Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کے ایک معتبر صحافی مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کے وکیل کا نوٹس چور مچاۓ شور کے مترادف ہے۔
    مبشر لقمان نے درندے کو درندا کہہ کا کون سا جُرم کیا ہے؟
    کیا بُرائ کواچھائ کہا جا سکتا ہے۔؟
    یا جُرم کرنے والا کسی بڑے ،بااثر یا طاقتور شخصیت کا بیٹا ہو تو اسکے جرم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے؟
    یا امریکی شہریت رکھنے والوں کو سات خون معاف ہوتے ہیں؟
    اگر ایسا نہیں ہے تو مبشر لقمان نے نور مقدم کیس میں ظاہر جعفر کی انسانیت سوز حرکت کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے-ہم سب اسے بطور صحافی،بطور انسان اور بحیثیت ایک زمہ دار پاکستانی کے مکمل طور پر
    Endorse
    کرتے ہیں۔ہم سب مبشر لقمان کے ساتھ ہیں۔اور اسکے اس سانحہ کے لئے اٹھاۓجانے والے ہر ایک قدم پر اسکے ساتھ ہوں گے۔
    ظاہر جعفر کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہر اس شخص کو نوٹس بھجواۓ،جو ظاہر جعفر کی درندگی پر احتجاج کر رہا ہے۔
    اس نوٹس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی وحشیانہ واقعے پر آواز نہ اٹھائ جاۓ۔
    اگرکسی شخص کو بے دردی سے نہ صرف قتل کر دیا جاۓ بلکہ اس کا سر تن سے جدا کر دیا جاۓ۔
    تو معاشرہ لب سی لے کہ جرم کرنے والا دوہری شہریت کا حامل ہے۔
    اور یہ کہ وہ دولت کی فراوانی کی وجہ سے قانون سے بالاتر ہے۔
    ظاہر جعفر کو چاہیے کہ لگے ہاتھوں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو بھی ایک نوٹس بھجوا دے۔کیونکہ انہوں نے بھی عوام سے براہ راست گفتگو میں واضح کیا تھا کہ نور مقدم کے قاتل کو قرار واقعی سزا ضرور ملے گی،خواہ وہ امریکی شہریت ہی کیوں نہ رکھتا ہو !
    یہ نوٹس پاکستان کے ہر اس شخص کو ملنا چاہیے جو جنگل کے قانون کو نہیں مانتا۔
    یہ نوٹس ہر اس شخص کو ملنا چاہیے،جو غلط کو غلط کہنے کی گستاخی کرے۔
    یہ نوٹس اصل میں قانون کے مونہہ پر طمانچہ ہے کہ ایک قاتل ایک ایسے شخص کو ہرجانے کا نوٹس بھیج رہا ہے۔جو اسے درندگی پر اسےملامت کر رہا ہے۔
    بجاۓ اس گھناونے فعل پر شرمندہ ہونے کے،اس پر آواز اٹھانے والوں کو نوٹس دے کر سوسائٹی کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ہم قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔
    انسانی جان کی ہمارے نزدیک کوئ اہمیت نہیں ہے۔ہم جس کو چاہییں،بھیڑ بکری کی طرح زبح کر دیں یا چیونٹی کی طرح مسل دیں۔
    ایسے نہیں چلے گا۔
    چور نالے چترا کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    ظاہرجعفر کے وکیل کے لئے بہتر ہے کہ وہ فی الفور اس نوٹس کو واپس لے ورنہ ہزاروں مبشر لُقمان سڑکوں پر ہوں گے،جو چیخ چیخ کر کہیں گے کہ نور مقدم کے بے رحم قاتل کو سر عام پھانسی دی جاۓ تاکہ آئندہ کسی کو،کسی خاتون کا سر تن سے جدا کرنے کی ہمت نہ ہو۔کسی کو پیسے کے بل بوتے پرقانون ہاتھ میں لینے کی ہمت نہ ہو-
    میں پوری سول سوسائٹی کی طرف سے مبشر لقمان کو اس بھیانک واقعے کو دلیرانہ طریقے سے ہائ لائیٹ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ صڑف اتنا کہوں گا کہ
    More power to mubasher luqman.

