Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر:  واجد علی

    عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر: واجد علی

    شائد ہی کوئی لڑکی ہو جس کو گلی، محلے، بازار یا سکول کالج جاتے ہوئے چھیڑ چھاڑ یا کم از کم کھا جانے والی اوباش نظروں کا سامنا نا کرنا پڑا ہو اور اگر زرا خود کو اس 10 بارہ سال کی لڑکی کا سوچیں اس کے معصوم ذہن میں کتنا ڈر بیٹھ جاتا ہے کتنا سہم جاتی ہو گی اور اسکو تنگ کرنے والا بھی تو انسان ہے اسکے گھر پر بھی تو ماں بہنیں ہوں گی

    لیکن یہ احساس لوگوں میں نہیں پایا جاتا افسوس کے ساتھ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بنیادی طور پر تربیت ہی کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ انہیں اس معاملے میں تمیز نہیں سیکھائی جاتی بازاروں گلیوں اور سڑکوں پر جانے والی خواتین کو ایسے نازیبا الفاظ سننے کو ملتے ہیں جس سے وہ ذہنی طور پر خوف کا شکار ہوجاتی ہیں

    اور اجکل تو سوشل میڈیا پر بھی خواتین کو شکار بنانے کی کوشش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے خواتین کو گلیوں اور بازاروں، دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ غرض ہرجگہ ہراساں کیے جانے کا سامنا بڑھتا ہی چلا جارہا ہے یہ عمل پاکستان میں کئی سالوں سے جاری ہے عورتوں کے تحفظ کی کئی تنظمیں بن چکی مگر وہ بھی اس میں کمی نا لا سکے

    بلکہ ہمارے معاشرے میں چھیڑ چھاڑ یا انہیں ہراساں کرنا کوئی سنجیدہ جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر جس طرح ہر ایک آدمی اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو اہم سمجھتا ہے اسی طرح دوسری خواتین کے احترام کو بھی لازمی سمجھے ۔۔

    کچھ خواتین خوف کا شکار ذیادہ ہوتی ہیں اس وجہ سے شکایات نہیں کر پاتی اور اگر کوئی خاتون کسی مرد کے خلاف شکایت کرے تو اسے بدکردار سمجھا جاتا ہے افسوس ۔۔۔

    آج کل ہمارے معاشرے میں بچوں اور عورتوں سے ذیادتی بہت عام ہو چکی ھے ہر ایک روز ایک نا ایک بچی یا عورت ذیادتی کا نشانہ بنتی ھے اور دو تین دن نیوز چینل پر بریکنگ چلتی ھے اس کے بعد نیوز چینل بھی خاموش ہو جاتی ھے کیا ہم نے پھر کبھی اس مظلوم عورت یا وہ بچی جو زیادتی کا شکار ہوٸی ہم نے کبھی اس سے پوچھا ھے؟ کیا ہم نے اسے انصاف دیا ھے گزشتہ کٸی ماہ پہلے قومی اسمبلی سے یہ قانون پاس ہوا کہ ذیاتی کرنے والے ملزم کو نامرد بناٸنگے کیا اس قانون پر عمل ہوا ھے؟ ذیادتی کرنا زنا کے زمرے میں آتا ھے اور اسلام مزہب میں زنا گناہ کبیرہ ھے بلکہ حرام ھے اس کا سزا یہ ھے کہ اسے سنگسار کیا جاۓ لیکن افسوس پاکستان میں اب تک کوٸی ایسی قانون نافز نہیں ہوا جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دی جاۓ یہاں امیر کےلٸے الگ قانون اور غریب کےلٸے الگ قانون چلتا ھے اگر مظلوم امیر گھرانے کا ہو تو عدالت اس کے حق میں فیصلہ کرتا ھے اور اگر غریب ہو تو تاریخ پہ تاریخ
    کیا غریب صرف عدالتوں کے چکر کاٹینگے یا انصاف بھی ملے گا

    لیکن یہ ختم کیسے ہوگا ؟؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اس کو ختم کرنے کی شروعات ہم کرینگے؟؟ کیا کبھی آپ نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت انہیں ہر اچھے برے عمل کی تمیز سیکھائے گے تاکہ معاشرے سے ان سب کی روک تھام کی جا سکے ۔۔۔

    تحریر : واجد علی
    @Munna_Wajji (twitter)

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط سوم)  تحریر:  رانا بشارت محمود:

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط سوم) تحریر: رانا بشارت محمود:

    امید ہے آپ نے اِس سلسلے کی پہلے شائع ہونے والی دو اقساط ضرور پڑھی ہوں گی، جو کہ جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہماری نوجوان نسل کی زندگیوں پہ پڑنے والے اثرات کے بارے میں تھی۔ تو چونکہ یہ بھی اُسی سلسلے کی تیسری قسط ہے تو آئیے پھر اُسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    ~ ریڈیو، کیمرے، ٹیپ رکارڈر و کیسٹ، وی سی آر، چراغ، موم بتی، لال ٹین و ٹارچ لائیٹیں اور وقت دیکھنے کے لیے ہاتھ پہ باندھی جانے والی گھڑیوں سمیت سب کچھ گُم سا ہو کے رہ گیا ہے۔

    تو اِس سے پہلے شائع ہونے والی پہلی دو اقساط میں بھی موجودہ دور میں اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے جن اثرات کا ذکر کیا گیا تھا، اُن کے ساتھ ساتھ یہ جدیدیت بھی آگئی ہے کہ جو پہلے ہماری استعمال کی جانے والی بہت سی چیزیں تھیں، جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، یا تو پہ سب تقریباً ختم ہی ہو گئی ہیں یا پھر اگر کچھ موجود ہیں بھی تو وہ صرف اس وجہ سے کہ ان میں جدیدیت لائی گئی ہے۔

