Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • حوا کی بیٹیاں اور جنسی درندگی . تحریر : حسیب احمد

    حوا کی بیٹیاں اور جنسی درندگی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان میں آئے روز حوا کی بیٹیوں کو جنسی استحصال کا شکار بناتے ہیں۔ چند روز نہیں بلکہ سالوں سے یہ ہوتا ہوا آرہا ہے۔ ہمیشہ بیٹیوں بہنوں کی عزتیں نیلام کی جاتی ہیں، پاکستان وہ ملک ہے بدقسمتی سے جہاں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہوتی چاہے وہ چھوٹی زینب ہو یا نوجوان نور مقادم ہو۔ پاکستان میں جنسی زیادتی کے ملزمان کو عدالت سے رہائی دے دی جاتی ہے چند ہزاروں کے مچلکوں پر اور پھر وہی چیز بار بار دوہرائی جاتی ہے اور ہر بار نشانہ ہماری بیٹیاں بنتی ہیں۔ کاش پاکستان میں ایسا قانون آجائے جس سے جو بھی ہماری بیٹیوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالے گا تو اس کو تختہ دار پر جھولا دیا جائے۔ اور پھر دیکھیں کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ انکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔
    ہمیں خود اپنی بیٹیوں کی عزتوں کا محافظ بننا ہے اور جو کوئی ہاتھ ڈالے ہماری ماؤں بہنوں پر اس کا چہرہ نوچ دینا چاہیے۔

    ہر بار سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنتے ہیں چند روز کے لئے لیکن پھر سب خاموش ہوجاتے ہیں نئے واقعات کا انتظار کرتے ہیں اور پھر وہ واقعات جنم لیتے اور پھر ہم وہی بار بار ٹرینڈ بناتے ہیں اور پھر سب خاموش ہوجاتے ہیں اس میں کہیں نا کہیں ہماری ہی غلطیاں ہیں جو ظالم کو ڈھیل دیتے ہیں لیکن اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں وہ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ گناہ کرتا جائے اور وہ دنیا و آخرت میں رسوائی اس کا مقدر بنے۔ اللہ جب رسی کو کھینچ لیتا ہے اور ویسے بھی یہ دنیا مکافات عمل ہے جیسا گھڑا وہ کھودتا ہے ویسا وہ پاتا ہے۔ حوا کی بیٹیوں کی عزت کریں کیوں کہ آپ کی ماں بہن، بیوی سب بھی حوا کی بیٹیاں ہیں اور جب ایسا آپ سوچیں بھی تو آپ کے اگئے اپنی ماں بہن اور بیٹی اجائے۔

    ایسے گناہوں سے ہماری آنے والی نسلوں کو کیا سبق ملے گا اور ایسے غلطیاں جو بھی کرتا ہے وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے پریشانی اور رسوائی کا باحث بنتا ہے۔ بہنیں ماؤں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ رکھیں اور ان کی حفاظت کیا کریں اس سے اللہ خوش ہوتا ہے اور آپ کی آخرت کی منزلیں آسان فرماتا ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور ایسے واقعات کی روک تھام میں ہمارا وسیلہ بنے اور اللہ پاک ہماری دنیا میں رہنے والی ہر بہن بیٹی کی حفاظت فرمائے اور ان کی عزتیں محفوظ رکھے کیوں کہ بیٹیاں خدا کی رحمت ہوتی ہیں اور جب اللہ پاک خوش ہوتا ہے تو بیٹیوں سے نوازتا ہے ہمیں۔ اور اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں سے دعا لیا کریں کیوں ان کی دعا اللہ پاک بھی سنتا ہے اور فوراً قبول فرماتا ہے اور جب اس ہی ماں بہن کے ساتھ کوئی برا کرتا ہے تو ان کی بددعا فرش سے ارش تک جاتی اور خدا فوری طور پر ان کی بددعا قبول کرتا ہے اس شخص تباہ و برباد کردیتی ہے۔

    عزتوں کے محافظ بننا سیکھیں ناکہ کسی بیٹی کی بددعا لے کر برباد ہونا۔ ہمت بنیں ان کی اور ان کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا اور مجرموں کو پھانسی کے تختے تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    اللہ پاک سب کو ہمت دے اور ان کی حفاظت فرمائے بیٹیاں کسی سے کم نہیں ہوتی بیٹی کچھ بھی کرسکتی ہے کوئی چیز مشکل نہیں مثال لیں قوم کی بیٹی وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوسکتی ہے یا پاک فوج میں اعلی عہدہ پر بھی فائز رہ سکتی ہے۔
    برابری دینا سیکھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ بہادر بن سکیں اور کبھی ان کے ساتھ غلط ہو تو وہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
    فخر ہے ہمیں ہماری بیٹیوں پر اللہ ان کے نصیب اچھے کرے اور ان کا حامی و ناصر رہے اور ہماری بیٹی ہمارے لیے اور قوم کے لئے فخر کا باعث بنے۔

    @JaanbazHaseeb

  • کیا دین اور سیاست جدا جدا ہیں؟ . تحریر : مزمل رتھ

    کیا دین اور سیاست جدا جدا ہیں؟ . تحریر : مزمل رتھ

    موجود دور میں اگر دیکھا جائے تو عموماً دین اور سیاست کو جدا سمجھا جاتا ہے اور یہ تاثر بہت حد تک سرائیت کرچکا ہے کہ مذہب کو ملکی و سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے ۔ یہ نظریہ سب سے پہلے مغرب میں پیدا ہوا اور اس کے بعد ہماری جمہوری پارٹیوں نے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں متعارف کروایا حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دین کا سیاست کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ لیکن موجودہ جمہوری اشرافیہ نے دین کو سیاست سے جدا کرکے پیش کیا تاکہ اسلامی نظریات کے حامل لوگوں کو اقتدار سے دور رکھ سکیں اور اس کے مقابل استعمار اسلامی ممالک پر اپنا قبضہ جما سکے اور ان پر حکومت کر سکیں۔

