Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • نوجوان نسل اور سمارٹ فونز ۔     تحریر اویس چغتائی

    نوجوان نسل اور سمارٹ فونز ۔     تحریر اویس چغتائی

    ہماری نوجوان نسل  بہت سارے مسائل کا شکار ہے ، جسکی بہت ساری وجوہات بھی ہیں__ آج کے دور میں ہر طرف افراتفری، انتشار ، فتنہ فساد ، فرقہ واریت ، بے راہ روی، بے حسی ،درندگی ، بے حیائ پھیل رہی ہے، اور نت نئی ساری نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جس بہت بڑی وجہ موبائل فونز کا بے جا استعمال ہے ، 

    موبائل فونز یا سمارٹ فونز  نے بہت زیادہ فوائد بھی دئیے ہیں__، آج سیکنڈز میں انفارمیشنز شیئر کی جاتی ہیں  ،اس نے  ایک ملک سے دوسرے ملک تک کا فاصلہ ختم کر دیا ہے، آج گھر بیٹھے بیٹھے آپ دوسرے ملک میں موجود اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے رابطے میں رہتے ہیں ، ہر خبر سے باخبر رہتے ہیں_ گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر آنلائن جابز کی جاتی ہیں،_ تعلیم کے حصول کے لیے ہر طرح کی سہولت اب چھوٹے سے سمارٹ فون میں موجود ہے ، جس نے بہت سارے کام آسان کر دے ہیں ، اب ہر طرح کا  کام گھر بیٹھے موبائل فون پر کیا جاتا ہے،  نیز اس نے ہر طرح کے فوائد فراہم کیے ہیں ، لیکن اسکے غلط استعمال نے بہت سے مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں جو کے۔ ہماری نئی نسل کو تباہی اور بربادی کا سبب بن رہے ہیں __ 

      موبائل فون اور بے حد سوشل میڈیا ایپس نے نوجوان نسل کو اپنی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا ہے، 

    جہاں نوجوانوں کے ہاتھ میں قلم اور کتاب ہوا کرتی تھی، وہاں آج بچے بچے کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتے ہیں ،پہلے جہاں بچے  دوستوں کے ساتھ اچھی گفتگو کرتے ہوئے گھر جیا کرتے تھے ، آج کانوں میں ہینڈ فری ڈال کر گانے سنتے بجاتے  گھر جاتے ہیں،   

    پہلے وقتوں میں لوگ ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے تھے ، گھر گھر لگتا تھا، جہاں عزت احترام ، مروت ، اصول و ضوابط  ہوا کرتے تھے ،سب اک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے تھے ، احساس رکھتے تھے ، 

    لیکن آج کے دور میں موبائل فونز نے جہان ایک ملک سے دوسرے ملک تک کا فاصلہ مٹا دیا ہے ،وہی ایک ہی گھر کے اندر موجود لوگوں کو ایک دوسرے سے میلوں دور کر دیا ہے ، گھر میں موجود ہر شخص ہر وقت اپنے میں فون میں مصروف رہتا ہے، کسی کو کسی کی خبر نہیں ہوتی ، ۔۔ دن رات موبائل فون کے ایسے  عادی بن گئے ہیں کہ چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے ، کھانا کھاتے وقت بھی موبائل فون ہاتھ میں لئے رکتھے ہیں،۔۔۔ رات گئے سحر ہونے تک فون استعمال کرتے ہیں، اور دن سارا سوئے رہتے ہیں، یعنی آوے کا آوا ہی بگڑ کر رہ گیا ہے ۔۔۔

    موبائل فون کو انسان کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا لیکن ہم نے اسکا بے جا اور غلط استعمال انسان کا اپنا کیا دھرا ہے ، یہ انسان کے اپنے ہاتھ میں کی وہ اسکو کس طرح استعمال کرتا ہے__ لیکن جیسے جیسے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جاتی ہے ، نئی ایپس ، سوشل میڈیا ایپس کی بھرمار ہو رہی ہے ، جو انسانوں کو مزید اپنے اندر جھکڑںے میں کامیاب ہو رہی  ہیں،۔۔ 

    سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے جہاں لوگ آنلائن کئی لوگوں کے ساتھ  مصروف رہتے ہیں وہیں پاس بیٹھے افراد انکو نظر بھی نہیں آتے __، انسان اتنا کھو گیا ہے موبائل اور سوشل میڈیا پر کے اسکے سامنے ہونے والے کئی واقعات بھی اسے سوشل میڈیا جے ذریعے ہی پتا لگتے ہیں ، یا پھر وہ خود ان واقعات کی روک تھام کے بجائے ویاں تماشائی بن کر بس سوشل میڈیا پر ڈال کر وائرل ہونے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں، انکو یہ اندازا بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس قسم کے جرائم اور بے حیائی کے واقعات کو فرغ دے رہے ہوتے ہیں ، 

    سوشل میڈیا یا کوئی بھی موبائل ایپ اس وقت سب سے زیادہ بے حیائی کے کام کو فرغ دے رہی ہیں، مثلاً فیس بک ؛ فیس بک پر جہاں اسلامی اچھی اخلاقی پوسٹس ویڈیوز شئیر کی جاتی ہیں لیکن اس سے کئی زیادہ فحاش ، کونٹنٹ شئیر کیا جاتا ہے ، جس سے نوجوان میں بے حیائی اور برائی جنم لیتی ہے،۔۔۔ ایسی بے حیائی یا غیر اخلاقی چیزیں دیکھ دیکھ کر ہم اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اب ہمیں وہ برائی نہیں لگتی ،_ نت نئے ٹرینڈز چلتے ہیں ، فیس بک ، ٹوئیٹر ، انسٹاگرام، یوٹیوب ہر جگہ بس وائرل ہونے کے لیے ہو غلط غیر اخلاقی مواد شیئر کیا جاتا ہے،۔۔ جن کو اب غلط بھی نہیں سمجھا جاتا، افسوس کے ساتھ ہم سب اسکا حصہ بنتے جارہے ہیں۔۔۔

    ہمیں موبائل فون اور سوشل میڈیا نے اتنا جکڑ لیا ہے کی اس سے باہر آنا اب ناممکن ہو گیا ہے،۔۔ یہ سب اب آکسیجن کی طرح ضروری بن گیا ہے، اور کا سب سے زیادہ شکار ہماری نوجوان نسل ہو رہی ہے۔۔ وہ نوجواننوجوان ملک سمبھالنا تھا ، سائنس دان ، دانشور ، فلاسفرز بننا تھا ، وہ صرف و صرف تباہی و بربادی کی طرف جا رہے ہیں، اپنی روایات ، اقدار، کلچر کو فروغ دینے کے بجائے مغربی کلچر کو پرموٹ کیا جاتا ہے ، 

    موبائل فون اور سوشل میڈیا  نے جہان نوجوانوں کو وقت برباد کرنے اور اپنوں سے دور کرنے ، بے حیائی اور غلاظت میں ڈبونے میں کو کسر نہیں چھوڑی وہیں، بہت ساری بیماریوں سے دوچار کر دیا ہے، _ ڈیپریشن، سٹرس ، جسم اور پٹھوں کی کمزوری ، دلوں کی بیماریوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ،  لوگ نے فیزیکل ایکسرسائز ، چلنا پھرنا بند کر دیا ہے ،  یہاں تک کے شاپنگ تک آنلائن شروع کر دی گئی ہے ،۔ خواتین گھر بیٹھے آنلائن کھانا آرڈر کرتی ہیں۔۔ جس نے ہر انسان ، مرد عورتوں کو نکارا کر دیا ہے۔۔۔_  خود کشی کی شرح   بھی خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے ، 