    عام طور پہ دیہاتوں اور قصبوں میں شام ہونے کے بعد (چوپال، دارا، ڈیرہ یا حویلی کے نام سے مشہور جگہیں) جہاں بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ پھر ان کا آپس میں حالاتِ حاضرہ پہ گفتگو کرنا، جس کے ساتھ ساتھ ہُکا بھی پیا جاتا تھا اور ریڈیو پہ خبریں اور طرح طرح کے پروگرام بھی سُنے جاتے تھے۔ یہاں تک کے اگر پچیس تیس سال پہلے کے دور کو دیکھیں تو بڑے شہروں میں بھی کئی جگہ پر یہی طریقہ عام ہوا کرتا تھا۔ اور ریڈیو پہ خبریں اور پروگرام سننے کے بہانے سب کا اکٹھے ہو کر مِل بیٹھ جانا بھی ایک دل کو موہ لینے والا منظر پیش کر رہا ہوتا تھا۔

    اور پھر تصویریں بنانے یا بنوانے کے لیے استعمال کئے جانے والے مختلف کمپنیوں کے کیمرے جو کہ تب بہت کم لوگوں کے پاس ہوا کرتے تھے اور پھر تصویریں بنوانے کی غرض سے دیہاتوں اور قصبوں میں رہنے والوں کا ( جن کے قریب یہ سہولت موجود نہیں ہوتی تھی) اپنے نزدیکی شہروں میں موجود فوٹو سٹوڈیوز میں جانے والا بھی ایک سہانا دور ہوا کرتا تھا۔

    پھر اسی طرح سے اپنی یا کسی کی آواز کو ریکارڈ کرنے کے لیے ٹیپ ریکارڈر کا استعمال کرنا بھی ایک انوکھا تجربہ ہوا کرتا تھا جن میں کیسٹ ڈالی جاتی تھی، اس کے بعد وی سی آر جو اُس وقت فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کے لیے سب سے جدید ٹیکنالوجی مانی جاتی تھی۔ ان کا استعمال بھی ایک شاندار تجربہ ہوتا تھا۔

    اِس کے بعد اب آگے چلیے تو آپ کو بتلاؤں کہ اگر ہم زیادہ نہیں تو صرف تین عشرے ہی پیچھے چلے جائیں تو تب تک پنجاب کے بھی بہت سارے علاقوں میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی، تو وہاں کے طلباء پھر اپنا سبق پڑھنے کے لیے یا پھر گھر والے روشنی حاصل کرنے کی غرض سے رات کے وقت موم بتی، چراغ یا لال ٹین اور پھر بجلی کی سہولت آ جانے کے بعد تک بھی ٹارچ لائٹیں استعمال کیا کرتے تھے۔ (البتہ! اس اکیسویں صدی میں بھی جنوبی پنجاب کے کئی علاقے، اندرونِ سندھ کے بھی بہت سے علاقے، پختونخواہ کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں تو اب بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچائی جا سکی ہے)۔

    اور پھر اُس کے بعد تب وقت دیکھنے کی خاطر مختلف اقسام کی گھڑیوں کا بھی کلائیوں پہ باندھنے کا ایک شاندار دور ہوا کرتا تھا۔ اور اُس دور میں جس کے پاس گھڑی ہوتی تھی تو اُس کی بھی اپنے حلقہ احباب میں بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی، کیونکہ دوسروں کو اُس سے وقت جو پوچھنا پڑتا تھا۔ (البتہ! ابھی بھی گھڑی پہننے کا بہت رواج ہے لیکن اب یہ صرف فیشن کی حد تک ہی رہ گیا ہے اور وقت دیکھنا غرض بالکل بھی نہیں رہا)۔

    اور اب اگر اِس کا دوسرا رُخ دیکھا جائے تو اِن سب مندرجہ بالا چیزوں کو تیار کرنے والی کمپنیاں، پھر اِن کو بیچنے والے دوکاندار اور پھر اِن کے خراب ہو جانے پہ تصلیح کرنے والے مکینک تک تقریباً سب کے سب لوگ بے روزگار بھی ہوئے ہیں۔

    اور اس سب کے پیچھے صرف اور صرف ایک یہ ہی وجہ ہے، اور یہ کہ اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد یہ سب کچھ اب پرانے وقتوں کی طرح ماضی کا حصہ ہی بن کے رہ گیا ہے۔ اور زیادہ تر یہ سبھی چیزیں اب صرف فلموں، ڈراموں، کہانیوں اور تصویروں تک ہی رہ گئی ہیں، اور وہ بھی جن میں پرانے دور کا دِکھانا مقصود ہو اُن میں یہ چیزیں آثارِ قدیمہ کی صورت میں دکھائی جاتی ہیں۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ دوستو کیونکہ اب اِس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہمیں اِن سب چیزوں کی بالکل بھی ضرورت نہیں رہی، لیکن اگر ہمارے پاس ان میں سے کچھ چیزیں موجود ہیں تو اُن سب چیزوں کو اپنا قیمتی ورثہ جانتے ہوئے انہیں سنبھال کے حفاظت کے ساتھ رکھیں۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی ہماری اُن پرانے وقتوں کی چیزوں کو دیکھ اور پرکھ سکیں ناکہ وہ یہ سب صرف فلموں اور ڈراموں میں ہی دیکھ کر حیران ہوا کریں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Author Name:
    Rana Basharat Mahmood – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • ہم مدارس کے خیرخواہ ہیں تحریر: حفیظ الرحمن قلندرانی

    ہم مدارس کے خیرخواہ ہیں تحریر: حفیظ الرحمن قلندرانی

    السلام علیکم
    آج قائد جمعیت کی ایک پرانی تقریر حکمرانوں کی منافقت کے بارے میں سنی تو سوچا اس موضوع پر کچھ لکھ لوں
    امید ہے آپ دوستوں کو یہ پوسٹ اچھا لگے گا

