Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • محنت ایک ضروری چیز ہے  تحریر : ابراھیم

    محنت ایک ضروری چیز ہے تحریر : ابراھیم

    جو ہم سب کو زندگی میں درکار ہے۔ محنت کے بغیر عظمت حاصل کرنا ناممکن ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، ایک بیکار شخص کچھ حاصل نہیں کر سکتا اگر وہ بیٹھ کر کسی اور چیز کا انتظار کرنا چاہے۔ دوسری طرف ، جو مسلسل محنت کرتا رہتا ہے وہ یقینی طور پر زندگی میں کامیابی حاصل کرے گا محنت کی اہمیت۔
    محنت اہم ہے اور تاریخ نے اسے بار بار ثابت کیا ہے۔ عظیم ایڈیسن دن میں کئی گھنٹے کام کرتا تھا اور وہ اپنی لیبارٹری ٹیبل پر صرف اپنی کتابوں کے ساتھ اپنے تکیے کے طور پر سوتا تھا۔اسی طرح ہندوستان کے وزیر اعظم مرحوم پ. نہرو دن میں 17 گھنٹے اور ہفتے میں سات دن کام کرتے تھے۔ اس نے کسی چھٹی کا مزہ نہیں لیا۔ ہمارے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی نے ہمارے ملک کی آزادی کے لیے چوبیس گھنٹے کام کیا۔اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام لوگوں کی محنت کا نتیجہ نکلا۔ کسی کو محنت کرنے کے لیے مسلسل چوکس رہنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کو اپنے خوابوں کو حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں ، انسان کام کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ سٹیل کی طرح ، وہ استعمال میں چمکتا ہے اور آرام سے زنگ آلود ہوتا ہے۔اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام لوگوں کی محنت کا نتیجہ نکلا۔ کسی کو محنت کرنے کے لیے مسلسل چوکس رہنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کو اپنے خوابوں کو حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جب ہم زندگی میں سخت محنت کرتے ہیں تو ہم کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں اور کسی بھی رکاوٹ کو دور کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ، ہم یہ جان کر بھی بہتر زندگی گزار سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا سب کچھ دیا ہے اور جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں اس میں اپنی پوری کوشش کی ہے۔

    محنتی ہمارا کردار بناتا ہے کیونکہ ہم زیادہ نظم و ضبط اور توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ محنتسے ہم اپنے وقت اور وسائل کا انتظام کرسکتے ہیں۔ بعض اوقات ہم کچھ چیزوں سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ہار ماننا آسان ہے۔
    ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ آسان چیز کبھی بھی کردار نہیں بناتا۔ محنتی ہمارے جسم میں دو اہم چیزیں بناتا ہے: پٹھوں اور کردار کیونکہ وہ دونوں چیزیں ایک ہی طرح سے تعمیر کی جاتی ہیں۔ محنت کا نتیجہ کامیابی نہیں ہے۔ یہ کردار ہے.

    محنتی ہمیں بہت سی چیزیں سکھاتا ہے، جیسے کچھ سیکھنا، کچھ بنانا اور کچھ بدلنا۔ ان تینوں کا ایک آخری نکتہ ہے: نتیجہ۔ بہت سے لوگ کامیابی کا خواب دیکھتے ہیں لیکن وہ ایسا کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے ہیں۔ اگر ہم کچھ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سخت محنت کرنی چاہئے کیونکہ سستی ہمیں وقت اور وسائل ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔
    بعض اوقات ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ محنتی کچھ پیدا کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے لئے سخت محنت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس صرف ایک چیز ہے جس کے لئے خوشی ہے: خود۔ اس کے باوجود ہمیں یہ سوچے بغیر دوسروں کو خوش کرنے کے لئے بھی سخت محنت کرنی چاہئے کہ اس کا کریڈٹ کس کو ملے گا۔ کیونکہ اگر ہم دوسروں کو خوش کرنے کے لئے سخت محنت کریں گے تو ہمارے پاس غیر متوقع طریقوں سے بدلے میں کچھ ہوگا۔ ہماری محنت کا نتیجہ احساس یا مصنوعات کی شکل میں ہوسکتا ہے۔ اس طرح، ہم دو فوائد حاصل کرتے ہیں: خوشی اور مصنوعات۔