    میں موبائل فون کے استعمال کی خلاف ہر گز نہیں ہوں ، لیکن موجودہ صورت حال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکی  ،۔۔ الغرض یہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے، موبائل فون کی ایجاد یا نئی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا  ہر گز غلط نہیں ہے ، اسکے فوائد نہایت قابلِ قدر ہیں ، لیکن اسکا غلط استعمال اور اسکے نقصانات انتہائی بربادی کی طرف لے جا رہے ہیں، خاص کر مسلمان معاشرہ بہت متاثر ہو رہا ہے، سب سے پہلے والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو بالغ ہونے تک موبائل فون سے دور رکھیں ،اور انکی تعلیم پر خاص توجہ دیں ، اور انکی اسلام کے مطابق تربیت کریں ، اور ہم نوجوان پر لازم ہے کہ برائی سے بچیں، بے حیائی کی روک تھام کریں،۔۔۔ اور معاشرے کو غیر اخلاقی ، چیزوں سے محفوظ رکھیں  ، اور اسلامی تعلیمات پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کر تلقین کریں ، ۔۔۔ کیونکہ یہ آپکے اپنے ہاتھ میں ہے آپ اسکا استعمال کیسے کرتے ہیں ، ۔۔۔۔آپ سارا الزام سوشل میڈیا اور موبائل فون پر نہیں ڈال سکتے ،۔۔ یہ آپکے اختیار میں اپ سکا استعمال کیسے کرتے ہیں ، اور حکومت کا بھی فرض ہے وہ غیر اخلاقی و قانونی مود پو پابندی لگائیں ،۔۔

     معاشرے کا اعلیٰ  اخلاق کو برقرار رکھنے کے لیے ہر شخص کو کردار ادا کرنا ہوگا__ 

  • سیر وسیاحت تحریر:سعد اکرم

    سیر وسیاحت تحریر:سعد اکرم

     

    دنیا بھر میں سیاحت کا شعبہ سیر وتفریح ہی نہیں بلکہ اب موجودہ دور میں معیشت کا ایک پہیہ بن چکا ہے  اور دنیا بھر میں ہر سال 27 ستمبر کو یوم سیاحت منایا جاتا ہے سیاحت کی وجہ سے ایک ملک کے شہریوں کو دوسرے ملک دیکھنے کا شوق اور موقع ملتا ہے   سیاحت کے شعبہ میں سب سے پہلے سوئٹزرلینڈ  آسٹریا مریکہ کی کچھ ریاستیں جرمنی فرانس برطانیہ جہاں پر سیر وتفریح کے مقامات کے علاوہ سیر وتفریح کی سہولیات دی جاتی ہیں جس سے زرمبادلہ کا تبادلہ مختلف ملکوں کے درمیان جڑا رہتا ہے پاکستان میں 80 کی دہائی کے بعد پاکستان کے شمالی علاقہ جات خیبر پختون خواہ کے علاقے سوات مالم جبہ چترال شانگلہ کوہستان گلیات کاغان ناران  شوگران اور گلگت بلتستان کے خوبصورت مقامات غیر ملکی سیاحوں کی دریافت ہیں پنجاب میں بھوربن مری کیھوڑہ بہاولپور ڈیرہ غازی خان کے مقامات بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں

    سیاحت ایک شوق ہی نہیں بلکہ کل وقتی صنعت ہے اس سے وابستہ افراد ہوٹل ٹرانسپورٹ ٹریولنگ ایجنسی اور خوراک کی سہولیات دیتے ہیں لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے دوسرے ممالک کی طرح اب پاکستان میں بھی سیاحت ایک ادارہ بن کر فروغ پا رہی ہے جس میں حکومتی اور سماجی شراکت دار نہ خود مستفید ہوتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے کاروبار میں معاون کا کردار بھی ادا کرتے ہیں سیاحت انڈسٹری کی شکل اختیار کرنے کے بعد جہاں پر لاکھوں لوگ نہ صرف روزگار حاصل کرتے ہیں وہاں پر کروڑوں افراد سیر وسیاحت کرتے ہیں خن کیلئے ان سیاحتی مقامات پر  

    سرکاری یہ غیر سرکاری طور پر رہائش کھانا یہ ٹرانسپورٹ کے نرخنامے مقرر نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے ان سیاحوں سے سیاحتی انڈسٹری کا درجہ رکھنے والے افراد دگنا ریٹ وصول کرتے ہیں جس میں سیاحت کو کمی کا خطرہ ہے اس طرح سیاحتی ایریا جہاں پر خوبصورت مقامات موجود ہیں وہاں پر پختہ سڑکیں نہیں بنی ہوئی جس کی وجہ سے سیاحوں کو وہاں پہنچنا دشوار ہوتا ہے ایک طرف سیاحوں کو وہ مقامات دیکھنے کا موقع نہیں ملتا دوسری طرف ان ہی مقامات پر کھانے پینے یہ دیگر سہولیات کی فراہمی کے انتظامات نہ ہونے سے مقامی افراد بے روزگاری کا شکار ہیں اگر سیاحت کا دعوٰی سچ ثابت کرنا ہے تو حکومتوں کو ان مقامات کیلئے سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی طرف شعور اور آگاہی اجاگر کرنا اور ٹیکس کی شرائط ختم کرنا ہوں گی کاغان ویلی میں اب بھی پہاڑوں پہ کئ ایسی جھیلیں موجود ہیں جہاں پہ سیاح یہ مقامی افراد نہیں جا سکتے ہیں اس ویلی کی سب سے خوبصورت جھیل دودی پت سر پہ جانے کیلئے آپ کو دو دن پیدل ٹریک پر سفر کرنا پڑتا ہے بابو سر ٹاپ کے پاس دو خوبصورت جھیلیں موجود ہیں  دھرم سر جھیل اور سمبک سر جھیل جن پر سیاح اپنی فیملیز کے ساتھ نہیں جا سکتے وہاں پر کئ بار سیاحوں کے ساتھ لوٹ مار کے واقعات رونما ہوئے ہیں یہ علاقہ سال میں صرف پانچ مہینے کھلا رہتا ہے باقی برفباری کی وجہ سے سارا سال بند رہتا ہے اور یہی شاہراہ گلگت تک جاتی ہے صوبائی حکومت کو چاہیئے اس راستے پر پولیس چوکیاں قائم  کی جائیں تا کے سیاح اور مقامی افراد بھی بغیر کسی خوف خطرے  دن رات سفر کر سکیں یہ مقامی لوگوں کیلئے بہت فائدے مند ثابت ہو گا کیونکہ مقامی آبادی ٹورازم سے وابستہ ہے اور اس سے مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے گزشتہ دنوں جب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ناران تشریف لائے تھے تو انھوں نے بھی ٹورازم کو پروموٹ کرنے کی بات کی تھی جو کچھ حد تک درست ثابت ہوئ جن میں کاغان ویلی سے اب جنگلات کا کٹاو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے بے دریغ جنگل سے لکڑی کاٹ کے سمگل کی جاتی تھی ٹراوٹ فش جو دریائے کنہار کی ایک نایاب سوغات ہے اور بلکل ختم ہونے کے قریب تھی  اس کے شکار پر بھی پابندی لگائ گئ اور شکار کرنے والوں کو  جرمانے اور سزائیں دی گی پاکستان میں دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑ اور ان پہاڑوں پہ چار موسم اور خوبصورت جنگلات لہلہاتے کھیت اور درجنوں آبشار کھلے میدان اور پرانے قلعے سیاحت کے حب ہیں ضرورت اس امر کی ہے ان سیاحتی مقامات تک رسائی قمیتوں میں کمی اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے

    @SaadAkram_9           twiter handle

  • ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا مستقبل اور ماضی میں جانا تحریر اصغر علی                                    

    ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا مستقبل اور ماضی میں جانا تحریر اصغر علی                                    

                   

    ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آج کی دنیا  میں جب سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے ممکن ہے یا نہیں اسی موضوع پر آج کا کالم ہے
    انسان کی خواہشات لامحدود ہیں سائنس میں آج اتنی ترقی کرنے کے بعد انسان وہ سب کچھ کرنے کی خواہش رکھتا ہے جو آج سے سو سال پہلے کا انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن آج بھی سائنس کی بے انتہا ترقی کے باوجود بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس میں انسان بے بس نظر آتا ہے اور بہت سے ایسے سوالات انسان کے سامنے آتے ہیں کہ جن کے جوابات ابھی تک اسے نہیں مل پائے انہی سوالوں میں سے ایک سوال ٹائم ٹریولرز یا وقت میں سفر کرنا ہے جس کا مطلب آپ اپنے مستقبل سے ماضی میں یا ماضی سے مستقبل میں جا سکیں یہ سب جانتے ہیں کہ گیا وقت کبھی ہاتھ میں واپس نہیں آتا ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آخر ہے کیا اس کی اسان مثال لی جائے ہم سب وقت میں آگے کی طرف سفر کر رہے ہیں اور ہر سال ہماری سالگرہ منائی جاتی ہے اور ہماری زندگی میں ایک سال مزید شامل ہو جاتا ہے لیکن ہم سب کی کی رفتار ایک جیسی ہوتی ہے ہم ایک سیکنڈ میں ایک سیکنڈ ہی گزارتے ہیں کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم وقت میں تیزی سے سفر کرتے ہوئے آگے نکل جائیں یا وقت سے پیچھے رہ جائیں اس پر کافی سائنسدانوں نے اپنی تھیوریز پیش کی  ہیں کچھ کا خیال ہے یہ ممکن ہے اور کچھ کا خیال ہے یہ محض ایک کہانی ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں سب سے مشہور تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو سمجھا جاتا ہے دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار روشنی کی ہوتی ہے اور کوئی بھی روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتا ایک اور مثال میں اگر اس کو سمجھیں تو وہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر ہم ایک ٹرین کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمیں سامنے والا انسان جو ہمارے سامنے بیٹھا ہے وہ اور جتنے بھی لوگ اس ڈبے میں یا اس کیبن میں بیٹھے ہوئے ہیں ہمیں وہ ساکن نظر آئیں گے کیونکہ وہ ہمارے لئے ساکن ہے اس کے برعکس اگر کوئی باہر سے ٹرین کو دیکھتا ہے تو اس کو وہ سب انسان حرکت کرتے ہوئے نظر آئیں گے جو ٹرین میں بیٹھے ہوئے ہیں اس لیے ہر انسان کا وقت اس کے اپنے حساب سے گزرتا ہے ہے ایک تو یہ تھیوری ہے آئن سٹائن کی اور اس کا ایک اور پہلو کچھ اس طرح ہے  فرض کریں کوئی بھی شخص ایک سپیس شپ میں روشنی کی رفتار سے سفر کر رہا ہے ہے تو کچھ سالوں بعد تھیوری آف ریلیٹیویٹی یا آئنسٹائن کے مطابق وہ اپنے ہم  عمر جڑواں بھائی جو زمین پر ہے اس سے چھوٹا رہ جائے گا کیوں کہ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کی وجہ سے اس کا وقت آہستہ گزر رہا ہے اس کو ٹائم ڈائیلیشن کہتے ہیں یا آپ کو ایک بات اور بتاتے چلیں کہ مشہور سائنسدان آئنسٹائن کے مطابق وقت چو تھی ڈائمنشن ہیں جبکہ باقی تین ڈائمینشن میں لمبائی چوڑائی اور اونچائی شامل ہیں یہ تینوں ٹائم نشنز ہمیں لوکیشن بتاتی ہے اور چوتھی ڈائمنشن ہمیں ڈائریکشن بتاتی ہے اور یہ صرف آگے کی طرف جاتی ہے یعنی وقت ہمیشہ آگے کی طرف سفر کرتا ہے کبھی واپس پیچھے کی طرف نہیں آتا وقت میں سفر کرنے کا ایک طریقہ وارم ہول یعنی ہم ایک ایک ہول سے داخل ہوں اور اس کا دوسرا سرا آج سے سو سال سال پیچھے یا سو سال آگے ہوگا لیکن یہ سب چیزیں میں اور اور فلموں میں دکھائی جاتی ہے کیونکہ حقیقت میں اس طرح کے ہول نہ آج تک دریافت ہوئے ہیں اور نہ ہی کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتہ ہے تو ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں جتنی بھی باتیں ہیں وہ محض کہانیاں اور افسانے ہیں ہیں کسی بھی سائنسدان نے آج تک کیا کسی بھی انسان نے آج تک وقت پر سفر نہیں کیا یعنی ٹائم ٹریول نہیں کیا اور یہاں پر ٹائم ٹریول کے بارے میں کافی سارے لوگوں نے کافی اعتراضات بھی کئے ہیں جن میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی انسان ٹائم ٹریول کرکے اپنے ماضی میں جاتا ہے تو کیا وہ اپنی ماضی میں کی ہوئی غلطیوں کو سدھار سکتا ہے  یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماضی میں جائیں اور اپنے دادا یا پر دادا کو قتل کردے اب دادا یا پر دادا ہی نہیں رہے تو اس شخص کا پیدا ہونا کیسے ممکن ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں بہت سارے لوگوں نے اپنے بہت ساری جھوٹی کہانیاں انٹرنیٹ پر ڈالی ہوئی ہیں جس میں  ایک کہانی ہے کہ ایک انسان نے سن دو ہزار سے سن دوہزار 36 میں گیا اور  واپس آیا کچھ دنوں تک وہ لوگوں کے میسجز اور پیغامات کا جواب دیتا رہا اور بعد میں وہ غائب ہو گیا غرض ٹائم ٹریول کے بارے میں آج تک جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں ان میں آج تک کوئی بھی اتھنٹک نہیں ہے لوگ ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں سب سے زیادہ اتھنٹک تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو ہی سمجھتے ہیں            