    دوستوں آپ کو معلوم ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے افسوس کا اظھار کیا تھا
    اور فرمایا تھا میں چاہتا ہوں کہ مدارس سے بھی ڈاکٹر اور انجنیئر نکلیں
    انھوں نے مزید کہا تھا کہ مجھے بھت دکھ ہوتا ہے کہ مدارس کے طلباء ڈاکٹر اور انجنیئر کیوں نہیں بنتے؟؟؟
    تو میں کہنا چاہتا ہوں خان صاحب مدارس کو چھوڑو اور جو ادارے آپ کے ماتحت ہیں ان سے ڈاکٹر اور انجنیئر پیدا کرو
    خان صاحب آپ کے ماتحت چلنے والے اسکول کالجز اور یونیورسٹیز میں کونسے ڈاکٹر اور انجنیئر پیدا ہوئے ہیں کبھی ان کو بھی بیان کیا کریں
    ان بیچاروں کے لئے بھی دکھ کا اظھار کریں جو ڈاکٹر اور انجنیئر بننے کے لئے اپنے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر اور انجنیئر نہیں بنتے
    اور جو بات ہے مدارس کے طلباء کی وہ الحمد للہ عالم اور حافظ بننے کے ارادے سے آتے ہیں عالم اور حافظ ہی بنتے ہیں
    ان کا خاص جو کام ہے بقول آپ لوگوں کے مردے نہلانا الحمد للہ انھوں نے اس میں بھی اتنی مہارت حاصل کی ہوتی ہے کہ مدرسے کا ناکارہ ترین طالبعلم بھی مردے کو نہلا لیتا ہے
    اور عوام کو کوئی بھی مسئلا درپیش ہو وہ ان کے اس مسئلے کو شرعی طریقے سے بھترین طریقے سے بیان کرتے ہیں
    اور جب حافظ قرآن کی ضرورت ہو رمضان میں ہر مسجد میں قرآن سنانے والے مدارس کے ہی حفاظ ہوتے ہیں
    ہر مسجد کا امام و خطیب مدرسے کا فارغ ہوتا ہے اور الحمد للہ یہ نا ممکن بات ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس مدرسے یا وفاق المدارس کا جعلی سند ہو
    اور جو اسکول کالج یونیورسٹیز کی بات ہے جو ہمیشہ حکمرانوں کے ماتحت رہے ہیں
    ان میں آپ نے آج تک کیا کیا ہے ذرا میں اس کی وضاحت کردوں
    ہمارے ملک میں جب کوئی منصوبہ بنانا ہو مثلا روڈ بن رہے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں وہاں کام کرنے والا اور اس کام کا ٹھیکہ لینے والے چین کے انجنیئرز ہیں اب یہاں پوچھنے کی بات یہ ہیکہ ہمارے انجنیئرز کہاں ہیں
    جو ہمیں چین کے انجنیئرز کی ضرورت پڑی
    اور جب خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوتا ہے ہم اس کی تحقیقات کے لئے فرانس سے تحقیقاتی ٹیم بلاتے ہیں ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز کے پڑہے لکھے کہاں گئے
    اور تو اور کچھ دن پہلے ایک خبر چلی یورپ نے پاکستانی جہازوں کی پرواز پر پابندی لگائی اس وجہ سے کہ ہمارے پائلیٹز کی ڈگریاں جعلی تھیں آپ کے سیاستدانوں کی ڈگریاں بھی جعلی ہیں آپ کے اسکولوں میں پڑہانے والے ماسٹرز کو پڑہنا نہیں آتا میں آپ کو آپ کے اپنے ہی اداروں کی کتنی خامیاں بیان کروں جناب
    بس ہم آپ کو اتنا کہنا چاہتے ہیں آپ ایسی باتیں کر کے مدارس کے طلباء اور عام عوام کے ذھن میں مدارس کے بارے میں تشویش میں ڈالنے کی کوشش نہ کریں ہر کوئی جانتا ہے کہ آپ اس ملک میں کس مقصد سے آئے ہیں اور کیا چاہتے ہیں
    الحمد للہ ہمارے اکابرین نے آپ جیسوں کی چالوں سے بچنے کے لئے ہماری خوب اصلاح کی ہے
    اور آپ وہی کام کریں جو آپ کے ماتحت ہیں آپ ہماری فکر نہ کریں کہ ہم کیوں ڈاکٹر اور انجنیئر کیوں نہیں بنتے اور خدا کے واسطے ہماری اصلاح کرنے کی بھی کوشش نہ کریں
    انشاءاللہ جب میں عالم بن گیا میں خود آپ کی اصلاح کرنے کی کوشش کروں گا
    اور جیسا کہ قائد جمعیت نے فرمایا تھا مدارس بنتے ہی آپ جیسوں کی اصلاح کرنے کے لئے ہیں
    تو انشاءاللہ ہمارے مدارس آپ کو یہ ثابت بھی کر کے دکھائیں گے
    اور الحمد للہ ہمیشہ ثابت بھی کیا ہے
    #دینی_مدارس_زندہ_باد
    #پاکستان_پائندہ_باد
    آپ کی دعائوں کا طلبگار

  • عورتوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی قانون کی گمشدگی    تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    عورتوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی قانون کی گمشدگی تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    جب ریاست کا وجود بھی نہ تھا تب بھی شاید ایسا ہوا ہوگا جیسے اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے کون کہے گا کہ یہ انہی لوگوں کا دیس ہے جو عورتوں کی عزت کے تحفظ کیلئے اپنے آپ کو قربان کر دیتے تھے. اب یہ دھرتی عورتوں کے لئے جہنم بنا دی گئی ہے. جہاں پر عورت کا غیرت کے نام پر قتل, اجتماعی زیادتی, جنسی اور جسمانی تشدد, ان کو پیسوں کے عوض بیچنا, جرگوں میں انکی عزت کی قیمت لگانا عام بن چکا ہے. یہ واقعات اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگے ہیں کہ لوگوں میں اس کی حساسیت ہی ختم ہوگئی ہے. عورتوں کے قتل اور تشدد کے حوالے سے اس حد تک بے حسی بڑھ گئی ہے کہ اب لوگوں کے رونگٹے بھی کھڑے نہیں ہوتے. اب تو یہ ان کے لئے جیسے معمول کی کوئی خبر ہو کچھ دنوں سے عورتوں پر تشدد اور قتل کے حوالے سے غیر معمولی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں پر وہ خبریں اس ملک کی عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں کی آنکھوں کو بھگا بھی نہ سکیں. مدیجی میں ملزم نے اپنی بیوی, دو بیٹیوں سمیت اپنی چاچی گولیاں مار کر قتل کر دیا کچھ دن پہلے حیدرآباد میں قرت العین کو شوہر نے تشدد کر کے مار ڈالا, ٹنڈو جام میں عورت کو زندہ جلا کر قتل کردیا یے تو وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں کئی ایسے واقعات ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے.

