرح بنیں اب آپ پہ منحصر ہے آپ اپنی ذات سے کسی کو فائدہ پہنچاتے ہیں یا صرف خودغرضی کی زندگی جیتے ہیں مثالیں ان سے قائم نہیں ہوتی جو پاوُں کے نیچے روند دیے جائیں بیکار سمجھ کے پھینک دیے جائیں. مثالیں ان سے قائم ہوتی ہے جو دھوپ کی تپش خود سہہ جائیں اور دوسروں کو تسکین فراہم کریں !!
    فقط زندگی یونہی تمام نہیں ہوتی اپنی اعلیٰ ظرفی سے دوسروں کی زندگی کو رونقیں بخشیں ۔

    ‎#
    ‎@Hu__rt7

  • شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت آخری قسط (4)  تحریر: محمد صابر مسعود

    شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت آخری قسط (4) تحریر: محمد صابر مسعود

    علم وفضل کی جامعیت کے بعد علوم نبوت کی مخلصانہ خدمات اگر کسی کو نصیب ہو جائیں تو یہ ایمانی زندگی کی معراج ہے اور بارگاہ ایزدی سے اسے مقبولیت کا پروانہ ملتا ہے، یہ آسمانی مقبولیت ملاء اعلی سے گزر کر سماء دنیا تک آتی ہے پھر اسے فرشتے عارفین و صلحاء کے قلوب میں القاء کر دیتے ہیں اور دنیا کے تمام مومنین اس سے محبت کرنے لگتے ہیں شیخ مرحوم نے جب دنیا کو ٹھکرا کر حدیث رسول کی تشریح کے لئے اپنی زندگی کو وقف کردیا تو اللہ تعالیٰ نے سنت الہی کے مطابق انہیں ایسی
    محبوبیت نصیب فرمائی جو کم از کم دور حاضر میں بہت کم لوگوں کو ملی ہے وہ علماء کی آنکھوں میں بسے، طلباء کے دلوں میں سمائے اور مخلصین کے قلب و جگر میں اتر گئے، ہر ایک ان پر فدا ہوتا، ہر کوئی ان کا قرب ڈھونڈتا اور جس پر ان کی توجہ پڑ جاتی وہ انکے فیضان نظر سے یکا یک لہلہا اٹھتا اگر وہ کسی علاقے کا دورہ کرتے تو اسی شان سے گویا وہ شمع ہیں اور سب ان کے پروانے، وہ جہاں بھی جاتے حدیث اور سنت کی بہار آجاتی، مخلصین سیلاب کی طرح امنڈتے، حیرت ہوتی ہے کہ کیسی عجب
    مقبولیت تھی کہ وہ سر عام بڑے بڑے علماء کو ڈانٹتے لیکن کسی کو ذرا بھی ناگواری نہ ہوتی بلکہ وہ اس تادیب کو بھی اپنے لئے سعادت سمجھتے انہیں سر پر بٹھا لیتے اور اپنی پلکوں پر سجا لیتے ،تمام مقتدر شخصیات سے امت نے ہر دور میں اتنی ہی محبت کی ہے۔۔
    تاریخ نبوت ورسالت بتاتی ہے کہ ان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما و انما ورثوا العلم کہ جب بھی دنیا سے
    ہے کسی نبی نے رخت سفر باندھا تو میراث میں انہوں نے مال و دولت نہیں بلکہ علم و تقویٰ چھوڑا رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث کے ذریعہ اسی حقیقت کی وضاحت کی ہے، علماء چونکہ انبیاء کے وارث ہیں اس لئے مرتے وقت ان کے پاس اتنا ہی سرمایہ ہوتا ہے جو تجہیز و تکفین کے لئے کافی ہو سکے، شیخ مرحوم نے دنیا کو کبھی منہ نہیں لگایا، حجاز کے سفر میں وہ
    تمام ہدایا حرمین ہی میں تقسیم کردیتے تھے ایک مرتبہ ریال کا اچھا خاصا ڈھیر لگ گیا، شیخ نے ان پر نظر غلط بھی نہ ڈالی اور جب وہاں سے رخصت ہوئے تو اس شان کے ساتھ کہ دامن جھاڑا اور میزبان کو سب کچھ صدقہ کرنے کی تلقین کی، انتقال سے چند گھنٹے قبل بھی انہوں نے اچھی خاصی رقم صدقہ کی اور صبح جب وہ سفر آخرت پر روانہ ہوئے تو نبی کی سنت کے عین مطابق کتابوں کی صورت میں علم کا اتنابڑا ذخیرہ چھوڑا جس کی مثال خال خال ہی کہیں نظر آتی ہے۔
    شیخ مرحوم علمی حلقوں تک محدود تھے اور ان کا عوام سے کوئی خاص تعلق نہ تھا لیکن انتقال کی خبر ملی تو کیا علماء اور کیا طلباء ہر ایک جنازے میں شرکت کے لئے دیوانہ وار دوڑ پڑا اور عصر سے قبل مسلمانوں کا ایسا سیلاب نظر آیا کہ سہارنپور کی تاریخ میں جسکی مثال ملنا مشکل ہے گالیاں پٹ گئیں، میدان لبالب بھر گئے، کہیں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی شہر آج بڑی حسرت کے ساتھ اپنی تنگ دلی کا شکوہ کر رہا تھا، فقیہ الاسلام حضرت مولانامفتی مظفر حسین صاحب نور اللہ مرقدہ کے
    جنازے میں تین لاکھ مسلمانوں نے شرکت کی تھی لیکن واقفین کے نزدیک آج یہ تعداد بڑھ کرمحتاط اندازہ کے مطابق پانچ لاکھ تک پہنچ گئی، ہمارے ناقص مطالعے کی روشنی میں یہ اس صدی کا شاید سب سے بڑا جنازہ تھا کیوں پورے برصغیر میں تین لاکھ سے بڑا دعویٰ ہماری نظروں سے نہیں گزرا، حضرت امام احمد بن حنبل نے مشایعین کی کثرت کو قبولیت کی علامت قراردیا ہے اس لئے علماء اور مشائخ کے جنازوں کا ازدحام ان کی سوانح حیات کا ایک روشن باب تصور کیا جاتا ہے۔ اللہ نے
    شیخ مرحوم کو اس نعمت سے بھی نوازا اور ان کا آخری سفر بھی ایک مثال بن گیا، باری تعالی مرحوم کو خوب نوازے اور یہاں کی تمام محرومیوں کا صلہ آخرت میں عطافرمائے اس کے خزانوں میں کوئ کمی نہیں۔۔۔

