Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • لا زوال قربانیوں کی داستان حصہ دوم  تحریر  : راجہ ارشد

    لا زوال قربانیوں کی داستان حصہ دوم تحریر : راجہ ارشد

    ۔
    ہزاروں پھول سے چہرے جھلس کے خاک ہوئے
    بھری بہار میں اس طرح اپنا باغ جلا
    ملی نہیں ہے ہمیں ارض پاک تحفے میں
    جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا

    جدوجہد آزادی کی قربانیوں کا سلسلی یہیں ختم نہی ہوجاتا بلکہ یہاں سے بھارتی سفاکیت کی اس داستان کا آغاز ہوتا ہے جہاں پہ انسانیت بھی شرمسار ہے ۔ جب پاکستان بنا تو مسلمانوں نے ہجرت کرنی شروع کی تو نہتے مسلمانوں کو گاجر ، مولی کی طرح کاٹا گیا ، ماوں ، بہنوں کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا ،بزرگوں نے کانپتے ہاتھوں سے جوان بیٹوں کی لاشیں اٹھائیں ،ماؤں نے دودھ کیلیے بلکتے شیر خواروں کے گلے اپنے ہاتھوں سے گھونٹے دیئے تاکہ ان کی آواز سے ہمارے دوسرے مسافروں کی جان خطرہ نہ ہو بہنوں ،بیٹیوں نے عزتوں کی پامالی کے ڈر سے کنویں میں چھلانگیں لگا کر اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کیا۔

    مال و دودلت ، زر ، زیور ،گھر بار عزتیں لٹائیں قافلوں نے جب سرزمیں پاکستان پر پہ پہنچے تو عجب منظر تھا ،آنکھوں سے اشک رواں تھے ،وطن کی مٹی کو چومتے جاتے اور ایک ہی بات کہتے جاتے

    پاکستان کا مطلب کیا ،لاالہ اللہ

    آج پاکستان کو بنے 74 سال بیت گئے لیکن قربانیوں کی یہ لا زوال داستاں آج بھی تازہ ہے اور ہر زبان پر ہے اس تحریر میں یہاں تک پہنچتے میرا قلم کئ بار رکا ،میرے اشک ہیں کہ روکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ میں بارہا یہ سوچنے پہ مجبور ہوا کہ کیا ہم اس آزادی کا حق نبھا رہے ہیں ؟
    کیا جس مقصد کے لیے یہ مملکت خداد حاصل کیا گیا ہم اس مقصد میں عمل کر رہے ہیں؟

    ہم آج آزادی مبارک تو کہتے ہیں لیکن شاید اس کے مفہوم کو نہیں پہچانتے ،ہم گاڑیوں پہ پاکستانی جھنڈا تو لگاتے ہیں لیکن اسی گاڈی میں گانا انڈیا کا سون رہے ہوتے ہیں . ہمارے لیے پاکستان کی بنی چیزیں گھٹیاں اور غیر میعاری کیوں ہیں ؟
    وہ بھارت جس نے ہمارے نہتے مسلمانوں کو قتل کیا ہمارے کچھ حکمران انہیں سے دوستانے نبھاتے نظر آتے ہیں ۔
    ہمیں یہ سمجھنے کی اشاعت ضرورت ہے کہ پاکستان صرف زمیں کا اک ٹکڑا نہیں اک نام نہیں بلکہ پاکستان دو قومی نظریہ کی سر خروئ کا نام ہے ۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان تو اک گوشہ عافیت کا نام ہے
    پاکستان کاہر زرہ اسلامی روائتوں کا آمین ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جسکا عشق ہمارے لہوں میں شامل ہے۔

    وطن سے محبت تو ایمان ہوتی ہے یہ ملک ہمارے آباو اجداد کی وفائ کا صلہ ہے ۔اسے ہم نے ہی سنوارنا ہے
    اس کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ملجل کر کام کرنا ہے۔جب ہم ملکر صدق دل سے کوشش کریں گے تو پھر بنے گا ایک خوشحال پاکستان۔

    آخر میں علامہ محمد اقبال کا یہ شعر بڑا یاد آ رہا ہے۔کہ

    یہاں جو پھول کھِلے، وہ کھِلا رہے صدیوں
    یہاں خِزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

    خدا کرے کہ مرے اِک بھی ہم وطن کے لئے
    حیات جُرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو​

    @RajaArshad56

  • وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ  تحریر چوہدری عطا محمد

    وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ تحریر چوہدری عطا محمد

    جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے تمام لیڈران اور ان کی پارٹی کسی کے منشور میں بھی ریاست مدینہ کا زکر نہیں کیا گیا پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین اور اسلامی جہموریہ پاکستان کے وزیز اعظم جناب عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے وہ اپنے ہر خطاب انٹرویو میں ہر جگہ ریاست مدینہ کی بات کرتے نظر آتے ہیں ریاست مدینہ ہے کیا ہمارے آقا دوجہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخِ انسانیت کی 23سالہ قلیل ترین مدت میں جو عظیم الشان انقلاب برپا کیا وہ اپنی نوعیت ، کیفیت، جدوجہد اور نتائج کے اعتبار سے اتنا حیران کن ہے کہ اس کی نظیر اقوام عالم میں کہیں موجود نہیں ہے۔ جب ہم ریاست مدینہ کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں وہ معاشرہ جس میں خدا ترسی، ہمدردی، اخوت، مساوات، بھائی چارہ آخرت پر ایمان کی جواب دہی، نیکی اور خیرخواہی کا جزبہ پیدا ہو جائیں۔ ظالم اور جابر حکام کی بجائے خدا ترس اور نیک سچا ایماندار محب وطن اور اپنے لوگوں سے پیار کرنے والا حاکم میسر آجائے اور جانب غریب کے لئے ایک قانون اور غریب کے لئے علیحدہ قانون نہ ہو بلکہ انسانیت کے لئے انصاف پر مبنی غیر جانب دار قوانین کا رائج ہو تو پھر اسی راستہ پر چلنے کو حقیقی طور پر ریاست مدینہ کے نقشہ قدم پر چلنا کہا جا سکتا ہے جہاں تک ہمارے معاشرہ کی بات کی جاۓ تو زرا ہمیں خود کا بھی جائزہ لینا ہوگا
    ہمارے کچھ لوگ ریاست مدینہ کی بات پر وزیز اعظم پر تنز کے نشتر بھی برساتے ہیں اگر ہم بحیثیت قوم اپنی بات کریں تو رشوت ،ملاوٹ ،ظلم وجبر ،زنا ،بے حیائی جھوٹ اور منافقت ،ناپ تول میں کمی ،والدین سے گستاخی کے عوامل ہم سب میں عام پاۓ جاتے ہیں لیکن وزیز اعظم سے ہم ریاست مدینہ کی امید لگاۓ بیٹھے ہیں کیا ہمارے یہ جو عمال اوپر بتاۓ ہیں جن کو ہم سر عام کرتے نظر آتے ہیں اپنے ان عوامل کے ساتھ چپکے کریں اور خود کو نہ بدلیں تو کسی بھی حکمران کی موجودگی اور ریاستی قوانین کی موجودگی میں ریاست مدینہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ۔۔؟تو اسکا جواب ہے بلکل بھی نہیں ریاست مدینہ کے لئے جہاں حکمران کی سوچ ریاست مدینہ والی ہونی چاہئے وہاں پر ہمیں ایک قوم کی حثیت سے بھی خوداپنی سوچ اور اپنے عمل بدلنے ہوں ہماری سوچ ریاست مدینہ کے لئے کیسی ہونی چائیے وہ ان شاءاللہ نیکسٹ پارٹ میں اس کا زکر کریں گے
    اللہ پاک ہم سب کو ریاست مدینہ کو صیح سمجھنے اور ریاست مدینہ کی سوچ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • اولیاء کی شان دوسری قسط تحریر یاسمین ارشد