    پاکستان میں قانون پر عملدرآمد تو دور کی بات ہے اس کی موجودگی کو بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا. عورتوں پر ظلم اور تشدد کے خلاف قانون انکا سہارا نہیں بن سکا. لوگوں کے دلوں میں سے قانون کا ڈر ہی نکل گیا انسانی حقوق تو دور کی بات ہے. پاکستان کی آدھی آبادی کو تو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا. ہمارے حکمران خود کو دنیا میں لبرل اور روشن خیال گنوانے کے لئے عورتوں کے حقوق کے لئے قانون سازی تو کرتے ہیں پر اس قانون پر عمل ہو نہیں پاتا. پاکستان کے حکمرانوں کی ادا ہی نرالی ہے ہر بات پر نوٹس لینا انکا مرغوب مشغلہ ہے معاملہ شاید ہی اس سے آگے بڑھا ہو بہت کم دیکھنے کو ملا ہے. دراصل پاکستان میں عورتوں کے خلاف ظلم اور بربریت کا گولا جس گائے کے سینگ پر رکھا ہوا ہے انکا نام ہے جرگائی بھوتار. انکی رسائی اقتدار اور اختیار کے ایوانوں تک ہے. انہوں نے انصاف کے نام پر ناانصافی کا نظام قائم کیا ہوا ہے. جہاں پر یہ عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سزا دلواتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرواتے ہیں وہ جرگہ کرواتے ہیں جہاں پر عورت کے سر کی قیمت اور عصمت دری کی قیمت مقرر کردی جاتی ہے. عورت کے قتل کے فتوے جاری کردیے جاتے ہیں. مظلوم عورتوں کی چیخیں ان ناانصافیوں کے خلاف حکمرانوں کی اناوں کی دیواروں تک بھی نہیں پہنچ پاتی.

    پاکستان میں عورتوں پر بڑھتے ظلم, جنسی اور جسمانی تشدد اور انکے قتل کے واقعات میں اضافہ پر حکمرانوں کا پریشان نہ ہونا بھی بڑی پریشانی کی بات ہے. پاکستان میں عورتوں پر تشدد بند کروایا جائے ریاستی قانون کو فعال کیا جائے اور عورتوں کے قتل کے کیسز کو جلد از جلد میرٹ پر فیصلا دے کر ملزمان کو سزا دے کر مظلوم عورتوں کو انصاف مہیا کیا جائے.

    @Nadir0fficial

  • Our self and we writen ByBobswiffey

    Our self and we writen ByBobswiffey

    جس نے اپنے نفس پہ قابو پا لیا گویا وہ دنیا کا بہادر ترین انسان ہے لیکن اپنے سرکش نفس پہ قابو پانا آسان کام نہیں ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ ہے کہ ”تم میں سے بہتر مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرسکے”

    جہاد کے معنی جدوجہد کے ہیں اللّٰہ سبحان تعالیٰ کے راہ میں پر امن کوششوں اور جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں۔اپنے نفس کے خلاف عمل کرنے کو بھی جہاد کہتے ہیں۔

    جہاد کی دو اقسام ہیں کہ جہادِ اصغر اور ایک جہادِ اکبر ہے۔
    صحابہ اکرم رضوان اللہ علیہم اجمین جب کفار کے ساتھ جہاد کرکے واپس آتے تو کہتے تھے:
    ”ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف لوٹ آئے ہیں۔“
    اور صحابہ نے نفس، شیطان اور خواہشات سے جہاد کو اس لیے اکبر اور عظیم جہاد کہا کہ نفس سے جہاد ہمیشہ جاری رہتا ہے اور کفار کے ساتھ جہاد کبھی کبھی ہوتا ہے۔
    دوسری وجہ یہ ہے کہ مجاہد اپنے دشمن کو سامنے دیکھتا رہتا ہے مگر شیطان نظر نہیں آتا اور دکھائی دینے والے دشمن سے لڑائی آسان ہوتی ہے چھپ کر حملہ کرنے والے دشمن سے۔

    نفس کے خلاف جہاد جہاد اکبر ہے۔اور تمہاری بادشاہی اس دن حقیقی ہوگی جس دن تم اپنے نفس کی غلامی سے آزاد ہو جاو گے۔لہذا پہلا جہاد اپنے نفس کے خلاف ہے۔

    امام غزالیؒ آگے مزید حضرت علی ؓ کا ایک قول بیان کرتے ہیں جس میں شیرِ خدا کہتے ہیں کہ
    ”میں اپنے نفس کے ساتھ بکریوں کے ریوڑ پر ایسے نوجوان کی طرح ہوں کہ جب وہ ایک طرف سے انہیں جمع کرتا ہے تو وہ دوسری طرف نکل جاتی ہیں۔“

    حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
    خدارا، خدارا!! نفس کے خلاف جہاد کرنا، کیونکہ تمہارے لیے سب سے بڑا دشمن یہی نفس ہے۔

    یہاں نفس سے مراد صرف ذاتِ انسان نہیں دل کی خواہشات اور خواہشاتِ نفسانی کا بھڑکتا سمندر ہے جو انسان کو اپنے حساب سے چلاتا ہے اور دینی تعلیمات بُھلا دیتا ہے۔ اپنے جذبات و نفسانی خواہشات کو قابو کرنا ہی اصل جہاد ہے۔
    نفس کے خلاف جنگ میں ‘سکونِ قلب’ ہی
    اصل مالِ غنیمت ہے۔

    اب اگر ہم جدید میڈیکل سائنس اور نفسیات کی تحقیقات کا مطالعہ بھی کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بہت ساری بیماریاں زیادہ کھانے اور زیادہ نیند سے سامنے آتی ہیں۔

    ہم اگر اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا شروع کر دیں تو دین اور دنیا کی تمام تر دولتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

    کسی نے کیا خوب کہا ہے:
    نفس کے خلاف جہاد کیے بغیر
    الله سے وفاداری ممکن ہی نہیں ہے