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @ali_ajkpti

  • خودی کی تلاش تحریر : اسامہ جہانزیب خان

    خودی کی تلاش تحریر : اسامہ جہانزیب خان

    انسان پیدا ہوتا ہے اور اس کی دنیا کے معاملات شروع ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے دنیا کے معاملات میں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اپنے آپ کو تلاش کرنا ہی بھول جاتا ہے وہ بھول جاتا ہے کہ وہ بھی ایک انسان ہے وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی بھی اپنی کچھ خوشیاں ہیں وہ بھول جاتا ہے کہ اس کو خود کو تلاش کرنا ہے تاکہ اس کی مشکلات کم ہو سکی اگر انسان خود کو تلاش کرلے تو بہت سی مشکلات ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ جب انسان خود کو تلاش کر لیتا ہے تو اس وقت وہ پھر اپنی خامیوں پر کام کرتا ہے تاکہ کسی دوسرے انسان کے سامنے اس کو شرمندہ نہ ہونا پڑے لیکن بہت سے ایسے لوگ ہیں جو خودی پر کام نہیں کرتے جیسے اقبال کا شعر ہے نا خودی کو کر بلند اتنا کہ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے اس میں علامہ اقبال صاحب فرمانا چاہ رہے ہیں کہ اے  بندیاں سب سے پہلے تو خود کو تلاش کر تجھے دنیا میں لائے اس لئے گیا تجھے دنیا میں لے کے آنے کا مقصد کیا تھا یہ اللہ تعالی نے کس لئے پیدا کیا جب تو یہ مقصد سمجھ جائے گا تو پھر اپنی خامیوں پر کام کر تاکہ تو ایک قابل انسان بن سکے جب تو اپنی خامیوں پر کام کرنے اور اپنی خودی کو پہچان جائے تو تب خدا بھی تم سے پوچھے گا کہ بتا تیری رضا کیا ہے لیکن اس سے پہلے جو اہم بات ہے وہ خود ہی ہے یہ خود ہی وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بنائے رکھتی ہے انسان کے اندر انسانیت پیدا رکھتی ہے اور انسان کو دوسروں کے ساتھ میل جول رہن سہن کے طریقے بتاتی ہے کیونکہ جب انسان خود کو پہچان جاتا ہے اور اپنی خامیوں پر کام کر لیتا ہے تو سب لوگوں کے لیے بھی اہم ہو جاتا ہے اور اس کا کردار بہت اعلی ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا اخلاق ہی اتنا اچھا ہو جاتا ہے قسم لوگ اس کی طرف اور اس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کیوں کہ اس کے ساتھ رہ کر ایک الگ ہی مزا آتا ہے یہ محبت یہ لگن اللہ طرف سب انسانوں کے دلوں میں ڈالی جاتی ہے جب انسان خودی کو پہچان جاتا ہے اردو سروں کے ساتھ بھی پیارا خلوص کے ساتھ پیش آتا ہے۔ آج بہت سے لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جن میں سے یہ مسئلہ ہے وہ پیار اخلاق سے بات نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے ان کے گھر بار تباہ ہو جاتے ہیں لیکن نہ تو اپنی خودی کو پہچاننا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے لئے انکی انا سب سے زیادہ ہے سب سے بڑی ہے کاش ہم اس بات کو سمجھیں اور خودی پر کام کریں اور اخلاق سے سب لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں اگر ایسے کرنے لگ جائے تو آدھے سے زیادہ مسئلہ تو یہی حل ہوجائیں گے جب ہم سب کے ساتھ پیار محبت اور اخلاق کے ساتھ بات کرنا شروع کر دیں گے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان پیار کا بھوکا ہوتا ہے جہاں اس کو پیار ملتا ہے وہی جاتا ہے تو کیوں نا انسان اس کو دیکھ کر کام کرتے ہوئے پیار اخلاق ان سب چیزوں کو اپنی زندگی میں لے کر آئے تاکہ اس کی زندگی خوشحال بن سکے اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو اللہ تعالی بھی خوش ہوتے ہیں کہ یہ میرے بندے میری عبادت بھی کرتے ہیں اور میرے بندوں کے ساتھ پیار اخلاق سے پیش آتے ہیں جیسے مجھ سے امید رکھتے ہیں اگر انسان اپنی خودی کو پہچان جائے تو اس کے ساتھ کامیاب انسان پوری دنیا میں اور آخرت میں نہیں پایا جائے گا انسان کی سب سے بڑی مثال ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

    Twitter handle: @usamajahnzaib

  • پاناما پیپرز کے بعد پینڈورا پیپرز : تحریر سید محمد مدنی

    پاناما پیپرز کے بعد پینڈورا پیپرز : تحریر سید محمد مدنی

    پہلے پاناما پیپرز آئے جس میں دنیا جہان کے لوگوں کی آفشور کمپنیوں سے متعلق انکشافات ہوئے کہ ٹیکس سے بچنے کے لئے یہ کام کرتے تھے اور اربوں کھربوں پیسہ اکاؤنٹس میں ہوتا تھا اس کے بعد اب پینڈورا پیپرز کا کچھ دن پہلے انکشاف ہؤا ہے.

    پینڈورا پیپرز بھی دراصل پاناما پیپرز کی دوسری قسط ہے اور اس بار حکومتی جماعت کے وزراء کے بھی نام سمیت کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران کے نام بھی سامنے آئے ہیں.

    وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف پہلے دن سے کھڑے ہیں اور مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یہاں تک کہا کہ سب چیزوں پر بات ہوسکتی ہے مگر کرپشن پر نہیں.

    حکومتی وزراء کے نام آنے کے بعد ان وزراء نے برملا کہا کہ جلد از جلد کمیشن تشکیل دے کر سوالات اور تحقیقات کی جائیں بلکہ مجھ سے شروع کریں سب واضح کروں گا.

    وزیراعظم عمران خان نے ایک اعلی سطح کا کمیشن مقرر کروایا ہے جو تحقیقات کرے گا اور ایف بی آر ایف آئی اے نیب جیسے ادارے پھر مزید کام کو آگے بڑھائیں گے.

    حکومتی وزراء کا یہ عمل احسن ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم کسی کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں برتیں گے وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں سب سے سوالات ہوں گے تحقیقات ہوں گی اور جو بھی قصور وار ہوگا سزا کا مستحق ہوگا.

    اب بات کرتے ہیں کچھ ریٹائرڈ فوجی حضرات کی ایک ریٹائرڈ فوجی نادر پرویز صاحب جن کا کہنا ہے کہ ٦٥ کی کچ کی لڑائیوں”کے ران” کا ہیرو ہوں ٦٥ اور ٧١ کی جنگوں میں دو ستارہ اول جرات بہادری ایوارڈز کے وصول کئے ملٹری کراس یا سلور سٹار کے برابر ایوارڈ ملا آئی سی آئی جے نے ایک پاکستانی ہیرو کو بدنام کیا ہے کوئی آفشور کمپنی نہیں.

    اگرچہ کوئی بھی انسان فرشتہ نہیں لیکن کہیں نا کہیں کوئی گڑبڑ ضرور ہے آئی سی آئی جے ہر ہرگز ہرگز شک نہیں مگر کچھ صحافی باقاعدہ کسی نا کسی سیاسی پارٹی کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں اور وہ بیانیہ ریاست کے خلاف والا بیانیہ ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ادارے کا سہارا لے کرچند خاص شخصیات کو بدنام کیا جا رہا ہے ﷲ بہتر جانتا ہے کیونکہ غیب کا تو علم اسے ہی ہے.

    پاکستان مسلح افواج کا معیار اور لیول تو دنیا جانتی ہے کہ کس قدر پروفیشنل ہوتے ہیں مگر یہ صاف ظاہر ہوتا کے کہ کچھ بہت بڑی گڑبڑ ہے.