    @lalbukhari

  • یہ وردی والے تحریر :حادیہ سرور

    یہ وردی والے تحریر :حادیہ سرور

    وردی والوں کے ملکِ پاکستان پر، اس قوم پر اور ہم سب پر اتنے احسانات ہیں کہ ہم اگر ان کو الفاظ میں بیان کرنا چاہیں تو نا کر سکیں گے، کتابیں لکھیں تو کتابیں کم پڑ جائیں، ان کی قربانیوں کی داستانیں سنانیں لگیں تو وقت کم پڑ جاۓ، ان کی بہادری شجاعت کے قصے چھیڑیں تو سننے والے دنگ رہ جائیں، ان کی ملک سے محبت وفاداری اور جذبہ شہادت کے جذبے کو بیان کرنا نا ممکن ہے ۔
    قصہ مختصر وردی والے ہی ہماری آن ہیں، ہماری شان ہیں ۔یہ وردی والے ہی ہوتے ہیں جو خود دشمن کی گولیوں ،ٹینکوں اور توپوں کے سامنے سینہ تان کر پوری رات کھڑے ہوتے ہیں تب ہم آرام سے ائیر کنڈیشن اور پنکھے لگا کر مزے کی پر سکون نیند سوتے ہیں ۔
    یہ وردی والے ہوتے ہیں جو کہیں سیلاب ہو زلزلہ ہو لینڈ سلائڈنگ ہو یا ہو کوئی اور آسمانی آفت سب سے پہلے اور سب سے تیز اپنے لوگوں کی مدد کےلیے وہاں موجود ہوتے ہیں ۔جو ہمارے لیے نا گرمی کی پرواہ کرتے ہیں نا سردی کی, نا برف کی نا پسینے, کی بس اپنے لوگوں کی خدمت کےلیے ہر وقت موجود ہوتے ہیں ۔
    یہ وردی والے ہیں جن کی وجہ سے ہمارا سب سے بڑا دشمن انڈیا جو ہم سے تقریباً دس گناہ بڑا ہے ہماری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے ۔کیونکہ جذبہ شہادت لیے یہ وردی والے اپنے سے دس گناہ بڑے دشمن کو ہر وقت ناکوں چنے چبوانے کےلیے تیار ہوتے ہیں ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں جنہوں نے اندرونی اور بیرونی دشمنوں ، غداروں کو ایسا سبق سیکھایا ہے جو کبھی بھولنے پر بھی ان کو نا بھولے گا ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں جنہوں نے دہشتگردکی ایسی جنگ لڑی اور جیتی جو دنیا کوئی فوج نہیں جیت سکی۔
    ان وردی والوں سے لڑنا نا ممکن ہے ۔کیونکہ یہ اپنے سے جنگ چھیڑنے والوں کو پھر بھاگنے کا موقع بھی نہیں دیتے ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں ہیں جو دنیا کہ ہر جگہ موجود ہیں ہر پہاڑ صحرا ،جنگل ،میدان ،دریا ،سمندر ،شہر ،بازار ہر جگہ موجود ہوتے ہیں کبھی یہ تکے بیچنے والے بن کر کلبھوشن یادیو جیسے گینگ کو پکڑتے ہیں تو کبھی یہ انڈیا کی فوج میں ہی گھس کر اس کو کتے کی موت دیتے ہیں خیر پہلے بھی کہا تھا ان کے قصے کہانیاں نا قابلِ بیان ہیں ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں جو افغانستان میں سویت یونین کو امریکہ کی مدد سے شکست دے کر ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں تو پھر اسی امریکہ کو امریکہ ہی کی مدد سے بیس سال تک افغانستان میں زلیل کرنے کے بعد ایک درد ناک شکست دیتے ہیں ۔
    یہ وردی والے کسی سے ڈرتے نہیں یہ وردی والے اللہ پر کامِل یقین رکھتے ہیں اور ان کا ایمان لاالہ اللہ ہوتا ہے ۔
    یہ وردی والے اپنی قوم اور لوگوں کےلیے نا جان دینے سے ڈرتے ہیں نا ہی جان لینے سے ڈرتے ہیں ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں جن سے قوم دل وجان سے پیار کرتی ہے اور پیار کرنا بھی چاہیے کیونکہ یہ وردی والوں کا واحد ایسا ادارہ ہے جو دل وجان سے پاکستان کےلیے کام کر رہا ہے اپنے لوگوں کےلیے کام کر رہا ہے جو پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے خوشحال دیکھنا چاہتا ہے ۔
    وردی والوں کے پاکستان کےلیے احسانات ،قربانیاں ،داستانیں، قصے اتنے ہیں کہ اس کالم میں تو پورے آنے سے رہیں ہاں اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس کالم کی اگلی قست آۓ تو ضرور کمنٹ کیجیے گا
    فلحال کےلیے اتنا ہی ۔
    پاکستان زندہ باد ،پاکستان پائندہ باد

    @iitx_hadii

  • جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے تحریر:حیأ انبساط

    ہمارا معاشرہ اس محاورے کی عملی مثال ہے کہ “جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے “ مغرب کی تقلید کرتے ہم اپنی روایات کو بھولتے جا رہے ہیں جب گھر پہ ہونے والے رنگ و روغن سے لیکر مردوں کے آفٹر شیو تک کے اشتہار میں عورت کو دیکھایا جائے تو ایسے معاشرے میں بےحیائی کا رونا اور بےراہروی کی شکایت جچتی نہیں ہے۔

    ‏کچھ عرصہ پہلے انسٹاگرام پہ ایک اداکارہ نے کسی کا انباکس میسچ اسکرین شاٹ لیکر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا تھا جس میں کسی حضرت نے ایک ملاقات کیلئے لاکھوں روپے آفر کیئے تھے جس کے جواب میں خاتون اداکارہ نے کافی تلخ جواب لکھا تھا جو میں تحریر کرنے سے قاصر ہوں- حال ہی میں ان کی طرف سے ایک اور اسکرین شاٹ شائع کیا گیا تھا جس میں پہلے کی طرح نازیبا فرمائش کی گئی تھی۔

    ‏اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان پبلک فگرز کو اپنی مرضی سے ٹاپ لیس ، بیک لیس ، سلیو لیس پہننے میں کوئی اعتراض نہیں ہوتا ؛ ان کے بقول یہ اُن کا کام ، ان کا پیشہ ہے جس کے لیئے وہ بھاری معاوضہ بھی وصول کرتیں ہیں ۔ مکمل سطر پوشی کے بارے میں بات کرنا انکے آگے دقیانوسی خیالات و روایات سمجھی جاتی ہیں اس سلسلے میں قرآن جیسی مقدس کتاب ،اللّٰہ کے احکامات کی طرف سے آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں اور اس کے نبی کی تعلیمات کو سُنا ان سُنا کر دیا جاتا ہے تو پھر ان معمولی انسانوں کے غیر اخلاقی میسجز کو تو نظر انداز کر دینا بہت ہی آسان سی بات نہیں ؟ کیوں رائی کا پہاڑ بنایا جاتا ہے ؟

    ‏جب آپ خود کبھی صابن کے اشتہار میں ، کبھی شیمپو کے اور کبھی مردوں کی شیونگ کریم کے اشتہارات میں کام کرنے کے لیئے معاوضہ وصول کرتی ہیں تو یہ چھوٹی سوچ کے حامل گھٹیا لوگ بھی آپ کو اور آپ کے کام کو دیکھتے ہوئے اپنی آفرز لیئے آپ کے ان باکس میں حاضر ہوجاتے ہیں ، انہیں بھی درگزر کیجیئے نا جس طرح قرآن کے واضح احکامات کو کر دیتیں ہیں۔

    ‏حالیہ ایوارڈ شو میں ماڈلز کے ملبوسات کے بارے میں تو کچھ کہنے کی میری مجال نہیں کہ اگر ان کے بارے میں ایک لفظ بھی کہہ دیا جائے تو بھاری اکثریت والی آبادی ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔ ان سیلیبرٹیز کے حق میں بولنے کیلئے تو بہت سے لوگ آجاتے ہیں ان کو ہراساں کرنے والوں کو لعن طعن کرنے والوں کی کثیر تعدار ہمیں سوشل میڈیا پہ لکھتی نظر آجاتی ہے مگر جب مختلف برانڈز کے قدآور پوسٹرز ، بل بورڈز میں آپکی تصاویر ہر چوراہے ، شاپنگ مالز کے اندر باہر آویزاں ہوں گی تو دیکھنے والے کا دل بھی مچل سکتا ہے اور جو طبقہ لاکھوں روپے افورڈ نہیں کر سکتا ان کی ذہنی گندگی ، درندگی اور زیادتی کا نشانہ مظلوم ،غریب، کم عمر بچیاں بنتی ہیں ۔