    اولیاء کی شان دوسری قسط تحریر یاسمین ارشد

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا چار قسم کے بندے ایسے ہیں جن کو میں اللہ نے اپنا بنا لیا ان لوگوں نے مجھے اپنا بنایا اللہ پاک نے فرمایا ایک نبیوں پیغمبروں کا طبقہ ہے دوسرا صدیقین سچے لوگوں کا طبقہ تیسرا صالحین نیک بزرگ لوگوں کا طبقہ۔ اور چوتھا شہداء کا طبقہ۔ نبی کا تو سمجھ آتا ہے اللہ پاک نے اپنے پیغمبروں کو نبوت کا تاج پہنایا اس کی نبوت کے اندر اس کی عظمت کے اندر اس کے رافعت کے اندر اس کے مقام اور مرتبے کہ اندر کوئی فرق نہیں یہ صدیقین کون ہے صالحین کون ہے شہداء کون ہے یہ تینوں اولیاء کرام کے طبقات ہیں جن کو اللہ پاک نے اپنا بنایا اور انہیں طبقات نے اللہ پاک کی ذات کو اپنا بنایا ولی پہلے ولی بنتا ہے اللہ اس کو صداقت کا تاج پہناتا ہے اور ان کو انعام اور اکرام کے اندر شہادت کا تمغا دینا ہوتا ہے اس کے احترام اور اکرام کے اللہ پاک نے ولیوں کی شان بنائی ہے ولیوں کی شان حق ہے ولی کی کرامت حق ہے لیکن شرط یہ ہے سچا ولی ہونا چاہیے ہم لوگوں کے کہنے کا ولی نہ ہو ولی وہ ہوتا ہے جن کو اللہ پاک ولی کہتا ہے سچے ولی کے پاوں کی خاک ہماری آنکھوں کا سرمہ ہے ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے جو سچا ولی نہیں وہ ہماری عزتوں کا ڈکیٹ ہے اگر سچا نہیں تو اس کے اندر غیرت نہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ اللہ کی راہ دکھاتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ توحید بیان کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ لوگوں کی مار برداشت کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں بے پردہ عورت کو باپردہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ گمراہ لوگوں کو نور اور روشنی کی طرف لے کے آتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں لوگوں کو موسیقی گانے بجانے سے نجات دلاتے ہیں اللہ کے قرآن کی شان بیان کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں امت کو جہنم کی آگ سے بچاتے ہیں اور جنت کا وارث بناتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ اللہ تعالی کا راستہ اللہ تعالی کی وحدنیت اور توحید تے پہچان سے مارفعت کرتے ہیں اگر سچے ولی نہ ہوتے تو شاید زمین کب سے تباہ ہو گئی ہوتی قیامت قائم ہونے تک اللہ اللہ کرنے والی دنیا وہ انسانیت جن کے اندر اللہ کی محبت وابستہ ہے جن کو اولیاء کرام کہتے ہیں وہ زندہ حیات ہیں یہ ولی تو ہیں جن کی وجہ سے اللہ پاک ہمارے اوپر رحم اور کرم فرمایا ہوا ہے آج کل کے دور میں جس کو پاکی پلیتی کا پتہ بھی نہیں ہوتا ہم اس کو ولی کہنا شروع کر دیتے ہیں حلال حرام کی سمجھ نہیں ہے ہم ان کو گھر کا گھریلو خاندانی پیر بنایا ہوا ہے جس کو ماں بہن بیٹی کی عزت کا پتہ نہیں اس کو ہم نے اپنے سر کا تاج بنایا ہوا ہے وہ تمہاری منتیں کھائے وہ تمہارے گھر پر دم کرے وہ بیماریاں دور گرے گا واہ مسلمانوں کون سے راستے پر چل پڑے ہو اگر کوئی سچا مولوی ان کے خلاف بات کرے تو ہم کہتے ہیں تم گستاخ ہو۔ مسلمانوں اپنے گھر میں کسی سچے ولی کو لے آئیں جس کے چہرے کو دیکھیں تو قرآن کی تصویر نظر آئے جس کے چلنے کو دیکھیں تو اللہ کا قرآن نظر آئے جس کے بات کرنے سے قرآن مجید کی خوشبو آئے جو صداقت کا بادشاہ ہو جس کے اندر عدالت بہت ہو جس کے اندر ایمان چلکتا ہو جس کی آنکھ میں حیا موجود ہو جس کی زندگی میں توحید وسنت کی لکیریں موجود ہو ولی لے کے آؤ اللہ فرماتا ہے ولی کی ولایت کرامت حق ہے یہ میرا عقیدہ ہے جیسے اللہ پاک کا قرآن برحق ایسے ہی ولی کی کرامت اور ولایت حق ہے جس کو داڑھی اور موچھ کی پرواہ نہیں ان کو ہم نے ولی بنایا ہوا ہے مسلمانو جس ٹائم تم نے اپنی بیوی بیٹیوں کو ان کے سامنے بٹھایا اس نے پردہ اٹھا کہ چہرہ دیکھا یہ کس چیز کا ولی ہے اگر اس نے اپنے گلے میں تسبیح پہن لی تو ہم اس کو ولی سمجھلیں کوئی کرنٹ شاہ بنا ہوا کوئی کوئی بنگالی بابا بنا ہوا ہے کوئی تھپڑ والا شاہ بنا ہوا ہے ان کو پاکی پلیتی کا بھی پتہ نہیں ہوتا اسے ہم نے ولی بنایا ہوا ہے؟ سچے ولی پتہ کیا کریں قرآن مجید سے اے اللہ کی کتاب قرآن تم نے کس کو ولی کہا ہے اللہ پاک نے ولیوں کی شان ولیوں کا احترام قرآن مجید میں تذکرہ کیا کون کہتا ہے ولی کی کرامت حق نہیں قرآن مجید کے بے شمار مقامات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے نیکسٹ قسط پبلش ہو گی ان شاءاللہ
    @IamYasminArshad
    IamYasminArshad

