Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کیجے: تحریر محمد جاوید

    آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کیجے: تحریر محمد جاوید

    :
    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو نظریاتی بنیاد پہ بنا اور مذہب کے بنیاد پہ بننے والا دنیا کا واحد ملک ہے جس کا بنیاد نظریہ پاکستان پہ تھا اور یہ نظریہ ہمارے پاس دو قومی نظریہ سے نکلا تھا ۔اس دو قومی نظریہ کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے کیوں کہ اسی کی بنیاد پہ یہ ملک بنایا گیا تھا ۔
    جب ہم دو قومی نظریے کی بات کرتے ہیں تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس دو قومی تشخص کو سب سے پہلے البرونی نے دسویں سنچری میں بتایا تھا جب وہ برصغیر پاک وہ ھند کے دورے پہ آیا تھا اس وقت اپنی ایک کتاب کے اندر اس نے دو لفظ مینشن کیا تھا "They and We” اس میں They ہندوں کے لیے استعمال کیا تھا اور We مسلمانوں کے لئے ۔

    ہمارا وطن پاکستان جہاں ہم رہتے ہیں وہ وطن نہیں جو وراثت میں اس کے بننے والو کو ملاہے بلکہ پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کےلئے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ہواہے۔ اتنی گراں قدر تخلیق کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس نے تعمیر پاکستان میں اپنا من دھن، بھائی، عزیز واقارب قربان کئے۔ حصول پاکستان کےلئے لاکھوں مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ کتنی ماﺅں کے سامنے ان کے بچے قتل کر دئیے گئے۔ کتنی پاکدامنوں نے نہروں اور کنوﺅں میں ڈوب پاکستان کی قیمت ادا کی ۔ کئی بچے یتیم ہوئے جو ساری زندگی والدین کی شفقت کےلئے ترستے رہے۔14اگست 1947ءوہ مبارک وقت تھا جب پاکستان معرض وجود میں آیا۔ مسلمانوں کے اتفاق اور قائداعظیم کے خلوص کی وجہ سے یہ عظیم سلطنت وجودمیں آئی، ہندوﺅں نے طرح طرح کی مکاریوں سے پاکستان کے مخالفت کی انگریزوں نے بھی طر ح طرح کی رکاوٹیں ڈالی ، ہمیں ہر قسم کی آزادی اور سامان اور آسائش وآرائش مہیا ہے مگر یہ کبھی نہ بولیں کہ اس میں لاکھوں لوگوں کی قربانياں انکا خون شامل ہے اور سر سید کی نگاہ دوربین اقبال کے افکار قائداعظم کی جدوجہد اور دوسرے اکابرین کا ایثار شامل ہے اے میرے ہموطنو ! بیشک آزادی بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو یہ وطن تمہارے بزرگوں نے بہت مصیبتوں اور مشکلات سے حاصل کیا ہے۔ اے میرے ہم وطنو! یہ جو تم آزادی سے رہ رہے ہو یہ بڑی مہنگی اور قیمتی ہے ۔ہم وطنو آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔
    اس آزادی کی قدر کرو جیسا کہ آپکو معلوم ہے اس وقت انڈیا اور کشمیر کے اندر رہنے والے مسلمان کس طرح انڈین حکومت کے غیر جمہوری اور غیر انسانی پاليسیز کا سامنا کرہے ہیں ذرا ان بھیوں سے پوچھو تو پتا چلے گا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے ۔ آج ہم جتنا بھی اللّه کا شکر ادا کریں تو کم ہے کہ ہمیں اس عظیم نعمت سے ہمکنار کیا ہے ۔
    پاکستان بنانا کوئی آسان کام نہیں تھا اس کو بنانے میں بہت ساری قربانیاں دی گئی بہت سارے لوگ شہید ہوگئے، بہت ساری ماؤں کے گود اجڑ دئے گئے پھر جاکر یہ ملک آزاد ہوا ۔
    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا بہت سارے پاکستانی دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے اور اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال ہورھے ہیں۔ کاش انکو معلوم ہوتا کتنی قربانیوں کے بعد یہ آزادی نصیب ہوئی ہے
    بے شمار بچے اپنی ماؤں کے سامنے مارے گئے اور بہت سے خاندان اپنے گھروں میں جلا ے گئے۔ بہت سی نیک عورتوں نے کنوؤں اور نہروں میں چھلانگ لگائی اور اپنی زندگی پاکستان کے لئے قربان کی۔
    بچے یتیم ہو گئے اور ساری زندگی اپنے والدین سے محروم رہے۔ لوگوں نے مصیبتیں جهيلے تکلیفیں اٹھائی اپنوں کو کھو دیا گھر بار لٹا دیں کس لئے ؟؟صرف کہ صرف اس آزادی کے لئے مگر جن کو آج فری میں آزادی ملی انکو اس کی قدر نہیں ذرا فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو پڑھ لیں تب انکو پتا چلے گا۔
    آج یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بتائیں کہ پاکستان کتنی عظیم قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا تھا اور ہمیں اس آزادی کی قدر کرنی چائے۔
    اتمام محب وطن پاکستانیوں کو جشن آزادی بہت مبارک ہو اللّه پاکستان کو تاقیامت قائیم وا دایم رکھیں۔
    پاکستان زندہ آباد ۔
    @I_MJawed

  • آل انڈیا مسلم لیگ، اصل مسلم لیگ . تحریر : عظمیٰ صابر

    آل انڈیا مسلم لیگ، اصل مسلم لیگ . تحریر : عظمیٰ صابر

    𝐇𝐀𝐏𝐏𝐘 𝐈𝐍𝐃𝐄𝐏𝐄𝐍𝐃𝐄𝐍𝐂𝐄 𝐃𝐀𝐘 Flag of Pakistan

    یہی ھے دل، یہی دُنیا و دین ! زندہ باد
    مرا گھروندا، مری سرزمین ! زندہ باد

    جمالِ سبز ! ترے حاسدین پر لعنت
    ھلالِ نُور ! ترے عاشقین، زندہ باد
    رحمان فارس

    پاکستان مسلمانان برصغیر کی لازوال قربانیوں کا ثمر ہے جب مسلمان ایک قوم بن کر ابھرے۔جان ,مال ,گھر بار ہر طرح کی قربانی دی اور اپنے مقصدکو پالیا یہ وطن دین اسلام اور اس کی اساس "کلمہ طیبہ ” سے والہانہ عقیدت کا انعام ہے جسے اللہ رب العزت نے 14 اگست 1947 کو ہمارے دامن میں ڈالا

    ہمارا پاکستان ,ہماری نسلوں کا پاکستان ہمارے دلوں کی دھڑکن اس دنیا میں ہماری جائے اماں

    برصغیر میں ہندوئوں کی نمائندہ جماعت "انڈین نیشنل کانگریس 1885 میں قائم ہوئ بیشتر مسلمان بھی اس جماعت سے وابستہ ہوگئے لیکن وقت نے اور ہندو لیڈروں کے متعصبانہ رویے نے ثابت کیا کہ کانگریس محض ہندوئوں کی نمائندہ جماعت ہے مسلمان ان کے رویے سے کافی دلبرداشتہ ہوئے مسلمان رہنمائوں نے ڈھاکہ میں 1906 میں ” آل انڈیا مسلم لیگ "کی بنیاد رکھی تاکہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے انکی بہتر طور پر نمائندگی کی جاسکے.