    اگر سول ادارے کی بات کی جائے تو وزیراعظم برملا کہہ چکا کہ تحقیقات اور پھر الزام درست ثابت ہونے پر کاروائی کی جائے گی.

    جب پینڈورا پیپرز سامنے آئے تو وزیراعظم کے لاہور زمان پارک والے گھر کے تعلق کو ان پیپرز سے جوڑا گیا جبکہ لاہور کا ریہائشی فرید الدین سامنے آیا اور اس نے بیان دیا کہ یہ میری کمپنیاں ہیں انھیں وزیراعظم سے جوڑا جا رہا ہے جو غلط ہے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ وزیراعظم کے خلاف بھی ایک کیمپینگ شروع کی گئی جو ناکام ہوئی کیونکہ جھوٹ پر مبنی جو تھی کیونکہ مخالفین بھی یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران کرپٹ نہیں.

    پہلے کچھ عناصر نے ڈان لیکس کروایا تو ریاست کا ایک ستون بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اب دوبارہ اسی ریاستی ستون کو ٹھیس پہنچانے کے لئے کام کیا گیا جو الحمدلله ناکام ہؤا لیکن ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کسی نا کسی چیز کا سہارا لے کر کسی کو بدنام کرتے ہیں جبکہ ثبوت نہیں ہوتے اور پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا کہ جب اثاثے ڈکلیئرڈہیں تو پھرصحافت کے پیشے سے تعلق رکھنے والے عناصر نے ادارے آئی سی آئی جے کو انفارم کیوں نہیں کیا.

    اس طرح سے بہت سے سوالات جنم لیتے جا رہے ہیں دعا ہے کہ ﷲ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین.

    انھی الفاظ کے ساتھ یہ تحریر بھی اختتام پذیر ہوتی ہے.
    .

    "Syed Muhammad Madni is a freelance journalist who write columns for Baaghi Tv. Follow him on Twitter @M1Pak.

    https://twitter.com/M1Pak.

  • الفاظ کی اہمیت، انتخاب اور نرم مزاجی تحریر: علی حمزہٰ

    الفاظ کی اہمیت، انتخاب اور نرم مزاجی تحریر: علی حمزہٰ

    الفاظ کی ہماری زندگی میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ آپ کسی سے بات کرتے ہوئے کس قسم کے الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں یہ آپ کی شخصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بلکہ سامنے والے کے دل پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے کہ آپ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں تو آپ کو بہترین الفاظ کا انتخاب کرنا چاہیے۔

    انسان کے دماغ میں جو کچھ چل رہا ہوتا ہے وہ اس کے رویے کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ ہم لوگ اکثر دورانِ گفتگو یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہمارے منہ سے نکلنے والے الفاظ کی وجہ سے کسی کے دل کو ٹھیس بھی پہنچ سکتی ہے۔ لہٰذا الفاظ ہی ہیں جو کسی بھی شخص کی تربیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے استعمال کیے ہوئے غیر ضروری الفاظ کے اثرات کا اندازہ بھی ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہمیشہ اچھے اور معیاری الفاظ کا استعمال کیا جائے۔

    گفتگو میں مٹھاس اور لہجے میں نرم مزاجی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لب مبارک سے کبھی ایسی بات نہیں نکلی جس کی وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو اتنی آرام اور ٹھہر ٹھہر کر فرماتے کہ اگر کوئی شخص آپ کے الفاظ مبارک کو گنتی کرنا چاہے تو آرام سے کر لیتا تھا۔

    ” اور اے محمدؐ، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے”

    قرآن سورت الاسراء آیت پینتیس میں ہمیں صرف وہی کہنے کی ہدایت دیتا ہے جو بہترین ہے۔ انہیں ہمیشہ اچھے الفاظ کہنے کی عادت رکھنا چاہئے۔ (۱۷:۳۵)

    ہمیشہ وہی بات کرنی چاہیے جو سچی، صحیح اور کھڑی ہو۔ جھوٹی اور غیر معیاری گفتگو کرنے سے پہلے یہ معلوم ہو جانا چاہیے کہ اس کے برے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    اور زمین پر اتراتا ہوا نہ چل بے شک تو نہ زمین کو پھاڑ ڈالے گا اور نہ ہی بلندی میں پہاڑوں تک پہنچے گا۔ ۱۷:۳۷ ۔

    زبان کے استعمال کے متعلق سورۃ آل عمران آیت نمبر ۱۶۷ میں اللہ منافقوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ الفاظ کو اس طرح چبا کر بولتے ہیں، جس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اُن کا مقصد کیا ہے ،

    "وہ اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللّٰه اس کو خوب جانتا ہے۔” ہمیں اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ جب بھی بولو بات واضع ہو، اور ذو معنی الفاظ نہ استعمال کیے جائیں۔ یہی بات اللہ سورۃ البقرۃ میں آیت نمبر ۴۲ میں فرماتا ہے، باطل کو سچائی کے ساتھ گھول کر غلط بیانی سے لوگوں کو مغالطہ میں مت ڈالو۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش نا کرو۔[۲:۴۲] جب الفاظ اخلاص اور یقین کے ساتھ نہیں بولے جاتے ہیں تو، الفاظ اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔ انسان کے اعتقادات بے معنی ہیں جب تک کہ اس کے کردار اور طرز عمل ان عقائد کا عملی ترجمہ نہ ہوجائیں۔ جب کسی انسان کا طرز عمل اس کے الفاظ کی عکاسی کرتا ہے ، چاہے یہ الفاظ کتنے ہی سادہ اور عام ہوں، لوگ اس پر اعتماد کریں گے اور اسے سنجیدگی سے لیں گے۔ ان الفاظ کی طاقت اور اثر کو اس میں پوشیدہ اخلاص اور ایمانداری لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، جس انداز میں وہ بولے جاتے ہیں، وہ بیانات یا فصاحت سے نہیں بلکہ جن الفاظ میں مخاطب کیا جا رہا ہو وہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ایسے بول اپنے آپ میں خود ایک طاقت ہوتے ہیں۔

    ایک اور جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے کے درجہ کو حاصل کرلیتا ہے۔ (ابوداؤد)۔