  • آزادی کی قدر و قیمت تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    آزادی کی قدر و قیمت تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    میں یونیورسٹی میں دوستوں کی ساتھ کلاس میں پہچا تو تھوڑی دیر ہو گئی تھی کلاس کی بعد سی آر نے بتایا کہ یونیورسٹی کی طرف سے 14 اگست کے دن "جشن آزادی کے حوالے سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا ہے جس میں جس میں تمام شعبہ جات کے طلبا تقریری اور ملی نغموں پر ٹیبلو پیش کریں گے.
    مجھے اس طرح کے پروگرامز میں شرکت کرنے کی خاصی دلچسپی نہیں. ہاں البتہ دوستوں کی ہوصلہ افزائی کرنے ضرور جاتا ہوں. جس طرح تمام شعبہ جات نے اس پروگرام میں حصہ لیا وہیں ہماری کلاس میں بھی میرے کچھ دوستوں نے بھی ایک ملی نغمہ پر ٹیبلو بنایا.

    14اگست کا دن آیا میں صبح جلدی تیار ہوکر یونیورسٹی پہنچا چونکہ دوستوں نے اس ایونٹ میں حصہ لیا تھا تو وہ بھی جلد ہی پہنچ گئے. پروگرام میں تھوڑی دیر تھی. ہم نے سوچا کیونہ تھوڑی پریکٹس کرلیں. میں نے تو ٹیبلو میں حصہ لیا نہیں تھا تو میں ایک سائیڈ پر بیٹھ کر انہیں دیکھنے لگا.

    ہمارے ٹیبلو میں دو لڑکیاں اور تیں لڑکے شامل تھے. اسپیکر پر ملی نغمہ چلایا گیا جو کہ مجھے ملی نغمہ کم اور گانا زیادہ لگ رہا تھا. لڑکوں نے پینٹ شرٹ اور لڑکیوں نے بھی کچھ اسی طرح کے کپڑے پہنے ہوئے تھے. جب ملی نغمہ چلا تو سب ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اٹھائے ڈانس کرنے لگے. یہ دیکھ کر میں نے ان سے کہا کہ یہ تو کوئی ملی نغمہ نہیں اور اس طرح آزادی کا جشن کون مناتا ہے؟

    میری بات سن کر وہ سب کہنے لگے آج کل جشن آزادی ایسے ہی مناتے ہیں.

    اتنی دیر میں اسٹیج سے آواز آئی کہ مہمان خصوصی آ چکے ہیں اور پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے. سو ہم پہچ گئے پروگرام ہال میں سب سے پہلے سب سے پہلے باری تقاریر کر والوں کی آئی جس میں مختلف طلباء نے مختلف موضوعات پر تقاریر کیں. کسی نے ملکی سیاست پر تقریر کی تو کسی نے سیاست دانوں پر…. کسی نے ملکی مسائل پر تقریر کی اور کسی نے نظام تعلیم پر مگر افسوس ہے کسی نے ہمارے ان شہدا پر بات نہیں جو اس وطن عزیز کے آغوش میں دفن ہیں.

    اب باری ہماری یعنی ٹیبلو کرنے والوں کی آئی. ایک کے بعد ایک لڑکے لڑکیوں کے گروپس نے ملی نغموں پر ٹیبلو کیا. مجھےتو وہ ٹیبلو کم اور ڈانس زیادہ لگ رہا تھا. یہ ملک جو لاالہ الااللہ کی بنیاد پر بنا اسی کے ملی نغموں پر لڑکے اور لڑکیاں اپنا جسم دکھا کر ڈانس کررہی تھیں.

    پروگرام کے اختتام پر سبز ہلالی پرچم مجھے زمیں پر پڑے نظر آئے اور اس طرح آزادی کا جشن منایا گیا. کیا اسی طرح آزادی کا جشن منایا جاتا ہے؟

    ارے آزادی کا قدر تو ان سے پوچھیں جو آج بھی باڈر کے اس پار ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں.
    آزادی کی قدر و قیمت تو ان سے پوچھیں جنہوں نے کتنے ہی اپنے بچے شہید کروائے. کتنے ہی بچے یتیم ہوئے. آزادی کی قدر ہمارے اسلاف سے پوچھیں جن کی گردنیں تن سے جدا کرکے انہیں شہید کردیا گیا.
    کتنی ہی ماؤں بہنوں کی عزتوں کو پامال کر دیا گیا لاکھوں مسلمانوں نے اسلام کی سب سے بڑی ہجرت کی اور اس پاک سرزمین پر آکر سجدہ شکر ادا کیا.

    آزادی کی قدر ان سے پوچھیں.

    خون کے دریا پار کیے تب خاک وطن آنکھوں میں بسی
    سبز ہلالی پرچم جا کر تب اپنی پہچان ہوا

    آج تلک اس پار کے کہساروں کی ہوائیں پوچھتی ہیں
    کتنے آنچل تار ہوئے کس کس کا گھر سنسان ہوا

  • شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت قسط (1)  تحریر: محمد صابر مسعود

    شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت قسط (1) تحریر: محمد صابر مسعود

    ١٤٣٨ کیا آیا غضب ہو گیا، محرم سے شوال تک علماء کی ایک لمبی قطار رخصت ہوگئی، پہلے حضرت مولانا عبد الحق صاحب شیخ الحدیث دارالعلوم دیو بند نے رخت سفر باندھا پھر حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب، شیخ عبدالحفیظ مکی صاحب، حضرت مولانا ریاست علی بجنوری صاحب اور حضرت مولاناسلیم احمد غازی مظاہری جیسے ہند و پاک کے تقریبا ۲۹ چراغ یکے بعد دیگر ے گل ہوگئے اور "ختٰمه مسک” سال رواں نے جاتے جاتے پھر ایسا چیرا لگایا کہ پوری ہی امت تڑپ اٹھی، حضرت
    مولانامحمد یونس صاحب جونپوری شیخ الحدیث مظاہرعلوم ایک بلند مقام محدث تھے جنکی وفات کا غم عجم تو کیا عربوں کوبھی رلا گیا اور ایران و افریقہ تک اس سے متاثر نظر آئے، کچھ ایسی ہی صورتحال بیس سال قبل ١٤١٧ھ میں بھی پیش آئی تھی، جب شیخ عبد الفتاح ابو غدہ حلبی، مولانا محمد منظور نعمانی، مفتی محمود الحسن گنگوہی، مولانا انعام الحسن کاندھلوی اور شیخ بن باز جیسی عظیم المرتبت شخصیات نے ہمیں داغِ مفارقت دیا تھا، یوں تو علم و فضل کے جامع ایک عالم کی موت بھی پورے عالم کی موت ہے لیکن جب وہ پے در پے رخصت ہونے لگیں تو خاصانِ امت کا دل سہم جاتا ہے کہ کہیں یہی تو وہ دور نہیں جس کی بابت رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” یقبض العلم بقبض العلماء اوریذهب الصالحون الأول فالأول لقل الحلم”…