    @kamboh292

  • بھیک مانگنا ایک گناہ ہے  تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    بھیک مانگنا ایک گناہ ہے تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    ایک دفعہ ایک غریب و مفلس شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے مدد طلب کی. حضور اکرم ﷺ اگر چاہتے تو اسکی مدد کرسکتے تھے خود یا پھر کسی صحابیؓ سے کہہ دیتے مدد کرنے کو. اگر پیغمبرِ اسلام ﷺ ایسا کرتے تو انکی وقتی مدد تو ہوجاتی لیکن دوسرے دن پھر اسکو ضرورت ہوتی اور انکو مانگنے کی عادت پڑ جاتی اس لئے ایسا کرنے کے بجائے پیغمبرِ اقدس ﷺ نے اس کے جسم پر لپٹے کمبل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ تمہارا اپنا ہے؟ اس نے جواب ہاں میں دیا. حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس سے وہ کمبل لیا اور بازار جا کر وہ بیچ دیا. اس سے جو رقم حاصل ہوا اس سے ایک کلہاڑی اور رسی خریدی اور جو تھوڑے بہت پیسے بچے وہ اس کے ہاتھ میں دئے اور فرمایا یہ کلہاڑی اور رسی لو اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لایا کرو اور وہ لکڑیاں بیچ کر اپنا کام چلایا کرو اللہ تعالیٰ اس میں برکت دیگا.
    اسی طرح کی ایک مثال چینی زبان کا بھی ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی آئے اور ایک وقت کا کھانا مانگے تو اس کو ایک وقت کھانے کیلئے ایک مچھلی نہ دے بلکہ اسے ایک جال دو مچھلیاں پکڑنے کیلئے تا کہ وہ مچھلیاں پکڑے اور اپنی روزی روٹی کا بندوبست خود کرے.
    کتنی تعجب کی بات ہے چینیوں نے تو اس کہاوت پر عمل درآمد کرکے خود کو بامِ عروج پر پہنچا دیا اور دوسری طرف ہم اپنے پیغمبرِ اکرم ﷺ کی منشاء کے خلاف چندوں، بھیک اور مانگنے کے خوگر ہوگئے. بھیک مانگنا باقاعدہ ایک کاروبار بن گیا ہے نہ کہ ایک مجبوری اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جو کہ انتہائی تشویش کی بات ہے. لیکن کیا کرے ہم تو 10، 20، 50، 100 پکڑا کر جان چھڑا لیتے ہیں جو کہ دراصل یہ ہماری طرف سے اس کو پروان چڑھانے میں ہمارا کردار ہوتا ہے لیکن ہم اس پہلو کو سوچتے ہی نہیں.
    اور یہ کوئی شاذ و نادر نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ صرف عوامی سطح سے ممکن ہوتا ہے بلکہ ہماری حکومتیں بھی لوگوں کو عارضی امداد دے کر بھکاری بنا دیتی ہیں. ہماری پچھلی سے پچھلی حکومت نے تو اس کام کو اتنا بامِ عروج پر پہنچادیا تھا کہ سیدھے سیدھے اپنے کام کرنے والے اپنے ہاتھوں سے رزق حلال کمانے کا تصور ہی ختم ہوگیا تھا. اس حکومت نے اس رقم میں اور بھی اضافہ کر دیا. یہ اچھا اقدام بھی ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کی مدد ہوگی اور وہ رزق کی تنگی سے بچینگے اس حد تک تو یہ درست ہے لیکن اس آڑ میں یہ پیسے 40 فیصد غیر مستحق لوگوں کی جیبوں میں جاتے ہیں جبکہ بعض جگہوں میں تو ایک ہی گھر کے دو دو، تین تین بندوں کو ملتے ہیں جو درحقیقت مستحقین کی حق تلفی کا باعث بنتا ہیں.
    اس سے اگر ایک طرف بے روزگاری، بے ہنری اور مانگنے کا رجحان بڑھا ہے تو دوسری جانب ایک اور خطرناک صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے. کچھ عرصے تک مفت کی کھانے والوں کو اس کی عادت پڑ جاتی ہے. پھر وہ کام کرنے کے بجائے تاک میں رہتے ہیں کہ کہاں سے کچھ ہاتھ آسکتا ہے اور جب ہاتھ کچھ نہیں آتا تو ہیرا پھیری، چوری چکاری اور جرائم کی راہ پر نکل جاتے ہیں اور پورا معاشرہ اس کے جرائم کا شکار بن جاتا ہے.
    لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے معاشرے میں مفت کھانے اور مفت کھلانے کا یہ رجحان اتنا گہرا ہوگیا ہے کہ اس کو عیب کی بجائے ایک ہنر کا درجہ حاصل ہوگیا ہے. ہماری تباہی اور زوال کا باعث ہی یہ رجحان ہے.
    ہمیں اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا تا کہ آگے بڑھ کر اس کا سدباب کیا جاسکے. . ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو اس لت سے بچانا ہوگا تب ہی ہمارا معاشرہ اور ملک ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوگا. وگرنہ ہم ایسے ہی بھکاری رہینگے اور یہ لت نسل در نسل، پشت در پشت ہم میں منتقل ہوتی رہیگی. اور اقوام عالم میں ہماری کوئی عزت نہیں ہوگی. بلکہ ہماری پہچان ایک بھکاری قوم سے ہوگی.
    اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے کہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل کرے.
    آمین
    *پاکستان زندہ باد*

    Twitter ID:
    @IjazPakistani

  • کشمیر: بھارتی استحصال اور ہندوتوا سرکار  تحریر: محمد بلال

    کشمیر: بھارتی استحصال اور ہندوتوا سرکار تحریر: محمد بلال

    5 اگست 2021، بھارت کے ذیرِ تسلط غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی لاک ڈاؤن کو دو سال مکمل ہوۓ۔ پاکستان کشمیری عوام پر ظلم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی کوشش ہمیشہ کرتا رہا ہے ، نہ صرف مخصوص دنوں پر بلکہ سالوں سے کر رہا ہے ۔ایک طرف ، کرونا 19 اور لاک ڈاؤن نے دنیا بھر کی معیشتوں کو تباہ کر دیا اور لوگوں کے کاروبار کا صفایا کر دیا۔ وہیں، دوسری طرف کشمیر میں ، لاک ڈاؤن اور جبری محاصرہ پہلے ہی جاری ہے ،اور اب وبا کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ وبائی امراض کے باوجود بھارت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کیا بلکہ غیر قانونی قابض افواج نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھی ہیں۔ 5 اگست کو پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے اس استحصال کے خلاف ایک آواز سے بولی ہے اور یہ آواز پوری دنیا میں سنائ گی ہے کیونکہ کشمیریوں اور پاکستانی عوام کا دل ایک ساتھ دھڑکتا ہے۔ جب بھی بھارت نے کشمیر میں ظلم کی نئی کہانی پیش کرنے کی کوشش کی ، پاکستانی عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ پایا گیا۔اس کے باوجود پاکستان ایک قدم آگے سوچ رہا ہے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔ پاکستان علاقائی سلامتی کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے۔ جبکہ پوری دنیا آر ایس ایس اور بھارتی وزیراعظم مودی کی انتہا پسند ہندوتوا سوچ سے واقف ہے۔بین الاقوامی اداروں کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اس سوچ کا مقابلہ کرنے کے لیے آج بھارت کو بے نقاب کرنا اور بھی اہم ہو گیا ہے کیونکہ یہ سوچ نہ صرف ہندوستانی یا کشمیری مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔بھارتی ناجائز قابض افواج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ نوجوان اس کا بنیادی ہدف ہیں اور انہیں بھارت کے خفیہ ٹارچر سیلز میں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم ان نڈر نوجوانوں کے مقروض ہیں جو اپنی جانیں دیتے ہیں لیکن اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے بھارتی قابض افواج کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی گئی۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی شناخت مٹانے کی کوشش کی لیکن بری طرح ناکام رہی۔ بھارت نے سوچا کہ ایسا کرنے سے وہ کشمیریوں کو نفسیاتی اور قانونی طور پر محکوم کر دے گا ، لیکن وادی کے کسی مسلمان نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا۔بھارت ، مسلمانوں کا دشمن ، 1947 سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں کے ساتھ نہ صرف غیر انسانی سلوک کر رہا ہے ، بلکہ اس نے لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ "کشمیر تنازعہ” بھارت اور پاکستان کے درمیان ازلی دشمنی کا مرکزی نقطہ ہے۔اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل ایک اس کی تشکیل کا مقصد بتاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی حقیقی روح کے مطابق ، "بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے اور اس مقصد کے لیے: امن کے لیے خطرات کی روک تھام اور ان کے خاتمے کے لیے موثر اجتماعی اقدامات کرنا”۔اس کے برعکس مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی میز پر سب سے پرانا معاملہ ہے جو حتمی حل کا منتظر ہے۔ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ بھارتی حکومت کو مظالم کے خاتمے کے لیے پابند کرے اور غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی محاصرہ ، مواصلات اور پابندیاں ختم کرنے کے لیے کہے۔اقوام متحدہ کو کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے ارادے سے متعارف کرائے گئے نئے ڈومیسائل قوانین کے بھارتی ایکٹ کو منسوخ کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کو 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کو کالعدم قرار دینا چاہیے۔ آئی آئی او جے کے میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔کیونکہ تنازعات کا پرامن حل اور انسانی حقوق اور وقار کا تحفظ اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