    اللہ رب العزت کے حضور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • بغض عمران خان تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    بغض عمران خان تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    عمران خان نے اپنی حکومت پاکستان میں سن 2018 میں بنائی اس سے پہلے تیس سال نواز شریف پاکستان پر حکومت کرتے رہے اور دیگر پارٹیاں بھی اپنے حصے کی حکومت کرتی رہی عمران خان کی حکومت سے پہلے نواز شریف کی حکومت تھی جو کی کرپشن کیس کی وجہ سے ان کو وزیراعظم گھٹا دیا گیا تو اس کے بعد شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے معمول کے مطابق مختلف ممالک کو کا دورہ کیا جس میں امریکہ بھی شامل تھا لیکن جب انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تھا امریکہ والوں نے ایئرپورٹ پر ہیں ہمارے نئے نویلے وزیراعظم کی پینٹ اتر وادی اور چیکنگ کی نون لیگ پارٹی کو اس وقت شرم نہ آئی لیکن جب عمران خان کی حکومت آئی تو کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جس سے عمران خان بد نام ہو سکیں جب کوئی ایسا موقع نہ ملا عمران خان کو بد نام کرنے کا تو عمران خان کے ایک وزیر کی فوٹو کہیں سے بنوا کر سوشل میڈیا پر لگا دیں کہ یہ امریکہ میں پینٹ کروا رہے تھے یہ لوگ بغض عمران میں اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ ان کو ملک پاکستان کی کوئی پرواہ نہیں ہے ان کو صرف فرق پڑتا ہے تو اپنی سیاست سے اپنے اقتدار سے اور اپنے پیسوں سے لیکن ان کو ملک سے کوئی پروا نہیں ہے پر ہوگی بھئی کیسے 30 سال جو عوام کا پیسہ کھاتے رہے آپ جب پاکستان کو ایک مخلص لیڈر ملا ہے تو ان سے کیسے برداشت ہوگا کیونکہ ان کے کمانے کا ذریعہ تو یہی تھا جو عمران خان نے بند کر دیا یہ عمران خان کو اس حد تک برا کہتے ہیں کہ یہ مسلمان ہی نہیں ہے اگر عمران خان مسلمان نہیں ہے تو اس نے رحمۃاللعالمین تھوڑی کیوں بنائی اگر عمران خان مسلمان نہیں ہے تو اس نے امریکہ کو منھ توڑ جواب کیوں دیا اگر عمران خان ملک پاکستان کے لیے مخلص نہیں ہے تو آج  پوری دنیا پاکستان کے گیت کیوں گا رہی ہے ان کے دور میں انہوں نے یہ گیت کیوں نہیں گئے کیونکہ ان کا دھیان صرف اور صرف کرپشن پر تھا نہ کہ ملک کو آگے لے جانے میں ان کے دور میں پاکستان تنہا رہ گیا تھا پوری دنیا میں آج جب پاکستان دوبارہ ابھر رہا ہے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے اور ہوگی بھئی کیسے نہیں یہی تو وہ لوگ تھے جو پاکستان کو ٹانگوں سے پکڑ کر نیچے کھینچ رہے تھے یہی تو وہ لوگ تھے جو ڈرون حملوں کے پیسے لے کر چپ کر جاتے تھے یہی تو وہ لوگ تھے جو اپنی جیبیں بھاری کرتے تھے اور عوام پر تشدد اور ظلم کرواتے تھے آج جب ان کو نظر آرہا ہے کہ عوام کے سامنے ہمارا سچا رہا ہے اور کل کو ہم یہ سب کچھ نہیں کر پائیں گے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے اور یہ بغض عمران میں اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کاش انہوں نے ایک بار بھی پاکستان کے لیے سوچا ہوتا تو آج پاکستان بہت آگے ہوتا یہ عمران خان سے سوال پوچھتے ہیں کہ تم نے تین سالوں میں کیا کیا لیکن ہم ان سے سوال پوچھتے ہیں کہ آپ نے تیس سالوں میں کیا کیا یہ چاہتے ہیں کہ جو تیس سالوں میں انہوں نے کیا وہ یہ تین سال میں عمران خان کر کے دکھا دے لیکن یہ راضی تب بھی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی کرپشن کا راستہ بند ہو چکا ہے پاکستانی عوام کو سمجھنا چاہیے پاکستان کے لیے کون مخلص ہے اور پاکستان کے لئے کون بہتر کام کر رہا ہے اور پاکستان کو آج اس مقام پر کون لے کر آیا ہے جہاں امریکہ جیسا سپرپاور بھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان ایسے ہی ترقی کرتا رہے تو بغض عمران سے ہٹ کر پاکستان کے لئے سوچیں تاکہ ہم سب مل کر پاکستان کو آگے لے کر جا سکے

    Twitter Handle : @WaseemjuttMalik

  • کشمیریوں کا سکندر – سکندر حیات خان تحریر : تابش عباسی

    کشمیریوں کا سکندر – سکندر حیات خان تحریر : تابش عباسی

    آج کی تحریر ارض وطن ، کشمیر کے اس بیٹے کے نام جس کو دنیا سردار سکندر حیات خان کے نام سے جانتی تھی – جس کا نام ہی ” حیات ” ہو اس کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے وقت ہاتھ اور بولتے وقت زبان ساتھ چھوڑ جاتی ہے-

    سردار سکندر حیات احمد خان یکم جون 1934 کو کشمیر کی ایک مشہور سیاسی گھرانے ، سردار فتح محمد کریلوی کے گھر پیدا ہوئے -آپ کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل نکیال سے تھا ۔

    سردار سکندر حیات خان صاحب نے ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں کریلہ اور کوٹلی سے ہی حاصل کی – آپ نے 1956 میں گارڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن مکمل کی اور 1958 میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی لاہور کا انتخاب کیا –

    وکالت کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد واپس کوٹلی تشریف لائے اور بار کونسل کے صدر بھی منتخب ہوئے -1972 میں پہلی مرتبہ ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہوئے اور وزیر مال بنے –

    1970 سے لے کر 2001 تک سردار سکندر حیات خان صاحب ہمیشہ الیکشن جیت کر اپنے حلقے سے ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہوتے رہے – ایک دو مواقع پر آپ ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب نہ ہوئے کیونکہ آپ آزاد کشمیر کے صدر کے عہدے پر فائز تھے- اس دوران آپ کے بھائی سردار محمد نعیم انتخابی سیاست میں حصہ لے کر ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوتے رہے -1985-90 اور 06-2001 کے دو ادوار میں وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر منتخب ہوئے-

    آپ پوری عمر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھ ہی منسلک رہے پر 2011 میں جماعت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن (آزاد کشمیر) بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا- مگر ایک بات ، جس کا گلہ سردار سکندر حیات خان صاحب کے اکثریتی کارکنوں کو تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر ، سردار سکندر حیات خان صاحب کو وہ عزت ، وہ مقام ، وہ رتبہ نہ دے سکی جو سردار صاحب کے شایان شان تھا ۔فروری 2021، میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و قاہد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے دھیرکوٹ کے ایک جلسہ میں دعویٰ کیا کہ ” انشاء اللہ ، اپنی زندگی میں مجاہد اول سردار عبد القیوم خان صاحب والی مسلم کانفرنس کو بحال کروں گا ” – اس دعویٰ میں پہلا قدم ، سردار سکندر حیات خان صاحب کی مسلم کانفرنس میں واپسی کی صورت میں تھا – سردار سکندر حیات خان صاحب نے جماعت میں واپسی کا کریڈٹ چیئرمین یوتھ ونگ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عثمان علی خان کو دیا اور عثمان علی خان کی سیاسی تربیت کی کھل کر تعریف بھی کی -سردار سکندر حیات خان صاحب کی مسلم کانفرنس میں واپسی کے اعلان کے بعد ، سردار سکندر صاحب کے صاحبزادے سردار فاروق سکندر ( جو اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی حکومت میں وزیر مال تھے) نے والد کے فیصلے کی تائید کی اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں واپسی کا فیصلہ کیا اور اپنی رکنیت سازی کی تجدید کی –

    سردار سکندر حیات خان صاحب کے دور حکومت میں آزاد کشمیر میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے جن کی مثال آج بھی کہیں کہیں ہی ملتی ہے – آزاد کشمیر میں سڑکوں کا جال بچھایا ، تعلیمی اصلاحات پر کام کیا اور سب سے بڑھ کر مجاہد اول سردار عبد القیوم خان صاحب کے دست و بازو بن کر "کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے خوب جدوجہد کی-