    حضرت مولانا محمد یونس جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کو علمی حلقوں میں امیر المومنین فی الحدیث کہا جاتا تھا وہ علم و فضل میں گزشتہ صدیوں کے علماء کی مثال تھے اور انہیں دیکھ کر امام نووی، ابن دقيق العيد، حافظ ابن حجر عسقلانی، ملاعلی قاری، شیخ علی متقی اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمہم اللہ علیھم اجمعین جیسے بلند مقام محدثین کی یاد آتی تھی ،راقم نے ان کی سب سے پہلی زیارت دیوبند میں کی جب کہ دارالعلوم دیوبند کا طالب علم تھا اور شیخ مرحوم کسی خصوصی مناسبت پر وہاں تشریف لائے تھے، انہیں دیکھتے ہی مدنی گیٹ پر طلبہ کی بھیڑ لگ گئی، ہر ایک ان سے مصافحہ کا خواہشمند تھا لیکن موصوف نے صحتی عوارض کی بناء پر گاڑی سے اترنا مناسب نہ سمجھا اور بیٹھے بیٹھے بڑی قیمتی نصائح فرمائیں، ان کا قد میانہ جسم سڈول، رنگ صاف، پیشانی تابناک، چہرہ روشن، دل خشیت الہی سے لبریز، آنکھیں اشکوں سے نہائ ہوئ، نگاہیں وقار و تمکنت سے معمور، خوبصورت آواز اور دھیمی دھیمی گفتگو ان کا سراپا واقعی
    متاثر کر دینے والا تھا، پھر خوش پوشاکی اور سفید رومال نے کشش میں مزید اضافہ کردیا تھا، بے ساختہ دل کے گوشے سے صدا آئی کہ

    اس شان عظمت پر کون نہ مر جائے اے خدا

    یہ تھی مرحوم سے پہلی ملاقات جس نے ان کی عقیدت و محبت میں مزید اضافہ کر دیا اور وقت کی رفتار کے ساتھ پھر یہ اتنی بڑھی کہ راقم نے بالقصد سفر کر کے ان سے کئی بار ملاقات کی اور اسے ہر مرتبہ ایک نئے سرور کا احساس ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوی جلال، حدیث کے مطابق بہت دور تک پہنچتا تھا اور دوسرے خطوں کے لوگ گھر بیٹھے اس کے اثرات محسوس کرتے تھے، شیخ مرحوم چونکہ حدیث کے شارح، سیرت کے ترجمان اور نبی کے سچے عاشق تھے اسلئے باری تعالیٰ نے انہیں خاتم الانبیاء کی یہ میراث بھی عطا کی تھی، چنانچہ جن واردین و صادرین کو مرحوم کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا وہ یقیناً اس بات کی گواہی دینگے کہ شیخ کی خدمت میں حاضری کے وقت واقعتاً دل دھڑکتا تھا، قدم لرزتے تھے اور بہت ہمت جٹانے کے بعد ہی ملاقات کا حوصلہ ہوتا تھا ۔۔۔۔۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • وادی چنار ظلم و بربریت کی داستان تحریر حمزہ احمد صدیقی

    وادی چنار ظلم و بربریت کی داستان تحریر حمزہ احمد صدیقی

    انڈیا کے غیر قانونی قبضے،وادی چنار کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اہل کشمیر کے فوجی محاصرے کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ وادی چنار کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ وادی چنار کی شناخت، سیاسی ، معاشی اور مذہبی حق چھین لیا گیا ہے۔

    دو سال قبل انڈین وزیراعظم مودی حکومت نے پانچ اگست کو وادی چنار کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔ وادی چنار کی آٸینی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد وادی چنار میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا جو ایک غیر قانونی اقدام تھا

    وادی چنار میں غاصب بھارتی فوج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے اہل چنار کے باسیوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے ،سینکڑوں سے زیادہ نواجون کو شہید کردیا گیا، ماں بہنوں کی عزتوں کو پال کیا جارہا ہے، ساتھ ہی بزدل بھارتی فوج نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتی جارہی ہے، بچوں اور بزرگوں کو پیلٹ گنز
    اور آنسو گیس کی شیلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں بربریت کی انتہا کررکھی ہے سینکڑوں پابندیوں کے باعث وادی چنار کی عوام مشکلات ومصاٸب کا شکار ہیں وادی چنار لاک ڈاؤن پر لاک ڈاؤن کا شکار ہیں

    مودی سرکار کی حکومت نے کورونا واٸرس کی آڑ میں پابندیوں کو مزید سخت کردیا تھا اس وقت پوری وادی چنار وحشت و بربریت کی تصویر پیش کر رہی ہے۔انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کر رکھی ہے،
    ہسپتال و کاروبار بند ہیں اور اسکول کالج ،یونيورسٹیاں بند ہیں کشمیری قائدین اور سیاسی رہمناٶں کو پابند سلاسل رکھا گیا ،کشمیریوں کا علاج معالجے کی سہولت بھی نہیں دی جارہی ہے وہاں ادویات اور خوراک کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ وادی چنار کے باسی بھارتی ظلم و ستم ہونے کے باوجود انکے حوصلے پست نہیں ہوٸے ہیں ،بلکہ حریت کو مزید تقویت ملی

    ہندوستان اندرونی خلفشار کا شکار ہوچکا ہے۔۔ ہندوستان نے وادی چنار پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائی ہیں وادی چنار کی عوام بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں ہندوستانی افواج جس طرح وادی چنار کے نوجوانوں کو شہید کرتی جارہی ہے اور اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتی ہے یہ ظلم وستم کی انتہا ہے

    وادی چنار کے عوام کو ظلم و جبر آزماکر آزادی کے جنون و جذبے کو کچلنے کے گھناؤنے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں ہندوستانی فوج نے موباٸل اور انٹرنیٹ سروسز پر پابندی کے ذریعے وادی چنار کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی جارحانہ کوششیں وادی چنار کے لوگوں کو شکست نہیں دے سکتیں ، ہندوستان کے پاس اب آزمانے کے لیے کچھ نہیں بچا ہندوستان کے ہتھیار ہمارے کشمیری بہن او بھاٸیوں کے جسموں کو چھلنی کرتے رہے اور انکے حوصلوں کو بلند کرتے رہے ہیں

