میرا بچپن اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیل کود کر گزرا۔ میری سکول میں ہمیشہ پوزیشن اچھی رہی اسی وجہ سے اپنے اساتذہ اکرام کی آنکھوں کا تارا رہا۔ کچھ دوست جو میرے بچپن کے ساتھی تھے زندگی کے بقیہ حصے میں بھی ساتھ رہے میں نے پراہمری سکول سے فارغ ہونے کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور وہاں بھی اساتذہ کی توجہ اور والدین کی دعاؤں سے ہر سال پوزیشن لیتا رہا۔ پھر کالج میں آ گیا زندگی چلتی رہی میں نے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں منصوبہ بندی شروع کر دی۔
لیکن بنیادی طور پر میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ سو سب خاندان کے افراد مجھے سرکاری نوکری کی طرف دھکیلنا چاہتے تھے۔بظاہر مجھے بھی متبادل راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ سو اپنی تعلیمی اسناد کے ساتھ ملازمت کے لیے کوشاں ہو گیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ملازمت ملنا جؤۓ شیر لانے کے مترادف ہے اور میری ڈگریاں اس کے حصول کے لیےشاید ناکافی ہیں۔لیکن میرے ساتھی مجھے ہر لمحہ حوصلہ دیتے رہے جن میں سے اکثر کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میری ڈگریوں نے میرا ساتھ چھوڑ بھی دیا پھر بھی میں اپنے دوستوں کے توسط سے نوکری پانے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ گھر کے حالات مجھے زیادہ عرصہ تک بے روزگار رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ایک دن میں اپنے ایک دوست کے گھر اس سے ملنے گیا تو اس کے والد صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ انھوں نے احوال پوچھا تو اپنی ساری تگ و دو ان کے گوش و گزار کر دی۔ انھوں نے انتہائی شفقت سے مجھے سمجھایا کہ ملازمت کا حصول آسان نہیں ہے اس سے بہتر ہے کہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو کاروبار پر صرف کرو۔ ان کی بات بظاہر معقول تھی لیکن کاروبار کے لیے پیسہ کہاں سے آۓ یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا جب ان کو صورتحال بتائی تو انھوں نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ بنک سے قرضہ دلوا دوں گا۔ ان کے اس مشورے کو باقی دوستوں کے سامنے رکھا تو سب نے انکی تائید کی پھر گھر والوں کو جیسے تیسے راضی کیا اور اپنے اکلوتے گھر پر قرض لے لیا۔ قرض کے حصول میں انھوں نے ہی میری مدد کی۔قرض ملنے پر میں اپنے دوست کے والد کے پاس گیا اور رہنمائی چاہی۔ تو انھوں نے فراغ دلی سے اپنی ہی فیکٹری میں حصہ دار بننے کی آفر کی مجھے یہ آفر انتہائی موزوں لگی کیونکہ کاروبار میں بھی میرا تجربہ نہیں تھا۔دیگر احباب کی مشاورت کے بعد میں انکا باقاعدہ حصہ دار بن گیا۔ میں زاتی طور پر فیکٹری کی نگرانی کرنے لگا اور زندگی چلنے لگی پھر تین سال بعد اچانک مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ فیکٹری خسارے میں چلی گئی ہے اور میرا سرمایہ ڈوب گیا ہے یوں یہ آسمانی بجلی مجھ پر ایسی گری کہ میرا گھر بک گیا ہم کراۓ کے مکان میں آگۓ۔ میں نے اپنے دوست کے والد سے اسی فیکٹری میں ملازمت کی درخواست کی تو انھوں نے یہ کہہ کر رد کر دی کہ فیکٹری پہلے سے خسارے میں ہے۔مالک مکان کا کراۓ کے لیے اصرار بڑھنے لگا۔ گھر میں نوبت فاقوں تک پہنچ آہی۔ میرے ایک غریب دوست نے مجھے ایک سکول کے باہر برگر لگانے کا مشورہ دیا مجھے عجیب سا لگا لیکن میرے اس دوست نے جبر کر کے (ایسا سمجھ لیں) مجھے آمادہ کیا اور ریڑھی سمیت دیگر چیزوں کے حصول میں نہ صرف مدد کی بلکہ کچھ دن بلامعاوضہ میرے ساتھ کام بھی کیا
آج الحمدللہ میری زندگی گزر رہی ہے اور کبھی کبھار میرے دوست کے وہ والد جنھوں نے مجھے برباد کیا اسی سکول میں اپنے ایک اپاہج نواسے کو لینے آتے ہیں اور میرے پاس سے ایسے گزر جاتے ہیں جیسے جانتے ہی نہیں
لیکن میں اللہ پاک کا شکر گزار ہوں کہ میں ان کی طرح صاحب ثروت تو نہیں لیکن ان کے نواسے کی طرح اپاہج بھی نہیں
#حبیب_خان
Author: Baaghi TV
-
میرے ہمرکاب تحریر: حبیب الرحمٰن خان
-

اسلام میں عورت کے احکام تحریر: منصور احمد قریشی
الّٰلہ تعالٰی کے ہاں ایمان و عمل کے مطابق اجر و ثواب اور فضیلت میں عورت مرد کی طرح ہے ۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
“ بلاشبہ عورتیں ( عمومی احکام میں ) مردوں کی مانند ہیں ۔ “ (ابوداؤد)عورت اپنے حق کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے ۔ کیونکہ دینی احکام کے خطاب میں مرد و عورت برابر ہیں ۔ سواۓ ان مسائل کے جن میں شریعت خود فرق بیان کر دے ۔ اور یہ احکام مشترک احکام کے مقابلے میں بہت تھوڑے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ شریعت نے مرد و عورت کی خلقت کے اعتبار سے خصوصیات کو مدِ نظر رکھا ہے ۔
الّٰلہ عزوجل کا ارشاد ہے :۔
“ کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ “ ( الملک : ۱۴)چنانچہ کچھ امور و ذمہ داریاں عورت کے ساتھ خاص ہیں ۔ اور کچھ مردوں کے ساتھ ۔ ان کی ایک دوسرے کی خصوصیات میں دخل اندازی زندگی کا توازن بگاڑ دیتی ہے ۔ بلکہ عورت کو گھر میں رہتے ہوۓ مرد کے برابر اجر و ثواب کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے ۔
کسی مرد کا اجنبی عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا حرام ہے الا یہ کہ اس عورت کا کوئی محرم رشتہ دار ساتھ ہو ۔
آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
“ کوئی مرد کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ علیحدگی ہرگز اختیار نہ کرے الا یہ کہ اس کا کوئی محرم ساتھ ہو “ ۔ ( بخاری و مسلم )عورت کے لیۓ مسجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے ۔ البتہ اگر فتنے کا ڈر ہو تو مکروہ ہے ۔ حضرت عائشہ رضی الّٰلہ تعالٰی عنہا کا فرمان ہے :۔ جو کچھ عورتوں نے کرنا شروع کر دیا ہے اگر رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم اس کا مشاہدہ فرما لیتے تو انھیں ضرور مسجدوں میں جانے سے روک دیتے ۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ ( بخاری و مسلم )