    نہ صرف آزاد کشمیر ، بلکہ پاکستان کے سیاستدان بھی سردار سکندر حیات خان کی سیاسی بصیرت کے مداح تھے – بھٹو دور ہو یا ڈکٹیٹرشپ ، میاں صاحب ہوں یا بی بی شہید ، پرویز مشرف ہو یا کوئی بھی سیاسی حریف و حلیف ، سردار سکندر حیات خان صاحب سب کے ساتھ ان کے انداز سے چلنا جانتے تھے – پر جہاں مزاحمت کی ضرورت پڑی ، وہاں تاریخ نے دیکھا کہ سردار سکندر حیات خان ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے-

    9 اکتوبر 2021 ،کو سردار سکندر حیات خان صاحب کی جب کوٹلی میں وفات ہوئی تو پورے دنیا میں پسنے والے کشمیری بالخصوص جبکہ ان کے سیاسی پیروکار بالعموم افسردہ تھے – کشمیری قوم تو ابھی سید علی گیلانی صاحب و شیخ تجمل صاحب کا دکھ نہ بھولی تھی کہ سردار سکندر حیات خان صاحب بھی داغ مفارقت دے گئے – شاید اسی موقع کے لیے شاعر نے کہا تھا کہ

    کوئی روکے کہیں دست اجل کو

    ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں

    سردار سکندر حیات خان صاحب کی وفات پر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو آنسو بہاتے اور غمگین دیکھا- سردار سکندر حیات خان صاحب کی تدفین ان کے والد محترم سردار فتح محمد کریلوی کے پہلو میں کریلہ کے مقام پر کی گئی -اللہ تعالیٰ سردار سکندر حیات خان صاحب کی بخشش و مغفرت فرمائیں اور تحریک کشمیر و تحریک تکمیل پاکستان کے لیے ان کی جدوجہد و محنت قبول فرمائیں – بیشک ، سکندر صدیوں میں ہی پیدا ہوا کرتے ہیں اور مستقبل قریب میں ایسا کوئی سیاسی لیڈر ، کم ازکم آزاد کشمیر میں تو موجود نہیں جو کہ سردار سکندر حیات خان صاحب کا متبادل ہو سکے – یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سردار سکندر حیات خان صاحب کی وفات ، ایک سیاسی کارکن یا لیڈر کی نہیں بلکہ سیاست کی ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی کی وفات ہے-

  • قومی المیہ تحریر۔محمد نسیم 

    قارئین گرامی ڈاکٹر عبدلقدیر خان صاحب کی رحلت کا علم ہوا تو سارا دن موبائل فون پر، سوشل میڈیا پر جہاں ایپ کھولتا یہ ہی خبر دیکھنے کو ملی لیکن پتہ نہیں کیوں دل مضطرب نہیں تھا آنکھوں میں آنسو نہیں اُتر سکے وہ غم و دکھ نہیں تھا جو کسی محسن کے جانے کا ہوتا ہے اور وہ شخص تو محسنِ پاکستان نہیں بلکہ محسنِ اسلام و مسلم اُمہ تھا اپنے اس عمل پر پیشمان بھی تھا اور نادم بھی مگر اس ندامت کے باوجود میرے پاس رونے کی کوئی وجہ نہیں تھی 

    کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوئی سلیبرٹی نہیں تھے اپنی ہوری جوانی کے دوران کبھی کبھار ہی انکا چہرہ ٹی وی پر دیکھنے کو ملا اور ملا بھی تو ایک مبہم سے تاریخی کردار کے طورپر جیسے کوئی غدار کہتا تو کوئی محسن پھرجب خود سے سوال کرتا کہ اگر وہ محسن پاکستان ہیں تو نظر بند کیوں ؟

    محسنوں کو تو پلکوں پر بٹھایا جاتا ہے 

    اس کی ہر راحت ہر خوشامد بجا لائی جاتی ہے اس کے چرچے کرتی دُنیا نہیں تھکتی 

    خیر قصہ مختصر کہ اسی کشمکش میں ان سے الفت نہ ہوپائی ۔

    مجھے ڈرامے کے ایک کردار "دانش” سے کافی اُلفت تھی بلکہ پورے پاکستان کو تھی اس کی ڈرامے کی غیر حقیقی موت پر بھی میرے سمیت ہر پاکستانی صدمے میں تھا اور ہر کسی کا دھاڑیں مار مار رونے کو دل کرتا تھا اور سوشل میڈیا پر ہم نے دیکھا سینکڑوں کی تعداد میں ویڈیوز آئیں جب دانش مررہا تھا اور ہفتہ بھر قوم سوگ میں رہی تھی

    مگر  ڈاکٹر عبدلاقدیر خان صاحب کی دفعہ میرے سمیت قوم کے جذبات ویسے نہ تھے ہر کوئی میری طرح اناللہ واناالیہ راجعون لکھ کر تعزیت تو کررہا تھا مگر دل پہ وہ چوٹ نہیں تھی وہ دکھ نہ تھا وہ درد نہ تھا وہ تڑپ نہ تھی جو دانش کے مرنے پر تھی 

    دانش تو ہم سب کا پیارا تھا اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئیے ڈرامے کورپیٹ کرتا اور ایک ہی قسط کو دو سے تین بار دیکھتا تھا

    مگر ڈاکٹر عبدلقدیر خان سے محبت الفت کیا ان سے ملاقات کی خواہش کبھی دل میں نہ آئی میں جیسے سلیبرٹیزکے ساتھ تصویریں کھنچوانے کے لئیے بے تاب رہتا تھا اور اپنے پسنددیدہ فنکاروں کے ساتھ باتیں کرنے ملنے کی جو چاہت میرے دل  تھی ڈاکٹر عبدالقدیر کے لئیے کبھی نہ ہوئی اور شاید آدھے سے زیادہ پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے 

    چنانچہ یہ سب سوچ کر میں نے اپنے اندر اُٹھنے والی ندامت کو کامیابی سے دبا دیا اور سوشل میڈیا کو چلانے لگا اچانک ایک مولانا کی ویڈیو سامنے آئی تو ان کو بھی دوسرے تجزیہ کاروں کی طرح سُن ہی لیا مولانا نے اس وڈیو میں اپنی ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقات کا احوال بتایا کہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ چوُم لئیے جس پر ڈاکٹر صاحب بھی حیران ہوئے اور پوچھا کہ مولانا صاحب سفید داڑھی کے ساتھ ایسا کیوں ؟

    مولانا نے جواب میں بڑی کمال کی بات کی اور حدیث نبوی ﷺ  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو تیر بنائے جو تیر پہنچائے اور جو تیر چلائے دونوں کے لئیے جنت کی بشارت ہے لہذا مولانا صاحب نے فرمایا کہ او شیرا تو تا (تم نے) تو ایٹم بم بنایا ہے 

    مولانا کی اس بات نے عبدالقدیر صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ایک عجیب حیرت میں ڈال دیا کہ آج کے مولانا جن کی خدمتیں کرتی عوام نہیں تھکتی اور مذہبی خدمات کی وجہ سے جنکا الگ ہی پروٹوکول ہوتا جن کے ہاتھ چومتے لوگوں کے ماتھے تھکتے نہیں انہوں نے ماتھا جھکا کر ڈاکٹر عبدلقدیر صاحب کے ہاتھ کو چوُما ڈاکٹر صاحب کا یہ پروٹوکول مجھے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا سا لگا 