    @Bilal_1947

  • غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم آج میرا موضوع بہت سے دلخراش حقائق پہ مبنی ہے.
    معزز معاشروں میں استاد معمار قوم کہلاتا ہے.اس نسبت سے استاد کو وہ ادب اور وہ احترام میسر آتا ہے جو دیگر پروفیشنلز کو نہیں آتا.
    کہتے ہیں کہ ایک استاد ایک قوم بناتا ہے یہ وطن عزیز میں کہا تو جاتا ہے مگر مانا نہیں جاتا.
    پاکستان میں پرائیوٹ سکولز کی بھرمار ہے .اس کے دو اہم محرکات ہیں.پہلا یہ کہ گورنمنٹ سکولوں کا معیار تعلیم تا حال اس سطح تک نہیں پہنچ سکا جس تک سرمایہ دار اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں.دوسرا یہ کہ پرائیوٹ سکول میں امیر اور متوسط طبقے کے بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں مگر اکثر اساتذہ تنگدستی کے باعث نوکری کے لیے مجبور ہو کر ان اداروں کا رخ کرتے ہیں.
    انکی اجرت ان کی تعلیم اور ان کی محنت کے مقابل ہر چند قلیل ہوتی ہے.
    کچھ پرائیوٹ سکولز برانڈ بن چکے ہیں.وہاں امکان کا کہ اساتذہ کو بہتر سہولیات میسر ہوں.
    مگر بہت سے سکولز مافیاز سے بد تر ہیں.اساتذہ کی محنت اور انکے بل پہ کروڑوں کماتے ہیں اور ان ہی اساتذہ کا استحصال کرتے ہیں.
    میں بات کر رہی ہوں ایسے پرائیوٹ سکولز کی جو اساتذہ کو چند ہزار تنخواہ دیتے ہیں.
    اس جدید مہنگے اور پر آشوب دور میں جہاں
    مزدور کی تنخواہ 900 فی یوم ہے اور مضحکہ خیزی دیکھیے معمار قوم کی یومیہ اجرت 350 روپے بنتی ہے
    اور گھی کی قیمت 350 فی کلو ہے..
    استاد کی 8 گھنٹے کام کی اجرت اور 350 روپے یومیہ؟
    اور ان کی محنت کا ثبوت ان پرائیوٹ سکولز کا معیار تعلیم اور بورڈ کلاسز کا رزلٹ ہے.
    پرائیوٹ سکول مالکان کے بڑھتے اثاثے اور اساتذہ کی بڑھتی مشکلات اس سسٹم کی ناانصافی کی داستان ہے.
    ان سکولوں میں مجبوراً اپنی معاشی ضروریات کے لیے پڑھانے والے اساتذہ کو حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی ضرورت ہے حکومت ان مافیاز کو دائرے میں لائے اور اساتذہ کی تنخواہیں ان کی بنیادی ضروریات زندگی تو پوری کرنے کا لائق ہوں.
    رہی بات حکومت کی رٹ کی تو جب حکومت پرائیوٹ سکولز کو تعطیلات کے لیے مجبور کر سکتی ہے .نصاب کے لیے امتحانات کے لیے مجبور کر سکتی ہے ..کرونا ویکسین کے لیے مجبور کر سکتی ہے تو حکومت پرائیویٹ سکول ٹیچرز کے حق کے لیے بھی مجبور کر سکتی ہے.

    ابھی حال ہی میں کرونا وباء کے دوران اساتذہ کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوتی کی گئی جبکہ طلباء کو محض پہلے دو مہینے 20 فی صد ریلیف دیا گیا باقی پوری فیس وصول کی گئی.
    دو سال ہو گئے کسی طرح کا کوئی انکریمنٹ نہیں دیا گیا جبکہ فیسوں میں سالانہ اضافہ کیا گیا.
    اس طریقۂ واردات کے بعد ان کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا ان پئ چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا گیا تو پرائیویٹ سکول اساتذہ کے مجرم ارباب اختیار ہوں گے.
    کیونکہ بطور شہری اساتذہ کی دادرسی حکومت کا فریضہ ہے.

    مالکان کے ہاتھ لمبے ہیں ایسوسیشنز کے نام پہ مافیاز ہیں.اساتذہ کے لیے ایسے فورمز اس لیے بھی کارگر نہیں کہ وہ گھروں سے بمشکل سکولوں تک پہنچ پاتے ہیں کورٹ کچہری نہیں کر سکتے.
    کیونکہ اس کے لیے ایک اور مافیا کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا.جس کے متحمل نہیں ہو سکتے.
    وزراء تعلیم کو ان کے ان فرائض سے آگہی کے لیے حکومتی دباؤ لازم ہے.
    یاد رکھئے معماران قوم کی قدر کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں.
    معماران قوم کا استحصال قوم پہ وبال ہے.

