Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بین الاقوامی منظر نامہ کیا کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے .؟ تحریر : نواب فیصل رحمن اعوان

    بین الاقوامی منظر نامہ کیا کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے .؟ تحریر : نواب فیصل رحمن اعوان

    اس وقت دنیا میں افراتفری کا ماحول ہے حالات دنیا بھر میں انتہاٸ کشیدہ ہیں ۔
    اشیاۓ خوردونوش سے لے کر پیٹرول تک تمام چیزوں کی خودساختہ شارٹیج کی جا رہی ہے ۔
    دنیا بھر کے اسٹورز خالی ہو رہے ہیں کسی کو بھی کوٸ چیز لینے کیلۓ ایڈوانس بکنگ کرانا پڑ رہی ہے ۔
    امریکہ کی معیشت اس وقت بلکل گرنے کے قریب ہے ذراٸع کے مطابق امریکہ کو اپنے ہی ملازمین ، فوج اور انٹیلیجنس اداروں کو دینے کیلۓ تنخواہ ہی نہیں ہے ۔
    چین میں اس وقت شدید بجلی کا بحران ہے جس سے چاٸنہ بھی متاثر ہو رہا ہے ۔
    بارڈرز پہ چین لداخ میں آگے پیش قدمی کرنے کیلۓ بھاری آرٹلری اور میزاٸل سسٹم لداخ میں نصب کر چکا ہے ۔
    حالیہ چین کے ہاٸپرسونک میزاٸل سسٹم کے کامیاب تجربے کے بعد دنیا ورطہ حیرت میں ہے کہ چاٸنہ نے آواز کی سپیڈ سے بھی پانچ گنا زیادہ سپیڈ سے نیوکلٸیر وار ہیڈ لے جانے والا ہاٸپرسونک میزاٸل بنا لیا ہے جس کو کسی بھی ریڈار سے ٹریس نہیں کیا جا سکتا اور امریکہ کے پاس اس کو روکنے کیلۓ کوٸ ریڈار موجود نہیں ہے ۔
    بھارت نے لداخ میں سات ہزار فوجی بارڈر پہ بلا لیۓ ہیں بھاری تعداد میں گولہ و بارود ٹینک اور ڈرون طیارے لداخ میں پہنچ چکے ہیں ۔
    کشمیر میں اس وقت فریڈم فاٸٹرز کی جانب سے بھارتی بزدل فوج کو سخت ردعمل کا سامنا ہے کٸ بھارتی فریڈم فاٸٹرز کے حملے میں مردار ہو چکے ہیں ۔
    فریڈم فاٸٹرز نے بھارت کو گھنے جنگلات میں الجھا کے رکھ دیا ہے کٸ بھارتی فوجی فریڈم فاٸٹرز کی جانب سے یرغمال بنا لیۓ گۓ ہیں ۔
    دنیا میں اس وقت پیٹرول کا بحران شروع ہو چکا ہے عالمی منڈی میں اس وقت پیٹرول 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے جس کے دسمبر میں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکانات ہیں ۔
    ڈالر اس وقت اوپر جا رہا ہے پاکستان میں ڈالر اس وقت 174 روپے تک پہنچ چکا ہے ۔
    پاکستان میں پیٹرول کے بحران کو وجہ عناد بنا کے کچھ شرپسند عناصر ملکی اداروں پہ تنقید کر رہے ہیں جنکو عالمی سطح پہ ہونے والے پیٹرول کے اس بحران کے بارے علم بھی ہے ۔
    پاکستان و دنیا بھر میں اس وقت اشیاۓ خوردونوش کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہوچکا ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو بہت حد تک متاثر کیا ہے ۔
    آہستہ آہستہ دنیا کا نظام لپیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے نیو ورلڈ آرڈر قاٸم کرنے کیلۓ یہ سب بحران لاۓ جا رہے ہیں ۔
    دنیا بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں پاکستان بھی ان موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے ۔
    اس وقت پیٹرول سے لیکر اشیاۓ خوردونوش کی قیمتوں کو متوازن رکھنے کی ہر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ۔
    اسوقت دنیا کے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں افراتفری ہے کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے ۔
    پاکستان کو اس وقت اندرونی و بیرونی معاملات پہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔
    بیوروکریسی کو الرٹ جاری کرنے کا وقت آ چکا ہے تاکہ مارکیٹ میں اشیاۓ خوردونوش کی قیمتوں کو متوازن رکھنے کیلۓ فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔
    پاکستان کو چاہیۓ کہ وہ آٸندہ چار پانچ سال تک کسی بھی اشیاۓ خوردونوش کو امپورٹ نہ کرے کیونکہ دنیا میں ایک بحران جنم لینے والا ہے ۔
    پاکستان کو جنگی بنیادوں پہ بیوروکریسی اور پراٸس کنٹرول منیجمنٹ اتھارٹیز کو ایکٹو کرنےکی ضرورت ہے جو ناجاٸز ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایکشن لیں تاکہ اشیا کی خودساختہ شارٹیج کو روکا جا سکے اقر قیمتوں کو متوازن کرتے ہوۓ عام آدمی کی زندگی پہ پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے

    @NawabFebi

  • تفاوت مادر هنود با مادر مسلمان تحریر:محمد عبداللہ گِل 

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ھے۔تاریخ گواہ ھے کہ جس نے دین اسلام کی عظمت کو پا لیا پھر وہ اس پر قربان ہونے کو تیار ہو گیا۔اسلام کی سربلندی اور دفاع کے لیے رب تعالی نے فریضہ جہاد کو اتارا۔اور ہجرت کے بعد جب کفار مکہ نے مدینہ میں اپنی شکست کو دعوت دی تو رب تعالی کے حکم پر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے میدان کو سجھا دیا۔پھر اللہ نے ملائکه کو نازل فرمایا اور جس انداز سے اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کو فرمایا اس کی نظیر نہیں ملتی۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 313 کے لشکر کو لیکر میدان کو سجایا میرے رب نے ہزار کے لشکر پر فتح دی۔