    Bobswiffey

    Bobswiffey is a freelance Journalist on Baaghitv For more details about visit twitter account

    Bobswiffey Twitter Account handle

    https://twitter.com/Bobswiffey

     bsp;

  • پاکستان کا اصل دشمن کون؟؟  تحریر:- فرمان اللہ

    پاکستان کا اصل دشمن کون؟؟ تحریر:- فرمان اللہ

    پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یہ تو ہر کوئی جانتا ہے جو لوگ پاکستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں جو دہشت گردوں کو ٹرینڈ کرکے پاکستان بھیج رہے ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس بات انکشاف وہ خود بھی کر رہے ہیں وہ کون ہے وہ افغان ایجنسی این ڈی ایس کے ایجنٹ وہ کروا رہے ہیں پاکستان میں دہشت گردی تمام دہشت گردوں کو افغانستان میں بھارت کے ساتھ مل کر افغان ایجنسی این ڈی ایس کے ایجنٹ ٹریننگ دیتے ہیں اور وہاں سے ان کو اسلحہ دے کر بارڈر کراس کرواکے پاکستان میں داخل کرواتے ہیں

    این ڈی ایس کے ان تمام دہشت گردوں کو پی ٹی ایم اور دیگر سرخے سپورٹ کرتے ہیں جیسے کہ محمود خان اچکزئی ہوگیا اسفندیار ولی خان ہو گیا اور بی ایل اے کی طرف سے ماما قدیر ہو گیا یہ تمام لوگ ان دہشتگردوں کو سہولت بھی فراہم کرتے ہیں اور ان کو ہر طرح کی سپورٹ بھی کرتے ہیں

    پی ٹی ایم کو افغان ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی ایجنسی را نے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا انتشاری اور سہولت کاری کا ونگ بنایا جو ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرتی ہے اور ٹی ٹی پی کے تمام دہشت گردوں کو پی ٹی ایم اور دیگر سرخے اپنے گھروں میں پناہ دیتے ہیں اور پی ٹی ایم تمام تر ہدایات ٹی ٹی پی کو فراہم کرتی ہے جس کے مطابق ٹی ٹی پی پشتونوں کو قتل کرتی ہے اور انہیں پشتونوں کے لاشوں پر پی ایم سیاست کرتی ہے اور الٹا ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرتی ہے اصل میں ان کو مروانے والے بھی پی ٹی ایم والے خود ہی ہیں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں

    اب یہ ہوئی بات پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے افغان ایجنسی این ڈی ایس کا ہاتھ ہے اور ان کے پالے ہوئے دہشت گردوں کو پاکستان میں پناہ پی ٹی ایم اور دیگر سرخے دیتے ہیں پاکستان میں دہشت گردی کروا کے پاکستانیوں کا خون بہا کہ افغان ایجنسی والے بہت خوش ہوتے ہیں جن کے ساتھ ساتھ پی ٹی ایم والے بھی خوش ہوتے ہیں جس دن بھی پاکستان آرمی کا کوئی جوان ہو بی ایل اے کے ہاتھوں یا ٹی ٹی پی کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے اس دن پی ٹی ایم والے جشن مناتے ہیں

    تمام تر لوگوں کو اپنی آنکھیں کھولنی چاہیے اور تمام تر لوگوں کی آنکھیں کھل بھی چکی ہیں پی ٹی ایم اور دیگر قوم پرست سرخوں کے خلاف یہی لوگ ہیں جو ایک طرف سے امن کا نعرہ لگاتے ہیں دوسری طرف سے دہشت گردوں کے ذریعے دہشت گردی کرواتے ہیں اور لوگوں کو مروا کر انہیں لوگوں کے اوپر پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور امن کی بات کرتے ہیں لیکن اصل میں یہی دہشت گرد اور تمام کر دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں جس دن ٹی ٹی پی کے دہشت گرد مارے جاتے ہیں اس دن پی ٹی ایم میں مایوسی اور غم اور غصہ ہوتا ہے اور اگر اسی دن پاکستان آرمی کے جوان شہید ہوتے ہیں تو پی ٹی ایم والے خوش ہوتے ہیں

  • صبر کامیابی کی کلید ہے  تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    صبر کامیابی کی کلید ہے تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    آپ نے غالبا یہ کہاوت سنی ہے کہ "صبر کامیابی کی کلید ہے”جو معاشرتی ، مذہبی ، نسلی ، صنف یا کسی دوسرے عوامل سے غیر متعلق ہے جو لوگوں کو ممتاز کرتا ہے۔

    کیمبرج لغت کے مطابق ، صبر کی تعریف انتظار کرنے کی صلاحیت ، یا مشکلات کے باوجود کچھ کرنا جاری رکھنے ، یا شکایت کیے بغیر یا ناراض ہونے کے بغیر تکلیف برداشت کرنے” کے طور پر کی گئی ہے جہاں کسی بھی شخص کو ان جذبات کا سامنا کرنا پڑتا۔.
     
    لیکن ہائی اسکول میں اساتذہ نے زور دیا کہ صبر کرنا آپ کا وقت لے رہا ہے۔, مثال کے طور پر, امتحان کے دوران طے شدہ پورے وقت کا استعمال کریں تاکہ آپ اپنی صلاحیتوں کے بہترین جواب میں یا ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے وقت تمام سوالات کا پوری طرح سے جواب دے سکیں۔, اپنا وقت لگائیں تاکہ اس سے کسی قسم کی خلل یا حادثات نہ ہوں۔.
     
    لہذا ، ایک بار بار چلنے والا تھیم تھا جس کا تجربہ میں نے ہائی اسکول میں صبر کے ساتھ کیا تھا جس میں آپ کے عمل کرنے سے پہلے سوچنے میں وقت لگتا تھا۔. اس کا مطلب یہ تھا کہ وقت کے ساتھ خود کو اس لمحے سے نکال دو اور میرے عمل کو دیکھیں چاہے وہ جائز ہوں یا نہیں۔. اس نے مجھے اپنے غصے کو ایک حد تک قابو کرنے کی اجازت دی لیکن صبر کی تعلیم کے بارے میں یہ صرف برفانی چوٹی تھی۔.شاید اس حقیقت کی وجہ سے ، کسی بچے کو اپنی صورتحال کو سمجھنے کی ذہنی تیاری نہیں ہوگی اور وہ شاید کسی اور لیکچر کو سننے سے نفرت کرتے ہیں ، لہذا ، یہ بتانے سے بہتر ہے۔.