جس طرح مرد کی نماز مسجد میں کئی گنا زیادہ ثواب کا باعث ہے ۔ اسی طرح عورت کے لیۓ گھر میں نماز پڑھنا زیادہ باعثِ اجر ہے ۔ ایک عورت نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : الّٰلہ کے رسول صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہوں ۔
آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
“ تم جانتی ہو کہ تمھیں میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے ۔ حالانکہ تیرا بند گھر میں نماز پڑھنا تیرے حجرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور حجرے میں نماز پڑھنا تیرے صحن والے گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور تیرا صحن والے گھر میں نماز پڑھنا قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا تیرے لیۓ میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے “ ۔ ( مسند احمد )اور نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :-
“عورتوں کی بہترین مسجدیں ان کے گھر ہیں “ ۔ ( مسند احمد )عورت کے لیۓ الّٰلہ تعالٰی نے وراثت میں جو حق رکھا ہے ، وہ حق اسے دینا ضروری ہے اور روکنا حرام ہے ۔
نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
“ جس نے وارث کی میراث روک لی ۔ الّٰلہ تعالٰی روزِ قیامت جنت سے اس کی میراث ختم کر دے گا “ ۔ ( ابن ماجہ )خاوند پر بیوی کا خرچ لازم ہے ۔ اور اس سے مراد دستور کے مطابق کھانے ، پینے اور رہائش و لباس کی ہر وہ چیز ہے ۔ جس کے بغیر عورت کا گزارہ نہ ہو ۔
ارشادِ باری تعالٰی ہے :۔
“ چاہیۓ کہ آسائش والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی روزی نپی تُلی ہو تو وہ الّٰلہ کے دیئے ہوۓ میں سے ( اپنی وسعت کے مطابق ) خرچ کرے “ ۔ ( الطلاق ۶۵ )اگر کسی عورت کا شوہر نہیں ہے تو اس کے اخراجات پورے کرنا اس کے باپ ، بھائی یا بیٹے کی ذمہ داری ہے ۔ اگر اس کا کوئی قریبی نہ ہو تو دیگر لوگوں کے لیۓ مستحب ہے کہ وہ اس کی ضروریات پوری کریں ۔
جیسا کہ حدیثِ نبوی صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ہے :-
“ بے شوہر عورتوں اور مسکینوں کے لیۓ دوڑ دھوپ کرنے والا الّٰلہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے “ ۔ ( بخاری و مسلم )Twitter Handle : @MansurQr
-

ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا تحریر: قاسم ظہیر
آج سے کم و بیش دو دہائیوں پہلے کی بات ہے کہ ایک گروہ کو دنیا کی سپر پاور نے دہشت گرد قرار دے کر اس ملک پر چڑھائی کر دی اور وہ کوئی اور ملک نے ہمارا ہمسایہ اور پڑوسی افغانستان ہے.تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے یہ کوئی دہشتگردوں پر حملہ نہیں بلکہ دنیایک بہت بڑے کھیل کا حصہ تھا جو کافی صدیوں سے جاری ہے. گریٹ گیم یا پھر دینی و گریٹ گیم کا نام اس کو دیا گیا ہے اس کا مین مقصد سینٹرل ایشین سٹیٹ پر قابض ہو کر روس کو قابو کرنا ہے.سینٹرل ایشین اسٹیٹس پر قابض ہوکر نہ صرف روس کا اثر ختم کیا جاسکتا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لئے بھی تجارتی مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں.جو ایشیا کے حق میں تو بہتر ہے لیکن مغرب کو کسی طور بھی منظور نہیں.
اسی صدی کے شروع میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے کا سوچا تو اس کے جنرل متکبر انداز میں یہ بیان دیا کہ افغانستان ہمارے لئے کچھ ماہ کا کھیل ہے لیکن شاید وہ یہ بات بھول چکا تھا کہ افغانستان نے دنیا کی دو سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا کر مٹی میں ملا دیا ہے.
9 11 کے بعد جب امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کرنے کا سوچا تو اقوام متحدہ نے بھی اس کی تائید کی اور پوری دنیا نے اپنا منہ پھیر کر طالبانوں کو دہشت گرد قرار دے دیا . دنیا میں ان سے منہ پھیر کر ان کو تن تنہا چھوڑ دیا یہ وہی طالبان ہیں جن کو دس سے بیس سال پہلے امریکہ کے ایما پر کچھ قوتوں نے تیار کیا تھا تاکہ وہ سوویت یونین سے لڑ سکیں اور اس کا اثر رسوخ ختم کر سکیں
وہ کہتے ہیں نہ ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو تو یہی حال یہاں پر آپ کو طالبانوں کا بھی نظر آئے گا پوری دنیا کے منہ کرنے کے باوجود ان کے حوصلے ایک پل کے لئے بھی متزلزل نہ ہوئے اور انہوں نے اپنی کوششیں اور جنگ جاری رکھیں.انہوں نے دشمن کی اجارہ داری اپنی سرزمین پر ماننے سے صاف انکار کر دیا انہوں نے دنیا پر واضح کردیا کہ جن کے حوصلے اور عزم سے لڑی جاتی ہے نہ کہ ہتھیاروں اور ٹینکوں سے.بالآخر انہوں نے ایک سپر پاور کو پھر سے گھٹنے ٹیکا دیے اور وہ اس بات پر مجبور ہو گیا کہ اسے ان کے آگے درخواست کرنا پڑی کہ آؤ بیٹھو اور ہم سے بات کرو ہم اس مسئلہ کا کوئی حل بیٹھ کر نکالنا چاہتے ہیں بالآخر گھٹنے ٹیکنے کے بعد اس کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت مل ہی گئی
امریکہ نے ستمر 2021 میں افغانستان سے نکلنے کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد افغانستان میں میں فتوحات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور طالبان نے پچاس فیصد سے زائد رقبے پر قبضہ کرلیا ہے اور ان کے قبضے کے بعد دنیا کی بڑی قوتیں روس ا برطانیہ چائنا پاکستان سعودیہ اور بہت سے ممالک ان کو مدعو کر رہے ہیں.یہ وہی طالبان ہے جن کو دو دہائیاں پہلے دنیا دہشتگرد انتہاپسند اور قابل مذمت قرار دے چکی تھی اور ان کے خلاف ہر وہ کاروائی جائز سمجھی جا رہی تھی جس کا انسانیت اور انسانی اقدار سے کوئی لینا دینا نہیں.اور ان سے حوالوں کی طرح برتاؤ کیا گیا اور جنگی قیدیوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جس کی دنیا میں کوئی اور مثال نہیں ملتی لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے حوصلوں کو متزلزل نہیں ہونے دیا اور آج وہی دنیا ان کو ویلکم فرینڈ اور ہمارے گہرے دوست اور بھائیوں کے نام سے پکار رہی ہے کیونکہ انہوں نے دنیا میں اپنا سکہ اپنے نظریات اور اپنے حوصلے کی بنیاد پر منوا دیا انہوں نے دنیا کو بتادیا کہ جنگ لڑنی ہو تو ہم سے سیکھو کہ جنگ کسے لڑی جاتی ہے جنگ لڑنے کے لیے ایسا مال ہتھیار اور جائیداد کی ضرورت نہیں اس کے لیے حوصلہ اور سچی لگن ہونی چاہیے