    @hsbuddy18

  • بیٹی کہہ کر پکارو  تحریر.. ڈاکٹر ذکااللہ

    بیٹی کہہ کر پکارو تحریر.. ڈاکٹر ذکااللہ

    بہو بھی مسکرانا چاہتی ھے
    اللہ تعالی نے والدین کیلیے بیٹی کو رحمت بنا کر بھیجا ھے
    یہ ننھی کلی جب کھل کر بڑی ھوتی ھے تو اسے اپنے والدین کا گھر نہ چاہتے ھوے بھی چھوڑنا پڑتا ھے اور ایک نیے گھر میں جانا پڑتا ھے یہ نہایت مشکل وقت ھوتا ھے جب ایک بچی اپنا گھر چھوڑ کر نیےگھر میں جاے لیکن یہ اللہ پاک کا فرمان ھے اور نکاح فرض ھے تو اسے ایک نیے گھر میں جانا پڑے گا جب وہ اپنے ھونے والے شوہر کے نکاح میں آتی ھے تو گھر بھی بدل جاتا ھے اور ساتھ میں رشتے بھی بدل جاتے ہیں
    جہاں اپنے والدین کے ساتھ شہزادی کی طرح رہنے والی اپنی بہن بھاییوں کےساتھ رھنے والی اب ایک نیے گھر میں نیے رشتوں کے ساتھ کے ساتھ رھے گی
    یہ کیسا پیارہ رشتہ ھے جو اللہ پاک نے بنایا ھے ایک کی بیٹی دوسرے کے گھر کی بہو بنتی ھے تو دوسرے کی بیٹی تیسرے گھر کی بہو بنتی ھے یہی وہ ھے جسے اللہ پاک نے اپنے والدین کیلیے رحمت بنایا اب کسی دوسرے گھر میں اللہ کی رحمت بن کر جارھی ھے
    لیکن
    کچھ گھروں میں ان کیلیے یہ بہو والا لقب بہت برا ثابت ھوتا ھے اور وہ جو اپنے والدین کے گھر میں ایک شہزادی تھی اب یہاں بہو ھے اور اس کے ساتھ سلوک میں بھی بہت تبدیلی آگی ھے بات بات پر طنز اچھا کام بھی کرے تب بھی طنز کیونکہ وہ کسی اور کی بیٹی ھے
    حالانکہ تمھاری بھی بیٹی کسی کی بہو ھے یا کبھی بنے گی تو اگر اسے بھی اسی طرح کا سامنا ھوا تو پھر تمھارے دل پر کیا گزرے گی اگر آپ اپنی بیٹی کو شہزادی کے روپ میں دیکھتے ھوتو پھر ضروری ھے کہ جو تمھاری بہو ھے اسے بھی وھی پیار اور سلوک دو جو تم اپنی بیٹی کو دیتے ھو بہو کو بھی اپنے گھر کی شہزادی بنا کر اپنی بیٹی بنا کر رکھو تاکہ تمھارے خاندان کیلیے آپ کی بہو رحمت بن سکے اور پھر تمھارے بڑھاپے میں بیٹی بن کر تمھاری خدمت کرے
    جب آپ کسی کی بیٹی کو جو اب آپ کی بہو اور تمھارے خاندان کی عزت بھی ھے اسے اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے تو وہ بھی آپ کو اپنے والدین کی طرح تمھاری خدمت کرے گی اور ہمیشہ آپ کو اپنی بیٹی کی کمی محسوس ھونے نہیں دے گی
    اور
    بہو کیلیے بھی ضروری ھے کہ جس طرح آپ اپنے والدین کی عزت و تکریم کرتی تھیں اپنے والدین کی شہزادی تھیں اپنے والدین کے سخت و نرم لہجے کو اپنی بہتری کیلیے ان کی باتوں کو اہمیت دیتی تھیں اپنے والدین کا کہا ھوا ہر لفظ تمھارے لیے تمھاری بہتری کیلیے تھا اسی طرح تمھارے شوہر کےوالدین کا بھی تمھارے اوپر اتنا حق ضرور ھے کہ وہ آپ کو اپنی بیٹی سمجھ کر اگر کچھ سخت و نرم لہجے میں بات کرتے ہیں اسی طرح سنو جس طرح آپ اپنے والدین کی بات سنتی تھیں
    اس طرح سے آپ کے گھرکے مسایل بھی حل ھوں گےاورناچاکیاں بھی پیدا نہیں ھوں گی
    آپ کو پھر ویسے ھی عزت ملے گی جیسے تمھارے والدین تمہیں دیتے تھےاگر آپ اپنے سسرال کو اپنے والدین کی طرح پیار اور خدمت کریں گیں تو یقینا وہ بھی آپ کو اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے
    اور آپ کے مقام اور عزت میں بھی کویی کمی نہیں آے گی اسی طرح پھر لازم اس کا بدلہ اللہ پاک آپ کو بھی دے گا جب آپ کی بہو بھی آپ کو اسی طرح عزت دے گی
    میری اللہ پاک سے دعا ھے کہ تمام بہن بیٹیوں کے نصیب اللہ اچھے کرے اور ساری پریشانیاں دور کرے .آمین