     صبر اور اس کے فوائد کے بارے میں بے شمار تحقیقی اور علمی مضامین موجود ہیں جو اس شخص کی ذہنی اور جسمانی حالت پر پڑتا ہے جو کم سے کم اس وقت ہائی اسکول میں مناسب طریقے سے نہیں پڑھایا جاتا جب میں نے زیادہ عرصہ پہلے شرکت نہیں کی تھی۔. شاید اس حقیقت کی وجہ سے ، کسی بچے کو اپنی صورتحال کو سمجھنے کی ذہنی تیاری نہیں ہوگی اور وہ شاید کسی اور لیکچر کو سننے سے نفرت کرتے ہیں ، لہذا ، یہ بتانے سے بہتر ہے۔. 

    جب مجھے بچپن میں ہی کسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، یا تو کسی کھیل میں یا حقیقی زندگی کی صورتحال میں ، میں عام طور پر حل کا آسان ترین راستہ تلاش کرتا تھا لیکن اگر میں ایسا نہیں کرسکتا تو میں ہار مان لوں گا۔. تاہم ، میرا رویہ برسوں کے دوران تبدیل ہوتا ہے ، ہار ماننے کے بجائے ، میں کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا سکون زون چھوڑنا ہے مثال کے طور پر جب کلاس کے سامنے ریاضی کی مساوات کرنے پر مجبور کیا گیا کہ مجھے پہلے ہی غلط ہو گیا ، میں نے برقرار رکھا کوشش کرنے پر.
     
    تاہم ، صبر کرنے اور اپنا وقت ضائع کرنے میں فرق ہے۔. اس کی طرف کام کرنے کے بجائے کسی موقع کا انتظار کرنا تاخیر ہے جو ایک سنگین مسئلہ ہے جو بہت سے لوگوں کو خاص طور پر یونیورسٹی کے طلباء میں شامل ہے کیونکہ انہیں آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنا وقت استعمال کریں۔. لہذا ، اسائنمنٹ کو مکمل کرنے کے بجائے یا۔
     
    لوگوں کے ساتھ صبر کرنا اب تک ایک سب سے مشکل کام ہے کیونکہ نہ صرف آپ ان میں قیمتی وقت خرچ کر رہے ہیں بلکہ حتمی نتیجہ آپ کو مایوس کرسکتا ہے۔. دوسری طرف ، ان کے ساتھ صبر کرنے سے دیرپا صحت مند تعلقات پیدا ہوسکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو زہریلے تعلقات میں صبر کرنا چاہئے۔.
     
    بےصبرا ہونے کا سب سے مشکل پہلو اپنے آپ سے ہے۔. کوئی بھی کامل نہیں ہے اور ہر کوئی غلطیاں کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اپنے آپ سے صبر کرنا کامیابی کا باعث بن سکتا ہے۔. اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، آپ کو کامیابی کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔.

    تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‎@HamxaSiddiqi

  • آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟   تحریر: سحر عارف

    آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟ تحریر: سحر عارف

    عورت اللّٰہ تعالٰی کا سب سے انمول تحفہ ہے لیکن عورت پر تشدد ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کبھی اس پہ جنسی تشدد ہوتا ہے تو کبھی جسمانی تشدد۔ یہ بات سرے سے سمجھ میں نہیں آتی کہ جو مرد عورتوں پہ تشدد کرتے ہیں ان کے نزدیک آخر عورت کیا ہے؟ آخر مرد کی نظر میں عورت کیا ہے؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا اسے انسانوں کی طرح جینے کا حق نہیں؟ آخر کب تک عورت ظلم سہتی رہے گی؟ مرد کو اللّٰہ نے عورت سے ایک درجہ بلند اس لیے نہیں دیا کہ وہ عورت پر تشدد کر سکے بلکہ اس لیے دیا کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے۔ نکاح کی صورت میں عورت کو اللّٰہ کی امانت کے طور پر مرد کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔ پر افسوس آج پھر جہالت اپنے قدم اٹھا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ایک سے ایک واقعہ جو منظر عام میں آتا ہے دل دہلا دیتا ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو کچھ روز قبل 15 جولائی کی رات قوم کی بیٹی قرةالعین کے لیے ایک بھیانک رات ثابت ہوئی۔ کوئی قیامت نہیں آئی کوئی زمین نہیں پھٹی جب چار بچوں کی ماں کو انہیں کے سامنے ان کے باپ نے کس قدر درندگی سے تشدد کر کے قتل کردیا۔ بچے سے دہائیاں دیتے رہے قوم کی بیٹی قرةالعین اپنی زندگی کے لیے گڑگڑاتی رہی اپنے شوہر سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی پر افسوس عمر میمن جو کہ نشے کی حالت میں چور تھا کسی کی ایک نا سنی اور اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قرةالعین بلوچ کی شادی 2012 میں عمر میمن جو کہ سابق سیکرٹری آبپاشی سند خالد حیدر میمن کا بیٹا ہے اس سے ہوئی۔ شادی کے ایک دو سال تک تو سب ٹھیک رہا پر پھر جیسے جیسے شادی آگے بڑھتی گئی عمر میمن اپنے بیوی بچوں پر تشدد کرنے لگا۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا ہے کہ عمر میمن ایک شرابی ہے۔ وہ بات بات پر میری بہن کو مارتا پیٹتا اور بچوں پر بھی تشدد کرتا ان کے سر پھاڑ دیتا، ہاتھ توڑ دیتا۔ اکثر اوقات میری بہن کو مار پیٹ کے گھر سے نکال دیتا اور دوسری عورتوں کو گھر بلوا کر عیاشی کرتا۔ قاتل کے والد کو اس تمام صورتحال کا علم تھا اور وہ اکثر کہتے تھے کہ اگر میرے بیٹے کو گرفتار کروایا تو میں اسے دوبارہ باہر نکلوا لوں گا۔