    اگر میں تاریخ کو پڑھو تو مجھے یہ نظر آتا ھے کہ جب سندھ میں مسلمان خاتون نے صدا کو لگایا تو سترہ سالہ نوجوان علم جہاد کو بلند کر کے سندھ میں آیا پھر سندھ کر فتح کر آگے ملتان کے علاقے تک گیا۔اسی طرح اگر میں حال ہی کی بات کروں تو کشمیر کو دیکھتا ہوں۔ایک طرف 8 لاکھ ہند کی فوج ھے ان کے پاس جدید اسلحہ بھی ھے،طیارے بھی ھے امریکی ڈروں بھی ھے لیکن مد مقابل کشمیری بطل حریت جوان کھڑا ھے۔کل تلک بوڑھا علی گیلانی رحمہ اللہ للکار رہا تھا آج مسرت عالم بٹ للکار رہا ھے۔ایک کشمیری جوان میدان میں شہید ہوتا ھے تو ماں دوسرے کو پیش کرتی ھے اور اس کی خواہش ہوتی ھے کہ میرا خاندان ہی جہاد کے میدان میں شہید ہو جائے۔

    قارئین کرام! اس سارے سیاق کا مقصد ایک ویڈیو کی طرف اور معرکے طرف توجہ کو مرکوز کروانا ھے۔کچھ دن قبل پونچھ کے علاقے میں مجاہدین حریت اور قابض بھارتی فوج کے درمیان میدان جہاد سجا۔اللہ کے شیروں نے ایسی مار لگائی قابض بھارتی فوج کو اور اللہ کی نصرت کے ساتھ اب تک وہاں مجاہدین کا رعب و دبدبہ قائم ھے۔اس میں مجاہدین اسلام نے محمود عزنوی کے روحانی فرذند ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہو کئی ایک ہندو فوجیوں کو شکست سے دوچار کیا۔جس کے بعد جب میڈیا ان میں سے ایک مردار کی اہلیہ سے بات چیت کر رہا تھا تو اس واصل جہنم ہونے والے فوجی کی بیوی پر مجاہدین کا رعب تھا اور وہ کہہ رہی تھی کہ یہ علاقہ مجاہدین کے حوالے کر دو روز ہمارے جوان مرتے ہیں۔

    واللہ اس بیان کو سننے کے بعد مجھے کشمیر کی وہ ماں یاد آئی جس نے سب سے پہلے اپنے ایک بیٹے کو کشمیر کے آزادی پر قربان کیا پھر کچھ دیر بعد اپنے دوسرے بیٹے ابو دجانہ کو میدان میں بھیجا اور وہ بھی کفار کو شکست سے دوچار کرتا کرتا اللہ کے باغوں کا مہمان بن گیا تو اس ماں کو سلام ھے کہ اس نے اللہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرے سینکڑوں بیٹے ہوتے میں کشمیر کی آزادی پر قربان کر دیتی۔

    پھر مجھے اقبال کا شعر یاد آیا 

    "شہادت ھے مطلوب و مقصود مومن 

    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی” 

    یہ ہی وہ فرق تھا جب غزوہ بدر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاذ و معوذ رضی اللہ عنہم کی والدہ نے اپنے دونوں بیٹوں کو نصیحت کی کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان جنگ میں قتال کرو۔اور پھر انھوں نے جس انداز سے ابو جہل کا سر کاٹا سبحان اللہ۔

    اللہ تبارک و تعالی نے مسلمانوں کو یہ قوت ایمانی دی ہے کہ مائیں خود اپنے بچوں کو جہاد کا درس دیتی ھے اور جہاد پر آمادہ کرتی ھے۔

    یہ ہی قوت ایمانی ھے جس کی وجہ سے آج پاک فوج دنیا کی نمبر ون فوج ھے اور ہماری ایجنسی آئی ایس آئی دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں میں سے ایک ھے۔کیونکہ ہمارے جوان جان دینے سے نہیں گھبراتے کیونکہ ان کو پتہ ھے کہ جب ہمیں لڑتے لڑتے موت آئی تو شہادت کی موت آنی ھے اور اللہ کا وعدہ ھے جنت کا۔

    اللہ کا انعام ھے کہ "شہید کو مردہ مت کہو”

    ہمارے مجاہدین کشمیر اور پاکستان فوج کے مجاہدین کو پتہ ھے ہم نے مر کر بھی زندہ ہو جانا ھے۔اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری مائیں بیٹوں کو قربان کرتی ہیں۔

    واللہ دوسری طرف ہمارا مد مقابل انڈیا ھے جس کو تو کشمیری سنگباز ہی کافی ھے۔اسی طرح بارڈر پر جانے سے ہندو فوجی ڈرتا ھے ماں بچہ بھیجنے سے گھبراتے ھے۔اس کی وجہ ایک ہی ھے جس کا اعلان رب تعالی نے کر دیا 

    وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

    "فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل کو مٹنا ہی تھا”

    سبحان اللہ آج اس آیت کی تفسیر کو پونچھ کے میدان میں کشمیری مجاہدین نے ایک بار دوبارہ تازہ کر دیا ھے۔

    اسی طرح ہنود گھبراتا رہے گا اور اسلام چھا جائے گا اور بے شک اسلام ہی دین برحق ھے۔

    کشمیر کو بھی ان شاءاللہ ایک دین آزادی مل کر رہے گی۔

    @Gill_Pak12

  • آئیں بلوچستان کی بلند ترین چوٹی "لوئی سر نائیکن” کی سیر کریں۔ تحریر: حمیداللہ شاہین  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    آئیں بلوچستان کی بلند ترین چوٹی "لوئی سر نائیکن” کی سیر کریں۔ تحریر: حمیداللہ شاہین  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    کسی بھی علاقے کی خوبصورتی کا اندازہ ان میں واقع پہاڑوں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے بلوچستان جوکہ خوبصورتی کی سرزمین ہے جو سانس لینے والی آبشاروں، شاندار گہری وادیوں اور سرسبز پھیلے ہوئے پھلوں کے درختوں سے بھی مشہور ہے۔

     جنوبی بلوچستان میں واقع پہاڑی سلسلوں کا ایک وسیع علاقہ ہے، جس میں وسطی براہوی رینج ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔  مشرقی ترین کیرتھر رینج کو مغرب میں پب رینج کی پشت پناہی حاصل ہے۔  جنوبی بلوچستان کی دیگر اہم حدیں سنٹرل مکران رینج اور مکران کوسٹ رینج ہیں، جن کا جنوب کی طرف کھڑا چہرہ ساحلی میدان کو باقی سطح مرتفع سے تقسیم کرتا ہے۔  مکران کوسٹل ٹریک زیادہ تر سطحی مٹی کے فلیٹوں پر مشتمل ہے جس کے چاروں طرف ریت کے پتھر ہیں۔  خشک میدان کی تنہائی کو گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبے نے توڑ دیا ہے جو روڈ ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام کے ذریعے کراچی سے منسلک ہے۔