    یہ ہیں شیخ کے امتیازات وخصوصیات کے چندنقوش، جہاں تک ان کے اوصاف و کمالات کا سوال ہے تو ان کا احاطہ وہی قلمکار کر سکتا ہے جس نے مرحوم کو بہت قریب سے دیکھا ہو اور ان کی زندگی کے شب وروز پر اس کی گہری نظر ہو ۔۔۔

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے۔۔

    عجب قیامت کا حادثہ ہے، آستیں نہیں ہے۔۔۔۔۔
    زمیں کی رونق چلی گئی ہے، اُفق پہ مہر مبیں نہیں

    تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
    مگر تری مرگ ناگہاں کا اب تک یقین نہیں ہے

    ‎@sabirmasood_

  • محرم الحرام کے فضائل، عبادات اور واقعات  تحریر: احسان الحق

    محرم الحرام کے فضائل، عبادات اور واقعات تحریر: احسان الحق

    محرم الحرام اہم ترین اور افضل ترین مہینوں میں سے ایک ہے. ماہ محرم اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے. یہ ماہ فضائل، برکات، عبادات اور واقعات کے حوالے سے بہت اہم ہے.
    ارشاد ربانی ہے کہ
    "اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کتاب (لوح محفوظ) میں مہینوں کی تعداد 12 ہے، اسی دن سے جس دن سے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا گیا. ان 12 ماہ میں سے 4 ماہ حرمت، ادب اور احترام والے ہیں، یہی درست دین ہے لہذٰا ان 4 ماہ میں اپنی جانوں پر ظلم مت کرو” (سورۃ التوبة 36)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ماہ محرم اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے. بارہ مہینوں میں سے ماہ محرم واحد مہینہ ہے جسے خاتم الانبیاء نے اللہ تعالیٰ کا مہینہ قرار دیا.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    "زمانہ واپس اسی حالت میں لوٹ چکا ہے جس حالت میں اس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، سال کے 12 مہینے ہیں جن میں سے 4 مہینے حرمت والے ہیں. 3 مہینے مسلسل مطلب ذوالقعد، ذوالحجہ اور محرم، اور چوتھا مضر قبیلے کا ماہ رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے”
    (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

    مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے کے بعد مدینہ میں آ کر جناب محمد رسول اللہ، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہاں کے یہودی دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں. یہودیوں نے روزہ رکھنے کا سبب بتایا کہ 10 محرم کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تھی. یوم نجات کی مناسبت سے شکرانے کے طور پر ہم روزہ رکھتے ہیں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انبیاء ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں، آپ سے زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہمارا حق ہے. تو رسولﷺ نے 10 محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیا. (صحیح بخاری)
    اس حرمت والے مہینے میں کرنے والے افضل ترین کاموں میں سے ایک کام یوم عاشور کا روزہ رکھنا ہے. یوم عاشور کے روزے کی فضیلت یہ ہے کہ ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں.
    جناب حضرت محمد رسولﷺ سے دریافت کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل اور رمضان المبارک کے روزوں کے بعد کون سے روزے افضل ہیں؟
    آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فرض نماز کے بعد تہجد کی نماز اور رمضان المبارک کے بعد محرم کے روزے. (صحیح مسلم)

    یہی ماہ یعنی محرم الحرام ہجری کیلنڈر کا پہلا ماہ ہے. ہم نئے اسلامی یا ہجری سال 1443 میں داخل ہو چکے ہیں. پہلی بار خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی توجہ دلانے پر اور حضرت عثمان بن عفان اور علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مشاورت سے ہجری سال کی ابتداء کی اور ماہ محرم کو پہلا ماہ مقرر کیا. امیرالمؤمنین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف کی گئی ہجرت کی بنیاد پر 17 ہجری میں "ہجری” کیلنڈر کی بنیاد رکھی. ذوالحجہ کے آخری ایام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت مبارک شروع ہوئی اور ہجرت کے بعد جو پہلا چاند نظر آیا وہ ماہ محرم کا تھا اسی لیے ماہ محرم کو پہلا مہینہ قرار دیا گیا.

    ماہ محرم کے واقعات میں سے کچھ اہم واقعات جیسا کہ یکم محرم 24 ہجری کو خلیفہ ثانی، مراد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ شہید ہوئے.
    3 محرم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی خلیفہ ثالث، شرم وحیا کے پیکر امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے ہوئی.
    10 محرم 61 ہجری کو کربلا کا دلخراش اور المناک واقعہ رونما ہوا جس میں نوجوانان جنت کے سردار، نواسہ رسولﷺ، حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور امیرالمؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے لخت جگر اور اہل خانہ کو شہید کیا گیا.

    @mian_ihsaan

  • کیا آسانی سے آزادی ملی ؟ تحریر:احسن ننکانوی

    کیا آسانی سے آزادی ملی ؟ تحریر:احسن ننکانوی

    ایک ٹرین جس کی 9 بوگیاں تھیں
    لگ بھگ ایک ہزار کے قریب مسافر سوار تھے

    جب گاڑی لاہور ریلوے اسٹیشن پر آکر رکی توصرف 8 مسافر زندہ تھے
    وہ بھی بری طرح زخمی تھے ، پوری ٹرین جیسے خون میں نہا کر آئی تھی –

    لندن ” ڈیلی میل ” کے نمائندے کا آنکھوں دیکھا حال

    آگ اور خون کا یہ کھیل سارے برصغیر میں جاری تھا لاکھوں لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی ، صرف دہلی اور لاہور کے راستے ٹرینوں پر 54 سے زائد حملے ہوے ، سب سے زیادہ مہاجرین مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان داخل ہوے ، لدھیانہ اور امرتسر کے درمیان سکھوں کے مسلح جتھے ٹرینوں کو روک کر ظلم کی تاریخ رقم کرتے رہے ، ایک ایسی ہی اسپیشل مہاجر ٹرین محمکہ دفاع کا عملہ اور انکے اہل و عیال کو لے کر پاکستان آرہی تھی کہ اُسے بھی روک لیا گیا ،