    بیٹی کہہ کر پکارو بہو بھی مسکرانہ چاہتی ھے
    @KHANKASPAHI1

  • اللہ تعالی ہی رازق ہے داتا ہے مالک ھے تحریر : حادیہ سرور

    اللہ تعالی ہی رازق ہے داتا ہے مالک ھے تحریر : حادیہ سرور

    ہمارے معاشرے میں لوگوں کو اس موضوع پر آگاہی ہی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بہت ہمارے سادہ لوح بہن بھائی کھلی گمراہی کی طرف جا رہے ہیں۔
    اللہ تعالی ایک, اپنی ذات میں ایک, اپنی صفات میں ایک, وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔
    وہ ہی دینے والا ہے وہ ہی لینے والا ہے ۔
    لیکن انڈیا پاکستان میں افسوس کے ساتھ ہم نے اپنے حقیقی خالق و مالک کو چھوڑ کر ہندوٶں کا فرسودہ طریقہ اپنا لیا ہے ۔جس طرح کچھ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ویسے ہی انڈیا پاکستان میں کچھ لوگ قبروں کی پوجا کرنے لگے ہیں ۔
    کبھی ہم دیکھتے ہیں کچھ لوگ قبروں سے منتں مرادیں مانگ رہے ہوتے ہیں تو کبھی بیٹا مانگ رہے ہوتے ہیں تو کبھی نوکری تو کبھی کاروبار میں ترقی ۔اب بات یہ ہے جو ہمارا رب ہمارے دعا کرنے سے اتنا خوش ہوتا ہے جو ہمارا رب ہمارے سب سے قریب سننے والا ہے ہم سیدھا اس سے کیوں نہیں مانگتے ہیں !
    کیا وہ ہماری دعاوں کو نہیں سنے گا نعوذ باللہ کیا وہ ان کو قبول نہیں کرے گا !
    افسوس آج ہم نے حقیقی اللہ کو چھوڑ کر مصنوعی خدا بنا لیے جن کو کبھی داتا کہا جاتا ہے تو کبھی رب نواز تو کبھی بندہ نواز تو کبھی کیا ۔کبھی ہم دیکھتے ہیں سندھ میں ایک مزار پر حج شروع ہوجاتا ہے تو کبھی ہزاروں ایسے واقعات سامنے آتے ہیں ۔
    اب سوال یہ ہے وہ کون سی ایسی دعا ہے جو میرا رب نہیں سنتا ! وہ کون سی نعمت ہے جو نعوز باللہ ہمارا اللہ تعالی نہیں عطا کر سکتا جو ہم ان بت نما قبروں سے مانگتے ہیں!
    قران و حدیث انسان کی رہنمائی کےلیے بہترین نمونہ ہیں جن ہر عمل پیرا ہو کر ہر انسان اپنی زندگی سنوار سکتا ہے ۔
    لیکن افسوس ہمارا معاشرہ شرک و بدعات جیسی ایسی غلیظ رسم و رواج میں گر چکا ہے جو ہمارے ایمان کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں ۔
    آج کل ہمیں قران و حدیث پر عمل کرنے سے منع کیا جاتا منطقیں پیش کی جاتی فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔۔کہ کہیں یہ بچہ یا بچی سہی معنوں میں قران و حدیث پر چل کر یہ شرک و بدعات چھوڑ دے گا ۔
    ہمیں آج کل فقہ کی کتابوں میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ ہم قران و حدیث کی بات کو ماننے سے کتراتے اتے ہیں ۔ہمیں پتہ ہوتا قران و حدیث سچ ہے لیکن ہمارے کچھ بھائی اور بہنیں قرانی و حدیث کے مقابلے میں فقہ کی منطقیں پیش کرتے ہیں ۔وہ صرف اس لیے کیوں کہ اگر انہوں نے قران و حدیث کو سچ مان لیا تو ان کا پورا فقہ سامنےآ جاۓ گا ۔ان کے بڑے بڑے علماء جنہوں نے سالوں سے اس قوم کو بے وقوف بنا کے رکھا ہوا ہے وہ بے نقاب ہو جائیں گے ۔۔
    آج کل بہت سے فقہ میں تقریباً چھ سال تک فقہ پڑھایا جاتا ہے جب بچے کا زہن فقہ پر پک جاتا ہے وہ اس ہی فقہ کو حق سچ مان لیتا ہے تو آخری ایک دو سال میں احادیث کی ساری کتابیِں سامنے رکھ دی جاتی ہیں ۔ جن کو بچے اتنے کم وقت میں سہی سے سمجھ نہیں سکتے اور بعد میں جب ان کے سامنے کوئی سہی احدیث بھی پیش کی جاتی ہے تو وہ اس کے مقابلے میں اپنے فقہ کو ترجیح دیتے ہیں ۔اس لیے ہمارا معاشرہ دن بدن شر و بدعات جیسی غلیظ رسم و رواج میں گرتا جا رہا ہے جو کہ ایک نہایت افسوس ناک بات ہے ۔اور جس کا عذاب نہایت درد ناک ہے ۔

    اللہ پاک سب کو قران و حدیث پر صیحح معنوں میں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کرے

    ‎@iitx_Hadii

  • رشتہ ڈھونڈو مہم اور لڑکی کی زات کی تزلیل ؛ ‏تحریر :- محمد دانش

    ‏اسلام دین فطرت ہے اور  دین اسلام نے ہمیشہ  فطرت کے اصولوں اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ نکاح ایک سنت عمل ہے جسکا حکم اللّہ پاک نے دیا ہے۔ اللہ تعالی نے اس سے متعلق قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے: 
    وَ اَنۡکِحُوا الۡاَیَامٰی مِنۡکُمۡ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنۡ عِبَادِکُمۡ وَ اِمَآئِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغۡنِہِمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ  وَاسِعٌ  عَلِیۡمٌ ﴿۳۲﴾
    تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح  کےہوں ان کا نکاح کر دو  اور اپنے نیک بخت غلام  اورلونڈیوں کا بھی  اگر وہ مفلس بھی ہوں گےتو اللہ تعالٰی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا  اللہ تعالٰی کشادگی والا  اورعلم والا ہے ۔ 
    اسکی عملی مثال ہمیں حضرت محمد صلی اللّہُ
    ‏علیہ وآلہ وسلم کی زندگی سے ملتی ہے اور آپ نے جابجا نکاح کے لئے اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے۔
    ‏عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : اَلنِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ لَّمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ وَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ
    ‏عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح میری سنت ہے، جس نے میری سنت پر عمل نہیں کیا وہ مجھ سے نہیں، اور شادی کرو، کیوں کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ اور جس شخص کے پاس وسعت ہو وہ نکاح کرلے، اور جس شخص کے پاس گنجائش نہ ہو وہ روزے رکھے، کیوں کہ روزہ اس کے لئے ڈھال ہے۔