طالبان نے دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ کوئی بھی آنکھ جو افغانستان کی طرف اٹھے گی اسے نکال لیں گے کوئی بھی قدم افغانستان کی طرف بڑھے گا تو اسے توڑ دیں گے کوئی بھی ہاتھ افغانستان کی طرف اٹھے گا تو اسے کاٹ دیں گے انہوں نے دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ ہم آپ سے برابری کا سلوک چاہتے ہیں ہم پر امن قوم ہیں ہم امن سے رہنا چاہتا ہے لیکن اگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ بھی ہم کر سکتے ہیں
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
یہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہے
یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے
جو خون ہم نے نذر کیا تھا زمین کو
وہ خون ہے چمن کے پھولوں کے واسطے
پھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی@QasimZaheer3
-

کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز تحریر: زاہد کبدانی
ہر جگہ تعلیمی خلل پیدا کرنا ، کرونا وائرس وبائی بیماری نے طلباء کی زندگیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ شاید ان کی آئندہ کی تعلیمی زندگی پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ نسبتا کسی کا دھیان یہ نہیں رہا ہے کہ اس نے ترقی پذیر ممالک میں کہیں زیادہ مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں پہلے سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی ، ای لرننگ حل فراہم کرنے والے ، اور مقامی سطح پر تعلیم کی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے حکومتی پالیسیاں نیز طالب علموں میں ذاتی وسائل کی کمی تھی۔کرونا وائرس بحران کو بہت سے ممالک سے بہتر طریقے سے نپٹانے میں ، پاکستان نے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت سے گریز کیا اور دنیا کے لئے ایک مثال قائم کی۔ اس کی سمجھدار پالیسیاں یہاں تک کہ معیشت کو چلتی رہیں۔ ہمسایہ ممالک چین (جہاں پہلا کرونا وائرس انفیکشن پایا گیا تھا) اور بھارت (دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک) سے قربت کے باوجود ، پاکستان حیرت انگیز طور پر محفوظ ہے جب یورپ اور امریکہ کے ساتھ مقابلے میں 98 فیصد بحالی کی شرح ہے۔
تعلیمی ٹکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے — اسمارٹ فونز ، ٹیبلٹس ، بڑھا ہوا اور ورچوئل ریئلٹی ، اور تیز رفتار انٹرنیٹ ، 4 جی ، اور 5 جی کنیکٹوٹی۔ یہ سب آن لائن تعلیم کو زیادہ پیداواری ، انکولی اور قابل رسائی بناتا ہے۔ در حقیقت ، ای لرننگ انڈسٹری کی فی الحال قیمت 200 بلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے اور اس کی توقع ہے کہ 2026 تک اس میں 375 بلین ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے باوجود ، پاکستان کے دنیا کے کچھ بدترین تعلیمی نتائج بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ، اس میں دنیا کی دوسری بڑی تعداد بچوں کی ہے جو اسکول میں نہیں ہیں: 22.8 ملین بچوں کی عمر 5 سے 16 سال ہے ، جو پاکستان کے اسکول جانے والے بچوں کا 40 فیصد ہے۔ بدقسمتی سے ، اس وبائی امراض کا آغاز پاکستان کی تمام صوبوں میں یکساں نصاب کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد سے ہم آہنگ ہے۔ چونکہ جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس کے کنٹرول کے اقدامات پھیل رہے ہیں ، محکمہ تعلیم اور اعلی سطحی یونیورسٹیوں نے خود کو ناقص سمجھا یا ، زیادہ تر معاملات میں ، آن لائن سیکھنے اور فاصلاتی تعلیم کی فراہمی کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔ ماضی میں ، پاکستان نے دہشت گردی کے حملوں اور سیاسی خطرات کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کردیئے تھے ، لیکن آن لائن تعلیم کے آس پاس ابھی تک کوئی سرکاری پالیسی موجود نہیں تھی۔ پاکستان میں ابھرتا ہوا موبائل فون استعمال کنندہ مارکیٹ ہے۔ اس وقت آبادی کا 75 فیصد موبائل ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ لیکن 220 ملین آبادی میں – جو دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ، وہاں صرف 76.38 ملین انٹرنیٹ استعمال کنندہ ہیں۔ یہی آبادی کا صرف 35 فیصد ہے ، جس میں صرف 17 فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی ای-لرننگ سسٹم کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آن لائن سیکھنے کی پالیسی کے خلاف مزاحمت میں ٹکنالوجی یا نئی پڑھنے کی تدریسی تعلیم کو اپنانے اور کلاس روم کے ماحول میں استعمال ہونے کی مزاحمت بھی منفی کردار ادا کرتی ہے۔