    سیاست دین کا حصہ ہے اور سیاست دین کے تناظر میں معاشرے کی ضرورت بنتی ہے۔ اگر دین کو سیاست سے جدا کردیا جائے تو اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے جو سوکھ کر اپنی رونق و تازگی کھو چکا ہوتا ہے۔ استعمار کئی سالوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس کے مفادات کے حصول میں بڑی رکاوٹ اسلامی آئین و قوانین ہیں.
    انکی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ دین اور سیاست کو الگ الگ رکھیں اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں اگر دیکھا جائے تو وہ عوام کے ذہن میں یہ بات ڈالنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں کہ دین اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی اسلامی نظریات رکھنے والے جماعت ملک میں اسلامی نظام کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اس کو یہ طعنے دیا جاتا ہے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جنونی ہیں اور دین کو سیاست اور مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہیں شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا اسلام میں یہ تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی تعلیمات کو ایک طبقہ سنبھالے گا (ہہاں مراد علماء کرام) جبکہ دیگر سیاسی نظام و نظام حکومت دوسرا طبقہ جیسا کہ آج کل کے جمہوری سیاستدان ۔اس لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد خلفائے راشدین مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور دینی رہنماء بھی ۔ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت و رہنمائی ملی ، مسلمان قوت و سربلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے ۔ اس کے برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قوت قوم پرستون نے تو مسلمان آپسی جنگوں کا شکار ہوکر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے ۔

    موجودہ دور میں جہاں نا صرف دین کو سیاست سے دور کردیا گیا بلکہ اسلامی سوچ کے حامل لوگوں کے نظریات بدلنے کیلئے بہت سے اسلامی ماڈل بھی تشکیل کردیے گئے جیسے روشن خیال اسلام ، رجعت پسند اسلام اور نہ جانے اسلام نے کون کون سے ماڈل ۔ حالانکہ اسلام ایک ہی ہے اور یہ وہ اسلام ہے جو قرآن وسنت میں پایا جاتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام نے اپنے عملی نمونوں سے ہیش کیا ۔ آج کے دور میں معاشرتی برائیوں کے خلاف مزاحمت کرنا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا کسی بھی شخص کا حق سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام اس کو حق ہی نہیں واجب قرار دیتا ہے ۔
    اسی تناظر میں سیاست اور سیاسی معاملات کو کسی بھی طرح سے دین سے جدا کرنے کا مطلب اس کی اصل روح کو نکالنا ہے ۔ علامہ اقبال نے اس کو یوں بیان کیا
    َجدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    MuzRizvi19

  • "صحافت اور پاکستانیت تحریر:ملک شوکت محمود

    "صحافت اور پاکستانیت تحریر:ملک شوکت محمود

    آج کے دور میں صحافت کی اہمیت وضرورت نے ہمارے انداز فکراور جذباتی ردعمل کو بےحد متاثر کیا ہے۔کیونکہ دور حاضر کی صحافت ایک ایسا تعمیری اور تخریبی ہتھیار ہے جس سے دونوں کام بآسانی کئیے جاسکتے ہیں،گویا یہ دو دھاری تلوار ہے اسلئیے اسے بڑے احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے،ذرا سی لاپرواہی اور بے احتیاطی سے عوام الناس پربہت مضر اثرات اور خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے صحافت کی بڑی نازک اور اہم ذمہ داریاں ہیں۔
    اسکے اچھے برے اثرات نہ صرف اندرون ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر آج کے برق رفتار وسائل اور ذرائع مواصلات وابلاغ عامہ کی وجہ سے چند لمحات میں یہ اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔پوری عالمی برادری اور ساری عالمی سیاست اس سے متأثر ہو سکتی ہے،اسلئیے ایک صحافی اور کالم نگار،اداریہ نگار اصلاح احوال اور تعمیر و ترقی کے علاوہ امن قائم کرنے کا کردار ادا کرے تو یہ اخبارات، میڈیا ہاؤسز اپنی سوسائٹی اور ملک و قوم کی بے مثال خدمت سرانجام دے سکتے ہیں۔
    صحافت معاشرے کے ناسوروں کا آپریشن کر کے اصلاح و ترقی فلاح وبہبود کا کام کافی مؤثر طریقے سے کر سکتی ہے،علمی ادبی اور تاریخی ،معاشرتی،معاشی اور سائنسی معلومات بہم پہنچا کر لوگوں کو ذہنی طور پر باخبر اور با اخلاق بنا سکتی ہے۔عوام الناس کو با شعور اور تعلیم دینے کا یہ بھی ایک منفرد اور مؤثر انداز ہے۔
    صحافت کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اسکے اثر و نفوذ کی تیزی کی وجہ سے پریس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ملک کی فلاح و بہبود اور ملت کی عزت و آبرو کے تحفظ کیلئیے ہی اس دو دھاری تلوار کو استعمال کرنا چاہئیے۔صحافت عریانی،فحاشی اور بلیک میلنگ سے پاک و صاف ہونی چاہئیے۔جیسے تحریک پاکستان میں مسلم صحافت نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور تحریک پاکستان کی وکالت کرنے میں بڑی مدد دی ہے۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی صحافت میں آج بھی حق گوئی اور بے باکی اور کلمہ حق کو ادا کرنے کا اثر و نفوذ موجود ہے،تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس ذمہ دارانہ اور ایک قومی تعمیر خدمت کو بدنام کرنے میں ایک گھناؤنا کردار ادا کر کے صحافت جیسے پیشے کو پیسے کی خاطر رسوا کر رہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے اغراض و مقاصد اور ادنی ادنی سے ذاتی مفادات کیلئیے اس پیشے کے چہرہ پر بدنما داغ ہیں۔
    صحافت کا کردار کیمرے کا نہیں ہے کہ جو کچھ دیکھا من و عن بیان کردیا،صحافت تو قیادت کی شریک ہے،اس نے قوم کی رہنمائی کرنی ہے نہ کہ بھیڑ چال کے پیچھے لگنا ہے۔
    صحافی کو حالات و واقعات کا تجزیہ کر کےاظہار خیال کرنا چاہئیے،بے بنیاد اور بے سروپا اور من گھڑت خبریں گھڑ کر عوام الناس کو گمراہ کرکے خوف وہراس نہیں پھیلانا چاہئیے،محض اپنی اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئیے سنسنی خیزی پھیلانا یہ صحافت کا کام نہیں۔
    @OPF_99

  • بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے  تحریر: ذیشان علی

    بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے تحریر: ذیشان علی

    گردش ایام یا اشاعت اعمال نے آج مسلمانوں کو ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کونسی آنکھ ہوگی جو ہمارے زبوں حالی اور ذلت و رسوائی پر آنسو نہ بہاتی ہو،
    کبھی وہ دور بھی تھا کہ ایک مسلمان عورت کے سر کے بالوں پر کسی غیر محرم کی نظر بھی نہ پڑھ سکتی تھی،
    لیکن آج ان رسم و روایات کو صرف سنا اور سنایا جاتا ہے،
    ماڈرنزم اور فیشن کے نام پر خود کو برہنہ کرنے کا جو ٹرینڈ ہمارے ہاں چل پڑا ہے ڈرامہ انڈسٹری بڑی تیزی کے ساتھ اس پر کام کر رہی ہے، اور عین ممکن ہے کہ حالات سب کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں، اور وہ تہذیب و ثقافت ہمارے سامنے ہو جو نا تو قبول کی جا سکے اور نا دیکھی جا سکے،
    مگر یہ سب کہنا کہ ایسا ہوگا،!!؟ ایسا تو پہلے سے ہو رہا ہے کوشش کرنی ہے کہ ایسا مزید ہونے سے روکا جائے،
    لہذا اپنی روایات کو نظر انداز نہ کریں اس کا ضرور خیال رکھنا ہو گا وہ قومیں جو دوسروں کی اقدار و روایات کو اپناتی ہیں اپنا آپ کھو دیتی ہیں اپنی پہچان اپنی ثقافت نہ رہی تو بھلا وہ قوم کیا کہلائے گی؟
    عورت کی زینت اور عزت اس میں ہے کہ وہ چھپا کر رکھی جائے کیا ہم سبھی ایسا سوچتے ہیں؟
    ہمیں ایسا سوچنا ہوگا کیونکہ یہ ہماری روایت ہے اور ہماری مذہبی تعلیمات بھں،
    جب تک مسلمان اسلامی آداب و اطوار سے سختی کے ساتھ بندھے ہوئے رہتے تھے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل پیرا تھے اسلامی قوانین کے آگے اپنی گردن کو جھکائے ہوئے تھے تو کامیابی اور فتح ان کا مقدر ہوا کرتی تھی اور جب سے مسلمانوں نے اپنے طریقے اسلامی کو ترک کر دیا اپنے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت کو چھوڑ کر یہودونصاریٰ اور دیگر اقوام کی تہذیب کو اپنانا شروع ہو گئے تو دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے، شروعات ہو چکی ہے اور کافی وقت گزر گیا اور بہت کچھ بدل گیا اور بہت کچھ بدلنا والا ہے،
    لیکن ہمیں اپنی تہذیب اور ثقافت کو فروغ دینا اور وہ چیزیں وہ فیشن کرنے سے بریز کرنا چاہیے جو ہمارے معاشرے اور جس سے ہماری تہذیب کو نقصان پہنچ رہا ہے،

    کیونکہ بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے،

    یہ کہنا کہ یہ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بالکل غلط ہے ایسی باتیں اس لئے کی جاتی ہیں اور وہ بھی بس یورپ کی تہذیب اور ثقافت اور ان کے رہن سہن سے متاثرہ لوگ ہی کرتے ہیں،
    ترقی اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات کو مضبوطی سے پکڑ کر بھی کی جا سکتی ہے
    جب مسلمان تمام عالم میں عزت و برتری کے واحد مالک تھے وہ ترقیات کی تمام منازل میں بڑی بڑی قوموں سے آگے تھے تو اس وقت اپنی اسلامی اقدار اور روایات تہذیب کو مضبوطی کے ساتھ اپنائے ہوئے تھے،
    مسلم خواتین تعلیم یافتہ تھیں واعظ و تقریر کہا کرتی تھی تلقین و ہدایت کے بھی فرائض انجام دیتی تھیں اور یہ سب امور پسے پردہ انجام پاتے تھے،
    یہ معیار اور پیمانہ ہرگز نہیں ہو سکتا جو آج ہم نے اپنے ذہن میں بٹھا لیا ہے کہ دوسری اقوام کی طرح آج بھی ہم ترقی کر سکتے ہیں اگر ہم ان کی ثقافت، تہذیب اور روایات کو اپنا لیں،
    یہ سب ہم اقوام مغرب پہ فریفتہ ہو کر کہتے ہیں، حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، ہمارے اصول و قوانین اسلامی اقدار ضابطہ اخلاق ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہرگز نہیں ہو سکتے،
    لہذا کوشش کیجئے اپنی روایات کو زندہ کریں اور اپنی تہذیب کے ساتھ مضبوطی سے جڑ کر ترقی کی طرف قدم بڑھائیں،
    برعکس اس کے کہ ہم ترقی کرنے کی غرض سے اپنی روایات کو مسلسل روندتے چلے جائیں اور پھر ہمارے اس سفر کے اختتام پر جسے ہم ترقی سمجھ رہے ہوں گے اور اپنی منزل پانا،
    درحقیقت ہم نا تو اپنی منزل پا سکیں گے اور شاید سفر کے بجائے ہمارا اختتام ہو جائے،
    اور پھر ہمیں دیکھ کر یا سوچ کر یا پڑھ کر کوئی یہ نہ کہے کہ،
    ”تم تو نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے”