    حضرت ابو ایوب سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    چار چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت میں سے ہیں:
    حیا،خوشبو لگانا،مسواک کرنا اور نکاح ۔
    ‏ہمارے معاشرے میں اس سنت کو پورا کرنے کے لئے
    جو طریقہ اپنایا جا رہا ہے وہ انتہائی فرسودہ اور بوسیدہ ہے جب لڑکی  باشعور ہو جاتی ہے تو اسکو کو شادی کے بندھن میں باندھنے کے لئے رشتہ کی تلاش شروع ہو جاتی ہے اور اسکے لئے لڑکی کے گھر والوں کو روز مرہ کی دعوت اور نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے رشتہ دیکھنے کے لئے جانے والی خواتین کا رویہ لڑکی کے ساتھ اس طرح کا ہوتا ہے جس طرح منڈی میں کسی جانور کو خریدنے سے پہلے اختیار کیا جاتا ہے
    ‏ لڑکی کو انسان تو سمجھا ہی نہیں جاتا وہ سب کے لئے ایک کٹھ پتلی ہوتی ہے اس سب سے لڑکی کی عزت نفس ہر بار بہت مجروح ہوتی ہے اور اس کی زات کو زلت سہنی پڑتی ہے اسکے ساتھ ساتھ گھر والوں کو بھی  ہر بار اسی دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات تنگ آکر ماں باپ اس لڑکی کو جو کہ اللّہ کی طرف سے ایک رحمت ہے ، زحمت سمجھنا شروع کر دیتے ہیں
    ‏لڑکی دیکھنے کے لئے آنے والے لوگ تو اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہی ہیں لیکن  خود اس کے اپنے  گھر والے بھی اس کو بے زبان جانور سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ لڑکی سے اس کی مرضی جاننا بہت معیوب عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا اتنا بڑا اور اہم فیصلہ ایک بند کمرے میں طے ہوتا ہے جہاں اس کے علاوہ ماں باپ بہن بھائی سب موجود ہوتے ہیں اور لڑکی کی رضا جانے بغیر رشتہ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ اس اہم فیصلے کااختیار لڑکی اپنے والدین کو دیتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس سے بالکل ہی اس کی رضا نہ پوچھی جائے۔
    ‏لڑکی چاہے جتنی بھی تعلیم یافتہ ہو یا کسی بہت بڑے عہدہ پر جاب کر رہی ہو اس کو بھی شادی کے لئے ان تمام مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    ‏ جیسے لڑکی کی اپنی زات کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہے جبکہ  لڑکے کے لئے اسی معاشرے میں کوئی ایسی شرائط نہی اسکا لڑکا ہونا ہی اس کے  بہتر  ہونے کی دلیل ہے لیکن اسی معاشرے میں لڑکی کے لئے  شرائط کی ایک لسٹ بنائی جاتی ہے جیسا کہ وہ کتنا پڑھی ہے ، اسکا رنگ روپ کیسا ہے ، اسکا قد کاٹھ کیسا ہے ، اسکی انکھیں ، ناک ، کان، بال، چال ڈھال کیسی ہے  اور اگر وہ لڑکی نوکری پیشہ ہے تو وہ نوکری سرکاری ہے یا نہی یہ سوال بہت عام پوچھا جاتا ہے
    ‏جسکی وجہ سے والدین لڑکیوں کے اچھے رشتوں کے لئے بے حد پریشان رہتے ہیں اور ہمارے معاشرے نے شادی جیسی اس سنت کو بہت بیچیدہ بنا دیا ہے
    ‏اسلام میں شادی اتنی پیچیدہ نہیں ہے ۔خدارا! اس کو آسان بنائیے اور لڑکے والوں کو اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ انکے اپنے گھر میں بھی اگر بیٹی جیسی نعمت موجود ہے تو انکو بھی اس زحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسکے ساتھ ساتھ وہ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ وہ کسی کے گھر لڑکی کو دیکھنے گئے ہیں نہ کہ کوئی دعوت اڑانے۔
    ‏ہمارا دین ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ رشتہ کرتے وقت
    ‏ہمیں ایک مسلمان ہونے کے ناطے اس بات کو یقنی بنانا چاہیے کہ لڑکی دیندار ہو، نیک ہو، گھر سنبھالنے والی ہو اور شریف گھرانے سے تعلق رکھتی ہو تو رشتہ کر دینا چاہیے
    ‏لڑکی کے والدین کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ لڑکی سے بھی اس کی رضامندی پوچھی جائے
    ‏کیونکہ اللہ نے لڑکی کو یہ حق دیا ہےکہ لڑکی کی رضا کے بغیر رشتہ نہ کیا جائے اور
    ‏اس کی بہترین مثال اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمارے سامنے قائم کی ہے جب انھوں نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ سے حضرت علی کا رشتہ آنے پر ان کی مرضی پوچھی تھی
    ‏عَنْ أَبِي مُوْسَى ،أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: « إِذَا أَرَادَ الرَّجُلَ أَنْ يُّزَوِّجَ ابْنَتَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهَا » .
    ‏ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہے تو اس سے اجازت لے لے۔

    ‏بعض اوقات ہمارے معاشرہ میں اس رشتہ ڈھونڈو مہم کے کامیاب ہونے کے بعد جب خوش قسمتی سے رشتہ جڑنے کی طرف جاتا ہے تو لڑکی کے والدیںن پر جہیز نما لعنت کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جو کہ ہمارے معاشرے کا ناسور ہے جب والدین خوش قسمتی سے  اپنے حساب سے لڑکی کا اچھا رشتہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں اپنی بیٹی کو رخصت کرنے کے لیے جہیز جیسے مسئلہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انکی جھکی ہوئی کمر ، بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے مزید جھک جاتی ہے۔
    ‏اسلام میں شادی کامقصد نمود و نمائش ہر گز نہیں ہے بلکہ شادی کا وآحد مقصد اولاد کی بہترین تربیت ہے۔اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ بات سمجھانی ہے۔
    ‏اللّہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور لوگوں کے درمیان آسانیاں پیدا کرنے والا بنائے آمین۔