    "پاکستان ”
    جسکی تخلیق کا سہرا عام مسلمانوں اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سر ہے ۔وہ مسلم لیگ جسکے رہنمائوں نے قائد کی سربراہی میں مسلمانوں میں الگ وطن کے حصول کے لئے امنگ پیدا کی ۔اندھیرے میں روشنی کی کرن دکھائ ۔انکی بےلوث رہنمائ کی ۔وہ عظیم لوگ جن کے کردار سے صداقت کی مہک آتی تھی انکی رہنمائ میں پاکستان ہماری منزل بنا ہندوستان میں مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کا نام "مسلم لیگ ” جس نے نامساعد حالات میں برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کی سیاسی جنگ لڑی ۔قائداعظم جو وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے مقدمے کی پیروی اس خوبی سے کی کہ دنیا کا دوسرانظریاتی ملک جسکی اساس کلمہ ہے ہمارا وطن ٹھہرا وہ وطن جو ہماری دھڑکنوں میں بستا ہے وہ وطن جسکی ازاد فضائوں میں ہم سکون سے سانس لیتے ہیں بالاخوف زندگی جیتے ہیں میرے جذبات کی تفسیر ہے پاکیزہ زمین میرے ایمان کی تکمیل ہے یہ حبِ وطن ملک عزیز میں قومی پرچم
    "پارٹی پرچم "نہیں بن سکتا

    لیکن ……
    پاکستان کی خالق سیاسی پارٹی
    "مسلم لیگ ” کا نام استعمال کرنے کی اجازت کیوں ہے؟
    پاکستان کی خالق جماعت کانام بھی قومی پرچم کی طرح معزز اور محترم کیوں نہیں؟
    اس نام پر درجن بھر بچہ پارٹیاں جن کی ناتو عوام میں جڑیں ہیں اور ناہی پذیرائی۔ جن کے لیڈروں کا کردرا اس نام سے میل ہی نہیں کھاتا جو کسی بھی طرح اس قابل نہیں کہ مسلم لیگ کی حقیقی لیڈر شپ کے وارث کہلاسکیں وہ کیسے اس نام کو استعمال کرتے ہیں؟
    وہ کیسے معصوم عوام کی مسلم لیگ سے محبت کو کیش کرتے ہیں کیسے انکی کم علمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں؟
    اگر مسلم لیگ کے نام پر بنی تمام پارٹیاں اور انکی لیڈر شپ اتنی ہی قابل ہے تو اپنے زور بازو پر عوامی مقبولیت کا مظاہرہ کریں الیکشن میں حصہ لیں اور اکثریت حاصل کرکے اپنی قابلیت کالوہا منوائیں.

    لیکن …………..
    حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمام سیاسی پارٹیاں جو مسلم لیگ کے نام سے عوام کے سامنے اتی ہیں ان سے اگر مسلم لیگ کے نام کا اسمان چھین لیا جائے تو انکے پائوں تلے زمین بھی باقی نا رہے وہ بچہ جس کی تعلیم محض واجبی یا پرائمری تک ہے ۔اسے صرف اتنا پتہ ہے کہ "مسلم لیگ "پاکستان کی خالق جماعت ہے اور وہ تمام عمر لفظ "مسلم لیگ "کا احسان مند رہے اور حقیقی مسلم لیگ کی کارکردگی پر دو نمبر مسلم لیگ کو ووٹ دیتارہے تو قصوروار کون ہے ؟
    وہ کم علم رکھنے والا فرد توبلکل بھی نہیں کیونکہ وہ تو یہ شعورہی نہیں رکھتا اسکی حب الوطنی کسی شک سے مبراہے وہ یہ شعور نہیں رکھتا ہمارے ملک میں خواندگی کا تناسب بہت کم ہے بلکہ بہت سے پڑھے لکھے افراد بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ موجودہ مسلم لیگ کا قیام پاکستان سے کوئ تعلق نہیں۔
    "مسلم لیگ "پاکستان کاقابل فخر اور خالق برانڈ "ہے جسکا ٹیگ استعمال کرنے کی اجازت ہر کسی کو نہیں دی جاسکتی
    کجا یہ کہ اسکے نام پر بےتحاشہ سیاسی پارٹیاں سیاست کرنے کی کوشش کریں اورعوام کی معصومیت کافائدہ اٹھائیں ۔کیونکہ :

    "دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا ”

    اب مسلم لیگ کے نام پر جاری اس کھیل کو بند ہوجانا چاہیے.

    @Nucleus_Pak

  • چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن . تحریر : عظمیٰ صابر

    چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن . تحریر : عظمیٰ صابر

    آزادی ایک خوبصورت احساس بے خوف ہوکر جینے کا احساس آزادی کی قدر محکوم اقوام سے پوچھیں کسی قید پرندے یا انسان سے پوچھیں آزادی نام ہے احساس ذمےداری کا آزادی نام ہے ملک سےوفاداری کا تخیل کی پرواز کا گھٹن سے نجات کا کھلی فضائوں میں سانس لینے کا آزادی کو چھو نہیں سکتے یہ محسوس کرنے اور جینے سے متعلق ہے آزادی بھی اصولوں کی پابند ہے شتر بے مہار آزادی اصل آزادی نہیں بلکہ آزادی کے بھی قواعد وضوابط ہیں آزادی بھی حدود کی پابند ہے آزادی محض اجسام کی آزادی نہیں بلکہ اصل آزادی "فکر اور تخیل "کی آزادی ہے غلامانہ سوچ سے بری کوئ شے نہیں یہ قوموں کے وجود کو نگل جاتی ہے.

    ملا نہیں وطنِ پاک ہم کو تحفے میں جولاکھوں دیپ بجھےہیں تو یہ چراغ جلا پاکستان عطیہء خداوندی اللہ نے ہم پر احسان کیا ہم کو پاکستان دیا ورنہ آج ہم اور اورہماری نسلیں ہندوستان میں بدترین زندگی گزار رہے ہوتے سجدہء شکر واجب ہے آزادی کی اس عظیم نعمت پر، اللہ کے عطاکردہ اس انعام پرملک پاکستان پرمیرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثارمیں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن اے میرے پاک وطن ہم آزاد قوم ہیں جشن آزادی مناتے ہیں دھوم دھام سے مناتے ہیں کئ دہائیوں سے منا رہے ہیں.

    لیکن ……..؟
    کیا محض اجسام کی آزادی، آزادی ہے؟
    کیا بحیثیت قوم ہماری فکر آزاد ہے؟

    جی بلکل فکر آزاد ہے لیکن ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے اکثریت کی فکر اج بھی آزاد نہیں وہ اج بھی اسکادرست ادراک نہیں رکھتے
    وہ اج بھی آزادی کے تقاضوں سے ناواقف ہیں اس سےجڑی ذمےداریوں سے ناواقف ہیں ہم نے یوم آزادی کو محض ایک تہوار بنا دیا ہم اسکی قدروقیمت سے صحیح طور پر ابھی واقف نہیں ہیں ابھی تک پائوں سے چمٹی ہیں زنجیریں غلامی کی دن اجاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں اتی آزادی کاسفر ابھی جاری ہے حقیقی آزادی پانے تک انگریز کےدیے نظام سے اپنی اقدار اور روایات سے جڑے نظام تک اسلام کے حقیقی نفاذ تک یہ سفرابھی جاری ہے حقیقی منزل ابھی دورہے.