    @zsh_ali

  • موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔  تحریر:صفدر حسین

    موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔ تحریر:صفدر حسین

    پچھلی کچھ دہائیوں سے زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آب و ہوا میں قدرتی اتار چڑھاؤ تو معمول کا حصہ ہے لیکن سائنسدان یہ کہہ رہے ہیں کہ آج کل درجہ حرارت پہلے کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
    گلیشیروں کا پگھلنا انتہائی ہیٹ ویو اور طوفان آرہے ہیں ، دنیا کے کچھ علاقے خشک سالی کا شکار ہیں۔ یہ آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے میں ہورہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافے ہو رہا ہے اور یہ اضافہ گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے ، جو زمین کی آب و ہوا میں بہت سی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔
    گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے گلوبل وارمنگ ہوتی ہے ، CO2اور گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے زمین کے ماحول میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ۔
    سورج سے آنے والی ریڈیشن گرین ہاؤس گیسوں کے ذریعے جذب اور دوبارہ خارج ہوجاتی ہیں اس کے لئے اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو ماضی میں اور کم تھا لیکن اب اس درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
    گلوبل وارمنگ کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں جنگلات کی کٹائی ، ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں سے فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلا ہوا دھواں اور جنریٹر ایئر کنڈیشنر اور ریفریجریٹرز جیسے بجلی کے آلات سے خارج ہونے والی حرارت بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب ہیں۔
    آئی پی سی سی کی رپورٹوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ "انسانوں اور انسانی سرگرمیوں سے پہلے کے دن سے لے کر اب تک دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور اس صدی کے دوسرے نصف حصے میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے ” سائنس دانوں کا خیال ہے کہ عالمی درجہ حرارت آنے والے عشروں تک بڑھتا رہے گا ، جس کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔
    انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) ، جس میں امریکہ اور دیگر ممالک کے 1،300 سے زیادہ سائنس دان شامل ہیں ، اگلی صدی کے دوران درجہ حرارت میں 3.5 سے 8 ڈگری اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
    ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرکے آب و ہوا کی تبدیلی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جس کے لیئے ہمیں روایتی توانائی کے حصول کو ترک کر کے متبادل ذریعےسے توانائی کو حاصل کرنا ہوگا اور جتنا ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے اس دنیا کو بچایا
    اور آنے والی نسلوں کو ایک اچھا مستقبل فراہم کیا جا سکے ۔

    ‎@itx_safder

  • میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟ . تحریر : فرزانہ شریف

    میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟ . تحریر : فرزانہ شریف

    میرا تعلق ایک پڑھے لکھے مذہبی گھرانے سے ہے بچپن سے ہی ہمارے گھر میں اخبار آرہا تھا اور جیسے ہی جوڑ توڑ کرکے اوردو پڑھنی آئی اخبار بہت شوق سے پڑھنی شروع کی پھر جب اردو ٹھیک سے پڑھنی اگی تو بچوں کا کوئی رسالہ ایسا نہیں جو میں نے پڑھا نہ ہو عمروعیار سے لیکر ٹارزن تک نونہال سے لیکر ننھی کلیاں تک ہر رسالہ پڑھا پھر تھوڑی بڑی ہوئی 6th میں تو عنبر ناگ ماریا ایک ناول ہوتا تھا قسط وار اور اس کی کئی سو قسطیں میں نے پڑھ لی تھیں پھر ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ سٹڈی کے ساتھ ساتھ میرا فیورٹ مشغلہ بچوں کے ناول پڑھنا تھا پھر عمران سیریز بھی بہت پڑھا میری دونوں باجیاں شعاع خواتین ڈائجسٹ پڑھتی تھیں ان سے چوری چھپے ان کے ڈائجسٹ بھی پڑھنے شروع کردیے تھے سمجھ اتنی نہیں آتی تھی پھر بھی اچھا لگتا تھا پڑھنا ۔ پھر باجیاں دونوں مدرسے چلی گئیں پڑھنے کیلئے یوں ڈائجسٹ پڑھنے کا سلسلہ وقتی طور پرختم ہوگیا اخبار آنا بھی بند ہوگیا کیونکہ گھرمیں میں اور میرے بڑے بھائی تھے بھائی جان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنی پریکٹس کے علاوہ کچھ کرسکیں ۔یوں ہمارے گھر اخبار آنا بند ہوگیا اخبار جہاں بھی آتا تھا وہ بھی بند ہوگیا والد صاحب بیرون ملک تھے ۔لیکن پھر میرا پڑھنے کا سلسلہ رک نہیں سکا تھا سکول کے راستے پر ایک پولٹری فارم تھا وہاں ایک بزرگ نما انکل وہ باقاعدگی سے اخبار لیتے تھے ان سے بولا کہ اخبار کے ساتھ جو بچوں کا ہفتہ وار میگزین آتا ہے وہ مجھے دے دیا کریں وہ انکل اتنے اچھے تھے سکول واپسی پر میرے لیے سنبھالا ہوا وہ میگزین مجھے دے دیتے تھے یوں یہ سلسلہ چلتا رہا پھر میں نے بچوں کے اخبار میں لکھنا شروع کیا بہت پذیرائی ملنے لگی ہر دوسرے ہفتے میری کہانی چھپی ہوتی تھی بھائی جان کو جب پتہ چلا میری کہانیاں بچوں کے میگزین میں چھپنی شروع ہوگی ہیں تو بہت خوش ہوئے آدھے صفحے کی کہانی ہوتی تھی لیکن فیلنگز ایسی ہوتی تھیں جیسے بہت بڑا معرکہ مار لیا ہو بھائی جان نے مشورہ دیا کہ اپنی کہانیاں کاٹ کر ایک رجسٹر پر چسپاں کرتی جاو ۔میں نے ایسا ہی کیا جب خوش ہونا ہوتا تھا وہ رجسٹر نکال کر اپنی لکھی کہانیاں پڑھتی رہتی تھی ۔ایسا معصوم بچپن تھا.