    15 جولائی کی قیامت خیز رات جب عینی کا قتل ہوا تو اس کی بڑی بیٹی رامین زہرہ جس کی عمر نو سال ہے اس نے اپنی ماں کا قتل ہوتے دیکھا وہ چھوٹی سی بچی جس نے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا اس کے ننھے دماغ پر کتنا بھیانک اثر پڑا ہوگا۔ پر عمر میمن، انسان نما حیوان کو زرا ترس نا آیا۔ نشے سے چور جب گھر لوٹا تو جانوروں کی طرح اپنا شکار تلاش کرنے لگا۔ بیٹی کو کیا خبر تھی کہ شکار اس ماں بن جائے گی پر ہوش تب آیا جب عمر میمن کے ہاتھوں اپنی ماں کو پیٹتے دیکھا۔ بچی تھی نا رونے سسکنے کے علاؤہ کیا کرسکتی تھی۔ جیسے جیسے رات بڑھتی گئی عمر کے تشدد میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ عمر میمن نے تشدد کر کر کے جب تھک گیا تو بیوی پہ ٹھنڈا پانی ڈالنا شروع کردیا اور ٹھنڈے پانی سے بھگانے کے بعد اےسی کے نیچے پھینک دیا۔ اتنا سب کرنے کے بعد بھی جب اس حیوان کی حیوانگی ختم نا ہوئی تو آخر میں اپنے ہی بچوں کی ماں کا گلا دبا کے عینی سے اس کی سانسیں چھین لی۔ بچے خوف کی حالت میں اس بات سے بے خبر کھڑے تھے کہ ان کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کٹوانی چاہی تو پہلے پولیس نے منع کردیا اور اب جب ایف آئی آر درج ہوگئ ہے تو پھر بھی پولیس اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہے اور وہ مسلسل اسی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ پولیس کی یہ کوشش رہی کہ جب پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ آئے تو اس میں کسی طرح ردوبدل کر کے قتل کو خودکشی کا رنگ دے دیا جائے تاکہ مجرم کو بچایا جاسکے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ مقتولہ میں شدید تشدد ہوا تھا۔ اگر اب بھی ہم چپ کرکے بیٹھ گئے تو ہمیں انصاف نہیں ملے گا اور درندہ آزاد ہوجائے گا۔ لیکن ہم چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے ہم انصاف کی خاطر لڑیں گے۔

    اسی سلسلے میں ٹوئیٹر پر ‘جسٹس فار قرةالعین’ کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔ اس کے علاؤہ مقتولہ کے لیے موم بتیاں جلا کر کئی روز تک احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے اور عینی کو انصاف دلوائیں ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا پر موجود عوام نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملزم عمر میمن کو پھانسی دی جائے تاکہ اس جیسے باقی درندوں کے لیے سبق ہو اور دوبارہ کوئی دوسری عینی ایسی حیوانیت کا شکار نا ہو۔

    ہم سب کو مل کر خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، ہمیں عینی کے ساتھ ساتھ ان تمام عورتوں کی بھی آواز بننا ہوگا جو دنیا سے ڈر کر خود پہ چپ کرکے تشدد سہتی رہتی ہیں۔ اور پھر ماں باپ کو بھی چاہیے کہ اپنے والدین ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے جب بیٹیوں کو رخصت کریں تو انھیں یہ بات ذہن نشیں کروا کے بھیجیں کہ اگر یہ انسان نما شخص جانور نکل آئے تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے واپس چلی آنا۔ اگر ایسا ہوجائے تو یقین جانیں اس دنیا میں بہت سی عورتیں شوہر کے ہاتھوں تشدد کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ جائیں گی کیونکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ماں باپ دنیا داری کا سوچتے ہوئے اور بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر چپ سادھ لیتے ہیں اور بیٹیاں ان کی عزت کا پاس رکھتے ہوئے خود پر تشدد ہونے دیتی ہیں۔

    @SeharSulehri

  • قانون کی آڑ میں لا قانونیت  تحریر  : راجہ ارشد

    قانون کی آڑ میں لا قانونیت تحریر : راجہ ارشد

    ۔

     موجودہ حکومت کو پاکستان کی بھاگ ڈور ایک ایسے وقت میں سنبھالنی پڑی جب ملک میں مسلہ ،مسائل نہیں بلکہ مسائلستان بنا ہوا تھا۔ سب سے بڑا مسلہ قانون کی بے بسی تھا۔

    یہ تو ایک حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں قانون کی ناانصافی ہو وہاں معاشرے کی مکمل بگاڑ کا سبب بنتی ہے اور یہ واحد بندہ ہے عمران خان جو مسلسل اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے۔کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہ ہو۔سب کے لیے قانون برابر ہو۔

    ہمارے ہاں مجرموں کی بھی اقسام پائی جاتی ہیں ۔پہلی قسم کے مجرم گلی محلے کے چھوٹے موٹے چور اچکے ہیں جن کو پکڑنے کے لئے قانون فورن حرکت میں آتا ہے۔فوری طور پر قانون ان چوروں کو پابند سلاسل کرتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق جیلیں لاکھوں کی تعداد میں اس قسم کے مجرموں سے بھری پڑی ہیں۔

    دوسری قسم کے مجرم وہ ہوتے ہیں جن کے پوچھے علاقے کے بااثر لوگوں کے ہاتھ ہیں۔ ان مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے قانون ان کے پشت پناہی کرنے والے بااثر لوگوں سے پوچھ کر حرکت میں آتی ہے گرین سگنل نہ ملے تو قانون اور اس کے رکھوالے چپ سادھ لیتے ہیں ۔

    تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو خود تھانے سنبھالتے ہیں مجرم بھی خود وکیل بھی خود اور خود ہی جج بھی ہیں۔
    آچھا یہ مجرم ہمارے معاشرے میں معزز بھی کہلاتے ہیں۔

    اس قسم کے مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے جاو تو پورا پولیس سٹیشن والے آپ کو اس ایف آئی آر کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنے لگ جاتے ہیں۔