     بلوچستان کا وسیع ٹیبل لینڈ مختلف قسم کی جسمانی خصوصیات پر مشتمل ہے۔  شمال مشرق میں ژوب اور لورالائی قصبوں پر مرکوز ایک بیسن ایک ٹریلیس پیٹرنڈ لوب بناتا ہے جو پہاڑی سلسلوں سے چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے۔  مشرق اور جنوب مشرق میں سلیمان رینج ہے جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے قریب وسطی براہوی رینج میں شامل ہوتی ہے۔  بلوچستان کے شمال اور شمال مغرب میں توبہ کاکڑی رینج ہے۔ جو دور مغرب میں خواجہ امران رینج بن جاتی ہے

     پہاڑی علاقہ راس کوہ رینج کی شکل میں جنوب مغرب کی طرف کم شدید ہو جاتا ہے۔  چھوٹا کوئٹہ بیسن چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔  ایسا لگتا ہے کہ پورا علاقہ اونچی حدود کا نوڈ بنا ہوا ہے۔  راس کوہ رینج کے مغرب میں شمال مغربی بلوچستان کا عمومی لینڈفارم پہاڑوں سے منقسم نشیبی سطحوں کا ایک سلسلہ ہے۔  شمال میں چاغی پہاڑیوں کی سرحد حقیقی ریگستان کا علاقہ ہے جو اندرونی نکاسی پر مشتمل ہے۔

     بلوچستان میں 2900 سے زیادہ چوٹیاں ہیں اور ان پہاڑوں میں کل 104 معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔  لوئی سر نائیکان کوئٹہ کے مشرق میں زرغون پہاڑوں میں صوبے کی بلند ترین چوٹی ہے۔

     لوئی سر نائیکان بلوچستان کی بلند ترین چوٹی ہے اور اس کی اونچائی 3578 میٹر ہے جو 11738 فٹ تک بنتی ہے۔  زرغون پہاڑ جہاں لوئے سر نائیکان واقع ہے ، تین ہزار یا چار ہزار پرانے جونیپر درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔  پہاڑ پر چڑھنا بہت مشکل ہے   شمسی تابکاری اور موسم کی خراب صورتحال چڑھائی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔  کچھ قبریں ایسی ہیں جنہیں ٹریک پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن لوگوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ان میں کون دفن ہیں۔

     تمام سمتوں میں جونیپر درختوں اور چوٹیوں کی ایک بڑی تعداد کی وجہ سے انسان الجھن میں پڑ جاتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔  لوگ ہمیشہ اپنا راستہ بھول جاتے ہیں اور بعض اوقات ان چوٹیوں اور درختوں میں کھو جاتے ہیں۔  اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زرغون پہاڑ کے قریبی لوگوں نے لوئی سر نائیکن پر چڑھنے میں ایک شخص کی مدد کے لیے مختلف سمتوں میں کئی نشانات بنائے ہیں۔  اس چوٹی پر ایک بڑا پتھر ہے جو کسی شخص کے چہرے کی عکاسی کرتا ہے۔

     لوئی سر نائیکن اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے اور کوہ پیما اور سیاح ملک کے تمام حصوں سے اس کا دورہ کرتے ہیں۔  پنجاب کے فیصل آباد کے ایک مسافر احمد نے بتایا کہ یہ چوٹی بلوچستان کے لوگوں کے لیے قدرت کے خوبصورت تحفوں میں سے ایک ہے۔

     اگر آپ بلوچستان کی خوبصورتی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس چوٹی پر آئیں اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ قدرت نے اس علاقے کو نہ صرف قدرتی وسائل سے نوازا ہے بلکہ اس نے صوبے میں اس طرح کے خوبصورت سیاحتی مقامات بنائے ہیں۔

    ہم حکومت بلوچستان سے بھی تعاون کی اپیل کررہے ہیں کہ صوبہ میں سیاحتی مقامات کا خاص خیال رکھا جائے اور یہ اگاہی پھیلائی جائے کہ بلوچستان ہر ایک کے لئے محفوظ ہے، تاکہ زیادہ سے زیاد لوگ بلوچستان کا رخ کرے اور یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔

    @iHUSB

  • فیصلہ کرنے کی صلاحیت :: تحریر محمّد اسحاق بیگ 

    فیصلہ کرنے کی صلاحیت :: تحریر محمّد اسحاق بیگ 

    کیا میں اتنا برا ہوں ۔ ” یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب میں اپنے بارے میں،  اپنے آپ کو کہتا ہوں ؟ ”

     "میں ایک کمزورانسان  ہوں۔ میں کبھی بھی کہیں نہیں جا سکتا۔”

     "میں بہت بیوقوف ہوں۔ مجھے اس وقت اس محفل  میں شامل ہونا چاہیے تھا۔”

     "میں فٹ نہیں ہوں۔ میرے پاس ان افراد کے ساتھ کوئی جگہ نہیں ہے۔”

     "میں کبھی بھی کافی نہیں ہوں گا۔ میں اسے کبھی بھی مناسب طریقے سے نہیں کروں گا۔”

     "میں ہر وقت حقیقی طور پر نقصان پہنچا رہا ہوں۔ میں کبھی ٹھیک نہیں ہوں گا۔”

     "کوئی بھی مجھے پسند نہیں کر سکتا۔ میں پیارا نہیں ہوں۔”

     … ، وغیرہ ، وغیرہ

     کیا یہ سچ ہے کہ آپ اپنے فیصلوں کو ذہن میں رکھتے ہیں؟  کیا یہ سچ ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ آپ کتنی بار اپنے آپ کو خوفناک ، غلط ، یا کسی  کمی کا فیصلہاپنے بارے میں کرتے ہیں؟  کیا یہ سچ ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ آپ اپنے فیصلوں کی وجہ سے اپنے احساسات کو کیسے ختم کرتے ہیں؟