    ہندوستانی کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے اب وادی چنار کا مسئلہ ایک عالمی معاملہ بن چکا ہے وادی چنار دو ایٹمی ممالک کے درمیان سلگتی چنگاری ہے، بھارت کشمیر میں 73 سالوں سے ظلم و ستم کی انتہا کررہا ہے، عالمی برداری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ، وادی چنار کے عوام کو انصاف دلانے کےلئے کشمیر کا مسئلہ عالمی عدالت انصاف کو بھجوائے یہ وادی چنار کا حق خودارادیت کے حصول کی جنگ ہے اس لئے انسانی حقوق کے تمام کمیشنوں کو وادی چنار کے لوگوں کو انکا حق دینا چاہیے

    وادی چنار کی بہادر عوام ہندوستانی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے ہیں وادی چنار کے شہداء کا لہو ایندھن بن کر آزادی کی شمع کو فیروزاں کرتا رہا گا ان شاء اللہ ہندوستان وادی چنارط میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں مگر اللہ کے فضل وہ ہمیشہ منہ کے بل کی کھاٸے گا ۔

    آخر میں بھارت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پوری پاکستانی قوم وادی چنار کی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے-وادی چنار کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں . پاکستان اور وادی چنار ایک لڑی میں پروے ہوئے ہیں ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں پاکستان کشمیر اور کشمیر پاکستان کے بغیر ادھورا ہے، کشمیریوں کے ساتھ ہمارا رشتہ محبت، بھائی چارے ،اخوت اور لاالہ الااللہ کا ہے

    وادی چنار کی عوام اپنے قیمتی لہو سے آزادی کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں ہم کل بھی وادی چنار کے ساتھ کھڑے تھے،آج بھی ساتھ کھڑے ہیں اور کل بھی ساتھ کھڑے رہیں گے-کوئی طاقت پاکستانیوں اور کشمیریوں کے اس لازوال رشتے کو ختم نہیں کرسکتی وادی چنار میں بے گناہ عوام کی شہادت پر دنیا اور اقوام عالم کی خاموشی کا کوئی جواز نہیں ہے دنیا ،اقوام عالم اور سلامتی کونسل کشمیریوں کو حق خودارادیت دے ۔

    اللہ پاک کشمیر کو بھارتی فوج کی بربریت نجات دے آمین یارب العالمین!