    ان مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے وقت محرر کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ پولیس افسران اور اہلکاروں کو ان پر چھاپے مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ وکلا صاحبان ان کا نام سن کر کیس نہیں لیتے۔ منصف  ان کے خلاف فیصلہ نہیں لکھ سکتے۔

    مطلب ان مخصوص مجرموں نے ملک اور ریاستی اداروں کے ناک میں دم کر رکھا ہے اور حیرت انگیز طور پر ان کی تعداد بھی کم ہے۔
    ان حالات میں معاشرہ خاک آگے بڑھے گا۔
    ملک کیسے ترقی کرے گا۔
    اللہ کا کرم ہے اب عمران خان تیسری قسم کے مجرموں کو پابند سلاسل کئے جا رہا ہے تو اے پی ڈی ایم والو
    کیوں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش میں لگے ہو۔

    کب تک لاقانونیت اور دہشت پھیلانے والوں کی پشت پناہی کرو گے۔اب مزید یہ ملک ان حالات کا متحمل نہیں ہو سکتاہمیں اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس چاہیئے جس کی کوشش عمران خان کر رہا ہے۔

    @RajaArshad56

  • جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    آج کا موضوع دو جڑواں بہنوں پہ ہے جو ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہیں جی ہاں! بالکل الٹ بات ہو رہی ہے دیانت اور بد دیانتی کی کہ یہ کیسے ہمارے معاملات زندگی میں اثر انداز ہوتی ہیں
    ذندگی میں ہمارا مخلتف لوگوں کےساتھ واسطہ پڑتا ہے اور ہمیں مختلف قسم کے معاملات کرتے ہوئے زندگی گزارنی پڑتی ہے یہ معاملات یا معاہدات کسی بھی نوعیت کے ہو سکتے ہیں جیسا کہ سیاسی ،سماجی یا معاشی نوعیت کے اور یہ معاملات ہر حالت میں اکثر دونوں طرف کے لوگوں کےلیے آزمائش ہوتے ہیں کیونکہ یہاں جب اپنے نفع کو سامنے رکھا جاتا ہے تو وہیں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ دوسرے انسان کا میری وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو یہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ دوسرے فریق کو ممکنہ فائدہ ہو
    دیانت داری،ایمانداری کبھی بھی شکست نہیں کھائی سکتی اور وہیں جو بندہ خیانت کرتا ہے اسکی خیانت کبھی بھی پروان نہیں چڑھتی
    خیانت سے کمایا ہوا رزق یا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں نقصاندہ ثابت ہوجاتا ہے
    جب ہم اپنی اردگرد چیزوں کا بغور معائنہ کرتے ہیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دیانت کو فرار نہیں اور خیانت کو قرار نہیں
    مثلاً :ایک بندہ خیانت کرتا ہے حرام مال کماتا ہے اپنا معیار زندگی بلند کرتا ہے اپنے بچوں کو اعلی سکول میں پڑھاتا ہے اسکے برعکس ایک انسان رزق حلال کماتا ہے اپنے بچوں کو چھوٹے سکول میں پڑھاتا ہے اور انہیں حسب توفیق کھلاتا ہے تو اکثر دیکھنے کو یہ نتائج ملتے ہیں کہ خیانت کے مال سے معیارِ زندگی بلند کرنے والے کی اولاد بڑے سکولوں میں پڑھنے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتی اور اس غریب مگر دیانت دار اور حلال کمانے ،کھلانے والے کی اولاد پڑھ لکھ اور سنور جاتی ہے
    جو لوگ بددیانتی،دھوکہ دہی اور خیانت سے پیسہ بناتے ہیں انہیں زندگی میں کبھی بھی قرار حاصل نہیں ہوتا انکی زندگی سے سکون چلا جاتا ہے وہ اِدھر اُدھر بھٹکتے ہی رہتے ہیں جبکہ ایک دیانت دار انسان اپنے آپ کو منوا کر رہتا ہے
    جب کوئی انسان خیانت سے مال کماتا ہے یا رشتوں میں خیانت کرتا ہے تو وہ خیانت اسکی ذات پہ بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے بددیانتی،عدم سچائی اور دھوکہ دہی اسکےلیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں جیساکہ سائنسی ضابطہ ہے ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے تو یہ بات ہمارے جسم سے نکلنے والے اور ہم سے سرزد ہونے والے اعمال پر بھی پوری اترتی ہے جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ حشر کے روز سب کو ان کے اعمال کی سزا ملے کی اور جزا بھی لیکن یہ سلسلہ صرف وہیں کے لیے محدود نہیں اس پہ تو عمل دنیا میں ہی شروع ہو جاتا ہے اور انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے برے اعمال کی جو فصل بوئی تھی وہ پک کر کٹنےکو تیار ہو چکی ہے
    بد دیانتی اور دھوکہ دہی سے کام کرنے والا انسان کچھ بھی کر لے خود کو مضر اثرات سے نہ نہیں بچا سکتا کیونکہ کوئی بھی انسان قدرت کے بنائے ہوئے قوانین سے بالاتر نہیں ہوسکتا
    چونکہ دیانت اور بد دیانتی جڑواں بہنیں ضرور ہیں لیکن ہمیشہ ایک دوسرے کے الٹ کام کرتی ہیں اور انکے نتائج بھی ایسے ہی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اسلیے انکی طرف راستے بھی مختلف جاتے ہیں اور انعام بھی اب اوپر لکھی گئی مثال سے آپ لوگوں نے سمجھا ہوگا کہ دیانت کا راستہ بظاہر بہت تکلیف اور جدوجہد والا ہے جبکہ اسکا انعام دائمی خوشی ،آرام اور سکون ہے جبکہ بددیانتی کی طرف جانے والا راستہ بظاہر آسان،خوبصورت اور پر تعیش ہے جبکہ اسکا انجام رسوائی ،پریشانی اور احساسِ جرم ہے اب یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ کونسا راستہ چنتے ہیں اور ان جڑواں بہنوں میں سے کسے پسند کرتے ہیں.
    Twitter: @HusnHere