     افراد کے ساتھ اپنی  رہنمائی کے کام میں ، میں یہ جانتا ہوں کہ خود فیصلہ کرنا ،  خوف ، غصہ ، بے چینی اور بدحالی کی ایک اہم وجہ ہے۔  تاہم بہت سارے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ مشکل احساسات  ان کے اپنے جذبات ، ان کے اپنے فیصلوں کے اثرات ہیں۔  زیادہ تر نہیں ، جب میں ایک بے چین انسان  سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس اچھی وجہ سے بے چینی محسوس کر رہے ہیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ان کے ساتھ ہونے والی کسی چیز کا براہ راست نتیجہ ہے۔  وہ ایک اصول کے طور پر قبول کرتے ہیں کہ ایک موقع یا فرد ان کے تناؤ کا سبب بنتا ہے۔  تاہم جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ کیا تصور کر رہے ہیں جو ان کی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں تو وہ مجھے خود فیصلہ کرنے دیتے ہیں ، مثال کے طور پر ، "مجھے یہ حق کبھی نہیں ملے گا” یا وہ مجھ پر اپنا فیصلہ تھونپ رہے ہیں اور بتا رہے ہیں  خود ، ” میری بیوی  پرواہ نہیں کرتی ،” یا "میری بیوی  میرے ساتھ بے چین ہو رہی ہے۔”  جب وہ خود فیصلہ کرتے ہیں یا فیصلہ کرتے ہیں کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کر رہا ہوں تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔  واقعی کچھ نہیں ہو رہا ہے جو ان کے اپنے خیالات کے علاوہ ان کے تناؤ کا سبب بن رہا ہے۔

     ان کے سامنے لانا کہ وہ اپنے نفس کے فیصلے سے تناؤ کا باعث بن رہے ہیں واقعی فیصلے کو نہیں روکتے ہیں۔  یہ اس بنیاد پر ہے کہ خود فیصلہ اکثر درست ہوتا ہے۔  فکسشن ایک جاری طرز عمل ہے جس سے عذاب سے محفوظ رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔  محض اذیت کیا ہے جس کے خلاف فیصلے کی توقع کی جاتی ہے؟

     زیادہ تر لوگوں  میں ، خود فیصلہ کرنے کی خواہش برخاستگی اور مایوسی سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔  دھوکہ یہ ہے کہ ، "یہ فرض کرتے ہوئے کہ میں خود فیصلہ کرتا ہوں ، دوسرے مجھ پر فیصلہ نہیں دیں گے اور مجھے مسترد کردیں گے۔ میں پہلے اپنے آپ پر فیصلہ دے کر دوسروں کے فیصلے سے محفوظ رہ سکتا ہوں ،” یا پھر دوبارہ "اس صورت میں جب میں خود فیصلہ کرتا ہوں ،  میں اپنے آپ کو چیزوں کو صحیح کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کر سکتا ہوں۔ پھر ، اس وقت ، مجھے سیکورٹی کا احساس ہو گا اور دوسروں کی طرف سے اس کی قدر اور تعریف کی جائے گی۔ ”

     کسی بھی صورت میں ، اسی طرح اسکول میں جہاں تک تجزیہ کے مقابلے میں تسلی کے ساتھ بہتر ہے ، اسی طرح ہم بھی بڑے ہو گئے ہیں۔  تجزیہ کار  عام طور پر گھبرائے گا اور ہمیں متحرک کرے گا۔  ہمیں حوصلہ دینے کے بجائے ، یہ کثرت سے کشیدگی کو بڑھا دیتا ہے کہ ہم منجمد ہو جاتے ہیں اور اپنے لیے مناسب اقدام کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔  زیادہ خود فیصلہ سرگرمی کی عدم موجودگی کے بعد ہوتا ہے ، جس سے زیادہ گھبراہٹ اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ہم ایسے حالات کا سبب بنیں جہاں ہم مکمل طور پر پھنسے ہوئے اور ناامید ہو جائیں۔

     اس سے باہر نکلنا خوف ، بے چینی ، غم و غصہ یا اداسی کے احساسات کو ذہن میں رکھنا ہے اور اس کے بعد اپنے آپ سے پوچھیں ، "میں نے اپنے آپ کو کیا بتایا جو اس ذہنی تناؤ  کو بنا رہا ہے؟”  ایک بار جب آپ خود فیصلہ کرنے کے بارے میں ذہن نشین ہوجائیں گے ، تب آپ اپنے آپ سے پوچھ سکیں گے ، "کیا مجھے یقین ہے کہ جو میں خود کہہ رہا ہوں وہ درست ہے؟”  اگر آپ کو 100٪ یقین نہیں ہے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے ، تو آپ اپنے اعلی ، سمجھدار خود یا بصیرت کی گہرائی سے پوچھ سکتے ہیں ، "حقیقت کیا ہے؟”  اگر آپ حقیقت کے بارے میں جاننے کے لیے واقعی بے چین  ہیں تو ، حقیقت آپ کے دماغ میں بس جائے گی ، اور یہ اس سے بہت مختلف ہوگا جو آپ خود بتا رہے ہیں۔

     مثال کے طور پر ، "میں ایک برا انسان  ہوں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں نے یہ کہا ہوتا؟”  بن جاتا ہے "ہم بطور مجموعی طور پر گڑبڑ کرتے ہیں۔ غلطیوں کا ارتکاب کرنا ٹھیک ہے – انسان ہونے کے لیے یہ ضروری ہے۔ غلطی کا ارتکاب اس بات کا مطلب نہیں ہے کہ آپ برے  ہیں۔”  جب ہم حقیقت کے سامنے کھلتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو مخاطب کرنے کا ایک طرح کا اور دیکھ بھال کرنے والا طریقہ ڈھونڈیں گے ، ایک ایسا طریقہ جس کی وجہ سے ہم بے چین ، غصے یا حوصلہ شکنی کے بجائے پیارے اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

     نشے کا تعین کرنا مسلسل مشکل ہے ، اور خود فیصلہ پر انحصار کوئی خاص معاملہ نہیں ہے۔  لہذا اپنے ساتھ مہربانی کریں ، اور اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے اپنے آپ پر فیصلہ نہ کریں!  اس کے لیے کچھ سرمایہ کاری اور عزم کی ضرورت ہوگی تاکہ آپ اپنے فیصلوں کو ذہن میں رکھیں اور یہ جان سکیں کہ اپنی دیکھ بھال کیسے کی جائے ، تاہم نتیجہ کام کے قابل ہے!