    یوم آزادی پر اپنے گھر پر قومی پرچم لگا کردشمن ملک کی موسیقی سے لطف اندوز ہونا انکے ہیروز کی فیشن میں پیروی کرنا
    کیا ایک باوقارقوم کوزیب دیتاہے؟
    ہمارے الیکٹرانک میڈیا میں دشمن ملک کا مواد نشر ہونا کیا ہماری آزادی اور حب الوطنی پر سوالیہ نشان نہیں؟
    ہندی کے الفاظ کا کثرت سے استعمال اور اسے اپنی روزمرہ زندگی کا بہت سہولت سے حصہ بنالینا کیا مناسب طرزعمل ہے؟
    ہمارے ملکی وقار اور خود داری اس سے مجروح نہیں ہوتی کیا ؟
    یہ کمزوری کی علامت کہ اپ اپنے اپنےدشمن کی زبان کواہمیت دیں
    بلاوجہ غیر ملکی مصنوعات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا اور ملکی مصنوعات کو نظر انداز کرنا کیا قومی وقار کے خلاف نہیں؟
    پچھلی صدی کے انگریز کےبنائے ہوئے قوانین جو موجودہ دورسے مطابقت نہیں رکھتے یاجن میں محکومی کی جھلک ہے اج بھی نافذالعمل ہیں
    یہ کیسی آزادی ہے؟
    جو غیروں کی مرعوبیت سےنکلنے نہی دیتی؟
    اپنی دینی اور معاشرتی ذمےداریوں میں کوتاہی برتنا اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا
    کیا مناسب ہے؟
    کیا ممکن ہے کہ ہمارے اس رویے سے ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک دنیا میں بہتر مقام حاصل کرسکے؟
    ہمارا ملکی نصاب کیا ہماری ضروریات , قومی امنگوں اور ترجیحات کے مطابق ہے؟

    بلکل بھی نہیں بلکہ ہمارے نصاب تعلیم میں ہماری زبان اور ہمارے دین سے متعلق مضمون سب سے کم اہم گردانا جاتا ہے ہمارا معاشرہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے دین سے دوری کا شکار ہے ہم نے زندگی کے ہر شعبے کو ایک "بزنس "بنا کر رکھ دیا ہے اور انسانیت طاق پر دھری کوئ غیر اہم شے ہے چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا سیاست وکالت ہو یا عدالت مسیحائ ہو یا صحافت ہمار ےاندر کا بنیا ہر جگہ نظر اتا ہے جو موقع محل دیکھے بغیر چار ٹکے کمانا چاہتا ہے احساس اور ہمدردی غیر اہم جنس ٹھہری

    تو ہم قوم کیسے بنیں گے؟
    اتحاد ,تنظیم اور یقین محکم کب ہماری زندگی کے اصول بنیں گے؟
    کب ہم دین کی رسی کو تھامیں گے؟
    کب قائد کے اصولوں کو اپنائیں گے؟
    اور ……..
    کب فکر اقبال ہمارے ذہنوں کو منور کرے گی؟
    کب ہم اپنے رویوں کو بدلیں گے؟
    اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے؟

    صفائ نصف ایمان ہے لیکن ہم نےپورے ملک کو”کچرادان بناڈالا کرپشن کا زہر حہمارے قومی وجود میں سرایت کرچکا کردارسازی ہمارے لئے غیر اہم ٹھہری سود کی لعنت سے ہم پیچھا نہیں چھڑا پائے

    اب وقت ہے اس تعفن سے نجات پانے کا
    آزادی سے جڑی اپنی ذمےداریاں نبھانے کا۔
    قیام پاکستان کےاصل مقاصد کو منزل بنانے کا
    ملک میں نفاذ اسلام کا خواب پوراکرنے کا

    ہم کب سمجھیں گے کہ ملکی ترقی صرف حکومت اور اداروں کی مرہون منت نہیں بلکہ ہم سب کو بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ اپنی استعداد کے مطابق ملکی ترقی اور فلاح عامہ میں اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ:

    "ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
    جب یہ ستارے ٹمٹمائیں گے
    تو انکی روشنی میں ہمارے راستے اور منزل واضح ہوکر اور نکھر کر سامنے ائے گی یقین کا اجالا ہر سمت پھیلے گا ہمارے ملک کا نام روشن ہوگا ہم ایک طاقت اور قوت بن کر ابھریں گے

    عالم اسلام میں
    عالم اقوام میں

    اندھیرے سے لڑائ کا
    یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں
    جو دیا ہو ، وہ جلا دینا