وبائی مرض سے سیکھا گیا اسباق پڑھنے کی جگہوں کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور نصاب کی تشکیل نو کے موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ شکل 1 میں دکھایا گیا ہے۔ اس ملک میں تعلیم کا مستقبل۔ پاکستانی انسٹی ٹیوٹ میں ، تکنیکی طور پر تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی ہے کہ آن لائن کلاس آسانی سے چلائیں۔ ملاوٹ ، فاصلہ ، اور آن لائن تعلیم کو تقویت دینے کے لئے،MOOCs ، Corseera اور EdX کو زیادہ سے زیادہ آگاہی اور رسائ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورچوئل ، بڑھا ہوا ، اور مخلوط حقیقت والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جدید ، عمیق سیکھنے کی ٹکنالوجیوں اور جدید تعلیم کی جگہوں کو بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز ، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے استعمال کے ساتھ ، مزید انٹرایکٹو ، شخصی اور نتیجہ خیز سیکھنے کے حل کی تعمیر میں ہماری مدد کرکے سیکھنے کے مستقبل کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ مزید خاص طور پر ، جب ہم اسٹیم میں عملی ، عملی طور پر سیکھنے کے بارے میں بات کرتے ہیں ، جہاں سیکھنے کے مواد کی اشد ضرورت ہوتی ہے ، تو بڑھتی ہوئی حقیقت نسبتا سیکھنے کے نقطہ نظر کے ساتھ تعلیم دینے میں مجازی مواد فراہم کرسکتی ہے, تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں ای لرننگ کے لئے جدید اور جدید نظام موجود ہیں ، جس کی وجہ سے وہ اس تعلیمی سال کے دوران سیکھنے کے بہاؤ کو متحرک رکھیں۔ لیکن پاکستان میں ، آن لائن سیکھنا ایک نوزائیدہ مرحلے پر ہے۔ ایمرجنسی ریموٹ پڑھنے کے طور پر شروع کرنے کے بعد ، اس کو مزید اپنانے اور حدود کو دور کرنے کے لئے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں انٹرنیٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ ، تصنیف کے خصوصی اوزار تیار کرنا ، اور آن لائن سیکھنے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے آگاہی
@Z_Kubdani
-

شاہ محمود قریشی تحریر: دانش اقبال
آج پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہ لکھنے کا دل کیا
کچھ سال پہلے تک شاہ جی کو میں اتنا خاص پسند نہیں کرتا تھا اور میرے ذہن میں ان کے بارے میں کچھ منفی خیالات تھے – میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ شاہ جی اپنے کچھ ذاتی مفادات کے حصول کے لۓ عمران خان کے ساتھ ہیں جو کسی کو پارٹی میں اہم حیثیت حاصل کرتے نہیں دیکھ سکتے اور ایک دن یہ خان صاحب کو دھوکہ دیں گے
سب سے ذیادہ خطرہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہوا جب وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی خواہش دل میں رکھنے والے شاہ جی کی خواہش ادھوری رہ گٸ اور مجھے یقین ہو گیا کہ قریشی صاحب اب گۓ کہ گۓ لیکن میرے اندازے غلط ثابت ہوۓ اور آج جب بھی کوٸی مجھ سے خان کے نمبرون اور بااعتماد کھلاڑی کا پوچھتا ہے تو فوراً زبان پہ شاہ جی کا نام آتا ہے
پی ٹی آٸی جواٸن کرنے کے بعد سے اب تک قریشی صاحب نے پارٹی کے لۓ جان توڑ محنت کی ہے اور ایک اثاثہ ثابت ہوۓ ہیں
اپوزیشن میں رہ کے خان صاحب کے ساتھ ساتھ جنگ لڑی دھرنے دٸیے ریلیاں نکالی اور اس وقت جب جاوید ہاشمی جیسے لوگ پھسل گۓ انہوں نے پارٹی کو سنبھالنے اور مورال اوپر رکھنے میں اہم کردار ادا گیا
اور پھر 2018 کے الیکشن میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوۓ جنوبی پنجاب سے پی ٹی آٸی کو بھرپور کامیابی دلواٸی اور ان کے تجویز کردہ تقریباً سب امیدوار جیت گۓ جس کا کریڈٹ بلاشبہ خان کی سحر انگیز شخصیت اور بے انتہأ شہرت کے بعد قریشی صاحب کو ہی جاتا ہےسب سے اہم خارجہ کا محاز سنبھالنے کے بعد انہوں نے عملی طور پر وہ کارکردگی دکھاٸی جس کی پاکستان کو اشد ضرورت تھی
عمران خان نے بہت سے اہم خارجہ محاز ان کے حوالے کۓ اور شاہ جی اب تک خان صاحب کے اعتماد پر پورا اترے ہیں
آج کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان کے دنیا سے نا صرف پہلے سے بہت بہتر تعلقات ہیں بلکہ پاکستان کی عزت اور وقار بحال ہو چکی جو کہ پچھلے دو ادوار میں ایک مذاق بن چکی تھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے مل کے پاکستان کا جھنڈا پوری دنیا میں گاڑا اور مضبوط موقف کے ساتھ ہر اہم فورم پر بھرپور نماٸندگی کی
آپ کے سی این این کو دٸیے گۓ انٹرویو نے کچھ "ڈیپ پاکٹس” کو چھوڑ کے باقی ساری عوام کو بہت خوش کیا اور یہودی میڈیا کو ایکسپوز کرنے پر سب نے دل کھول کر تاٸید اور تعریف کی
پی ٹی آٸی کے بہت سے پرانے ارکان جو پارٹی چھوڑ چکے لیکن انہیں ابھی تک پی ٹی آٸی کے بانی رکن کہہ کے خان صاحب پہ تنقید کی جاتی ہے کہ خان صاحب نے پرانے ساتھیوں کے بجاۓ الیکٹیبلز کو فوقیت دی
میرے خیال میں جو خود کو بانی رکن کہتے ہیں لیکن خان صاحب کو چھوڑ چکے ہیں ان کی کوٸی حیثیت نہیں کیونکہ قریشی صاحب جیسے ساتھی بے شک بانی رکن نہیں لیکن لاثانی رکن ہیں
تبدیلی کے سفر میں خان صاحب کا ساتھ دینے والے ہی ہمارے لیڈر ہیں اور سر آنکھوں پر ہیں اور شاہ محمود قریشی صاحب اس فہرست میں سب سے اوپر دکھاٸی دیتے ہیں
ایک اور بات جو شاہ جی کو سب سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے ان کا شفاف اور بے داغ سیاسی کیرٸیر- شاہ جی پہ کبھی کوٸی کرپشن کا الزام نہیں لگا اور ان کے کردار کے سب ہمیشہ معترف رہے
شاہ محمود قریشی کی مدبرانہ گفتگو اور اس پہ گفتگو کا سٹاٸل سب کو بھاتا ہے
شاہ جی نے کبھی کسی کی ذات پہ گھٹیا ریمارکس نہیں دٸیے اور ہمیشہ اخلاق کے داٸرے میں رہ کہ اپنا موقف پیش کیامیں پی ٹی آٸی کے تمام سپورٹرز کی جانب سے شاہ محمود قریشی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں
@ch_danishh
-

تمباکو نوشی کی وجوہات ونقصانات تحریر سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ
تمباکو نوشی بظاہر ایک عام سا نشہ لگتا ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک صحت مند انسان کے جسم کو مختلف بیماریوں کا مسکن بنا دیتا ہے طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی پیھپڑوں کی مختلف عوارض دمہ سانس کی مختلف بیماریوں سمیت کینسر جیسے موذی مرض کی ایک بڑی وجہ بھی ہے تمباکو نوشی کے کٸی سماجی نقصانات بھی ہیں تمباکو نوشی کا عادی فرد خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن بلاوسطہ اس کے ساتھ موجود افراد بھی غیر ارادی طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں ان وجوہات کی بنا پرمختلف ممالک کی حکومتوں نے پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کے سدباب کے لیے قوانين وضع کٸے ہیں جنکی خلاف ورزی پر جرمانے و تادیبی سزاٸیں دی جاتی ہیں ہمارے ملک میں بھی اس بابت قوانين موجود ہیں جن کی پاسداری صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اشد ضروری ہےتاکہ تمباکو نوشی کے نتيجے میں غیر ارادی طور پر متاثر ہونےوالے غیر تمباکو نوش افراد کو تمباکو کے مضر اثرات اور نقصانات سے بچایا جاسکے اگر تمباکو نوشی کی بنیادی وجوہات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو عام طور پر تمباکو نوشی کی طرف راغب ہونے والے افرادتمباکو کے عادی افراد کی صحبت میں انکی دیکھا دیکھی مبتلا ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس لت کا مستقل شکار بنتے ہیں بعض نے ابتدا میں اسے بطور فیشن اپنایا اور آہستہ آہستہ تمباکو کے عادی ہوٸے بعض تمباکو نوش حضرات اپنی تھکاوٹ زہنی پریشانی اور سماجی محرومیوں کو جواز بنا کے بطور تریاق بھی اس جانب راغب ہونے کو جواز قرار دیتے ہیں اور یوں وہ تمباکو نوشی کے لت میں مستقل پڑگٸے اگر تھوڑی سی توجہ دی جاٸے تو تمباکو نوش حضرات اس لت سے نجات پاکر صحت مندانہ سرگرميوں اور ماحول کی طرف لوٹ سکتے ہیں نشہ درحقيقت عادت کی تکرار کا نام ہے اس تکرار سے نجات کے لیے مناسب رہنمائی سے باآسانی تمباکو نوشی سے چھٹکارا دلایا اور پایا جاسکتا ہے تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے بنیادی طور پر قوت ارادی ہی بنیادی تریاق اور ہتھیار ہے قوت ارادی کو بروۓ کار لاکر ہی اس سے بچا اور نجات پاٸی جاسکتی ہے اور مناسب کونسلنگ اور رہنمائی کے لیے طبی و نفسياتی ماہرین سے بھی رہنمائی اور علاج معالجے کی ضرورت ہے ہمارے ملک میں اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ہمارا ملک ترقی پذیر ملک ہے خطیر سرمایہ تمباکو نوشی پر صرف ہورہا ہے اس بابت مذہبی ، سماجی و فلاحی ادارے بھی توجہ دے کر آگاہی مہم کے زریعے اس کو کم کروانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تمباکو نوشی کو خاموش قاتل سے تشبیہ دی جاتی ہے ہمارے ملک میں خاص کر نوجوان طبقہ اور طلبا بڑی تیزی سے اس جانب راغب ہو رہے ہیں جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے تعلیمی اداروں میں اس بابت باقاعدہ نفسياتی ماہرین کے زریعے تربيتی کلاسیں منعقد کی جانی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لت سے دور رکھا جاسکے اور انکا رجحان دیگر مثبت سرگرميوں کی طرف راغب کیا جاسکے اس سے انکار صحت مند زندگی سے پیار کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔ Twitter Handle Srufaq@
-

خون عطیہ کریں، زندگیاں بچائیں تحریر: سیدہ بنت زینب
کیا آپ ایک منٹ کے لیے وقت نکال سکتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے سوچ سکتے ہیں کہ جب آپ اس صورتحال میں ہوں کہ آپ کو کسی ایسی چیز کا انتظار کرنا پڑے جو واقعی، واقعی آپ کے لئے اہم ہے؟ اس واحد چیز کا انتظار کرنا جو آپ کو اس دنیا میں زندہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہو. ایک لمحے کے لیے سوچیں آپ یا آپ کے پیارے ایمرجنسی روم میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ سرجری میں بہت خون بہہ رہا ہے اور آپکو فوراً خون کی ضرورت ہے لیکن خون کی فراہمی کافی نہیں ہے اور آپ کو خون کہیں سے نا مل رہا ہو….!
ایسی صورتحال سے گزرنا تو دور کی بات ہم ایسا سوچنا میں نہیں چاہیں گے لیکن یہ حقیقی زندگی میں ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے کچھ نے پہلے ہی اس صورتحال کا تجربہ کر لیا ہو.
بدقسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر لوگ خون عطیہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کافی اموات ہوتی ہیں مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا معصوم بچوں کو ہوتا ہے کیونکہ وہ بوقت خون کا عطیہ نا ملنے کی صورت میں اپنی زندگی کی بازی ہارتے جا رہے ہیں. شاید اس سب کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں لوگ اس مسلئے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے.
جب ہم اپنے ننھے بیٹوں اور بیٹیوں کے رخسار کا لمس محسوس کر رہے ہوتے ہیں تب نہ جانے تھیلیسیمیا سینٹرز میں کتنی بے درد سوئیاں بچوں کی کلائیوں میں پیوست کی جا رہی ہوتی ہیں. کتنے ننھے پھول بہار سے پہلے ہی خزاں کی نذر ہو جاتے ہیں.
اپنے بچپنے کو پیشِ نظر رکھ کے تصور کیجیے تھیلیسیمیا کا شکار ان لاکھوں بچوں کا کہ سانسوں کی ڈور سلامت رکھنے کے لیے جو ہر پندرہ دن بعد خون کے عطیات کی بھیک مانگتے ہیں.
خون کا یہ عطیہ انکی معصوم آنکھوں کے بجھتے ہوئے خوابوں کو تعبیر دیتا ہے. ان کو دیگر صحتمند ہم عمروں کے ساتھ قدم بقدم چلنے کی توانائی فراہم کرتا ہے.
ٹیم سرعام پاکستان سید اقرار الحسن کی سربراہی میں ان معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کے لیے تین سال سے اپنی جدوجہد (میرا خون بھی حاضر پاکستان) کا آغاز کیے ہوئے ہے. تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کےچہروں پر زندگی کی خوشیاں بانٹتے ہوئے الحمدللہ ٹیم سرعام پاکستان کے جانباز پورے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے میں مصروف ہیں. ایمرجنسی میں خون کا عطیہ دے کر قیمتی جان بچانی ہو یاں تھیلیسیمیا سے لڑتے ننھے پھولوں کو مرجھانے سے بچانا ہو، ٹیم سرعام کے جانباز ہر جگہ اپنے خون کا عطیہ کرنے کے لیے صف اول میں ملتے ہیں. مجھے بتاتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ٹیم سرعام نے پاکستان کے ہر بڑے شہر میں بلڈ کیمپس کا انعقاد کیا تھا کہ کہیں بھی خون کی کمی کی وجہ سے کوئی زندگی نا مرجھائے.
اقرار بھائی نے ہم جانبازوں میں یہ سوچ پیدا کی کہ "خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا خون کسی زندگی کا وسیلہ بن جائے. خون عطیہ کرنا وہ نیکی ہے، جس میں ہم کسی کی جان بچانے کے کام آتے ہیں.” ہماری ٹیم کا ہر جانباز انتہائی شوق اور جذبہ جنون کے ساتھ اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹا ہوا ہے.