    تحریر حمزہ احمد صدیقی
    ‎@HamxaSiddiqi

  • مندر پر حملے کی اصل کہانی  تحریر: محمد اسعد لعل

    مندر پر حملے کی اصل کہانی تحریر: محمد اسعد لعل

    گزشتہ دنوں پاکستان کے شہر رحیم یار خان کے علاقے بھونگ شریف میں ایک واقعہ پیش آیا۔کچھ لوگوں پر مشتعمل ایک گروہ مندر پر حملہ آور ہوتا ہے۔مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی، آگ لگائی گئی اور مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔اس واقعہ کا نوٹس فوری طور پر وزیراعظم عمران خان اور سپریم کوٹ آف پاکستان نے لیا۔ ملک میں عدم برداشت کا بڑھ جانا اور اسطرح کے واقعات قابل تشویش ہیں۔
    مندر پر حملہ آخر کیوں کیا گیا؟اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟اس کے بارے میں دو الگ الگ مواقف سامنے آئے ہیں ۔ایک موقف "ایف آی آر”میں درج ہے جبکہ دوسرا موقف ہندو کمیونٹی کا ہے۔
    ” ایف آی آر ” بھونگ شریف میں ایک مسجد کے نائب امام نے درج کروائی تھی۔” ایف آی آر ” میں نائب امام کا کہنا ہے کہ مسجد سے منسلک ایک مدرسہ ہے میں اس مدرسے سے درس نظامی کا کورس بھی کر رہا ہوں اور مسجد کا نائب امام بھی ہوں۔24 جولائی 2021 کو باوقت صبح دس بجے میں نے مدرسہ کی لائبریری میں ایک لڑکے کو دیکھا۔جو کہ مدرسہ میں لائبریری کی قالین پر پیشاب کر رہا تھا۔لڑکا لائبریری کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے اندر داخل ہوا تھا ، میں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بھاگ گیا۔میرے شور کرنے پر کچھ لوگ جمع بھی ہو گئے۔میں باقی گواہان کے ساتھ اسے پکڑنے کے لیے نکلا لیکن اس کا پتہ نہیں چلا، مایوس ہو کر آیا ہوں تحریری درخواست دے رہا ہو اس پر کاروائی کی جائے۔
    پولیس نے اس لڑکے کو گرفتار کر لیا۔ چونکہ اس لڑکے کی عمر 8 سے 10 سال تھی اس لیے اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
    جب کہ دوسرا موقف جو کہ ہندو کمیونٹی کا ہے اس میں ہندوؤں کا یہ کہنا ہے کہ ایک چھوٹا بچہ جس کی عمر 8 سال ہے اور اس کا نام بھویش کمار ہے وہ مسجد سے منسلک مدرسہ کی لائبریری میں ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے داخل ہو گیا پھر جب مسجد کے نائب امام حافظ ابراہیم صاحب نے بچے کو دیکھا تو اس پر غصہ ہوئے کہ یہاں پر کیوں آئے ہو تو اس کے ردِعمل میں خوف کی وجہ سے بچے کا پیشاب نکل گیا۔
    یہ تو تھے دو الگ الگ مواقف۔ بھونگ شریف میں ہندو بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور ہندو دو طبقات میں تقسیم ہیں۔ایک طبقہ ہندو راجپوت کا ہے جو کہ سونے کا کاروبار کرتے ہیں جب کہ دوسرا طبقہ غریب ہندوؤں کا ہے۔یہ بچہ غریب کمیونٹی کے ہندو میں سے تھا ۔
    اس علاقے میں آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہندو مسلمانوں میں کبھی لڑائی ہوئی ہو۔ا س علاقے کاایک تاجرعبدالرازاق نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی کہ "آج کے بعد جو ہندو مسلمانوں کے برتنوں میں کھا تا پیتا دیکھا گیا اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔خاص کر بھونگ شریف میں” ہندوؤں اور مقامی لوگوں نے اس کے خلاف تھانہ میں درخواست دی کہ یہ علاقے میں بدامنی پھیلا رہا ہے اس کے بعد پولیس نے اس تاجر کو گرفتار کر لیا۔ پیپلز پارٹی کے ایک "ایم پی اے” جو رحیم یار خاں کے علاقے بھونگ شریف کے موجودہ "ایم پی اے” ہیں، انہوں نے اُس تاجر کو سفارش کر کے چھوڑوا لیا۔
    اس تاجر کے چھوٹنے کے بعد لوگوں کی ایک بہت زیادہ تعداد بھونگ شریف میں داخل ہوجاتی ہے۔جن لوگوں نے مندر پر حملہ کیا وہ بھونگ کے علاقے کے رہنے والے نہیں ہیں ۔ حملہ کرنے والے لوگ رحیم یار خان کے ساتھ کچے کے علاقے سے آئے تھے۔یہ ابھی تک پتہ نہ چل سکا کہ آخر انہیں کون اور کیا کہہ کر لیا تھا۔مندرپر توڑپھوڑ کرنے کے بعد اس گروہ کے لوگ کسی بات پہ آپس میں بھی لڑ پڑے اور پھر جا کر ہائی وے کوتین گھنٹے تک بلاک رکھا۔
    ان گھنٹوں میں جب وہ بھونگ شریف آ رہے تھے پولیس نہیں آئی،جب مندر توڑا پولیس نہیں آئی،جب وہ آپس میں لڑ رہے تھے پولیس نہیں آئی اور جب انہوں نے ہائی وے کو تین گھنٹوں تک بلاک کیے رکھا تب بھی پولیس نہیں آئی۔پولیس ان کو نہیں روک سکی۔ جب بات کُھل کر سامنے آئی تو وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیا۔ چیف جسٹس نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا، ملک بھر کے لوگوں نے اس واقعہ کی مزاحمت کی اور کہا کہ اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے۔
    اب بھارت اس واقعہ کا فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ بھارت کی منسٹری آف ایکسٹرنل کے سپوکس پرسن نے ٹویٹ کیا ہے”خبریں آ رہی ہیں کہ ایک پرتشدد ہجوم نےپاکستان کے علاقے رحیم یار خان میں مندر پر حملہ کیا اور بتوں کو توڑ کر آگ لگا دی ہےاور اَس پاس کے ہندو کمیونٹی کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
    جب کہ ایسا نہیں ہوا وہ ایک مندر ہی ہے جہاں پر یہ سارا نقصان ہوا ہے۔ظاہر ہے انڈیا اس سے فائدہ اُٹھائے گا،اور یہ وہی انڈیا ہے جہاں 500 مساجد اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو انڈیا کےعلاقے گجرات میں تباہ کر دیا گیااور ان کی گورنمنٹ اس سب میں شامل ہے۔بھارت پہلے اس کا جواب دے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا ، اقلیتوں کے ساتھ کیا کیا، انہوں نے عیسائیوں ،مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ کیاکیا۔دنیا میں اگر اقلیتوں کے لیے سب سے بُری جگہ ہے تووہ بھارت ہے۔
    کچھ لوگ افلاطون بھی بنے ہوئے ہیں کہ توڑ دینے چاہیے مندر،ہندوؤں کو نکال دینا چاہیے تو ان لوگوں کومیں بتانا چاہوں گا کہ ہمارا مذہب اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ہمارے نبی محمدﷺ کے اس بارے میں کیا احکامات ہیں ۔
    ایک ہدیث ہے جو مختلف صحابہ کرام سے روایت ہے ، آپ ﷺ نے اہل نجران سے ایک معاہدہ کیا تھا اور اس میں ایک تحریری فرمان جاری کیا تھا۔
    (فرمان کا ترجمہ) ۔۔۔
    "اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول محمدﷺ ، اہلِ نجران اور ان کے حلیفوں کےلیے اُن کے خون،ان کی جانوں،ان کے مذہب ،ان کی زمینوں ، ان کے اموال، ان کے راہبوں اور پادریوں، ان کے موجودہ اور غیر موجودہ افراد،ان کے مویشیوں اور قافلوں اور اُن کے استھان (مذہبی ٹھکانے) وغیرہ کے ضامن اور ذمہ دار ہیں۔ جس دین پر وہ ہیں اس سے ان کو نہ پھیرا جائے گا۔ان کے حقوق اور اُن کی عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔نہ کسی پادری کو،نہ کسی راہب کو ،نہ کسی سردار کو اور نہ کسی عبادت گاہ کے خادم کو، خواہ اس کا عہدہ معمولی ہو یا بڑا ، اس سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ اور ان کو کوئی خوف و خطرنہ ہوگا۔”
    اس فرمان کے بعد میری،آپ کی ،ملک کی یا کسی بھی مسلمان کی کیا اوقات ہے کہ وہ غیر مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے ساتھ ایسا سلوک کریں۔
    اقلیتوں کے جان و مال کے علاوہ اُن کی مذہبی آزادی بھی ریاستِ پاکستان اور اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اس واقعہ پر ہر ذی شعور پاکستانی اور مسلمان کو اس واقعہ پر دکھ ہوناچاہیے، یہ بہت غلط ہوا ہے۔اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔حملہ آوروں نے یہ کر کے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی ہے،اس کی تفتیش ہونی چاہیے اور جو بھی اس میں ملوث تھا ہر ایک کو سزا ملنی چاہیے۔