    @Nucleus_Pak

  • 14اگست اور قائد کی باتیں تحریر: یاسر خان بلوچ

    14اگست اور قائد کی باتیں تحریر: یاسر خان بلوچ

    ایک اور یوم آزادی منایا جا رہا ہے جس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہم نے آزادی حاصل کی۔ہم نے دو قوموں سے آزادی حاصل کی ایک انگریز اور دوسرا ہندو سامراج سے۔ جبکہ ہمارے ہمسائے نے صرف ایک سے آزادی حاصل کی اور وہ تھا برطانیہ۔
    پاکستان بننے کا خواب جو شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نے دیکھا وہ رمضان المبارک کی ستائیسویں اور اگست کی 14 تاریخ کو قائد اعظم نے حقیقت بنا کر پورا کیا۔ پاکستان قائد کی انتھک محنت اور مسلسل جدوجہد کے بعد دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
    قائد اعظم ایک با اصول اور سچے انسان تھے مسلمانوں کے عظیم لیڈر اور رہنما تھے۔ ایک ایسا سچا انسان جس نے اپنے تن من دھن کی بازی لگا دی۔علامہ اقبال کا جو خواب تھا قائد کی محنت اور ذہانت کے بعد مسلمانوں کو آزاد اسلامی ریاست کی صورت میں ملا۔
    14اگست ہماری آزادی کا دن ہے اس دن تنقید کرنا معاشرتی آداب کے خلاف ہے. لیکن آزادی کا دن ضرور ہے مگر کس آزادی کا؟ آزادی ایک قوم کی جو تھی؟ آزادی ایک قوم کی جو ہے؟ آج ہم بحثیت ایک قوم اپنی کارگردگی کا جائزہ لیں تو بڑی افسوسناک حقیقت سامنے آئے گی۔ کہ ہم نے اس طویل عرصے میں اپنے ملک کو چلانے کے اہل ابھی تک نہیں ہوئے جس کا خواب ہمارے قائد نے دیکھا تھا۔
    بانی پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناح نے جمہوری اقدار، آئین کی پاسداری اور برابری کے علاوہ انسانی حقوق کی تکریم پر مبنی معاشرے پر قائم ہونے کا خواب دیکھا تھا۔
    قائد اعظم نے 2مارچ 1940 کو ایم ایس ایف کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ”کسی قوم کا ایک ملک کو چلانے کیلئے تین بڑے بڑے ستونوں کی ضرورت ہے۔ تعلیم، معاشی طور پر مستحکم ہونا اور بیرونی جارحیت کے خلاف ہر وقت تیار رہنا یعنی دفاعی لحاظ سے مضبوط ہونا۔
    قائد اعظم کے مطابق کسی ملک کو چلانے کیلئے پہلی شرط تعلیم ہے جس میں بدقسمتی سے آج تک ہم نے وہ ترقی حاصل نہیں کی جسکا خواب ایک زمانے میں دیکھا گیا تھا۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم پر دوسرے معاملات کو ترجیح دی۔ اور نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پر کم سے کم خرچ کرنے کی کوشش کی۔ جسکی وجہ سے ہماری شرح خواندگی پچاس سے ساٹھ کے درمیان میں اٹکی ہوئی رہتی ہے۔ جبکہ ہمارے خطے کے دوسرے ممالک ہم سے بہت آگے ہیں جس میں سری لنکا اور ایران سب سے بہتر ہیں۔ ہمیں یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں پائی جانے والی خرابیاں دور کرنے پر اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی دینی چاہیے تھی۔ اس شعبے میں ناکامی کی اصل وجہ اور بنیادی وجہ ہمارے تعلیمی اداروں میں طالب علم اور معلم دونوں کیلئے سہولیاتوں کی شدید قلت ہے۔ جس کی وجہ سے نہ کوئی دل لگا کر پڑھتا ہے اور نہ کوئی اپنےدل سے فروغ تعلیم کیلئے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اور آج تک پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی کو یہی نعرہ لگاتے سنتے آئے ہیں کہ ہم تعلیم پر اپنی پوری توجہ دیں گے بعد ازاں حکومت میں آتے ہی ان کو یہ شعبہ نقصان لگنے لگتا ہے کیونکہ اسکی مالی انکم زیرو ہے۔
    قائد اعظم محمد علی جناح نے 30اکتوبر 1948 کو لاہور میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ” تعلیم ہماری قوم کیلئے زندگی اور موت والا مسلئہ ہے۔ دنیا اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ اگر آپ نے خود کو تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ کیا تو خدا نخواستہ ہم مٹ نہ جائیں۔ اپنی غفلت سے ہم نے قائد کی اس پیش گوئی کو سچ ثابت کر دیکھایا ہے۔
    اگر بات معاشی استحکام کی کاروبار، تجارت اور صنعت کے میدان میں کی جائے تو یہ بڑی پریشان کن ہے۔ یہاں کوئی اطمینان کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتا کیونکہ یہاں انتہا پسندی، بے یقین سیاسی صورتحال اور دہشت گردی نے سب کو پریشان کیا ہوا ہے۔ اور تجارت کی صورتحال یہ ہے کہ ہم آزادی سے لے کر اب تک ہماری درآمدات زیادہ ہیں اور برآمدات بلکل کم ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر یہ معاملہ بھی ذرمبادلہ پر بوجھ ڈالتا ہے اور یہ اس وقت تک بہتری نہیں آئے گی جب تک ہم درآمدات اور برآمدات میں توازن نہ قائم کر لیں۔ پاکستان کی پہلی سالگرہ پر 1948 میں قائد اعظم نے فرمایا کہ ” ہمارے دشمنوں نے پاکستان کو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش کی انہوں نے سمجھا کہ پاکستان اپنی معیشت کو قابو نہیں کر سکے گا اور جلد ہی دیوالیہ ہو جائے گا۔ وہ جو تلوار سے حاصل نہ کر سکے وہ ہمارے تباہ شدہ مالی حالات سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا پہلا بجٹ ہی فاضل بجٹ رہا۔ اور دشمنوں کو زبردست مایوسی اٹھانا پڑی۔ آج جو پاکستان مالی مشکلات کا شکار ہے اسکی بڑی وجہ ہم نے اپنے پاؤں چادر سے باہر پھیلا لیے ہیں ہمیں اپنی چادر کے سائز کو بڑا کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ساتھ اپنے پاؤں بھی سمیٹنے چاہیے اور سادگی اپنائی جائے۔جیسے ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے کہا تھا اب اسے عملی طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔
    یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ تعلیم اور تجارت کے برعکس ہم نے دفاعی لحاظ سے کافی ترقی کی ہے۔ پاکستان کی فوج ہر طرح کے اسلحہ سے لیس ہے اور ہر نوعیت میں خود کا دفاع کرنے کے اہل ہے ہماری فوج ایٹمی اسلحے سے لیس ہے جس میں دشمن ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔
    23جنوری 1948 کو قائد اعظم نے پاکستان نیوی کو اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کتنا ہی مظبوط نہ ہو اپنے وطن کے دفاع کی بنیادی ذمہ داری ہماری ہے۔
    یوں غالباً یہ واحد ادارہ جس میں ہم قائد اعظم کے خواب کے مطابق پورے اترے۔

  • ‏میرا پہلا پیار ۔۔۔۔۔پاکستان تحریر سویرااشرف

    ‏میرا پہلا پیار ۔۔۔۔۔پاکستان تحریر سویرااشرف

    پاکستان ہمارا پیار ترین ملک جس کے لیے ہمارے آباواجداد نے قربانیاں پیش کی۔ہماری عظمت کا نشان، ہمارے جینے کی وجہ، ہمارا فخر، ہمارا پیارا پاکستان
    بابا جی واصف علی واصفؒ نے فرمایا تھا کہ” پاکستان نورہے اور نور کو زوال نہیں “۔ اللہ کے خاص کرم سے ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔اگر اس وطن کو حاصل کرنے کی جدوجہد پر روشنی ڈالی جاۓ تو قربانی کی کٸی دستانیں ملیں گی۔ ہم سمجھتے ہیں اقبالل نے خواب دیکھا، قاٸد نے تکمیل کی، چوہدری رحمت علی نے نام رکھا اور یوں پاکستان بن گیا۔ جبکہ لفظ پاکستان کا ایک ایک حرف اپنے اندر لمبی لمبی داستان رکھتا ہے۔یہ ایک بہت طویل، تکلیف دہ، تھکا دینے والا سفر تھا۔ 23 مارچ 1940 سے لیکر 14 اگست 1947 تک کے سفر میں ہمارے آباواجداد نے بیشمار قربانیاں دی۔ ہجرت کے دوران لاکھوں لوگ شہید ہوۓ، ہزاروں بچے یتیم ہوۓ، کٸی عورتوں کے سہاگ اجڑے، سینکڑوں لوگ اپنے پیاروں سے دور ہوۓ،بچے اپنی ماوں سے دور ہوۓ، لوگوں کے ہاتھ پاوں کٹ گٸے،راوی کے پانی کا رنگ خون جیسا سرخ ہو گیا۔ ہجرت کے تکلیف دہ سفر کے بعد پاکستان آ کر بغیر کسی سامان کے زندگی کا آغاز کرنا، اتنی لازوال قربانیوں کے بعد ہمیں یہ پیارا وطن حاصل ہوا جس میں ہم آج سانس لے رہے ہیں اپنی مرضی سے رہ رہے ہیں۔پاکستان ہمارے بزرگوں کی نشانی ہے۔ اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ اس پر جان نثار کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہیئے۔لیکن ہم احسان فراموش لوگ پوچھتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے? کیا ہم نے کبھی خود سے تنہاٸی میں سوال کیا ہے کہ اس سرزمین کو ہم نے کیا دیا ہے? گندی سڑکیں، کوڑا کرکٹ، گندگی،اپنے ملک کا کھا کر اپنے ملک کو ہی گالیاں دیتے ہیں?
    بطور پاکستانی ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہمارا پہلا پیار یہ ملک ہو۔ جیسے ہم اپنے محبوب ترین چیز کی حفاظت کرتے ہیں ویسے ہی اپنے محبوب وطن کی سڑکیں اور گلیاں صاف رکھیں، اسکو گندگی سے محفوظ رکھیں، پودے لگا کر اسکو سرسبز بناٸیں، کرپشن، سود، رشوت خوری، حرام کاموں سے اسکو پاک کریں کیونکہ اس کی خوشحالی کی لیئے اخلاص کے ساتھ کام کرنا ہماری نیت اور ارادہ ہونا چاہیئے۔ ہمیں اس کی مضبوطی اور حفاظت کے لیئے اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے تا کہ اس کی دیواریں اتنی مضبوط ہوں کہ کوئی دشمن اس کو میلی آنکھ سے دیکھنے کا سوچ بھی نہ سکے۔
    پاکستان ہمارا فخر ہے، غرور ہے، ہماری عزت ہے۔اس کی مٹی،ہوا،پانی اسکا ایک ایک ذرہ ہماری عزت ہے۔ یہ ہماری شناخت ہے اسکے بغیر نہ ہماری کوٸی پہچان ہے نہ کوٸی شناخت، ماں باپ کی شناخت ملنے سے پہلے یہ زمین ہمیں شناخت دیتی ہے ۔ہم اسکی مٹی پربستے ہیں۔ یہاں اپنے اور اپنے بچوں کے لیئے روزی روٹی کما تے ہیں۔آزادی سے سانس لیتے ہیں، ہم اسی مٹی پر جیتے ہیں اور اسی پر مرتے ہیں۔ یہاں ہم ہمارے پیارے بستے ہیں۔ یہاں ہماری بزرگ ہستیاں دفن ہیں۔ ہمارے آباو اجداد دفن ہیں۔ایک دن ہمیں بھی اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور روزِ قیامت اس مٹی سے اٹھائے جائیں گے۔
    ہم جذبہ و جوش کا پہاڑ رکھتے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے، ہمارے سینے فخر سے چوڑے ہوجاتے ہیں۔جہاں بھی پاکستان کا ترانا گونجتا ہے، سن کر دل کو قرار ملتا ہے کہ یہ ترانہ ہماری آزادی کا اعلان ہے۔ دل ایک عجیب سی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
    پاکستان پانچ دریاؤں کی خوبصورت سرزمین ہے۔اللہ کی خاص عنایت ہے کہ یہاں چار موسم پائے جاتے ہیں۔ یہاں مختلف قوموں کے لوگ آباد ہیں۔ اس کی سرزمین قیمتی ہے۔پاکستان کے بہت سے علاقے اپنی خوبی میں ثانی نہیں رکھتے اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
    یہ