    نہ جانے کتنی عورتوں کو اغوا کیا گیا ، جب خون کا دریا عبور کرکے یہ ٹرین پاکستان پہنچی تو اسمیں 459 لاشیں ملیں

    کبھی پٹیالہ میں ٹرین روک کر جب مسلمان بچے کرپانوں پر اچھالے جا رہے تھے تب حفاظتی عملہ ایک طرف کھڑا ہو کر قتل عام کا تماشا دیکھ رہا تھا ، بے شمار لاشیں قریبی نہر میں پھینکی گئیں تقریبا خالی ٹرین پاکستان پہنچی.

    ہندوؤں کی وحشت و بربریت کا اندازہ لگائیں۔ جب مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری تھا اور قیام پاکستان کے بعد پہلی عید آئی تو ایک مال گاڑی لاہور اسٹیشن پر آکر رکی جس کی ایک بوگی میں بچوں کے سر اور عورتوں کی کٹی ہوئی چھاتیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا*

    اور بوگی کے باہر لکھا ہوا تھا

    پاکستان کے لیے عید کا تحفہ

    لا الہ الااللہ کی بنیاد پر بننے والے ملک میں ہر گلی نکڑ میں
    زناہ کے اڈے قائم ہیں
    رشوت جھوٹ بددیانتی ظلم و جبر بربریت ناانصافی کرپشن
    ہر بندہ اپنے استطاعت کے مطابق کر رہا ہے
    پھر کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران غلط ہیں
    دین محمدی ص نے واضح کردیا!
    جیسے قوم ہونگے ویسا ہی حکمران ہوگا
    بجائے اوروں کو غلط کہنے کے اپنے آپ کو بدلو پھر دیکھو
    انقلاب کیسے نہیں آتا
    جس عظیم مقصد کیلئے لاکھوں قربانیاں دی گئی جس مقصد کیلئے گردنیں کٹی جس مقصد کیلئے حاملہ عورتوں کے پیٹ کاٹے گئے جس مقصد کیلئے عورتوں کے اعضاء کو تن سے جدا کیا گیا
    جس مقصد کیلئے کے حصول کیلئے گھر بار عزت شان و شوکت چھوڑ کر ہمارے اسلاف یہاں پر آئے تو کوئی تو وجہ تو ہوگی نا
    کیا ایسے ہی لاکھوں افراد نے دریاؤں کو اپنے عظیم لاشوں سے بھردیا ۔ چند سال پہلے ایک مولانا کا بیان سنا کہ
    جس دریا سے مسلمان گزر رہے تھے اسی دریا سے متعلق ایک بوڑھے نے بتایا کہ سکھوں کے فوج میرے پیچھے تھی اور میں خوف مخلوق خدا اور اور آگے دریا دیکھ کر
    جہاں گھبرایا لیکن ایمانی غیرت اور اللہ پر
    توکل کی وجہ سے میں نے دریا کو عبور کرنے کا فیصلہ ہ
    کیا اللہ کا نام لیا اور دریا پر پاؤں رکھ دیا
    کہا کہ شروع سے آخر تک لاشیں ہیں لاشیں تھی واللہ
    میں نے لاشوں پر سر رکھتے ہوئے دریا عبور کیا
    مسلمانوں تمہیں دین محمد ورثے میں ملا ہے قربانیاں تمہارے اسلاف نے دی اور تم اس
    عظیم دن بجائے اللہ کا شکر ادا کئے
    سڑکوں چوراہوں پر بھنگڑے ڈال کر اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہو
    اپنے آپ کو پہچانو
    اپنا مقصد نہ بھولو
    یہاں اسلامی نظام اور خلافتی نظام کیلئے اٹھ کھڑے ہوں
    تاکہ تمہیں بھی تاریخ میں اچھے الفاظوں کے ساتھ اور بروز
    قیامت تمہیں اسکا صلہ ملے
    ہم مسلمانوں کا نظام مملکتِ شرعی اسلامی نظام ہونا چاہیے نہ کے نظام جمہوریت۔