    ‏کبھی آپ نے سڑکوں پہ پھول بیچتی ، سگنل پہ گاڑیاں صاف کرتی بچیوں کے اوپر پڑتی لوگوں کی گندی اور کریہہ نظروں کے بارے میں سوچا ہے؟ کبھی ان معصوم ضرورت مند ، غریب بچیوں کے پیوند لگے ، گھسے ہوئے لباس سے مجبوری میں جھلکتے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے؟ ہزاروں روپے عورت مارچ ، آزادی مارچ میں لٹانے کے بجائے ان پیسوں سے ان مستحق بچیوں کو مکمل لباس دلوانے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا؟ جب کوئی حادثہ رونما ہو جاتا ہے تو ایک ہیش ٹیگ کچھ دن ٹائم لائن پہ گردش کرتا دیکھائی دیتا ہے ، احتجاج کیا جاتا ہے اور افسوس یہ کہ جو محرکات ہوتے ہیں وہی احتجاج میں بھی شامل نظر آتے ہیں ۔ حکومت اور اداروں کو لعن طعن کی جاتی ہے اور میں مانتی ہوں کہ سب ٹھیک ، درست ، بجا ؛ حکومت اور ادارے ذمہ دار مگر ہم انفرادی طور پہ اس سب کو ٹھیک کرنے کیلیۓ کیا کر رہے ہیں ؟؟

    ‏ میں ان پبلک فگرز کی اصلاح کیلیۓ نہیں لکھتی وہ لوگ خود بہت سمجھدار ہیں ، میں تو بس اپنے ملک کے معماروں کو، آنے والی نسلوں کی آمین بچیوں کو ، ان کمسن ذہنوں کو بےحیائی سے پراگندہ ہونے سے بچانا چاہتی ہوں جو ان مغربی تہذیب کے پیچھے اندھا دھند بھاگتی ایکٹریسز کی اندھی تقلید کر رہی ہیں کیونکہ یہ ہی بچے بچیاں ہمارے ملک و قوم کا مستقبل ہیں انکی اصلاح اور بہتر تربیت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

    ‏ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا عقیدۂ آخرت پہ کامل یقین ہے کہ اس دن ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا جو ظالم ہیں انکا کڑا احتساب بھی ہوگا ۔ عورتوں سے جب مکمل سطرپوشی کے بابت سوال کیا جائے گا تو ہو سکتا ہے ان معصوم بچیوں کو تو بحالتِ مجبوری نامکمل سطرپوشی کے معاملے میں اللّٰہ بخش دے لیکن ان خواتین کا کیا ہوگا جو جانتے بوجھتے اپنے ساتھ ۴ محرم ( باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹا) کو بھی جہنم رسید کرنے کے در پہ ہیں، یوں تو ہر انسان اپنے اعمال کا جوابدہ ہے مگر سوچیۓ گا ضرور !!

    ‏Twitter handle : ⁦‪@HaayaSays

  • کیا والدین اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں تحریر : مفیدہ شاہ

    کیا والدین اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں تحریر : مفیدہ شاہ

    پاکستان کے ایک شمارے کے اندازے کے مطابق جنوری 2021 میں پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 46 ملین ہیں
    اس بات سے اندازہ لگائیں
    کہ سوشل میڈیا ایک حقیقت بن چکی ہےاس کے بغیر زندگی گزارنا اب مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں
    تو ایسے میں لازم ہے کہ "والدین اور اساتذہ پوری ایمانداری سے اپنے بچوں اور طالب علموں کو سچ اور جھوٹ،غلط اور صحیح، جائز اور ناجائز کے درمیان فرق کے ساتھ ساتھ مثبت اور منفی رویوں کی بھی پہچان کروادیں”*۔
    پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی سے دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہورہا ہےاور نوجوان اس کا بڑھ چڑھ کر استعمال کرتے اور اس سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔
    یہ بات قابلِ فکر ہے کہ کوئی بھی *”کم تعلیم یافتہ معاشرہ”* بآسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سےدورہوتاچلاجاتا ہے۔
    آج کل سوشل میڈیا پر ایسے گمنام صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز ومزاح کی آڑ میں گالم گلوج ،بےحیائی اور دہشت پھیلاناہوتا ہے،بڑے متحرک ہیں۔
    ہم سب اس سنگین صورتحال سےآگاہ تو ہیں لیکن روک تھام کیلئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔شاید مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کےغلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ کروانا ہوگا تاکہ وہ بچوں کو انٹرنیٹ رسائی سےپہلے اور رسائی
    کے دوران ان کی بھرپور نگرانی کریں۔

    @muffff9

  • نئے لیڈر کی تلاش تحریر: قلم محمد وقاص شریف

    آ صف زرداری اور نواز شریف کی سیاست سے جلے کٹے عوام کو ایک ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو کرپشن اور لوٹ مار سے پاک قیادت فراہم کر سکے 22 سال تک سیاسی جدو جہد کرنے والا عمران خان جب سامنے آ یا تو ایک بات طے ہوگئی کہ یہ شخص ایماندار اور بے باک ہے نہ کھائے گا نہ کھلاے گا ملک سے روائتی اور باریوں والی سیاست ختم ہو گی کرپشن اور لوٹ مار ماضی کا قصہ بن جائیں گے خان صاحب نے 2018 کے انتخابات میں بڑی شاندار کمپین چلائی۔ انہوں نے ہر جلسے میں ہزاروں لاکھوں لوگوں سے خطاب کیا اور ایک ایسے پاکستان کی نقشہ کشی کی جس کی خواہش ہر پاکستانی کر سکتا ہے عمران خان کی زندگی کی چند مثبت چیزوں سے ہر پاکستانی پہلے ہی مطلعِ تھا اوپر سے جب انہوں نے ملک کو ٹھیک کرنے کے بلند وبانگ دعوے کیے تو یہ بات ہر ایک کو ایسے اچھی لگی ہے جیسے صدیوں کے خواب کو تعبیر ملنے جا رہی ہو عمران خان کے سیاسی کیریئر میں 2018سب سے زیادہ کھل کر سامنے آیا جس میں ان کی شہرت کا گراف بہت اونچا تھا اور توقع یہ تھی کہ وہ کلین سویپ کر دیں گے مگر ڈرامائی طور پر انہیں بہت ہی معمولی برتری حاصل ہوئی مگر پھر بھی وہ حکومت بنا گئے۔ معمولی برتری دلانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ لانے والوں کی ضرورت ہر وقت محسوس ہوتی رہے اور کبھی بھی منہ زوری کا وقت نہ آ ئے حکومت تو بن گئی ہے مگر شروع دن سے ڈیلیوری نام کی کوئی چیز سامنے نہیں آئی عوام میں مایوسی کی لہر دوڑ چکی ہے تیسرا سال لگ چکا ہے اور کچھ بھی نہیں ہوا۔ کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ نواز زرداری دور کا ہر کام ضرب تقسیم کے ساتھ جاری وساری ہے۔ بےروزگاری۔ مہنگائی عروج پر ہیں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پہلے سال حکومت اپنی جگہ بناتی ہے دوسرے سال منصوبے کاغذ پر بنتے ہیں اور تیسرے سال ان پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن لگتا ہے تین سالوں میں حکومت نے صرف جگہ ہی بنائی ہے باقی کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ بہت ہی مایوس کن مرحلہ ہے لانے والے چاہے عوام ہوں یا فرشتے یہ بات طے ہے کہ اب نئے لیڈر کی تلاش زور وشور سے جاری ہے اور سنا ہے الٹی میٹم بھی دیا جا چکا ہے۔ دعا ہے نئی تبدیلی پرانی تبدیلی جیسی نہ ہو
    @joinwsharif7