    لیکن افسوس ہماری الوطنی صذف چودہ اگست پر دیکھنے کو ملتی ہے ہم گھروں پر جھنڈے لگا کر اپنے پیار کا اظہار کرتے ہیں کری ضرور کریں لیکن اس جھنڈے کو زمین پر کبھی بھی گرنے نہ دیں۔ یہ جھنڈا ہماری آن، بان، شان اور پہچان ہے۔ اور اب وقت کی ضرورت ہے کہ ہم جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ پودے لگا کر اپنے ملک کو سرسبزو شاداب بناٸیں پھر جھنڈیوں اور پودوں دنوں کی حفاظت کریں۔
    انبیاء کرام علیہ السلام بھی اپنے وطن سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہمارے پیارے آقا رسول پاکِ ؐ کو مکہ سے بہت محبت تھی۔ جب مدینہ میں آپؐ جا بسے تو آپؐ نے مکہ شریف کے لیئے دعائیں کی۔ پس! وطن سے محبت ہمارے ایمان کا کا جزو ہے۔ انشاء اللہ پاکستان نے قیامت تک قائم دائم رہنا ہے اور دنیا پر راج کرنا ہے۔
    14 اگست کا دن جوش و جذبے سے مناتے ہوۓ قاٸداعظم علامہ اقبال سمیت سب رہنماوں اور آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو اپنی دعاوں میں یاد رکھیں۔اللہ پاک انکی قربانی قبول فرماۓ آمین۔
    اللہ ہمیں آزادی جیسی نعمت کی قدر کرنے اور اس سرزمین کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین
    خدا کرے میری ارضِ پاک پر اترے
    وہ فصلِ گُل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
    آمین
    پاکستان زندہ باد
    پاکستان پاٸندہ باد

    ‎@IamSawairaKhan1

  • وطن کی مٹی گواہ رہنا تحریر: سیدہ بخاری

    وطن کی مٹی گواہ رہنا تحریر: سیدہ بخاری

    تیرہ اور چودہ کی درمیانی شب، جونہی گھڑی کی سوئیاں بارہ کے ہندسے پر پہنچیں مصطفی علی ہمدانی کی آواز ریڈیو سٹیشن میں گونج اٹھی۔
    "السلام علیکم پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس، ہم لاہور سے بول رہے ہیں”
    آج پاکستان کے پچھترویں یومِ آذادی کے موقع پر جب میں یو ٹیوب پر یہی اعلان سنتی ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنکھوں سے آنسو امڈ آتے ہیں اور میرا ذہن اور دل چوہتر سال پیچھے چلا جاتا ہے، اور میں خود کو ان لوگوں میں محسوس کرتی ہوں جنہوں نے اپنے کانوں سے یہ اعلان سنا ہوگا اور اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے دیکھا ہوگا۔
    ہم ان لوگوں کے خون اور انکی قربانیوں کا قرض کبھی نہیں چکا سکتے، ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ انکی جانوں، مال اسباب اور لٹی پٹی عزتوں کا بدلہ کبھی چکا سکیں گے ۔
    لیکن ہم اتنا تو ضرور کر سکتے ہیں کہ جو پاکستان ہمارے بڑوں بیش بہا قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا اسکو آگے بڑھانے، اسکا نام روشن کرنے اور ساری دنیا کے سامنے اسکا مثبت چہرہ دکھانے کی کوشش کریں 
    یہ زمین مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت
    اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
    پاکستان ہمارے لئے اللہ کا خاص انعام ہے اور ہمارا فرض بنتا ہے کہ اللہ کے اس انعام کی قدر کریں اور اسکو آگے بڑھانے، ساری دنیا میں اسکی عزت اور نام بنانے کے لئے مثبت کردار ادا کریں۔
    اس ملک کی ماؤں نے بہت سے ہیرے جنے ہیں جنہوں نے پاکستان کی شان بڑھائی اور وہ آج بھی پوری آب و تاب سے چمک رہے ہیں،
    قائد اعظم سے لے کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک اللہ پاک نے اس ملک کو بہت سے عظیم لوگوں سے نوازا ہے۔
    کوئی اس ملک کو بنانے کے لئے اپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر دن رات  جُتا رہا تو کوئی اسکو اسکی حفاظت کیلئے اپنی جان و مال اور گھرانے کی پرواہ کئے بغیر سرحدوں پر پہرے دیتا رہا اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتا رہا ،
    کوئی اسکو آگے بڑھانے لئے اپنے دن رات ایک کرتا رہا تو کوئی اس کو ایٹمی طاقت بنانے کے لئے بیرونی طاقتوں سے لڑتا رہا۔
    اس ملک نے بہت بہادر بیٹے اور بیٹیاں اپنی آغوش میں سمیٹ رکھے ہیں جنہوں نے اسکا نام روشن کرنے میں ہر ہر لمحہ اپنا بہترین کردار ادا کیا۔
    گو کہ ہم ایک ترقی پزیر ملک ہیں لیکن اللہ پاک نے اس ملک کو بہترین افواج سے نوازا ہے ،
    1979 سے 1989 تک دس سال کا عرصہ روس
    نے افغانستان کے بہانے پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ کے فضل سے ہمارے بہادر جوانوں کی شجاعت اور بہترین حکمت عملی کی وجہ سے روس ناکام ہو کر واپس لوٹ گیا اور اسی طرح 2001 میں امریکہ بہادر اور اسکے اتحادیوں نے ایک مرتبہ پھر سے افغانستان کے بہانے پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بہت کوشش لیکن یہ ساری دنیا نے دیکھا کہ الحمدللہ ہمارے ملک کی ایجنسیوں  نے انکے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا اور امریکہ کو بھی اس میں منہ کی کھانی پڑی۔
    اور پھر اپنے آقاؤں کی دیکھا دیکھی کچھ لگڑ بگڑ 26 فروری کو جھوٹی سرجیکل سٹرائیک کرنے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے لیکن ہمارے شاہینوں نے انکو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا اور پھر ساری دنیا کے سامنے اللہ نے ہمارے دشمن کو زلیل و رسوا کیا۔
    اسی لئے ہمارے ہر دشمن کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ
    ” There is no power on earth that can undo Pakistan.”
    اور میرا یہ ایمان ہے کہ لا الہ کے نام پر بننے والا یہ ملک ہمیشہ قائم رہے گا اور اسکو کبھی زوال نہیں آئے گا۔

    دہشتگردی کی یہ جنگ جو ہم پر ہمارے کم ظرف
    ہمسائیوں کی طرف سے مسلط کردی گئی تھی اس
    میں اس بہادر قوم اور فوج نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ اور مجھے اللہ کی ذات پر پورا یقین ہے کہ ان قربانیوں
    کا صلہ ہمیں ضرور ملے گا اور پاکستان اس دنیا کے افق پر ایک روشن ستارے کی مانند ابھرے گا۔

    سوشل میڈیا پر جب بھی کبھی میں لوگوں کو پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے دیکھتی ہوں تو مجھے دکھ ہوتا ہے کہ کیوں ہر وقت ہم  اپنے وطن سے شکوے کرتے رہتے ہیں اور کیوں ہم اپنے وطن کے صرف منفی پہلو ہی اجاگر کرتے ہیں۔
    ہمیں شرمین عبید نہیں بننا ،ہمیں اپنے وطن کے مثبت پہلو بھی اس دنیا کو دکھانے ہیں، اگر یہاں دھوکہ دہی ہے ،بے حسی ہے تو یہاں عبد الستار ایدھی اور مسرت مصباح جیسے عظیم لوگ بھی ہیں جو بس خاموشی سے اس وطن کے مجبور اور بے بس لوگوں کو بنانے میں لگے رہتے ہیں،
    ایکدوسرے کو موردالزام ٹھہرانے کے بجائے ہمیں اپنے حصے کا دیا جلانا ہوگا ہے،بے غرض ہو کر اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
    برائیاں ہیں بھی تو کیا ہوا؟
    ہر ملک میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن کون اپنے ہی گھر کی برائیوں کا چرچا کرتا ہے؟
    کون اپنے عیب لوگوں کو دکھاتا ہے؟
    ہمیں بھی اپنے حصے کا دیا جلانا ہے ، اس ملک کو آگے بڑھانا ہے، جتنا ہمارے بس میں ہے ہمیں اتنا فرض ادا کرنا ہے۔
    تنکا تنکا جڑ کر آشیانہ بن جاتا ہے ایسے ہی ہمیں جھوٹے جھوٹے مثبت اقدام سے اپنے وطن کا نام روشن کرنا ہے اور اسکی بہتری کے لئے ساتھ مل کر کوشش کرنی ہے کیونکہ
    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن تم کو
    ذندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

  • غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی  تحریر  : انجینیئر مدثر حسین

    غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    مشکل اور مشکلات کا دوسرا نام زندگی ہے۔ ہم نے تو ہی سنا ہے۔ اس مختصر سی زندگی کو جینے کے لئے مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں شاید اتنی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا اگر ہم انسانیت کا درس دیتے اور عملی طور پر انسانیت کے لئے کچھ کرتے تو اس دنیا میں بے بس اور مجبور انسان بھوک سے نہ مر رہے ہوتے۔

    آج ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہمارے ہاں مذہبی رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے ہمارے مذہبی علما منبر پر بیٹھ کر سادگی اور انسانیت کے ساتھ بھلائی کا درس دیتے نظر آتے ہیں لیکن صرف الفاظ کی حد تک عملی طور پر ہمیشہ وہ فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی میں متحرک نظر آتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی گاڑی سے اتر کر بہترین اور مہنگی خوشبوئیں لگا کر پیر صاحب عالم صاحب مولانا صاحب مریدین کے گھیرے میں آتے ہیں۔

    یہاں کوئی ہاتھ چوم رہا تو کسی نے قدموں کا بوسہ لیا لاکھوں روپے خرچ کر کے محفل سجتی ہے کھانے بنتے ہیں نذرانے پیش کیئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ایک غریب کا بچہ کسی اشارے پر کھڑے گاڑیوں کو صاف کر رہا ہوتا یا کسی پارک میں پھول بیچتا نظر آتا ہے۔
    میرے خیال میں پھول کے ہاتھوں سے پھول خریدتے وقت زندہ ضمیر ضرور سوچتے ہوں گے ان میں انسانیت کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہو گا مگر کروڑوں میں کوئی ایک ہی عبدالستار ایدھی بنتا ہے۔ہمارے حکمران سینکڑوں کی تعداد میں سکیورٹی کے نام پر خرچ کرتا ہے

    وہیں یہ سب کچھ دیکھ کر غریب کا بچہ ڈر رہا ہوتا ہے جو احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے صاحب اسے تو دو وقت کی روٹی چاہیئے وہ اپنی ماں کا لاڈلا اپنی بہنوں کا ویر عمر میں جتنا بھی چھوٹا ہو اپنے گھر کا بڑا ہوتا ہے۔ حالات اور مشکلات کے مارے زندگی کے ستائے یہ غریب لوگ روز قیامت اپنے خدا سے سوال ضرور کریں گے۔ وہ اس تقسیم پر اپنے اللہ تعالٰی سے ضرور پوچھیں گے۔ پھر اس کا جواب اس کا ذمہ دار ہر وہ صاحب استطاعت شخص ہو گا ہر وہ عالم ہو گا ہر بادشاہ ہو گا جو اپنی زندگی میں مگن رہا جس نے اپنے علم کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا خدارا آپ اپنے اندر رحم پیدا کریں۔

    ان پارکوں میں کھڑے بچے بازاروں ، گلی ، محلوں میں ریڑھی لگائے معذور اور کم سن کسی سڑک کے کنارے کچھ بیچتے ہوئے بوڑھے۔
    میری بہنوں اور بھائیوں اس وطن کے باشعور شہریوں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں میں نہ محلات بنانے کی کوئی خواہش ہوتی ہے نہ ہی حکمرانی کرنے کی وہ صرف دو وقت کی روٹی کے لئے زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں او آج عہد کریں ہم اپنے اندر احساس پیدا کریں گے۔ہمیں خود کو بدلنا ہو گا خود کو تبدیل کرنا ہو گا کوئی حاکم ہمیں نہیں بدلے گا۔

    یہ چراغ ہم خود ہی روشن کرنا ہوگا اپنے حصے کی شمع خود روشن کرنی ہو گی ۔
    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @EngrMuddsairH

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار تحریر چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار تحریر چوہدری عطا محمد

    قوم و ملک کو ترقی کی معراج لے جانا ہے تو تعلیم پر بھر پور توجہ دینا ہوگی اس لئے نہ صرف ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی ترک کرنا ہوگی بلکہ مزید سرکاری تعلیمی ادارے قائم کرنے ہونگے۔ تعلیم وصحت کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے مگر پاکستان میں جہاں غربت مہنگائی،بےروگاری نے غریب بچوں کو اسکولوں سےدور کردیاہے کہ ان کیلئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گئی ہے وہاں پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں نے تعلیم کو اس قدر مہنگا کردیا ہے کہ اوسط درجے کی آمدن والے لوگ بھی اپنی اولادوں کو معیاری تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں

    ایسے حالات میں غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھائے یہ تعلیم کے بھاری اخراجات برداشت کریں چاروں طرف لوگوں نے تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے گلی اور محلوں میں پرائیویٹ سکول کالجز اور یونیورسٹیاں تک قائم ہوچکی ہیں۔

    والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرے لیکن آسمان سے باتیں کرتی فیسوں نے شفید پوش والدین کیلئے بچوں کی تعلیم کو ایک خواب بنا دیا ہے

    میڈیکل کی تعلیم کے اخراجات تو سرکاری اداروں میں بھی عام آدمی کیلئے برداشت کرنا بہت مشکل ہے ۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں 40سے50لاکھ کون ادا کرے؟

    جس کو میرٹ کہا جاتا ہے وہ کہاں ہے؟ اب تو صرف دولت ہی میرٹ ہے صلاحیت کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تعلیم نے بیوپار کا روپ اختیار کر لیا ہے یہی وجہ ہےکہ غریب کے بچے ہر طرح کی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اور ان کے والدین وسائل کی کمی کے سبب ان کو تعلیم نہیں دلواسکتے۔ محنت کش بچے کوئی پیدائشی محنت کش نہیں ہوتے۔

    ان کی شکلیں بھی ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی ہوتی ہے لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے میں چھوٹے بن کر رہ جاتے ہیں
    اس پر لکھنے کو بہت سے الفاظ ہیں ان شاءاللہ اگلی تحریر میں مزید بات ہوگی غریب بچوں کی تعلیم کے مسائل پر
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • مفاد پرست اور معصوم ووٹرز تحریر : احمد خان

    مفاد پرست اور معصوم ووٹرز تحریر : احمد خان

    میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ اللہ تعالی اس مرتبہ میری قوم کو ایسا شعور عطا کر دے کہ یا تو وہ خود سے یہ اقدام اٹھائیں یا پھر میرا کالم پڑھ کر ان کے دل بدل جائیں
    میرے پاکستانیو اپنے اپنے علاقوں اور اپنے اپنے شہروں کے ایم این اے ایم پی ایز کی لسٹ تیار کرکے رکھ لیجئے اور اس مرتبہ جو بھی ایم این اے یا ایم پی اے تمہارے در پر ووٹ لینے کے لیے آئے تو تم نے دھکے دے کر نکالنا ہے

    اور میں اپنے ایم این اے ایم پی اے کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر بھول کر بھی تم میرے در پر مجھ سے ووٹ لینے یا مجھ سے ملاقات کرنے آئے تو میں تمہارا منہ کالا کرتے ہوئے تمہیں دھکے دے کر نکال باہرکرونگا میں تو تم کرپٹوں کی شکلیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا
    الیکٹیبلز ان مفاد پرست MNA MPA’s کو کہتے ہیں جو اپنے ذاتی فائدے کے لیے ایک پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں جن کا خدمت خلق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جن کا نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کا تعلق صرف اور صرف اپنی ذات تک ہوتی ہے
    یعنی ان کی سیاست کی کل اوقات یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے علاقے کے ووٹرز کو سہانے خواب دکھا کر ووٹ حاصل کرتے ہیں اور بعد میں وہ اپنی اوقات بھول جاتے ہیں
    اور جس بنیاد پر یہ ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرتے ہیں جیتنے کے بعد یہ اسی کامیابی کو اپنی عیاشیوں اور کرپشن کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں
    حکومت جو فنڈذ ان کو ووٹرز کی فلاح و بہبود اور علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری کرتی ہے یہ بھوکے ننگے حریص ایم این اے ایم پی ایز عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے انہی پیسوں میں غبن کرتے ہیں
    اور پھر پسماندہ علاقوں کے جن غریب عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کو اس امید پر ووٹ دیا ہوتا ہے کہ یہ جیتنے کے بعد ہمارے مسائل حل کریں گے ہمارے علاقے میں ترقیاتی کام کروائیں گے
    عوام کے مسائل یا ترقیاتی کام کروانا تو دور یہی کرپٹ جیتنے کے بعد اپنے علاقوں سے ہی ہجرت کر جاتے ہیں کوئی کرپشن کے بعد اپنی پراپرٹی اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقوں میں خرید کر وہاں شفٹ ہو جاتا ہے
    کوئی لاہور منتقل ہو جاتا ہے تو کوئی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے اچھے مستقبل اور ان کے کاروبار کی خاطر عوام کے پیسوں سے کرپشن کرکے بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے
    اور پیچھے بچتی ہے وہی معصوم عوام جو ہمیشہ ان الیکٹیبلز کے جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعروں پر اعتبار کرکے اسی امید پر پانچ سال گزار دیتی ہے کہ ہمارے مسائل حل ہوں گے ہمارے علاقوں میں ترقیاتی کام ہوں گے ہماری زندگی بہتر ہو جائے گی ہمیں اچھی تعلیم اچھی صحت اور اچھے روزگار کے مواقع میسر آجائیں گے
    لیکن اس عوام کے حصے میں سوائے ذلت و رسوائی اور انتہا درجے کی خوشامد کے کچھ نہیں آتا اور یوں یہ عوام جن سانپوں سے ماضی میں ڈسی ہوتی ہے ایک مرتبہ پھر ان سانپوں کے حق میں خوشامدانہ نعرے لگاتے ہوئے گلے پھاڑتے ہوئے ان کے جھوٹے نعروں اور وعدوں پر ایک مرتبہ پھر اعتبار کرتے ہوئے انہیں ووٹ دے کر خود اپنی تباہی اور بربادی کا سامان کر لیتی ہے اور انہی سے پھر سے ڈسوانا شروع کر دیتی ہے
    اے کاش میرے ملک کے ووٹرز کو یہ احساس ہو جائے کہ تم بھی انسان ہو تمہارے بھی بچے ہیں تمہاری بھی عزت نفس ہے ووٹ دینے کے بعد اپنے رہنماؤں سے اپنے ووٹ کا حساب لینا بھی تمہارا حق ہے اپنے رہنماؤں کی کارکردگی پر ان کا گریبان پکڑ کر ان کا احتساب کرنا بھی تمہارا حق ہے
    اے کاش اس مرتبہ میری قوم اسی طریقہ کار پر چلتے ہوئے ان تمام کرپٹ الیکٹیبلز کا منہ کالا کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دے اور میں یہ دعوے سے کہتا ہوں پھر نہ تو فوج کی یہ جرات ہوگی کہ وہ تمہارے اوپر کسی کرپٹ کو مسلط کرے اور نہ ہی کسی پارٹی کی یہ جرات ہوگی کہ وہ کسی کرپٹ الیکٹیبل کو ٹکٹ دے
    جب تم عوام ہی اپنے ووٹ سے بدترین کمینوں اور مفاد پرستوں کا انتخاب کرو گے تو پھر میرے پاکستانیوں مجھے بتاؤ کہ فوج اور سیاسی جماعتیں پھر ایسے لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیوں نہ کریں جب تم خود ہی برے لوگوں کا انتخاب کرتے ہو تو پھر فوج اور سیاسی جماعتوں کو تم الزام نہیں دے سکتے
    میرے پاکستانیو اس مرتبہ اپنے جائز حقوق کی خاطر اپنی بوسیدہ اور غلامانہ زندگی کی کایا پلٹ دو
    اور انسانوں کی طرح عزت اور وقار کے ساتھ سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ سیکھ لو…