     میں آپ سب کا بہت۔ مشکور ہوں کے آپ مجھ خشک ذہنی مریض کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں کبھی کبھی مجھے بھی یہی لگتا ہے کے میں ایک پاگل انسان ہوں ۔

     ہاہاہا ۔

     پتا نہیں آپ میرے بارے میں کیا راۓ رکھتے ہیں خیر یہ ایک الگ داستان ہے اس پر پھر کبھی کچھ لکھوں گا ۔

     امید ہے آج کا آرٹیکل بھی آپ کو پسند اے گا ۔

     آپ سب کی دعاؤں کا طلب گار 

     

    @Ishaqbaih___

  • رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  تحریر: خوشنود

    رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  تحریر: خوشنود

           جب سے یہ کائنات ظہور میں آئی ہے اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی، اپنے بندوں کی اصلاح اور انہیں سیدھی راہ پر چلانے کے لئے مختلف ادوار میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو بھیجا۔ نبوت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر آکے ختم ہوا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللّٰہ عزوجل کے تمام انبیاء مرسلین رحمت تھے مگر رحمت للعالمین نہیں تھے۔ اُنکی نبوت اپنی قوم، اپنے دور اور اپنے زمانے تک محدود تھی جبکہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و شفقت ہر عہد، ہر زمانے، ہر قوم اور تمام جہانوں کے لئے ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔ جہاں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا تعارف رب العالمین کروایا ہے وہاں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت للعالمین کے لقب سے نوازا۔یہ لقب اور شرف ایسا ہے جو کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

    "اور (اے پیغمبر) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”

    اس آیتِ کریمہ پر توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف عرب کے لئے رحمت بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صرف اُمتِ مسلمہ کے لئے رحمت نہیں، تمام نبیوں، رسولوں اور فرشتوں کے لئے بھی رحمت ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تمام چرند پرند، حیوانات و نباتات کے لئے بھی سراپا رحمت بن کر آئے۔ غرض عالم میں جتنی چیزیں ہیں سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سب کے لئے رحمت ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ جو تمام عالموں کا مالک و مختار ہے اُس نے اِن عالموں کے لئے رحمت کا اہتمام اپنے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں کر دیا۔ 

    چھٹی صدی عیسوی کا زمانہ جو بعثت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل کا زمانہ ہے اُس زمانے میں نہ صرف سر زمین عرب بلکہ پوری دنیا جہالت و گمراہی کا شکار تھی۔ پورا معاشرہ پستیوں کی گہری دلدل میں ڈوبا ہوا تھا۔ ذات پات کا ایسا خوفناک نظام رائج تھا کہ انسانیت پناہ مانگتی تھی۔

    حیوان تو حیوان آپس میں انسانوں کے ساتھ بھی جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ انسان انسان کا دشمن اور بھائی بھائی کے لہو کا پیاسا تھا۔ یتیموں کا مال ہڑپ کر لیا جاتا تھا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ کفر و شرک، ظلم و بربریت، قتل و غارت، چوری، ڈاکہ زنی، شراب نوشی نیز ہر قسم کا گناہ عام تھا۔ ان سب حالات اور گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دور کرنے کے لئے عرب کی سر زمین سے وہ آفتابِ ہدایت طلوع ہو جسکی چکا چوند کر دینے والی روشنی نے جہالت کی تمام تاریکیوں کو ختم کر دیا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی۔ جس معاشرے میں غلام اور عورت کی کوئی عزت نہیں تھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس معاشرے میں غلاموں کو بھی عزت دلوائی عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی ہر روپ میں بلند مقام بخشا۔ اللّٰہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی صرف تبلیغ نہیں کی بلکہ اپنی زندگی میں عملی طور پہ کر کے بھی دکھایا۔ وہ معاشرہ جو اپنے افعال و اعمال اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے حیوانوں سے بھی بدتر تھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہو کر فرشتوں سے بھی افضل گردانا گیا۔ الغرض تاریخِ انسانی میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے جسکی کوئی مثال نہیں۔ 

    وہ دانائے سبل ختمُ الرسل مولائے کُل جس نے 

    غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا 

    نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول، وہی آخر

    وہی قرآں،وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طہٰ

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم محسنِ انسانیت ہیں، انسان کامل ہیں اور ہر لحاظ سے قابلِ تقلید ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی قیامت تک کے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ بطور مسلمان ہمیں ہر وقت اللّٰہ کریم کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمتی بنایا۔ جو شخص دنیا میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے گا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و پیروی کرے گا اُسے دونوں جہانوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے حصہ ملے گا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں تا کہ ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔

    @_Khushnood_

  • ہمیں آگے جانا ہے یا پیچھے تحریر: سید شاہ میر علی

    آپ نے اکثر سنا ہوگا پاکستان دنیا سے 10 15 سال پیچھے چل رہا ہے مطلب دنیا جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ہوتی جارہی لیکن ہم دنیا سےپیچھے ہیں. مجھے اس بات کا دکھ نہیں کہ پاکستان پیچھے ہےبلکہ خوشی ہےپاکستان ابھی بےحیائی میں دنیا سے پیچھے ہے. ہمارےملک میں اب بھی ‏اسلامی تہذیب موجود ہے. چند دن پہلے خیبر پختونخواہ حکومت نے خواتین طالبہ کے لیےبرقہ اور پردہ لازمی قرار دیا تو ہمارےلبرلز اور موم بتی مافیا جاگ اٹھے اور اس فیصلہ کی خوب تنقید کی. جی ہاں، یہ وہ ہی لبرل مافیا ہے جو ابھی کشمیر میں انسانیت کےقتل پر سو رہی تھی. لیکن ایک اسلامی تہذیب کے ‏نفاز پر یہ لوگ ایسے جاگ گئے جیسے حکومت نے دہشتگردی کی اجازت دے دی ہو یا پھر اور کوئی بہت بڑی غلطی کردی ہو. اور ان لبرلز کی تنقید کے سامنے ہماری حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور پھر وہ فیصلہ واپس لے لیا. یہ انتہائی شرمناک شکست تھی حکومت کی. کیا لبرلز اس حکومت سےزیادہ طاقتور ہیں. پاکستان ‏ایک اسلامی ریاست ہے. پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہونا چاہیے. لیکن ہم مغربی روایت کی طرف زیادہ متوجہ ہیں. عمران خان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کی سب نے حمایت کی اور جیسے ہی مدینہ والے اصول نافذ ہوئے تو سب کو تکلیف شروع ہوگئی. اسلام میں ‏عورت کو پردہ کا حکم ہے. لیکن یہ فیمنیسٹ اس کے خلاف ہیں. بقول ان کے عورت کیسے بھی کپڑے پہنے مرد ان کو گھورتے ہیں. یہ قطعاً غلط ہے. ایسا بلکل نہیں ہاں چند کچھ انسانی شکل کے درندے ہیں جو ایسی گھٹیا حرکات کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہے. اگر عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے تو کوئی نہیں ‏گھورتا انہیں بلکہ عورتوں کے باپردہ ہونے پر مرد بھی اپنی آنکھوں کا پردہ کرتے ہیں. اب اگر عورتیں چھوٹےچھوٹےکپڑوں میں گھروں سے نکلیں تو تقریباً ہر شخص اسےگھورے گا، ہمیں اگر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا ہےتو پھر ہمیں مدینہ والے اصول بھی لاگو کرنے ہونگے. اور یہ کام ہمیں خود کرنا ‏ہے. اور اس کے لیے ہمیں آگے نہیں پیچھے جانا ہوگا. اگر ہم دنیا کی طرح آگے گئے تو پھر آگے صرف فحاشی اور بے حیائی ہے. ہمیں اب ہمیں واپس پیچھے جانے کی ضرورت ہے. پردہ عورت کی کمزوری نہیں بلکہ ایک پروٹیکشن ہوتی ہے. اگر آپ تحقیق کریں تو آپکو ایسی خواتین انجینیرز ڈاکٹرز اور سائنٹسٹ بھی ‏‏ملیں گی جنہوں نے باپردہ ہوکر اپنے خواب پورے کرے. اب وقت ہے ان لبرل مافیا اور موم بتی مافیا کو چپ کرنے کا جو پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنا چاہتے ہیں اور مغربی روایت نافذ کرنا چاہتے ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر بنا اب پاکستان میں اسلامی ریاست بنانا ہوگا. بس اب بہت ہوا.