  • پولیس کی قربانیاں تحریر: عتیق الرحمن

    پاکستان نے قومی طور پر پولیس فورس کے ان ارکان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بدھ کو ایک خاص دن منایا جنہوں نے ڈیوٹی کی لائن میں اپنی جانیں قربان کیں۔ یہ ان جوانوں اور پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے جنہوں نے پچھلے بیس سال کی دہشت گردی کی ایک خوفناک لہر میں اپنی جانیں قربان کی اور ملک کا امن بحال کرنے میں خون کا ایک ایک قطرہ لگا دیا
    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سلامی دی
    اسلام آباد میں صدر عارف علوی پولیس کے زیر اہتمام ایک تقریب کے مہمان خصوصی تھے اور اپنے خطاب میں انہوں نے تسلیم کیا کہ پولیس دہشت گردی اور جرائم کے خلاف فرنٹ لائن فورس ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اگلے پانچ یا چھ ماہ کیپیٹل پولیس کے لیے ایک چیلنج ہوں گے اور انہیں چوکس رہنے کے لیے کہا۔ آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل رحمان نے شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
    ملک بھر میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں پولیس اہلکاروں اور خواتین کی بہادری کو اجاگر کیا گیا جنہوں نے جرائم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ پولیس کے پاس ایک درست نقطہ ہے جب وہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی خدمات کو وہ اعتراف نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ پولیس کی عوامی ڈیلنگ منفی کاموں کو مثبت کاموں سے کہیں زیادہ نمایاں کرتی ہے۔ پولیس ایک امیج کے مسئلے سے دوچار ہے کیونکہ اسے کئی سالوں سے نظرانداز اور مسلسل حکومتوں کے ہاتھوں زیادتی کا سامنا ہے۔ طاقت کی سیاسی کاری ، مدت ملازمت کا عدم تحفظ ، تربیت کا فقدان ، اور ریاست نے پولیس کو جو روایتی کردار تفویض کیا ہے ، ان سب نے قانون نافذ کرنے والوں کو تنقید اور عوامی عدم اعتماد کا نشانہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ، حالیہ برسوں نے ظاہر کیا ہے کہ یہی قوت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے رہی ہے اور محدود وسائل کے باوجود قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ پولیس کے افسران اور جوانوں دونوں نے مشکل مشکلات کے باوجود بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اور اکثر اپنی جان کی قیمت پر کامیابی حاصل کی ہے۔
    پولیس کے اس قابل تعریف کردار نے حکومتوں اور عوام کی جانب سے خاطر خواہ توجہ حاصل نہیں کی۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ پولیس کو دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے اور ان کے خلاف غالب آنے کے لیے مناسب پہچان دی جائے۔ اس پہچان کو مزید وسائل ، بہتر امتیازات ، بہتر تربیت ، جدید آلات اور زیادہ سے زیادہ پذیرائیوں میں ترجمہ کرنا چاہیے۔ بین الاقومی طور طریقوں کو سامنے رکھتے ہوئے تربیتی مراکز قائم کیے جائیں جہاں پولیس کے جوانوں کی عسکری صلاحیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی تربیت کا بھی بھرپور انتظام اور نظام موجود ہو۔
    پولیس اصلاحات ایک ایسا وعدہ ہے جو حکومتوں کی کمزوری کی وجہ سے ادھورا رہتا ہے۔ پولیس اس طرح کی اصلاح کی مستحق ہے جتنی کہ عوام کی خدمت کے لیے۔ اصلاحات کے بغیر اس ادارے سے وہ آئیڈیل نتائج لینا تقریبا ناممکن سا ہے کو ہر ترقی یافتہ ملک کی پولیس فورس سامنے لاتی ہے۔ ایسی اصلاحات لائے جانے کی ضرورت ہے جس سے سیاسی اثرورسوخ بلکل ختم ہوجائے اور پولیس جوانوں کی ملازمت کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔ اس طرح کی اصلاحات پولیس کو سیاسی جوڑ توڑ اور بدسلوکی سے محفوظ رکھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے قابل بنائے گی۔ ہم پولیس کے مقروض ہیں کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس طرح کی اصلاحات کو بعد میں نافذ کیا جائے۔
    پاکستان پولیس زندہ باد🇵🇰