    ‏⁦‪@iEngrDani

  • ڈر کا بھیڑیا  تحریر: زبیر احمد

    ڈر کا بھیڑیا تحریر: زبیر احمد

    ہرن کے بھاگنے کی رفتار 85 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے جبکہ شیر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگتا ہے۔ اتنا تیز بھاگنے کے باوجود بھی ہرن شیر سے نہیں بچ پاتا اور شیر ہرن کا شکار کر ہی لیتا ہے.کیونکہ ہرن کے دل میں پکڑے جانے کا مارے جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ ہرن کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ بات بیٹھی ہوتی ہے کہ شیر اس سے زیادہ طاقتور ہے یہ مجھے مار سکتا ہے۔اس لئے وہ مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتا رہتا ہے اور اس کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ جب ہم ڈرتے ہیں تو اتنا بھی نہیں کرپاتے جتنا ہم آسانی سے کرسکتے ہیں۔ڈر ہمیں کمزور کردیتا ہے, ناکارہ بنا دیتا ہے۔ ہماری صلاحیتوں کو کھا جاتا ہے۔ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے۔ایک طالبعلم کو فیل ہونے کا ڈر ہوتا ہے امتحان میں کم نمبر آ گئے تو کیا ہوگا۔لوگوں کی باتوں کا ڈر ہوتا ہے والدین کی ناراضگی کا ڈر ہوتا ہے۔دوستوں، رشتہ داروں میں عزت کا جنازہ نکلنے کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ جب بھی کتاب لے کر پڑھنے کے لیے بیٹھتا ہے تو یہ سارے ڈر اور خدشات اس سے گھیر لیتے ہیں۔جب وہ ڈر ڈر کر پڑھے گا تو کیا خاک پڑھ پائے گا اسکے اندر کا خوف اس سے کبھی بھی اچھے مارکس نہیں لینے دے گا۔ جو کھلاڑی ڈرتا یے وہ کبھی اچھا نہیں کھیل سکتا جس کو آوٹ ہونے کا ڈر ہوگا اس کا دھیان کبھی کھیل کی طرف جائے گا ہی نہیں،اونچی شاٹ کھیلی تو کہیں آوٹ نہ ہوجاوں جو کھلاڑی یہ سوچے گا وہ کبھی چھکا نہیں مار پائے گا۔ڈر لگتا تو سب کو ہے لیکن سب لوگ نہیں ڈرتے کچھ لوگ ڈرتے ہیں اور کچھ لوگ اس ڈر پر قابو پا لیتے ہیں۔ ڈر پہ قابو پانا سیکھ جاتے ہیں اور وہی لوگ زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ ڈر پہ قابو پالیتے ہیں وہ ایسا کیا کرتے ہیں کیسے ایسا کرلیتے ہیں۔ناکامی کا ڈر اور کامیابی کا یقین دو بھیڑیے ہیں جو ہر انسان کے اندر موجود ہیں۔ ناکامی کا بھیڑیا ہمیں ڈراتا ہے کہ کہیں فیل نہ ہوجاوں فیل ہوگیا تو کیا ہوگا۔ یہ ناکامی کے ڈر کا بھیڑیا ہے اور دوسرا بھیڑیا کامیابی کا یقین دلاتا ہے کہ ضرور کامیاب ہونگے۔ حالات اتنے بھی برے نہیں تیاری اتنی بھی خراب نہیں فکر نہ کرو ہمت کرو۔ یہ بھیڑیے ہمارے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں بڑے ہوتے ہیں اور مرنے تک ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ناکامی کا ڈر ہمیشہ کامیابی کے یقین کے ساتھ لڑتا رہتا ہے اور کوئی ایک ہی ان میں سے جیت پاتا ہے۔ جیت ہمیشہ اس بھیڑیے کی ہوتی ہے جس کو ہم کھلاتے پلاتے رہتے ہیں جس کی پرورش کرتے ہیں جس کو پالتے ہیں جس کو طاقتور بناتے ہیں۔ ڈر کو پالیں گے تو ڈر جیت جائے گا اور یقین کو پالیں گے تو وہ ڈر کو چیر پھاڑ دے گا۔ ڈر کی سب سے اچھی خوراک ہوتی ہے اس کے بارے میں سوچتے رہنا اس کا ذکر کرتے رہنا اس سے ڈسکس کرتے رہنا اور یہی چیز ڈر کو طاقتور بناتی ہے۔ جب آپ کتاب لے کر بیٹھتے ہیں اور سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ کہیں فیل نہ ہوجاوں تو آپ اپنے ڈر کے بھیڑیے کو کھانا کھلا رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ اپنے دوستوں سے بات کررہے ہوتے ہیں کہ کورس بہت زیادہ ہے اور وقت بہت کم رہ گیا ہے بہت مشکل ہے تو آپ ڈر کے بھیڑیے کو مضبوط اور طاقتور کررہے ہوتے ہیں جب آپ ڈر کو مضبوط کروگے پھر ڈر تو لگے گا۔
    ڈر سے جان چھڑانی ہے تو ناکامی اور ڈر کے بھیڑیے کو کھلانا پلانا بند کرنا ہوگا اس سے کمزور کرنا ہوگا۔ خود پر یقین رکھیں جو وقت برباد ہوگیا وہ تو گزر گیا ہے لیکن جو وقت آپ کے پاس ہے اسکو استعمال کریں۔ انسان کے ہاتھ میں کوشش کرنا ہے، نتیجے کا سوچنا چھوڑ دیں۔ اس بات پہ یقین رکھیں کہ کی گئی محنت کو خدا کبھی ضائع نہیں کرتا اس کا پورا پورا صلہ ضرور ملے گا.
    ناکام ہونے کا فیل ہونے کا سوچنے کیبجائے کامیاب ہونے کا سوچیں کیوں ڈریں کہ زندگی میں کیا ہوگا ہر لمحہ کیوں سوچیں کہ کچھ برا ہوگا۔ خود پر یقین کرکے چلیں تو ایک نہیں ہزار راستے آپ کے لیے کھل جاتے ہیں۔ مشکلوں سے ڈر کر کبھی ہمت نہ ہاریں بلکہ زندگی کو اپنے ہاتھوں سے سنواریں۔ جیتنا چاہیں گے تو جیت ملے گی ہار کا ڈر لے کر کبھی زندگی نہ گزاریں۔زندگی میں ہر روز کچھ نیا سیکھیں کچھ نیا کریں کچھ نیا سوچیں۔

    tweets @KharnalZ

  • کرکٹ اور ناکام بھارت  تحریر : احسن وقار خان

    کرکٹ اور ناکام بھارت تحریر : احسن وقار خان

    کرکٹ جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے لیکن بھارت جو اس وقت آر ایس ایس کی آڈیالوجی کے تحت ہٹلر مودی کے قبضے میں ہے اس کھیل کو بھی اپنے ناپاک عزائم سے بگاڑنا چاہتا ہے ۔
    کشمیر میں سجے اس کرکٹ کے میلے کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا اس بھارت نے ۔کھلاڑیوں کو دھمکیاں دیں ۔آئی سی سی کو دھمکیاں اور بھی بہت کچھ لیکن ایک دفعہ پھر اس کو منہ کی کھانا پڑی ۔اج کرکٹ جیت گئی،عوام جیت گئی مودی ہار گیا ۔

    بھارت ناکام ہو گیا ۔ کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں کرکٹ کا میلہ سج گیا ۔
    کشمیر پریمیئر لیگ پر بھارتیوں کی چیخیں پاکستان کی فتح کا ثبوت ہیں ۔۔۔ ۔۔