    Twitter: @Shah_Meer_Ali

  • حصول رزق میں حلال اور حرام کی تمیز  تحریر : فہد شکور

    حصول رزق میں حلال اور حرام کی تمیز تحریر : فہد شکور

    بےعملی بے روزگاری اور گداگری کو سخت نا پسند کیا گیا ہے اور اس پر سخت وعید سنائی گئی ہے

    حدیث مبارکہ میں ہے کہ

    ” حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ تم سے کسی شخص کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور رزق مہ تلاش نہ کرے اور کہتا رہے کہ اللّٰہ مجھے رزق عطا فرما”

    ہمیں حصول رزق کیلئے جدوجہد بھی کرنی چاہیے کیونکہ ہم جانتے ہیں آسمان سونا چاندی نہیں برساتا جو ہم گھر بیٹھے رہے اور کہیں کہ ہمارے پاس رزق نہیں ہے

    خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے

    "کہ جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو اپنے رزق کی تلاش سے غافل ہو کر سوتے نہ رہو”  (کنزالعمال)

    اسلام نے ساری زمین کو انسان کیلئے میدان عمل قرار دیا یے اور انسان کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے معاش کے حصول کیلئے زیادہ سے زیادہ جدوجہد کرے۔ اسلام نے انسان کو مختلف طریقوں سے محنت اور معاشی جدوجہد جے حصول کئیلے اکسایا ہے۔ اسلامی معاشیات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام انسانوں کو معاشی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کو ترقی دی جائے ۔ تمام انسانوں کو معاشی جدوجہد کے مساوی مواقع فراہم کئے جائے کیونکہ فقروفاقہ انسان کو کفر کی طرف لے جاتا ہے۔

    اسلام حصول رزق کیلئے اس بات کی شرط عائد کرتا ہے کہ آمدنی جائز ذرائع سے حاصل ہو اور ہر وہ نفع جو جو غلط طریقہ یعنی حرام ذرائع سے حاصل ہو دوزخ کی آگ قرار دیتا ہے

    ارشاد باری تعالیٰ ہے

    "اے لوگوں جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے حلال اور پاک چیزیں کھاؤ”  (بقرہ 168)

    حرام سے کمائی ہوئی روزی کے متعلق ارشاد نبوی ہے

    "حرام روزی سے پرورش پایا ہوا گوشت اسکا زیادہ مستحق ہے کہ آگ میں ڈالا جائے”

    الجامع الترمذی 614

    حصولِ رزق میں سے ایک ذریعہ سود ہے جو معاشی ظلم کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسلام نے سود کو اور سکی ہر شکل کو حرام قرار دیا ہے پھر چاہے یہ مفرد یا مرکب یا ذاتی قرضوں پر لیا جائے ۔ تجارتی اور پیداواری قرضوں پر حرام ہے۔ اسکو لینے والے کو خدا اور اسکے رسول کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے

    ارشادِ ہے

    "اے ایمان والو !سود کے کئی کئی حصے بڑھا چڑھا کر نہ کھاؤ اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ”

    (آل عمران 130)

    اسلام ںے تجارت کو حلال اور جائز قرار دیا ہے تجارت میں امانت اور دیانت کو ہمیشہ واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے

    "امانت دار تاجروں کا حشر قیامت کے دن صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا”

    اسلام تجارت میں بددیانتی، دھوکا اور وعدہ خلافی کو رد کرتا ہے اس طرح ناپ طول کو درست رکھنا تجارت کا اہم حصہ ہے۔ اسلام ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر لعنت بھیجی گئی ہے۔

    اسلام دولت کے ارتکاز کو پسند نہیں کرتا اور یہ چاہتا کہ جائز طریقہ سے دولت کی تقسیمِ زیادہ ست زیادہ اور منصفانہ ہو اور پورے معاشرے میں دولت گردش کرے

    سودی نظام اور حرام ذرائع سے حاصل کردہ رزق سے ںچنے کیلئے ضروری ہے کہ

    حرام طریقے سے کمانے والے رزق کی شدید مخالفت کی جائے۔ حرام ذرائع روزگار پر پابندی عائد کی جائے۔ جہاں کہیں رزق میں شک ہو اسے ترک کیا جائے ۔ حرام کی کمائی کرنے والے کی کوئی بھی چیز قبول نہ کی جائے ۔اگر ہم ‏‎‎اللّٰہ تعالیٰ کے نظام معیشت پر غور کریں تو سودی نظام ختم ہو سکتا ہے۔ ارشاد ہے۔ صاحب حیثیت لوگ مال کو جمع نا کریں؟ گردش میں رکھیں؟اگر مال گردش میں رہیے گا تو روزگار پیدا ہو گا؟ زراعت اور صنعت ترقی کرے گا؟ کہیں نا کہیں تو پیسہ خرچ ہو گا گردش کے لئے؟ حلال رزق کے زیادہ سے زیادہ او بہتر مواقع فراہم کئے جائے۔ حلال طریقے سے رزق کے راستے آسان کئے جائے تاکہ لوگ حرام کی بجائے حلال طریقے سے رزق حاصل کریں