    twitter.com/iamAsadLal

  • بے روزگاری، غربت و افلاس بہت سے مساٸل کو جنم دیتی ہے  تحریر  شمسہ بتول

    بے روزگاری، غربت و افلاس بہت سے مساٸل کو جنم دیتی ہے تحریر شمسہ بتول

    دور حاضر میں بے روزگاری اور غربت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ بیروزگاری صرف کسی ایک ملک کا مسٸلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی سطح کا مسٸلہ بن چکا ہے جو دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بیروزگاری کی بہت سی وجوہات ہیں جیسے کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مگر وساٸل میں اتنی تیزی سے اضافہ نا ممکن یا کسی حد تک مشکل ہے کیونکہ وساٸل محدود ہوتے ہیں اور ہمارے ملک کی آبادی کا بیشتر حصہ نوجوان نسل پر مشتمل ہے دن بدن کالجز اور مختلف یونیورسیٹیز سے تعلیم مکمل کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر اس حساب سے نوکریوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور ہوں بہت سے نوجوان مایوس ہو کر خودکشی جیسے عمل کو اپنا لیتے ہیں اور کچھ نوجوان بے راہ روی کی راہ اختیار کر لیتے کہ اب حلال طریقے سے تو ملنا مشکل ہے اور جابز نہ ملنے کی وجہ سے وہ چوری اور ڈاکہ وغیرہ جیسے جراٸم میں ملوث ہو جاتے
    مختصر یہ کہ بےروزگاری بہت سے سماجی اور معاشرتی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ بہت سی ماٸیں اپنے بچوں سمیت خودکشی کر لیتی ہیں کیونکہ ان کے پاس اتنے وساٸل نہیں ہوتے کہ وہ اپنے بچوں کو پال سکیں ایسے بہت سے واقعات سامنے آۓ ہیں اور بہت سے باپ جو مزدوری کی تلاش میں دربدر خوار ہونے کے بعد خودکشی کی طرف چلے جاتے ہیں ایسے واقعات سے ہمارا معاشرا بھرا پڑا ہے لیکن پھر بھی ان اقدامات کی روک تھام کے لیے ریاست کی طرف سے کوٸی بھی عملی اقدامات نہیں کیے جا رے۔ غربت کی ایک بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں دولت کا فقط چند ہاتھوں میں محدود ہو کر رہ جانا بھی ہے اگر لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کریں اور حکومت عوام کے اس ٹیکس کی رقم کو پوری ایمانداری سے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناۓ مگر افسوس کہ بڑے بڑے سرمایہ دار اور سیاستدان بھی ٹیکس چوری میں شامل ہوتے یہاں تک کے عوام کے دیۓ ہوے ٹیکس کی رقم کو بھی اپنے زاتی سفر اور دیگر کاموں میں اُڑا دیتے۔ بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے ان سب کا احتساب بہت ضروری ہے۔
    بہت سے نوجوان جو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک روشن مستقبل کا خواب آنکھوں میں لیے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں اور پھر مسلسل جدوجہد کے باوجود بھی کامیابی نہ ملنے پر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں جو کہ ایک خطرناک مسٸلہ ہے
    بیروزگاری اور غربت جو کہ نہ صرف خود ایک بہت بڑا مسٸلہ ہے بلکہ یہ دوسرے بہت سے معاشرتی مساٸل پیدا کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ڈپریشن اور ٹینشن جیسی بیماریاں پیدا کرتی ہے جو انسان کو مایوسی کی طرف لے جاتی ہیں ۔
    ہمیں وساٸل کو بہترین طریقے سے بروۓ کار لانا ہو گا اور شرح سود کو ختم کرکے لوگوں کو بلخصوص نوجوان نسل کو یہ ترغیب دینا ہو گی کہ وہ کاروبار کی طرف آۓ اس سے نہ صرف ان کے لیے اچھا روزگار پیدا ہو گا بلکہ مزدور طبقے کے لیے اور درمیانے طبقے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور ملک کافی حد تک اس خطرناک مسٸلے سے باہر نکل آۓ گا
    اور جب روزگار کے مواقع پیدا ہونگے تو ملک سے غربت اور افلاس آہستہ آہستہ ختم ہوتی جاۓ گی اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے سماجی اور معاشی مساٸل حل ہو جاٸیں گی کیونکہ بیروزگاری، غربت اور افلاس سو مساٸل کی جڑ ہے. بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے مزدور طبقہ اور درمیانی طبقہ زندگی کی بنیادی ضروریات صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات سے محروم ہے۔
    ہمیں اپنی نٸی نوجوان نسل کو کاروبار کی طرف راغب کرنا ہو گا کیونکہ جس تیز رفتاری سے آبادی بڑھ رہی ہے اس تیز رفتاری سے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رے جس سے ملکی حالت ابتری کی طرف جا رہی ہے. ہمیں آنے والی نسل کے بہتر مستقبل کے لیے آج ہی سے اقدامات کرنا ہونگے اپنے وساٸل کا بہتر اور حکمت عملی سے استعمال یقینی بنانا ہو گا اور کرپٹ سیستدان جو عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی آساٸشات پر خرچ کرتے ہمیں ان کا احتساب کرنا ہو گا تا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ بہتر طریقے سے انہی کی فلاح پہ خرچ اور غربت و افلاس کی چکی میں پستی عوام کو سہارا دیا جا سکے اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں تا کہ ہمارا معاشرہ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرہ بن سکے✨

    @b786_s

  • پاکستان امریکہ کی ضرورت   تحریر:رانا عزیر

    پاکستان امریکہ کی ضرورت تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں اسوقت گھمسان کی جنگ ہے، اس پر پاکستان میں یہ بیانیہ بھی پایا جارہا ہے افغانستان سے امریکی فوجوں کا نکلنے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یہاں شکست اور ذلیل ورسوا ہوکر نکلا ہے بلکہ وہ تو افغانستان سے بہت کچھ حاصل کرکے نکلا ہے۔ افغانستان سے امریکہ رات کو خوف کے اندھیروں میں بھاگی، اشرف غنی کو بھی ساتھ ہی اپنی جان کے لالے پڑ گئے، اور اشرف غنی اب یہ الزامات لگارہے ہیں کہ اب جو افغانستان میں اب بدترین خانہ جنگی ہورہی ہے اس کی وجہ امریکی فوجوں کا یہاں سے دم دبا کر بھاگنا ہے۔ لیکن اس کا براہ راست اثر پاکستان، ایران اورچین پر بھی ہے، اور پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہوگا۔ اور امریکہ کا سارا کھیل ہی یہی ہے کہ اب افغانستان خطرناک خانہ جنگی کی لپٹ مین چلا جائے اور لڑائی پاکستان کے بارڈر تک جائے اور پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو کھڑا کردیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ ایسا کرنا ہی کیوں چاہتا ہے؟
    1960 کی دہائی میں بھی داؤد خان کی حکومت میں پاکستان کے چمن بارڈر پر حملے کیے گئے اور 30 میل تک قبائلی پشتون افغان فورسز کے ساتھ ملکر 30 میل تک اندر بھی آچکے تھے۔ امریکہ کو فوجی اڈے دینے کے بعد جو پاکستان میں بربادی ہوئی وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ تو اس سے یہ لگ رہا ہے 30 اگست کے بعد پاکستان کے حالات بھی کروٹ لے سکتے ہیں اور ہمیں مغربی بارڈر سے بہت بڑی دہشتگردی کا خطرہ ہے۔طالبان سقوط کابل کے بہت قریب ہیں اور وہ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کررہے ہیں۔
    اس وقت پاکستان کے خفیہ ایجنسی کےسربراہ اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر امریکہ میں بہت اہم مذاکرات کررہے ہیں اور امریکہ نےایک دفہ پھر سے ڈومور کا مطالبہ کیا ہے، وہ مطالبات یہ ہیں کہ پاکستان اپنی سرحد کو سیل نہ کرے، پاکستان غنی حکومت کا ساتھ دے, پاکستان حقانی نیٹورک کو خودختم کرے، پاکستان امریکہ کے مطابق اپنی فارن پالیسی بنائے، پاکستان سی پیک کو روک دے۔یہ وہ مطالبات ہیں اگر پاکستان ان میں سے ایک بھی مانتا ہے تو پاکستان اپنے پاؤں پرخودکلہاڑی مار بیٹھے گا, امریکہ ایک دفعہ پھر پاکستان کو اس کرائے کی جنگ میں اکیلا چھوڑنا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان نے یہ واضح کردیا ہے کہ اب پاکستان مشترکہ مفادات پر بات کرے گا اور امریکہ سے کوئی خفیہ معاہدہ نہیں کرے گا۔
    پاکستان کے اس عمل سے امریکی سفارتی حلقوں میں یلچل مچی ہوئی ہے، اور امریکی انتظامیہ کے مطابق جوبایڈن عمران خان کو کال کریں گے، اور ذرائع کے مطابق جوبایڈن عمران خان کو باضابط طور پر امریکہ دورے کی دعوت بھی دیں گے۔ امریکہ اس وقت پاکستان کی ضرورت محسوس کررہا ہے اور وہ پاکستان جانتا ہے کہ اس خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان کی اہمیت کتنی اہم ہے،دنیا کی کوئی طاقت اسے جھٹلا نہیں سکتی۔ چین بھی پوری طرح سے پاکستان کے سامنےاپنی بازوں کھولے ہوئے ہے اور سی پیک پر توجہ مرکوز کیے ہوئے۔ جبکہ بھارت بھی سی پیک پر حملوں کے لیے دہشتگرد تنظیموں کو فنڈنگ کررہا ہے۔ یہ خطہ خطرناک دوراہے پر ہے۔