خون کا کوئی نعم البدل نہیں. ہر خون کا عطیہ دینے والا تین معصوم زندگیاں بچاتا ہے. تو آئیں آج ہی یہ عہد کریں انشاء اللہ ہم سب خون کا عطیہ ضرور دیں گے. آپکے خون عطیہ کرنے سے کسی معصوم بچے کے چہرے پر جینے کی جو امید ملے گی، یقین کیجئے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی خوبصورت احساس نہیں ہو سکتا. یہ عہد کر لیں کہ
"خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے”@BinteZainab33
-

لبرل اور سیکولر اسلام دشمن ! تحریر: احسن ننکانوی
دنیا میں آپ کہیں بھی دیکھ لیں لبرل اور سیکولر ملحد آپ کو مختلف نظر آئیں گے۔
لیکن ان میں کچھ چیزیں قدرے مشترک بھی ہیں۔
آپ کہیں بھی دیکھ لیں یہ لوگ نہ تو عیسائیت کے خلاف ہوں گے نہ بدھ ازم کے اور نہ ہی یہودیوں کے نہ ہی ہندو ازم کے۔
لیکن جب اسلام کا نام آتا ہے تو ان لوگوں کو موت پڑ جاتی ہے۔
یہ دوسرے مذاہب کے تہواروں کو تو کچھ نہیں بولتا بلکہ ان کو پسند بھی کرتا ہے۔
لیکن اس کو جمعہ میں لوگوں کے اکٹھے ہونے سے اور عیدوں کے اجتماع سے اک انجانی تکلیف ہوتی ہے ۔
دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں روزانہ پوری دنیا میں کے-ایف-سی میکڈونلز اور بھی بہت سارے برینڈز جانوروں کا گوشت کرتے ہیں۔
لیکن جب مسلمان سنت ابراہیمی ادا کرتا ہے تو ان کو جانوروں پر ترس آنا شروع ہو جاتا ہے ۔
اگر دنیا میں کہیں بھی لوگ اپنے تہواروں ہولی دیوالی پر فضول خرچی کر رہے ہوں ان کو بھری نہیں لگتی لیکن حج پر جانے سے روکتا ہے۔
کہ اس سے اچھا کسی غریب کو دے دو ۔
یورپ میں لوگ سال میں لاکھوں ہزاروں کی تعداد میں اپنے پوپ کی زیارت کرنے کے لئے ویٹیکن سٹی کا رخ کرتے ہیں۔
ہندو لاکھوں کی تعداد میں اپنے سالانہ میلوں میں مختلف مندروں میں شرکت کے لئے پورے بھارت سے اجتماع میں آتے ہیں۔
اور وہ وہاں پر اکٹھے ہو کر اپنی رسومات ادا کرتے ہیں ۔
یہودی بدھ ازم سبھی مذاہب مختلف علاقوں سے اپنے سالانہ تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
مجال ہے کہ ان کے کان پر جوں تک رینگتی ہو ۔
لیکن جب مسلمان حج کے لئے جمع ہوتے ہیں۔تو ان ہی لبرلز کی چیخیں آسمان تک سنائی دیتی ہیں۔
جب چرچ کی راہبائیں برقعہ پہنتی ہیں یہودیوں کی عورتیں برقعہ پہنے ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی ۔
مسلمانوں کی عورتوں کے حجاب پر اس کو کوئی اندرونی دکھ ہوتا ہے ۔
اور میں نے بہت سارے ایسے لوگوں کی وال پر کافی دفعہ یہ بات بھی پڑھی کے مسجد میں پیسے دینے سے یا مسجد میں کوئی چیز دینے سے بہتر ہے۔
کہ کسی غریب کی بیٹی کو بیاہ دو تو میں ان کو کہنا چاہتا ہوں۔
الحمدللہ غریب کو بھی دیتے ہیں اور مسجد میں بھی دیتے ہیں۔تم لوگوں کو یہ دکھ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ ہے سیکولرازم اور الحاد کا اصل دکھ اور ان کا اصل چہرہ۔ ان کی کتابیں، ان کے رسالے، ان کی ویب سائٹس، ان کے فیس بک پیجز ان کے ٹوئٹر اٹھالیں آپ کو صرف اور صرف اسلام اور شعائر اسلام سے نفرت ملے گی.
آپ تازہ صورت حال ہی دیکھ لیں بہت سے لوگوں نے عید قرباں پر لوگوں کو بھٹکانے کی کوشش کی ۔
یہ پیسے کسی غریب کو دے دو
ایک نے تو یہ بھی پوسٹ کی ہوئی تھی کہ میں ان پیسوں سے اپنے محلے میں ٹھنڈے پانی کا کولر لگواؤں گا ۔
کیا ان کو اب ہی یاد آتا ہے کولر لگوانا سارا سال کدھر سوئے رہتے ہیں۔
اس کے علاوہ بہت ساروں نے تو یہاں تک مخالفت کی کہ جانور کی زندگی کا سوال ہے ۔
اور ان ہی حضرات کی وال میں پوسٹیں لگی ہوئی تھیں۔
کہ آج نہاری کھائی کسی نے کڑاہی کھائی تب ان لوگوں کو یاد نہیں آتا ہے کیا کی جانور مر رہے ہیں۔ یا ان کو سنت ابراہیمی پر ہی یاد آتا ہے ۔
ویسے ایک بات اور بھی بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے لے جا رہے تھے۔
تو شیطان نے اس وقت بھی روکا تھا ۔
کیونکہ یہ ملحد اور سیکیولر ز نہیں یہ منافق ہیں اور انتہائی گھٹیا دشمن ہیں اسلام کے -

ایمانداری کیا ھے ؟ تحریر .ڈاکٹر راہی
دنیا کا کوئی قبیلہ دنیا سے الگ نہیں
اس کائنات کی کی جڑ ایک ہے
مرکز ایک ہے
ساری کائنات ہمارا وطن ہے
اس دنیا میں پائی جانے والی ہر چیز (سارے وسائیل)تمام انسانوں کا مشرکہ ورثہ ہیں
کوئی بھی زبان مستقل نہیں
کوئی بھی نظریہ حتمی نہیں
کوئی بھی تہذیب حرف آخر نہیں
کوئی بھی گروہ عقل کل نہیں
کوئی بھی شے کامل نہیں
تاریخ گواہ ہے ہزاروں بولیاں ماضی کا قصہ ہوگئیں
ہزاروں رسمیں بدلیں
خیالات نظریات بدل گئے رہن سہن انداز تقاضے بدلتے گئے
سوچ کی سمت ہمیشہ روشنی کی طرف ہے
کوئی بھی سرحد مستقل نہیں رہی
اس دھرتی پر حکومتیں سرحدیں ہمیشہ بدلتی رہی ہیں
دریاوں کے رخ بدل رہے ہیں
کبھی گلیشیرزکے تیزی سے پگھلنے کا خوف ہے تو کبھی اوزون تہہ کے تباہ ہونے کی تشویش
سمندر کی لہروں بدلتے موسموں زلزلوں خانہ جنگیوں نے انسان کو کبھی ٹکنے ہی نہیں دیا
بدلتے ہوئےحالات کےساتھ ساتھ ہر مذہب کوبھی نئے تقاضوں کے مطابق تشریح کی ضرورت پیدا ہو رہی ہے
تو کیوں نا؟
مل بیٹھ کر آئندہ نسلوں کو تصادم سے بچانے کی کوئی سبیل تلاش کی جائے
ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ اک دوسرے کو سنا جائے
باہمی احترام کو فروغ دے کر
مکالمے کے ذریعے مسائیل کا حل نکالا جائے
نیکی کوئی بھی گناہ گار شخص کر سکتا ہے
برائی کسی مومن سے بھی ہو سکتی ہے