    @AtiqPTI_1

  • عظمتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تحریر: عقیلہ رضا

    عظمتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تحریر: عقیلہ رضا

    وزیرِ رسالت ِ مآبﷺ ،جانشینِ مصطفیﷺ ، نظامِ عدل کے آفتاب، دُعاۓ مصطفیﷺ ، عاشقِ مصطفیﷺ، آسمانِ رفعت کے دَرَخشاں ماہتاب، خلیفہ دوئم امیر المؤمنین حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ وہ ہستی جن کی تعریف و کمالات کا احاطہ کسی طور ممکن ہی نہیں۔
    آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام: عمر
    کنیت: ابو حفص
    لقب: فاروقِ اعظم
    39 مَردوں کے بعد رسولِ کریمﷺ کی دعا سے اعلانِ نبوت کے چھٹے سال 27 برس کی عمر میں ایمان لاۓ۔
    حضرتِ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    "حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا مسلمان ہونا اسلام کی فتح تھی ، اُن کی ہجرت نصرِ الہی تھی اور اُن کی خلافت رحمتِ خداوندی تھی، ہم میں سے کسی کی یہ ہمت و طاقت نہیں تھی کہ ہم بیتُ اللہ شریف کے پاس نماز پڑھ سکیں مگر حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام لانے کے بعد مشرکین سے اس قدر جنگ و جدال کیا کہ انھوں نے عاجز آکر مسلمانوں کا پیچھا چھوڑ دیا تو ہم بیتُ اللہ شریف کے پاس اطمينان سے اعلانیہ نماز پڑھنے لگے۔
    حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اپنا اسلام علی الاعلان ظاہر کیا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی ہیں۔
    حضرتِ علی کرم اللہ وجھہُ الکریم فرماتے ہیں کہ:
    "عمر(رضی اللہ تعالی عنہ) کے علاوہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو۔
    امیر المؤمنین حضرتِ فاروقِ اعظم کی شان و فضيلت کا اندازہ رسولِ کریمﷺ کے اس فرمان سے لگا سکتے ہیں کہ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ:
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    لَو کَانَ بَعدِی نَبِیُّ لَکَانَ عُمَرَ بنَ الخَطَّابِِ۔
    یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔
    حضرتِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:
    اللہﷻ نے عمر کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرما دیا ہے۔
    طبرانی اوسط میں حضرتِ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے فرمایا:
    مَن اَبغَضَ عُمَرَ فَقَد اَبغَضَنِی
    یعنی جس نے عمر سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔
    اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔
    حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ زہد و ورع اور تواضع و حلم کی بہترین مثال تھے۔
    حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ روزانہ گیارہ لقمے سے زیادہ طعام ملاحظہ نہ فرماتے۔
    جمادی الاخریٰ 13 ھجری کو آپ رضی اللہ تعالی عنہ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوۓ، آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا دورِ خلافت 10 سال اور چند ماہ پر محیط رہا۔ آپ نے اپنے دس سالہ دورِ خلافت میں بے شمار کارنامے سر انجام دیے، زمین عدل و داد سے بھر گئی، دنیا میں راستی و دیانت داری کا سکہ رائج ہوا، مخلوقِ خدا کے دلوں میں حق پرستی و پاکبازی کا جذبہ پیدا ہوا، فتوحات اس کثرت سے ہوئیں کہ آج تک ملک و سلطنت کے والی و سپاہ و لشکر کے مالک ورطہ حیرت میں ہیں۔
    ابنِ عساکر نے اسماعیل بن زیاد سے روایت کی کہ حضرتِ علی کرم اللہ وجھہُ الکریم کا گزر مسجدوں کے پاس سے ہوا جن میں قندیلیں روشن تھیں ، انھیں دیکھ کر فرمایا کہ اللہﷻ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کو روشن فرماۓ جنہوں نے ہماری مسجدوں کو منور کردیا۔
    آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکمل فضائل بیان کرنا ناممکن ہے۔
    نمازِ فجر میں ایک بد بخت ابولولو فیروز نامی(مجوسی یعنی آگ پوجنے والے) کافر نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر خنجر سے وار کیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ تیسرے دن شرفِ شہادت سے مشرف ہوگۓ۔ بوقتِ شہادت عمر شریف 63 برس تھی۔
    حضرتِ سیدنا صھیب رضی اللہ تعالی عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور روضہ مبارکہ کے اندر حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پہلوۓ انور میں مدفون ہوۓ۔
    اللہﷻ کی ان پر بے شمار رحمتیں نازل ہوں اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
    آمین۔

    اسلام آباد
    @aqeela_raza

  • پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کا اصل ذمہ دار تحریر: محمد حارث ملک زادہ۔

    پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کا اصل ذمہ دار تحریر: محمد حارث ملک زادہ۔