    @RanaUzairSpeaks

  • شہرزات تحریر فرزانہ شریف

    شہرزات تحریر فرزانہ شریف

    ‏کچھ جنگیں یقین کی ہوتی ہیں اگر درد کی لہر سے ٹکرا جائیں تو بھی صبر کا دامن تھامے رکھناجسے تم بےبسی کہتے ہو وہی صبر کی وہ حد ہے جہاں فیصلے تمام ہوتے ہیں۔ کیا پتہ آج ہی تمہیں سرخرو کردیا جائے۔ عرش پر تمہاری فتح کی تیاری کی جارہی ہو۔۔۔۔ تَوَکَل٘ عَلَی اللّٰہ♥️
    اور جس نے اللہ پر بھروسہ رکھا اسے میں نے کامیاب پایا حد سے زیادہ پریشانی تمہیں شکر سے دور کر دے گی۔۔ کیونکہ تمہاری آنکھیں اور دل مستقبل کے ممکنات پر ٹکی رہیں گی، جبکہ ان میں سے کئی معاملات تو ایسے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ہوں گے بھی نہیں۔۔ لہذا جب تک تم مسلسل نامعلوم کی فکر میں لگے رہو گے، سامنے موجود نعمت سے بھی غافل رہو گے۔۔ پھر اسکے شکر میں بھی ناکام رہو گے۔۔ وہ نعمتیں جو اللہ نے تمہیں دے رکھی ہیں اور جو کہ لگاتار دی جا رہی ہیں۔۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ فکرمند ہونا ایک فطری سا عمل ہے، مگر ہر لمحہ ہی فکرمند رہنا تو ”بیماری” ہوئی۔۔ اس لیے جب بھی ایسی کیفیت ہو تو لمحے بھر کو رک جاؤ۔۔ گہری سانس لو۔۔ اور دل سے کہو کہ میرا رب تو "الوکیل” ہے۔۔ وہ میرے تمام تر معاملات کو سنبھالے ہوئے ہے۔۔ میرے بھی اور اس سارے عالَم کے بھی۔۔ اسے کہو کہ میرا اللہ سب سے بڑھ کر طاقتور ہے۔۔ وہ میری مشکل کو پلک جھپکنے میں آسان کر سکتا ہے۔۔ وہ تو وہ ہے جس نے اتنے وسیع و عریض آسمان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے
    پھر تم نے کیسے سوچ لیا کہ وہ تمہیں تکلیفوں کے پہاڑ تلے ریزہ ریزہ ہونے دے گا؟ کیا تمہیں معلوم نہیں وہ ہی ہے، صرف وہی ہے جو تکالیف دور کرتا ہے؟؟ہم اس کے ایک کن کے محتاج ہیں
    کہو اپنی روح سے کہ اپنے رب کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔۔ اپنے دل سے بولو کہ کھولے اپنی آنکھیں اور دیکھے کہ اسکے رب نے کیسی کیسی نعمتوں میں اسے گھیر رکھا ہے۔۔
    اللہ کے دیئے گئے انمول گِفٹس تم سے کہیں بھی دور نہیں، مگر ان کو دیکھو تو سہی، پہچانو تو سہی۔پھر انہیں اسکی فرمانبرداری میں استعمال کرو۔ اس کی شکرگزاری کرو
    ‏نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے ان میں اضافہ ہوتا چلا جاتا
    اللہ سے باتیں کیا کریں اس شعور سے آگے بڑھ کرکہ وہ السمیع البصیر ہے وہ دعا کو پسند فرماتا ہے صرف اس لیے کہ دعااللہ تعالیٰ کی برتری کا احساس بھی ہے اور بندے کے شکر کا اظہار بھی۔
    سو اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئےیقین کریں آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔ دو یا تین منٹ سے سلسلہ شروع کریں۔۔ آہستہ آہستہ وقت کا دورانیہ بڑھے گا۔۔آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہوں گے اور دل میں ایک اطمینان اترتا چلا جائے گا۔
    وہ ستر ماؤں جتنی محبت کرنے والی ہستی۔۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ کی ہمتوں کو بلند کر دے گا۔
    اس پاک ذات پر بھروسہ رکھیں

    یہ ہو ہی نہیں سکتا الله نے جو آپ کے لیۓ لکھ دیا ہے وہ کسی اور کے پاس چلا جائے ۔
    تو پھر مطمئن ہو جائیں صاف دل اور صاف نیت کے ساتھ جینآ سیکھیں
    خود کو سمجھیں _خود کو سمجھائیں خود کو سکھائیں
    ہاں جہاں ہو تم__چاھے جتنا بھی تمھاری زات ٹوٹ چکی ھے__تھک چکی ھے__اسے مزید ڈسٹرکشن کے بجائے__کنسٹرکشن کی طرف لے کے جاؤ__
    یقین مانو ضائع نا کرو خود کو!!!
    جو گزر گیا__اس سے سیکھو نا کہ ساتھ لے کے گھومو__
    جو ہونا تھا__وہ تمھاری ایمیجنیشنز تھیں جن کا ھونا نا ھونا مکمل کوئی نہیں جانتا کے ممکن تھا بھی یا نہیں__
    اپنا آج جیوجو حقیقت میں تمھارا ھے__بس تمھارا ھے__کسی کی پابند نہیں ہو تم__
    نا اپنی ہنسی کیلئے__نا رونے کیلئے__
    تو لو اب سے اپنی لائف کا ‘یو ٹرن’__ابھی بھی دیر نہیں ھوئی۔
    میں الله سے دعا کرتی هوں کہ جو مشرق سے مغرب کا مالک جو ارض و سماء کاخالق جو بخشنا چاهے تو سو سال کے گناہ ایک پل میں معاف کر دیتا هے وہ الله آپکو صحت اور کامل ایمان والی زندگی عطافرماۓ. اور اپنے خزانوں سے وسیع رزق حلال عطا فرما.
    آمین بجاہ النبی الامینﷺ
    twitter.com/Farzana_Blogger?s=09