    اور سود اور حرام کا خاتمہ ہو سکے۔

    جزاک اللّہ

    @Malik_Fahad333

  • رسول ﷺ سے محبت تحریر : محمد عدنان شاہد

    اگر حب رسول ﷺ کی بات کی جائے تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ رسول اکرم کی محبت دین اسلام کی اصل بنیاد میں ہے۔ ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ کو معبود ماننے کے بعد نبی کو اس کا رسول بھی مانتا ہے درحقیقت نبی اکرم اس سے آپ سے محبت شرط جس نے میری محبت کا دعوی کیا اسے چاہئے کہ وہ آپ ﷺ کی پیروی کرے” اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی اکرم نے ارشادفر مایا، ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین ، اس کی اولا داور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں”( صحیح بخاری)

    حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں آپ ﷺ کے لئے محبت تمام قریبی رشتوں سے زیادہ ہو۔ اس سے مراد وہ جذباتی محبت نہیں جو انسان کو اپنی بیوی یا اولاد سے ہوتی ہے کیونکہ جذبات اللہ تعالی کے بناۓ ہوۓ ہیں ، اس سے ہٹ کر یہاں اختیاری محبت ہے۔ یہ سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے ہونی چاہئے ۔ اس محبت کا معیار قرآن وحدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے سامنے کوئی ایسا موڑ آ جائے جہاں اس کو یہ فیصلہ کرنا ہو کہ بیوی بچوں کی محبت میں میں کام کر دوں یا نبی ﷺ کا حکم مانوں کیونکہ آپ ﷺ نے اس کو کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اگر انسان اس جگہ اس چیز کو اختیار کر لے جو نبی ﷺ سے محبت رکھتا ہے۔اور جس کے آپ کی محبت نہیں وہ عذاب الہی کو دعوت دیتا ہے۔ ” نبی کا تعلق مومنوں کے ساتھ اس ۔ ہے جتنا ان لوگوں کا اپنے آپ سے ہے”. (الاحزاب)

    حب رسول کا اصل تقاضا ہے "اتباع رسول . ” اللہ پاک قرآن پاک میں ارشادفرماتے ہیں: "اے نبی!(اہل ایمان سے کہہ دیجئے کہ اگرتم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میرا اتباع کرو(می عمران آیت 31)

    اتباع کا مفہوم ہے ” محبت کے جذبے سے سرشار ہوکر پیروی کرنا” اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ نہ صرف حضرت محمد ﷺ کے قول پرعمل کیا جائے بلکہ ان کے فعل کی بھی پیروی کی جاۓ۔ حب رسول ﷺ کا اصل تقاضا ہی یہ ہے کہ ہماری زندگیاں احکام نبی ﷺ کے تابع ہو جائیں۔ہماری زندگی نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھل جاۓ ۔ ہماری زندگیاں اس راستے کی طرف چل
    پڑیں جس کے لئے نبی اکرم ﷺ مبعوث ہوۓ۔ جس کے لئے صحابہ کرام نے مصائب و مظالم برداشت
    کئے ۔اسے ملک نصر اللہ عزیز مرحوم نے ایک بڑے سادے انداز میں بیان کیا ہے
    مری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    (الحشر )

    میں اس لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تقاضا امر بمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
    اللّه پاک ہم سب کو سچا عاشق رسول ﷺ بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے بتاے ہوے اصولوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    اے ہمارے رب! ہم کو اپنے رسول ﷺ کی محبت نصیب فرما جو آپ کو پسند ہو۔(آمین

    @RealPahore

  • یوم ولادت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیاں اور مرجھائے چہرے تحریر:ناصر بٹ

    یوم ولادت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیاں اور مرجھائے چہرے تحریر:ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    تاریخ میں پہلی دفعہ حکومتی سطح پر بارہ ربی الاول کو مذہبی جوش و جذبے اور انتہائی عقیدت کے ساتھ منایا جارہا ہے، ملک بھر کی صوبائی حکومتیں یکطرف لیکن دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ جہاں وزیراعظم عمران خان براہ راست مانیٹرنگ کی کرسی پر براجمان ہیں شہر اقتدار کو کل شام سے ہی دلہن کی مانند سجانے کی تیاری کا آغاز کر دیا گیا دو محافل سماع کا بھی اہتمام کروایا گیا جبکہ گھروں کو سجانے کے حوالے سے مقابلوں کا بھی اعلان بھی کیا گیا جس میں سب سے خوبصورت گھر سجانے والے کو عمرے کے ٹکٹ سے نوازا جائے گا، ملک بھر میں گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر بارہ ربیع الاول کے جلوس اور گھروں و مساجد میں خصوصی محافل کا اہتمام جاری ہے لیکن ایک طرف نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کی خوشی میں ہر چہرہ جیسے دھمک اٹھا ہو لیکن دوسری جانب سے پرمسرت موقع پر کچھ چہرے سکوں کی تلاش میں پنجاب بورڈز کی ویب سائٹس کو کھنگالتے نظر آتے ہیں کہ کہیں کسی لنک پر پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کوئی حکم کوئی پروانہ یا کوئی ہدایات نامہ ہی مل جائے اور واضع گائیڈ لائنز کے بعد سپیشل یا امپروومنٹ امتحانات کی تیاری کا آغاز کیا جاسکے لیکن مجال ہے کہ حکومتی سطح پر قوم کے مستقبل یعنی سٹوڈنٹس کے دلوں میں بڑھتی بے چینی کا غم محسوس کیا جاسکے اور دو لب ہلا کر کچھ فرما ہی دیا جائے، رزلٹ کے بعد پیدا ہونے والی اس گھمبیر صورتحال میں حکومت کی طرف سے سٹوڈنٹس کے مسائل سننے اور معاملات سلجھانے کے لیے بنائے گئے صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں صاحب بیرون ملک ہیں خیر سچ تو یہ ہے کہ جب وہ ملک میں بھی تھے تو ان سے رابطہ کرنا ایسا ہی تھا جیسا جبرائیل سے رابطہ کرنا یعنی ناممکن ہی سمجھیں، اب صورتحال کچھ یوں بن چکی ہے حکومت کے دو الفاظ کے منتظر ان لاکھوں بچوں کو گھروں میں بنے مزیدار پکوان بھی بے ذائقہ لگ رہے اور پرنور محافل میں بھی ان کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہی سمجھیں، بطور صحافی میرا ایمان ہے کہ لوگوں کو جاننے کا حق بروقت میسر آنا چاہیے کیونکہ معلومات کی رسائی کا عمل کسی صورت نہیں رکنا چاہیے جوں ہی یہ عمل مستند حلقوں کی جانب سے رکا فیک نیوز کی ابھرتی مارکیٹ میں بیٹھے جعلی دکاندار اپنی من گھڑت خبروں کی دکان فی الفور سجا لیتے ہیں جس سے بھولے بھالے سوشل میڈیا صارفین خود تو نشانہ تو بنتے ہی ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ دوستوں کے ساتھ بھی شئیرنگ کا عمل شروع کر دیتے ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر جانے انجانے میں تمام صارفین بھی اس فیک نیوز منڈی کے دکانداروں میں شامل ہوکر گمراہ کن جھوٹ کی فروخت میں ملوث ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اب تک 3 جانیں تو چلی گئی چوتھی ایک اور طالبہ نے کل گوجرانوالہ میں اپنی جان لینے کی کوشش کی، کاش کہ حکومت ان تین کو بھی سمجھا پاتی کاش کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان کے خدشات کو دور کر پاتا، کاش کے وزارت تعلیم ان کے سوالات کے جواب دے پاتی تو آج وہ ہم میں ہوتے، آج وہ بھی شائد امپروومنٹ یا سپیشل امتحانات کی تیاری میں مشغول ہوتے لیکن حکومتی خاموشی نے تین جانیں خاموش کر دیں، اس مبارک دن میں جہاں ایک طرف نبی آخر زمان صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کا اظہار جلوسوں اور محافل کی صورت میں کیا جارہا وہاں ہم نے ان کی تعلیمات کو بھی اپنی زندگی کا شعار بنانا ہے تاکہ فیک نیوز پھیلانے اور معصوم زندگیوں سے کھیلنے کا مکروہ دھندہ بند ہوسکے اور حکومتی وزرا و افسران اپنے آپ کو شہریوں کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہوئے ان کے تمام مسائل کو بروقت نہ صرف سنیں بلکہ ان کے حل کے لیے تدارک بھی کریں کیونکہ کوئی انگریز دانشور کہہ گیا کہ "انصاف میں تاخیر ناانصافی ہی کی ایک شکل کے مانند ہے”