    کیونکہ قرض رات کا غم اور دن کی رسوائی ہے ".
    یہ حدیث زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے ، چاہے وہ کوئی انسان ہو یا کاروبار ہو یا کوئی ملک وغیرہ سب کے لیے انتہائی اہم اور فائدہ مند ہے ۔
    قرض کے زیرِ بحث عنوان پر میں صرف ایک ملک یا حکومت پر ہی تفصیلی بات کرو گا جو کہ پاکستان ہے، حکومتی قرض کا مطلب کہ کسی ملک یا حکومت پر واجب الادا قرضہ ہے۔ حکومتی قرضوں کی بات یہ ہوتی ہے کہ قرض لینے والا کوئی اور ہوتا ہے اور قرض ادا کرنے والا کوئی اور۔ پاکستان کو ہی مدنظر رکھا جائے قرضوں کے بوجھ کے ذمہ دار حکومتوں کے قرض لینے والے بد دیانت/کرپٹ لیڈر ہوتے ہیں جبکہ حکومت کا یہ سارا قرضہ آخر کار اس ملک کے ٹیکس دھندگان کو بھرنا پڑتا ہے جس پر سودبھی شامل ہوتا ہے۔ حکومتی قرضوں کے بو جھ نے اُن آنے والی نسلوں کو بھی مقروض بنا دیا ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔ پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کے بارے میں تفصیل میں جانے سے پہلے اصل ذمہ دار وں کا ذکر کردو کہ پاکستان کے قرضوں کا ذمہ دار صرف اور صرف "پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن کے نااہل و چور سیاستدان، کرپٹ بیوروکریٹ، اشرافیہ وغیرہ ” ہیں۔ 70 سال کے اتنے بڑے بوجھ کا خمیازہ اور اثر موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ اعدادوشمار کے اندازہ کے مطابق پاکستان پر 116309ملین امریکی ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے ،اس لحاظ سے ہر پاکستانی شہری پر 1.70 لاکھ کا پاکستانی روپےکے حساب سے قرضہ ہے۔ قرضوں کے اس بوجھ کے علاوہ پاکستان کو ان قرضوں کا سالانہ اربوں کا سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے، شرح سود ذیادہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی سالوں تک ملک سے قرضوں کا انبار ختم نہیں ہوتا ہے۔ پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کے اصل ذمہ داروں کا اعدادوشمار کے ساتھ تعین / ثابت کرتے ہیں۔
    1947 قیام پاکستان کے بعد برطانوی حکومت کی طرف سے خاطر خواہ سرمایہ نہیں دیاگیااور اس کے علاوہ مقامی پیداواری صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے ملک کی کمزور معیشت کو چلانے کے لیے مجبوراَ قرض لینا پڑا جو کہ صدر جنرل ایوب خان کے دور تک 50 3 ملین ڈالر تک تھا، صدر ایوب خان کا دور پاکستان کے سنہری ادوار میں سے تھا جس میں پاکستان نے کافی ترقی کی کیونکہ قرض کااستعمال صحیح ہواتھا جس کے منافع سے 180 ملین ڈالر قرض ادا کر کے 50 3 ملین ڈالر کے قرضے میں 170 ملین ڈالر رہ گیا تھا اسی لیے صدر ایوب خان پاکستان پر قرضے کے انبار کے ذمہ دار نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دور میں قرضہ واپس کیا تھا۔ اس کے علاوہ صدر ایوب خان کا دور وہ تھا جس میں پاکستان بھی دوسرے ملکوں کو قرضہ دینے شروع ہوگیا تھا، جس کی بڑی مثال آج کی دنیا کی چو تھی بڑی معیشت جرمنی کی جس کو پاکستان نے قرضہ دیا تھا۔پھر صدر ایوب خان دور کے بعد شہید ذالفقار علی بھٹو کے دور میں 6320 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جو کہ ایک دم لمبی چھلانگ تھی۔ جس کی اہم وجہ سقوط ڈھاکہ ہے جس سے اکستان کو بھارت سے جنگ کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا تھا، اس کے علاوہ اپ خود اندازہ کر سکتے ہیں، پاکستان کی پیداواری زرائع میں کمی کا سامنا ہوگیا۔ شہید ذالفقار علی بھٹو کے دور بعد جنرل ضیاءالحق کے حکومت سنبھالنے کے بعد بھی پاکستانی معیشت میں بہتری نہ ہوسکی جس کے سبب پاکستان کا بیرونی قرضہ ڈبل کو 12913 ملین ڈالر تک ہوگیا۔لیکن اس قرضہ کی اتنی تیز رفتار سے بڑھنے کی وجہ ہے کہ صدر ایوب خان کا دور کی طرح قرضہ کا استعمال ہوتا ہوا نظر بھی آیا جس میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام ، چھوٹے ڈیمز ، جنگی ہتھیار ، صنعتیں وغیرہ نمایا ں ہے لیکن ان قرضوں کی واپسی ممکن نہ ہوسکی جس کی وجہ سے جنرل ضیاءالحق کی شہادت کے بعد بینظر بھٹو کے اقتدار سنبھالنے سے اور پھر نواز شریف کی حکومت کے اختتام پر یہ قرضہ 39000 ملین ڈالر تک جا پہنچا تھا جو کہ جنرل ضیاءالحق کے دور سے تین گنا ذیادہ تھا اس کے برعکس پاکستان معیشت میں بھی خاطر خواہ بہتری نہ ہوئی۔ نواز شریف دور میں زیادہ توجہ موٹرویز کی طرف رہی جس سے معیشت کو کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ ملکی قرضوں میں اضافہ سے سود کی ادائیگی کے لیے انہی موٹرویز کو گروی رکھوا کر اوپر سے اور قرضے لیے گئے۔ پھر جنرل صدر پرویز مشرف کے دور میں صدر ایوب خان کی طرح قرضوں کی واپسی کی گئی جس میں صدر پرویز مشرف نے 5000 ملین ڈالر قرضہ بھی کیا اور ملکی معیشت میں بھی بہتری ہوئی۔ صدر پرویز مشرف کے بعد نااہل پیپلزپارٹی نے ماضی کی طرح ملکی معیشت کا کباڑہ کرکے ایک بار پھر قرضوں میں ریکارڈ اضافہ کردیاجس کے مطابق صدر پرویز مشرف کے دور میں 39000 ملین ڈالر قرضوں میں سے 5000 ملین ڈالر کی ادائیگی سے 34000 ملین ڈالر کے قرضے میں صدر زرداری نے تاریخی 14000 ملین ڈالر کا اضافہ کیا ۔جس سے صاف صاف ثابت ہوتاہے کہ کرپٹ اور نااہل سیایسی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے ملک کو مقروض کیا ہے لیکن اس کے قرضہ کا صحیح استعمال نہ کرکے معیشت میں بہتری نہ ہوئی بلکہ وہ سود کی اادائیگی سے پہلے سے بھی زیادہ تباہ ہوگئی اسی لیے یہ سیایسی حکمرانوں ہی ذمہ دار ہیں ۔ 2013 میں نوازشریف نے دوبارہ حکومت حاصل کرنے کے بعد صدر زرداری کے قرضوں کا ریکارڈ توڑ ڈالا جس میں وزیراعظم نوازشریف نے 35000 ملین ڈالر قرضہ لے کر ملکی قرضے کو 84000ملین ڈالر تک پہنچا دیا حسب روایت نوازشریف موٹرویز و بجلی گھروں کا روگ الاپتے رہے لیکن حقیقت چھپا کر عوام کو بیوقوف بنایا اور اپنا ووٹ بنک اور ذاتی دولت بناتے رہے ۔
    پاکستان پر قرضوں کے انبار کی وجوہات میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ ، نااہل ، کمیشن خور، مفادپرست، چور سیاست دان ہیں جوکہ بڑی بڑی وازتوں پر فائض ہوکر اپنے خاندانوں و نسلوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کرپٹ و کمیشن خور بیوروکریسی کے ساتھ ملی بھگت سے بڑے بڑے قرضے ملکی ترقی کے نام پر لے کر بیشتر حصہ اپنے جیبوں میں ڈالتے رہے ہیں، اس کے برعکس جب بھی کسی ڈیکٹیٹر نے حکومت سنبھالی تو ملکی قرضوں میں کمی ہوئی یا ملکی قرضوں کا صحیح استعمال ہوتا ہوا نظر آیا ہے اسی لیے میرے نزدیک ڈیکٹیٹر ملکی قرضوں کے کسی بھی صورت میں ذمہ دار نہیں ٹھہرتے ہیں ، ذمہ دار صرف سیاست دان ہی ہیں۔
    ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ملکی احتساب کے اداروں سے مطالبہ ہے کہ ان چور سیاست دان کے گرد گھیر تنگ کرکے ان تمام قرضوں کا تفصیلی حساب لینا ضروری ہے کیونکہ موجودہ حالات میں حکومتِ وقت سے خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے ملک چلانا انتہائی ناممکن ہو رہاہے اسی کیے تمام سیاستدانوں و بشمول بیوروکریسی کے احتساب کر کے نشان عبرت بنایا جائے اور تمام تر ملک کی لوٹی گئی دولت کو واپس لیا جائے ۔ اللہ پاک پاکستان کو تمام تر مشکلات سے نکال کر ، عرج عطا فرمائے آمین ۔
    پاکستان زندباد
    پاک فوج زندہ باد