    کشمیر لیگ منقعد کرانے پر گورنمنٹ کو پورا کریڈٹ دینا چاہیے۔۔۔مجھے معلوم ہے میرے کچھ ہم وطن کہیں گے کہ گورنمنٹ نے کشمیر بیچ دیا,اس لیگ سے کیا ہو گا۔۔
    جو شور بھارت میں مچا ہوا وہ بتا رہا کیا ہو گا ۔
    ایونٹ کو ختم کرانے کیلیے بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، غیرملکی پلیئرز کو شرکت سے روکنے کی سرتوڑ کوشش ہوئی، اس مقصد کیلیے متعلقہ بورڈز پر دباؤ بھی ڈالا گیا،

    ایونٹ کو رکوانے کیلیے آئی سی سی کا دروازہ تک کھٹکھٹایا گیا، تاہم وہاں پر بھی اسے منہ کی کھانا پڑی، بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کا پہلا میچ منعقد ہونے کو تیار ہے۔

    جس طرح ہمیشہ بھارت کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس دفعہ بھی یہی حال ہوا اور رہتی دنیا تک یہی حال رہے گا ۔۔ انشا اللہ
    پاکستان زندہ باد

  • پاکستان! سستا یا مہنگا؟  تحریر: احسان الحق

    پاکستان! سستا یا مہنگا؟ تحریر: احسان الحق

    کچھ دن پہلے وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سستا ملک ہے مگر اعدادوشمار کچھ اور بتاتے ہیں. جناب وزیراعظم کے دعوے اور اعدادوشمار میں کافی تضاد ہے. موجودہ حکومت پر عوام اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے سب سے زیادہ مہنگائی کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے. حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے. بلکہ آئے روز حکومتی سطح پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے. گھی فی کلو کی قیمت 155 سے 310 سے 320 روپے ہو چکی ہے.

    پاکستان میں ہمیشہ اشیاء کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں. ابھی یہ تحریر لکھتے وقت نیوز چینل کے ٹکر پر میری نظر پڑی کہ گھریلو استعمال کے گیس سیلنڈر کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا ہے. شاید کبھی کسی چیز کی قیمت گری ہو. خصوصاً اشیائے خوردونوش کے نرخ ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں. ایک عام پاکستانی کے لئے اشیائے خوردونوش کی خریداری ایک چیلنج سے کم نہیں. ملک میں اگر پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو تمام بکنے والی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں جن کا دور دور تک پیٹرول سے کوئی تعلق نہیں ہوتا. اگر ڈالر کی قیمت بڑھ جائے تو بھی تمام اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں. پیٹرول اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے سبزیوں، دودھ، ادویات اور تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا کیا تعلق؟

    عالمی بینک کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے. غربت 4.4 فیصد سے بڑھ کر 5.4 فیصد ہو گئی ہے. اس سلسلے میں دو ڈالرز یومیہ سے کم قوت خرید کو پیمانہ بنایا گیا ہے. پاکستان میں تقریبا 20 لاکھ سے زائد افراد انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں. پاکستان میں غربت کا تناسب 39.3 فیصد ہے. متوسط طبقے سے نچلے طبقے کی یومیہ آمدنی 3.2 ڈالر ہے. متوسط طبقے کی آمدنی 5.5 ڈالرز یومیہ ہے. یہ تو ہو گئی عالمی بینک کے اعدادوشمار کی بات، اب حکومت کے اپنے اعدادوشمار بھی دیکھ لیں. حکومت کے اپنے سرکاری ادارے کی جانب سے کیے گئے پاکستان سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈ سروے کے مطابق انتہائی کسمپرسی کے شکار گھروں کی تعداد 7.24 فیصد سے بڑھ کر 11.94 فیصد ہو گئی ہے. غذائی قلت کا شکار آبادی کی شرح 16 فیصد تک پہنچ چکی ہے. معاشی صورتحال میں بہتری والے گھرانوں کی شرح 16.48 فیصد سے کم ہو کر12.7 فیصد تک آ گئی ہے.

    مہنگائی کے علاوہ ٹیکسوں کے ذریعے بھی عوام پر بوجھ اور دباؤ بڑھایا جا رہا ہے. سرکاری آمدنی کا بڑا ذریعہ بل واسطہ محصولات ہیں جس کے اثرات امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر بہت زیادہ پڑ رہے ہیں. رواں مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں 62.5 فیصد ٹیکس وصولی کسٹمز اور فیڈرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس سے حاصل کی جائے گی، جبکہ بقیہ 37.5 فیصد براہ راست محصولات سے وصول کیے جائیں گے. بجٹ دستاویزات کے مطابق پچھلے مالی سال میں بل واسطہ محصولات تقریباً 2.50 فیصد کم تھا.

    سرکاری محصولات کی مد میں آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ پٹرولیم لیوی ہے جو کہ غریب اور دیہاڑی دار طبقے پر سراسر زیادتی ہے. ایک طرف 5 کروڑ روپے والی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے والا اور دوسری طرف موٹر سائیکل میں ایک لیٹر پیٹرول ڈلوانے والا دیہاڑی دار بندہ برابر کا ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں. پیٹرولیم لیوی کا غریبوں پر فوری اور براہ راست اثر پڑتا ہے. پیٹرولیم لیوی میں بھی موجودہ حکومت ہر سال اضافہ کر رہی ہے. 2019-20ء میں 260 ارب روپے سے 73 فیصد اضافہ کر کے اس مد میں 450 ارب روپے حاصل کئے گئے تھے جبکہ موجودہ سال اس میں مزید 160 ارب روپے کا اضافہ کر کے 610 ارب روپے ٹیکس وصولی کا اندازہ لگایا گیا ہے.

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بہتر معیار زندگی گزارنے والے ملکوں میں پاکستان کا نمبر 154واں ہے. یو این ڈی پی کی اپریل 2021ء میں آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طاقتور لوگ قانون میں موجود خامیوں کو اپنے فوائد کے لیے استعمال کرتے ہیں. اقوام متحدہ کے تجزیئے کے مطابق پاکستان میں صرف مالی اور معاشی حوالے سے طاقتور لوگ مستفید نہیں ہو رہے بلکہ امیر اور طاقتور کی دنیا اور ہے اور عام پاکستانی اور کمزور کی دنیا اور ہے. طاقتور لوگ کمزور لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں.

    @mian_ihsaan