    پھر جب اور بڑی ہوئی اپنی پاکٹ منی سے پیسے بچا کر ڈائجسٹ اور ہسٹری کی بکس لے کر پڑھنی شروع کی امی جی سے چوری چھپے امی جی تعلیمی نصاب کے علاوہ ڈائجسٹ پڑھنے کے سخت خلاف تھیں ان کا خواب تھا کہ ان کی سب اولاد اعلی تعلیم یافتہ ہو۔یوں سٹڈی کے ساتھ چوری چھپے اتنی بکس پڑھیں کہ نام گنوانے شروع کروں تو ختم نہ ہوں پھر پاکستان سے بیرون ملک اگی اپنی فیملی کے ساتھ اور یہاں آکر اتنی بیزی ۔گھر کی الماری بکس سے بھری لیکن پڑھنے کا وقت ہی نہیں اب بس بچپن میں لکھنے والا جنون واپس آچکا ہے یوں آجکل آپ میرے آرٹیکل پڑھ رہے ہیں اور جو میری حوصلہ افزائی کررہے ہیں خاص طور پر باغی ٹی وی جس نے مجھے لکھنے کا موقع دیا میری کزنز میرے بہین بھائی اور آپ سب اللہ سبحانہ وتعالئ ” سب کو صحت و تندرستی عطا فرمائے، اور جو بیمار ہیں انکو شِفا کاملہ نصیب فرمائیں آمین اللھم آمین ‘
    "اللہ تبارک و تعالئ آپ سب کی جائز حاجات اپنی رحمت کے صدقے اپنی آعلئ صفات کے صدقے
    .اپنے "حبیب حضرت محمد مصطفئ صلی اللہ علیہ والہ وسلم” کے طفیل قبول و مقبول فرمائیں آمین اللھم آمین

    @Farzana99587398

  • چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے استعمال کے نقصانات میں کینسر، موٹاپا، شوگر، سردرد، توانائی یک دم ختم ھونا اور ھارمون کا عدم توازن سرفہرست ھیں۔ جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں شوگر اور موٹاپے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ چینی کے عادی افراد کو جب تک میٹھی چیز نہ ملے وہ ڈر اور ذہنی تناﺅ محسوس کرتے ھیں۔

    مٹھاس کی یومیہ ضرورت۔

    مردوں کے لیے ساڑھے 37 گرام اور عورتوں کے لیئے صرف 25 گرام ھے۔ جو دن بھر کی خوراک سے ھی پوری ھو جاتی ھے۔ جبکہ اوسطاً ہر پاکستانی روزانہ 62 گرام چینی اپنے جسم کا حصہ بناتا ہے ۔

    کولیسٹرول کا باعث۔

    تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں دوسری بیماریوں کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔اور چینی انسانی جسم میں خطرناک چربی کو بھی بڑھاتی ھے۔

    انسولین میں اضافہ

    ایک تحقیق کے دوران ٹائپ تھری ذیابیطس کی اصطلاح استعمال کی گئی،جو انسولین کی مزاحمت اور زیادہ چربی والی غذاؤں سے ھوتی ھے اسے دماغی ذیابیطس بھی کہا جاسکتا ہے۔
    چینی کے زیادہ استعمال سے دوران خون میں انسولین بڑھ جاتی ہے، اور اس کا اثر جسم کے خون کی گردش کے نظام اور شریانوں پر بھی پڑتا ہے، انسولین کی زیادہ مقدار سے شریانوں میں مسلز سیلز کی گردش معمول سے زیادہ تیز ہو جاتی ہے، جس سے ہائی بلڈپریشر اور اس کے بعد فالج یا دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

    چینی سے بھوک میں اضافہ :

    چینی انسان کے اندر بھوک کا احساس بڑھا دیتی ہے، زیادہ چینی کھانے سے دماغ میں جو پیٹ بھرنے کے احساس کی صلاحیت ہوتی ہے وہ بری طرح متاثر ھوتی ھے جس کی وجہ سے انسان کو ہر وقت بھوک کا احساس ہوتا رہتا ہے چاہے اس نے جتنا بھی زیادہ کھانا کھایا ہو۔ اس سے انسان بار بار کھانا کھاتا ھے اور موٹاپے کے ساتھ نظام ہضم بھی خراب ھوجاتا ھے۔

     

    چینی سے بڑھاپا:

    زیادہ چینی کھانے سے انسان کے دوران خون میں ایسے خطرناک مالیکیول پیدا کرنے کی وجہ بنتی ہے جو آپ کی جلد کو بہت زیادہ خشک اور ڈھیلی کردیتے ہیں، اور آپ کی جلد پر جھریاں پڑجاتی ہے ۔

    چینی والی اشیاء:

    سفید چینی کھانے پینے کی عام اشیاء جیسے سافٹ ڈرنکس، مٹھائیاں، آئس کریمز،جوسز، ملک شیکس، کیک، اور بیکری کی تمام مصنوعات، چائے، کافی، جام، جیلی،ٹافیوں، چاکلیٹس، مشروبات،اور تمام اقسام کے میٹھے پکوان میں کثرت سے موجود ہوتی ہے۔

    چینی کا متبادل:

    چینی کے متبادل کے طور پر کئی اشیاء استعمال کی جا سکتی ہیں جیسے:
    گنّے کا رس: اگرچہ سفید چینی بھی گنّے ہی کے رس سے تیار کی جاتی ہے، لیکن اس کی تیاری کے دوران تمام غذائی اجزا ضایع ہو جاتے ہیں، جب کہ گنّے کا رس نہ صرف وٹامن بی اور سی کا بہترین ذریعہ ہے،بلکہ جسم کو مٹھاس بھی پہنچاتا ہے۔
    شہد: سفید چینی کا بہترین متبادل ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے، بی اور سی کی وجہ سے جسم کو مٹھاس ہی نہیں، تقویت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اسے چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں میں پائی جانے والی قدرتی شکر جسم کو مضر اثرات سے بچاۓ رکھتی ہے۔

    @Oye_Sunoo

  • کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    جیسے جیسے لبرل ازم ہمارے معاشرے میں فروغ پا رہا ہے ویسے ویسے اس کے بھیانک نتائج بھی سامنے آرہے ہیں اس کا ایک شاخسانہ نور مقدم کا کیس ہے نور کے ساتھ کیا ہوا یہ کہانی اب کسی سے چھپی نہیں رہی مگر ہمیں تو بات کرنا ہے کہ یہ قتل کیوں ہوا
    اس کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں جی ہاں ہم بطور معاشرہ بطور والدین بطور مسلمان ہم ہیں اصل ذمہ دار!
    ہم واقعہ ہونے کے بعد پلے کارڈ لے کر کھڑے ہونا تو جانتے ہیں مگر اس واقعے کو ہونے سے روک نہیں پاتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نور قدم کا قتل روکا جاسکتا تھا جی ہاں روکا جاسکتا تھا.

    اگرایک بارنورکے والد اور والدہ اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی بیٹی جو کہہ رہی ہے اس میں کتنی سچائی ہے پوچھنے کی کوشش کرتے کہ یکدم بغیر بتائے کوئی اولاد کیسے کسی دوسرے شہر جا سکتی ہے کیا نور کے والدین آج کے دور کی خباثتوں کو نہیں جانتے تھے کیا ان کا فرض نہیں تھا کہ بیٹی کو اپنی دینی معاشرتی اور سماجی اقدار سکھاتے۔

    نورمقدم کا قتل روکا جاسکتا تھا اگر ظاہر جعفر کا باپ ذاکر جعفر بیٹے کی کال کو سنجیدگی سے لیتا جب اس نے فون کرکے باپ سے کہا کہ نور مجھ سے شادی پے نہیں مان رہی میں اس کو قتل کرنے لگا ہوں تو کیا اسے اپنے بیٹے کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے تھا مگر دولت کی بندھی پٹی آنکھوں سے ہٹتی تو ذاکر جعفر کو اپنے بیٹے کا انداز سمجھ آتا اس نرم رویے سے تو یہی ظاہر ہے کہ بیٹے کو باپ کا بھرپور حمایت حاصل تھی اسی کی شہ تھی کہ ظاہر نے اتنی جرات کی کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔
    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ دوست جن کے سامنے ظاہر نے کہا کہ اگر میں ایک قتل کردوں تو کیا پاکستان کا قانون مجھ پر لاگو ہوگا کیونکہ میں تو امریکن شہریت رکھتا ہوں دوستوں کے اس بیان سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اچانک طیش میں آکر کیا جانے والا قتل نہیں ہے بلکہ ظاہر کے دماغ میں اس کی پلاننگ پہلے سے چل رہی تھی یہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت قتل کیا گیا اس کا ایک اور ثبوت ہے ظاہر کی اگلے دن کی امریکہ کی فلائٹ کی کروائی جانے والی سیٹ کی بکنگ۔ مطلب وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ قتل کرنا ہے اور پھر باہر بھاگ جانا ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ ملازم گیٹ کھول دیتے جب نور ان کی منتیں کر رہی تھی کہ یہ مجھے مار دے گا خدا کے لئے دروازہ کھول دو مگر نہ جانے اس گھر کی بنیادوں میں کتنے ملازم دفن ہوں گے کہ خوف کے مارے دونوں ملازم ظاہر کے باپ کو فون کرکے صورتحال بتاتے تو رہے مگر ظاہر کو روکنے کی جرات نہ کر سکے کیا خبر کل کو انہی ملازمین پر قتل کا ملبہ تھوپ دیا جائے اور ذاکر اپنے بیٹے کو لے کر صاف نکل جائے اور جس کی ہمارے عدالتی نظام سے توقع بھی کی جاسکتی ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر ہمسائے جو بہت دیر سے گھر پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے وقت پر کوئی ایکشن لیتے انہیں پولیس کو بلانا تب یاد آیا جب حادثہ رونما ہو چکا تھا اس میں ان کا قصور نہیں قصور تو اس لائف سٹائل کا ہے جس کے عادی تمام اسلام آباد کے مکین ہوچکے ہیں کہ اپنے کام سے کام رکھو کہیں کچھ غلط ہوتا دیکھو تو آنکھیں بند کر لو یہی آنکھیں بند کرنے کا انداز ہے جو ایسے حادثوں کا باعث بنتا ہے نور کے والدین نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند رکھیں ظاہر کے والدین نے دولت کی پٹی باندھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ہمارا معاشرہ آنکھیں بند کیے اقدار کی آخری سانسیں لے رہا ہے.
    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    @_Faizakhann