    @HarisMalikzada

  • نوجوانوں میں بڑھتا ہو ٹک ٹاک کا جنون تحریر : علی حیدر

    نوجوانوں میں بڑھتا ہو ٹک ٹاک کا جنون تحریر : علی حیدر

    دور حاضر میں ٹیکنالوجی نے جہاں ایک طرف بنی نوع انسان کو آسانیاں اور آسائشیں فراہم کی ہیں وہاں اس کی وجہ سے ان گنت سماجی و معاشی مسائل بھی درپیش ہیں۔
    سوشئیل میڈیا ایپلیکیشنز کے حوالے سے اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایپلیکیشن رابطے کا آسان ذریعہ ہیں لیکن شہرت اور تفریح کے لئیے ایسی ایپلیکیشنز کا بے جا استعمال نہ صرف وقت کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے بلکہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کی بھی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔
    مشرقی تہذیب و کلچر اسلامی تعلیمات کی بہترین عکاس ہے اور یورپ کی تہذیب سے قطعی مختلف ہے لیکن ٹیکنالوجی نے دنیا کے فاصلوں کو مٹاتے ہوئے تمام تہذیبوں اور معاشروں کو ایک ہی مقام پہ لا کھڑا کیا ہے ۔
    ٹک ٹاک ایک سوشیل میڈیا ایپلیکیشن ہے دنیا بھر میں جس کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔
    ٹک ٹاک نامی ایپلیکیشن چائنہ کے ژانگ یمنگ نامی ایپ ڈویلپر نے 2016 میں بنائی۔ یہ لوگوں میں اتنی مقبول ہوئی کہ چند سالوں میں اس نے یوٹیوب اور فیس بک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔
    2018 میں ٹک ٹاک نے ایک اور شارٹ ویڈیو ایپلیکیشن میوزیلکی کو 2 ارب ڈالر میں خرید لیا ۔
    ٹک ٹاک کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس ایپلیکیشن کو پلے سٹور سے اب تک تقریباً ڈیڑھ بلین مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے ۔
    پاکستان میں ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد 3 کروڑ کے لگ بھگ ہے جبکہ بھارت میں ٹک ٹاک کے 13 کروڑ صارفین موجود ہیں۔
    ٹک ٹاک ایک شارٹ ویڈیو ایپلیکیشن ہے ۔ جس کے صارفین نے 15 سیکنڈز پر محیط ویڈیو بنا کر اس پر اپلوڈ کرنا ہوتی ہے ۔
    نوجوانوں میں ٹک ٹاک کا بڑھتا ہوا جنون معاشرے میں نہ صرف بے راہ روی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ کچھ صارفین ٹک ٹاک کے ذرئعیے شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے کے لئبے بے ہودہ اور فحش حرکات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
    ان نام و نہاد سوشئیل ایپلیکیشنز نے لوگوں کی سماجی ذندگیوں کو محدود کر دیا ہے۔ رشتے داروں اور عزیز و اقارب سے میل جول اور ان کے ساتھ تعلق داری مسدود ہو چکی ہے۔ جس کے نتیجے میں قطع تعلقی اور معاشرتی نفرتیں اور کدورتیں عام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
    ٹک ٹاک کے صارفین میں مردوں سے ذیادہ تعداد عورتوں کی ہے ۔
    معاشرے میں ٹک ٹاک سے پھیلتی بے حیائی اور بے راہ روی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے متعدد بار اس ایپلیکیشن پر پابندی لگانی چاہی لیکن ہر بار سیکولر طبقہ آڑے آ گیا۔
    سیکولر طبقہ ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کو آزادی اظہار رائے پر پابندی لگائے جانے کے مترادف سمجھتا ہے۔
    ٹک ٹاک لوگوں کو اسلام سے متنفر کر رہی ہے چناچہ ہماری نوجوان نسل اسلامی تعلیمات میں عدم دلچسپی کا اظہار کر رہی ہے جس کے واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں۔
    ٹک ٹاک سے پھیلتی بے حیائی کو روکنے کے لئیے کسی مؤثر لاحئہ عمل کی شدید ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کی فحش حرکات کو محدود کیا جا سکے ۔
    ہمارے تعلیمی ادارے جن کو تحقیق و تصنیف کا مرکز و منبع ہونا چاہئبے تھا وہ بھی ٹک ٹاک کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے ۔ چناچہ تعلیمی اداروں میں ذیر تعلیم طلبہ ٹک ٹاک بنانے میں مصروف عمل ہیں۔
    کسی بھی انسان کی جوانی اس کی ذندگی کے اداور میں سب سے قیمتی وقت ہوتا ہے جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنے لئیے بہتر مستقبل کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان اپنے مستقبل سے بے فکر ایسی لغویات میں الجھے دکھائی دیتے ہیں جو قابل فکر اور باعث تشویش ہے۔
    قابل غور امر یہ بھی ہے کہ بے راہ روی کے ساتھ ساتھ ہمارے نوجوان بے ادب اور ذیادہ پر اعتماد ہو چکے ہیں جس میں ایسی ایپلیکیشنز کے استعمال کا بہت ہاتھ ہے۔

    اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور نشو نما , شہرت اور دولت کے حصول کے لئیے ٹک ٹاک کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز موجود ہیں جو ٹک ٹاک سے ذیادہ بہتر ہیں کیونکہ 15 سیکنڈز کی ویڈیو میں کیونکر کسی کی صلاحیتیں اجاگر ہو سکتی ہیں۔
    یوٹیوب اور فائیور جیسے پیشہ ورانہ پلیٹ فارمز پہ اپنی صلاحیتوں کو پیشے کے طور اپنا کر معاشرے کا کوئی بھی فرد نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا بہتر طور پہ اظہار کر سکتا ہے بلکہ ایک باعزت روزگار بھی حاصل کر سکتا ہے۔
    لیکن ہمارے نوجوان بغیر محنت کئیے اور کسی بھی ڈیجیٹل ہنر میں مہارت حاصل کئیے بغیر صرف 15 سیکنڈز کی ویڈیو کے ذرئعیے شہرت اور دولت حاصل کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔
    مغربی ممالک ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر چکے ہیں چناچہ ان کی تیار کردہ ایسی ایپلیکیشنز کو استعمال کرنے والے ہم ہی ہیں ۔ ہمیں چاہئیے کہ اپنے نوجوانوں میں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کریں کہ صرف ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال شہرت , عزت اور دولت عطا نہیں کر سکتا بلکہ ہمیں ٹیکنالوجی میں خود مہارت حاصل کرنا ہو گی کیونکہ آخر وہ بھی تو ایک نوجوان تھا جس نے ایسی ایپلیکشن کو بنا کر دولت , عزت اور شہرت حاصل کی ۔
    دنیا میں اپنے وقار اور معیار کو بلند رکھنے کے لئیے اس امر کی ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے جدید پہلوؤں کے متعلق آگاہی دی جائے تاکہ ہمارے نوجوان اس ڈیحیٹل شعبہ ذندگی سے وابستہ ہو کر معاشرے کے باعزت اور باوقار شہری بن سکیں اور خرافات و بے ہودہ حرکات سے باز آ سکیں۔

    @alihaiderrr5

  • جَدوجہد  تحریر: افشین

    جَدوجہد تحریر: افشین

    ایسی سَرزَمین جس کے لیے ہمارے آباواجداد نے بہت قربانیاں دیں اور اپنے لہوُ دے کے ایک مملکت حاصل کی جس کو پاکستان کہتے ہیں عَلامہ اقبال مفٙکر پاکستان کے خواب کو مملکت پاکستان بنانے میں قائداعظم محمد علی جناح کی کوشش اور ہمارے تمام آباواَجداد کی قربانیاں شامل ہیں اسلام کا پرچم لہرانے ، آزادی سے جینے اور امن کا گہوارہ بنانے کے لیے یہ مٹی کا ٹکڑا حاصل کیا گیا یہ مٹی کا ٹکڑا ہمارے لیے اپنی جان سے بڑھ کے ہے اسکی حفاظت کے لیے تادم ہم لڑتے رہینگے کوئی میلی آنکھ سے بھی دیکھے گا ہم اسکی آنکھیں چیر دیں گے اپنی عبادت و فرائض انجام دینے اور ہندوؤں کے تسلط سے نکلنے کے لیے یہ وطن عزیز حاصل کیا گیا ہم اپنے شہداء اور آباواجداد کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے انگریزوں کے چُنگل سے نکلنے کے بعد ہم ہندووں کے زیر تسلط آجاتے اور ہمیشہ کے لئیے غلامی کی زنجیر میں جھکڑ دیے جاتے سانس لینا صرف جینا نہیں ہوتا ایک جَدوجہد کا نام جینا ہے اور یہی جَدوجہد وطن پاکستان کی صورت میں حاصل ہوئی. کوشش کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں آزادی کا سورج 14 اگَست 1947 کو طلوع ہوا اس جَدوجہد سے کتنے چہروں پہ مسکان آئی آزادی کیا ہے ؟اس گھڑی کے کارواں سے پوچھےجن کی انتھک کوشش جب پروان چڑھی تو کیا تاثرات تھے آنکھوں کی چمک بتاتی تھی کہ انکے لیے وطن عزیز حاصل کرنا کیا معنی رکھتا تھا وہ خود تو اب نہ رہے پر اپنی نسلوں کے لیے مثالِ جہاں بنے۔دنیا کی تاریخ میں سُنہرے حروف میں یہ سبق دے گئےکہ کیسے انسان کی کوشش اسکو کامیاب کرتی ہے جب تک کوشش نہ کی جائے کچھ حاصل نہیں.
    اس وقت سرمایہ تک درکار نہ تھا بے گھر افراد کے پاس کھانا پینا تک دستیاب نہ تھا کچھ کو چھت تک نصیب نہ تھی. درویشی سی حالت تھی جہاں پڑاوُ ڈال لیا حالات بہت ناسَازگار تھےآمدورَفت کے ذرائع تک موجود نہ تھے پر موجودہ دور میں رَبّ پاک کا کرم ہے اس ملک میں سب کچھ موجود ہے بس اس ملک کے غداروں کی وجہ سے حالات خراب رہتے ہیں ورنہ اب تک ترقی یافتہ ممالک میں پاکستان سرِفہرست ہوتا جس ملک کے لیے ہمارے آباواجداد نے جانوں کے نذرانے دیے اس ملک کو اسی میں موجود غداروں نے لوٹ لیا ہمیشہ اس ملک کو آپنوں سے نقصان پہنچا۔
    ہر سال ہم جشّنِ آزادی مناتے ہیں اور اپنے آباواجداد کی جَدوجہد کو سراہتے ہیں ۔ پہلے پہل آزادی کے دن جسم میں ایک روح جیسے پھونک دی جاتی ایک احساس سا پیدا ہوتا لہو میں آزادی کی ایک لہر دوڑتی جنون ہے آزادی ۔ پرواز ہے آزادی
    اب بھی جوش و خروش سے آزادی کی تقریب منائی جاتی ہے وطن سے محبت کبھی کم نہیں ہوسکتی جشن آزادی منانے کا انداز ضرور بدلہ ہے پر وطن پہ جانثار ہونے کے لیے لہو میں گرم جوشی اب بھی ویسی ہی موجود ہےحالات بدلتے گئے کارواں بڑھتا گیا بہت سے بُرے حالات آئے دہشت گردی، سیلاب، زلزلے جیسی مشکلات سے بھی سامنا کرنا پڑا پر میرے وطن کے جیالوں جانبازوں نے کبھی ہمت نہ ہاری ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کیا اور اپنی جدوجہد کو روکا نہیں اس ملک کے حالات جو کچھ لوٹیروں کی وجہ سے خراب ہیں ان حالات سے نکلنے کے لیے اس ملک کو اس قوم کے ہر فرد کی ضرورت ہے ہم سب مل کے اپنے ملک کو مضبوط بنانا ہے اپنی جَدوجہد جاری رکھنی ہے وطن حاصل تو کرلیا اب اس کو ترقی یافتہ ممالک میں سر فہرست لانا ہے اس ملک کے رکھوالے بنے اس دھرتی سے ہی ہمارا امن وایمان ہے۔

    #

    @Hu__rt7