  • پاکستان میں صدر کتنا طاقتور ہے   تحریر اصغر علی   

    پاکستان میں صدر کتنا طاقتور ہے تحریر اصغر علی   

      

    اس بات کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کبھی پاکستان میں صدر کا عہدہ  اتنا طاقتور ہوتا کہ وہ منتخب حکومت کو با آسانی کر بھیج سکتا تھا ایسا پاکستان کی تاریخ میں پانچ مرتبہ ہو چکا ہے کہ کسی صدر نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے منتخب حکومت کو گھر بھیجا ہو ان میں دو دفعہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو صدر نے منتخب قومی اسمبلی توڑ کر گھر بھیجا تھا لیکن اب یہ صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے یہاں پر یہ بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ آج کل کے پاکستانی صدور کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں صدر کا عہدہ اب برائے نام رہ گیا ہے اس آرٹیکل میں جانتے ہیں کہ کیا واقعی یہ عہدہ برائے نام رہ گیا ہے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے صدر کو یہ اختیار دیا تھا وہ منتخب اسمبلی کو تحلیل اس صورت میں کر سکتا ہے  کہ  جب یہ صورتحال پیدا ہو جائے کہ ملک کی حکومت آئین کے مطابق چلانا ناممکن ہوجائے اور اسے عوامی مینڈیٹ کی ضرورت پڑ جائے لیکن اس کے بعد پہلے تیروی ترمیم آئی جس میں صدر کے اختیارات کو کم کر دیا گیا اور اس کے بعد پاکستان کے موجودہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کی گئی جس میں اس کو بالکل ختم کر دیا گیا اس کے ختم ہونے کے بعد صدر  اسمبلی ایک ہی صورت میں توڑ سکتا ہے اگر اس کو وزیراعظم ایسا کرنے کو کہے اور باضابطہ طور پر نوٹس تحریر کرکے بھیجے اسمبلیوں کے تحلیل ہونے یا کسی بہران کی صورت میں صدر وہ اقدام کر سکتا ہے جو عام طور پر منتخب وزیراعظم کرتا ہے اس کے علاوہ نومنتخب کابینہ اور وزیر اعظم سے حلف لینا بھی صدر کی ذمہ داری ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں میں صدر ملک کا سردار فادر آف دی نیشن اور اتحاد کی علامت ہوتا ہے صدر ملکی فوج کا کمانڈر اینڈ چیف بھی ہوتا ہے لیکن ملک کی فوج کے سربراہ نامزد کرنے کا اختیار جو کہ تیرہویں اور اٹھارویں ترمیم سے پہلے صدر کے پاس ہوتا تھا آپ وہ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پاس چلا گیا ہے آج صدر پاکستان کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ پارلیمنٹ سے آنے والا کوئی بھی بل ل صدر پاکستان کے دستخط کے بنا منظور نہیں ہو سکتا ہے صدر پاکستان چاہے تو اس بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں بھیج سکتا ہے اور اس کو کوئی بھی چیلنج نہیں کر سکتا حتیٰ کہ ملک کا وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو  ملک کے اندر غیر ملکی مہمانوں کی میزبانی اور ملک کے باہر پاکستان کی نمائندگی بھی صدر ہی کرتا ہے صدر کے پاس یہ بھی اختیار ہوتا ہے  کہ وہ کسی بھی مجرم کی سزا کسی بھی ٹائم معاف کر سکتا ہے اور ان کی سزاؤں میں کمی بھی کر سکتا ہے صدر وفاقی کی تمام یونیورسٹیوں کا چانسلر بھی ہوتا ہے اس کے علاوہ صوبائی یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے  صوبے کے گورنر کے پاس ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیز کے تمام منتظمین وائس چانسلر کہلاتے ہیں آج کل  پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال  ہے کہ صدارتی نظام  پارلیمانی نظام سے بہتر ہے صدارتی نظام میں تمام اختیارات صدر کے پاس ہوتے ہیں  مگر حقیقت میں پاکستان وہ ملک ہے جس نے صدارتی نظام کو بھی آزمایا جا چکا ہے ان میں میں سرفہرست فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان جنرل محمد یحییٰ خان ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل محمد ضیا الحق شامل ہیں جو کہ اس نظام کو آزما چکے ہیں صدارتی نظام ناکام ہونے کے بعد  آئین میں اٹھارویں ترمیم کے تحت پارلیمانی نظام لایا گیا آج بھی پاکستان میں پارلیمانی نظام ہی رائج ہے اس نظام میں تمام اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @Ali_AJKPTI 

    Twitter id : https://twitter.com/Ali_AJKPTI