ہدائیت پر سب کا برابر کا حق ہے یہ نصیب والوں کو ملتی ہے
ہدائیت کسی یہودی کو بھی نصیب ہو سکتی ہے کوئی مسلمان گھرانے میں پیدا ہو کر بھی بھٹک سکتا ہے
ہم نے خوامخواہ کی نفرتوں کی دیواریں بنا رکھی ہیں
نفرت بڑھنے کی وجہ طبقات کا اک دوسرے کے خلاف سنی سنائی باتوں پر یقین کرلینا ہے
دنیا میں جتنی بددیانتی اہل قلم کر رہے شاید ہی کوئی دوسرا طبقہ اتنی بد دیانتی کرتا ہو
اہل قلم نے اپنے اپنے طبقے کی خوشنودی کی خاطر قلم کے ذریعے ہمیشہ تصویر کا وہی رخ دکھانے کی کوشش کی ہے جس سے وہ راضی ہو
میں فنکشنل مسلم لیگ سے ہوں مجھے اس پارٹی کے سوا دوسری پارٹیوں کے خلاف بولنے میں آسانی محسوس ہوگی میں سنی ہوں شیعہ فقہہ کی خرابیاں خوب بیان کر سکتا ہوں
میں ہندوستان میں ہندو ہوکر مسلمانوں کی نیت پر سوال اٹھاوں گا کہ یہ بھارت سے مخلص نہیں
اور پاکستان میں مسلمان ہو کر ہندووں کی نیت پر شک کروں گا
پنجاب میں پیدا ہوکر سرائیکیوں کے خلاف سرگوشیاں کروں گا سندھی ہوکر پنجابیوں کو برا بھلا کہوں گا
ہر علاقے کی فضا الگ ہے
ہم نے اپنے دماغوں میں بھی ہر طرح کی سوچوں کی لکیریں کھینچ رکھی ہیں
مفادات کی خاطر ہم حالات سے سمجھوتا کر لیتے ہیں
جہاں ذاتی مفاد کی بات ہوتی ہےسچائی کو چھوڑ دیتے ہیں
ساری انسانیت تنہاتنہا ہوکر مر رہی ہے
ہم پر جو آسمانی آفات آتی ہیں وہ سرحدیں نہیں دیکھتیں رنگ نسل نہیں دیکھتیں
اکثر دیکھا ہے کہ قدرتی آفات کے سامنے بڑی بڑی سپر پاورز بے بس دکھائی دیتی ہیں
انڈیا میں سیلاب آئےیاایران میں زلزلہ امریکہ میں طوفان آئے یا کہیں قحط سالی دنیا کا کوئی بھی ملک تن تنہا کچھ نہیں کر سکتا ترقی کے اس دور میں بھی ہم اپنے آفت زدہ علاقوں سے زندہ لوگوں کو بر وقت بچا نہیں سکتے
ہمارا جینا مرنا اک دوسرے سےوابسطہ ہے ہم اک دوسرے کی ضرورت اور سہارا ہیں مگر ہم اپنا قیمتی وقت خواہمخواہ کی لڑائیوں میں ضائع کر رہے ہیں
وسائیل کی برابر تقسیم اور اور اک دوسرے کےوجود کو تسلیم کئیے بغیر کوئی بھی مسلہ حل نہیں ہو سکتا
سارا پاکستان ہندووں سے پاک نہیں ہو سکتا
سارا بھارت ہندووں پر مشتمل نہیں ہوسکتا
یہودی فلسطین میں بھی جی رہے ہیں مسلمان اسرائیل میں بھی ہیں
دنیا کے امن کے لئیے لازم ہے کہ دوسرے طبقے کی برائی دیکھ کر اس کی اچھائیوں یانیکیوں اور خدمات کو نظر انداز نہ کیا جائے
سنی سنائی باتوں پر رائے قائم نہ کی جائے
مخالفت برائے مخالفت نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا
ہم سچ صرف محدودلوگوں کے متعلق لکھتے ہیں
کوشش کر کے کبھی اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کیا جائے
جس دن ہم نے ایمانداری سے چیزوں کو پرکھنا اور ان کے متعلق ایمانداری سے لکھنا اور سوچنا شروع کیا
وہ کوشش پر امن دنیا کی منزل طے کرنے کے لئیے کسی عبادت سے کم نہیں ۔
Doctor Rahii -

مضبوط رشتے تحریر: ڈاکٹر زونیرا
انسان کی زندگی میں خوشی کا دارو مدار زیادہ تر اس کے رشتوں کی کوالٹی پہ ہوتا ہے۔ آپ کتنے بھی کامیاب ہوجائیں، کتنے بڑے عہدے پر چلے جائیں، کتنی دولت کما لیں لیکن جب تک آپ کے رشتے مضبوطی سے قائم نہیں ہوں گے، اپ دیرپا خوشی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان سماجی حیوان ہے، اسے ہر حال میں لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انسان کے رشتے مضبوط ہوں اور وہ رشتوں کے ساتھ مخلص ہو تو وہ دولت کے بغیر بھی خوش نظر آئے گا۔
ابراہم ماسلو (Abraham Maslow) ایک سائیکالوجسٹ گزرے ہیں۔ ان کی تھیوری کے مطابق انسان کی بنیادی ضروریات کے بعد اس کی دوستی اور رشتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس کو انسان کی ضرورت کہا ہے۔
رشتوں کو سمجھنا اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے ڈیل کرنا بھی ایک فن ہوتا ہے۔ رسمی تعلیم میں یہ چیز نہیں سکھائی جاتی۔ اس لئے جس کو جتنا سمجھ میں آتا ہے ویسا ہی نظریہ بنا لیتا ہے اور اس کے مطابق چلنے لگتا ہے۔ رشتوں میں پائیداری اور مضبوطی لانے کے لئے بہت سی چیزیں ہیں لیکن یہاں کچھ چیزوں کا ذکر کرتے ہیں۔
سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ سب انسان ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سب کی ذہانت، پسند ناپسند، مقاصد، سوچ اور طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ جب آپ یہ چیز سمجھ لیں گے کہ ہر کوئی آپ سے مختلف ہے تو آپ اپنی پسند اور نا پسند کو سختی سے نافذ کرنے سے رک جائیں گے۔ آپ کو پتہ ہوگا کہ آپ کی پسند یا ناپسند اگلے بندے کی پسند یا ناپسند نہیں ۔ ایسا انسان اپنے ہر عمل سے پہلے سوچے گا کہ اگلے بندے کو بھی پسند ہے یا نہیں۔ وہ ہر جگہ اپنی مرضی مسلط کرنے سے باز رہے گا۔ مثلا بچوں کو کس اسکول میں پڑھانا ہے، عید کی شاپنگ کب کرنی ہے، گھر میں فرنیچر کونسا ہونا چاہیے، وغیرہ۔ ایک چھوٹی سی مثال لے لیں اگر کوئی شخص ہر دفعہ اپنی مرضی کا کھانا اپنی بیوی سے بنواتا ہے، تو اس کو اپنا پسندیدہ کھانا تو ملے گا لیکن یہ ممکن ہے کہ اس کے رشتوں میں وہ مضبوطی نہ آئے ۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص خود اپنی بیوی کی مرضی کا کھانا باہر سے لے آئے گا۔ اپنی پسند کو چھوڑ کے اس کی پسند کو سامنے رکھے گا۔ تو ممکن ہے کہ اس کی بیوی دوسرے دن اس کی پسند کا کھانا بنایے اور اس کے رشتوں میں بھی کافی مضبوطی آ جائے۔ عورت کو تو ویسے بھی پیار دیا جائے تو وہ دگنا کرکے لوٹاتی ہے۔ یہ صرف ایک کھانے کی مثال تھی۔ اسی طرح آپ اپنے دوستوں میں، بہن بھائیوں میں اور والدین سے ان کی پسند اور نا پسند کا خیال رکھیں گے تو اس سے رشتوں میں مضبوطی آئے گی۔ سائیکالوجی میں جب سے individual differences کا تصور آیا ہے۔ تب سے انسان کو پرکھنے کا نظریہ بھی بدلا ہے۔ انسانوں میں فرق مختلف پہلو میں ہوتا ہے۔ مثلا ان کی پرسنلٹی میں، ان کے سیکھنے کے انداز اور رفتار میں، جیسے کچھ لوگ پڑھ کے اچھے سے سمجھتے ہیں، کچھ لوگ سننے سے سمجھتے ہیں، کچھ لوگ دیکھنے سے سمجھتے ہیں، اور کچھ لوگ کام کرکے اچھے سے سمجھتے ہیں، اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور ان کو کنٹرول کرنے ( emotional intelligence )میں بھی لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں آپ کو پتہ ہوں گی تو آپ کو دوسروں کی رائے پے غصہ بھی نہیں آئے گا۔
دوسری اہم بات کہ اپنے رشتوں میں مخلص رہیں۔ ان کو کبھی دھوکا نہ دیں۔ آپ جیسے ہیں ویسے ہی ان سے برتاؤ کریں۔ اپنے رشتوں کو بچانے کے لیے نقاب کا سہارا نہ لیں۔ یہ ایک ایسا راز ہے جسے اکثر لوگ نہیں جانتے مگر اس سے رشتوں میں بے پناہ مضبوطی اتی ہے۔ اگر آپ اپنے اردگرد غور کریں تو جو لوگ آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، تو آپ ان کی باتوں اور ان کی حرکتوں سے اندازہ لگا لیتے ہیں۔ اور جو لوگ آپ کے ساتھ مخلص ہیں ان کا بھی آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ انسان کی باتوں کے علاوہ انسان کا رویہ اس کے چہرے کے تاثرات (facial expressions)، اس کا باڈی لینگویج بھی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ کمیونیکیشن کی فیلڈ میں بتایا جاتا ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ ہم اپنے لہجے اور باڈی لینگویج سے رابطہ کرتے ہیں۔ اگر آپ اندر سے سچے ہوں گے تو آپ کا باڈی لینگویج بھی ویسا ہی اظہار کرے گا۔ آپ کی آنکھوں سے سچائی جھلک رہی ہوگی، آپ کی مسکراہٹ میں بھی معصومیت اور خوبصورتی ہوگی، آپ کی باتوں سے پھول جھڑیں گے، لیکن شرط یہ ہے کہ آپ اندر سے ایک دفعہ مخلص ہوں۔ یہ خوبی ہر رشتے کے لئے لازمی ہے چاہے وہ میاں بیوی کا رشتہ ہو، چاہے وہ استاد شاگرد کا ہو، چاہے ڈاکٹر مریض کا ہو، چاہے گاہک اور دکاندار کا ہو۔ جب آپ اندر سے مخلص ہوتے ہیں تو لوگ آپ کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ آپ نے کبھی نوٹ کیا ہوگا کہ کچھ دکانداروں سے آپ کو کشش ہو جاتی ہے، کئی دفعہ تو 2 یا 3 گلیاں چھوڑ کے آپ اسی دوکان دار کے پاس جاتے ہیں، جبکہ اس دکاندار سے نزدیک بھی کئی دکانیں ہوتی ہیں، اور ایک ہی ریٹ پر وہ سیل کرتے ہیں لیکن پھر بھی آپ اسی دکاندار کے پاس جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے آپ کا دل جیت لیا ہوتا ہے۔ کسی بھی رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے دل جیتنا ضروری ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جو رشتے ہمارے پاس ہوتے ہیں ہمیں ان سے ڈیل کرنے کا ہنر نہیں آتا۔ ہم ان کو کھو دیتے ہیں اور پھر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے باہر کی طرف بھاگتے ہیں۔ اور غیروں میں رشتوں کو تلاش کرتے ہیں۔ یہاں سے نئے مسائل کا آغاز ہوتا ہے۔
اگر آپ کی زندگی میں بھی خوشی ختم ہوگی ہے تو غور کیجئے کہ آپ کے رشتے کتنے مضبوط ہیں۔ زیادہ امکان یہی ہوگا کہ خوشی ختم ہو جانے کی وجہ رشتوں کی کمزوری ہے۔ ایسے میں ایک ایکٹیوٹی کیجیے۔ اپنی رشتوں کی پسند اور ناپسند کا انتخاب کیجیے۔ جو جو ان کو پسند ہے وہ کام کیجئے ان کے لیے وہ چیزیں خرید کر دیجئے۔ یقین کریں اس سے جو خوشی اور جو سکون آپ کو ملے گا وہ اپنی پسند کی چیزیں خریدنے سے نہیں ہوگا۔ اور سب سے بڑی بات کہ رشتے بھی مضبوط ہونے لگیں گے۔ ہر کام کو کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ پہلے ایک فہرست بنائیں جس میں لکھیں کہ کن کن رشتوں کو اپ نے مضبوط کرنا ہے۔ پھر ہر رشتے کے آگے اس کی پسند نا پسند لکھئے۔ اور پھر ان کو پورا کرنا شروع کیجئے۔ شاید آپ کی لسٹ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جن پر آپ کا کوئی اثر نہ ہوتا ہو۔ ایسے لوگوں پر آپ لاکھ کوشش کر لیں وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان کو اثر ہو نہ ہو لیکن آپ کے اندر ایک سکون کی کیفیت آئے گی۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا
” جو پتھر پہ پانی پڑے متصل
تو بے شبہ گھس جائے گی پتھر کی سل”
"یعنی ایک پتھر پے اگر پانی لگاتار پڑتا رہے گا تو وہ پتھر کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔”
آپ بھی کوشش جاری رکھیں، امید کا دامن نہ چھوڑئیے، ایک امید ہی تو ہوتی ہے جو زندگی میں زندگی بھر دیتی ہے، ورنہ مایوسی تو کفر کے زمرے میں آ جاتی ہے، ایک امید ہی ہے جو آپ کو صبح صبح تازگی کے ساتھ دن کا آغاز کرواتی ہے۔ مجھے بھی امید ہے کہ اپ اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے مخلص ہو کے رشتوں کی پسند کا خیال رکھیں گے، اس کے بعد بھی کچھ ٹیکنیکس بتاتا رہوں گا لیکن اس ایک ایکٹیوٹی پر عمل کریں، اس سے ہی آپ کے رشتوں میں کافی بدلاؤ نظر آئے گا .