  • مسلم لیگ ن آخر کیوں تباہ ہوئی . تحریر : ثاقب محمود

    مسلم لیگ ن آخر کیوں تباہ ہوئی . تحریر : ثاقب محمود

    جی ہاں مسلم لیگ نون اب تباہی کے آخری دہانے پر ہے مسلم لیگ اصل میں ایک ہی تھی لیکن شریف خاندان نے اس کو ٹکڑوں میں بانٹ کر پہلے ق لیگ اس میں سے الگ کی اور اس کے بعد مسلم لیگ آہستہ آہستہ ٹوٹتی ہی گئی۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ مسلم لیگ نواز نے اور شریف خاندان نے ملکر ملک پاکستان کو بہت لوٹا چوریاں کی ۔ منی لانڈرنگ کی بہت سے کیسزز ہوئے ان کے خلاف اور اب تک بھی چل رہے ہیں جن کی تفصیلات میں اگر جائیں تو ان کی چالاکیوں پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ لیکن اصل جرم ان کا جو ہے وہ ملک دشمنی اور غداری ہے ۔ انہوں نے ملک کو لوٹا پیسے کھائے پیسے لے کر باہر بھاگے یہ سب تو ہے ہی لیکن ان کی غداری کی وجہ سے ملک پاکستان بدنام ہوا جو ناقابل معافی ہے ۔

    ویسے تو ان کے ملک دشمنی اور غداری کے جرموں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن چند ایک ایسے ہیں جو میں یہاں پر لکھ رہا ہوں۔ سب سے پہلا جرم جو ہے وہ امریکہ سے پیسے لے کر ایٹمی دھماکوں کی مخالفت کرنا تھا جو کہ اس وقت کے لوگ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان صاحب بتاتے ہیں کہ شریف برادران نے ایٹمی دھماکوں کی سخت مخالفت کی تھی ۔ اس کے بعد ان کا دوسرا جرم جس کی وجہ سے آج مقبوضہ کشمیر پر انڈیا قبضہ جمائے بیٹھا ہے وہ ہے گارگل سے اپنی فوجیں واپس بلانا اور انڈیا کو موقع دے کر اپنے فوجی مروانا گارگل کی جیتی ہوئی جنگ کو ہار میں تبدیل کروانا کارگل میں جتنے بھی فوجی شہید ہوئے اس کا زمہ دار میاں محمد نواز شریف ہے ۔اس کے علاوہ انڈیا میں جاکر حریت راہنماوں سے ملاقات نہ کرنا اور مودی اور آر ایس ایس کے بیانئے کو تقویت دینا بھی ایک سنگین جرم ہے ۔انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام تک زباں پر نہ لانا اور اجمل قصاب کو پاکستانی شہری تسلیم کرنا بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔
    انڈین میڈیا پر بیٹھ کر چھرا گھونپنے والی باتیں کر کے پاکستانی فوج کو بدنام کرنا۔

    اس کے علاوہ ماڈل ٹاون میں بیگناہوں کا قتل بھی نواز شریف فیملی کے کبیرا گناہوں میں شامل ہے ۔ معزز قارئین اس کے علاوہ حال ہی میں ایک ایسے بندے سے لندن میں ملاقات کرنا ایک افغانی جو کے پاکستان کے بارے میں مغلظات بک رہا ہو۔ اس سے ملاقات بھی سوالیہ نشان ہے ۔
    پاک آرمی کے خلاف ہرزہ سرائی اور ملک کے اداروں کو متنازعہ بنانا بھی ان کے جرم میں شامل ہے۔ ججز کی ویڈیوز بنانا اور ان کو بدنام کر کے اپنی مرضی کے فیصلے دلوانا بھی ملک کا بہت بڑا نقصان ہے آج اگر پاکستانی عدالتی نظام پر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس کی وجہ شریف خاندان ہے ۔
    قوم اب ان کی تمام حرکتیں دیکھ چکی ہے جو کچھ لوگ لا شعوری طور پر ان کے ساتھ ہیں۔ یا کچھ غدار وطن وہ بھی بہت جلد ان سے سے الگ ہو جائیں گے کیونکہ میری قوم چوری معاف کر سکتی ہے ہر جرم معاف کر سکتی ہے لیکن غداری کی کوئی معافی نہیں ۔
    اللہ ملک پاکستان کو ترقی اور استحکام عطا فرمائے اور شیاطین اور غداروں کے شر سے محفوظ فرمائے آمین ۔

    @Ssatti_

  • کامیاب لوگوں کی نشانیاں  تحریر : فیصل اسلم

    کامیاب لوگوں کی نشانیاں تحریر : فیصل اسلم

    دنیا میں کن کن اہم ترین شخصیات نے اپنے وقت کے درست استعمال پر اپنی زندگی کا نمونہ پیش کیا ؟
    مسلمانوں میں جو بہترین آئیڈیل رول ماڈل ہے وہ نبی پاک ﷺ کی ذات پاک ہے
    آقا ﷺ کی حیات پاک کا جو انداز ہے اس پر بھی آپﷺ کے ارشادات موجود ہیں
    پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر ایک ۔

    اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر دو ۔

    اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر تین ۔

    اپنی امیری کو غربت سے پہلے
    غنیمت جانو

    نمبر چار ۔

    اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر پانچ ۔

    اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو

    اس سے بہتر ارشادات اپکی زندگی کو کامیابی و کامرانی پر لانے کے لئے نہیں ہوسکتے
    آپ کو لوگ ملیں گے کے جو مصروف ہوجاتے ہیں زندگی کی بھاگ دوڑ میں جنکی شادی ہوجاتی ہے بچے ہوجاتے ہیں فیملی اور پھر مسلے بن جاتے ہیں ان چیزوں میں آدمی مصروف ہوجاتا ہے
    لیکن زندگی میں ایک عمر ایسی بھی آتی ہے جس میں نہ گھر کا مسلہ ہے نہ بچوں کی ٹینشن ہے نہ اور کوئی مصروفیت ہے تو بس پڑھنا ہے اور اپنے مقصد کو پانا ہے اگر آدمی ان فراغت کے دنوں میں کچھ نہ کرسکا تو مشغولیت کے دنوں میں کیا کرسکے گا
    اس مشغولیت سے پہلے اپنی جو فراغت ہے اسکو غنیمت جانو
    یہ جو احساس ہے یہ احساس بھی بہت لوگوں کو ہوتا ہے لیکن محض احساس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک آپ اپنے اندر کوئی تبدیلی نہیں لاتے
    ورنہ تو کون چاہتا ہے کے میں اپنے وقت کو ضائع کروں کون چاہتا ہے کے میں ہارے ہوئے لوگوں میں شمار کیا جاؤں کامیاب لوگوں میں نہیں
    اپنی زندگی میں کون ناکامی کو پسند کرتا ہے لیکن جب تک آپ اپنے فراغت کے وقت کو سہی استعمال کرنا نہیں سیکھینگے تو تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے خدارا دوسروں کو کامیاب ہوتا دیکھ کر جلنا چھوڑوں اپنے اندر تبدیلی کی جرت کو بیدار کرو وقت کی قدر کرو یہ وقت اپکا اگر چلا گیا تو صرف پشتانے کے سوا آپ کچھ حاصل نہیں کرسکو گے دیکھو تو سہی اصحاب رسول ﷺ اور خلفا راشدین کی زندگیوں کو کے انہوں نے اپنے وقت کا کس طرح اور کب کیسے استعمال کرا ابھی وقت ہے اس وقت کو ضایع مت کرو
    بس ہمیں وقت کی قدر کرنے کی قیمتی دولت نصیب ہوجاے
    وقت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے علما کرام ایک بہت بہترین مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کے جس طرح ایک برف بیچنے والا اس بات کی فکر کرتا ہے کے یہ برف پگھل رہی ہے جلدی بیچ دوں ایسا نہ ہو یہ برف پگھل جائے اور سارا سرمایہ ضایع ہوجاے
    اور حقیقت میں ہمارے ہاتھ میں برف کا بلاک دے دیا گیا ہے کسی کے پاس شاید ٢٠ سال کا ہے کسی کے پاس ٥٠ سال کا ہے اور یہ مسلسل پگھل رہا ہے اور اس کے ساتھ ہماری زندگی کا قیمتی سرمایہ بھی ضایع ہوتا چلا جا رہا ہے اور جب ہم اپنی گزری زندگی کے سرمایہ (وقت) کو کھو چکے ہوتے ہیں تو پھر ہم شکوہ اپنی قسمت پر کرتے ہیں جب کے قسمت خود ہمارے ہاتوں میں ہوتی ہے اگر ہم اپنے فراغت کے ایام میں زندگی کے لا تعلقی والے کام چھوڑ کر اپنی ذہنیت کا سہی استعمال کریں تو ہمیں کامیاب انسان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا اگر ہم ہر کام کو اس کے وقت کے مطابق ادا کریں اور اللّه کا شکر کرتے ہوئے اگے بڑھیں تو ان شاء اللّه کامیابی ہمارا مقدر ضرور بنے گی
    کامیاب انسان کی نشانی ایک یہ بھی ہے کے وہ اپنی گزری غلطیوں پر نظر رکھتے ہوئے اگے بڑھتا ہے یا کوئی دوسرا اسکو اسکی غلطی بتا تا ہے تو وہ اس پر تنقید کرے بغیر اپنی غلطی کو سدھارنے کی کوشش کرتا ہے اور اللّه بھی اللّه بھی ایسے بندوں کی مدد کرتا ہے
    اپنے آپکو تکبر جیسی لعنت سے دور رکھیں اور اپنے سے کامیاب لوگوں کو دیکھ کر جلنے کے بجاے انکی زندگی کو دیکھ کر سیکھنے کی کوشش کریں
    اللّه بڑا رحیم ہے وہ اپنے بندوں کی ہر محنت و کش پر نظر رکھتا ہے اور اسکو اسکی محنت کا پھل بھی جلدی دیتا ہے اور اسکو نہ ختم ہونے والی عزت و مقبولیت سے بھی نوازتا ہے کوشش کریں کے اپنے آپکو وقت کے ساتھ ڈھالیں نہ کے وقت کو اپنے ساتھ اور ہمیشہ اللّه کا شکر ادا کرتے رہیں ان شاء اللّه کامیابی آپ کے قدم ضرور چومے گی
    اللّه کا شکر ادا کریں کے اس نے آپکو انسان بنایا اور اس نے آپکو مسلمان بنایا اور اپنے حبیبﷺ کا امّتی بنایا جہاں آپکو اپنی زندگی کو کامیابی کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے بیشمار ہیرے مل جاینگے لہٰذا وقت کی قدر کریں فضول کاموں سے پرہیز کریں اور جو کچھ آپ نے کھویا اس پر رنج و غم کرنے کے بجاے اگے کی سوچیں اور کوشش کریں کے اپنے اسلاف کی زندگی کا مطالع کریں جس میں آپکو بہت سے کامیابی کے راستے نظر آہی جاینگے

    اگر چاہ ہے کچھ پانے کی زندگی میں
    تو بیدار کر اپنی لگن وقت کی قدر کو

    ‎@FsAslm7