    ‎@iamAhmadokz

  • غربت بڑھ گئی!  تحریر :اقصٰی صدیق

    غربت بڑھ گئی! تحریر :اقصٰی صدیق

    عام طور پر کسی انسان یا معاشرے کی بنیادی ضروریات زندگی کو دیکھتے ہوئے اس کی خوشحالی اور غربت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔آئے روز مہنگائی اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت کی ایک اہم اور بڑی وجہ ہے۔حال ہی میں سال 2020ء میں کرونا وبا کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔اور موجودہ سال میں بھی حالات کچھ زیادہ بہتر نہیں ہیں ۔
    موجودہ دور میں پاکستان کئی مسائل میں گھرا ہوا ہے، اور اس وقت ملک کا ایک بڑا مسئلہ غربت ہے، اور غربت کی بنیادی وجہ بے روزگاری ہے۔جس سے دیگر کئی مسائل جیسا کہ، جہالت، بھوک و افلاس معاشی و معاشرتی پسماندگی اور چوری و ڈکیتی جیسے کئ گھناؤنے جرائم جنم لے رہے ہیں۔

    در حقیقت بے روزگاری ایک عالمی مسئلہ بن گیا ہے، کئ ترقی یافتہ ممالک جیسا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس جہاں اکثریت آبادی امیر و برسرِ روزگار ہے، وہ بھی غربت کی زد میں آگئے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں بےروزگاری کو ایک سماجی و معاشرتی برائی کے طور پر لیا جاتا ہے، جس سے فاقہ کشی اورمختلف وباؤں کے پھیلنے جیسے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں۔اور انہیں حالات کی زد میں آکر لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
    پاکستان میں تین طرح کے لوگ آباد ہیں، پہلے نمبر پر امیر طبقہ ہے، جس کے پاس ہر قسم کی آرام و آسائش کی سہولتیں موجود ہیں، اور وہ بہترین زندگی گزار رہے ہیں، دوسرے نمبر پر درمیانی قسم کے لوگ ہیں،جو غربت کی چکی میں پسنے والوں سے تھوڑا اوپر ہیں ، اور تیسرے نمبر پر اس ملک کا غریب ترین طبقہ ہے جو کہ محض دو وقت کی روٹی کیلئے بھی ترستا ہے۔
    میرے ملک پاکستان میں امیر آئے دن امیر ترین اور غریب، غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔جو کہ اس ملک میں غیر منصفانہ تقسیم کا سبب ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق دنیا کی ٪85 دولت صرف ٪10 فیصد افراد کے پاس ہے جبکہ دولت کا صرف ٪15 فیصد باقی کی ٪90 فیصد آبادی کے پاس ہے۔ یہ اعداد و شمار دنیا بھر میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو واضح کرتے ہیں۔

    غربت کی بھی بہت سی وجوہات ہیں۔

    جن میں سے ایک بڑی وجہ بے روزگاری، روزگار کے مواقعوں کی کمی ہے، اور دوسری بڑی وجہ جہالت، تعلیم کا فقدان ہے، اور جو افراد تعلیم یافتہ ہیں، تو ان کو ملازمت کے حصول کیلئے رشوت اور کسی اچھی سفارش کا سہارا چاہیئے۔ اور اس کے بغیر تو ملازمت کا حصول ناممکن ہے، اس طرح کے نظام سے ہماری نوجوان نسل ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔آئے روز خبروں میں یہی سننے کو ملتا ہے کہ فلاں جگہ، فلاں شہر میں غربت سے تنگ آکر نوجوان نے خود کشی کر لی۔ باپ نے بچوں سمیت خود کو مار ڈالا، وجہ دو وقت کی روٹی پوری نہ کر سکا ۔
    آخر کب تک ہمارا معاشرہ اسی نظام کے تحت چلتا رہے گا؟
    معاشرے کے اس طرح کے نظام سے لوگوں میں مایوسی اور بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے اور یہی مایوسی اور بے اطمینانی نوجوان نسل میں حکومت کے خلاف انتشار کے جذبات ابھارتی ہے، اور یہی انتشار بغاوت کا سبب بنتا ہے، اور پھر بغاوت انقلاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے،
    ہم آخر کب سمجھیں گے؟ کہ ہماری نوجوان نسل ہمارا سرمایہ ہے۔
    مگر میرے ملک کے حکمران خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔موجودہ حکومت کے حکمرانوں کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ اس ملک سے غریب کو نہیں، بلکہ غربت کو مٹانا ہے، غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ کرنا ہے۔تا کہ معاشی اور سیاسی مسائل پیدا نہ ہوں۔
    اور مزید کڑوا سچ یہ ہے کہ حکمران عوام کو صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور برسر اقتدار آتے ہی انہیں عوام کا خیال نہیں رہتا۔

    غربت دیمک کی طرح انسانی معاشرے کی خوشیاں اور آرام و سکون کھا جاتی ہے۔غربت پر قابو پائے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ اور ترقی یافتہ معاشرے کے بغیر کوئی ملک ترقی یافتہ ملک نہیں بن سکتا۔
    چائلڈ لیبر غربت زدہ معاشرے کی ذندہ مثال ہے، جن بچوں کو اسکول میں ہونا چاہئے، وہ فٹ پاتھ پر چیزیں بیچتے، گھروں اور ہوٹلوں میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔ہمارے معاشرے نے ان معصوموں کا بچپن، ان کے جینے کا حق اور یہاں تک کے ان کے چہروں سے مسکراہٹ تک چھین لی ہے۔
    کل کو یہی بچےحقوق کی حق تلفی کی وجہ غلط راہ پر چلیں گے۔ ہمارے ملک میں ہر سال لاکھوں بچے جنسی و جسمانی تشدد کا شکار ہوتے ہیں، تقریباً 33 لاکھ بچے چائلڈ لیبر فورس کا حصہ ہیں ۔اس کے باوجود ہم چائلڈ لیبر کے خلاف آواز بلند نہیں کر پاتے، کیوں کہ ہمارے خیال میں اس کے پیچھے ہمارا ہی فائدہ ہے۔
    یاں ان کا فائدہ ہے، جو غربت کے سبب دو وقت کی روٹی کے عوض ان معصوموں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔
    ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 4.4فیصد سے بڑھ کر 5.4 فیصد ہوچکی ہے۔
    آبادی میں آئے دن بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے، وسائل ختم ہو رہے ہیں، جس کی بدولت غربت بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ زراعت میں بھی کچھ خاص حالات ٹھیک نہیں ہیں۔سالانہ بارشوں کی وجہ سے فصلوں کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو جاتا ہیں۔
    ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ تعلیم،اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
    غربت کے خاتمے کے لیے ہمیں تین بنیادی میدانوں یعنی آبادی میں اضافے، تعلیم اور ٹیکس وصولی کے شفاف نظام پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔اہل افراد کو ان کی اہلیت کی بناء پر ملازمتیں دی جائیں۔
    پاکستان ہر سال غربت کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک، سے کچھ سالانہ امداد حاصل کرتا ہے،
    جبکہ ملک کے اندر بھی بینظیر انکم سپورٹ، احساس پروگرام، EOBI، اخوت اور پاکستان بیت المال جیسے کئ پروگرام غریب لوگوں کی مدد کے لیے سرگرم ہیں،لیکن اس کے باوجود لاکھوں مستحق افراد غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے اس امداد کو لے نہیں پا رہے۔
    پاکستان کو غربت کے خاتمے کے لیے مذید سیاسی اصلاحات کی ضرورت ہے۔غرباء کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائے، تعلیمی نظام بہتر کیا جائے اور آبادی میں اضافہ کو روکا جائے، تا کہ آئندہ سالوں میں ملک کسی بھی قسم کے بحران کا شکار نہ ہو۔

    ‎@_aqsasiddique