    چنانچہ دونوں باریش بھی نہ تھے تو کافی مماثلت بھی پیدا ہوگئی

    خیر رات ہوئی دن بھر کا تھکا ہارا پہلی فرصت بستر پر گرا اور رات کے پہلے حصے میں ہی نیند کی آغوش میں جاگرا 

    صبح صادق اُٹھا یہ صبح بھی دوسرے دنوں کی طرح نہایت پُرسکون تھی مگر موسم کی وجہ سے خنکی تھوڑی زیادہ تھی خیر نماز سے فارغ ہوکر قرآن پاک کی تلاوت کے لئیے قرآن پاک کو چُوم کر کھولا چُومنے سے ایک بار پھر مجھے مولانا کا ڈاکٹر عبدلقدیر کا ہاتھ چُُومنے والی بات یاد آگئی کہ عبدلقدیر صاحب نے ایٹم بم بنایا ہے اس لئیے ہاتھ چُومے تیروں والی حدیث بھی ذہن میں آگئی دماغ میں چلنے والی اس غیر ارادی افکار کی گھتیاں سلجھارہا تھا کہ تیر بنانے والا جنت میں کیوں جائیگا ؟

    ذرا غور کیا تو یہ ہی نتیجہ نکال پایا کہ تیر اندازوں کو تیرایجاد کرنے اور چلانے پر جنتی اعزاز سے نوازا گیا تھا بلکہ انکی خلاصی اور بخشش کی وجہ ان کے عالمِ اسلام کی سربلندی کے چلنے اور اُٹھنے والے ہاتھ تھے جب ڈاکٹر عبدلقدیر کے کام کو اس کسوٹی پر رکھا تو مولانا صاحب کے جملے پر دم بخود سا رہ گیا 

    "اوشیرا! تو تا ایٹم بم بنایا” یعنی کہ دورحاضر میں عالمِ اسلام کی اس خستہ حالی میں اسلام کو ایٹمی طاقت بناکر اسلام کا پرچم تا قیامت سر بلند کردیا 

    بس اسی سوچ کا دماغ میں آنا تھا کہ دماغ میں الجھی ساری گتھیاں سلجھ گئیں اپنے اندر کی ندامت جسے میں زبردستی بڑے زعم سے اپنے اندر چھپائے بیٹھا تھا آنسو بن کر رخساروں پر بہنے لگے اب مجھے اس ولی اللہ کے بچھڑنے کا غم منانے کی وجہ تھی 

    کہ آج ہم جس ملک پاکستان میں مذہبی آزادی کے ساتھ عبادات کرتے ہیں عیدیں مناتے ہیں ہماری داڑھیاں محفوظ ہیں اور آزادی کے ساتھ عید قرباں پر جانور اللہ کی راہ میں قرباں کرتے ہیں کیونکہ ہم دشمن کو اسی ایٹمی طاقت کی وجہ سے روکے ہوئے ہیں 

    لیکن پھر بھی اس ندامت اور نااہلی کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن ہائے افسوس!میری اس کوشش کے دوران بھی "آنسو ” آنکھوں کا دامن چھوڑ چکے تھے 

    جیسا کہ تحریر میں پہلے ذکر کرچکا کہ یہ سارا معاملہ تلاوت کلام پاک کے دوران پیش آیا میرے آنسو حلقہِ رخسار کو چھوڑ کر کلام الہی کے پاک صفحوں پر گرنے ہی والے تھے کہ خود کو سنبھالا دیا اور اپنے ان مجرمانہ آنسوؤں کو مجرمانہ دامن میں سمیٹ لئیے 

    سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے یہ برداشت نہ ہوا کہ میرے یہ گناہ گار آنسو کلام پاک کو چھونے کی جسارت کریں 

    آخر پر اتنا ہی کہوں گا کہ قوم اس پیارے ملک پاکستان کو بنانے والے بابائے قوم قائداعظم اور اس ملک پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدلقدیر کی احسان مند رہے گی 

    @Naseem_Khemy

  • پاکستان میں ٹریفک کا نظام تحریر: فرمان اللہ

    میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں کافی عرصے بعد کچھ دن پہلے پاکستان آیا ہوں۔ چونکہ ہم دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں تو ہمارے لیے آسان ہوتا ہے دوسرے ملکوں اور پاکستان کے نظام میں فرق کرنا۔ میں ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہوں تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ ان بنیادی مسائل کو اجاگر کروں گا جن کا تعلق صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام سے بھی ہو اور آج ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ ٹریفک کا نظام ہے۔

    اس آرٹیکل میں میں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے ٹریفک نظام کے حوالے سے لکھوں گا۔ ٹریفک قوانین عوام کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے اوپر ظلم کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے ذکر کروں گا ریڈ سنگل کا کراس کرنا۔ ریڈ سگنل کو ہماری عوام ایسے کراس کرتی ہے جیسے دنیا میں لوگ گرین سگنل کو کراس کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں ریڈ سگنل کراس کرنا ایک سنگین جرم ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ اسے جرم نہیں سمجھتے اور بہت سارے مقامات پر میں نے دیکھا ہے کہ ٹریفک پولیس بھی ریڈ سگنل کے کراس کرنے کو اتنی اہمیت نہیں دیتی جس کی وجہ سے عوام بغیر سوچے سمجھے ریڈ سگنل کراس کر لیتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔

    دوسرا سیٹ بیلٹ کا نہ باندھنا
    پاکستان میں لوگ سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتے ہیں اور سیٹ بیلٹ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ہمارے حفاظت کرتا ہے لیکن شاید ٹریفک پولیس کی طرف سے اس کی اہمیت کو اتنا اجاگر نہیں کیا گیا اور نہ سختی کی گئی جس کی وجہ سے عوام سیٹ بیلٹ کا استعمال نہیں کرتی۔

    تیسرا یو ٹرن
    پوری دنیا میں یو ٹرین صرف ایک لائن سے کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں دو دو تین تین لائنوں سے یو ٹرن کیا جاتا ہے جو ایک جرم بھی ہے اور ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

    راونڈ اباوٹ
    پوری دنیا میں راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے سے پہلے گاڑی روکی جاتی ہے دیکھا جاتا ہے کہ کیا راونڈ اباوٹ میں کوئی گاڑی تو نہیں اگر ہے تو اس کے گزرنے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس کے برعکس چلا جاتا ہے۔ راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے والا بغیر احتیاط کیے راونڈ اباوٹ میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ راونڈ اباوٹ میں گھومنے والی گاڑی اس کے لیے راونڈ اباوٹ کے اندر ہی رک جاتی ہے جو انتہائی غلط عمل ہے۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن کا اگر میں زکر اس آرٹیکل میں کروں تو یہ آرٹیکل بہت لمبا ہو جائے گا میں نے کچھ اہم ایشوز کا زکر کیا ہے جن کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک کوتاہی روڈ مارکنگ کا نہ ہونا جس کی وجہ سے زیادہ تر ڈرائیور لائن کی پابندی نہیں کرتے۔ ہر روڈ پر روڈ مارکنگ ہونی چاہیے اس کے علاوہ بہت سارے سگنل کام نہیں کرتے جو ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو جائے۔

    شکریہ

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan